Tuesday, November 10, 2015

میری زندگی کیسے بدلی

میری زندگی کیسے بدلی :۔     (قسط نمبر3)


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! مجھے ماہنامہ عبقری ملے تقریباً تین سال ہو چکےہیں ۔ میں آج آپ کو اپنی زندگی کے گزشتہ تقریباً پندرہ سال کی کہانی سنا رہی ہوں ۔ یہ پندرہ سال میں نے دوزخ میں گزارے ہیں ۔ پل پل جئی ہوں اور پل پل مرتی رہی ہوں اور پھر میری زندگی میں سکون کیسے آ رہا ہے یہ میں آپ کو بعد میں بتاؤں گی پہلے میری کہانی میری زبانی سنیے ! میں ایک سکول ٹیچر تھی جہاں ایک لڑکا اپنی بھتیجی کو چھوڑنے روز آتا۔ وہ تقریباً تین سال تک  مختلف ذرائع سے مجھے پیغامات بھیجتا رہا ۔ پھر آہستہ آہستہ پتہ نہیں کیا ہوا میرا دل بھی اس کی طرف مائل ہو گیا ، خط و کتابت کے ذریعے ہمارا رابطہ شروع ہوا اور پھر یہ خط و کتابت ملاقاتوں تک بڑھ گئی  میری والدین نہایت ہی شریف اور سادہ لوح انسان تھے اہل عالاقہ میرے والدین کی نہایت عزت کرتے تھے ، آج تک کسی نے میرے والد کو کسی کے ساتھ اونچی آواز میں بات کرتے نہیں سنا تھا کچھ ہی عرصہ کے بعد میں نے گھر میں شادی کیلئے شور ڈالنا شرع کر دیا ۔اور اپنی پسند سب کو بتا دی ۔ میری والدہ اور والد نے مجھے بہت سمجھایا مگر میں نہ مانی ۔ میں نے کہا اگر آپ نے میری اس سے شادی نہ کی تو میں اس کے ساتھ بھاگ جاؤں گی  میرے سر پر نام نہاد پیار کا بھوت سوار تھا ۔ بہر حال میرے تمام گھر والے میرے شدید مخالف ہو گئے مگر میں بھی اپنی ضد پر اڑی ہوئی تھی اور آخر کار میرے بھائی اور بالخصوص ابو چارونا چار میری شادی کیلئے تیار ہو گئے وہ راضی نہ تھے مگر اپنی عزت کیلئے شادی کی اجازت دے دی شادی یوں ہوئی کہ ایک محبت کیلئے میں نے ساری محبتوںکو اپنے پاؤں کے نیچے روند ڈالا ، رخصتی کے وقت میں نے دیکھا کہ میرا باپ گلی کی نکر پر کھڑا بے بسی سے آنسو بہا رہا تھا ۔ مگر میں خوشی سے سر شار گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئی ، میں نے اپنے ماں باپ کے ارمانوں ، محبتوں ، چاہتوں اور دعاؤں کو بھول کر ایک انجان شخص کو اپنا جیون ساتھی بنا لیا تھا ، تمام راستے میں بہت ہی زیادہ خوش تھی کہ میں نے جو چاہا تھا اسے پا لیا ۔ میرے شوہر بھی بہت ہی زیادہ خوش تھے کہ ہمیں ہماری محبت مل گئی ۔ مگر ! جن لوگوں کو میں اپنا سمجھ کر آئی تھی ، میرے اس گھر میں قدم رکھتے ہی تمام گھر والوں کے روئیے بدل گئے ۔ میرے شوہر کچھ عرصہ تو میرے ساتھ بہت اچھے طریقے سے پیش آئے  شادی کے آٹھ ماہ کے بعد میرے شوہر کی جدہ میں جاب لگی اور وہ جدہ چلتے بنے اور مجھے اپنے گھر والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلے گئے چونکہ شادی میں نے اپنی مرضی سے کی تھی تو میرے گھر والوں نے بھی پلٹ کر میری طرف نہ دیکھا ، شوہر کے جانے کے بعد مجھے ہر وقت سسرال والوں کے طعنے ، تشنے ، سننے کو ملتے گھر والے ملتے نہیں تھے اور شوہر اپنے گھر والوں کے خلاف کوئی بات سن سکتے ہی نہیں تھے کیسے دن کٹے ، کیسے مرمر کے زندہ ہوئی اس کو لکھتے ہوئے تو میرا قلم بھی میرا ساتھ نہیں دے رہا شادی کے سال بعد اللہ نے بیٹی کی رحمت سے نوازا ۔ بعد ازاں کچھ حالات ایسے ہوتے گئے کہ سسرال سے دھکے دے کر نکال دی گئی ۔ میں بے سرو سامانی کے عالم میں گلی میں بیٹھی اپنی غلطی پر رو رہی تھی اس دن بار بار میری آنکھوں کے سامنے اپنے آنسو بہاتے باپ کی صورت آ رہی تھی ۔ مجھے میرا ضمیر جھنجھوڑ رہا تھا کہ تو نے اپنے ماں باپ کا دل دکھایا ہے تجھےاسی کی سزا مل رہی ہے ۔ خیر میں نے شوہر کو جدہ فون کیا تو انہیں محسوس ہوا کہ اب پانی سر سے گزر چکا ہے تو انہوں نے کسی کو کہہ کہلوا کر فوراً میرے لئے علیحدہ کرائے پر مکان کا بندوست کیا اور چار گھنٹوں کے اندر اندر میں اپنے انجان گھر انجان محلے میں تھی پہلے والدین سے دوری پھر شوہر سے دوری اپنوں سے دوری اور پھر ایک چار دیواری میں قیدی کی طرح بیٹھی رو رہی تھی میرے شوہر باہر سے پیسے بھیجتےاور میرا گھر چلتا پھر میری زندگی میں ایک اور موڑ آیا جب میرے گھر کے سامنے ایک کریانہ کی دکان میں ایک لڑکا بیٹھا تھا جب اس سے سودا سلف لیتی تو نہایت محبت و پیار سے بات کرتا میں ایک بار پھر اس پیار کے بھنور میں پھنس گئی مجھے نہ کوئی سمجھانے والا تھا نہ روکنے والا نہ ہی کسی کا ڈر تھا میں گناہوں کی دلدل میں ایک بار پھر دھنستی چلی گئی اور اس لڑکے کے ساتھ تین سال گزارے نہ مجھے خدا یاد تھا نہ ہی خدا کا ڈر تقریباً ساڑھے تین سال کے بعد میرے شوہر واپس آئے اور اس علاقے سے دور ایک جگہ پر اپنا مکان خریدا اور اس طرح میرا اور اس لڑکے کے درمیان گناہ کا تعلق ختم ہوا ۔ بعد میں بھی وہ کبھی میرے پیچھے نہ آیا۔واپس آ کر میرے شوہر نے اپنی بیٹی کو بھی دیکھا اس کے بعد جب اپنے گھر والوں سے ملنے کیلئے لے گئے تب سے اب تک ان کے رویے میں میرے لئے کوئی تبدیلی نہ آئی ۔میرے شوہر سال بھر فارغ رہے رات کو دیر سے آنا اس کا معمول تھا پوچھنے پر گالیوں کے سوا کچھ نہ ملتا یہ وہ شخص تھا جس کی خاطر میں نے اپنوں کو چھوڑا ان کی مخالفت کو مول لیا مگر وہ اب میرے پاس بیٹھنا تک گوارا نہیں کرتا تھا اور پھر اسی دوران اللہ پاک نے مجھے بیٹا دیا پھر زندگی سے مایوس ہو کر خود کشی کی بھی کوشش کی تو اس پر اکڑ کر کہتا مرنا ہے تو اپنوں میں جا کر مرو ، کچھ عرصہ پہلے میری ہمسائی نے مجھے ماہنامہ عبقری دیا میں نے پڑھا تو مجھےلگا کہ جیسے کوئی سچارہبر مل گیا ۔ میں نے اپنی ہمسائی سے تفصیل سے عبقری کے متعلق پوچھا حضرت حکیم صاحب ! کے بارے میں پوچھا اس نے مجھے موبائل کارڈ میں آپ کے تمام درس کروا کے دیئے جو میں نے سننے شروع کر دیئے بس پھر کیا تھا جیسے جیسے درس سنتی چلی گئی زندگی بدلتی چلی گئی مجھے اپنے بے حیا اور فحش نفس سے نفرت ہونا شروع ہو گئی مجھے یاد بھی نہیں کہ میں نے اپنے پیارے اللہ پاک کو کتنے عرصے بعد یاد کیا بہت روئی بہت گڑ گڑائی رو رو کر اللہ پاک سے توبہ کی اس کے اگلے دن اپنے شوہر سے اجازت لے کر اپنی ہمسائی کے ساتھ اپنے والدین کے گھر آئی اپنے ابو اور امی کے پاؤں میں سر رکھ کر رو رو کر معافی مانگی مزید رشتے دار بھی اکٹھے ہو گئے ۔ سب نے میرے والدین کو بڑی مشکل سے راضی کیا ۔ شام کو گھر آئی تو دل میں کچھ سکون تھا اب نماز پڑھنی شروع کر دی ہے ہر وقت اللہ پاک کو یاد کرتی ہوں سارا دن گھر میں آپ کا درس چلتا ہے میں نے اپنے ماں باپ کا دل دکھایا ان کی نافرمانی کی ۔اپنے شوہر کے ساتھ غداری کی اس کی غیر موجودگی میں اپنی عزت کو غیر کے ہاتھوں میں تھما دیا جس کی مجھے خوب خوب سزا ملی شاید مجھے عبقری نہ ملتا تو نہ جانے اب میں کہاں سے کہاں ہوتی ؟مگر عبقری اور درس نے میری زندگی میں سکون بھر دیا ہے میرے شوہر کا رویہ بھی دن بدن اب بدل رہا ہے اب بچوں سے بھی پیار کرتے ہیں اور ان کی نوکری بھی اسی شہر میں لگ گئی ہے آہستہ آہستہ اب میرے مسائل حل ہو رہے ہیں ۔یہ درس ہی کی برکت ہے کہ میرے شوہر میں اتنا بدلاؤ آ رہا ہے اب جب اپنے گزشتہ گناہوں بھری زندگی بارے سوچتی ہوں تو کانپ کر رہ جاتی ہوں ۔

No comments:

Post a Comment