میں نے ایک جگہ کمیٹی ڈالی ہوئی تھی اور ان دنوں مجھے پیسوں کی سخت ضرورت تھی اور مجھے کمیٹی لازمی چاہیے تھی‘ میرے دکان مالک نے مجھے کہا کہ آج کمیٹی نکالنے جانا ہے‘ میں اس کے ساتھ چل پڑا‘ راستے میں درودشریف پڑھااور اس کے بعد سورۂ کوثر پڑھنا شروع کردی‘ کمیٹی والے کے پاس پہنچ گئے‘ وہاں بھی سورۂ کوثر پڑھتا رہا۔ کمیٹی والے نے مجھے کہا کہ ایک پرچی آپ نے اٹھانی ہے اور ایک کسی اور نے‘ میں نے بسم اللہ کے بعد سورۂ کوثر پڑھتے ہوئے ایک پرچی اٹھائی‘ تومیں حیران رہ گیا کہ میرا نام میرے سامنے لکھا ہوا تھا‘ وہ کمیٹی والا کہنےلگا ’’یار کیا بات ہے‘ کمال کردیا آپ نے‘ آپ ویسے پڑھ کیا رہے ہو؟ میں نے کہا: جناب یہ توصرف سورۂ کوثر کا کمال ہے۔
Showing posts with label قرآن. Show all posts
Showing posts with label قرآن. Show all posts
Thursday, January 4, 2018
ڈاکٹر سے مایوس ایک ماں کا خوشی بھرا خط
وظیفہ نے کمال کردکھایا‘ آپ بھی پڑھیں اور مایوسی کو بالکل بھول جائیں ہر انسان کی زندگی میں کوئی نہ کوئی پریشانی ہوتی ہے کوئی کم تو کوئی زیادہ اگر خدا پر اور اس بات پر پورا یقین ہوکہ اللہ تعالیٰ ہماری اس پریشانی کو دور کرے گا تو یقین مانیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کرم سے اس کی پریشانی ختم کرتے ہیں۔ آج جو میں آپ کو بتانے والی ہوں اسے سن کر دکھ بھی ہوگا اور خوشی بھی۔ دکھ اس بات کا ہے جن معالجین کو ہم لوگ سب کچھ سمجھتے ہیں جیسے کہ ہر بیماری کا علاج ہی ان کے پاس ہے ہر مریض جو یہ سمجھتا ہے کہ اس کیلئے ڈاکٹر ہی سب کچھ ہے تو یہ ان کیلئے میرا پیغام ہے کہ جو مایوس ہو کسی بھی وجہ سے کسی بھی بیماری کی وج سے تو ان کیلئے حیرت انگیز وظیفہ ہے
اس وظیفہ کا مجھے میرے استاد صاحب نے بتایا استاد صاحب کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور کرم سے نوازے میں حاملہ تھی شروع کے دن تھے‘ میں بہت بیمار ہوگئی تھی الٹیاں بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ دو مہینے تک میری حالت بہت خراب رہی‘ مجھے کراچی لے جایا گیا تو وہاں ڈاکٹر نے کہاکہ اس بچے کا بچنا بہت مشکل ہے آپ اسے ضائع کروا دو۔ دوسرا مہینہ تھا مجھے کچھ ہوش نہیں تھا کہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے ہر ڈاکٹر کو دکھادیا اس وقت جس نے بھی مجھے دیکھا کہا کہ اس لڑکی کو بالکل ختم کرکے ا ٓپ ہمارے پاس لائے ہیں میری امی بہت پریشان ہوگئیں۔ ایک طرف میں اس حالت میں دوسری طرف میرے بچے کیلئے سب نے کہاکہ اسے ضائع کروادو۔ میں نے خدا سے رو رو کر اولاد مانگی تھی پھر میں وظیفہ پڑھتی‘ میری امی پڑھتی‘ اس طرح بہت پریشانی اور دکھی وقت گزر گیا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اور میرے بچے کو ایک نئی زندگی دی۔ ایک مہینہ سکون اور خوشی کا گزار‘ میں چیک اپ کیلئے ڈاکٹر کے پاس گئی اس نے میرا الٹراسائونڈ کیا اور مجھے کہاکہ میں تمہیں ایک بات کہوں پریشان مت ہونا میں نے کہا جی کہیں‘ کہاں کہ آپ بچے کے سر میں پانی ہے اور اگر یہ بڑھ گیا تو خطرہ ہے کہ بچہ صحیح نہیں ہوگا۔ آپ ایک مہینے بعد آنا پھر دیکھتے ہیں کم ہوا ہے یا نہیں اس کا کوئی علاج بھی نہیں میں حد سے زیادہ پریشان ہوگئی کسی بھی چیز میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ میں کراچی گئی وہاں دکھایا تو وہاں کی بہت بڑی ڈاکٹر تھیں انہوں نے تو ایک نئی بات کی کہ دماغ میں ایک ہڈی چھوٹی ایک بڑی ہے‘ آپ ایک مہینے بعد آنا پھر بتائیں گے کیا کرنا ہے۔ اس پریشانی کے ساتھ میں نے بڑی مشکل سے ایک مہینہ گزارا اور پھر سے کراچی گئی‘ دوبارہ الٹرا سائونڈ کروایا۔ پھر ڈاکٹر نے کہاکہ آپ اس بچے کوضائع کروادیں یہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ میں نے کہا نہیں میں کسی اور کو دکھاتی ہوں‘ وہاں میں نے کئی بڑی ڈاکٹروں کو دکھایا کسی نے کہا دل میں سوراخ ہے‘ کسی نے کہا دماغ میں پانی ہے‘ کسی نے کچھ کہا اور کسی نے کچھ کہا۔ مجھے ہسپتال میں ایڈمٹ کرلیا‘ میں بہت پریشان تھی میری امی بھی پریشان ہوگئیں۔ میں نے ڈاکٹر سے کہا مجھے ایک بار گھر جانا ہے میں کل آئوں گی‘ بہت مشکل سے میں گھر آئی‘ رو رو کر میرا برا حال ہوگیا کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں۔ میری کزن بھی ڈاکٹر ہیں میں نے ان سے پوچھا سب نے یہی بات کہی۔ میں بہت مایوس ہوگئی تھی سب گھر والوں نے مجھے سمجھایا کہ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں مان لو مگر میں نے کہانہیں ایک بار میں اپنی کوشش کرنا چاہتی ہوں۔ میں گھر آگئی اور میں نے استاد صاحب سے پوچھا (مجھے جب بھی پریشانی ہوتی ہے میں اپنے استاد صاحب سے پوچھتی ہوں وہ مجھے بہت اچھا مشورہ دیتے ہیں اور بہت اچھا وظیفہ بتاتے ہیں) انہوں نے مجھے کہا آپ پریشان مت ہو دل سے اللہ پر یقین کرکے یہ وظیفہ جتنا ہوسکے پڑھو۔ میں نے یہ وظیفہ پڑھا سوا لاکھ مرتبہ پڑھا‘ بہت دعا کی پھر کسی نے کہا حیدرآباد کی ایک بڑی ڈاکٹر ہے اسے دکھائو۔ میں وہاں گئی بہت مشکل سے اس کا ٹائم ملا انہوں نے میری رپورٹ دیکھیں اور میری امی اور میرے شوہر کو بلایا اور کہا آپ لوگ اس بات کو سمجھ لیں کہ یہ بچہ اگر پیدا بھی ہوگیا تب بھی یہ عام بچوں کی طرح نارمل نہیں ہوگا باقی آپ لوگوں کی مرضی ہے۔ آٹھواں مہینہ تھا میں بہت زیادہ پریشان ہوگئی پھر وہاں ایک اور ڈاکٹر کو دکھایا بہت زیادہ مشہور اور اچھی ڈاکٹر ہے۔ اس نے میری رپورٹ دیکھی اور ٹیبل پر میری فائل پھینکی اور کہا آپ کیا دکھانے آئی ہیں؟ آپ اپنے شوہر سے پوچھ لیں کہ کب آنا ہے‘ آجانا ہم بچہ ضائع کردیں گے۔ ڈاکٹر کو امی نے کہاکہ ہم لوگ وظیفہ کررہے ہیں دعا کریں گے سب ٹھیک ہوجائے گا تو وہ ہنسی اور کہا جو کمی ہے وہ رہے گی وہ ختم نہیں ہوگی چاہے کچھ بھی کرلیں۔ میں پھر سے سوچ میں پڑ گئی نہ بھوک لگتی تھی نہ نیند آتی تھی‘ دن رات دکھ اور سوچ کہ میرا کیا ہوگا۔ میرے سسرال والوں نے اور میرے شوہر نے ہمت دی اور کہا تم اللہ پر یقین کرو اور بس دعا کرو۔ میں نے دوبارہ استاد صاحب سے بات کی تو انہوں نے کہا یہ وظیفہ پڑھتی رہو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ میں نے اور اس نے واپس یہ وظیفہ پڑھوایا سوا لاکھ پڑھ کر ہم لوگ نواب شاہ گئے وہاں دکھایا تو ڈاکٹر نے کہا سب کچھ بالکل ٹھیک ہے اور بچہ بھی ماشاء اللہ بالکل ٹھیک ہے۔ مجھے بے حد خوشی ہوئی یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب ٹھیک ہوگیا پھر تسلی کیلئے ہم لوگ حیدر آباد گئے وہاں دکھایا تو ڈاکٹر نے رپورٹ دیکھی تو کہا یہ سب آپ کو کس نے کہا بچہ تو بالکل ٹھیک ہے اس میں تو کوئی بھی کمی نہیں ہے۔ ہم سب لوگ بہت خوش تھے‘ یہ سب کچھ وظیفہ کی برکت سے ہوا تھا اتنا بڑا کرشمہ کہ کسی کو یقین نہیں تھا کہ ایسا ہوگا۔ اگراللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین رکھ کر دل سے دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ دعا ضرور قبول کرتا ہے۔ ہم لوگ ڈاکٹروں کو پیسے بھی دیتے ہیں اور اتنے پریشان بھی ہوتے ہیں اور کچھ ملتا بھی نہیں۔ اگر اتنے پریشان ہوکر اللہ سے مانگیں تو کبھی مایوس نہیں ہوں گے‘ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرا پیارا سا بیٹا ہوا اور ہم سب بہت خوش ہوئے۔ استاد صاحب نے اس کا نام ’’محمد مکی‘‘ رکھا‘ بہت ہی پیارا نام اور ماشاء اللہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے بہت ہی عقلمند اور پیارا بچہ ہے‘ تین ماہ کا بچہ اللہ اللہ بولنے لگ گیا‘ یہ سب کچھ دعا اور وظیفہ سے ہوا ہے۔ بے شک اللہ کے کلام میں بہت برکت ہے۔ یہ سارا واقعہ بتانے کا صرف یہ مقصد تھا کہ ہرچیز اور ہر بیماری کا علاج اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے تو پھر ہم کیوں معمولی معمولی بات کیلئے معالجین کے پاس جاتے ہیں‘ بے شک علاج سنت رسول ﷺ ہے مگر کچھ کوشش انسان کو بھی کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ قادر ہے‘ اپنی قدرت سے بڑی سے بڑی مشکل آسان کرتا ہے۔
Wednesday, January 3, 2018
آیت پڑھی اور غصہ ختم
واللہ اشدباسا واشد تنکیلا والی آیت میں نے جہاں بھی پڑھی‘ وہاں امن وامان ہوگیا اور لڑائی نہیں ہوتی۔ جس کالونی میں میں رہتاہوں وہاں جٹ برادری اور بلوچ برادری میں الیکشن کے دوران لڑائی ہوگئی‘ سب عوام پریشان کیونکہ یہاں پہلے بھی دو قتل ہوچکے تھے‘ وہاں میں نے سانس روک کر تین مرتبہ درج بالا آیت پڑھی‘ محترم! ایک سائیڈ پر جٹ برادری اورایک سائیڈ پر بلوچ برادری دونوں کے ہاتھ میں اسلحہ‘ کلہاڑی‘ ڈنڈے‘ سوٹے‘ بس میرا یہ آیت پڑھ کر پھونکنا تھا کہ اچانک لڑائی ہوتے ہوتے نامعلوم کیا ہوا ان کے بڑے اکٹھے ہوئے اور دونوں پارٹیاں آرام سےواپس چلی گئیں اور لڑائی ہوتے ہوتے رہ گئی‘ اگراس وقت وہاں لڑائی ہوجاتی تو بہت خون خرابہ ہونا تھا۔ اس آیت نے تمام لوگوں کے غصہ پر ٹھنڈ ڈال دی۔
Wednesday, November 4, 2015
حفاظت قرآن کا سچا ناقابل فراموش واقعہ
حفاظت قرآن کا سچا
ناقابل فراموش واقعہ :۔
محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!2010ء سے عبقری کو بہت
شوق سے پڑھ رہی ہوں ۔ پہلے پہل میں بیٹی کے ہاں جاتی تو وہاں پڑھتی مگر اب میں نے
اپنے گھر میں لگوا لیا ہے ۔ بڑی دیر سے مجھے ایک واقعہ ، قرآن کی حفاظت خود اللہ
کرتے ہیں ، یا د تھا ۔ کہ عبقری میں لکھوں مگر پھر اپنی تشہیر کی وجہ سے رک جاتی
لیکن اب بار بار یہ پڑھا کہ اپنے بیتے واقعات طبی یا روحانی عبقری میں لکھیں نوک
پلک ہم خود سنوار لیں گے تو میرے میں بھی ہمت پیدا ہوئی اور آج قلم اٹھاہی لیا۔ یہ
میری زندگی کا جیتا جاگتا واقعہ ہے۔یہ 1945ء کی بات ہے ہم اس وقت پنجاب انڈیا
جالندھر کے ایک بہت ہی خوبصورت گاؤں میں رہتے تھے، یہ میرے ننھیال کا گاؤں تھا
چونکہ میرے والدین بچپن ہی میں وفات پاگئے تھے تو میں اپنی نانی کے ہاں رہتی تھی ،
ان دنوں ساون بھادوں کا موسم تھا ۔ پیشن گوئی ہوئی کہ اب کی بار بہت زیادہ بارشیں
ہوں گی اور ستر گھنٹے تک لگا تار بارش ہو سکتی ہے ۔ لوگ اس خبر کو معمولی سمجھ کر
اپنے کاموں میں لگے رہے ۔ برسات عروج پر تھی کہ اچانک ایک دن صبح اذان فجر کے بعد
ہلکی بوند اباندی شروع ہوئی اور اسی طر مسلسل تین دن تین راتیں ہوتی رہی تو ادھر
ادھر سے وقتاً فوقتاً خبریں آتی رہیں کہ فلاں جگہ مکان زمیں بوس ہو گیا، فلاں جگہ
دیوار گر گئی فلاں کی چھت گر گئی ، مزید ایک دن کے بعد لوگوں کے کچے مکان تو گر ہی
رہے تھے پکے مکانوں کے گرنے کی خبریں بھی آنے لگیں ، لوگ نفل ، اذان ، دعائیں،
توبہ مگر اس وقت ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے توبہ کا دروازہ ہی بند ہو چکا ہے ۔ اتنے
میں اچانک ہمارے گھر میں دراڑ پڑتی نظر آئی تو ہم سب بھاگ کر گلی میں چلے گئے اور
دیکھتے ہی دیکھتے پل بھر میں مکان کا پچھلا حصہ تمام کا تمام باہر کھیت میں گر گیا
آگے کا حصہ جسے وہ لوگ دلان بولتے تھے بہت بڑا تھا وہ رہ گیا مزید چند گھنٹوں کے
بعد بارش بند ہوئی تو ہم لوگ دیکھ کر رونے لگے اللہ کا شکر ہے کہ سب کی جانیں بچ
گئیں مگر اتنا صدمہ تھا کہ ایک پل میں محتاج ہو گئے نہ آٹا ، نہ گندم ، نہ چاول ،
نہ کچھ کھانے کی چیز سب کچھ نیچے دب چکا تھا۔ اب مرحلہ تھا کہ ملبہ کس طرح اٹھایا
جائے تاکہ نیچے نقدی ، اور زیورات وغیرہ نکالے جا سکیں ۔ مگر ایک مسئلہ درپیش تھا
وہ یہ کہ ڈبل سٹوری مکان تھا مٹی کی دیوار کچی تھی نیچے سے لے کر اوپر تک کا تمام
کا تمام گھر گر چکا تھا مگر ایک دیوار ڈبل سٹوری کچی مٹی کی گیلی بالکل سیدھی کھڑی
تھی ۔ اس کے اوپر ایک الماری لگی تھی ۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ یہ دیوار کس طرح گرائی
جائے تاکہ اگلے حصہ پر اثر نہ پڑے ، غرض وہاں جتنے لوگ کھڑے تھے اپنی تدبیر یں لڑا
رہے تھے اتنے میں ماموں جان اس میں میرا قرآن پاک ہے جو میں اوپر جا کر ہر روز پڑھتی
تھی اور وہاں رکھ دیتی تھی۔ ماموں جان یہ قرآن پاک میرے ابو جان نے دہلی سے لا کر
دیا تھا اور مجھے قرآن پاک ختم کرنے پر میرے ابو جان نےمجھے تحفہ دیا تھا ۔ بس پھر
کیا تھا ماموں جان نے جا کر سب کو یہ بات بتا دی۔ لوگ جوق در جوق دیکھنے آنے لگے ۔ سارا
گاؤں بلکہ ارد گرد کے گاؤں کے لوگ آنے لگے اور اللہ پاک کی شان ، قرآن کی عظمت کا
بیان ہر زبان پر تھا اور لوگ حیران تھے اکیلی کچی دیوار نیچے سے لے کر اوپر تک
کھڑی رہنا یہ معجزہ ہے ، اب اس کو جس طرح ہو سکے بچایا جائے ۔ اب ایک تدبیر سوجی
گئی اور دو لمبی سیڑھیوں کو منگوا کر ان کو آپس میں رسیوں میں باندھا گیا اور
دیوار کے ساتھ کھڑا کر دیا گیا اب مسئلہ یہ تھا کہ بوجھ سے دیوار گر نہ جائے اور
اسی طرح دو تین مزید گھنٹے گزر گئے کوئی بھی چڑھنے کی ہمت نہ کر رہا تھا ۔ پھر
اچانک ایک نوجوان نکلا اور اللہ پاک کا نام لے کر چڑھنے لگا، لوگوں نے دعائیں شروع
کر دیں کہ یااللہ رحم کرم کر یہ لڑکا قرآن پاک اتارنے جا رہا ہے ، بس دیکھتے ہی
دیکھتے وہ اوپر گیا اور الماری بڑی احتیاط سے کھولی اور میرا پیار اقرآن سر پر
رکھا اور آہستہ آہستہ نیچے آ گیا اور لوگوں نے بھاگ کر خوشی سے اسے گلے لگا لیا ،
ہر بندہ قرآن مجید کو چوم رہا تھا اور ایک دوسرے کو دے رہا تھا ، پورا گاؤں قرآن
پاک کی عظمت کو بیان کر رہا تھا اور اللہ پاک کا شکر ادا کر رہا تھا ، ابھی سب لوگ
گھروں کو بھی نہ گئے تھے میں بھی اپنے ابو جان کی واحد نشانی کو لے کر اپنے رشتہ
دار کے گھر پہنچی بھی نہ تھی کہ ایک دھڑام سے آواز آئی اور وہ دیوار خود ہی نیچے
گر گئی ، سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! کی گونج سارا گاؤں یک زبان ہو کر بو ل رہا تھا
۔ اللہ پاک کی قدرت کے گن گا رہا تھا تو قارئین ! یہ ایک عین سچا واقعہ ہے میری
عمر اس وقت 14 سال تھی ، اور اب میں ایک بوڑھی عورت ہوں ۔
Subscribe to:
Posts (Atom)




