Sunday, November 13, 2016

مرحوم زرگر کی عیاش پرست اولاد


میں آج قارئین کو ایک ایسا کربناک واقعہ سنانے جارہی ہوں جسے پڑھ کر یقیناً لوگوں کیلئے عبرت کا ساماں پیدا ہوگا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ہماری گلی میں ایک سنار صاحب رہتے تھے‘ ان کا کام ٹھیک ٹھاک تھا‘ دکان اچھی خاصی چلتی تھی مگر نہ نماز‘ نہ روزہ‘ نہ تسبیح! ہروقت شیخی مارتے‘ لوگوں کو خوب دونوں ہاتھوں سے ’’لوٹتے‘‘ تھے۔ ماشاء اللہ شادی شدہ تھے اور پانچ بچوں جن میں چار بیٹیاں اورایک بیٹا تھا۔ نہ خود ساری عمر دین سیکھنے اور اس پر چلنے کی توفیق ہوئی اور نہ کبھی اپنی اولاد کو اس طرف لائے بلکہ اولاد کو نت نئے فیشن‘ موبائل‘ لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کنکشن سے نوازا۔ تین سال پہلے وفات پاگئے۔ یہ میرے قریبی عزیز ہیں۔ اب میں آتی ہوں ان کی جمع پونجی یعنی اولاد کی طرف‘
مرنے کے بعد ان کی اولاد کے حالات آج کل یہ ہیں۔ سب سے بڑی بیٹی شادی شدہ ہے‘ اس کے گھر کے حالات ایسے ہیں کہ لکھتے ہوئے بھی ہاتھ لرزتا ہے‘ کئی دفعہ اس کے سسرال والوں نے اسے گھر سے نکالا‘ ہائی سوسائٹی میں دھوم سے شادی ہوئی تھی‘ سال میں آٹھ ماہ ماں کے گھر رہتی ہے اور چار ماہ بمشکل اپنے شوہر کے پاس۔ دوسری بیٹی عمر 22 سال ہے تعلیم ایم اے‘ پچھلے چند سال سے ایک اپنے سے چار سال کم عمر لڑکے کے عشق میں گرفتار ہے جو کہ ابھی پڑھ رہا ہے‘ اس کے رشتے بہت آتے ہیں مگر اس لڑکے کی آس پر سب کو انکار کررہی ہے جس کی وجہ سے اس کی ماں سخت اذیت کا شکار ہے۔ اگر کوئی دوسرا رشتہ دیکھنے والا آئے تو خود ہی ان کو گھر سے بھگا دیتی ہے۔ تیسری بیٹی کی عمر صرف ابھی 19 سال ہے‘ میٹرک کے بعد تعلیم چھوڑی‘ سارا دن کوئی کام نہیں بس موبائل اور ٹی وی پر گانے سننا‘ فلمیں دیکھنا۔ نہ نماز‘ نہ قرآن‘ نہ اعمال کیونکہ بچپن میں نہ کبھی ماں باپ نے خود اعمال کیے اور نہ اولاد کو کہا۔ موبائل پر نامعلوم کتنے لڑکوں سے دوستیاں ہیں اور آج کل خوب ’’موج‘‘ میں ہے۔ چوتھی بیٹی کی عمر 17 سال‘ انتہا کی خوبصورت‘ ہروقت ہاتھ میں دو موبائل‘ مڈل پاس‘ پڑھائی ختم‘ زبان بہت لمبی‘ ضد کی پکی‘ اپنی بات منوا کر دم لیتی ہے۔ محلے کےایک لڑکے کے عشق میں گرفتار ہے‘ سب کے سامنے العلان اس سے عشق کا دعویٰ کرتی ہے۔ وہ لڑکا گھر میں سب سے بڑا ہے اور اس کی چار بہنیں ہیں اس کے گھر والوں سے رشتہ کی بات کی تو انہوں نے کہا کہ اس کی بہنوں کی شادی ہوگی پھر اس لڑکے کی ہوگی۔ اب آتی ہوں اس ’’سنیارے‘‘ کے بیٹے کی طرف‘ ماں باپ کا چہیتا‘ سنار کی دکان کرتا ہے‘ باپ کی طرح بہت شیخی مارتا ہے‘ خود کو امیر کبیر ظاہر کرتا ہے‘ روزانہ کا تقریباً دس ہزار عیاشی میں اڑاتا ہے‘ خوب کماتا اور خوب لٹاتا ہے‘ ماں بے حد پریشان ہے‘ حد سےزیادہ نافرمان ہے‘ فضول خرچ ہے‘ لڑکیوں کے چکر میں پڑا ہوا ہے‘ پچھلے دنوں تو اس نے خود اپنی ماں کو بتایا کہ یہ غلط عورتوں کے پاس رات کو جاتا ہے۔ آگے آپ خود سمجھ دار ہیں۔ تمام بچے اپنی اپنی دنیا میں مگن ہیں۔ اب اس کی ماں اکثر میرے پاس آکر روتی ہے کہ اے کاش میں اپنے بچوں کو دنیا کی ساتھ ساتھ دین کی بھی کچھ تعلیم دیتی تو آج نہ ان کی یہ حالت ہوتی اورنہ میری۔ (شازیہ کلثوم‘ کراچی).
 

No comments:

Post a Comment