غیرمسلموں کے برتن میں کھانا :سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے رسول اکرم ﷺ سے پوچھا: ہم اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کےساتھ رہتے ہیں اور وہ اپنی ہانڈیوں میں خنزیر پکاتے اور برتنوں میں شراب پیتے ہیں(آیا انہیں استعمال کیا جاسکتا ہے؟) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تمہیں دوسرے (پاک و صاف) برتن ملیں تو ان میں کھاؤ پیو لیکن اگر نہ مل سکیں تو انہیں پانی کے ساتھ دھولو اور ان میں کھاپی سکتےہو‘‘ (ابوداؤد 3839) سید عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ایک طویل حدیث بیان کی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دوران سفر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو پانی کی ضرورت ہوئی لیکن پانی موجود نہیں تھا۔نبی کریم ﷺ نے انہیں اور سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو تلاش میں بھیجا۔ انہوں نے چلتے چلتے ایک عورت کو دیکھا جو اونٹ پر پانی کے دو مکشیزے رکھ کر آرہی تھی، اس سے پانی ملنے کی جگہ کا پوچھا تو اس نے بتایا میں کل اس وقت وہاں سے چلی تھی اور آج یہاں تک پہنچی ہوں۔ اس عورت کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جایا گیا۔ آپ ﷺ نے)
اس کے مشکیزوں کا اوپر والا منہ بند کرکے نیچے کے سوراخ ایک برتن میں کھول دیے اور صحابہ کو پانی لینے کی آواز لگادی گئی۔ سب نے پانی پیا۔ جانوروں کو پلایا اور سب سیر ہوگئے۔ وہ عورت کھڑی دیکھ رہی تھی چنانچہ جب اس کے مشکیزوں کا منہ بند کردیا گیا تو ان میں پانی پہلے سے بھی زیادہ تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اس عورت کیلئے کھانے کی کچھ چیزیں جمع کرنے کا حکم دیا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عمدہ کھجوریں‘ آٹا اور ستو جمع کرکے ایک گٹھڑی باندھ کر اس کے حوالے کردی۔ مسلمان اس عورت کے خاندان کو کچھ نہ کہا کرتے جبکہ اردگرد کے علاقوں میں مشرکین پر حملہ کرتے رہتے۔ ایک دن وہ عورت اپنے گھر والوں کو کہنے لگی: میرا خیال ہے یہ لوگ تمہیں جان بوجھ کر چھوڑ دیتے ہیں تو کیا تمہیں اسلام کی طرف رغبت ہے؟ قوم نے اس عورت کی بات مان لی اور سب مسلمان ہوگئے۔ (البخاری 344)
Showing posts with label متفرق مضامین. Show all posts
Showing posts with label متفرق مضامین. Show all posts
Thursday, January 4, 2018
مناقب اہل بیت اطہار
حضرت حبہ عرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کومنبر پر مسکراتے ہوئے دیکھا اور میں نے کبھی بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو اس سے زیادہ مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے دانت مبارک نظر آنےلگے۔ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا:’’ مجھے اپنے والد محترم ابوطالب کا قول یاد آگیا تھا۔ ایک دن وہ ہمارے پاس تشریف لائےجبکہ میں حضورنبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا اور ہم وادی نخلہ میں نماز ادا کررہے تھے پس انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! آپ کیا کررہے ہیں؟ حضور نبی اکرم ﷺ نے آپ کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے کہا: جو کچھ آپ کررہے ہیں یا کہہ رہے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں لیکن آپ کبھی بھی (تجربہ میں) میری عمر سے زیادہ نہیں ہوسکتے۔ پس حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنے والد محترم کی بات پر مسکرادئیے اور پھر فرمایا: اے اللہ! میں نہیں جانتا کہ مجھ سے پہلے اس امت کے کسی اور فرد نے تیری عبادت کی ہو سوائے تیرے نبی ﷺ کے‘ یہ تین مرتبہ دہرایا پھر فرمایا: تحقیق میں نے عامۃ الناس کے نماز پڑھنے سے سات سال پہلے نماز ادا کی۔‘‘ (اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے)
مدینہ منورہ کے بچے
مسجد قبا میں نوافل و دعا سے فارغ ہوکر ہم لوگ نکلے‘ باہر مختلف اشیاء فروخت کرنےو الے لوگ کھڑےتھے‘ کچھ برقع پوش بدوخواتین، کچھ بوڑھے، کچھ بچے، کھجوریں، مصلے، تسبیح اور دوسری اشیاء لیے آوازیں لگارہے تھے، اس حقیر کے رفیق محترم رضوان بھائی نے ایک بچہ سے ایک درجن تسبیح کا پیکٹ خریدا جس کی قیمت اس نےسات ریال بتائی، برابر میں ایک دوسرا بچہ بھی کھڑا تھا وہ خوشامد اور ضدکرنےلگا کہ ایک درجن مجھ سے بھی خریدو‘ رضوان بھائی نےمعذرت کی‘ اس نےشکایت کی کہ پہلے میں نےآپ کو تسبیح کا بھاؤ بتایا تھا، آپ مجھ سےبھی خریدیں‘ مدینہ منورہ کےاکرام میں رضوان بھائی نے اس بچہ سےبھی تسبیحات خرید لیں‘ اور پندرہ ریال دس اور پانچ کےدو نوٹ ایک بچہ کو دئیے اور کہا دونوں تقسیم کرلینا‘ دو درجن تسبیح کی قیمت چودہ ریال بنتی تھی اس خیال سےکہ ہمارے ملکوں کی طرح ایک ریال کیلئے ان دونوں میںلڑائی نہ ہو‘ رضوان بھائی نے ان بچوں سے معلوم کیا، تم دونوں پندرہ ریال کیسے تقسیم کروگے؟ دونوں بیک زبان بڑی خوشی سےبولے سات سات دونوں لیں گے اور ایک بچے گا اس کو صدقہ کردیں گے ان بچوں کے اس جواب کے بعد دل کا عجیب سا حال ہوگیا اور جب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے اپنے حال پر بڑی ندامت اور شرمندگی ہوتی ہے۔
یہ شہر مقدس اس تاجدار مدینہ ﷺ کا مسکن اور شہر ہے جس نے دنیا کو ایسی سخاوت، ایثار اور استغنا سکھائی کہ چودہ سو سال کے بعد بھی اس شہر کے بدو بچوں میں سخاوت، ایثار واستغنا کی یہ شان پائی جاتی ہے۔ ہمارا حال ایسا شرمناک ہے کہ ہم کوئی موقع خود غرضی‘ ہوس اور بخل کا گنوانا پسند نہیں کرتے‘ اس واقعہ کو سالوں ہوگئے‘ مگر جب بھی خیال و تصور میں اس شہرمحبوب کا سفرہوتا ہے‘ یہ واقعہ بھی یاد آجاتا ہے اور شرم سے منہ چھپانے کوجی چاہنے لگتا ہے کہ ہم غلاموں کی نسبت بھی اس معلم جودو سخا اور ایثار و استغنا سکھانے والے نبیوں کے سردار ﷺ سے ہے جنہوں نے پوری دنیا کے دل و دماغ اور اس کے رخ کو دنیا کی بے ثباتی اور نفع و نقصان کو آخرت کی یاد اور اصل نفع ونقصان کی طرف موڑ کر اس دنیا کے سارے اندھیروں کو دین اسلام اور اسلامی اصولوں کے نور میں بدل کر رکھ دیا تھا اور دنیا میں یہ مشہور ہوگیا کہ مسلمانوں سمجھ دار کیا پاگل و دیوانہ بھی اپنی چیزوں کو دوسروں کے گھر میں پھینکتا ہے اور غیرمسلموں کا پاگل دوسروں کی اشیاء پاگل پن میں اچھال کر اپنے گھر میں ڈالتا ہے‘ اس لیے کہ مومن و مسلم کی نگاہ میں نفع ہے تو آخرت کا‘ اور نقصان ہےتو آخرت کا، اس دنیا کے نفع کو وہ ایک متاع غرور اور دھوکہ کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتا‘ وہ اس خواب کے نفع و نقصان کو حقیقی آخرت کی زندگی کے نفع و نقصان کے مقابلہ چھوڑتا اور قربان کردینا عقل مندی سمجھتا ہے جب کہ کافرو مشرک کی زندگی کی آخری منزل یہ دھوکہ کی دنیا ہی ہے
’جانتے ہیں آنکھوں کے سامنے کی دنیوی زندگی (ف۱۰) اور وہ آخرت سے پورے بے خبر ہیں‘‘دنیا کی زندگی کی بے ثباتی اور متاع غرور اور آخرت کی ابدالآباد حقیقی زندگی کا یقین ہی وہ سرمایہ اور زندگی کی چولوں کو‘ اور انسان کے دل و دماغ کو بنادینے والا وہ گوہر ہے جو مدینہ منورہ کے بے پڑھے بدو بچوں میں ایسا سخاوت و ایثار اور استغناء کا جذبہ بیدار کرنے والا ہے اور جس کو سکھانے کیلئے نبی رحمۃ اللعالمین ﷺ مبعوث ہوئے۔ کاش ہم بھی اس رسول رحمت ﷺ سے نسبت کی لاج رکھنے والے بنیں!
ماں کی بات نہ ماننے کا انجام
میرے پاس ایک بوڑھا شخص جس کا نام (م) تھا خیرات لینے آتا تھا میں اسے خیرات دیتا تھا اور عیدالاضحی پر قربانی کی کھال وغیرہ اور گاہے بگاہے صدقہ زکوٰۃ دیتا رہتا تھا اور شخص پندرہ بیس دن بعد میری دکان سے اکثر پانچ سات سوروپے کا سودا لے جاتا اور امانتاً رقم بھی میرے پاس رکھوا جاتا تھا۔ میں نے اس سے کئی دفعہ پوچھا بابا جی اتنا سودا سلف کیا کرتے ہو؟ اتنا تو میرے گھر کا بھی خرچہ نہیں ہے۔ وہ کہتا کہ میں اندرون سندھ میں رہتا تھا میری بیوی اور بچوں کو اغواکاروں نے اغواء کرلیا۔ ایک بیٹی بچ گئی تھی جوقریبی کالونی میں رہتی ہے شادی شدہ ہے یہ سارا سامان اس کیلئے لے جاتا ہوں۔ تقریباً چار سال گزر گئے مجھے اس بزرگ کی باتوں میں کچھ صداقت نظر نہ آئی میں نے آہستہ آہستہ اسے خیرات صدقہ دینا بند کردیا۔ کبھی کبھار کچھ مدد کردیتا۔ ایک ہفتہ قبل وہ بوڑھا فقیر میری دکان کے سامنے صبح صبح کھڑا تھا میں دکان کھولنے کیلئے بازار آیا‘ اس شخص کی چادر (تہہ بند) کھلی ہوئی تھی کچھ شرارتی لڑکے اور ہمسائے اکٹھے ہوکر اس کا مذاق اڑا رہے تھے میں نے ان کو منع کیا اور شٹر کھولنے کے بعد بابا جی کو دکان کے اندر لے آیا اور خود اس کی چادر درست کرکے باندھی اور ان سے کہا بابا جی اب آپ بہت ضعیف ہوگئے ہیں بازار میں خیرات یا سودا لینے نہ آیا کریں۔ اب عمر کا آخری حصہ ہے گھر میں رہا کریں اور اللہ کا ذکر کیا کریں۔ لیکن دو دن بعدپھر مجھے مانگتے ہوئے نظر آئے۔ آج صبح حسب معمول میں نے دکان کھولی اور اللہ کے ذکر میں مشغول ہوگیا اس بوڑھے بابا کی بیٹی آگئی جو پہلے بھی کبھی کبھار اپنے والد کے ساتھ دکان پر آیا کرتی تھی اور مجھے کہنے لگی کہ بھائی جان میرے گھر والا (یعنی اس کا خاوند) سخت بیمار ہے ہسپتال میں داخل ہے ہمیں عشرزکوٰۃ سے کچھ رقم لے دو کیونکہ آپ کا لوگوں سے تعلق واستہ ہے۔ میں نے کہاکہ آپ کے گھر والے کو کیا بیماری ہے؟ کہنے لگی اسے بہت شوگر ہے تقریباً 500 تک ہے اور جگر بھی کام نہیں کرتا‘ میرے خاوند کو کسی نے تعویذ ڈال دیئے تھے اس کے تمام بدن میں آگ لگی رہتی تھی۔ ابھی کچھ دن پہلے ایک بزرگ سے تعویذ نکلوائے ہیں اب ان کو کافی فرق ہے لیکن اب اس کے علاج کیلئے ہمارے پاس رقم نہیں ہے۔ میں نے اسے سمجھایا کہ باجی اپنے والد صاحب سے کہوکہ خیرات نہ مانگا کریں وہ میری بات سنتے ہی روپڑی اور اتنا روئی کے خدا کی پناہ اور پھر کہانی سنانا شروع کی کہ میرا والد اپنے کئے کی سزا اٹھارہا ہے اس نے جو کہانی بتائی وہ کچھ یوں ہے: میرے دادا ابو کی 60 ایکڑ زمین اندرون سندھ میں تھی جس میں سے میرے والد کے حصہ میں ساڑھے بارہ ایکڑ اراضی آتی تھی میرے والد نے پہلے ایک شادی کی جو تقریباً تین سال رکھی اس میں سے کوئی اولاد نہ ہوئی‘ میرے والد کے سسرال والوں نے طلاق لے لی۔ دوسری شادی میری والدہ سے کی جو کہ خاندان میں تھی جس میں سے ہم تین بہنیں اور دو بھائی تھے۔ اب جن میں سے ہم دو بہنیں اور ایک بھائی زندہ ہے۔ اس کے بعد میرےو الد نے ایک دوسرے خاندان میں شادی کیلئے رجوع کیا‘ میری بڑی بہن جو ابھی بالغ بھی نہ تھی اپنی شادی کیلئے اسی خاندان میں ایک لڑکے کو دے دی۔ انہوں نے کہاکہ ہم اپنی بچی جو ابھی کچھ چھوٹی ہے بڑی ہونے پر آپ کو بیاہ دیں گے۔ تقریباً دو ماہ بعد وہ لوگ رات کی تاریکی میں میری بہن کو کسی کے گھر میں چھوڑ کر اپنا مکان بیچ کر نکل گئے۔ میرے والد نے چوتھی شادی (ش)عورت سے کی جو بہت ظالم ہے اس کو بیاہ کر میرا والد ہمارے گھر لے آیا۔ میری سگی والدہ نے اپنی سوکن کو برادشت کیا میرا والد میری والدہ کو بہت مارتا تھا میری والدہ کہتی تھیں کہ میں تیرا گھر چھوڑ کر نہیں جائوں گی۔ میرے والد نے میری نئی والدہ کی عیاشی بدمعاشی میں دس ایکڑ زمین فروخت کردی۔ اڑھائی ایکڑ زمین باقی بچی ایک دن میری دادی اماں قرآن اٹھا کر لے آئی اور میرے والد کے ہاتھ پر رکھ دیا اور کہاکہ باقی زمین فروخت نہ کرنا لیکن میرےوالد نے ایک نہ مانی وہ زمین بھی فروخت کردی گھر بھی فروخت کردیا‘ میری والدہ اپنے والدین (یعنی میرے نانا نانی) کے گھر چلی گئی۔ میری دادی اماں فوت ہوگئی‘ ہم دونوں بہنوں کی شادی ہوگئی‘ میرا بھائی مل میں ملازم ہے۔ نئی والدہ نے میرے والد کو خوب دونوں ہاتھوں لوٹا جب رقم ختم ہوگئی تو رہائش تبدیل کرنا شروع کردی‘ اس میں سے بھی اولاد ہے اب وہ کہتی ہے کہ جائو مانگ کر لائو اور ہمیں کھلائو۔ پر یہ فقیر بن گیا‘ وہ بیوی اب قریبی شہر میں ہے یہ اب بستر مرگ پر ہے پچھلے دنوں میں اپنے والد کو نہلارہی تھی تو بہت رو رہا تھا کہتا تھا کہ آہستہ صابن لگائو میرے جسم میں درد ہے۔ میں نے کہا کیسا درد ہے؟ کہنے لگے تمہاری سوتیلی ماں نے مجھے ڈنڈے مارے ہیں اور گھر سے نکال دیا ہے کہتی ہے کہ مانگ کر لائو۔ بیشک ہمارا والد قصور وار ہے لیکن میں اسے دھکا نہیں سکتی کیونکہ یہ میراباپ ہے میرے تایا چاچا بھی اب میرے والد کے وارث نہیں بنتے۔ پچھلے ایک ماہ کی بات ہے میرا والد اپنے پرانے دوستوں کے پاس گیا اور ان سے کہاکہ (میری بیوی جو ابھی جوان ہے خوبصورت ہے اور میری بچی جو اس میں سے ہے) ان دونوں کو اٹھا کر لے جائو میں اس کام میں آپ کی مدد کروں گا کیونکہ اب میری بیوی اور بچے میرا کہنا نہیں مانتے۔ میرے بھائی کو پتا چلا تو اس نے میرے والد کو کہاکہ اگر آپ نے یہ حرکت کی تو میں آپ کو قتل کرکے نہر میں پھینک دوں گا۔ اس کے بعد میرا والد اس حرکت سے باز آیا۔ میرے بھائی نے کہا وہ جیسی بھی ہے آخر ہماری سوتیلی ماں ہے اور اس کی لڑکی ہماری بہن ہے لوگ کیا کہیں گے۔
گرمی سے بچیں
اس ماہ میں صبح کی ابتداء چائے کی بجائے کسی ٹھنڈے مشروب سے کرنی چاہیے جیسے شربت صندل‘ شربت کیوڑہ‘ شربت بزوری یا بادام سے تیار شدہ سردائی یا مشروب عبقری افراء وغیرہ۔ ناشتہ میں مچھلی‘ گوشت اور انڈوں کی بجائے دودھ‘ دہی‘ مکھن اور لسی زیادہ مفید ہے۔
اپریل سے ہمارے پیارے ملک (پاکستان) میں اچھی خاصی گرمی پڑنی شروع ہوجاتی ہے۔ موسم سرما کا اثر مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے اس لیے ہوا میں نمی کم ہوکر حرارت تیز ہونے لگتی ہے جس کی بنا پر ہوا کا بھاری پن ختم ہوجاتا ہے اور ہوا گرم ہوکر بالائی فضا میں چلی جاتی ہے اور اس خلا کو پرکرنے کیلئے ٹھنڈی ہوا آجاتی ہے۔ ہوا کے اس مسلسل چکر کے باعث ہوا کی کثافتیں کم ہوکر ہمیں صاف ہوا ملنے لگتی ہے۔
سورج اور دھوپ کی شدید حرارت کے باعث فضا گرم ہوجاتی ہے جس سے انسانی اجسام بھی متاثر ہوتے ہیں اور نہ صرف بدن کی بیرونی جلد کا ہی درجہ حرارت بھی بڑھ جاتا ہے بلکہ اندرونی طور پر بھی ایک آدھ فارن ہائیٹ زیادہ ہوجاتا ہے۔ حرارت کے باعث رطوبات بدن کم ہوکر پیاس میں شدت آجاتی ہے اور چونکہ نمک رطوبتوں کو اکٹھا کرکے اخراج کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے اس موسم میں زیادہ نمکین چیزیں کھانے سے پرہیز واجب ہے۔اسی طرح زیادہ حرارت کی وجہ سے معدہ کمزور ہوجاتا ہے اور سری‘ گائے کا گوشت وغیرہ انتہائی ثقیل غذاؤں کو خاطر خواہ ہضم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا‘ گائے اور بکری کا دودھ اس موسم میں بہ نسبت بھینس کے دودھ کے اجزاء ترکیبی اور تاثیر کے لحاظ سے زیادہ فائدہ مند سمجھا گیا ہے۔جہاں تک ورزش کا تعلق ہے آپ جانتے ہیں حرکت سے حرارت پیدا ہوتی ہے اور جبکہ گرم موسم کے باعث پہلے ہی بدن متاثر ہورہا ہو تو اسے مزید متاثر کرنے کا سبب بنتی ہے۔ مگر طلوع آفتاب سے قبل اگر معمولی قسم کی ورزش کر بھی لی جائے تو زیادہ نقصان دہ نہیں۔ ہمارے ملکی حالات کے اس موسم میں دن میں دو یا تین بار غسل کرنا بھی بیحد مفید ہے تاکہ پسینہ کی بدبو اور میل کچیل صاف ہوکر جلد کے مسامات کھل جائیں۔
اس ماہ میں صبح کی ابتداء چائے کی بجائے کسی ٹھنڈے مشروب سے کرنی چاہیے جیسے شربت صندل‘ شربت کیوڑہ‘ شربت بزوری یا بادام سے تیار شدہ سردائی یا مشروب عبقری افراء وغیرہ۔ ناشتہ میں مچھلی‘ گوشت اور انڈوں کی بجائے دودھ‘ دہی‘ مکھن اور لسی زیادہ مفید ہے۔اسی طرح دوپہر اور رات کے کھانوں میں سبزپتوں والی سبزیاں اور دالیں زیادہ استعمال کریں۔ کھانے کے ہمراہ انار دانہ‘ پودینہ یا دھنیا کی چٹنی‘ پیاز اور سلاد بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ سوڈا واٹر‘ چائے‘ کافی‘ قہوہ وغیرہ سے حتیٰ الوسع پرہیز کریں تو آپ کی صحت کیلئے زیادہ بہتر ہوگا۔دھوپ میں زیادہ دیر ٹھہرنے‘ کام کرنے یا سفر کرنے میں احتیاط رکھیں۔ ضرورت کے وقت سر پر چھجے دار تنکوں کی بنی ہوئی ٹوپی استعمال کریں تاکہ سورج کی شعاعیں براہ راست ننگے سر یا گردن پر نہ پڑیں۔ ورنہ سردرد‘ بخار‘ نزلہ زکام‘ آشوب چشم‘ سوء مزاج بخار اور گردن توڑ جیسی بیماری کا حملہ ہوسکتا ہے۔ باہر سے آکر فوراً بجلی کے پنکھے تلے یا ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھنا مضر صحت ہے۔
تمازت آفتاب سے درد سر: شدید گرمی یا حبس میں بعض اوقات سردرد ہونے لگتا ہے۔ تمازت آفتاب سے لاحق ہونے والا درد سر شدید اور چبھن دار ہوتا ہے اس میں مریض بے چینی و بے قرار ی محسوس کرتا ہے۔ ایسی حالت میں نمک ملے پانی کا استعمال کرانا چاہیے۔ مریض کو ٹھنڈی اور تاریک جگہ رکھیں تاکہ اسے سکون حاصل ہو۔ زیادہ دیر سخت دھوپ میں گھومنے پھرنے سے کئی لوگ نڈھال ہوجاتے ہیں۔ اسی کیفیت میں مریض کی جلد زرد‘ ٹھنڈی اور نمدار ہوجاتی ہے اہم علامات میں انتشار‘ ذہنی پریشانی‘کمزوری‘ سستی‘ سرچکرانا‘ مدہوشی اور مختلف اعضاء کا تشنج اکڑاؤ شامل ہے۔ مریض کو وقفے وقفے سے نمک ملا پانی پلانا چاہیے۔
اس ماہ میں لباس عام سوتی کپڑے کا پہنیں تاکہ بدن تک سورج کی شعائیں پہنچنے میں مناسب رکاوٹ رہے۔ ویسے بھی اس قسم کے لباس میں آکر جسم ٹھنڈا رہتا ہے۔ بالکل باریک ململ یا وائل کے کپڑے نقصان دہ ہوتے ہیں اور ریشمی کپڑے پہننا تو اپنے جسم پر ظلم کرنا ہے۔
پندرہ اپریل کے بعد کوشش کریںرات کھلی ہوا میں پلنگ پر مچھردانی لگا کر سوئیں تاکہ مچھروں سے محفوظ رہ سکیں ورنہ ملیریا بخار کاخطرہ ہے جن لوگوں کے پاس مچھر دانی نہ ہو بدن کے کھلے حصوں پر مچھر مار کریم یا سرسوں کے تیل کی مالش کرکے سوئیں۔چند احتیاطی تدابیر:گرم موسم میں حسب ذیل احتیاطی و حفاظتی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں:۔٭ زیادہ دیر دھوپ میں پھرنے سے پرہیز کریں۔٭ کسی دوسری جگہ نقل مکانی کی صورت میں آب و ہوا سے موافقت پیدا کرنے کا دورانیہ آہستہ آہستہ بڑھایا جائے۔٭ سگریٹ‘ چائے‘ کافی اور الکوحل کا استعمال فوراً ترک کردیا جائے۔ ٭بچوں کو ننگے پاؤں باہر نہ جانے دیا جائے۔٭ تمازت آفتاب کے اثرات سب سے زیادہ رخسار محسوس کرتے ہیں۔ لہٰذا سائیکل یا موٹرسائیکل پر سفر کرتے ہوئے رومال چہرے اور سر پر لپیٹ لیا جائے۔ یہ لو سے بچنے کا ذریعہ ضرور ہے تاہم لو لگنے کے نقصانات بہرحال زیادہ ہیں۔٭ گوشت‘ چکنائی اور گرم سبزیوں کا استعمال کم سے کم کیا جائے۔٭ تربوز‘ آلوبخارا اور فالسہ جیسے پھل اور سردائی‘ لسی‘ ستو اور مشروبات کا استعمال باقاعدگی سے کیا جائے۔
عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو
حضرت احوص رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:۔
غور سے سنو! عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو‘ اس لیے کہ وہ تمہارے ماتحت ہیں تمہیں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے علاوہ اور کسی چیز کا اختیار نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ کسی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں تو پھر ان کو ان کے بستروں میں تنہا چھوڑ دو یعنی ان کے ساتھ سونا چھوڑ دو لیکن گھر ہی میں رہو اور ہلکی مار مارو۔ پھر اگر وہ تمہاری فرمانبرداری اختیارکرلیں تو ان پر زیادتی کرنے کے لیے بہانہ مت ڈھونڈو۔ غور سے سنو! تمہارا حق تمہاری بیویوں پر ہے اور (اسی طرح) تمہاری بیویوں کا تم پر حق ہے۔ تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کا آنا تم کو ناگوار گزرے اور نہ وہ تمہارے گھروں میں تمہاری اجازت کے بغیر کسی کو آنے دیں۔ غور سے سنو! ان عورتوں کا تم پر حق یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ ان کے لباس اور ان کی خوراک میں اچھا سلوک کرو یعنی اپنی حیثیت کے مطابق ان کے لیے ان چیزوں کا انتظام کرو۔ (ترمذی)
ہم نے عبقری سے خوشیاں پائیں
میں ماہنامہ عبقری کی گزشتہ پانچ سال سے قاری ہوں۔ اس کےپڑھنےسے مجھے بہت فائدہ ہوا‘ میرے علم میں اضافہ ہوتا ہے اور میں نے بہت لوگوں کو بتایا ہے جس کو بھی بتایا الحمدللہ اس میں موجود وظائف پڑھنے سے انہیں خوب فائدہ ہوا ہے۔ الحمدللہ ! جس گھر میں بھی عبقری دیکھا وہاں خوشیوں کا خزانہ دیکھا‘ میاں بیوی میں مثالی محبت دیکھی‘ بچوں میں بڑوں کا ادب اور بڑوں میں بچوں کے ساتھ پیار دیکھا۔ہاتھوںمیں تسبیح اور زبان پر ذکر جاری دیکھا‘ نماز کا اہتمام خوب دیکھا۔ واقعی عبقری گھر وں کیلئے خوشیوں کا خزانہ ہے۔ (ج۔ر)
عبقری جو پڑھا فائدہ ہی ملا:۔
میں ماہنامہ عبقری گزشتہ دو سال سے پڑھ رہی ہوں‘ میں نے اس سے آج تک جو بھی وظیفہ کیا الحمدللہ مجھے خوب فائدہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ میں نے جس کسی کو بھی یہ ماہنامہ عبقری دیا ہے وہ اس کا مستقل قاری بن گیا ہے اور اس رسالہ کی بدولت اسے بہت ہی زیادہ طبی و روحانی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ (شبانہ اقبال)۔
قرض سے نجات:۔
الحمدللہ جس دن سے عبقری پڑھنا شروع کیا ہے لوگوں سے قرض لینا چھوڑ دیا ہے۔ اب جبکہ خالق حقیقی سے مانگتا ہوں اور وظائف کرتا ہوں میرا قرض اترنا شروع ہوگیا۔ غیب سے نظام چلنا شروع ہوگیا ہے۔ بے شک میرے وسائل نہیں ہیں مگر میرا پروردگار کسی وسائل اور اسباب کا محتاج نہیں ہے۔ جو اسباب اور وسائل بنانےپرآتا ہےتو وہ کسی کا محتاج نہیں جب اس کی عطا ہوتی ہےوہ نہ نیک دیکھتا ہےاور نہ وہ گنہگار دیکھتا ہےوہ کالا دیکھتا ہے اور نہ وہ سیاہ دیکھتا ہے‘ وہ نہ عمل دیکھتا ہے نہ وہ کوڑے کےڈھیر دیکھتا ہے‘ وہ ایسا کریم ہےکہ اس کی موج رحمت بنجر اور سنگلاخ زمینوںکو بھی سیراب کردیتی ہے۔ الحمدللہ! ۔عبقری میں آئے طبی وروحانی ٹوٹکوں نے زندگی آسان کردی ہے۔( محمدصابر‘ ہری پور)
عبقری سے زندگی میں سکون:۔
محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!میں آپ کی بہت شکرگزار ہوں‘ آپ کی وجہ سے میرے بہت سے کام حل ہوئے ہیں‘ محترم حکیم صاحب میں آپ کا رسالہ جس کی وجہ سے مجھے سکون ملتا ہے۔عبقری میں جو بھی وظائف آتے ہیں میں کرتی ہوں اور میرے مسائل حل ہوتے ہیں۔
صحابہ کرام کے واقعات
تجارت میں کبھی گھاٹا نہیں ہوا:۔
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی کنیت ابوخالد ہے اور خاندان قریش کی شاخ بنواسد سے ان کاتعلق خاندانی ہے۔ یہ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھتیجے ہیں۔ ان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ان کی والدہ (جبکہ یہ ان کے بطن میں تھے) کعبہ کے اندر بتوں پر چڑھاوا چڑھانے کو گئیں تو بیج کعبہ میں حکیم بن حزام پیدا ہوگئے۔ زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں یہ اشراف قریش میں سے شمارکیے جاتے تھے۔ فتح مکہ کے سال 8 ہجری میں مشرف بااسلام ہوئے۔ بہت ہی عقلمند، معاملہ فہم اور صاحب علم و تقویٰ شعار تھے۔ ایک سو غلاموں کوخرید کر آزاد کیا اور ایک سو اونٹ ان مسافروں کو دئیے جن کے پاس سواری کے جانورنہیں تھے۔ ایک سو بیس برس کی عمر پائی۔ ساٹھ برس کفر کی حالت میں اور ساٹھ برس اسلامی زندگی گزاری۔ 45 ہجری میں بمقام مدینہ منورہ ان کا وصال ہوا۔ (1 کمال ص561)
ان کی مشہور کرامت یہ ہے کہ یہ تاجر تھے۔ زندگی بھر تجارت کرتے رہے مگر کبھی بھی اور کہیں بھی اور کسی سودے میں بھی کوئی نقصان اورگھاٹا نہیں ہوا بلکہ اگر یہ مٹی بھی خریدتے تو اس میں نفع ہی نفع ہوتا کیونکہ حضورنبی کریم ﷺ نے ان کیلئے یہ دعا فرمائی تھی اللھم بارک فی صنعتہ (اے اللہ! ان کے بیوپار میں برکت عطا فرما)کنزالعمال ج12 ص362)۔ترمذی وابوداؤد کی روایتوں میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ان کو دو دینار دے کر ایک مینڈھا خریدنے کیلئے بھیجا تو انہوں نے ایک دینار میں دو مینڈھے خریدے اور پھر ان میں سے ایک مینڈھے کو ایک دینار میں فروخت کر ڈالا اور آپ کی خدمت اقدس میں آکر ایک مینڈھا اور دو دینار پیش کردئیے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس میں سے ایک دینار کو تو خدا کی راہ میں خیرات کردیا اور پھر خوش ہوکر ان کی تجارت میں برکت کیلئے دعا فرمادی۔ (مشکوٰۃ ص 254،باب الشرکہ والوکالت)
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ: یہ قدیم الاسلام اورمہاجرین اولین میں سے ہیں اور یہ ان مصیبت زدہ صحابیوں میں سے ہیں جن کوکفار مکہ نے اس قدر ایذائیں دیں کہ جنہیں سوچ کر ہی بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ظالموں نے ان کو جلتی ہوئی آگ پر لٹایا چنانچہ یہ دہکتی ہوئی آگ کے کوئلوں پرپیٹھ کے بل لیٹے رہتے تھے اور جب حضور اقدس ﷺ ان کے پاس سے گزرتے اور یہ آپ کو یارسول اللہﷺ کہہ کر پکارتے تو آپ ﷺ ان کیلئے اس طرح آگ سے فرمایا کرتے تھے۔
یانار کونی بردا وسلاما علی عمار کما کنت علی ابراہیم۔ (اے آگ تو عمار پر اس طرح ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا جس طرح تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کیلئے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن گئی تھی)۔ ان کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی سمعیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے ابوجہل نے بہت ستایا‘ یہاں تک کہ ان کی ناف کے نیچے نیزہ مار دیا جس سے ان کی روح پرواز کرگئی اور عہداسلام میں سب سے پہلے یہ شہادت سے سرفراد ہوگئیں۔ حضور اکرمﷺ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو طیب و مطیب کے لقب سے پکارا کرتے تھے۔ یہ 37 ہجری میں ترانوے برس کی عمر پاکر شہید ہوگئے۔ (اکمال ص 607)
کبھی ان کی قسم نہیں ٹوٹی: حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی مشہور کرامت ہے کہ یہ جس بات کی قسم اٹھالیا کرتے تھے خداوند کریم ہمیشہ ان کی قسم کو پوری فرمادیتے تھے کیونکہ حضور اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا تھا کم من ذی طموین لایوبہ لو اقسم علی اللہ لابرہ منھم عمار بن یاسر۔ (کنزالعمال 12 ص 295)
(ترجمہ: کتنے ہی ایسے کمبل پوش ہیں کہ لوگ ان کی کوئی پروا نہیں کرتے لیکن اگر وہ کسی بات کی قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کی قسم کو پوری فرمادے گا اور انہیں لوگوں میں عماربن یاسر ہیں)
تین مرتبہ شیطان کو بچھاڑا:۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو پانی بھرنے کیلئے بھیجا۔ شیطان ایک کالے غلام کی صورت میں حضرت عماررضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو پانی بھرنے سے روکنے لگا اور لڑنے پرآمادہ ہوگیا۔ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اس کو بچھاڑ دیا تو وہ عاجزی کرنے لگا۔ اسی طرح تین مرتبہ شیطان نے پانی بھرنے سے آپ کو روکا اور لڑنے پر تیار ہوا اور تینوں مرتبہ آپ نے اس کو بچھاڑ دیا جس وقت شیطان سےآپ کی کشتی ہورہی تھی۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنی مجلس میں صحابہ کرام ؓکو بتادیا کہ آج عمار نے تین مرتبہ شیطان کو بچھاڑ دیا ہے جو ایک کالے غلام کی صورت میں ان سےلڑرہا ہے۔ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ جب پانی لے کرآگئے تو میں نے ان سے کہا کہ تمہارے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تم نے تین مرتبہ شیطان کو بچھاڑا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کہنے لگے کہ خدا کی قسم! مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ شیطان ہے ورنہ میں اس کو مار ڈالتا ہاں البتہ تیسری مرتبہ مجھے بڑا ہی غصہ آگیا تھا اور میں نے ارادہ کرلیا تھا کہ میں دانت سے اس کی ناک کاٹ لوں مگر میں جب اس کی ناک کےقریب منہ لے کر گیا تو مجھے بہت ہی گندی بدبو محسوس ہوئی اس لیے میں پیچھے ہٹ گیا اور اس کی ناک بچ گئی۔
چرواہے کو مقام کیسے ملا؟
حضرت لقمان علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک دن اپنے شاگردوں اور دوستوں کو حکمت اور دانائی کا درس دے رہے تھے سب لوگ ان کے سبق کو بہت غور سے سن رہے تھے۔ ایک شخص درس میں بیٹھا آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔اُ سے آپ کی آواز جانی پہچانی معلوم ہورہی تھی۔ آخر جب آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام درس سے فارغ ہوگئے تو آگے بڑھا اور بولا میں فلاں مقام پر کسی زمانے میں بکریاں چرایا کرتا تھا بکریاں چروانے والا میرا ایک ساتھی تھا اس شخص کی صورت اور آواز بالکل آپ جیسی تھی۔ ہاں مجھے یاد ہے۔ میں وہی ہوں‘ حضرت لقمان علیہ الصلوٰۃ والسلام بولے۔ اس شخص نے حیران ہوکر پوچھا آپ کو یہ مرتبہ کس طرح حاصل ہوا؟ حضرت لقمان علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: دو باتوں سے ایک سچ بولنا‘ دوسرا بغیر ضرورت بات نہ کرنا۔
امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کی امام ابو حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ کو نصیحت:۔
حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ایک روزکسی کام سے بازارجارہے تھے‘ راستے میں ان کی ملاقات حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے ہوگئی۔ ان کی شکل و صورت دیکھ کر وہ سمجھے کہ یہ کوئی طالب علم ہے۔ چنانچہ حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں اپنے پاس بلایا اور پوچھنے لگے: اے نوجوان! کہاں جارہے ہو؟ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا میں ایک تاجر کےپاس جارہا ہوں۔ ان کی بات سن کر حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: میرامطلب ہے تم کس سے پڑھتے ہو؟ یہ سن کر آپ شرمندہ ہوئے اور بولے میں کسی سے بھی نہیں پڑھتا۔ اس پر حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے: تم علماء کی صحبت میں بیٹھا کرو‘ مجھے تمہارے اندر قابلیت کے جوہر نظر آتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ بات میرے دل میں گھر کرگئی میں بازار چھوڑ کر صرف علم کا ہوکر رہ گیا۔
Wednesday, January 3, 2018
جانوروں کے ساتھ اچھا سلوک کریں
بلی کے بچے:۔
وہ اس وقت ریٹائرڈ ہیں‘ اس سےپہلے آرمی میں کرنل تھے‘ایک شریف اچھے انسان ہیں۔ پرانے طرز کی بنی حویلی جس میں آگ جلانے کی چمنی جو کہ دھواں باہر نکالتی ہے اب چونکہ رواج ہی ختم ہوگیا‘ گھروں میں کوئلہ جلانا‘ لکڑی جلانا‘ چمنی ویران پڑی ہوئی تھی‘ چمنی میں اوپر کی منزل میں کہیں توڑ پھوڑ ہوئی اور کوئی جگہ بن گئی‘ جس میں بلی نے بچے دے دئیے۔ انہوں نے سوچا کہ بلی کے بچے نامعلوم کیا کریں؟ بیوی نے بھی ان کی رائے کو مزید تقویت دی‘ اب رات یہ مشورہ ہوا کہ ہم صبح اٹھتے ہی گھریلو ملازم کو حکم دیں گے کہ ان بچوں کو اٹھا کر بلی سمیت باہر کہیں چھوڑ آئے‘ بس یہ مشورہ تھا‘ رات سو گئے‘ رات کو خواب دیکھا اور کسی کہنے والے نے کہا’’ خیال کرنا‘ اس بے زبان کو نہ چھیڑنا‘ ورنہ تمہارا باقی کچھ نہیں بچنا‘‘ وہ آواز ایسی ہیبت ناک تھی کہ ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے‘ نیند میں ایک دم ڈر گئے‘ چیخ نکلی‘ اٹھے تو پسینہ پسینہ تھے‘ اس دن کے بعد انہوں نے اپنے گھر سے کسی بے زبان جانور کو نکالنے کے فیصلے ختم کردئیےاور واقعی پھر ہوا یہی کہ ان کے گھرمیں خیریں اور برکتیں ایسے آنا شروع ہوئیں جن مسائل کو یہ بہت زیادہ حل کرنا چاہتے تھے اور حل نہیں ہوپارہے تھے اور وہ سلوٹوں میں حل ہوگئے اور زندگی میں راحتیں‘ خوشیاں‘ ایسے لوٹ آئیں جو کبھی سوچی ہی نہیں تھیں۔
چڑیا کی بددعا:۔
بالکل اسی طرح کا واقعہ ایک بزرگ کا ہے انہیں فالج ہوا‘ مصلے پر بیٹھے ذکر تسبیحات کررہے تھے اور کئی عرصہ سے یہ تکلیف بھگت رہے تھے‘ تکلیف تھی کہ روز بڑھتی چلی جارہی تھی اور یہ اس تکلیف سے بالکل عاجز آگئے اور تھک گئے تھے‘ اسی دکھ اور تکلیف کے انداز میں بیٹھے اللہ سے شفایابی کی مناجات کررہے تھے کہ اچانک اونگھ آئی اور چڑیا کی چہچہانے کی آواز کانوں میں آئی اور چڑیا ہی کی آواز کی طرز پر ایک ایسی آواز آئی جس میں یہ پیغام دیا گیا کہ یاد ہے! کہ ہم نے تیرے گھر میں گھونسلہ بنایا تھا اور چونکہ تنکے تیرے گھر میں گرتے تھے اور تیرے گھر کی خوبصورتی اور صفائی میں حرج آتا تھا تو نے ہمارے گھونسلے کو توڑ کر بچوں کو اٹھا کر کہیں دور کھلی جگہ پر رکھ دیا اور وہ جگہ ایسی تھی جہاں ظالم جانور میرے بچوں کو نقصان پہنچا سکتا تھا اسی وقت میں دعاؤں میں لگ گئی اللہ نے ایک رحم دل کے دل میں ترس ڈالا اور اس نے وہ میرا گھونسلہ اٹھا کر کسی محفوظ جگہ رکھ دیا اس کیلئے تو میں نے دعا کردی اور تیرے لیے بددعا کردی۔ وہ ایک خطرناک لاعلاج بیماری او بے شمارمصائب میں مبتلا تھا وہ آنا فانا ان سے نکل گیا اور تو بہت راحتوں دولتوں خوشیوں اور صحت مند تھا بس آناً فاناً تجھے بیماری ہوگئی اور تیرا سب کچھ چھن گیا۔ یہ سب کچھ اس نے مصلے پربیٹھے اپنے کانوں سے سنا بات ختم ہوئی تو ایک دم آنکھ کھلی اس نے رونا شروع کردیا اور گڑگڑانا شروع کردیا اور اب احساس ہوا کہ کیا واقعی بے زبان دعا بھی دیتے ہیں اور بددعا بھی‘ میری ایک ملنے والے نہایت حلیم اور کریم مزاج اور بہت صالح شخص ہیں۔ فرمانے لگے: میں بہت سالہا سال کی آسوں اور مرادوں کے بعد حج پر حاضر ہوا چونکہ پہلی پہلی فلائٹ تھی اور رش بالکل نہیں تھا میں رات کے آخری پہر میں ایسے وقت میں گیا کہ کعبہ کا حطیم خالی تھا‘ میں نے وہاں دیکھا تو ایک بلی دونوں ہاتھوں کو زمین پر بچھائے اور اپنی گردن اور سر کو فرش سے لگائے سجدے میں پڑی تھی اسے میرے آنے کی کوئی خبر نہ ہوئی وہ بے سدھ تھی اور جیسے اللہ کے ساتھ رازو نیاز کررہی ہو۔شیخ بہاؤالدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ جن کی وجہ سے سلسلہ نقشبندیہ ہے۔ اللہ سے فقیری ولایت اورقبولیت مانگتے رہتے تھے اپنے پیٹ پالنے کیلئے ایک چھوٹا سا پیشہ اور مزدوری کرتے تھے تاکہ رزق حلال میں معاونت رہے‘ ایک دفعہ حکم ہوا کہ ایک کتا نما مردار جانور ہے وہ گندگی میں لتھڑا ہوا ہے اور اسے ایک جگہ زخم ہے وہ بھوکا بھی ہے اور پیاسا بھی ہے۔ بہاؤالدین اس کی خدمت کرو‘ دل کی مرادیں پاجاؤ گے۔ شیخ بہاؤالدین رحمۃ اللہ علیہ نے اس جانور کی خدمت کی‘ بہت عرصہ خدمت کرنے کے بعد جانور تندرست ہوگیا‘ ادھر وہ تندرست ہوا‘ اور ادھر انہیں بہت برکتوں اور رحمتوں کا خزانہ مل گیا آج ان کا نام دنیا میں روشن ہے۔ میرے دوست ایک قصائی سے گوشت لیتے ہیں‘ نمازی آدمی ہیں‘ میں بھی ایک دفعہ ان کے پاس گیا‘ بات چل رہی تھی بلی پر‘ کہنے لگے کہ بلی آتی اور میرا گوشت کھاجاتی‘ ایک دفعہ آئی تو میں نے اس کو زور سے دوڑتے ہوئے چھری ماری‘ چھری جاکر اس کو لگی اور وہیں تڑپ کر مرگئی دوسرے دن میرا ایک تندرست بکرا مرگیا۔ ایک چوہدری صاحب مجھے بتانے لگے میں نے ایک دفعہ ایک بلی کو مارا تو مجھے پندرہ دن بخار رہا۔قارئین! بے زبانوں کی دعائیں بھی اثر کرتی ہیں‘ اور بددعائیں بھی اثر کرتی ہیں۔ بس! دعائیں لیتے رہیں اور بددعاؤں سے بچتے رہیں۔
چرواہے کو مقام کیسے ملا؟
حضرت لقمان علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک دن اپنے شاگردوں اور دوستوں کو حکمت اور دانائی کا درس دے رہے تھے سب لوگ ان کے سبق کو بہت غور سے سن رہے تھے۔ ایک شخص درس میں بیٹھا آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔اُ سے آپ کی آواز جانی پہچانی معلوم ہورہی تھی۔ آخر جب آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام درس سے فارغ ہوگئے تو آگے بڑھا اور بولا میں فلاں مقام پر کسی زمانے میں بکریاں چرایا کرتا تھا بکریاں چروانے والا میرا ایک ساتھی تھا اس شخص کی صورت اور آواز بالکل آپ جیسی تھی۔ ہاں مجھے یاد ہے۔ میں وہی ہوں‘ حضرت لقمان علیہ الصلوٰۃ والسلام بولے۔ اس شخص نے حیران ہوکر پوچھا آپ کو یہ مرتبہ کس طرح حاصل ہوا؟ حضرت لقمان علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: دو باتوں سے ایک سچ بولنا‘ دوسرا بغیر ضرورت بات نہ کرنا۔
امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کی امام ابو حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ کو نصیحت:۔
حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ایک روزکسی کام سے بازارجارہے تھے‘ راستے میں ان کی ملاقات حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے ہوگئی۔ ان کی شکل و صورت دیکھ کر وہ سمجھے کہ یہ کوئی طالب علم ہے۔ چنانچہ حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں اپنے پاس بلایا اور پوچھنے لگے: اے نوجوان! کہاںجارہے ہو؟ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا میں ایک تاجر کےپاس جارہا ہوں۔ ان کی بات سن کر حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: میرامطلب ہے تم کس سے پڑھتے ہو؟ یہ سن کر آپ شرمندہ ہوئے اور بولے میں کسی سے بھی نہیں پڑھتا۔ اس پر حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے: تم علماء کی صحبت میں بیٹھا کرو‘ مجھے تمہارے اندر قابلیت کے جوہر نظر آتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ بات میرے دل میں گھر کرگئی میں بازار چھوڑ کر صرف علم کا ہوکر رہ گیا۔
خوشبو لگائی اور آمدن ڈبل
میرےایک بزرگ ہیں جن کو ہم چچا اقبال کہتے ہیں‘ چچا کپڑے کے تاجر ہیں اورانہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ کراچی کی بولڈن مارکیٹ سے دکان کیلئے کپڑا لیا اور ایک رکشہ والے سے بات کی‘ کرایہ طے کرنے کے بعد سامان رکھا‘ میں موٹرسائیکل پر رکشے کےپیچھے پیچھے چلا آرہا تھا‘ ایک چورنگی پر سگنل بند ہونے اور پھر کھل جانے پر گاڑیوں کے ہجوم میں رکشہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا‘ میں نے اپنے طور پر ادھر ادھر کافی تلاش کیا مگرکامیابی نہ ملی‘ بڑی پریشانی ہوئی‘ عید کاسیزن‘ پورے سال کی کمائی ڈوبتے ہوئے نظر آئی توآنکھوں کے آگے اندھیرا چھاگیا‘ چکر آنا شروع ہوگئے۔ بہرحال میری عادت ہےکہ میں رکشہ کا نمبر نوٹ کرلیتا ہوں‘ میں نے تھانہ میں رپورٹ درج کروائی مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی‘ ایک صاحب نے پیسے لے کر کہا میں کام کردوں گا لیکن اس سے بھی کام نہ ہوا اور مجھے ہرطرف سےناکامی ہی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا‘ پورے رمضان میں اسی جستجو میں رہا‘ اسی دوران ایک صاحب نے مجھے اِنَّا لِلہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے کیلئے کہا میں نے ان کی بات پر عمل کرتے ہوئے اسے پڑھنا شروع کردیا اور روزانہ چلتے پھرتے اسے ورد بنالیا اور سینکڑوں ‘ہزاروں کی تعداد میں پڑھتا رہا۔ پورے ایک ماہ بعد کسی دوسرے علاقے میں کسی کام سے گیا اور وہاں کی مقامی مسجد میں نماز جمعہ پڑھ کر جیسے ہی میں مسجد سے نکل کر سڑک پر آیا اور میری نظر ایک رکشے پر پڑی‘ دیکھا تو اسی نمبر کا رکشہ تھا جس پر میں نے سامان رکھا تھا‘ میں بھاگ کر اس تک پہنچا تو بندہ بھی وہی تھا‘ اس نے بھی مجھے پہچان لیا اور بولا بابا آپ کدھر چلا گیا ہم تو آپ کو تلاش کرکے پاگل ہوگیا ہے‘ آپ کا سامان ہمارے پاس آپ کی امانت ہے‘ آپ ابھی میرے ساتھ چلیں اور براہ مہربانی مجھےامانت کے بار سے نجات دلائیں‘ اس نے جو علاقہ بتایا وہ کراچی کا بدامنی کے لحاظ سے مشہور و معروف ہے‘ مجھے ڈر بھی لگ رہا تھا‘ بہرحال دعائیں کرتا اس کے ساتھ آیا اور اس نے مجھے وہ سامان دےدیا‘ کوئی ایک چیز بھی اس میں سے کم نہ تھی‘ اللہ اسے جزائے خیر عطا فرمائے‘ اللہ کی رحمت اور اس کی برکت سے ان کا سامان انہیں واپس مل گیا۔ دوسرا واقعہ چچا اقبال نے یہ سنایا کہ محترم حضرت حکیم صاحب گزشتہ سال جب کراچی میں درس کیلئے تشریف لائے تھے اور انہوں نے اپنے بیان میں ایک بات یہ فرمائی تھی کہ سفید لباس اور خوشبو لگایا کریں اور ہمیشہ باوضو رہا کریں اس کے حضرت حکیم صاحب نے بےشمار فائدے بتائے‘ اس کا جو فائدہ ہوا وہ بتارہا ہوں‘ فرمانے لگے: میں نے جب سے باوضورہنااور خوشبو لگانا شروع کی ہے اور خاص طور پر جب خوشبولگا کر اپنی کپڑے کی دکان پر بیٹھتا ہوں میں نے واضح طور پر اس کامشاہدہ کیا کہ میری آمدنی بڑھ جاتی ہے گاہک زیادہ آتے ہیں میرے اس تجربے کی تصدیق میرے بیٹے نے بھی کی کہ واقعی اباجان! جب آپ خوشبو لگا کر آتے ہیں تو گاہک زیادہ آتے ہیں۔
Sunday, December 31, 2017
کیا کوئی تمہارا مخلص دوست ہے؟
کیا کوئی میرا مخلص دوست ہے؟ آپ حیران ہوں گے کہ میں نے بچپن سے اور اچھے زمانے میں یہ فقرہ اپنے دادا جان حکیم ضیاء الدین رحمۃ اللہ علیہ اور اپنے والدگرامی حکیم فیروزالدین اجملی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا۔ قرآن پاک طب و نفسیات اور سپورٹس مین شپ ان کی زندگی تھی‘ اوڑھنا‘ بچھونا تھی‘ اُس وقت ہمارا معاشرہ بانجھ، بے مزہ‘ بے وقعت نہیں ہوا تھا۔ ہر گھر میں مشینری کم سےکم تھی زیادہ سے زیادہ کھاتے پیتے گھرانے میں چھت والا پنکھا اور زیادہ امیر کے گھر میں پیڈسٹل فین ہوتا تھا۔ موبائل فون، ٹی وی،ویڈیو گیمز نہیں تھیں۔ یقین مانیے اس وقت مہنگائی، اورورک، تکان‘ تناؤ‘ ٹینشن‘ ڈیپریشن‘ بلڈپریشر‘ شوگر‘ قلب‘ معدہ جگر‘ آنتوں کے مریض اس قدر نہیں تھے ان میں سے اکثر الفاظ سےقوم ناآشنا تھی۔ اس وقت میں نے اپنے بزرگوں کو اپنے احباب سے یہ فقرہ کہتے سُنا کہ کیا تمہارا کوئی مخلص دوست ہے؟ میں نے بالکل بچپن میں ان کی کتابیں پڑھنا شروع کیں۔ میٹھے بول میں جادو ہے۔ ہنسی خوشی جینا سیکھئے۔ حکایات سعدی۔ حکایات رومی۔ گلستان، بوستان جیسے عنوانات سے مزین کتابوں کی گُھٹی ملی۔قارئین کرام! میرے باباجی کے دوست تھے عارف شاہ وارثی صاحب فرماتےدوست کا مطلب ہے دو سَت یعنی دو جو ہر دو نچوڑ، دوالکلائیڈ، جس کی بُری بھی بھلی لگے‘ دوست بے غرض‘ بے لوث‘ درمیان میں امیری غریبی کا فرق نہ ہو۔ امیر جھک کر دوستی میں اغراض و مقاصد لالچ پر مبنی نہ ہو صرف اللہ کیلئے تعلق ہو اور غیرمسلم سے انسانیت اور اخلاق کے ناطے تعلق ہو۔ تب ہی نبھتی ہے۔ بابرکت ہوتی ہےاس میں اللہ کی رحمت موجود ہوتی ہے۔ پیارے قارئین کرام تمہید کچھ لمبی ہوگئی۔ اس وقت نفسانفسی، بے برکتی، بے اعتباری، بے اعتمادی کے جس دور سے ہم گزررہے ہیں حقیقتاً معاشرہ برباد ہوچکا ہے۔ نہ ہماری دینی قدریں مضبوط ہیں نہ ہی دنیاوی خاندان اور رشتوں کو توڑ پھوڑ، مہنگائی نے ملنا جلنا‘ آنا جانا چھین لیا ہے۔ فون پر بھی غم خوشی بانٹنے سے ہم دور ہوگئے ہیں‘ہر کاروباری سے دن بھر اسی حوالے کے لوگ ملتے ہیں جب غور کرے تو دوست شاید ایک بھی مشکل سے ہوتا ہوگا۔ میں اکثر احباب سے پوچھتا ہوں کیا تمہارا کوئی بے تکلف دوست ہے؟
Monday, December 11, 2017
پرندوں کو کھانا دینے کا انعام
ہمارے گاؤں کے لوگ غریب کسان تھے‘ وہ کھیتی باڑی سے اپنا گزارہ کرتے تھے‘ گاؤں میں ایک چھوٹی سی دکان تھی‘ لوگ اپنا غلہ لے کر اس دکان دار کےپاس جاتے وہ ان سے غلہ لیتا اورپیسے دےدیتا۔ وہ دکان دار غلے کو تولتا نہیں تھا بلکہ تولے بغیر ہی چند روپے بندے کے ہاتھ پر رکھ دیتا‘ لوگ بے چارے کچھ کہہ نہیں پاتے کیونکہ انہیں پیسے چاہیے ہوتے اور اگر بچے ان کے پاس جاتے تو ان سے غلہ لے کر چند میٹھی گولیاں دے دیتا۔ اس کی ایک عادت تھی‘ وہ دوپہر کے وقت گھر سے تازہ روٹیاں لے کر پہاڑوں میں جاتا اور وہاں جو بیمار کتے‘ کتیا یا ان کے چھوٹے بچے ہوتے ان کو وہ روٹیاں ڈال کر آتا اور جس کتیا کے بچے چھوٹے ہوتے ان کیلئے وہاں چھوٹے کمرے بناتا تاکہ وہ سردی سے بچ سکیں۔ پھر وہ شخص بوڑھا ہوگیا اور پھر اس کی موت کا وقت آیا اس وقت میں مدرسے میں قرآن حفظ کررہا تھا چند لوگ آئے کہ فلاں باباجی کی حالت بہت خراب ہے‘ ان کی جان نہیں نکل رہی تو آپ لوگ ہمارے ساتھ چل کر ان کےلیے کچھ پڑھیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائیں میں اور میرے استاد صاحبان گئے ہم نے وہاں پر اس شخص کے پاس بیٹھ کرسورۂ یٰسین شریف پڑھی‘ (شاید انہوں نے یٰسین کا ختم کیا تھا) یا جو بھی پڑھا تو ان کی جان نکل گئی اچانک مجھے اونگھ آگئی اور میں نے دیکھا کہ ہزاروں کی تعداد میں بھڑیں اور ذنبوریاں آرہی ہیں اور اس کی لاش سے چمٹ گئی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ان بھڑوں نے اس کی لاش کو ختم کردیا ایک دم سے خوفزدہ ہوکر میں اٹھ بیٹھا‘ میں نے اپنے استاد کو یہ خواب سنایا تو انہوں نے جنازہ پڑھانے سے پہلے لوگوں سے ایک درخواست کی‘ اے لوگو! یہ شخص مسلمان ہے اور ہمارے گاؤں کا ہے آپ لوگوں کا حق کھاچکا ہے مگر اب آپ لوگ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے اس کو معاف کردیں اگر اس کو عذاب ہوگا تو آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا‘ ہوسکتا ہے اس کو معاف کرنے سے ہم سب کی بھی مغفرت ہوجائے‘ تو لوگوں نے کہا ہم نے اپنا حق اس کو معاف کیا‘ ہم نے اس کی ہر زیادتی کو معاف کیا‘ مجھے یقین ہے اللہ تعالیٰ نے بھی اس کو معاف کردیا ہوگا۔ اسے ان مظلوم جانوروں کی دعا لگ گئی کہ اللہ نے اس کے اتنے سنگین جرم کو بھی معاف کرنے کا انتظام کردیا۔ اللہ تعالیٰ اتنا کریم ہے کہ وہ اپنے بندوں کو بخشنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ اللہ ہمیں ہدایت دے۔
بادشاہ اور چار چور
سلطان محمود غزنوی اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتا تھا اس کی عادت تھی کہ وہ راتوں کو بھیس بدل کر شہر کی گلیوں میں جائزہ لیتا کہ رعایا کس حال میں ہے ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ سلطان محمود غزنوی اپنے معمول کے مطابق بھیس کر شہر میں پھر رہا تھا کہ اسے ایک جگہ پر چند افراد کٹھے جاتے ہوئے دکھائی دئیے جو کسی جگہ چوری کرنے کی نیت سے جارہے تھے۔
سلطان محمود غزنوی کو اپنی طرف آتا دیکھ کر چور خوفزدہ ہوگئے کہ یہ آدھی رات کے وقت کون اس طرف آرہا ہے چونکہ انہوں نے سلطان کو بالکل نہیں پہچانا تھا اس لیے کہنے لگے تم کون ہو؟ سلطان نے کہا میں بھی تمہاری طرح کا ایک آدمی ہوں‘ چوروں نے سمجھا کہ شاید یہ بھی ہماری طرح کا کوئی چور ہی ہے جو آدھی رات کے بعد چوری کی نیت سےنکلا ہے چنانچہ انہوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ سلطان محمود غزنوی نے ان سے کہا تنی رات گئے تم کس ارادے سے پھر رہے ہو؟ وہ کہنے لگے اسی ارادے سے جس ارادے سے تم پھر رہے ہو یعنی چوری کی نیت سے۔ سلطان نے کہا اگر چوری ہی کرنی ہے تو پھر کسی ایسی جگہ کرو جہاں سے اس قدر دولت ہاتھ لگ جائے جو ساری عمر کیلئے ہمیں کافی ہو اور پھر کبھی چوری کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ میرا مشورہ ہے کہ شاہی محل لوٹتے ہیں جہاں سے ہمیں بہت بڑا خزانہ ہاتھ لگ سکتا ہے۔ چوروں نےسنا تو بہت خوش ہوئے اور سلطان کی جرأت و بہادری پر اش اش کر اٹھے اور کہا واہ بھئی واہ تم تو بڑے بہادر اور جرأت مند ہو کیونکہ شاہی محل میں چوری کرنا بڑی ہمت اور حوصلے کاکام ہے اور تم اس بات کو کرنے میں ذرا بھی نہیں گھبرائے ہم تمہیں آج سے اپنا سردار مانتے ہیں تم جو حکم دو گے ہم اس کی اطاعت کریں گے۔ لیکن جو کام تم نے شاہی محل والا بتایا ہے وہ بڑا مشکل ہے۔ سلطان نے کہا میرے ہوتے ہوئے تم ذرا نہ گھبراؤ اب تیاری پکڑو اس مقصد کیلئے پہلے ہم ایک منصوبہ بنالیتے ہیں تاکہ آسانی رہے ہم میں سے ہر ایک اپنا اپنا کمال بیان کرے کہ وہ کس خصوصی خوبی کامالک ہے۔ان سب نے باری باری اپنا اپنا کمال بتانا شروع کیا کہ ایک چور کہا کہ میں یہ کمال رکھتا ہوں کہ جس جگہ خزانہ رکھا گیا ہو مجھے اس جگہ کی مٹی سے خزانے کی خوشبو آجاتی ہے۔ دوسرا چور کہنے لگا مجھے یہ کمال حاصل ہے کہ اگر سخت اندھیری رات میں بھی کسی کو ایک مرتبہ دیکھ لوں تو پھر اس کی شکل کبھی نہیں بھولتا اور دن کی روشنی میں بغیر کسی مشکل کے اسے شناخت کرلیتا ہوں۔ تیسرے چور نے کہا میں یہ خصوصی کمال رکھتا ہوں کہ مجھے کتے کی زبان سمجھ آتی ہے۔ چوتھا چور بولا: مجھے یہ کمال حاصل ہے کہ چاہے محل کی دیوار کتنی اونچی ہو اگر میں کمند پھینکوں تو وہ فوراً دیوار کے اوپر جاکر فٹ ہوجاتی ہے جس کے باعث ہم آسانی کے ساتھ محل کے اندر پہنچ سکتے ہیں۔ اب چور کہنے لگے: سردار! اب تم اپنا کمال بتاؤ‘ سلطان بولا: مجھ میں یہ خوبی ہے کہ اگر مجرم گرفتار ہوں اور ان کو موت کی سزا کا حکم ہو پھر جلاد ان کی گردنیں اتارنے کیلئے تختہ دار پر بھی لے آئے تو عین اس موقع پر اگر میں اپنی ڈاڑھی ہلادوں تو مجرم اسی وقت قید سے چھوٹ جائیں اور ان کی جان بخشی ہوجائے۔ سب چور یہ سن کر بڑے حیران ہوئے اور کہا اس کمال کے ہوتے ہوئےتو ہمیں ذرا بھی ڈر محسوس نہیں کرنا چاہیے اس کے بعد وہ سب شاہی محل کی طرف چوری کے ارادے سے چل پڑے کہ راستے میں ایک کتا ان کی طرف دیکھ کر بھونکا چور نے بتایا کہ ساتھیو! کتے نے جو کچھ کہا ہے اسے سن کر تو میں بھی بڑا حیران ہورہا ہوں اگر تم سنو تمہیں یقین ہی نہ آئے باقی چوروں کو بھی تجسس ہوا کہنے لگا بتاؤ تو سہی کتا کیا کہہ رہا ہے؟ وہ بولا کتا کہہ رہا ہے کہ ان پانچوں میں سے ایک بادشاہ ہے‘ یہ سن کر سب ہنسنے لگے اور بولے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم میں سے ایک بادشاہ ہے۔ وہ چور کہنے لگا بے شک تم اس بات پر ہنسو لیکن کتا یہی کہہ رہا ہے۔ ان سب نے اپنے دل کو تسلی دینے اور بات کو اپنے مطلب کے مطابق سمجھتے ہوئے کہا کہ کتے کے کہنے کامطلب ہے کہ یہ پانچوں شاہی خزانہ لوٹنے جارہے ہیں پانچوں بادشاہ ہوں گے۔ یہی باتیں کرتے ہوئے وہ شاہی محل پہنچ گئے اب کمند ڈالنے والے چور نے اپنا کمال دکھایا۔ اس چور نے ایک ہی بار جو کمند پھینکی تو وہ محل کی دیوار کے اوپر جالگی اس کے بعد سب باری باری دیوار پار کرگئے۔ اب خزانہ سونگھنے والے چور کی باری تھی چنانچہ اس نے اپنا کمال دکھایا اور سب نے مل کر وہاں سے خزانہ نکال لیا اور جس راستے سے آئے تھے اسی راستے سے خزانہ لے کر باہر نکل آئے ابھی صبح نہیں ہوئی تھی اور رات کا اندھیرا باقی تھا وہ فوراً شہر کی حدود سے باہر نکلے اور ایک جنگل میں بیٹھ کر خزانہ تقسیم کرنے کا پروگرام بنایا۔
مگر سردار نے کہا کہ ابھی ہم خزانہ یہاں دفن کردیتے ہیں جب سپاہی خزانہ کی تلاش میں ناکام ہوں گے تو نکال کر تقسیم کرلیں گے۔ جب خزانہ دفن کرکے سب گھروں کو جانے لگے تو سردار نے سب سے ان کے گھروں کے ایڈریس لے لیے تاکہ ڈھونڈنے میں آسانی ہو۔ سلطان اپنے محل واپس آگیا‘ صبح اچانک شور اٹھا کہ شاہی خزانہ لوٹ لیا گیا‘ فوری طور پر سپاہی چوروں کی تلاش میں بھاگے۔ سلطان نے سپاہیوں کے سربراہ کو چاروں چوروں کے نام اور پتہ بتائے اور انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ سپاہی فوراً چاروں کو پکڑ لائے۔ چور حیران کہ آخر انہیں ہمارا پتہ کیسے ملا؟ ہماری مخبری کیسے ہوئی‘ آخر ہمارا سردار کہاں ہے؟ خزانہ کی چوری کے جرم میں انہیں سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ یہ حکم سن کر ان کے اوساں خطا ہوگئے‘ آپس میں کہنے لگے: ہمارا سردار ہوتا تو ایسے وقت میں اپنا کمال دکھاتا‘ افسوس ہمارا سردار نہیں پکڑا گیا۔ اب تو وہ خود ہی اکیلا خزانہ پر قبضہ جمالے گا۔ جب انہیں تختہ دار پر لے جایا جانے لگا تو حکم ملا کہ چوروں کو سلطان کے سامنے لایا جائے اگر وہ کوئی آخری خواہش کرنا چاہیں تو مرنےسے پہلی پوری کی جاسکے۔ جب چور سلطان کے سامنے پیش کیے گئے تو سلطان محمود غزنوی پورے شاہی لباس میں تھا‘ چاروں چور نظریں جھکائے کھڑے تھے‘ اچانک اس چور کی نظر سلطان پر پڑی جو اندھیری رات یں بھی ایک بار دیکھی ہوئی شکل کبھی نہیں بھولتا تھا اور دن میں شناخت کرنا کوئی مشکل نہ تھا۔ اس نے پہچان لیا کہ تخت پر جو شخصیت جلوہ افروز ہے وہی رات کے وقت ہمارا ساتھی تھا۔ اس نے آہستہ سے اپنے ساتھی چور کے کان میں کہا اے دوست! رات کو کتے کی کہی ہوئی بات اب سمجھ آئی ہے‘ کتا ٹھیک ہی کہہ رہا تھا کہ ان پانچوں میں ایک بادشاہ ہے یہ جو تخت پر بیٹھا ہے رات کو یہی ہمارا ساتھی تھا‘ دوسرا چور اس کی بات سن کر کہنے لگا: ارے احمق! کیا بکواس کرتے ہو‘ رات کو تم نے ایک کتے کی بات پریقین کرکے چور کو بادشاہ بنادیا اب تم بادشاہ کو چور کہہ رہے ہو لگتا ہے تمہاری عقل ماری گئی ہے تم اپنے ہوش میں نہیں ہو۔ سلطان محمود غزنوی نے ان کی آپس میں کھسر پھسر سن رہا تھا بولا تم لوگوں نے کیا کھسر پھسر لگارکھی ہے جس چور نے بادشاہ کو پہچان لیا تھا فوراً چند قدم آگے بڑھا اپنے ہاتھ باندھ کر بولا۔ اے ہمارے سردار! ہم سب نے اپنا اپنا کمال دکھادیا‘ اب تم اپنی ڈاڑھی ہلاؤ اور ہمیں موت کے منہ سے بچاؤ۔سلطان اس چور کی بات سن کر ہنس پڑا اور کہا واہ بھی واہ! تم نے مجھے پہچان لیا اور اپنا کمال دکھا دیا اب میں اپنا کمال دکھاتا ہوں اور اپنی ڈاڑھی کو ہلاتا ہوں‘ جاؤ تم سب آزاد ہو‘ چوروں نے اپنی رہائی کا حکم سنا تو بڑے متاثر ہوئے اور اسی وقت سلطان کے قدموں میں گر کر معافی مانگی اور آئندہ چوری سے توبہ کی اور ہمیشہ کیلئے نیکی کا راستہ اختیار کرنے کا سچا وعدہ کرکے شاہی دربار سے رخصت ہوگئے۔
سورہ الم نشرح کا فائدہ
کچھ عرصہ پہلے میری کمر میں چک پڑگئی اور پھر کمر کا بُرا حال ہوگیا‘ نہ میں ہل سکتی تھی‘ نہ کچھ کام کرسکتی تھی‘ انجکشن لگوائے لیکن کچھ نہ ہوا تو امی مجھے ہاسپٹل لے گئیں‘ وہاں اتنا رش تھا کہ بیان سے باہر‘ گرمی بھی اپنے جوبن پر تھی اور کمر کا درد الگ پریشان کررہا تھا‘ ہم لوگ ذرا لیٹ ہوگئے تھے‘ مجھے ڈاکٹر صاحب سے ملنا تھا‘ ان کے کمرے کے سامنے سینکڑوں مریض موجود تھے‘ اچانک مجھے خیال آیا اور میں نے سورۂ الم نشرح پڑھنی شروع کردی ابھی بمشکل آٹھ یا دس بار ہی پڑھا ہوگا کہ بھائی نے مجھے آنے کا اشارہ کردیا اور ڈاکٹر کے روم کا جو خاکروب تھا اس نے مجھے ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا تو بعد میں میں نے بھائی سے پوچھا کس کی سفارش کروائی؟ (اصل میں اس ہسپتال میں ہمارے گاؤں کے بہت سے لوگ ملازمت کرتے ہیں) تو بھائی نے بتایا کہ نہیں میں نے تو کسی کی سفارش نہیں کروائی‘ میں بس اس کے پاس گیا تھا کہ میری بہن کی کمر میں شدید درد ہے تو اس نے کہا یہاں سارے ہی مریض ہیں اور سب کو ہی شدید تکلیف ہے آپ کو اپنی باری پر ہی آنا ہوگا۔ تو میں چپ کرکے واپس آگیا۔ ٹھیک پانچ منٹ بعد اس نے خود ہی مجھے بلالیا کہ اپنی مریضہ کو لے آؤ‘ اور یہ پانچ منٹ وہی تھے جس میں میں نے سورۂ الم نشرح پڑھنا شروع کی تھی۔
شوق اور کامیابی
استاد یوسف دہلوی(۱۹۷۷)مشہور خوشنویس تھے۔ان کو فنِ خطاطی پر غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔کہا جاتا ہے کہ ایک بار ریت کے میدان پرجعلی خط کا مقابلہ ہوا۔استاد یوسف آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک بانس کا بڑا ٹکڑا تھا۔انہوں نے بانس سے ریت پہ لکھنا شروع کیا الف سے ش تک پہنچےایک فرلانگ کا فاصلہ ہو گیا۔لوگوں نے کہا بس کیجئے۔استاد یوسف نے کہا میں نے جو لکھا اس میں رنگ بھر دو اور پھر ہوائی جہاز سے اس کی چھوٹے سائز میں فوٹو لےلو،مجھے یقین ہے کہ فوٹو میں وہی خط رہے گاجو میرا اصل خط ہے۔اس کے بعد کسی اورکو اپنا فن پیش کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان چلے گئے۔وہاں ماہ مسعود کی آمدپر ان کو ایک محراب کا مضمون لکھنے کے لئے دیا گیا۔استقبال کی تیاریوں کا بچشم معائنہ کرنے کے گورنر جنرل آئے۔ اس دوران انہوں نےاستاد یوسف کا لکھا ہوا محراب بھی دیکھا۔اس شان خط کو دیکھ کر حیران ہو گئے۔انہوں نے کہا یہ کس خطاط نے لکھا ہے،چناچہ استادیوسف کوبلایاگیا۔گورنر جنرل نے ان کے کام کی تعریف کی اور پوچھاکہ اس کو لکھنے میں آپ کا کتناوقت لگا۔استاد یوسف نے کہا سات دن۔گورنر جنرل نے فورا اپنے سیکرٹری کوحکم دیا کہ استاد کو ان کی خدمت کے اعتراف میں سات ہزار روپے پیش کرو ۔چنانچہ اسی وقت ان کو اتنی بڑی رقم کا چیک دے دیا گیا۔استاد یوسف سے کسی شخص نے پوچھا کہ خوش نویسی کا فن آپ نے کس استاد سے سیکھا!انہوں نے کہاکسی سے نہیں۔ان کے والدایک مشہور خوش نویس تھے۔مگر انہوں نے اپنے والد کی شاگردی بھی نہیں کی۔پوچھے پرانہوں نے بتایا کہ خوش نویسی کا فن میں نے لال قلعے سے سیکھا ہے۔لال قلعہ میں مغل دورکے استادوں کی وصلیاں (تختیاں)رکھی ہوئی ہوتی ہیں۔ان تختیوں میں قطعات لکھے ہوئے ہیںجوفنِ خطاطی کے شاہکار نمونے ہیں۔استاد یوسف دس سال تک برابر یہ کرتے رہےکہ لال قلعہ جاکر ان تختیوں کو دیکھے۔ہر روزایک قطعہ اپنے ذہن میں بٹھا کر واپس آتے۔اس کو اپنے قلم سے بار بار لکھتےاور پھر اگلے دن اپنا لکھا ہوا کاغذ لے کے لال قلعہ جاتے۔وہاں کی مخفوظ تختی سے اپنے لکھےکو ملاتےاوراپنی غلطیوں کی اصلاح کرتے۔اس طرح مسلسل دس سال تک ہر روزلال قلعہ کی قطعات کی تختیوں سے وہ خود اپنی اصلاح لیتے رہےاور ان کو دیکھ دیکھ کر مشق کرتے رہے۔ یہی جدوجہد تھی کہ جس نے انہیں استاد یوسف بنادیا۔ اگر آدمی کے اندر شوق ہو تو نہ پیسے کی ضرورت ہے نہ استاد کی، نہ کسی اور چیز کی۔ اس کا شوق ہی اس لئے ہر چیز کا بدل بن جائے گا۔وہ بغیر کسی چیز کے سب حاصل کر لےگا۔
فائدہ دینے والا علم
پیر علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علم وہ سیکھیں جو انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں نفع دے۔اسی باب میں پیر علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن پاک کی آیت کا حوالہ دیا ہے کہ ’’وہ لوگ وہ ہیں جو ایسے علوم سیکھتے ہیں جو انہیں کوئی نقصان تو دیتے ہیںمگر نفع نہیں دیتے‘‘ اب سوچنے کی بات ہے کہ علم نفع نہیں دیتے!غیر مفید علم کی مذمت: پیر علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ مزیدفرماتے ہیں کہ ایسے غیر مفید علم کی انہوں نے مذمت فرمائی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے ایسے علم سے اللہ کی پناہ مانگی ہے۔ آگے انہوں نے حضور پاکﷺ کی حدیث بیان فرمائی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ’’اے اللہ! میں اس علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے۔ اس علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو مجھے نفع نہ دے۔‘‘ پس تھوڑے علم کی مدد سے بہت سا عمل کرنا اور ضروری ہے کہ علم کے ساتھ عمل بھی ہو کیونکہ رسولﷺ نے فرمایا کہ عابد علم دین کے جانے بغیر خراص کے گدھے جیسا ہے۔ خراص چکی، کولہو والے کو کہتے ہیں ۔ اسکے پاس علم نہیں ہے صرف عبادت ہے وہ اسی کی طرح ہے اور سرورِکونین ﷺ نے بے علم عابدوں کو خراص کے گدھے سے مشابہ فرمایا۔ پیر علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ وہ کتنا ہی گھومے اپنے پہلے ہی قدم پر رہتا ہے ، آگے کا فاصلہ طے نہیں کر سکتا۔ اب پیر علی ہجویری اپنا مشاہدہ بیان فرمارہے ہیں کہ’’میں نے عوام الناس کا ایک گروہ دیکھا ہے جو علم کو عمل پر فضیلت دیتے ہیں اور دوسرا گروہ عمل کو علم پر لیکن یہ دونوں امر باطل ہیں۔ اس لیے کہ علم کے بغیر عمل نہیں سمجھا جاتا بلکہ عمل اس وقت ہوتا ہے جب علم اسکے ساتھ شامل ہواور علم بھی وہ جو صحیح علم ہو۔
قرآن پاک کو اہل علم سے پڑھنا....!
دیکھیں !آج ایک عجیب بات چلی ہے اور مجھے کئی لوگ بتاتے ہیں کہ ہم ترجمہ کے ساتھ قرآن پاک پڑھ رہے ہیں۔ میں کئی لوگوں کو روک دیتا ہوں کہ مت پڑھو۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ ترجمے کے ساتھ قرآن پاک سے روکتاہے..... !بھئی میں ترجمے کے ساتھ قرآن پاک سے نہیں روکتا ،اسکو ضرور پڑھنا چائیے لیکن کسی سے پڑھنا چاہیے ایک بات..... اور دوسری بات یہ ہے کہ کس کا ترجمہ پڑھنا چاہئے۔ آپ دنیا کی تاریخ میں ایک چیز اٹھا کر دیکھیں اور حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کی یادداشتوں میں ایک بات ملتی ہے، عجیب بات لکھی ہے۔ فرمایا کہ میں نے دنیا کے ایسے لوگ دیکھے جن کے پاس علم کے سمندر تھے لیکن اس سمندر میں لوگ ڈوب گئے پار نہ اتر سکے کہ اس علم کی وجہ سے وہ گمراہ ہو گئے۔ خود قرآن کہتا ہے ’’یضل بہ کثیرا و یھدی بہ کثیرا ‘‘اس قرآن کو پڑھ کے بہت سے لوگ ہدایت پا جائیں گے اور بہت سے گمراہ ہو جائیں گے۔ خدا جانے قرآن سے بھی کوئی گمراہ ہو سکتا ہے۔ نہیں ہو سکتا، قرآن راہ ہدایت ہے۔ لیکن قرآن خود فرما رہا۔ اسکی وجہ کیا ہے؟ سمجھنے کی بات ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ قرآن تو سراپا ہدایت ہے۔ قرآن تو نور ہدایت ہے لیکن اس سے گمراہ وہ ہوتے ہیں جو اسکو اپنے مزاج سے ،اپنی سمجھ سے، بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ قرآن سے لے کر حدیث، حدیث سے لے کر فقہ، فقہ سے لے کر تفسیر، تفسیر سے لے کر سوانح،ملفوظات و معقولات کسی اللہ والے کی یہ ایسی چیزیں ہیں جو انسان خود نہ پڑھے بلکہ کسی سے پڑھے۔
فربہ دوائیں کھانا بند
بہن آپ فوری طور پر یہ اشتہاری فربہ کرنے والی ادویات کھانا بند کردیں‘ ان میں اسٹرائیڈ بہت زیادہ مقدار میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے جگر میں سوجن ہوجاتی ہے اور جسم سارا پھول جاتا ہے‘ان ادویات سے پورا جسمانی نظام درہم برہم ہوکر رہ جاتا ہے۔ آپ موسمی پھل کھائیں‘ چکنائی والی چیزوں سے پرہیز کریں‘ قریب اگر خواتین کی پارک ہے توٹھیک ورنہ گھر کے صحن یا چھت پر روزانہ صبح اٹھ کر ورزش ضرور کریں۔عبقری دواخانہ سے ’’ہیپاٹائٹس نجات سیرپ‘‘ چند بڑی بوتلیں ضرور پئیں۔ اس سیرپ کے پینے سے ایک تو آپ کا موٹاپا کم ہوگا اور دوسرا چہرہ صاف ہوجائے گا۔
آپ جب صبح اٹھیں بستر سے پاؤں نیچے رکھنے سے پہلے گیارہ مرتبہ
آپ جب صبح اٹھیں بستر سے پاؤں نیچے رکھنے سے پہلے گیارہ مرتبہ
پڑھیں۔ اسی طرح رات سونے سے پہلے بھی اسی طرح پڑھیں۔
دوسرا مسئلہ:۔
گیس کے علاج کیلئے میں نے عبقری دواخانہ کی ’’جوہرشفاء مدینہ‘‘ سے اچھی کوئی دوا نہیں دیکھی۔
گلے کے درد کا علاج
جن افراد کا گلا شدید درد کرتا ہو‘ چیز نگلتے ہوئے گلا درد کرے تو صبح نہار منہ اور شام کو نہار منہ ایک پیالی میں تھوڑا سا صاف پانی لیں چھڑی یا قینچی دھو کر پانی میں رکھ کر سات مرتبہ مختلف سمتوں میں قینچی یا چھری چلائیں‘ جیسے کوئی چیز کاٹتے ہیں۔ اور وہ پانی پی لیں۔ ان شاء اللہ جس قسم کا بھی گلا درد ہوتا ہو چند بار اس عمل کے استعمال کرنے سے افاقہ ہوتا ہے۔ یہ روحانی عمل بھی ہمارا خاندانی بارہا کا آزمایا ہوا ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)




















