Showing posts with label جہاد/شہادت. Show all posts
Showing posts with label جہاد/شہادت. Show all posts

Sunday, November 15, 2015

سوار محمد حسین شہید کا مقام و رتبہ اپنی آنکھوں سے دیکھا

سوار محمد حسین شہید کا مقام و رتبہ اپنی آنکھوں سے دیکھا  :۔


اس عظیم شہید کی شہادت کے تین سال بعد کی کہانی سنانے سے پہلے میں ان کی حیات پر ایک نظر ڈالنا چاہوں گا سوا محمد حسین شہید 18 جون 1949 ء کو ڈھوک پیر بخش کے مقام پر پیدا ہوئے تین ستمبر 1966ء کو پاک فوج میں بھرتی ہوئے ۔ پاک فوج میں بھرتی ہونے کے بعد آپ نے ڈرائیونگ میں مہارت حاصل کی ۔ 1971ء کو سوار محمد حسین شہید نشان حیدر شکر گڑھ کے محاذ پر جا کر نوجوانوں کو  اسلحہ اور بارودپہنچا رہے تھے 6 ستمبر 1971 ء کو وہ ایک لڑاکا اور پر خطر مہمات میں ان کے ہمراہ جاتے رہے ۔10 دسمبر 1971ء کو سوار محمد حسین شہید نے دشمن کو ہرا ر خورد گاؤں میں مورچے کھودتے دیکھ کر یونٹ کمانڈر کو اطلاع دی ۔ سوار محمد حسین شہید کی ذاتی کوششوں سے دشمن کے 16 ٹینک تباہ ہوئے دس دسمبر کو ہی چار بجے سوار محمد حسین شہید اپنے ایک رائفل سے دشمن کو ٹھکانے لگاتے ہوئے گولیوں کی بوچھاڑ میں شہید ہوئے میجر امان اللہ کی سفارش پر سوار محمد حسین شہید کو نشان حیدر سے نوازا گیا ۔آپ کی شادی 1971ء میں ہوئی ۔ آپ کی اولاد میں ایک بیٹی اور ایک بیٹا شامل ہے ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سوار محمد حسین شہید نشان حیدر ابھی دیوی ہائی سکول میں زیر تعلیم تھے لیکن ان کے دل میں وطن سے بھر پور محبت کا جزبہ موجود تھا آپ نے پرائمری تک تعلیم جھنگ پیرو میں حاصل کی ۔ آپ گھر میں شلوار قمیض یا تہبند باندھتے تھے جنگ پر جانے سے پہلے آپ کے والد محترم نے آپ کو سفید کپڑوں کا ایک جوڑا دیا ۔سوار محمد حسین شہید اکثر واقعہ کربلا دہرایا کرتے تھے اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی  جرات و شجاعت پر جھوم جھوم جایا کرتے تھے ۔ آپ جب شہید ہوئے تو آپ کی جیب سے سو روپے ایک منی آرڈر اور دو خون آلود خط بر آمد ہوئے جب سوار محمد حسین شہید کی شہادت کی خبر ان کے والد کو دی گئی تو ان کے پہلے الفاظ یہ تھے کہ محمد حسین شہید نے کہیں میدان جنگ میں بزدلی تو نہیں دکھائی میدان جنگ میں جب ان کے ساتھیوں سے پوچھا گیا کہ ان کا جزبہ کیا تھا تو ساتھی بتاتے ہیں کہ سوار محمد حسین شہید کو وطن کی خاطر جان قربان کرنے کا بہت شوق تھا وہ بہت زیادہ جزبے سے لڑ رہے تھے اور ہر وقت اپنے ساتھیوں کا مورال بلند کرتے رہتے تھے رات کو آگ جلا کر سب کو مختلف طریقوں سے خوش کرتے لطیفے سناتے ۔ درج بالا معلومات تو شاید کافی لوگوں کو معلوم ہوں گی مگر اب جو میں بتانے جارہا ہوں وہ بہت کم لوگ جانتے ہیں سوار محمد حسین جب شہید ہوئے تو جنگ کے حالات تھے ان کا جسد خاکی ان کے گاؤں نہیں پہنچایا جا سکتا تھا اس لئے ان کو وہیں محاذ پر ہی امانتا ً دفنا دیا گیا ۔ تقریبا ً ایک ماہ کے بعد ان کے جسدخاکی کو وہاں سے نکال کر ان کے گاؤں میں لایا گیا مگر ان کے دادا نے کسی کو بھی شہید کا دیدار نہ کرنے دیا ۔ تقریبا ً تین سال کے بعد پاک فوج نے آپ کا مزار بنانے کیلئے آپ کا تابوت مبارک قبر سے نکالا تو دادا نے علماء کرام کہ مشورے سے تابوت کو صرف چہرے کے حصے سے کھولا تو ماشاءاللہ اب بھی خون تازہ تھا اور پورا علاقہ خوشبو سے بھر گیا پورے گاؤں نے تسلی سے شہید کا دیدار کیا ۔ شہادت کے تیسرے سال بھی وہ ایسے ہی تھے جیسے ابھی ابھی انہیں شہید کیا گیا ہو بےشک شہید کو موت نہیں ہے میری آنکھوں کے سامنے آج بھی وہ منظر بالکل تازہ ہے ۔

Thursday, October 15, 2015

پاک فوج کے ساتھ اللہ کی مدد کا انوکھا واقعہ

پاک فوج کے ساتھ اللہ کی مدد کا انوکھا واقعہ:۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!میں نے اپنی زندگی کے 32 سال پاک فوج کی خدمت کی ہے ۔ اس دوران بہت سے نشیب و فراز آئے بارڈر پر بہت ہی عجیب و غریب کچھ واقعات بھی ہوئے ۔ آج کل میں ریٹائرڈ فوجی کی زندگی گزار رہا ہوں اور جب کبھی تنہا ٹیرس پر بیٹھ کر چائے کاکپ ہاتھ میں پکڑ کر بہار رفتہ کی یادیں دماغ میں بستی ہیں تو چہرے پر ہلکی سی مسکان اور آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں ۔ فوج میں گزرے صبح و شام کتنے شاندار ہوتے ہیں اس کا مشاہدہ صرف کسی پاک فوج کے جوان کو ہی ہو سکتا ہے ۔سروس کے دوران ایک مرتبہ ہماری ڈیوٹی آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں کے جنگلات میں بارڈر پر لگی ۔ وہاں ہماراا مقابلہ دشمن کے ساتھ ساتھ جان لیوا کھائیوں اور خطرناک جانوروں سے بھی تھا ۔ ان علاقوں میں ایسی ایسی خطرناک کھائیاں ہیں کہ اگر کوئی گیا تو اس کی ہڈی تک ملنا مشکل ہے کیونکہ ہزاروں فٹ گہری نوک دار پتھریلی کھائیوں میں جب کوئی گرتا ہے تو اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں اور جو بچتا ہے وہ درندے نہیں چھوڑتے ۔  ہمیں وہاں آئے چند دن ہی ہوئے تھے کہ ایک مرتبہ ہمار ا ایک جوان پاؤں پھسلنے کی وجہ سے ان ہزاروں فٹ گہری پتھریلی کھائی میں گر گیا اس سے بھی خطرناک بات ہمارے کسی ساتھی کو اس کے گرنے کا علم نہ تھا ۔ جب وہ کافی دیر غیر حاضر رہا تھا تو ساتھیوں کو تشویش ہوئی اس کو ادھر ادھر جنگلوں میں خوب ڈھونڈا گیا مگر وہ نہ ملا تو سمجھا گیا شاید وہ بھاگ گیا ہے ۔ ہمارے آفیسرز کے حکم پر ہمیں کہا گیا کہ آس پاس شہر کے بس اڈوں اور دیگر جگہوں پر جا کر اس کو تلاش کیا جائے ہم نے باہر جانے والے راستوں ، بس اڈووں ہر جگہ چھان ماری مگر ہمیں وہ جوان نہ مالا ۔ سب پریشان تھے کہ اچانک وہ کہاں غائب ہو گیا ؟ ان کی پوسٹ سے لے کر ہیڈ کوارٹر تک رات گئے تک سب ڈھونڈتے رہے مگر وہ نہ ملا تھک ہارکر اس کی تلاش بند کر دی گئی ۔اور صبح اس کے گھر رابطہ کرنے کا سوچ کر سب سو گئے ، اگلی صبح ایک جوان ایسے ہی ٹہل رہا تھا اچانک اس نے ایک کھائی میں دیکھا تو اسے دور نیچے ایک خاکی سی چیز نظر آئی، اس نے فوراً ہم سب کو اطلاع کی ہم سب وہاں پہنچے اور دور بین سے نیچے دیکھا تو ایک جوان پڑا تھا ۔ مختلف تدابیر کر کے گھنٹو ں لگا کر کچھ جوانوں کو نیچے بھیجا گیا ،آدھے دن کی محنت کے بعد وہ جوان بڑی مشکل سے اوپر لے کر آئے تو سب حیران رہ گئے کہ ہزاروں فٹ بلندی سے پتھروں سے ٹکرا ٹکرا کےنیچے گرنے والے کا جسم بالکل صحیح سلامت تھا اتنے خطرناک جنگل میں جہاں بھیڑیے  ،تیندوے ، سانپ ،بچھو اور پتہ نہیں کس کس قسم کے جانور ہیں ۔انہوں نے اس کو چھوا تک نہیں، اور اتنی شدید سردی کہ انسان دو منٹ باہر بیٹھ جائے تو اس کا خون جم جائے، اور وہ جوان آدھا دن اور ساری رات کھلے آسمان کے بیچے پڑا رہا ، اس کا جسم بالکل نارمل درجہ حرات میں تھا ۔سانس چل رہا تھا ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسے سی ایم ایچ راولپنڈی پہنچایا گیا ، تھوڑی سی ٹریٹمنٹ کے بعد اسے ہوش آ گیا ، اس کے جسم کی چند ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں ، ایک سال علاج کے بعد وہ بالکل تندرست ہو گیا اور یونٹ میں حاضر ہو گیا ۔

Tuesday, September 29, 2015

چیتھڑوں میں بٹا جسم بوقت تدفین سلامت

چیتھڑوں میں بٹا جسم بوقت تدفین سلامت:۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!اللہ پاک آپ کو آپ کی پوری ٹیم کو دین و دنیا کی تمام کامیابیاں عطا فرمائے ۔ آمین! محترم قارئین ! بے شک اللہ پاک کی راہ میں لڑنے ، مرنے اور مارنے والے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ۔ آج ایک ایسے ہی واقعہ کیلئے عاجزہ حاضرہوئی ہے ۔ میری دوست کے ایک بھائی سیاچن کے محاذ پر شہید ہو چکے ہیں ۔ اللہ پاک کے اس بندے کو شہید ہونے کی تڑپ بھی کچھ زیادہ ہی تھی ۔ اللہ پاک اپنے عاشقوں کی ایسی تڑپ کا اجر ضرور دیتا ہے جیسے کہ انہیں بھی ملا ۔ وہ اپنی شہادت سے پہلے ایک دن ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم لوگ جب سیاچن کی برف پوش پہاڑی پر کیمپ لگائے ہوئے تھے تو رات کی تاریکی میں دور ایک پہاڑی پر ہمیں بہت پیاری روشنی نظر آئی جیسے کہ اس جگہ پر سو واٹ کا کوئی بلب جل رہا ہو ۔ پہلے تو ہم نے توجہ نہ دی مگر جب آپس میں فوجیوں میں اس بات کا ذکر ہوا تو سب نے کہا کہ یہاں اس ویران جگہ میں ایسے کون لوگ رہتے ہیں اور ہم میں سے کسی کے علم میں بھی نہیں ؟ اسی شوق و تجسس میں رات گزری اور اگلے دن ہمارے افسر صاحب تین چار فوجیوں کو لے کر اس جگہ پر ( جہاں روشنی نظر آتی تھی) پہنچنے کیلئے چل پڑے کچھ سفر طے کر کے ہم جب اس جگہ پہنچے تو اللہ پاک کی قدرت کا عجیب نظارہ دیکھ کر حیران رہ گئے کیونکہ اس جگہ بڑے پتھر کی اوٹ میں ایک شہید فوجی کی لاش پڑی تھی جس پر ایک ہی زخم یعنی گولی کا نشان تھا اور اس نشان کے علاوہ وہ شہید جسم صاف اور سلامت نظر آتا تھا ۔ اس کا چہرہ صاف ، پر سکون اور پر نور نظر آتا تھا اور لباس بھی سلامت ، اس کی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی کی سوئیاں رکی ہوئی تھیں ۔ اور ساتھ تاریخ بھی لکھی ہوئی تھی۔ جب اس کی شہادت کا سن چیک کیا گیا تو پتہ چلا کہ اس کی شہادت کا وقت آج سے تقریباً پچاس سال پہلے کا ہے۔ ہم لوگ بہت احترام کے ساتھ اس کی لاش اٹھا لائے اور اس کے لواحقین کو تلاش کیا اور جب ان تک پہنچے تو پتہ چلا کہ اس مجاہد کے دو بیٹے جو اس کی شہادت کے وقت کم عمر تھے اب اپنے پوتوں ، نواسوں کے دادا ، نانا بھی بن چکے ہیں ۔ سبحان اللہ ! اللہ پاک نے پاک وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جوان کی لاش کو کس طرح اتنے سال سردی ، گرمی ، دھوپ ، بارش میں محفوظ رکھا بلکہ راتوں کو اس کو روشن بھی رکھا تا کہ کسی موذی جانور سے بھی نقصان نہ ہو ۔ سبحان اللہ تیری شان مولا ! اسی طرح کا ایک اور واقعہ میرے کزن نے سنایا جو کہ خود پاک آرمی کے جوان ہیں ، وہ بتاتے ہیں کہ ہمارے ایک فوجی جوا ن شہادت کے رتبے پر فائز ہوا تو اس کے جسم کا حال یہ تھا کہ لاش لے جانے کے قابل نہ تھی ۔ کیونکہ جسم کے کچھ چیٹھڑے ہی باقی بچے تھے۔ وہ شہید اپنی بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا ، بہر حال اس کے جسم کے بچے کھچے ٹکڑے اکٹھے کیے اور مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ اس کے جسم کی پاک باقیات تابوت میں ڈال کر اس کے گھر پہنچائی گئیں ۔ اب اس کی ماں اور بہنیں رو رو کر ہم سے التجا کرتی تھیں کہ ہمیں اس کا آخری دیدار کر وا دوان کے حد درجہ اصرار پر ہم نے پریشان ہو کر اپنے افسر صاحب کی طرف دیکھا کہ اب ان ماں بہنوں کو کیا بتائیں اور کیا دکھائیں کہ اپنے پیارے کے جسم کا یہ حال دیکھ کر وہ اور بھی دکھ سے نڈھال ہو جائیں گی۔ ہمارے افسر صاحب نے جب ان کی تڑپ دیکھی تو ہمیں مجبوراً دیدار کرانے کا اشارہ دے دیا اور آخر بے بس ہار کر میں نے چہرے کی جگہ سے تابوت ہٹا دیا مگر جب میں نے تابوت ہٹا یا تو اللہ پاک کی قدرت یوں دیکھی کہ اس پاک فوج کے شہید کا چہرہ جو دراصل چہرے کا ایک حصہ بھی نہ تھا ۔ چند گوشت کی بوٹیاں تھیں ۔ اللہ پاک نے اس کی ماں بہنوں کی خوشی کی خاطر صحیح سلامت کر دیا ۔ میں نے جب تابوت ہٹایا تو یہ منظر دیکھ کر میں کافی دیر تک سکتے کی حالت میں یہ منظر دیکھتا رہا ۔ پھر اس کی ماں بہنوں کے علاوہ تمام لوگوں نے جی بھر کر اس عظیم شہید کا دیدار کیا سبحان اللہ۔


 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر38


Friday, August 21, 2015

پاک فوج کے شہید جوان کی نرالی شان

پاک فوج کے شہید جون کی نرالی شان :۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم ! آپ نے گزشتہ شمارے میں لکھا تھا کہ اگر آپ کے پاس پاک فوج کے حوالے سے کوئی واقعہ ہو تو ضرور لکھیں تو اس حوالے سے میرے پاس ایک واقعہ ہے جو مجھے ایک ریٹائر ڈ فوجی نے باتوں باتوں میں میری دکان پر بیٹھ کر سنایا تھا ۔ مجھے افسوس یہ ہے کہ میں اس ریٹائرڈ فوجی کا نام نہ پوچھ سکا ۔ اب یہ واقعہ اسی ریٹائر ڈ فوجی کی زبانی سنیے:۔
پاک فوج میں نوکری کرنے کا الگ ہی مزہ اور جزبہ ہوتا ہے ۔ گھر والوں سے مہینوں دور رہنے کے باوجود پاک فوج کا جوان جزبہ حب الوطنی سے سر شار بار ڈر پر دشمن کی طرف سینہ کر کے سارا دن اور ساری رات کھڑا رہتا ہے ۔ اس جوان کو اپنے بہن بھائیوں ، ماں باپ، بیوی بچوں ، اور اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز اپنے ملک کی سرحد کی حفاظت ہوتی ہے ۔ میں پاک فوج میں ایک سپاہی کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتا رہا ہوں ۔ اب میں ایک ریٹائرڈ فوجی کی حیثیت سے زندگی کے دن رات کاٹ رہا ہوں مگر اب بھی جب مجھے پاک فوج میں گزری سہانی یادیں آتی ہیں تو میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ۔ میرے سارے دور میں ایک واقعہ ایسا ہوا جس نے میرے جزبے کو اور زیادہ بڑھا دیا میں ساری زندگی اللہ پاک سے بارڈر پر دشمن سے لڑتے ہوئے شہادت کی موت مانگتا رہا مگر شاید میرے اللہ پاک کو ایسا منظور نہ تھا ۔ یہ 1984ء کا واقعہ ہے جب انڈیا میں اندرا گاندھی کا قتل ہوا تھا ، اندرا گاندھیکے قتل کے بعد بارڈر پر حالات بہت ہی  کشیدہ  ہو گئے ، ایسے معلوم ہوتا تھا کہ ابھی انڈیا نے حملہ کیا کہ کیا  ۔ میری ڈیوٹی ان دنوں سیالکوٹ سیکٹر پر  تھی ، ہمیں حکم ملا کہ جلد از جلد بارڈر کے قریب مورچہ کھودیں ۔ ہماری پوری ٹیم پورے جزبے کیساتھ مورچے کھود رہی تھی ، میں بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مصروف تھا ۔ ہم صبح سے مورچے کھود رہے تھے ، اس دوران ہم نے نماز ظہر اداکی کھانا کھایا ، ہم سارا دن دشمن سے لڑائی کی باتیں کر رہے تھے اور اپنے وطن کی ایک ایک انچ کی حفاظت کی قسمیں کھا رہے تھے ، ہم میں ایک ایسے سپاہی بھی موجود تھے جنہوں نے 1965 ء اور 1971 ء کی جنگیں لڑی تھیں ، وہ ہمیں دشمن کی بزدلی کی باتیں سنا رہے تھے ۔ مورچے  کھودتے کھودتے مجھے محسوس ہوا کہ کیسے مٹی میں کسی کی ٹانگ ہے ۔ میں نے اوزار سائیڈ پر رکھے اور ہاتھ سے مٹی ہٹانی شروع کر دی۔ میرے ساتھیوں نے بھی اس کام میں میری مدد کی ۔ کچھ ہی دیر میں ہم نے مٹی میں  پاک فوج کے ایک شہید جوان کو نکالا جو کہ بالکل صحیح حالت میں تھا ، خاکی وردی بھی بالکل صحیح حالتمیں تھی ، اس کی گردن پر ایک گولی کا نشان تھا ، اس کے جسم کا درجہ حرارت بھی نارمل تھا اور وہ ایسے لیٹا تھا جیساکہ ابھی ابھی سویا ہے ۔ ہم نے جب پاک فوج کے شہید جوان کی ایسی شان دیکھی تو ہمارے منہ سے تکبیر کےنعرے نکلنا شروع ہو گئے اور نہ جانے کب تک ہم ایسے ہی نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعرے لگاتے رہے ، ہماری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ ہم نے بڑے ادب سے اس کا جسد خاکی مورچے سے نکال کر ہیڈ کوارٹر میں اطلاع کی ۔ ہمارے افسران آئے انہوں نے اس شہید کا ریکارڈ چیک کیا تو معلوم ہوا کہ 1965 ء کی جنگ میں یہ جوان لاپتہ ہو گیا تھا ۔ اس کے گھر والوں کو اطلاع دی ، اس کا جسد خاکی لے کر جب  جا رہے تھے میں بھی ان کے ساتھ اس کے گاؤں گیا اور اس کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا ۔ آج بھی جب اس شہید کا جسد خاکی میری آنکھوں کے سامنے آتا ہے تو میری آنکھیں اس حسرت سے بھیگ جاتی ہیں کہ اے کاش میں بھی اپنے وشن کی حفاظت کرتا کرتا اس دنیا فانی سے رخصت ہو کر ہمیشہ کیلئے امر ہو جاتا۔
 ماہنامہ عبقری "اگست 2015ء شمارہ نمبر 110" صفحہ نمبر38