Showing posts with label حال دل. Show all posts
Showing posts with label حال دل. Show all posts

Monday, August 15, 2016

جو میں نے دیکھا سنا اور سوچا قطع رحمی سے سب کچھ اجڑ گیا -


 حدیث کا مفہوم ہے صلہ رحمی سے عمر بڑھتی ہے‘ رزق بڑھتا ہے‘ دعائیں قبول ہوتی ہیں ‘اور بے شمار فضائل ہیں صلہ رحمی میں۔ صلہ رحمی کیا ہے؟ رشتہ داروں کو ان کی کوتاہیوں کمیوں اور عیبوں کے باوجود معاف کرتے رہنا۔ ہر رشتے دار سے لڑائی جھگڑا مول نہ لینا بلکہ وہ برا کرتے جائیں تو بار بار اچھا کرتے جانا۔ اگر پھروہ بار بار برا کریں توپھر بار بار اچھا کر اور ان کو معاف کرتا جا اسی کا نام صلہ رحمی ہے۔ وہ اچھا کرے تو اچھا کر‘ پھر وفا تو نہ ہوئی‘ بلکہ وہ برا کریں توتم اچھا کرو ‘اسی کو صلہ رحمی کہتے ہیں۔ فرمایا: جو تجھ پر ظلم کرے اسے معاف کر جو تیرا حق چھینے تو اسے عطا کر‘ جو تجھے محروم کرے تو اس کو دیتا چلا جا‘ میں نے ایک نہیں کئی گھرانے ایسے دیکھے کہ بہو آئی اور اس نے آتے ہی سب کو جدا کردیا یا ساس نے کسی کو کسی کے منہ دکھانےکے قابل نہ رکھا‘ سب سے لڑائی ‘سب کا جھگڑا اور سب کے عیبوں کو لے کر بیٹھ جانا۔ قارئین! سچ پوچھیں جتنا بھی ہمارے مزاج میں معافی بڑھتی جائے گی درگزر بڑھتا جائے گا اتنا اللہ کی بارگاہ میں ہمارا تعلق بہتر سے بہتر ہوتا چلا جائے گا اور جہاں آخرت بہتر ہوگی وہاں دنیا میں انوکھی برکات اور انوکھے کمالات ملنا شروع ہوجاتےہیں۔ میں آج ایک گھر کا قصہ سچی کہانی کے طور پر لکھ رہا ہوں ہنستا بستا گھر، ساس فوت ہوگئی‘ سسر فوت ہوگیا‘ دو بھائی گھر میں رہتے ہیں‘ ایک بہو نے آتے ہی گھر میں قینچی چلائی اور دوسری بہو میرے کہنے پر صبر حوصلہ کرتی چلی گئی‘ صابر بہو کو رب نے بیٹوں اور رزق والی دولت سے نوازا اور مسلسل رب نواز رہا ہے اور جس نے حسد، کینہ، بغض ،لڑائی جھگڑا کو ہروقت مول لیا اس کا رزق بھی گیا‘ بیٹے بھی نہ ملے‘ زندگی کا سکون بھی گیا‘ حیرت انگیز انوکھی بیماریاں اس کی ہڈی ہڈی اور ریشہ ریشہ میں رچ بس گئی ہیں۔ یہ اس کے ہاتھ کا لکھا ایک خط آپ ملاحظہ فرمائیں کہ قطع رحمی انسان کا رزق‘ صحت اور سکون چھین لیتی ہے۔ آئیے! آج کے بعد ہم فیصلہ کریں کہ رشتہ داروں کی زیادتیوں کے باوجود بھی ہم ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرتے چلیں جائیں اللہ کی بارگاہ میں ضرور انصاف اور اللہ انسان کو ضرور عطا فرماتا ہے۔ ’’محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! آپ مجھ سے بہت سخت ناراض ہیں‘ میں نے دو ہفتے پہلے آپ کے پاس آنا تھا مگر میرے مالی حالات اس قدر خراب تھے کہ میرے پاس پٹرول کے پیسے نہیں تھے‘ دس دن تین سو روپے میں گزارے‘ میں نے مارچ کے آخری ہفتے اور اپریل میں بھی دس دن ایک وقت کا کھانا کھایا اور شوہر نے بھی صرف ایک وقت کا کھانا کھایا۔ بچوں کو سات دن میں نے سادہ چاول کھلائے۔ اللہ سے بہت مانگا‘ بڑی تسبیح پڑھی‘ استغفار بھی کیا لیکن دس دن کچھ نہ ہوا۔ میرا بہت مذاق بھی اڑایا گیا‘ میں نے کسی کو نہیں بتایامگر جنہوں نے دیکھا۔ کسی سے سوال نہیں کیا اور نہ ہی خود اپنی زبان سے حالات بتائے۔ شوہر نے مجھ سے کہا میں کہیں سے ادھار چیزیں لے آتا ہوں‘ میں نے اسے منع کردیا کہ کسی سے سوال نہیں کرنا‘ آپ کی بے عزتی ہوگی‘ بہت صبر سے کام لیا۔ یہ مشکل وقت اپنے اثرات چھوڑ گیا‘ میرے اندر کی ساری بتیاں بجھ گئی ہیں کہ میں تو کسی بھی قابل نہیں‘ میں یہ دس دن قبر تک نہ بھولوں گی۔ جب میرے پاس پیسے آئے پھرمیرے اور میرے بچوں کا ہر لقمے اور ہر چیز پر شکر ہی شکر تھا۔ میں اسی دن سے کوشش کررہی ہوں کہ میری آپ سے ملاقات ہوجائے ۔ لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو ہیں‘ میں نے کیسے حالات دیکھے‘ میں اب ہروقت اپنے آپ کو کوستی رہتی ہوں۔ ہر سانس میں استغفار اور شکر ہے۔ یہ دس دن کی یادیں میری قبر تک کا ساتھ ہیں‘ کبھی بھی اونچی اڑان آگئی تو یہ دس دن فوراً واپسی کا ذریعہ ہیں۔ آپ مرشد ہیں‘ صرف آپ کو بتارہی ہوں اور کسی سے ذکر نہیں کیا۔ تسبیح خانہ میں آنے سے پہلے مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ مرشد کیا ہوتے ہیں؟ میں تو صرف تسبیح خانہ دیکھنے آئی تھی ’’یہ کیا عجیب وغریب چیز ہے‘‘ ہروقت ایک ہی ڈر سا لگا رہتا ہےآپ ناراض نہ ہوجائیں۔(حالانکہ اصل رب ہے جس کی ناراضگی کا احساس نہیں:ایڈیٹر) میرا توسب کچھ اجڑ چکا ہے۔‘‘ -

Tuesday, February 23, 2016

45 سالہ کنواری لڑکی کی ماں باپ سے فریاد


گزشتہ دنوں مرحوم تجمل الٰہی شمسی صاحب کی نواسیوں کی شادی کی تقریب میں جانا ہوا‘ٹیبل پر کھانے کی میز پر ایک جہاں دیدہ شخص بیٹھے ہوئے تھے باتوں ہی باتوں میں میرا تعارف ہوا تو ان کے گھر عبقری بہت ذوق وشوق سے پڑھا جاتا تھا‘ موصوف چند ماہ پہلے رنڈوے ہوئے تھے۔ بیوی کے وصال کے بعد احباب اور رشتہ داروں کا تقاضا ہے کہ آپ سنت پوری کرتے ہوئے فوراً شادی کرلیں۔ قریب بیٹھے ایک صاحب نے ازراہ مذاق کہا حکیم صاحب آپ ہی انہیں کہہ دیجئے یہ شادی کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ان کی بات سن کر ان کے ماتھے پر بل آگئے



 اور کہنے لگے ایک ہمارا دور تھا آج میں ساٹھ سال سے اوپر ہوگیا ہوں کہ جب بیٹی کی بلوغت کے بعد اس کی صرف اور صرف شادی کا فکر ہوتا تھا‘ جانچ پرکھ کی جاتی تھی لیکن جو آج کی جانچ پرکھ ہے وہ اصل ذریعہ ہے جس کی وجہ سے شادی میں تاخیر ہوتی ہے موصوف ایک لمبا سانس لے کر مزید کہنے لگے کہ بیوی کے وصال کے بعد احباب کے تقاضا نے مجھے شادی کیلئے مجبور کیا‘ میں تو ایک بات پر حیران ہوا کہ جن رشتوں کو ہم دیکھتے ہیں چالیس سے پینتالیس سال کی خواتین کنواری عام طور پر مل رہی ہیں۔ مجھے افسوس بھی ہوا اور حیرت بھی تو پتہ چلا کہ شادی کی تاخیر کی بنیاد معیار اور پرسنیلٹی ہے۔ اور وہ پرسنیلٹی کیا ہے؟ کہ خود مجھے ایک پینتالیس سال کی کنواری لڑکی کیلئے جب رشتہ کی بات چلی تو ان کی ڈیمانڈ سترلاکھ کی پراڈو گاڑی‘ فلاں چیزیں‘ اتنا بڑا گھر وغیرہ۔ جو خواتین دیکھنے گئی تھیں ان کا تبصرہ یہ تھا کہ لڑکی کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے اور وہ حیرت سے ماں باپ کا منہ دیکھ رہی تھی۔ یعنی اس کے دل کی آواز تھی اور وہ والدین کو حال دل سے پکار رہی تھی کہ میرے ساتھ پینتالیس سال تک تو زیادتی کرچکے ہیں اب تو مزید زیادتی نہ کریں۔ اب تو میں بظاہر اولاد پیدا کرنے کے قابل ہی نہیں رہی مجھے اماں کون کہے گا اب تو میں ہی اماں ابا کہہ رہی ہوں۔ موصوف اپنی بات کرتے کرتے غصے میں آگئے اور کہنے لگے جن کے گھر میں ایک کمرہ ہے اور تین وقت کی روٹی بمشکل ہے ان کی ڈیمانڈ بھی اتنی زیادہ ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ چلو میں تو بوڑھا ہوں لیکن یہ سب کچھ جوانوں کیلئے ہورہا ہے اور مجھے کہنے لگے کہ حکیم صاحب آپ مجھے شادی کا نہ کہیے گا اللہ بخشے میری بیوی بس اس نے میرے ساتھ جو اچھا سلوک‘ اچھی زندگی گزاری وہ اتنی شاندار ہے کہ مجھے یہ ڈیمانڈیں اور ڈیمانڈوں کے بعد پھر ایک اور انجام نظر آتا ہے جن کی نظر پہلے دن دولت مال گاڑیاں‘ کوٹھیاں‘ جائیداد پر ہے ابتدا ہی خراب ہوئی ہے انتہا کا کیا ہوگا؟ پھر اپنے نانا مرحوم کے بارے میں فرمانے لگے کہ وہ بہت عقلمند اور جہاں دیدہ انسان تھےاور بنیے تھے میں چونک پڑا میں نے کہا بنیے تو ہندو کو کہتے ہیں کہنے لگے نہیں اصل میں جو صابن آٹا گھی چاول کا کام کرتا ہے بنیا اس کو کہتے ہیں۔ایک دن ہمارے گھر تشریف لائے پندرہ بیس سال سے ایک صاحب ہمارے ہاں دروازے پر سبزی دینے آتے تھے‘ سبزی کی ریڑھی تھی وہ گلی گلی اسی پر سبزی بیچتے تھے ایک دن وہ صاحب ہمیں سبزی دینے آئے‘ نانا مرحوم بیٹھے تھے دیکھ کر کہنے لگے اس نے سبزی کم تولی ہے‘ ہم حیران ہوئے کہ پندرہ بیس سال سے ان سے سبزی لے رہے بہت اچھے انسان ہیں۔ کہنے لگے میں تجربہ کرکے بتاتا ہوں ان سے سبزی تولائی تو انہوں نے ایسے صفائی سے ڈنڈی ماری کہ ہم حیران ہوگئے اور ان پندرہ بیس سالوں میں ہم انہیں بالکل پرکھ نہ سکے۔ دوسری بات نانا کی یہ بتائی کہ نانا مرحوم نے فرمایا عورت کا خصم اس کا شوہر ہے اور شوہر کا خصم اس کا کاروبار ہے یعنی عورت اگر اپنے شوہر کی نہیں تو پھر کسی چیز کی بھی نہیں اور کسی قابل نہیں اور مرد اگر کاروبار کا نہیں تو پھر اس کو شوہر کہلوانے کا حق نہیں۔ میرے نانا نےاپنے تجربات میں تیسری بات یہ بتائی کہ سب سوٹوں (کپڑوں) پر نمبر لکھ کررکھیں۔ مثلاً ہر سوٹ پر نمبرنگ ہو‘ قمیص پر نمبر ایک‘ بنیان پر بھی ایک نمبر ہو‘ شلوار پر بھی ایک نمبر ہو۔ اس طرح کبھی کپڑے گم نہیں ہوتے۔قارئین! بڑوں کے تجربات اور مشاہدات میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے۔ آپ بھی آزمائیں اور استفادہ حاصل کریں۔

Monday, January 4, 2016

اولاد کو جاہل اور منگتا چھوڑ کر نہ جائیے

اولاد کو جاہل اور منگتا چھوڑ کر نہ جائیے :۔


روز کی ملاقاتین ، خطوط ، میرے سامنے کیسےدکھی دکھی ، الجھے رویے ، لہجے اور چہرے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ خاص طور پر وہ لوگ جن میں ایسے لوگ بھی ہیں جو جوانی کی دہلیز پار کر چکے ہیں یا ابھی جوان ہیں جب ان کے حالات سنتا ہوں تو دل کڑھتا ہے اور احساس ہوتا ہے کہ جب میاں بیوی دونوں کمانے پر لگ جائیں اور نسلوں کیلئے وقت نہ ہو تو اس وقت نسلوں کا کیا بنتا ہے ؟یا پھر بیوی گھر داری میں میاں کا ساتھ دے اور میاں اپنی مصروف زندگی چاہے وہ سیاسی ہو ، مذہبی ہو، سماجی ہو ، یا کاروباری ہو جس نوعیت کی بھی ہو اپنے گھر اور نسلوں کیلئے وقت نہ دے سکے اس وقت نسلوں کا کیا بنے گا اور وہ کن لہجوں اور رویوں کے ساتھ زندگی کے دن رات طے کرتے ہیں ؟ اس کا کچھ عکس ایک خط کی شکل میں ، میں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔


 یاد رکھیں ! ابتدا کے پانچ سال نہایت اہم ہوتے ہیں

بچے کی میموری میں جو چیز ڈالنی ہے ڈال دیں ۔ پھر اس کی تعمیر اور ترقی ہمیشہ سدا بہار رہے گی مجھے ایک تھانیدار نے کام کی بات کہی کہنے لگا سپریم کورٹ تک فیصلے تھانے کی ایف آئی آر پر ہی ہوتے ہیں ایف آئی آر ٹھیک کٹی تو فیصلے بھی ٹھیک ، ایف آئی آر غلط کٹی تو فیصلے بھی غلط ، اصل بنیاد ایف آئی آر ہوتی ہے ۔ ایسے ایسے جوان نیم پاگل ، نفسیاتی مریض اور ٹینشن کے مارے ہوئے ملتے ہیں کہ جو مخلوق سے بے زار نعوذباللہ خالق سے بے زار ، معاشرہ میں رہتے ہوئے بھی اپنے اندر معاشرہ کیلئے نفرت بھر ے جذبات حتیٰ کہ ماں باپ ، بہن بھائیوں کیلئے بھی منفی جذبات رکھتے ہیں ۔ معلوم ہوا شروع سے اولاد کی تعمیر و تربیت اور ترقی کیلئے وقت نہیں نکالا گیا ۔ آپ پوری کوشش پوری محنت کر لیں باقی ان کی قسمت اور مقدر ، جو وقت اولاد کیلئے ہوتا ہے وہ موبائل ، انٹرنیٹ ، خبریں اور چینل کیلئے وقف ہوتا ہے

اور اولاد کو موبائل ، انٹرنیٹ اور کارٹونوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے ، اس کے بعد کیا ہوتا ہے ۔ ایک جوان کے جذبات آپ خود ملاحظہ کریں ۔

Wednesday, December 2, 2015

ایک دکھی خط میرے نام

ایک دکھی خط میرے نام  :۔


بہت دکھی دل کے ساتھ آپ کو بتا رہی ہوں ، میرے شوہر نے میرے ساتھ پسند کی شادی کی تھی ۔اللہ تعالیٰ نے دو بیٹے اور ایک بیٹی دی ۔ شوہر شروع ہی سے گرم مزاج ، اتنا گرم مزاج کہ یہ بھی نہیں دیکھتے تھے کہ میں کس کے سامنے اور کہاں ہوں ؟ میں سب کچھ برداشت کرتی رہی ،میرے شوہر ایک شعبے میں ملازمت کرتے تھے ۔مناسب گزارا ہو رہا تھا، لیکن ان کے غصے اور گرم مزاجی نے ان کی وہ جاب چھڑا دی،کہ میرا اس پر گزارا نہیں ہوتا اور ان لوگوں کا رویہ میرے  ساتھ اچھا نہیں حالانکہ خود ان کا رویہ ان لوگوں کے ساتھ اچھا نہیں تھا ۔ پھر انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک اور بزنس شروع کیا لیکن نمبر دو بزنس نمبر ایک نوکری چھوڑ کر نمبر دو بزنس کیا ۔حالات تو اچھے ہو گئے کاروبار چہل پہل ،لباس ، کپڑے ، کھانا پینا بظاہر رزق کی فروانی لیکن ادھر سے گھر کی بربادی شروع ہو گئی ۔ میرے شوہر اپنے آپ کو زمین کا خدا سمجھنے لگے ۔ ماں باپ بہن بھائیوں کے ساتھ نہایت گستاخانہ اور بدتمیزی کا رویہ ۔ ماں کو جی بھر کر دکھ دیا اور ماں کی جی بھر کر بے عزتی کی ۔ ماں پیاسی اور سسکتی نظروں سے اسے دیکھتی رہتی کہ شاید کبھی اچھے لہجے اور اچھے رویے سے یہ شخص مجھے دیکھ لے ،لیکن آج تک اس بندے نے نہ میٹھا بول بولا ، نہ میٹھی آنکھیں دیکھیں اور نہ میٹھی چال چلا ۔ اس کی چال میں تکبر ، غرور ، بدتمیزی اور اکڑتھی ، اس کے بولوں میں کرواہٹ تھی ۔ اس کے لہجے میں کھٹاس تھی ۔ آخر اسی حالت میں ماں اللہ کو پیاری ہو گئی ، یوں یہ گھر والوں سے اور دور ہو گیا ۔ اس کے اسی غصے ، اکڑ پن ، تکبر ، غرور اور مزاج کی تلخی اور تیزی کی وجہ سے تمام گھر والے حتیٰ کے رشتے دار سب اس سے دور ہو گئے ۔ اس کا وہی دو نمبر کام چلتا رہا ۔ پھر اس کی زندگی میں ایک غیر مذہب لڑکی آ گئی ، جو اس کے بہت قریب ہو گئی ، ہوٹلوں میں ملاقاتیں ہونا شروع ہو گئیں ۔پھر شوہر کو نامعلوم کیا ہوا اس نے تمام لوگوں کا پیسہ اکٹھا کیا جو پینتالیس لاکھ سے زیادہ تھا ،اور بیرون ملک ہمیں روتا ، سسکتا چھوڑ کر چلا گیا اور یہاں تک بھول گیا کہ میری بیوی اور بچے بھی تھے،وہاں یہ سارا پیسہ اجاڑ کر آخر کار پاکستان اس لڑکی کے ساتھ واپس آ گیا ۔ اس لڑکی کے والدین نے لڑکی کو اپنے گھر بٹھا لیا اور بہت بڑی رقم کا مطالبہ کرنے لگے ، اب عالم یہ ہے کہ یہ پاکستان کے ایک چھوٹے سے شہر میں چھپ کر رہ رہا ہے ہر وقت لوگوں سے جھوٹ بولتا ہے ، دھوکہ دیتا ،فریب کرتا ہے ۔ اسے اپنے خاندان کی ، اپنے گھر کی ، اپنی بیوی کی ، اپنی اولاد کی کوئی پروا نہیں ۔ سڑک بازار ، گھر برادری ہر جگہ ، ہر کسی کی بے عزتی کرتا ہے ۔ یہ نہیں دیکھتا کہ سامنے کون ہے ، کیا ہے ؟ بس اس کا مزاج وہی ہے حالانکہ وہ عورت بھی اس سے دور ہو گئی ۔ دولت ، مال ، چیزیں دونمبر جہاں سے آئیں تھیں ، وہاں واپس چلی گئیں۔ یہ خالی اور فقیروں کی طرح سڑکوں کے گشت کرتا ہے ، اب تو میرے بچے بڑے ہو گئے ہیں کہتے ہیں ماما ، بابا کو گھر نہ آنے دیں ، بچے باپ سے نفرت کرتے ہیں ۔ چونکہ میں آپ کے تسبیح خانہ سے متعلق ہوں ، میں نے بچوں کی تربیت بہت اچھی کی ہے بچوں کے اندر باپ والا مزاج نہیں لیکن میری زندگی اجیرن ہو گئی ہے ۔ میرا سکھ لٹ گیا ہے ، میرا چین لٹ گیا ہے ۔ اے کاش میں محبت کی  شادی نہ کرتی ایک خواب مجھے بار بار آتا ہے اور کئی بار آیا ہے پھر یہ خواب خیالوں کی شکل میں میرے ذہن میں ہر وقت سوار رہتا ہے ۔ اس محبت کی شادی میں میرا باپ مجھ سے  نارض تھا، میرے بہن بھائی اور خاص طور پر میری ماں بہت ناراض اور دکھی تھی ، آج بھی وہ آنسو، وہ آہیں ، وہ سسکیاں ،جو شاید اب میرا مقدر بن کر رہ گئی ہیں ، میں نے بے شمار بار اپنی ماں کے چہرے پر دیکھیں ۔ حضرت حکیم صاحب! مجھے ماں کی بد دعائیں کھا گئیں ، مجھے باپ کی آہیں کھا گئیں، میں ہر محبت کرنے والی بیٹی اور بھائی سے کہوں گی خدارا تسبیح خانہ سے جڑ جائیں آپ جہاں بھی ہیں ، موبائل کے ذریعے مسلسل تسبیح خانہ کے درس سنیں اور کبھی بھی پیار اور محبت کی شادی نہ کریں ۔ اپنا سب کچھ اپنے والدین کے حوالے کر دیں اور اپنے مزاج میں دھیما پن ، ٹھنڈا پن پیدا کریں اور غصے کو ختم کر دیں ۔ بس اے کاش وہ دن کیا تھا جب یہ غصے والا شخص میری زندگی میں آیا اس نے مجھے بہت خواب دکھائے ، میں اپنی پیاری ماں کو بھول بیٹی ، میں اپنے عظیم باپ کو فراموش کر بیٹھی ۔ میں ساتھ کھیلنے والے بہن بھائیوں کو نفرت سے دیکھنے لگی، مجھے صرف اس شخص سے محبت تھی ، باقی سارے معاشرے سے نفرت تھی ۔ اے کاش ایسا نہ کرتی ، یاللہ ! اس ظلم کی سزا جو تو نے مجھے دی ہے میری نسلوں کو بچا ، ہر کسی کی بیٹی اور بیٹے کو پیار عشق اور محبت کی شادی سے بچا لے ۔ حکیم صاحب! خدارا مجھے سکون چاہیے، مجھے چین چاہیے، مجھے امن اور عافیت چاہیے ۔کیایہ مل سکتا ہے؟ مجھے علم ہے آپ مجھے کہیں گے ماں باپ کو راضی کر ، بہن بھائیوں کو منا اور اگر تیری ماں زندہ ہے اور باپ حیات ہے تو ان کو اتنا راضی، کر اتنا راضی، اتنا راضی کر کہ وہ دل سے تجھے معاف کریں اور جو اندر سے اٹھنے والی آہیں ہیں وہ دعاؤ ں میں بدل جائیں تب تو تیرا کوئی کام بن سکتا ہے ورنہ ہر گز نہیں قارئین! یہ خط میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے اس کا جواب میں کیا دوں؟ مجھے آپ سے اس کا جواب چاہیے معاشرے میں لو ، محبت ، پیار ، میسج اور نیٹ کی شادی کا جو رواج چل پڑا ہے اس شادی کا آخر انجام کیا ہوتا ہے ؟ سینکڑوں نہیں ہزاروں مثالیں ہمارے معاشرے میں بھی ہوئی ہیں ، کبھی اس معاشرے کی مثالوں کو نظر انداز نہ کیجئے ۔ بلکہ ہر وقت اس مثال کو مثال سمجھیں کیونکہ یہ مثالیں جن میں عبرت ، انجام اور مکافات  ہوتا ہےہمیشہ بے مثال ہوتی ہیں ۔

Monday, November 2, 2015

ارب پتی کا جنازہ

ارب پتی کا جنازہ:۔


انسان ساری زندگی سیکھتا چلا آ رہا ہے اور کیا تقدیر کا نظام ہے یوں تھوڑا سا سیکھا اور کچھ سکھانے کے قابل ہوا ،اجل کا پیغام بہت تیزی سے اس کاتعاقب کرنے لگا ۔23 دسمبر 2001ء میں باقاعدہ امر الٰہی سے ایسے اسباب بنے کہ میں نے اپنا ٹھکانہ مستقل لاہور رکھا اور مجھے شیخ حضرت خواجہ سید محمد عبداللہ ہجویری رحمۃاللہ علیہ کی وہ پیشنگوئی زندہ ہوتی نظر آئی ۔اس ہجرت سے پہلے بھی اور اس ہجرت کے بعد بھی جس گھر سے سب سے زیادہ مجھے تالیف قلبی ملی28 ستمبر 2015ء بروز پیر اس عظیم محسن کا انتقال ہوا ۔ ابھی حج کی حاضری سے واپسی ہوئی تھی کہ سیدھا ان کے گھر پہنچا ، کفن میں لپٹی بالکل خاموش اس ارب پتی کی میت رکھی ، مجھے کچھ پیغام دے رہی تھی ، لوگ سمجھ رہے تھے کہ میں خاموش بیٹھا ہوں ، میں خاموش نہیں بیٹھا تھا میرے اند رسوچیں ، جزبات ، خیالات اور احساسات کا ایک تلاطم تھا اور سمندر کی موجیں تھیں جو میرے دل و دماغ پر مسلسل ٹکڑا کر ہر دفعہ ایک پیغام چھوڑے چلی جارہی تھیں ، یہ سفید چادروں میں لپٹا عظیم محسن جو پیغام چھوڑ رہا تھا اور جو میری سوچوں ، سمجھ ، شعور ، عقل ، احساس فہم فراست اور سالہا سال کے مشاہدے سے نچوڑ لیا وہ دراصل یہ تھا ۔ پہلے دور میں سنا تھا بڑی بوڑھیاں دعائیں دیتی تھیں کے اللہ تجھے سات بیٹے عطا فرمائے ! اس عظیم محسن کے سات بیٹے ہیں لیکن وہ آدمی نہیں ہیں بلکہ انسان ہیں جنہوں نے باپ کی طویل علالت میں ایسے خدمت کی جیسے کہ گلاب کے پھولوں کو سنبھال اور سنوار کے رکھا جاتا ہے ۔ اگر آدمی ہوتے تو مجھے خدمت کی امید نہ ہوتی بلکہ وہ باپ کو کسی گاؤ شالہ (اولڈہوم) میں چھوڑنے کا مشورہ کرتے یا پھر باپ کی زندہ میت کبھی اس گھر کبھی اس گھر ٹھوکریں کھاتی رہتی جو کہ معاشرے میں ہمیں روزانہ ایسے واقعات سننے کو ملتے ہیں یا پھر اگر شرم ہی شرم میں گھر رہتی بھی تو ایک اذیت ناک موت باپ مرتا میں نے جب اس عظیم محسن کا چہرہ دیکھا موت کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے ۔اور موت کی تکلیف اور کرب چہرے کی کسی لکیر سے عیاں نہیں تھی بلکہ ایمان کی موت اور خدمت کی موت چہرے کی ہر ہر لکیر اور ہر ہر بال سے واضح نظر آ رہی تھی ۔ ہر بیٹے نے جی بھر خدمت کا حق ادا کیا ، دن اور رات کو باری کے ساتھ جاگنے کا شیڈول تھا ، اپنی جوانی کی نیند اور جوانی کی کمائی باپ پر لگا ئی نہیں بلکہ بہائی اور وہ عظیم باپ بھی کیا تھا جس کی نیکیاں تو بہت ساری ہیں پر ایک نیکی مجھے خود سبق دے گئی ہے وہ تھا رزق حلال اور معاملات میں احتیاط ۔ اس شخص کی معاملاتی زندگی ایسی اپنے تو اپنے غیر بھی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔ کاروبار کی ابتدا میں ایک کاروباری شریک تھے ، فوت ہونے کے بعد اس شریک کی بیٹیوں اور خاندان کو ایسا سنبھالا کہ وہ باپ کی محرومی اور جدائی کو ایسے جیسے بھول گئی ہوں ، مجھے انہوں نے خود بتایا کہ جس طرح اپنے بیٹوں کو حج کرایا اسی طرح ہمیں حج کرایا ، جس طرح انہیں حق دیا اسی طرح ہمیں حق دیا بلکہ بیٹوں سے کہیں زیادہ ہمیں دیا۔  یہ وہ لفظ تھے جو ان کی زندگی میں کاروباری پارٹنر کے گھر والوں نے مجھے بتائے۔ وہ مزاج کے دبنگ تھے ، معاملات کے کھرے تھے اور لباس کے اجلے تھے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ رزق حلال اولاد کو ایسا ملا کہ سات بیٹے اور دو بیٹیاں تربیت کے اعلیٰ مقام تک پہنچے۔ میں جنازے میں سات بیٹوں پر نظر ڈالتا اور کبھی دونوں شریف اور باحیا دامادوں پر تو مجھے احساس ہوتا ایک ہے حق کھانا ، ایک ہے حق دینا اور ایک ہے جھکتا دینا ۔ مرحوم نے جھکتا دیا اور رب نے پھر انہیں اتنا جھکتا دیا کہ بعض اوقات مجھے اپنے پہلے اور بعد کے حالات تفصیل سے بتاتے اور حیرت سی ہوتی اور حیرت ایسی ہوتی کہ کیا واقعی ایسا ہوتا ہے  یہ رزق حلال جو نسلوں کو دیا وہ ان کے جوان پوتے اور پوتی اور پھر پڑپوتوں میں بھی واضح نظر آ رہا ۔ رزق کی برکت سے ایک بیٹاحق کی راہوں پر چلا گیا اور اس سہیل بیٹے نے سب کو ایسی زندہ اور تابندہ راہوں پر لگایا جن راہوں نے آدمی سے انسان بنا دیا ۔ ان کی ہر ہر خوبی ناقابل بیان ہے ۔جب 2002ء میں پہلے تسبیح خانہ لاہور ( وہ تسبیح خانہ بھی تھا ، رہائش بھی ، مہمان خانہ بھی اور کلینک بھی) کی بنیاد رکھی گئی چند آدمی دعا میں شامل تھے مرحوم دو کلو مٹھائی کا ڈبہ بانٹنے کیلئے لائے ، میں اکثر ان سے عرض کیا کرتا ہوں کہ پورے ورلڈ میں عبقری کے لاکھوں کروڑوں جو قرآن و سنت اور مسائل و مشکلات اور الجھنوں سے نکلنے کا فیضان پا رہے ہیں وہ اس دو کلو مٹھائی کے ڈبے کی کرامت ہے ۔ وہ اس وقت نہیں بٹا تھا بلکہ وہ مٹھائی مخلوق کو آسانیاں پھیلانے کی شکل میں قیامت تک انشااللہ بٹتی چلی جائے گی ۔ جہاں میرے اور دوسرے خدمت اور ساتھ دینے والوں کو اس کا ثمرہ اور صلہ ملے گا ، وہاں مرحوم کو ایک ڈھیر سارا اجر اور جزا اور صدقہ جاریہ کا سلسلہ ملے گا ، اور مل رہا ہے ۔ میری اہلیہ مجھے بتانے لگیں جسے سن کر میں چونک پڑا ، گھر میں کوئی واہی تباہی شور شرابہ اور بے ترتیب میت پر رونے کا بے ڈھنگ انداز جسے اسلام اور معاشرے نے ہمیشہ ناپسند کیا ہے بالکل نہیں تھاہر آنکھ اشکبا ر تھی ، پر یہ ایک اخلاقی ریت روایت زندہ کر کے دکھا دی ، بیٹے اشکبا رہیں ، سسکیاں ہیں ، لیکن کچھ ایسا انداز نہیں کہ دسیوں بیسیوں آدمی ان کو سنبھالنے کیلئے بے چین ہوں اور گھر میں بے شمار عورتیں ایک عورت کو سنبھال رہی ہوں اور بار بار ایک میت پر گر رہی ہوا ور چالیس گھر دور اس خاتون کی آوازیں ضبط سے سن رہے ہوں ۔ یہ منظر دیکھنے کو نہ ملا ، قارئین ! یہ میرے آپ کیلئے سبق ہیں میری ہر تحریر تعریف نہیں ہوتی لیکن اس کے اندر کچھ سبق اور کچھ راز سمجھنے والوں کیلئے ہوتے ہیں ۔ اس سے کہیں زیادہ انوکھی بات کہ بیٹے نے جنازہ پڑھایا ، میں سوچتا رہا طارق ! اے کاش تیری بھی اولاد ایسی ہو اور انشاءاللہ ، اللہ نے چاہا  تو ہو گی ۔ اور تیری بھی میت تیرے بیٹے کے سامنے ہو ۔ قارئین! رزق حلال اور معاملات کی پاکیزگی ۔ دوسرا سبق ! سات بیٹے اور دو بیٹیوں کی اعلیٰ تربیت اور ان میں انسانیت اور بہترین اچھے معاملات اور اخلاق۔ تیسرا سبق! موت تو سب  کے ساتھ رہے گی ، اور ہے پر میت پر کیسے رونا ہے اور کیسے اس کو گھر سے رخصت کرنا ہے ؟ آنسوؤں ، آہوں ، سسکیوں ، کے ساتھ یا بے ڈھب اور بے ترتیب غم کے انداز کے ساتھ ۔ چوتھا سبق! اے کاش! کسی کی اولاد اتنی اہل ہو کہ وہ بھی باپ کا جنازہ پڑھانے کے قابل ہو ۔ میں ابھی بھی سوچتا ہوں تو مجھے وہ محسن ان کی باتیں ان کا لہجہ اور ان کے معاملات کی سچائی بس آنکھوں کے سامنے گھومتی چلی جاتی ہے اور پھر ایک ٹھنڈی  آہ  بھر کر کہتا ہوں کہ یااللہ ! تجمل الٰہی شمسی کو اپنے خاص جوار رحمت میں جگہ عطا فرما آمین ثم آمین! اس محسن کا احسان میرے اوپر قرض ہے شاید  میں دنیا میں کبھی بھی نہ اتار سکوں ۔ اس لئے میں اس محسن کو ارب پتی کہتا ہوں کیوں ؟ وہ خود جن کے پاس اور ان کی نسلوں کے پاس اتنی اعلیٰ صفات ہوں وہ یقیناً ارب پتی ہیں اور اگر مالی طور پر ارب پتی ہونے کے باوجود بھی اگر یہ صفات نہیں ہیں تو وہ یقیناً بے قیمت ہیں ۔ 

Monday, October 5, 2015

سود کے بعد پھر کیا ہوا

حال دل:۔
سود کے بعد پھر کیا ہوا ؟
ایک صاحب مجھے چبھتے چبھتے ا،لجھتے الجھتے ،اور اکتائے اکتائے، لہجے کے ساتھ کہنے لگے آپ اپنے درس میں سود کی باتیں کرتے ہیں ، ساری دنیا کی معیشت سود پر چل رہی ہے آخر یہ سود کافروں کو نقصان کیوں نہیں دیتا ؟ اور مسلمانوں کو کیوں دیتا ہے؟ معذرت سے کہتا ہوں یہ آپ کا فوبیا ہے ! ( یعنی دوسرے لفظوں میں آپ خود بھی پاگل ہیں اور لوگوں کو بھی پاگل بنا رہے ہیں ۔) ان کی بات سن کر میں نے ٹھنڈی آہ بھری اور مؤدبانہ درخواست کی کہ شاید آپ عالمی میڈیا سے رابطہ کم رکھتے ہیں ، اتنا زیادہ رابطہ میرا بھی نہیں لیکن جتنا رابطہ ہے اس رابطے نے انٹر نیشنل تاجروں کو یہ سوچنے  پر مجبور کر دیا ہے کہ سود کسی مذہب میں بھی جائز نہیں ، وہ ہندو مذہب ہو ، سکھ مذہب ہو ، عیسائی مذہب ہو ، یہودی مذہب ہو یا اسلام ہو ۔ تو سود سے اگر چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو تمام مذاہب کا مطالعہ کریں ، ورنہ پھر ہماری بات مان جائیں ۔ کچھ عرصہ پہلے ریڈ رڈائجسٹ جو کہ انٹر نیشنل لاکھوں میں چھپنے والا واحد میگزین ہے اور جس میں غیر مصدقہ تحریر چھپنا کسی نے آج تک گمان بھی نہیں کیا کہ اس میں کوئی ادھر ادھر کی بات چھپ سکتی ہے ، سب تحریریں ا س میں تصدیق شدہ ہوتی ہیں ، اس میں ایک تجزیہ تھاجو مجھے ایک معتبر آدمی سے رسالے سمیت بتایا کہ اگر نائن الیون کے بعدجو عالمی حالات پیدا ہوئے ہیں معاشی بحران ، جنگیں ، نفرتیں اور غربت اور مہنگائی کا بڑھتا ہوا ایک سیلاب ، یعنی اگر اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو اپنی عالمی معیشت کو سود سے پاک کریں ۔جب میں نے ان کو یہ بات کہی انہیں میری بات کا یقین نہ آیا کہ یہ بات انگریز بھی کبھی کہہ سکتا ہے ۔ یا اس کے منہ سے کبھی نکل سکتی ہے ۔ میں نے اسے کہا کہ وہ خود حوالہ تلاش  کریں آخر وہ کھوجی حوالہ تلاش کر کہ لے آیا ۔ اور حیران و پریشان بیٹھا تھا اس کے بعد نامعلوم اسے کیا ہوا نیٹ کی دنیا میں گھوما اور اس نے پھر جو سود کے بارے میں عالمی دنیا کے تاثرات تجزیے تجربات اور منفی رویے تلاش کر کے مجھے دئیے وہ تو اتنے تھے کہ انسان سارے کام چھوڑ کر بس اسی کو پڑھنے بیٹھ جائے ، سود کے بعد زندگی میں کیا ہنگامے بر بادیاں، طوفان ،مسائل اور مشکلات پیدا ہوتے ہیں اس کو چھوٹا سا عکس میں اس خط کی مختصر تحریر سے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ! میرا گھر پرانے دھوبی گھاٹ کے قریب ہے ، میں اس راستے میں ذاتی تین مرلے کا مکان میں رہتی ہوں ، میرے سامنے فلاں قوم کے لوگ رہتے ہیں سود پر پیسہ لینا، دینا ان کا ایک خاندانی کام ہے ۔ اس کی نحوست جہاں ان کے گھر میں پہنچی وہاں میرے گھر میں بھی پہنچ رہی ہے ان کے گھر میں سارا دن لڑائی ، جھگڑا ، چھوٹی بڑی بات بہت بڑی اور گندی گالی دینا ان کیلئے کوئی حرج نہیں ۔ ایک دوسرے پر ہاتھ اٹھانا عام سا مشغلہ ہے مرد عورت کوئی ادب لحاظ شرم حیا ان کے قریب سے نہیں گزرا ۔ ان کے گھر کا سر براہ گالی کے بغیر بات نہیں کرتا ۔ اس نے سب گھر والوں کو تگنی کا ناچ نچایا ہوا ہے ۔ سارا دن اونچی آواز میں بیٹا گانے لگاتا ہے جھومتا ہے گاتا ہے ناچتا ہے نیٹ کی دنیا میں سارا دن ڈوبار ہتا ہے نشے کی عادت اور لت پڑ گئی ہے ۔ اگر ہم ان کو آواز آہستہ کرنے کیلئے کہیں تو ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ، لڑنے، مرنے اور مارنے پر آ جاتے ہیں ۔ انہوں نے گلی کو گندگی کا ڈھیر بنایا ہوا ہے ۔ یہ تو ان کے گھر کا مختصر سا حال ہے اور جو میرا حال ہے وہ یہ ہے کہ ان کی نحوست سے میری اولاد کی تربیت میں کمی پیدا ہو رہی ہے اور میری نسلیں متاثر ہو رہی ہیں ، ہر وقت میرے بچے ان کے بچوں کو دیکھتے ہیں ۔ اور ان کے بچے جو کرتے ہیں وہی میرے بچے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ میں نے محسوس کیا ہے جب سے میں نے یہاں تین مرلے کا گھر بنایا ہے میرے گھر میں رزق آتا ہے نا معلوم کہاں جاتا ہے جسے میں بے برکتی کہوں ۔ ہر وقت فتنہ فساد ، جھگڑے ، پریشانیاں ، بیماریاں ، دکھ ،تکلیفیں ،مسائل ،اور مشکلات یہ ساری چیزیں میرے گھر میں اتنی ہو گئی ہیں کہ میں نے زندگی بھر کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایسے کبھی ہو بھی سکتا ہے میں سمجھتی ہوں یہ برے پڑوسی کی نحوست اور ان کے برے رزق ، بری سوچیں ، برے خیال اور برے کردار کی ظلمت ہے جو میرے گھر میں آ رہی ہے  ۔ آپ دعا فرمائیں میں یہ گھر فروخت کر کے کسی اور جگہ چلی جاؤں ، میں تھک گئی ہوں ،اکتا گئی ہوں ، پریشان ہوں ، میں کیا کروں ؟ سچ ہے بڑوں سے سنا تھا کہ گھر ڈھونڈنے سے پہلے اچھا پڑوسی ڈھونڈیں برا پڑوسی جہاں ہو اور کوڑیوں کے بھاؤتمہیں تاج محل بھی مل رہا ہو کبھی نہ لینا ، کبھی نہ لینا ،کبھی بھی نہ لینا۔

Tuesday, September 1, 2015

بہنوں کا حسد بہن کے ساتھ

بہنوں کا حسد بہن کے ساتھ :۔

قارئین ! اس وقت میرے سامنے ڈاک کا ڈھیر ہے ، ہر خط دکھی ، پریشان کن آنسؤں سے لبریز سسکیوں اور آہوں کی حیرت انگیز صدائیں لیکن سب خطوط میں سے ایک خط ایسا ملا جس نے مجھے بہت زیادہ دکھی کیا ، خط تو سارے ہی دکھی کرتے ہیں پر اس خط کے دکھی ہونے میں کوئی شک نہیں اور یقیناً آپ بھی محسوس کریں گے کہ یہ خط حقیقت میں ہے ہی ایسا جسے پڑھ کر کوئی بھی شخص دکھی ہو جائے ۔ خط یہ ہے ! ہم نو بہن بھائی ہیں ، پانچ بہنیں اور چار بھائی ہیں ۔ میں سب سے چھوٹی ہوں ، میرے ابو نہایت سفید پوش اور غریب آدمی تھے جب سے میں پیدا ہوئی میرے ابو کے کاروبار کے حالات بہت بہتر ہونا شروع ہوئے اور ان کے دل میں اللہ پاک نے یہ بات ڈال دی کہ میری وجہ سے اللہ پاک  نےانہیں بخت دیا ہے ، رزق، مال ، چیزوں کی آسودگی بڑھتی چلی گئی ۔ اس کی وجہ سے ان کی محبت ، ان کا پیار میری طرف زیادہ ہوا ، وہ سب بہن  بھائیوں کوبہت پیار دیتے تھے اور محبت دیتے تھے لیکن شاید میں چھوٹی تھی تو مجھے انھوں نے بہت زیادہ پیار دیا لیکن دوسرے بہن بھائیوں کے پیار میں بھی کمی نہ آئی اس  چیز کو میرے چند بہن بھائیوں نے اور خاص طور پر بہنوں نے بہت زیادہ محسوس کیا اور میرے گھر میں بس اندر اندر یہ بات سلگتی رہی اچانک میرے والد فوت ہو گئے ۔ بس پھر کیا تھا ؟ میرے لیے دن بھی جہنم اور رات بھی دوزخ  میرے لئے ہر پل ، ہر سانس ، ہر لمحہ ، ہر لحظہ ، مشکل سے مشکل تر ہے اور نفرتیں اتنی زیادہ کہ میرے گمان اور بیان سے باہر ۔ اب زندگی کے دن گزار رہی  ہوں  لیکن قدم قدم پر میرے لئے نفرتوں کی وہ دیواریں کھڑی کی جارہی ہیں جو اگر میں آپ کو لکھوں توآپ کی آنکھیں ابل پڑیں گی ، آپ کا سینہ دہل جائے گا آپ کو نیند نہیں آئے گی ۔ آپ  دکھی  دوسرےخطوط سے ہوں گے ۔ لیکن اس خط سے آپ کا دکھ اور بڑھ جائے گا ۔ میں کیا کرو ں؟ اس میں میرا کیا قصور ہے ؟ میں نے تو نہیں والد کو کہا تھا کہ آپ مجھ سے محبت کریں ؟ اگر اللہ پاک نے میری پیشانی میں بخت رکھا ہے تو یہ اس کی عطا ہے ۔قارئین! یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے اور ایک بہت بڑا دکھ ہے کہ میرے پاس جتنے بھی دکھی کیس آتے ہیں ان سب دکھی کیسوں میں بہن بھائیوں کی آپس میں نفرتیں ، مخالفتیں اور حسد اتنا زیادہ دیکھا کہ میں خود حیران ہو گیا ۔ قارئین ! اگر کسی گھر میں دو بہنوں کی اکٹھی شادی ہو جائے تو شاید کوئی خوش قسمت گھر ہو گا کہ جس گھر میں بہنوں کی آپس میں محبت و پیار ، بھائی چارگی ، ہمدردی ورنہ تو ایک دوسرے کوکاٹنا اور ایک دوسرے سے ایسی نفرت کرنا کہ اور نفرت اتنی بڑھتی چلی جاتی ہے کہ آخرکار بیٹوں اور بیٹیوں کے رشتوں غیروں میں تو کرتے ہیں آپس میں نہیں کر پاتے۔ حسد ایک روحانی بیماری ہے اور یہ معاشرے میں مختلف شکلوں میں سامنے آ رہی ہے ، کہیں فرقہ واریت، کہیں زبان ، کہیں علاقہ ، کہیں صوبہ ، کہیں رنگ و نسل اور کہیں رشتہ داریوں کی شکل میں ۔ بار ہا مشاہدات اور تجربات کے بعد ایک بات واضح اور بالکل واضح سامنے آئی ہے اور وہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب بھی میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا اور ان لوگوں کو میں نے صرف ایک تلقین کی اور وہ تلقین ہے صبر ، درگزر ، حوصلہ ، پیار ، ان کی نفرت کا جواب محبت میں ان کے ظلم کا جواب معاف کرنے میں اوران کی زیادتی کا جواب عنایات کی بارش میں ، یہ چیز ہے تو بہت مشکل بلکہ مشکل سے بھی زیادہ مشکل ہے لیکن اس پر جو صلہ ملتاہے ، وہ اتنا عجیب و غریب ملتا ہے کہ رزق اسی میں ہے ، صحت اسی میں ہے ، کتنے  بےشمار مریض میرے پاس آئے اور میں نے انہیں یہی صلہ رحمی علاج بتا یا ۔ کچھ ہی عرصہ میں ٹھیک ہو گئے ۔ بعد میں حیران ہو کر مجھ سے کہنے لگے یہ بھی علاج ہے ؟ ہم نے  تو اس کو ثواب سمجھا تھا اور صرف ثواب  کے طور پر تھا کہ کسی کو جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کرو جو تمہیں محروم کرے اسے عطا کرو ، اب پتہ چلا کہ علاج بھی ہے ۔  بے شمار مقروض ماؤں او بہنوں کی وجہ سے دولت مند ہو گئے ۔بے شمار معاشی پریشان بیویوں کے اوپر شفقت اور بہنوں کے ساتھ صلہ رحمی اور بھائیوں کا استقبال انہیں مالدار اور انہیں تندرست توانا اور عظیم کر گیا ۔ یار رکھیے گا ! اللہ پاک کی مخلوق میرے اللہ پاک کو بہت پسند ہے اور جو اللہ پاک کی مخلوق کی خدمت عبادت سمجھ کر کرے گا میرا رب اسے ضرور نوازے گا ۔ اور اس کو ضرور عطا کرے گا ۔ اگر آپ بیماریاں ، پریشانیاں ، دکھ چاہے وہ اولاد کا ہے ، شوہر کا ، پڑوسی ، بےاولادی یا کوئی اور غم ہے جو اندر ہی اندر گھن کی طرح آپ کے کھائےجارہا ہے سچ پوچئے لوگوں سے  صلہ رحمی کرنا شروع کر دیں ۔ جی ہاں ! جی ہاں !  ان کے ظلم کے باوجود ان کی زیادتیوں کے باوجود ان کی سختیوں کے باوجود ان کے حسد کے باوجود آپ سوچ نہیں سکتے وہ کریم ایسے عطا کرے گا کہ گمان سے بالا تر ۔ وہ دینے والا ہے وہ بندوں کو عطا کرنے والا ہے ۔ وہ رزق ، وسعت، برکت ، عافیت عطا ، شفقت ، رحمت ، کرم ، مہربائی ، جودو سخا ، علم و عطا اپنے پاس رکھے ہوئے ہے اور جو اس کے بندوں کے ساتھ بھلا کرے گا اللہ  پاک اس کے بھلے کا فوراً سوچے گا ۔ آئیے ! ہم اس خط سے کوئی سبق حاصل کریں اور اس خط کو ذریعہ بنا لیں زندگی کے بنانے اور مسائل کے حل کروانے کا ۔
 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر3


Wednesday, August 5, 2015

میری تین گزارشات

میری تین گزارشات:       جو میں نے دیکھا سنا اور سوچا

اپنی بھرپور طاقت ،جوانی، قوت ، انرجی اور شباب جس کے 25 سال سعودی عرب ریال تلاش کرتے کرتے گزر گئے ، لاکھوں کمایا اور خوب کمایا  لوگوں نے داد دی کہ مال ،پیسہ اور چیزیں بہت آ رہی ہیں ۔پھرکوشش کی کہ پاکستان میں بیٹے کو سیٹل کروں اور اس کو یہاں بزنس دلاؤں اس کو اس دور میں تیس لاکھ بھیجے تھے ۔جب کسی کے پاس تیس ہزار ہوتے تو اسے لوگ بہت مالدار کہتے تھے ہوا یوں کہ اس کی زندگی سے تین چیزیں ہٹ گئیں پہلی چیز ماں باپ کی وہ دعائیں جن کو جوانی ہی میں چھوڑ کر وہ ریال کمانے سعودی عرب چلا گیا تھا اسے پل پل میں، سانسوں سانسوں میں ،لمحے لمحے میں ، ماں باپ کی دعاؤں کی اشد ضرورت تھی وہ ماں باپ ہی تھے جنہوں نے اسے ترکی ، کامیابی،برکتوں اور بہاروں کے زینے طے کروانے تھے ۔ ان کی دعاؤں سے یکسر محروم رہ گیا ،کبھی کبھی پوچھ لیتا تھا پھر ایک وقت آیا پوچھنے کا بھی وقت نہ ملا ۔ افسوس کے دونوں کے جنازے میں بھی شریک نہ ہو سکا ۔ جو دوسرا نقصان ہوا وہ جوان بیوی کی آئیں ،جس کی سسکتی ،ابھرتی جوانی، جزبات، چاہتیں ، خواہشات، امنگیں، امیدیں اندر ہی اندر رہ گئیں ۔ اور حسرتیں ڈوب ڈوب کر پھر ابھرتی تھیں اور ابھر ابھر کر پھر ڈوبتی تھیں لیکن اسے ایک ہی دھن سوار تھی کہ میں نے مالدار بننا ہے دولت اکھٹی کرنی ہے مالدار بن کر سال دو سال کے بعد چند ہفتوں کے لئے آتا وہ جو سال دو سال کی جدائی بجائے اس کے کہ سچی طلب بن جاتی وہ لڑائی، بد گمانی، شک و شبہ میں بدل جاتی یوں یہ ہفتے ایک دوسرے سے دور نفرتوں ،الجھنوں اور جدائی میں گزرتے اور یہ شخص پھر عرب چلا جاتا ۔ بیوی کی تنہائیوں کی ٹھنڈی سانسیں اس کو کھا جاتیں اور وہ ٹھنڈی سانسیں اس کے مستقبل کو دراصل ویران کر رہی تھیں اور وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ میں ترقی کر رہا ہوں ۔ قارئین!  یاد رکھیں چند فیصد بیویاں ایسی ہوں گی جو بددعائیں دیتی ہوں گی اکثریت بددعائیں نہیں دیتیں آہیں دیتی ہیں ۔ یاد رکھیے گا ! آہیں بددعاؤں سے زیادہ اثر رکھتی ہیں اور ان کا اثر بعض اوقات انسان اور بعض اوقات نسلوں تک چلتا ہے اس کوبیوی  کی آہیں  لگتی اور الجھاتی رہیں لیکن اس پر وہی ایک دھن سوار تھی کہ میں نے مال کمانا ہے دولت کمانی ہے اور چیزیں بنانی ہیں اور تیسرا نقصان  اور گھاٹا یہ ہوا کہ بیوی گھر میں نسلوں کی معمار اور شوہر باہر سے نسلوں کیلئے چھتری جب چھتری ہٹ جاتی ہے تو معمار کی کوئی حیثیت  نہیں رہتی جس اولاد پر باپ کا سایہ نہیں ہوتا بہت کم ہے کہ ان کے اخلاق اعمال معاشرت اور تہذیب بہتر ہو سکے ورنہ اکثر اخلاق معاشرت اور تہذیب سے دور ہو کر ننگی زندگی اور بغاوت پر اتر آتے ہیں اور معاشرے کی اس زندگی کو پسند کرتے ہیں جو کہ معاشرے کی بہت بدترین زندگی ہوتی ہے۔  بس اس شخص کے زوال کا سبب یہ تین باتیں بنیں ۔ ماں باپ کی دعاؤں سے محرومی بیوی کی آئیں سسکیاں اور اولاد کی تربیت میں کمی۔ اور یہ کمی آہستہ آہستہ بڑھتہ چلی گئی جو کماتا تھا اولاد کو دیتا تھا اور اولاد کو بنا بنایا   مال بغیر محبت اور مشقت کے جو ملا ان کے اندر قدردانی تو پہلے ہی ختم ہو چکی تھی باپ کے قرب نے محبت دی نہ تھی قرب ہی نہ رہا تو باپ کی خون پسینے کی کمائی کا احساس بھی نہ رہا ۔تو باپ مال بھیجتا رہا ناتجربہ کاری دولت کی زیادتی اٹھتی جوانی جزبات اور چھتری بلکل نہیں ۔ بس پھر کیا تھا سب کچھ لٹ گیا آج اس شخص کو گھر سے نکلے 35 سال ہو گئے ہیں ، 35 سال بھر پور کمائی کی پر حاصل  کچھ نہ ہوا۔ اور اب سالہا سال سے پانچ چھ سو ریال کی نوکری میں بڑھاپے کی زندگی ایک شخص کی چوکیداری میں گزار رہا اور اپنی حسرتوں پہ بیٹھ کر آنسو بہا تا ہے  میری اولاد نافرمان نکلی میری اولاد نے میری مال و دولت اور چیزوں کی قدر نہیں کی۔ اسے اپنے والدین کے ساتھ بیتی زندگی بھول گئی اس نے اپنے والدین کے ساتھ کیا کیا تھا؟یاد رکھیے گا زندگی میں مکافات اور جیسا بونا ویسا کاٹنا یہ ہمیشہ رہا ہے ہاں رب کرم ہے کسی کے لئے معافی کا انتظام اور معافی کا اعلان کر دے اس سےکون پوچھ سکے؟ لیکن یہ مکافات کانظام سدا چلے گا ۔ میں صرف ان مال کمانے والوں کی خدمت میں جو گھر سے دور درہم ،دینار ،ریال، پاؤنڈ، یورو، ڈالر  اور قیمتی کرنسی   خوب کمائی رزق حلال کمانا اور رزق حلال کیلئے محنت  کرنا نہ عیب ہے نہ میں منع کرتا ہوں لیکن  آپ کی خدمت میں اتنی درخواست ضرور کروں گا کہ ان تین چیزوں کا اگر خیال رکھ سکتے ہیں تو ضرور رکھیے گا اگر نہیں رکھ سکتے تو براہ کرم! لٹ آئیں یہ آنے دو آنے والا پاکستانی  روپیہ لاکھوں کے ڈالر، ریال ،اور دینار سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ جس کا انجام پریشانی مشکلات اور مسائل ہیں ۔ قارئین! میں کبھی کبھی آپ کو اس موضوع پر چھیڑتا ہوں اور یاد دہانی کراتا ہوں امید ہے میری  باتوں پر آپ توجہ کریں گے کیونکہ ہر چیز مال و دولت اور نسلوں کو نہیں سنوارتی کچھ اور سب بھی ہوتے ہیں ۔  جس سے مال و دولت اور چیزیں بنتی ہیں بیرون ملک جتنے بھی لوگ رزق روزی کے لئے گئے انکی خدمت میں میری یہ تین گزارشات ہمیشہ رہیں اکثر لوگوں کی  آنکھوں پر شیشے ہوتے ہیں وہ شائد میری گزارشات کو نہ پڑھیں حتیٰ کہ سننا بھی گوارہ نہ کریں لیکن حقیقت سدا آشکار ہوتی ہے ۔ اور حقیقت حقیقت ہوتی ہے۔
  ماہنامہ عبقری "اگست 2015ء شمارہ نمبر 110" صفحہ نمبر3 

Wednesday, July 29, 2015

اپنی موت کا ابتخاب خود کریں

 حال دل :   (اپنی موت کا ابتخاب خود کریں)


رب کو ، پیغمبر کو،دین ،ایمان،اور قرآن کو نہ ماننے والے اس دنیا میں موجودہیں یہ ایک ایسی حقیقت ہے اس کو نہ ماننے والے آج تک نہ سنے نہ دیکھے ۔میرے مزاج میں تحقیق اور تفکر کا شروع سے جزبہ ہے ۔کوئی بھی شخص اس دنیا سے رخصت ہو جائے میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ موت کیسے ہوئی کس حالت میں ہوئی مرا کیسے؟ ہمارے ایک دوست جن کو ہم ملک صاحب کہتے ہیں کہ والد جو اس وقت پچانوے سال سے زیادہ کی عمر کے ہیں ۔ موصوف بہت درویش با کمال ولی ہیں ۔ میں نے ایک دفعہ عرض کیا کے کوئی پرانہ واقع یا مشائدہ سنایئے ۔ فرمانے لگے ہمارے گاؤں سے آگے دور ایک گاؤں ہے ۔وہاں ایک مشہور چور ہوتا تھا ۔لوگوں کی گائے ،بیل، بھینس اور چیزیں چورانا اس کا فن تھا کئی بار پولیس نے پکڑا سزائیں بھگتیں لیکن چوری سے باز نہیں آتا تھا ۔ ایک دفعہ ایک بھینس چوری کر کہ آ رہا تھا گرمیوں کی راتیں تھیں راستے میں ایک زہریلے سانپ نے ڈسا ۔ ہماری بستی کے قریب تھا اسے احساس ہوا کہ سانپ کا زہر کام کر گیا ہے ۔ بستی والوں کو زور زور سے آوازیں دینے لگا ۔ رات کا وقت تھا ہر طرف سناٹا تھا لوگ اٹھے اور سب کو تعارف کرا کہ زور زور سے کہہ رہا تھا میں فلاں بستی کا مشہور چور ہوں ۔لوگ حیران ! بھینس کو اس نے ایک جگہ باندھ دیا اور خود پاؤں پکڑ کر بیٹھا اور لوگوں سے کہہ رہا تھا مجھے کسی زہریلے سانپ نے ڈسا ہے ۔ بس میرا وقت آ گیا ہے میں بچ نہیں سکتا ۔یہ بھینس میں فلاں گاؤں کی فلاں شخص کی چوری کر کہ لایا ہوں ۔پھر اپنی زندگی کی چوریاں بتانے لگا فلاں چیز فلاں سے چوری کی اور میری بیٹوں کو میری وصیت سنانا کہ ان کو یہ چیزیں واپس کریں پھر اپنی گزشتہ زندگی پر توبہ ندامت کرنے لگا اور لوگوں کو گواء بنانے لگا کہ دیکھو لوگو میں نے توبہ کی اور کلمہ پڑھا اور اس دنیا سے رخصت ہوا چوہدری جاوید صاحب ! اپنا واقعہ سنانے لگے یہ اُس دور کی بات تھی ۔جب میں راولپنڈی کے ور کشاپی محلہ میں رہتا تھا پھر میں نے وہاں سے یہاں کوٹھی بنائی مجھے پیغام ملا کے تیرے دوست کا آخری وقت ہے ۔ اور وہ تجھے یاد کر رہا ہے میں اس کے پاس گیا لوگ اکٹھے تھے موت و حیات کی کشمکش تھی مجھے دور سے کہنے لگا فلاں کا بیٹا ہے میں نے کہا ہاں اور مجھے کہا میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں اور میں اللہ پاک سے استغفار کر رہا ہوں اور سب کو اور مجھے متوجہ کر کے کہنے لگا میرے کلمے کو گواء رہنا اور کلمہ پڑھا اور اس دینا سے رخصت ہو گیا ۔ حالانکہ لوگوں نے آج تک اسے مسجد جاتے نہیں دیکھا تھا ۔ منڈی بہاؤالدین کے سات ایک گاؤ ں ہے میانوال ،وہاں کے میرے ایک دوست رانا صاحب ! نے واقع سنایا ایک صاحب سار ی زندگی ایمان و اعمال کی زندگی گزاری آخری وقت میں مسجد میں بیٹھے تھے اور گھر گئے اور کہنے لگے میری طبعیت خراب ہورہی ہے ۔ پھر گھر والوں کو کہا کہ میرا ایمان مفصل سنو ایمان مفصل سنایا ۔بس یہ سنایا اور دنیا سے رخصت ہو گئے۔میر ی والدہ محترمہ ! میرے دادا مرحوم حاجی اللہ بخش چغتائی کے بار ے میں فرماتی ہیں کہ جب آخری وقت آیا صبح فجر کی نماز پرھی،ذکر اعمال ،تلاوت کرتے رہے ،اور پھر چارپائی پر بیٹھ کر اشراق پڑھی۔ اور پھر وہیں ٹیک لگا کر دعا مانگتے مانگتے آخر ہاتھ کر گئے ،اور ان کی گردن بھی ڈھلک گئی ۔، یوں روح اس دنیا سے چلی گئی۔ نانی اماں سو سال سے زیادہ عمر میں فروری 2009ء میں فوت ہوئیں ۔میرے پردادا مفتی حاجی فتح محمد چغتائی جن کو لوگ عام طور پر حاجی فتح محمد کہتے تھے صبح تمام لوگوں سے الوداع کر رہے ہیں ،پڑوسیوں میں ہندو بھی تھے اور مسلماں بھی ،موصوف 1933ء میں فوت ہوئے ۔الغرض ہر شخص کو الوداع کر رہےتھے ،اور ساتھ فرما رہے تھے کہ اگر کوئی کمی کوہتائی ہو تو معاف کر دینا،پھر اپنی قدیمی مسجد میں گئے مسجد کو الوداع کیا ،لوگ پوچھ رہے تھے کہ حاجی صاحب ! خیریت تو ہے آپ سب کو الوداع کہہ رہے ہیں ۔تو فرمانے لگے بس محسوس ہوتا ہے کہ وقت آ گیا ہے ،رات کو تہجد کی نماز پڑھی اعمال استغفار کیا اپنے انگھوٹھے کپڑے کے ٹکڑے سے خود باندھے ہاتھ پاؤ ں سیدھے کیے چادر اوڑھی سر دائیں طرف کیا اور دنیا کی زندگی کو الوداع کر کے سو گئے۔میر ے گھر کے قریب ایک صاحب نے دکان لگائی ،بازار کے دوسرے کونےپر ایک اور صاحب نے بھی اسی شعبے کی دکان کھولی۔ ان کو بہت غصہ آیا ،پہلے تو انہوں نے ان کہ تالوں میں ایلفی ڈال دی ،وہ دکاندار باز نہ آیا تو اس کی دکان کو آگ لگا دی ،موصوف کے مزاج میں حسد،تنگ نظری ،کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی،دن گزرتے گئے حالات نے فیصلہ کیا جن کی دکان کو جلایا تھا ان کا کاروبار بڑھا ایک سے دو ،دو سے تین دکانیں ہو گئیں ۔اور اِن کا روبار آہستہ آہستہ ختم ہونا شروع ہو گیا پھر ایک بھائی اور اس کی بیوی مر گئے ۔گھر میں پریشانی،مشکلات،بیماریاں ،لڑائی جھگڑے پھر خود مر گیا اور عجیب موت مرے ،اور ان کو غسل دینے والے صاحب نے مجھ کو بتایا ان کاچہرہ بہت بھیانک تھا ناک منہ سے خون ،کانوں سے خون ختم ہی نہیں ہو رہا تھا ۔ زندگی بھر لوگوں سے حسد کینا بغض رکھنا رکھتے رکھتے آخر کار عجیب موت مر گئے۔ میں جب ساتوں جماعت میں پڑھتا تھا تو ایک پرنے ہیڈ ماسڑ صاحب! تھے ۔ میرے والد مرحوم نے مجھے اور میرے بھائی کو ان کے سپرد کیا ہوا تھا موصوف بہت نیک تجربہ کا ران کی سپردگی کا مقصد پڑھاناکم اور تربیت زیادہ تھی ۔ وہاں میرے ایک کلاس فیلو تھے ان کے والد کا نام محمد حسین شاہ صاحب ! تھا۔ ایک دفعہ ان کے بیٹے ملے میں نے ان سے پوچھا سنائیں والد صاحب کیسے ہیں ؟ فرمانے لگے وہ تو کئی سال پہلے فوت ہوگئے میں نے کہا موت کی کیفیت؟ فرمانے لگے جمعہ کے دن اٹھے،داڑھی کے خط بنوائے، ناخن کاٹے، اور پھر غسل کیا اور غسل کرنے کے بعد بیٹھے اور تھوڑی ہی دیر میں اللہ کے پاس چلے گئے بس یہ ایسی موت ہوئی ۔میں اتنی اچھی موت پر حیران بھی ہوں مجھے ملانا کلیم صدیقی صاحب! نے مولانا ابو الحسن علی ندوی صاحب! کا واقع سنایا رمضان المبارک کا جمعہ تھا ۔ حضرت نے پوچھا ، آخری جمعہ ہے؟ ساتھیوں نے کہا نہیں حضرفرمانے لگے نہیں آخری جمعہ ہے صبح اٹھے داڑھی کے خط بنوائے ،خوب اچھی طرح نہائے ،اچھا لباس پہنا ،خوشبو لگائی،شیروانی پہنی ،پھر جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھی اور پھر سورہ یٰسین پڑھی اور پھر تھوڑی ہی دیر کے بعد کلمہ پڑھتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ میرے دوست کے والد غلام محمد صاحب ! صبح کی نماز پڑھ کر تشریف لائے ،ہاتھ میں تسبیح تھی گھر کے نظام اور کچھ زندگی کی ضروریات کے بارے میں بات کی باتیں کرتے اسی تسبیح کے ساتھ لیٹے اور اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ موصوف کی ایک بہت بڑی خوبی حلم،برداشت ، صلہ رحمی، اپنا حق چھوڑ دیا اور اپنے حق کا کبھی مطالبہ بھی نہ کیا ۔یہ وہ بنیادیں تھیں جس کی وجہ سے تسبیح اور ذکر اور کوئی ایک نماز قضاء کیے بغیر اللہ پاک نے بہترین موت عطا مرمائی ۔ لاہور کے ایک مخلص ذوالفقار صاحب ! کی والدہ نماز پڑھ کر تسبیح پر سورہ کوثر پڑھ رہی تھیں اور ساتھ میرا درس لگا ہوا تھا وہ سن رہی تھیں بس اسی دوران سر جھکایا اور پھر گر گئیں سورہ کوثر پڑھتے پڑھتے اللہ پاک کی بارگاہ میں چلی گئیں ۔ مرحومہ ساری عمر صبر ، حوصلہ ،ایمان اور کفایت شعاری کی زندگی گزار کر آخری وقت میں اللہ پاک کانام لیتے اس دنیا سے رخصت ہوئیں ۔ بہت حوصلے والی تھیں ، صبر والی ، ایمان والی،اکثر میرے پاس آتی رہتی تھیں ۔چوہدری حشمت علی صاحب! مالدار تھے ،سابق پاکستان کے وزیراعظم کے قریب ترین رشتہ دار تھے جس وقت وہ فوت ہوئے کمرے میں حیرت انگیز خوشبو نکلی،وہ خوشبو میں نے خود سونگھی ۔ میں نے ان کے جنازے کو کندھا بھی دیا ،انوکھی خوشبو جو کہ اس دنیا کی نہیں تھی بہت زیادی محسوس کی مرنے کے بعد بےشمار لوگوں نے ان کو اتنی اچھی حالت میں دیکھا کہ شائد گمان سے بالاتر ۔اردو بازار لاہوں میں کتابوں کی ایک دکان مکتبہ قدوسیہ ہے ۔عمر فاروق صاحب ایک جاننے والے کا واقع سنانے لگے ،ان کی سابقہ زندگی منفرد تھی ایک صاحب نے انہیں مسجد نبویﷺ شریف میں نہایت اچھی اور متقیانہ زندگی میں دیکھا ،حیران ہوئے آ پ کی سابقہ زندگی تو کچھ عجیب و غریب تھی ،جس کو لوگ اچھا نہیں سمجھتے تھے بلکہ لوگ بچ کر نکلنا ہی اچھا سمجھتے تھے۔ یہ تبدیلی کیسے ہوئی ،ٹھنڈی آہ بھر کر کہنے لگے ؟ کہ میرے بھائی نے ساری زندگی مساجد کی خدمت ، مدارس کی خدمت،دین کی دین والوں کی حج،عمرہ،نماز، تسبیح،صدقات، خیرات، وغیرہ سب کیا پھر وہ بیمار ہو گئے اور بہت عرص بیماری کی حالت میں رہے کہ بیماری نے ان کے حوصلے ختم کر دیئے ایک دفعہ سب گھر والوں اکھٹا کیا اور فرمانے لگے قرآن پاک لے آئیں قرآن پاک کو کہنے لگے یااللہ پاک تو جانتا ہے میں نے ساری زندگی تیری اور قرآن کی خدمت کی لیکن تو نے مجھے بیمار کیا میں تجھے نہیں مانتا اور تیرے قرآن کو نہیں مانتا ۔ یہ بول آخری تھے اور وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے ، میرے والد صاحب کے ایک لکڑی کے کاریگر تھے جن کو بہت امیر لوگ لکڑی کے کام کے لئے بلاتے تھے کیونکہ موصوف بہت ڈھیلا کا م نہایت سست کام اور نہایت مہنگی فیس ۔لیکن والد صاحب ان سے کام کرواتے تھے ابتدا میں 1991ء میں جب میں نے باقاعدہ پریکٹس شروع کی تو لکڑی کا بہت بڑا کام تقریباً ایک سال تک ہوتا رہا اور وہ میرا کلینک تیار ہوا جو کہ والدصاحب نے اپنی نگرانی میں کروایا اور یہ استاد دن رات اسی پر محنت کرتے رہے اور واقعی شاہکار کام کیا موصوف نماز قرآن تسبیح کی طرف زیادہ دھیا ن نہیں دیتے تھے مجھے پتہ چلا کہ بیمار ہیں میں عیادت کرنے گیا جاتے ہی میں تعارف کروایا پہچان گئے ۔ اور مجھے بار بار کہنے لگے طارق میاں! کہ ہم بس اب مسجد بنائیں گئے اور جلد ہی بنائیں گئے اور یہ لفظ بار بار کہہ رہے تھے جیسے کہ وہ اپنے حوش و حواس میں نہ ہوں مجھے پتہ چلا کے ان کا آخری وقت نہایت لاجواب ،اللہ پاک اور ان کے رسول ﷺ کی یادیں اور یوں اپنی زندگی کے دن پورے کر کہ بہترین خاتمہ پا کر اس دنیا سے چلے گئے ۔میں ایک گاؤں چک 47 میں آج سے کوئی 25 سا پہلے گیا ایک صاحب کو دیکھا کہ ان کے دونوں ہونٹ سفید ہو گئے تھے جیسے محسوس ہوتا برص یا پھہلبہری کے نشان ہیں بتانے والوں نے بتایا کہ شراب اتنی پیتے ہیں کہ ہونٹ جل گئے ہیں شراب کی کثرت سے آخر بیمار ہو گئے ملتان نشتر ہسپتال میں لایا گیا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ انہیں تھوڑی تھوڑی شراب پینا چاہیے ایک دم نہیں چھوڑنی چاہیے لیکن انہوں نے ایسی توبہ کی کہ کئی ہفتے ہسپتال میں رہے شفاء یاب نہیں ہو رہے تھے آخر کار ایک دن کہنے لگے مجھے مسجد میں لے چلو وضو کیا مسجد کی محراب میں جاکر نماز پڑھنے لگے اور جب سجدے میں گئے تو روح پرواز کر گئی ۔ میرے پڑوس میں ایک حواجہ صاحب رہتے تھے موصوف بہت ہی غلط عقائد کے مالک تھے لیکن نامعلوم قدرت کو کیا ادا پسند آئی ، اور قدرت نے ان کو چنا آخری وقت کہنے لگے قرآن پاک لے آئیں قرآن پاک کو دیکھا مسکرائے اور کہنے لگے اللہ پاک میں سابقہ اپنی زندگی اور عقائد سے توبہ کرتا ہوں ۔جو قرآن کی سچی زندگی ہے اسی پر آتا ہوں اور باقاعدہ وصیت کی مجھے فلاں قبرستان میں جس میں سچے لوگ دفن ہیں وہاں دفن کرنا اور یوں زندگی کا آخر بہترین اور لاجواب کر کے چلے گئے۔ قلعہ ڈیراور بہاولپور کے قریب ہے ۔ وہاں کے ایک سخی اور بااثر آدمی قاضی اللہ دتہ صاحب ہیں ۔ موصوف صحرا میں ہمسفر ہوتے ہیں کیونکہ بہت بوڑھے ہیں ان کے ساتھ بہت تجربات ہیں اپنی زبدگی کےمشائدات بتانے لگے کہ ایک شخص کا نام مراد حسین تھا لوگ اسے مرادو کہتے تھے دنیا کی ہر علت ہر بری عادت اس میں موجود تھی ایک دن دوستوں کے پاس گیا اور کہنے لگا میں کل مر جاؤں گا اس کے دوسرے دن رمضان کے آخری جمعہ تھا اور کہنے لگا میرے کبوتر بیچ کر کفن دفن کی ترتیب بنا لینا ۔ نہایت غریب تھا اور اس کے زیادہ وارث بھی نہیں تھے لوگ حیران ہوئے اور مذاق کرنے لگے اور ایک بات خاص تاکید کی دیکھو جب اعلان جنازے کا کرنا تو یہ نہ کہنا کہ مرادو مر گیا کیو نکہ کوئی میرے جنازے میں نہیں آئے گا میں قابل نفرت شخص ہوں ۔ بس یہ کہہ دینا کسی پردیسی کا جنازہ ہے اور ہاں نماز جمعہ کے بعد میرا جنازہ پڑھانا تاکہ زیادہ لوگ شامل ہوں واقعی اگلے دن وہ فوت ہو گیا اعلان ہوا کسی پردیسی کا جنازہ ہے کبوتر بیچ کر کفن دفن کی ترتیب بنائی گئی، لوگوں کا ایک ہجوم تھا جنازے کے بعد جب پتہ چلا تو لوگ حیران ہوئے اتنی بری زندگی اور اتنی اچھی موت میرے عزیز میاں احسن ایک مخلص اور نیک جوان ہیں بتانے لگے میری دکان کے سامنے ایک ہیروئنی پاخانہ گندگی میں لت پت موت و حیات کی کشمکش میں تھا ایمرجنسی والوں کو اور رفاعی اداروں کو بلایا گیا کسی طرح اس کو اٹھا کر ہسپتال لے جاؤ کسی نے بھی اس کی زندہ لاش کو اٹھانے سے انکار کر دیا خیر کسی نہ کسی طرح کر کہ اس کو گنگا رام ہسپتال کی ایمرجنسی میں لے گئے میں نے خود اپنے کانوں سے اس کی زبان سے کلمہ سنا وہ یوں زندگی کا ایک ادھورا باب چھوڑ کر بظاہر زندگی کوخراب کر گیا لیکن ابدی آخرت کی اعلی ٰ زندگی پاکر اس دنیا سے رخصت ہو گیا ۔ بےشمار لوگوں سے ملا جنہوں نے میتوں کو نہلایا ان سے تجربات مشائدات پوچھے ایک دفعہ حرم کعبہ میں ہر روز درس دینےوالے محترم مکی صاحب ! نے بھی یہ بات فرمائی کہ جنتی کی جب اس دنیا سے روح نکلتی ہے تو اس کو وہ لذت نصیب ہوتی ہے جو حالت انزال میں ہوتی ہے یہ بات بڑی انوکھی تھی پھر میں نے غسل دینے والوں سے پوچھا بے شمار نے بتایا میت کی جب روح نکلتی ہے تو کسی کا پاخانہ نکلا ہوا ہوتا ہے اور کسی کا پیشاب اور بتایا کہ کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کے کپڑے مادہ تولید سے آلودہ ہوتے ہیں ۔ اور یہ بات واقعی مکی صاحب کی جو کہ کعبہ شریف میں بیٹھ کر روزانہ درس دیتے ہیں بالکل ٹھیک ہے کہ اللہ پاک اس کو ا س لذت میں مبتلا کر کہ موت کی تکلیف بھی نہیں دیتے۔ 1965ء کی جنگ میں ایک صوبیدار مجھے اپنے مشائدہ بتانے لگے کہ ہمارے فوجی جوان جتنے بھی شہید ہوئے چند کو غسل دینے کا مجھے موقع ملا ان کے ساتھ بھی یہی کیفیت انزال کی تھی بھائی عبدالرحمان نوناری پرانے بوڑھے بزرگ ساری زندگی ایمان اعمال کی زندگی گزاری بیٹے کو ملنے آئے بیٹا دعوت کی راہ میں چل رہا تھا رمضان المبارک تھا صبح کی نماز کے بعد بستر کے ساتھ والے شخص سے کہا میرا نام فلاں ہے یہ میرا شناختی کارڈ اور یہ میرا پتہ ہے اور دیکھ میرا وقت آ گیا ہے اور میرے کلمے کا گواہ رہنا پہلا کلمہ دوسرا تیسرہ اور چھ کلمے پڑھے ایمان مفصل سنایا اور اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ قارئین ! یہ چند واقعات جن میں صرف اور صرف ایک چیز نظر آتی ہے کہ وہ جس کو اپنی رحمت سے ڈھانک لے کیونکہ خاتمہ بالخیر رحمت سے موت کا کلمہ رحمت سے اور جنت رحمت سے ملے گئی ہم کسی کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں وہ اچھا یا برا ہم کسی کے بارے میں فیصلہ کیا کر سکتے ہیں لیکن اللہ پاک کے ہاں ہر چیز کی طاقت اور قدرت ہے میرا رب جس طرح جس کے لئے فیصلہ چاہے کردے اس سے کون پوچھ سکتا ہے ؟ اُن سے کون سوال کر سکتا ہے ؟ لہذا کسی کو بھی گھٹیا نظر سے نہ دیکھیں بس ڈرتے رہیں اور نیکی کرتے رہیں ۔ زاہد نگاہ کم سے کسی کو نہ دیکھ جانے کہ اُس کریم کو تو ہے کہ وہ پسند۔

Saturday, April 25, 2015

ہرن اور جانوروں کے شکاری ضرور پڑھیں۔


حال دل
جو میں نے دیکھا سنا اور سوچا۔
ہرن اور جانوروں کے شکاری ضرور پڑھیں۔
میں اپنے آپ کو صحرا نشین کہوں یا صحرا گرد بہرحال ویرانوں، تنہایؤں اور ان جگہوں پر جہاں انسانی زندگی نہیں ہر طرف ہو کا عالم ہے مجھے کچھ نہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی ان جگہوں سے پیار، محبت، الفت ائر شناسائی ہے، جاتا ہوں اور بہت جاتاہوں۔ صحرا میں کہیں دور ایسی جگہ جہاں انسان نہیں ہوتے تاحد نظر ریت ہی ریت۔۔۔۔۔۔۔ ٹیلے ہی ٹیلے ہاں۔۔۔۔۔۔۔ صدیوں آباد قدرتی تالابوں (ٹوبوں) پر آباد وہ صحرا نشین جو نسل در نسل یہاں رہ رہے ہیں جنہیں ابھی تک جدید معاشرے کی وہ تہذیب، خوشبو، ہوائیں اور بے وفائی نہیں پہنچی۔ ان بادہ نشینوں کے درمیان بیٹھ کر حق اور ہوکی آوازیں جب دل سے نکلتی ہیں تو دل پکار اٹھتا ہے کہ زرہ زرہ اس حق اور آوازدل کا ساتھ دے رہا ہے بلکہ ذرہ ذرہ بھی اس آواز میں میرے ساتھ شامل ہے۔ ویرانوں نے مجھے کچھ پیغام بھی دیئے وہ پیغام پھر میں آبادیوں میں آکر اپنے درس میں بالمشافہ اور غائبانہ یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے بھی پوری دنیا تک پہنچاتا ہوں اور وہ آوازیں لوگ بہت دلچسپی سے سنتے ہیں، ان میں سبق بھی، منزل بھی، راستہ اور عبرت بھی۔۔۔ اگر بات عبرت تک چلی تو ایک بات بتاتا چلوں میں پاکستانی صحراؤں کی ان پٹیوں تک جاتا ہوں جہاں سوائے پرندوں شکاری اور ہرن کے شکاری کے اور کوئی ذی روح جا نہیں سکتا۔ میرے پا شکاریوں کے بے شمار واقعات ہیں ایک نہیں کئی۔ کیونکہ انسان جب شکار کیلئے بندوق تانے رات کے اندھیرے میں طاقتور جیپوں کے ذریعے صحرا میں گردش کر رہا ہوتا ہے، اس کی آنکھوں میں شکار کے نشے کی ایک پٹی ہوئی جو اس کھلتی ہے جب تڑپتا ہو ہرن اس کے سامنے ہوتا ہے اور اس کی باچھیں پھٹی ہوئی ہوتی ہیں اس کی آنکھوں میں چمک ہوتی ہیلیکن اس وقت اس ہرن کی آنکھوں کی چمک زائل ہو چکی ہوتی ہے، جاتی دہ چمک ایک پیغام ضرور دیتی ہے کہ تجھے خیال آیا۔۔۔۔ کہ تو نے صرف یہ شکار ضرورت کیلئے نہیں خواہش کیلئے کیا ہے۔ ہاں! میں شکار کو حرام نہیں کہتا لیکن ضرورت اور خواہش کے شکار میں فرق ہے اور بے شمار شکاری گائیڈ مجھے ایسے ملے، کتنے لوگوں کو فالج ہوا، کتنوں کی ٹانگیں کٹیں، اکثر اندھے ہو جاتے ہیں اور کتنے ایسے تھے جو ارب پتی تھے آج وہ فقیر ہیں۔ مجھے خود شکاریوں نے اور ان کے گائیڈوں نے یہ بات بتائی کہ جب گولی چلتی ہے تو گولی نہیں دیکھتی کہ سامنے ہرنی ہے یا ہرن۔ حاملہ ہے یا بچوں کو دودھ پلانے والی۔ بس گولی چلتی ہے۔۔۔۔۔ اور یہ اس زخمی ہرن پر دوڑتا ہے اور جا کر اس کی گردن پر ذبیح کے نام پر چھری چلاتا ہے لیکن اس اندر سے نکلنے والی آہ جس کے بچے ماں کے دودھ کے پیاسے یا پھر جس کا پیٹ جب چاک کرتے ہیں اندر سے بچے جو ان کے کسی کام کے نہیں ہوتے وہ تڑپتے تڑپتے ان کے سامنے مر جاتے ہیں کیا انہیں کوئی پیغام نہیں ملتا انہیں ملے نہ ملے عرش والے کو ایک پیغام دے کر یہ بیٹھے ان کی بوٹیاں نوش رہے ہوتے ہیں اور ہر بوٹی کا ذرہ ذرہ پکار رہا ہوتا ہے کہ خیال کر تیری قسمت کے فیصلے بدل چکے ہیں،  تیرا نصیب اندھیری رات میں کھو رہا، تیری چاندنی ڈوب گئیہے، تیری دولت چھن گئی ہے، تیری صحت کو زوال آگیا ہے اور ایسا ہوتا ہے میرے قریب کے رشتہ دار جس کو دن رات بس شکار کا شوق تھا، وہ بڑے بڑے افسران کو ہرن کے بچے دینا اور ان کو گفٹ کرنا اپنے لیے اعزاز سمجھتا تھا مجھے پتا آج وہ ایک کرائے کے مکان میں نہایت ذلت کی زندگی گزار رہا بلکہ پچھلے دنوں وہ ایک کرائے کے موٹر سائیل پر جا رہا تھا قرض لینے والوں نے موٹرسائیکل پکڑ لی اسے تھپڑ مارے اور اس کا موٹر سائیکل رکھ لیا بہت لوگوں نے اس کو دیکھااور سنا ایک بار میں نے خود اس کہا بہت اور مشغلے پڑے ہیں یہ ہرن مارنے کا مشغلہ چھوڑدے۔ میرے بات کو نہایت ذلت آمیز مذاق کے ساتھ اس نے ہواؤں میں اڑا دیا۔ میں خاموش ہوگیا۔ لیکن وہ خاموش نہ ہوا وقت کے دھارے بدلتے گئے اور چھاؤں دھوپ میں اور حتیٰ کہ ایسی دھوپ کڑی دھوپ جس دھوپ میں ہرنوں کی آہیں ان کے بچوں کی سسکیاں ان کی پیاسیں، ریت میں تڑپنا، اس کے قہقہے، اس کی ہڈیاں چبانے کی آوازیں، گوشت نوچنے کی کیفیت۔۔۔۔ یہ سب کچھ اسی دھوپ میں شامل تھے لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد اس دھوپ نے دیکھا اور آسمان نے اس کی گواہی دی یہ سسک سسک کر رویا، یہ بلک بلک کر تڑپا لیکن اسے ہرن کی ماں، ہرن کے بچوں اور خود ہرن کی سسکیاں سنائی نہ دیں۔ اے کاش! اس کو پہلے سمجھ آجاتی مجھے کتنے لوگ ایسے ملے جن کی ٹانگیں کٹیں، بظاہر کسی بیماری کے نام پر لیکن بنیاد اس ہرن کی سسکیاں، تڑپ اور چبھن تھی۔ وہ آقاﷺ مدینے والے کا واقعہ یاد آیا کہ کسی نے ہرن کو پکڑ کر درخت کے نیچے باندھا ہو اتھا اور مدینے والےﷺ نے دور سے یا رسول اللہﷺ یا رسول اللہﷺ یا رسول اللہﷺ کی آواز سنی۔ آپﷺ تشریف لے گئے۔ اس واقعہ کا مفہوم ہے اس ہرنی نے عرض کیا آپ ﷺ مجھے چھوڑ دیں میں بچوں کو دودھ پلا کر واپس آجاؤں گی آپ ﷺ نے پوچھا اگر تو واپس نہ آئی تو ہرنی نے کہا مجھے وہ سزا دی جائے جو  ٹیکس والوں کو قیامت کے دن ملے۔ میں جب صحراؤں میں جاتا ہوں، مجھے وہ سزا یاد آجاتی ہے پھر وہاں لوگ مجھے واقعات سناتے ہیں، شکاری لوگ جو مجھے درد بھری کہانیاں سناتے ہیں مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہمیں دوسروں کے انجام سے عبرت آخر کیوں نہیں ہوتی؟ دوسروں کا انجام آخر کیوں بھول جاتے ہیں؟ کیا شوق اور عشق آنکھوں پر پٹی ڈال دیتے ہیں؟ اگر جائز طریقوں سے شوق ہے تو میں اس کو خود روا ہوں لیکن میری درخواست ہے نہ سسکائیں، نہ تڑپائیں کوئی اور جائز شوق پورے کر لیں۔ لیکں۔۔۔! جانوروں کو شکار اور ہرن کے شکار کو شوق نہ بنائیں۔ ورنہ عرشی فیصلے تیرے خلاف ہو جائیں گے، فرشی نظام تجھ پر سمٹ جائیگا۔ دنیا تجھ سے روٹھ جائے گی، عزت کو کھو بیٹھے گا، شہرت اور گمنامی میں اور گمنامی سے ذلت کی طرف تیرے قدم اٹھنا شروع ہو جائیں گے۔آ۔۔۔۔ جلدی کر اپنی سوچوں کو بدل، اپنی سوچوں اور جذبوں کو بدل۔ میں بعض اوقات کسی راستے سے گزر رہا ہوتا ہوں بظاہر کچھ نظر نہیں آتا لیکن مجھے کانوں میں کچھ سسکیاں محسوس ہوتی ہیں میں ادھر اُدھر دیکھتا ہوں لیکن میر وجدان اور میرے دل کی آواز مجھے اس کا جواب دیتی ہے یہ کسی ایسی حاملہ ہرنی کی سسکیاں ہیں یا کسی ایسی دودھ پلانے والی ہرنی کی آہیں ہیں جو نکلی تھی بچوں کو خوراک کیلئے کچھ پانی اور گھاس کھا کر پھر جا کر انہیں دودھ پلاؤں گی اور کسی شکاری کی اندھی گولی کا شکار بن گئی اور وہ تڑپتے تڑپتے اپنی آہوں اور بے زبان دبددعاؤں کے ذریعے اس گولی مارنے اور شوق سے سرشار شخص کا نصیب ڈبو گئی۔ تو کیا خیال ہے۔۔۔!!! نصیب بچانا ہے یا ڈبونا ہے۔۔۔۔۔؟