Saturday, December 12, 2015

نفسیاتی گھریلو الجھنیں اور آزمودہ یقینی علاج

نفسیاتی گھریلو الجھنیں اور آزمودہ یقینی علاج :۔


اسے کسی کی پروا نہیں:۔
شوہر دل کے مریض ہیں ۔ پچھلے ہفتے ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو ہسپتال میں داخل کروانا پڑا ۔ اب میں رات بھر ان کی تیمارداری کیلئے ہسپتال میں رہتی ہوں ۔ دن میں ان کے بھائی آ جاتے ہیں ۔ میں جاتی ہوں تو ان کا کوئی دوست آ کر رہتا ہے بیٹا پندرہ سال کا ہے اسے کسی کی پروا نہیں ، آٹھویں جماعت میں پڑھتا ہے سوچتی ہوں۔ اس کو اس کے والد کے پاس چھوڑا تو پڑھائی کا نقصان ہو گا دلچسپی نہیں لیتا مجھ سے بھی ہمدردی نہیں یہ خط ہسپتال سے ہی لکھ رہی ہوں ۔
مشورہ :۔ آپ نے گھر اور ہسپتال کی ساری ذمہ داری خود سنبھال لی اس لئے بیٹا بے فکر ہو گیا چند گھنٹے دن یا رات اس کو ہسپتال میں بٹھا ئیں تاکہ اس کو معلوم ہو کہ والد کی کتنی طبیعت خراب ہے ۔ڈاکٹر کیا کہتے ہیں ۔ اس عمر کے بچوں سے گھر کے مسائل چھپانے نہیں چاہئیں اور نہ ہی بڑھا کر بتائیں اس طرح کہ وہ سیکھیں مشکلات کا مقابلہ کس قدر حوصلے اور بردباری سے کیا جاتا ہے کبھی وہ آپ کی بات میں دلچسپی نہ لے تو برا نہ مانیں اس سے اس کے مسائل پر بات کریں اس کو بولنے کا موقع دیں تحمل سے سنیں ضرورت ہو تو ہمدردی کریں اسے جلد احساس ہو جائے گا کہ ماں سراپا محبت ہے پھر وہ کبھی آپ کو پریشان نہ دیکھ پائے گا لیکن ایسا ایک دم نہیں ہو گا تربیت اور اصلاح صبر آزما کام ہے ۔
ترقی کے راستے :۔
میٹرک کے بعد ڈر تھا کہ میری شادی کزن سے کر دی جائے گی مگر امی کو مجھے ڈاکٹر بنانے کا شوق تھا۔ ہمارے خاندان میں کوئی لڑکی ڈاکٹر نہیں جس لڑکے سے رشتہ طے ہو رہا تھا وہ ان پڑھ تھا بہر حال اب میں میڈیکل کالج کی طالبہ ہوں خاندان والے میرا مذاق اڑاتے ہیں میری وجہ سے کئی رشتے داروں نے ملنا چھوڑ دیا میری امی کو بھی باتیں سنائی جاتی ہیں تب مجھے غصہ آتا ہے ابو کسی کو کچھ کہنے نہیں دیتے بعض اوقات غصے میں آ کر کہتے ہیں پڑھائی چھوڑ دو اس سے تمہار دماغ خراب ہو رہا ہے تب مجھے بہت رونا آتا ہے ۔
مشورہ :۔ مہر ! خاندان والوں کے مذاق کو کچھ عرصہ اور برداشت کرلیں اپنی مرضی اور شوق کے مطابق زندگی گزارنے کیلئے صبر تو کیا جاتا ہے والدہ کو کوئی کچھ کہے تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنا جواب خود دیں ۔ آپ کو شامل نہیں کریں تاکہ والد آپ سے ناراض نہ ہوں آپ کو معلوم ہے زندگی کی مشکلات پر شکایت کرنے کے بجائے سبق لے کر آگے بڑھنے سے ترقی کے راستے کھلتے ہیں۔
خیالوں کا سکون :۔
مجھے بچپن سے خواب دیکھنے کی عادت ہے خیالوں ہی خیالوں میں خود کو سکول کا مانیٹر تصور کرتا رہا ہاتھ میں اسکیل لے کے بچوں کی پٹائی کرتا اس بچے کی جو اسکول میں مجھے تنگ کرتا رہتا ڈر اس قدر کہ اس کی کسی سے شکایت بھی نہیں کی جاتی اب میں ایف ایس سی کر چکا ہوں ابھی تک کہیں داخلہ نہیں لیاوالد کپڑے کا کاروبار کرتے ہیں اور میں خوابوں خیالوں میں خود فیکٹری کا مالک سمجھتا ہوں مجھے ان کی دکان پسند نہیں اور ان کو میرا فارغ رہنا اچھا نہیں لگتا بارہ سال پڑھ کر تھک گیا ہوں میرے گروپ کے دو لڑکے گریجوایٹ کر رہے ہیں ۔
مشورہ:۔خیالوں کا سکون پائیدار نہیں ۔ سچی اور حقیقی خوشیوں کا احساس ہی مختلف ہوتا ہے ۔ خوابوں اور خیالوں میں فرق ہے ۔ خوابوں پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا جبکہ خیالوں کو اپنی مرضی اور ارادے سے منفی یا مثبت بنایا جا سکتا ہے بچپن اب گزر گیا لہذا وہ تمنائیں بھی نہ رہیں حقیقی معنوں میں ترقی کیلئے اپنے عمل کو ابتدا سے شروع کرنا ہوتا ہے والد کے ساتھ دکان پر کام کریں کاروبار کا تجربہ حاصل ہو گا اس دوران تعلیم جاری رکھیں دوستوں سے زیادہ کامیاب رہیں گے ۔
بری خبر سن کر :۔
میرے دماغ پر ہر وقت دباؤ رہتا ہے دم گھٹتا ہے ۔ کوئی بری خبر خواہ کسی کے حوالے سے ہو سن کر پریشان ہو جاتی ہوں گھر میں سب ہی سمجھاتے ہیں اپنی فکر کرو صحت کا کیا حال کر لیا ہے۔مگر مجھے دنیا کی فکر ہے میں اپنی فکر کرنے والوں کو بے حس اور خود غرض سمجھتی ہوں ۔ ایک بات کا خیال ہے وہ یہ کہ چہرہ بہت مرجھایا ہوا ہے اور بڑی بہن چھوٹی معلوم ہوتی ہے ۔
مشورہ :۔چہرہ انسان کی ذہنی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے اب اگر آپ ہر وقت ذہنی دباؤ میں رہیں گی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کا اثر چہرے پر نہ آئے بری یا تکلیف دہ خبر سب کیلئے افسوس ناک ہوتی ہے مگر جسمانی اور ذہنی کیفیت کو اس انداز میں نہیں بدلتی کہ دم گھٹا ہوا محسوس ہو یا معمولات زندگی میں بڑی تبدیلی آ جائے سانس کی بہت سی مشقیں ہیں جو دم گھٹنے پر قابو پانے میں مدد گار ہو سکتی ہیں ۔ ان میں ایک یہ بھی ہے کہ جب آپ اپنے کاموں سے فارغ اور فرصت میں ہوں تو آنکھیں بند کر کے ناک سے سانس اندر کی طرف لیں ۔چند سیکنڈ کیلئے سانس کو روکیں پھر منہ کے ذریعے آہستہ آہستہ سانس باہر نکالیں اس دوران یہ تصور کریں کہ جب آپ سانس اندر لے رہی ہیں تو چہرے پر شادابی آ رہی ہے اور جب سانس باہر نکال رہی ہیں تو ساتھ میں ذہن سے منفی خیالات اور دباؤ دور ہو رہا ہے ۔
بیوی کو مجھ سے محبت نہیں :۔
میں طویل عرصے سے ملک سے باہر جانے کا خواہشمند تھا ۔ اور اب ایک عرب ملک سے جاب کی آفر آ گئی ۔ پہلے تو مجھے یقین نہیں آیا پھر وہاں رہنے والے ایک دوست سے رابطہ کیا اس نے کہا فوراً آ جاؤ حال ہی میں میری شادی ہوئی ہے ۔ گزارے کے قابل ملازمت بھی ہے دل نہیں چاہتا کہ ملک چھوڑ کر جاؤں جبکہ بیوی خوش ہے کہ میں ملک سے باہر جا رہا ہوں سوچتا ہوں اس کو مجھ سے محبت نہیں یہ بات اس سے کہی نہیں ڈر بھی ہے نئی نئی بات ہے ہم ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف نہیں ۔
مشورہ:۔ بیوی کے خوش ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو محبت نہیں ہے بلکہ و ہ آپ کی ترقی کی خواہشمند ہے اور اس کیلئے وہ دور رہنے کی قربانی دینے کو تیار ہے ۔دراصل آپ کی خوشحالی میں اس کی خوشیاں بھی شامل ہیں ۔یہ فیصلہ آپ کو خود کرنا ہے کہ کیا بہتر ہے یہاں رہنا یا جانا؟ دوست کا مشورہ بھی آ چکا اورہمارا مشورہ یہ ہے کہ موجودہ ملازمت کے حوالے سے اور بیرون ملک ملنے والی ملازمت کے مثبت اور منفی پوائنٹس نوٹ کرلیں جس میں مثبت پوائنٹ زیادہ ہوں وہ کام کریں ۔

No comments:

Post a Comment