Showing posts with label گناہوں کے اثرات. Show all posts
Showing posts with label گناہوں کے اثرات. Show all posts

Sunday, November 13, 2016

اُسے اعزاز کے ساتھ مرنا چاہیے


اُسے اعزاز کے ساتھ مرنا چاہیے 
یہ ایک قانون قدرت ہے‘ اٹل حقیقت ہے کہ ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اس وقت جتنے بھی زندہ انسان ہیں سب نے مرجانا ہے اور قبر میں منوں مٹی کے نیچے دب جانا ہے مگر انسان اس حقیقت کو ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہوتا۔ اگر تیار ہوتا ہے تو اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ اس زندگی میں انسان کی اکڑ‘ تکبر‘ اپنے کو برتر اور دوسرےکو حقیر سمجھنے کی عادت ختم نہیں ہوتی۔ انسان اتنا غافل ہوجاتا ہے کہ مرنے کیلئے بھی ایسا طریقہ چاہتا ہے جو کہ اس کیلئے باعث اعزاز ہو اور مرنے پر بھی لوگ ایسی بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ جہاں ان کی امارت کی جھلک نظر آئے۔ ہاشمی صاحب نے واقعہ سنایا کہ ان کے والد سی ایم ایچ لاہور میں داخل تھے‘ وہاں ایک بہت بڑے عہدہ دار بھی داخل تھے‘ ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق کینسر آخری مراحل میں تھا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ مریض چند دنوں کا مہمان ہے۔ اس کو گھر لے جائیں‘ ان کے اہل خانہ بضد تھے کہ نہیں موت

Thursday, December 17, 2015

باپ کا کہنا نہ ماننے کی سزا آج بھی بھگت رہی ہوں

باپ کا کہنا نہ ماننے کی سزا آج بھی بھگت رہی ہوں :۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!سمجھ میں نہیں آرہا ہے ، کہ اپنے مسائل آپ کے ساتھ کیسے شیئر کروں ؟ عبقری میں دو سال سے پڑھ رہی ہوں اور آپ کا بہت بہت شکریہ کے آپ کی وجہ سے بہت سارے لوگوں کا بھلا ہو رہا ہے کسی دکھی انسان کا مسئلہ حل ہوتے ہوئے پڑھ کر بہت خوشی محسوس ہوتی ہے ۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو لمبی عمر اور صحت سے نوازے آمین!میرے لئے عبقری اندھیرے میں کسی روشنی سے کم نہیں ۔ میری شادی ہمارے قریبی رشتہ دار کے گھر ہوئی شادی سے پہلے یہ لوگ میرے ساتھ بہت پیار کرتے تھے حالانکہ میرے امی ابو نے مجھے بہت منع کیا کہ بیٹا یہاں شادی نہ کرو، ہیں تو یہ ہمارے رشتہ دار مگر یہ خود ان کے شوہر اور بیٹیاں تمہیں بہت تنگ کریں گے ۔ اور میں یہی جواب دیتی کہ میرے ساتھ یہ لوگ بہت پیار کرتے ہیں ۔ شادی کے بعد بھی کریں گے اور میں ان کی کسی بات پر کان نہ دھرتی ۔ کیونکہ میرے سر پر نام نہاد عشق کا بھوت سوار تھا اور یوں میری مرضی اور ضد کے دیکھتے ہوئے میرے ماں باپ نے دل پر پتھر رکھ کر میری شادی وہاں کر دی شادی والے دن ہی لڑائی ہو گئی ۔میرے سسر نے کہا کہ میں 300 افراد پر مشتمل بارات لاؤں گا ۔ میرے والد نے کہا کہ ہم غریب لوگ ہیں میں صرف ڈیڑھ سو افراد کو کھانا کھلا سکتا ہوں ۔ آگے تمہاری مرضی خیر بارات آئی اور میرے سسر نے بارات والے دن کھانا ہمارے گھر کا نہیں کھایا بلکہ بازار سے کھانا منگوا کر کھایا ۔سب نے بہت منت سماجت کی لیکن اس نے نہیں کھایا ۔ آج میری شادی کو 11 سال ہو گئے ہیں وہ جو شادی کے پہلے دن سے لڑائی شروع ہوئی تھی اوروہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔ میری ٹینشن میں میری شادی کے ٹھیک ایک سال بعد میرے ابو کی اچانک طبیعت خراب ہوئی اور چند ماہ بیمار رہنے کے بعد میرے ابو فوت ہو گئے ۔ میری زندگی کسی عذاب سے کم نہیں ہر وقت میرے شوہر کے کان بھرے جاتے ہیں میرے شوہر مجھے مارتے رہتے ہیں میں زیادہ تر اپنے میکے میں رہی ہوں اگر چھ مہینے ماں باپ کے گھر تو دو مہینے سسرال میں رہی ہوں اور جب بھی سسرال جاتی ہوں تو سسرال والوں کو بہت ناگوار گزرتا ہے کہ یہ اب یہاں پر کیوں رہ رہی ہے اتنا ظلم کرتے ہیں میرے شوہر کے کان بھر کر مار پڑوا کر گھر سے باہر نکلوا دیتی ہیں ۔ پھر میری والدہ آ کر لے جاتی ہیں اب تو گھر والے بھی تنگ آ گئے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ طلاق لے لو اس روز روز کی ذلت سے تو بچ جاؤ گی ۔ میں سوچتی ہوں کہ میرے چھوٹے چھوٹے دو بچے ہیں ان کے مستقبل کا کیا بنے گا ۔ اسی ٹینشن میں میرے تین بچے فوت ہو گئے پھر میری امی نے کسی سے میرا علاج کروایا کہ اس کو تو اٹھرا کی بیماری ہے علاج کے بعد ایک بیٹی اور سال بعد ایک بیٹا پید اہوا ہے ۔ اب ماشاءاللہ بیٹی چار اور بیٹا تین سال کے ہے  میں اپنی زندگی سے تنگ آ چکی ہوں بہت روتی ہوں ۔ ہر وقت ماں باپ کی رخصتی سے پہلے کی نصیحتیں یاد آتی ہیں میں نے اپنے روتے باپ کی بات نہیں مانی تھی میرے ساتھ یہ جو کچھ ہو رہا ہے سب اسی نافرمانی کا نتیجہ ہے کاش میں اس وقت اپنے باپ کی بات مان لیتی تو اس عذاب میں مبتلا نہ ہوتی ۔ اگر والدین کسی بات پر ناراض ہیں تو چاہے آپ کو آگے کیسی بھی جنت نظر آ رہی ہو۔ وہاں نہ جائیں ایسا نہ ہو کہ وہ جنت آپ کیلئے دوزخ بن جائےجیسے میرے ساتھ ہوا ۔ 

Tuesday, December 15, 2015

گناہو ں سے نجات کیلئے

گناہو ں سے نجات کیلئے :۔


روزانہ سحری کے وقت اٹھ کر دو رکعت نماز تہجد ادا کریں ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد تین تین بار سورہ اخلاص پڑھیں ۔ اور تہجد نماز کے بعد ستر بار یاوھاب پڑھ کر ہاتھ پھیلا کر عاجزی کے ساتھ گریہ و زاری کریں گڑ گڑا کر اپنے گناہوں سے معافی مانگتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت کا سوال کریں جب فجر کی اذان سنیں تو اذان کا جواب دیں اور لاکھوں نیکیاں کمائیں  اور اذان کے بعد کی دعا یاد ہو تو ضرور پڑھیں۔

سودی کمپنی میں ملازمت اختیار کی اور بربادی ہی بربادی

سودی کمپنی میں ملازمت اختیار کی اور بربادی ہی بربادی :۔



محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! دعا ہے کہ اللہ رب العزت آپ کے درجات مزید بلند کرے آمین ! عرض یہ ہے کہ میں ایک سرکاری ادارے میں بطوراسسٹنٹ ڈائریکٹر ملازم ہوں اور الحمدللہ ! اپنے تمام فرائض نہایت ایمانداری اور فرض شناسی سے ادا کر رہا ہوں میرے ذمے پورے محکمے کے بجٹ کو خرچ کرنا شامل تھا ۔محکمے کی ایک میٹنگ میں دفتر کے افسر اعلیٰ نے 1997ء کے ریکارڈ بارے جو دوران شفٹنگ یا مجھ سے پہلے کسی افسر کی نااہلی کی وجہ سے گم ہو چکا تھا پوچھنا شروع کیا اور تقریباًہر افسر کے ساتھ انتہائی بدتمیزی اور غلیظ زبان استعمال کی۔

 جب میری باری آئی تو میں نے انہیں نہایت ادب سے کہا کہ جناب یہ ریکارڈ 1997ء کا ہے جبکہ میری پوسٹنگ 2009ء میں ہوئی ہے ۔ میری اس بات پر اس افسر نے انتہائی گندی زبان استعمال کی اور میری ڈاڑھی کو اتارنے کے بارے انتہائی غیظ جملہ کہا جو لکھتے ہوئے بھی میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں ۔ میں اور دوسرے افسر سب کچھ سنتے رہے مگر اس کے آگے کوئی بول نہ سکا ۔میٹنگ کے بعد میں اپنے کمرے میں آ کر بہت پریشان ہوا اور ایسی نوکری جس میں سنت رسول ﷺ کی اتنی شدید توہین کی گئی ہو کو چھوڑنے کیلئے تیار ہو گیا اور اس سلسلے میں ،میں نے LPR  لکھ کر دے دی اگرچہ مجھے میرے ساتھی افسروں نے سمجھایا کہ ایسا نہ کرو لیکن میں بہت پیشمان تھا کہ اس افسر نے میٹنگ میں مجھے بے عزت کیا تو کوئی بات نہیں تھی اس نے سنت رسول ﷺ کی توہین کی ہے ۔ میں ایسے افسر کے زیر اثر ہر گز کام نہیں کروں گا ۔ جب میری نوکری چھوڑنے کی درخواست اس کے سامنےپیش ہوئی تو اس نے فوراً ریلیز کرنے کا حکم صادر فرمادیا ۔ لیکن جب دو دن بعد میری ذاتی فائل آرڈر کیلئے اس کے پاس گئی تو اس نے فائل کو چار دن کیلئے روک لیا اور مجھے ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا ۔ مقررہ دن جب میں ذاتی طور پر پیش ہوا تو اس نے مجھے نوکری چھوڑنے کی وجہ پوچھی حالانکہ وہ مجھ سے پہلے دوسرے ذرائع سے معلوم کر چکا تھا کہ اس کے نامناسب الفاظ کی وجہ سے میں نوکری چھوڑ رہا ہوں ۔ لیکن وہ معصوم بنا رہا اور اس نے کسی بھی طریقے سے نہ تو اپنے الفاظ کی معذرت کی اور نہ مجھے احساس دلایا کہ وہ اپنے الفاظ پر شرمندہ ہے ۔ اور آخر کار مجھے ایک بالکل نئے دفتر میں ٹرانسفر کر دیا ۔
محترم حضرت حکیم صاحب! اللہ پاک کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے وہ افسر دفتر سے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر مارکیٹ گیا اور اسے وہاں گاڑی سے نکلنا بھی نصیب نہ ہوا اور وہ وہیں بقضائے الٰہی فوت ہو گیا ۔ یہ افسر جہاں بھی تعینات ہوا بدتمیزیاں کرتا رہا ۔ نوے فیصد لوگ اس کو برے الفاظ سے آج بھی یاد کرتے ہیں ۔
سود ملا پیسہ گھر آیا اور بربادی شروع :۔
محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! ہمارے گھر میں ماہنامہ عبقری بہت شوق سے پڑھا جاتا ہے سب گھر والے درس بھی بہت شوق سے سنتے ہیں ۔ آپ نے درس میں بتایا تھا کہ اپنے دشمنوں کیلئے بھی دعا ئیں مانگیں ۔ اللہ پاک کا کرم ہے کہ کوئی دشمن نہیں ہے مگر ہمارے کچھ عزیز جن سے ہماری کچھ کم ہی بنتی ہے ایک دن میں سفر میں تھی کہ بس کچھ ذہن میں آیا میں نے ان کیلئے دعائیں کرنا شروع کر دیں اور اللہ پاک سے بھی معافی مانگی ۔ اور دعاکی جب کچھ دیر بعد گھر پہنچی تو مجھے عجیب سی خوشی محسوس ہوئی ایسے محسوس ہوا جیسے کوئی روشنی سی آئی اور میرے دل میں کیسے اللہ پاک کا نام سنہری رنگ سےنقش ہو گیا ہے ۔ اس کے بعد سے میری کبھی نماز نہ چھوٹی ، نیک کاموں کی طرف دھیان ملا پھر مجھے کوئی بھی چیز پوچھنی ہوتی تو میں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اللہ پاک سے پوچھ لیتی اور جیسے مجھے جواب بھی مل جاتا تھا ۔یہاں تک کہ میں کھانے میں مرچ مصالحہ کا بھی اللہ پاک سے پوچھ لیتی ہوں اور بالکل پر فیکٹ رزلٹ ملتا ہے ۔ میں کوکنگ کم ہی کرتی ہوں ۔ اس لئے اندازہ زیادہ نہیں ہے چیزوں کا لیکن اللہ پاک کا ایسا کرم مجھ جیسی کو مل گیا اور اعمال کا بہت دھیان بھی ملا اور یہ حکم بھی ملا کہ نماز نہیں چھوڑنی یہ سب کچھ ان کو دعائیں دینے سے ملا جو میرے خیرخواہ نہیں تھے بے شک آپ کسی کا بھلا سوچیں گے تو اللہ پاک آپ کا بھلا ضرور کریں گے اگر آپ کسی کا برا سوچیں گے تو آپ کے ساتھ بھی برا ہی ہو گا یہی مکافات ہے ۔
اب میں آتی ہوں سود کے بھیانک اثرات کی طرف ۔ میرے ماں باپ ماشاءاللہ نیک ہیں ابو کی ریٹائرمنٹ میں صرف پانچ سال ہیں میرے ابو ایک ادارے میں جاب کرتے ہیں ساری زندگی ہمیں ہر چیز دی ہے ہر خواہش پوری کی ہے ابو نے تین چار سال پہلےکمپنی سے سود پر لون لے کر گھر بنوانا شروع کیا نیچے گودام بنوایا اور اوپر گھر لیکن آج تک گھر پورا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا گو دام بھی تیار ہے لیکن کرائے پر چڑھتا ہی نہیں ہے گھر میں عجیب سی نخوست ہے ۔ تنگی بہت زیادہ ہو گئی ہے کبھی ہمارے گھر میں لڑائی جھگڑا نہیں ہوا مگر اب ہر وقت لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں ہر کوئی پریشان ہے ۔ اعمال چھوٹنا شروع ہو گئے ہیں ۔ کچھ عرصہ سے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ سب کچھ اس سود کی وجہ سے ہے ۔

Monday, November 16, 2015

اصلاح معاشرہ کے سلسلہ میں بڑی رکاوٹ

اصلاح معاشرہ کے سلسلہ میں بڑی رکاوٹ  :۔


گھر کے سبھی لوگ اکٹھے تھے بزم امین کے سب لوگ جمع تھے اس کا نمبر آیا تو اس نے اصلاح معاشرہ کے عنوان پر تقریر کرنا شرع کی اس نے کہا معاشرہ کی اصلاح اس لئے نہیں ہو رہی ہے کہ ہر آدمی کو اس کی فکر ہے کہ معاشرہ کی اصلاح کیسے ہو ؟ اس کی فکر بالکل نہیں کہ میری اصلاح کیسے ہو ؟ ننھی سی بچی کی اس تقریر نے پورے خاندان کو جھنجوڑ دیا ۔ اس حقیر کو اس کی تقریر سن کر جہاں اپنے اس خیال پر اعتماد بڑھا وہیں دل کی گہرائی سے یہ نکلا  "الحمدللہ الذک ھدانا لھا ذاوما کنا لنھتدی لو لا ان ھدا نا اللہ۔"اللہ تعالیٰ نے کیسا پیارا دین عطا فرمایا کہ زندگی کی چولوں کو ٹھیک رکھنے کیلئے دعوت کو فرض منصبی قرار دیا ملت اگر دعوت کو مقصد بنا لے تو خیر کے دہانے اللہ تعالیٰ کھول دیتے ہیں ۔ اس خیال سے کہ گھر میں دعوت کا ماحول بنے بچوں اور بچیوں میں دعوتی شعور بیدار ہو خاندان میں ہر گھر میں اس کا سلسلہ  شروع کیا گیا کہ ہفتہ میں ایک مجلس گھر کے افراد کی ہو اور اس میں گھر کا ہر فرد کسی موضوع پر تقریر کرے ، ا س کا فاہدہ یہ ہو گا کہ ہر فرد کو کچھ یاد کرنے اور دین کے بارے میں معلومات کا شوق ہو گا اور جب وہ دوسروں کے سامنے کہیں گے تو پھر خود ان کے اندر دین پر عمل کی توفیق بڑھے گی عید وغیرہ کے موقع پر جب سب خاندان کے لوگ جمع ہوتے ہیں جس میں یہ سلسلہ ہو تا ہے ۔ والد محترم کے نام سے اس کا نام بزم امین بزم امین ب وغیرہ رکھ دیئے گئے دعوتی پس منظر میں بچے ایسے ایسے پیرایہ میں مختلف موضوعات پر بات کرتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے ایسی ہی تقریر اس بچی نے بھی کی ہے واقعی یہ بات بڑی کلیدی ہے کہ اصلاح معاشرہ کی ساری کوشش بے سود اس لیے ہے کہ ہر آدمی کو اصلاح معاشرہ کی فکر ہے اپنی اصلاح اور خود عمل سے بے نیاز ہو کر اصلاح معاشرہ کی کوئی کوشش سود مند نہیں ہو سکتی ہے ۔ ابلیس لعین جس کا نام عزازیل تھا جب اس کو اپنی عبادات اور مقبولیت پر غرور ہو ا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوا کہ ہم ایک بندہ کو راندہ درگاہ کرنے والے ہیں ۔سارے فرشتے تھر اگئے ہر ایک گھبرا کر عزازیل کے پاس آتا تھا کہ ہمارے واسطے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں راندہ درگاہ نہ کرے ابلیس بڑے ناز سے کہتا آپ فکر نہ کریں میں اللہ پاک سے آپ کیلئے دعا کروں گا اس کے دل میں یہ خیال بھی نہ آیا کہ میں بھی راندہ درگاہ ہو سکتا ہوں ۔ اس لئے اپنے کو اصلاح حال سے بے نیاز سمجھتا رہا ۔ یہ شیطانی جبلت ہے ہمیں اصلاح حال سے محروم کئے ہوئے ہے بس ہر ایک کو دوسروں کی اصلاح کی فکر ہے ۔ اصلاح معاشرہ کی کوشش کرنے والے مقررین کے ذہن اکثر اپنی اصلاح حال کی فکر سے خالی ہیں سچی بات یہ ہے کہ تقریر سننے والوں کے ذہن میں بھی اپنی اصلاح حال کی فکر سے خالی ہیں ، تقریر و، وعظ سن کر نکلنے والے لوگ یہ سر گوشی کرتے نکلتے ہیں کہ فلاں حاجی صاحب نے یہ بتایا دیکھا مولانا صاحب کیا فرما رہے تھے اور وہ صاحب کیا کرتے ہیں اپنے حال کا محاسبہ اور اپنی اصلاح کی کوشش اور فکر مفقود ہوتی جا رہی ہے جن مصلحین نے دنیا میں اصلاح حال کا تجدیدی کارنامہ انجام دیا وہ دوسروں کو وعظ اپنے حال کی اصلاح کیلئے کہتے تھے ۔ حکیم الامت فرماتے تھے جب میں اپنے اندر کسی چیز کی کمی دیکھتا ہوں تو دو چار وعظ اس موضوع کے کہہ لیتا ہوں گویا وہ دوسروں کو وعظ و نصیحت اس لئے کرتے تھے کہ کہنے سے خود کی اصلاح ہو جائے گی اصلاح معاشرہ میں جان پیدا کرنے کیلئے یہ سوچ کہ میں سب سے زیادہ اصلاح کا محتاج ہوں شاہ کلید ہے کاش ہمیں اس کی فکر ہو ۔

Thursday, November 12, 2015

انہونی طاقت نے کہیں کا نہیں چھوڑا

انہونی طاقت نے کہیں کا نہیں چھوڑا  :۔



محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! تقریباً تین سال پہلے مجھ سے ایک گناہ ہوا یا غلطی ہوئی میں نے آئندہ نہ کرنے کیلئے یہ کیا کہ وضو کر کے قرآن پاک ہاتھ میں لے کر مصلی پر بیٹھ کر میں نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھا اور کہا اے اللہ میں قرآن کی قسم کھا کر تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ میں یہ گناہ نہیں کروں گا اور اگر کیا تو تو مجھے برباد کر دینا دنیا و آخرت میں مجھے رسوا کر دینا ۔ آخرت میں جنت سے دور کر دینا ۔لیکن کچھ دن گزرنے کے بعد پھر وہی غلطی کر بیٹھا کئی بار کی اب پریشان ہوں کہ کیا کروں ؟ کہاں جاؤں ؟ ہر کام الٹ ہونا شرو ع ہو گیا ہے زندگی محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ تعلیمی سلسلہ تین سال سے زوال پذیر ہے صحت دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے کوئی وجہ سمجھ نہیں آ رہی اب دماغ اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ دو منٹ پہلے کی ہوئی بات کر دے توکئی کئی دن جلتا کڑھتا رہتا ہوں تنہا رہنا چاہتا ہوں کئی بار تو ایسا ہوتا ہے کہ دل چاہتا ہے کہ اپنے بال نوچ لوں دیواروں سے ٹکریں مار مار کر مر جاؤں ۔بی ایس سی کے امتحان سر پر ہیں اور سمجھ نہیں آ رہی یہ سب کچھ کیسے ہو گا ؟اب اگر صحت کا حال بتاؤں تو یہ ہے کہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ہو گیا ہوں سوکھ سوکھ کر کانٹا بن گیا ہوں جسم میں کوئی جان باقی نہیں رہی ۔ سر گنجا ہو گیا ہے آنکھیں اندر کو دھنستی چلی جا رہی ہیں گال پچکے ہوئے اب تو بس لگتا ہے کہ چلتے چلتے کہیں گر گیا تو دوبارہ اٹھ نہیں پاؤں گا ۔وجہ یہ ہے کہ پوشیدہ بیماریوں نے کہیں کا نہیں چھوڑا روپیہ پانی کی طرح بہا دیا مگر ذرا برابر بھی صحت بحال نہیں ہوئی ایک اور شدید مسئلہ میرے ساتھ یہ شروع ہو گیا ہے کہ میرے اندر لڑکیوں والی عادتیں آنا شروع ہو گئیں ہیں میرے چلنے کا انداز بولنے کا انداز حتی کہ میری آواز بھی زنانہ ہو گئی اور اب تک ہے میرا جسم سوکھ کر بالکل زنانہ ہو گیا اور تو اور میرےچہرے کے نقش آدھے مردانہ آدھے زنانہ لگتے ہیں ۔ حالانکہ پہلے میں بالکل ٹھیک تھا نارمل پیدا ہوا نارمل تھا اب بھی اندرونی لحاظ سے طبی لحاظ سے نارمل ہوں مگر ظاہری طور پر ایسا ہونا شروع ہو گیا ہے اب میں گھر سے باہر نہیں نکل سکتا ہر کوئی مجھ پر ہنستا ہے ۔ مذاق اڑاتا ہے کوئی زنانی ، کوئی ہیجڑا ، کوئی کھسرا کہتا ہے ۔کئی بار سوچا خودکشی کر لوں کوشش بھی کی مگر نہ کر سکا مزید جب سے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر کھائی ہوئی قسم توڑی ہے تب سے ہر کام الٹ ہو رہا ہے کوئی انہونی طاقت ہے جو بے بس کر دیتی ہے ہر کام الٹ ہو جاتا ہے دن بدن زندگی بدتر ہوتی جا رہی ہے ۔دماغ اس قدر متاثر ہو چکا ہے کہ بیٹھے بیٹھے اکثر اپنے آپ سے باتیں شروع کر دیتا ہوں خود بخود رونے لگتا ہوں خود بخود ہنسنے لگتا ہوں ، خود بخود بولنے لگتا ہوں ۔

Wednesday, November 4, 2015

وجودہ ڈیپریشن اور پر سکون رہنے کا نبویؐ نسخہ

موجودہ ڈیپریشن اور پر سکون رہنے کا نبویؐ نسخہ :۔


حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ نصیحت فرمائیے ۔ گو یا کہ نصیحت کی بھی درخواست کی اور ساتھ میں یہ شرط لگا دی کہ وہ نصیحت مختصر ہو ، لمبی چوڑی نہ ہو اور حضور اقدس ﷺ نے اس شرط پر ناگواری کا اظہار نہیں فرمایا چنانچہ حضور اقدس ﷺ نے اس کو یہ مختصر نصیحت فرمائی کہ ۔ "لَا تَغْضَبْ " غصہ مت کرو۔ اگر آدمی اس مختصر نصیحت پر عمل کرے تو شاید سینکڑوں بلکہ ہزاروں گناہوں سے اس کی حفاظت ہو جائے۔
گناہوں کے دو محرک ، غصہ اور شہوت:۔  اس لئے کہ دنیا میں جتنے گناہ ہوتے ہیں چاہے وہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے ۔ اگر انسان غور گرے تو یہ نظر آئے گا کہ ان تمام گناہوں کے پیچھے دو جزبے کا ر فرما ہوتے ہیں ۔ ایک غصہ دوسرے شہوت ، شہوت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے اصل معنی ہیں ۔ "خواہش نفس۔" مثلاً دل کسی چیز کے کھانے کو چاہ رہا ہے یہ کھانے کی شہوت ہے یا کسی ناجائز کام کے ذریعہ انسان اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کرنا چاہ رہا ہے ۔ یہ بھی شہوت ہے  لہذا بہت سے گناہ تو شہوت سے پیدا ہوتے ہیں اور بہت سے گناہ غصہ سے پیدا ہوتے ہیں چنانچہ ابھی اس کی تفصیل عرض کروں گا ، لہذا جب یہ فرمایا کہ غصہ مت کرو اگر آدمی اس نصیحت پر عمل کر لے تو اس کے نتیجے میں آدھے گناہ ختم ہو جائیں گے۔
غصہ ایک فطری چیز ہے:۔ یوں تو اللہ پاک نے غصہ انسان کی فطرت میں رکھا ہے کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس کے اندر غصے کا مادہ نہ ہو اور اللہ پاک نے حکمت کے تحت ہی یہ مادہ انسان کے اندر رکھا ہے یہی مادہ ہے کہ اگر انسان اس پر کنٹرول کر لے اور اس کو قابو میں کر لے تو پھر یہی مادہ انسان کو بے شمار بلاؤں سے محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔
غصے کے نتیجے میں ہونے والے گناہ ؛۔ لیکن اگر یہی غصہ قابو میں نہ ہو تو اس کے نتیجے میں جو گناہ پیدا ہوتے ہیں وہ بے شمار ہیں ، چنانچہ غصے ہی سے "تکبر" پیدا ہوتا ہے غصے سے" حسد "پیدا ہوتا ہے غصے سے" بغض "پیدا ہوتا ہے غصے سے" عداوت" پیدا ہوتی ہے اور ان کے علاوہ نہ جانے کتنی خرابیاں ہیں جو اس غصے سے پیدا ہوتی ہیں جبکہ یہ غصہ قابو میں نہ ہو اور انسان کے کنٹرول نہ ہو ۔مثلا ً اگر غصہ قابو میں نہیں تھا اور وہ غصہ کسی انسان پر آ گیا اب اگر جس شخص پر غصہ آیا ہے وہ قابو میں نہیں تھا اور وہ ماتحت ہے تو اس غصے کے نتیجے میں اس  کو تکلیف پہنچائے گا یا اس کو مارے گا یا اس کو ڈانٹے گا اس کو گالی دے گا اس کو برا بھلا کہے گا اس کا دل دکھائے گا اور یہ سب کام گناہ ہیں جو غصے کے نتیجے میں اس سے سرزد ہوں گے اس لئے کہ دوسرے کو ناحق مارنا بہت بڑا گناہ ہے اسی طرح اگر غصے کے نتیجے میں گالی دے دی تو حدیث میں۔
" حضور اقدسﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا مسلمان کو گالی دینا بدترین فسق ہے اور اس کا قتل کرنا کفر ہے۔" (بخاری)
اسی طرح اگر غصے کے نتیجے میں دوسرے کو طعن و تشنیح کر دی جس سے دوسرے انسان کا دل ٹوٹ گیا اور اس کی دل شکنی ہوئی تو یہ بھی بہت بڑا گناہ ہے ، یہ سب گناہ اس وقت ہوئے جب ایسے شخص پر غصہ آیا جو آپ کا ماتحت تھا۔
"بغض" غصے سے پیدا ہوتا ہے:۔ اور اگر ایسے شخص پر غصہ آ گیا جو آپ کا ماتحت نہیں ہے اور وہ آپ کے قابو میں نہیں ہے تو غصہ کے نتیجے میں آپ اس کی غیبت کریں گے مثلاً جس پر غصہ آیا وہ بڑا ہے اور صاحب اقتدار ہے ، اس کے سامنے اس کو کچھ کہنے کی جرات نہیں ہوتی زبان نہیں کھلتی تو یہ ہو گا کہ اس کے سامنے تو خاموش رہیں گے لیکن جب وہ نظروں سے اوجھل ہو گا تو اس کی برائیاں بیان کرنا شروع کر دیں گے ۔ اور اس کی غیبت کریں گے اب یہ غیبت اسی غصے کے نتیجے میں ہو رہی ہے او ر بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ انسان دوسرے کی کتنی بھی غیبت کر لے مگر اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا بلکہ غصہ کے نتیجے میں یہ دل چاہتا ہے کہ اس کو تکلیف پہنچاؤں مگر چونکہ وہ صاحب اقتدار اور بڑا ہے اس لئے اس پر قابو نہیں چلتا ۔ اس کے نتیجے میں دل کے اندر ایک گھٹن پیدا ہو گی اور دل چاہتا ہے کہ اس کو تکلیف پہنچاؤں یا اسے خود بخود تکلیف پہنچ جائے یہ بغض ہے جو ایک مستقل گناہ ہے جو اسی غصے کے نتیجے میں پیدا ہو ا۔حسد غصہ سے پیدا ہوتا ہے اور اگر جس شخص پر غصہ آ رہا ہے اور ا س کو تکلیف پہنچنے کے بجائے راحت اور خوشی حاصل ہو گئی اس کو کہیں سے پیسے زیادہ مل گئے یا اس کو کوئی بڑا منصب مل گیا تو اب دل میں یہ خواش ہو رہی ہے کہ یہ منصب اس سے چھن جائے یہ مال و دولت یہ روپیہ و پیسہ کسی طرح اس کے پاس سے ضائع ہو جائیں ختم ہو جائیں یہ حسد بھی اسی غصے کے نتیجے میں پیدا ہو رہا ہے بہر حال جس شخص پر غصہ آ رہا ہے اگر اس پر قابو چل جائے تو بھی بے شمار  گناہ اس کے ذریعہ صادر ہو جاتے ہیں اور اگر قابو نہ چلے تو بھی بے شمار گناہ اس کے ذریعہ صادر ہوتے ہیں ۔یہ سب گناہ اس غصے کے قابو میں نہ رہنے کے نتیجے میں پیدا ہو رہے ہیں ۔ اگر غصہ قابو میں ہوتا تو انسان ان سارے گناہوں سےمحفوظ رہتا چنانچہ قرآن کریم میں اللہ پاک نے نیک مسلمانوں کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ۔
" یعنی نیک مسلمان وہ ہیں جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں سے غصے کو درگزر کرتے ہیں ۔"
اس لئے کہ غصہ پینے کے نتیجے میں یہ سارے گناہ سر زد نہیں ہوں گے۔

Monday, October 12, 2015

معذور ماں کی کنپٹی پر گولی ماری اور سارا خاندان ختم

معذور  ماں کی کنپٹی پر گولی ماری اور سارا خاندان ختم :۔

پچھلے سال خیبر ایجنسی کے حالات کچھ شرپسندوں کی وجہ سے خراب ہوئے تو امن پسند ہزاروں خاندان نقل مقانی کر کے دوسرے علاقوں میں رہائش پذیر ہوئے ۔ ان ہی میں ایک بدقسمت خاندان بھی ہجرت کر کہ پر امن علاقے کی تلاش میں نکلا ۔ پہاڑی راسے انتہائی کٹھن ہوتے ہیں ۔ یہ خاندان جو چند افراد پر مشتمل تھا ۔ اس خاندان میں ایک بوڑھی معذور اور اندھی ماں بھی تھی جس کو اس کے خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد وقفے وقفے سے اٹھا رہا تھا اور اس بوڑھی اندھی ماں کے لبوں سےہر دم دعاہی نکل رہی تھیں ۔ اس ماں کا ایک جوان بدقسمت بیٹا بھی اس قافلہ میں تھا جس کو سب سے زیادہ اپنی بوڑھی اندھی معذور ماں کا خیال رکھنا پڑ رہا تھا ۔ کچھ ہی میل فاصلہ طے ہو اکہ وہ اپنی ماں کی اس خدمت سے اکتا گیا اس نے پہلے سوچا کہ اس کو یہی چھوڑ جاتا ہوں خود ہی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائے گی پھر دوسرے ہی لمحے اس نے پسٹل نکالا اور ماں کی کنپٹی پر رکھ کر گولی چلا دی ۔ بوڑھی معذور اور اندھی ماں کی ایک آہ نکلی او ر وہیں دم توڑ گئی ،۔ اس بدبخت بیٹے نے اس کو  کفن دفن بھی نہ دیا اور پہاڑ سے نیچے کھائی میں پھینک دیا اور خود قافلے کے ساتھ انتہائی مطمئن ہو کر چلنے لگا۔ ابھی تھوڑا ہی فاصلہ طے ہوا تھا کہ خچر کا پاؤں پھسلا اور وہ بیوی بچوں سمیت کھائی میں جا گرا جہاں اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے بچے اور بیوی تڑپتے تڑپتے دم توڑ گئے اور یہ کچھ نہ کر سکا اور وہیں کھڑا چیخیں مارتا رہا اور یوں اللہ پاک نے بد بخت بیٹے کو اپنی معذور ماں کو مارنے کی نقد سزا دیدی۔

سود اور غیبت کی نقد سزا:۔

حالیہ دنوں کا واقعہ ہے کہ ہمارے صوبہ کے ایک دیہات میں ایک گھرانہ ہے ۔اس گھر میں ایک عورت کا انتقال ہوا جس طرح رسماً دیہاتوں میں عورتیں میت کو دیکھنے آتی ہیں ۔ اسی طرح اس عورت کو بھی دیکھنے کیلئے قرب و جوار سے عورتیں آنا شروع ہو گئیں ۔ اچانک ایک انجانی عورت کالا برقعہ پہنے نمو دار ہوئی ۔ مردہ عورت کے چہرے پر اپنا چہرہ رکھا ۔ جس طرح کوئی قریبی رشتہ دار غم سے نڈھال اپنی میت کے سر پر اپنا سر رکھ کر روتے ہیں ۔ اس طرح اس نا آشنا عورت نے اپنا سر میت کے سر پر رکھا لیکن بہت دیر لگا دی ، عورتوں نے اٹھانے کی کوشش کی لیکن کئی عورتیں مل کر بھی اس کو اٹھا نہ سکیں ۔ آخر گھر کے مردوں سے مدد لی گئی لیکن وہ بھی ناکام ۔ آخر کار مسجد کے امام صاحب کو بلایا گیا انہوں نے کچھ قرآنی آیات پڑھیں ۔ عورت میت سے علیحدہ ہو گئی لیکن میت سے ناک اور چہرے کا کچھ حصہ کھا چکی تھی اور میت سے علیحدہ ہونے کے فوراً بعد وہ انجان عورت سب کی نظروں سے غائب ہو گئی ۔ اس کے بعد عورت کے (میت )نہانے کا وقت ہوا ۔ جس کمرے میں میت کو غسل دینے کا بندوبست کیا گیا تھا عین اسی کمرے میں وہی نا آشنا عورت پھر نمودار ہوئی ۔ سب عورتوں کو کہا آپ سب یہاں سے چلی جائیں میں اکیلی اس کو غسل دیتی ہوں ۔ سب عورتوں پر پہلے واقعہ کا خوف طاری تھا اس لیے سب عورتیں ڈر کے مارے تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئیں ۔ میت کو غسل دینے کا وقت اندازے سے کہیں زیادہ وقت لگ گیا ۔ عورتوں نے دروازہ کھٹکھٹایا لیکن دروازہ نہ کھولا گیا ۔ آخر کار ایک بار پھر مرد حضرات کو بلایا گیا انہوں نے کسی اوزار سے دروازے کو توڑا ۔ اند رجا کر دیکھا تو میت کا خالی ڈاھانچہ پڑا تھا اور عورت غائب تھی  پھر جلدی جلدی اس میت کا کفن دفن کا انتظام کیا گیا ۔ لوگ میت کو لے کر قبرستان پہنچے اس کی قبر کے گرد و نواح میں خوفناک زلزلہ آ گیا ۔ لوگ گھبرا گئے اور استغفار کا ورد کرتے رہے آخر کار اس کو اسی ذلیل حالت میں دفنایا گیا ۔ اس کے اعمال کا پوچھا گیا تو کہا گیا کہ باقی تو صوم صلوٰۃ کی پابند تھی ۔ لیکن سود اور غیبت اس کے پسندیدہ مشاغل تھے ۔ اللہ پاک ہمیں ایسی ذلت آمیز موت سے بچائے ۔

Monday, October 5, 2015

سود کے بعد پھر کیا ہوا

حال دل:۔
سود کے بعد پھر کیا ہوا ؟
ایک صاحب مجھے چبھتے چبھتے ا،لجھتے الجھتے ،اور اکتائے اکتائے، لہجے کے ساتھ کہنے لگے آپ اپنے درس میں سود کی باتیں کرتے ہیں ، ساری دنیا کی معیشت سود پر چل رہی ہے آخر یہ سود کافروں کو نقصان کیوں نہیں دیتا ؟ اور مسلمانوں کو کیوں دیتا ہے؟ معذرت سے کہتا ہوں یہ آپ کا فوبیا ہے ! ( یعنی دوسرے لفظوں میں آپ خود بھی پاگل ہیں اور لوگوں کو بھی پاگل بنا رہے ہیں ۔) ان کی بات سن کر میں نے ٹھنڈی آہ بھری اور مؤدبانہ درخواست کی کہ شاید آپ عالمی میڈیا سے رابطہ کم رکھتے ہیں ، اتنا زیادہ رابطہ میرا بھی نہیں لیکن جتنا رابطہ ہے اس رابطے نے انٹر نیشنل تاجروں کو یہ سوچنے  پر مجبور کر دیا ہے کہ سود کسی مذہب میں بھی جائز نہیں ، وہ ہندو مذہب ہو ، سکھ مذہب ہو ، عیسائی مذہب ہو ، یہودی مذہب ہو یا اسلام ہو ۔ تو سود سے اگر چھٹکارا پانا چاہتے ہیں تو تمام مذاہب کا مطالعہ کریں ، ورنہ پھر ہماری بات مان جائیں ۔ کچھ عرصہ پہلے ریڈ رڈائجسٹ جو کہ انٹر نیشنل لاکھوں میں چھپنے والا واحد میگزین ہے اور جس میں غیر مصدقہ تحریر چھپنا کسی نے آج تک گمان بھی نہیں کیا کہ اس میں کوئی ادھر ادھر کی بات چھپ سکتی ہے ، سب تحریریں ا س میں تصدیق شدہ ہوتی ہیں ، اس میں ایک تجزیہ تھاجو مجھے ایک معتبر آدمی سے رسالے سمیت بتایا کہ اگر نائن الیون کے بعدجو عالمی حالات پیدا ہوئے ہیں معاشی بحران ، جنگیں ، نفرتیں اور غربت اور مہنگائی کا بڑھتا ہوا ایک سیلاب ، یعنی اگر اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو اپنی عالمی معیشت کو سود سے پاک کریں ۔جب میں نے ان کو یہ بات کہی انہیں میری بات کا یقین نہ آیا کہ یہ بات انگریز بھی کبھی کہہ سکتا ہے ۔ یا اس کے منہ سے کبھی نکل سکتی ہے ۔ میں نے اسے کہا کہ وہ خود حوالہ تلاش  کریں آخر وہ کھوجی حوالہ تلاش کر کہ لے آیا ۔ اور حیران و پریشان بیٹھا تھا اس کے بعد نامعلوم اسے کیا ہوا نیٹ کی دنیا میں گھوما اور اس نے پھر جو سود کے بارے میں عالمی دنیا کے تاثرات تجزیے تجربات اور منفی رویے تلاش کر کے مجھے دئیے وہ تو اتنے تھے کہ انسان سارے کام چھوڑ کر بس اسی کو پڑھنے بیٹھ جائے ، سود کے بعد زندگی میں کیا ہنگامے بر بادیاں، طوفان ،مسائل اور مشکلات پیدا ہوتے ہیں اس کو چھوٹا سا عکس میں اس خط کی مختصر تحریر سے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ! میرا گھر پرانے دھوبی گھاٹ کے قریب ہے ، میں اس راستے میں ذاتی تین مرلے کا مکان میں رہتی ہوں ، میرے سامنے فلاں قوم کے لوگ رہتے ہیں سود پر پیسہ لینا، دینا ان کا ایک خاندانی کام ہے ۔ اس کی نحوست جہاں ان کے گھر میں پہنچی وہاں میرے گھر میں بھی پہنچ رہی ہے ان کے گھر میں سارا دن لڑائی ، جھگڑا ، چھوٹی بڑی بات بہت بڑی اور گندی گالی دینا ان کیلئے کوئی حرج نہیں ۔ ایک دوسرے پر ہاتھ اٹھانا عام سا مشغلہ ہے مرد عورت کوئی ادب لحاظ شرم حیا ان کے قریب سے نہیں گزرا ۔ ان کے گھر کا سر براہ گالی کے بغیر بات نہیں کرتا ۔ اس نے سب گھر والوں کو تگنی کا ناچ نچایا ہوا ہے ۔ سارا دن اونچی آواز میں بیٹا گانے لگاتا ہے جھومتا ہے گاتا ہے ناچتا ہے نیٹ کی دنیا میں سارا دن ڈوبار ہتا ہے نشے کی عادت اور لت پڑ گئی ہے ۔ اگر ہم ان کو آواز آہستہ کرنے کیلئے کہیں تو ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ، لڑنے، مرنے اور مارنے پر آ جاتے ہیں ۔ انہوں نے گلی کو گندگی کا ڈھیر بنایا ہوا ہے ۔ یہ تو ان کے گھر کا مختصر سا حال ہے اور جو میرا حال ہے وہ یہ ہے کہ ان کی نحوست سے میری اولاد کی تربیت میں کمی پیدا ہو رہی ہے اور میری نسلیں متاثر ہو رہی ہیں ، ہر وقت میرے بچے ان کے بچوں کو دیکھتے ہیں ۔ اور ان کے بچے جو کرتے ہیں وہی میرے بچے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ میں نے محسوس کیا ہے جب سے میں نے یہاں تین مرلے کا گھر بنایا ہے میرے گھر میں رزق آتا ہے نا معلوم کہاں جاتا ہے جسے میں بے برکتی کہوں ۔ ہر وقت فتنہ فساد ، جھگڑے ، پریشانیاں ، بیماریاں ، دکھ ،تکلیفیں ،مسائل ،اور مشکلات یہ ساری چیزیں میرے گھر میں اتنی ہو گئی ہیں کہ میں نے زندگی بھر کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایسے کبھی ہو بھی سکتا ہے میں سمجھتی ہوں یہ برے پڑوسی کی نحوست اور ان کے برے رزق ، بری سوچیں ، برے خیال اور برے کردار کی ظلمت ہے جو میرے گھر میں آ رہی ہے  ۔ آپ دعا فرمائیں میں یہ گھر فروخت کر کے کسی اور جگہ چلی جاؤں ، میں تھک گئی ہوں ،اکتا گئی ہوں ، پریشان ہوں ، میں کیا کروں ؟ سچ ہے بڑوں سے سنا تھا کہ گھر ڈھونڈنے سے پہلے اچھا پڑوسی ڈھونڈیں برا پڑوسی جہاں ہو اور کوڑیوں کے بھاؤتمہیں تاج محل بھی مل رہا ہو کبھی نہ لینا ، کبھی نہ لینا ،کبھی بھی نہ لینا۔

Monday, September 21, 2015

قرآن کی جھوٹی قسم اٹھائی اور نسلیں برباد

قرآن کی جھوٹی قسم اٹھائی اور نسلیں برباد :۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! میں ایک واقعہ اپنی زندگی کا ناقبل فراموش قارئین کی نزر کر رہی ہوں ۔ تقریباً سال پہلے کی بات ہے کہ بڑی عید کی آمد آمد تھی اورہم سب لوگ عید پر اپنے گاؤں جاتے تھے تاکہ سب کے ساتھ مل کر عید کر سکیں۔ اس وقت ہم کرائے پر رہتے تھے اور میرے دیور کا گھر ہمارے ساتھ ہی تھا ۔ میرے میاں نے کہا کہ پیکنگ وغیرہ کر کے آپ لوگ چھوٹے بھائی کے ساتھ چلے جائیں ۔ مجھے ذرا کام ہے میں لیٹ ہو جاؤں گا ۔
خیر! ہم سب مل کر گاؤں چلے گئے جب رات کو میرے میاں گھر آئے سامان لینے کیلئے جب باہر کا دروازہ کھول کر اندر گئے تو اندر کا نقشہ بدلا ہوا تھا کوئی چور چوری کر گیا تھا ۔ ٹیچی کے تالے ٹو ٹے ہوئے زمین پر کپڑوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے چور نقدی اور زیور لے گئے تھے اور کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا ، چوری ہمارے پڑوسیوں نے کی تھی حضرت حکیم صاحب ! ہماے گھر کے ساتھ ایک بہت ہی نمازی پرہیز گار بزرگ شخصیت رہتی تھی ، وہ ہر وقت مسجد میں رہتے تھے ، بہت زیادہ اللہ والے اور بہت نیک ہستی تھے ، انہیں سب قاضی صاحب کہتے تھے ، محلے والوں نے ہم سے کہا کہ آپ رپورٹ وغیرہ نہ لکھوائیں فیصلہ قاضی صاحب پر چھوڑ دیں ۔ خیر جب قاضی صاحب کے علم میں بات آئی تو انہوں نے فرمایا کہ نماز مغرب کے بعد فیصلہ ہو گا جب مغرب کی نماز ہو گئی تو سب نماز ی اپنی جگہ پر بیٹھے تھے تو قاضی صاحب نے فرمایا کہ جاؤ قرآن لے کر آؤ ، فیصلہ قرآن پر ہو گا ۔ کیونکہ ہمارے ہمسائے کہتے تھے کہ چوری ہم نے  نہیں کی ، قرآن لایا گیا ، میرے سسر ، شوہر اور دیور سب پاس ہی تھے ۔ قاضی صاحب نے فرمایا : بتاؤ کیا کہتے ہو تو ان کے والد  نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ ہم نے چوری نہیں کی ۔ تو میرے سسر نے کہا ٹھیک ہے اگر انہوں نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر چوری سے انکار کر دیا ہے تو اب میں نے فیصلہ اللہ پاک پر چھوڑا، اور گھر آ گئے۔ اس بات کو تقریباً ایک ہفتہ ہوا تھا کہ ڈیوٹی پر واپسی پر حادثہ ہوا اور قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے والا موقع پر عبرتناک موت مرا ۔ محلے والے سب کہتے تھے کہ جھوٹا قرآن اٹھانے کی سزا ملی ہے چوری اس کے بیٹوں نے کی تھی ، اس کی  موت کے بعد ان کے گھریلو حالات خراب ہونا شروع ہو گئے۔ ان کی بہن کی شادی کو آٹھ سال ہو گئے ہیں اولاد نہیں ہے ۔ ایک بھائی کے بچے معزور پیدا ہو رہے ہیں باقی کسی بہن بھائی کے ہاں اولاد نہیں ہو رہی۔ ان کے گھر میں فاقے ہی فاقے ہیں جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان کی والدہ کا پچھلے دنوں موٹر سائیکل کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں انتقال ہو گیا ۔ محترم حضرت حکیم صاحب! میری قارئین سے صرف یہی گزارش ہے کہ ایسے معاملوں میں قرآن پاک کو درمیان میں ہر گز نہ لائیں کیونکہ اگر کسی نے نادانی میں جھوٹی قسم اٹھا لی تو اس کا انجام وہ خود تو بھگتتے ہی ہیں ، ان کی نسلیں بھی بھگتتی ہیں ۔ اللہ پاک نے ہمیں وہ ساری چیزیں جو چوری ہوئی تھیں بلکہ ان سے بھی بہتر دے دیں مگر ان کی نسلیں بربا ہو رہی ہیں ۔ میں تو ہر وقت ان کیلئے معافی کی دعائیں مانگتی ہوں ۔


 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر29


Tuesday, September 15, 2015

I was a call girl


میں ایک طوائف تھی:۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم ! اللہ پاک آپ ، آپ کی نسلوں ، آپ کے والدین ، آپ کے مرشد ، آپ کے مریدوں اور آپ سے وابستہ ہر انسان پر اپنی رحمتیں قیامت تک نازل فرماتا رہے ، آپ کے درس سے مجھے کیا دولت نصیب ہوئی وہ میں آگے چل کر بتاؤں گی۔

میں نے ایک متوسط گھرانے میں آنکھ کھولی جیسے جیسے بڑی ہوئی میں نے دیکھا کہ ہماے گھر میں نہ نماز ، نہ دین ، نہ قرآن اور نہ ہی کسی قسم کے اعمال تھے ، ہر کوئی اپنی مستی میں مست تھا صبح اٹھے کھانا کھایا مرد حضرات کاروبار پر چلے گئے عورتیں گھر کے کام سے فارغ ہوئیں اور سارا دن ٹی وی ، میوزک اور بس ! میری ایک بہن نے محلے کے ایک لڑکے سےبھاگ کر شادی کر لی تھی جس کا شروع میں بہت شور اٹھا لیکن بعد میں دونوں خاندان کی آپس میں صلح ہو ئی اور بات ختم ۔ جب میں نویں جماعت میں تھی تو میری محلے کے ایک لڑکے سے نام نہاد دوستی ہوئی جس نے مجھے خوب بیوقوف بنایا ۔ بعد میں وہ محلہ چھوڑ گیا ، اس کے بعد مجھے لڑکوں سے دوستی کرنے میں خوب مزہ آتا میں نے لڑکوں کو خوب بیوقوف بنایا میں شروع سے بہت خوبصورت تھی میں کسی کو بھی بیوقوف بنا دیتی تھی ، بارہویں جماعت میں مجھے ایک لڑکے سے سچ مچ محبت ہوئی جو کہ ناکام ثابت ہوئی اور اس لڑکے کے گھر والوں نے زبردستی اس کی شادی کہیں اور کر دی ، میں بہت روئی ،چیخی، چلائی ،مگر میری آہیں کسی نے نہ سنیں ، جس کے بعد مجھے چپ لگ گئی ۔میرے ماموں دوسرے شہر میں رہتے ہیں ایک مرتبہ وہ آئے تو انہوں نے کہا کہ اس کو جن آتے ہیں آپ میرے پاس آؤ میرے پاس ایک بابا جی آتے ہیں ان سے دم کرواتے ہیں ۔ میں اپنے ابو کے ساتھ ان بابا جی کے پاس گئی وہاں کا ماحول بہت پر سکون تھا ۔دعا کے بعد حاضری ہوئی وہ محترم ہستی بڑی شفقت سے پیش آئے دم کیا انہوں نے ہمیں نماز کی تلقین کی اور کچھ اعمال بتائے ۔اور مجھے اللہ پاک کا ایک اسم مبارک دیا کہ اس کو ہر وقت پڑھو انشاءاللہ تم پر اللہ پاک اپنا بہت کرم کرے گا ، مجھے پہلی مرتبہ روحانی سکون کا احساس ہوا گھر آ کر میرے ابو اور بہن نے ان کا خوب مذاق اڑایا۔ اور ان کی خوب توہین کی میں بھی ان کی باتیں سن کر خوب ہنستی ، کبھی کبھی خواب میں ان اللہ والے کی زیارت ہوتی جو مجھے وظیفے کی تلقین کرتے۔ایک مرتبہ میں اپنے ابو بہن سے چوری ان بزرگوں کے پاس گئی ۔ میں حالات سے تنگ تھی انہوں نے مجھے پھر وظیفہ پڑھنے نماز اور اعمال کی تلقین کی ۔ پھر کچھ عرصہ میں نے ان سے رابطہ نہ کیا۔ پھر میں جب تھرڈائیر میں تھی تو پھر موبائل پر لڑکوں سے دوستیاں شروع ہوئیں ، ساری ساری رات مختلف لڑکوں سے سمز بدل بدل کر گندی باتیں کرنا اور فجر کی اذان کے بعد سو جانا ۔ پھر بات موبائل سے بڑھ  کر ملاقاتوں تک بڑھ گئی اور بڑھتے بڑھتے ہوٹلز رومز تک پہنچ گئی ۔ مجھے خود معلوم نہ تھا میں یہ سب کچھ کیوں کر رہی ہوں ۔بس میں اپنی ہی مستی میں مست تھی ۔ لوگ میرے اشاروں پر ناچتے تھے میں جس سے جو مانگتی مجھے وہ لا کر دیتا میرے پاس مہنگے سے مہنگا موبائل ، سونے کے سیٹ ، اعلیٰ سے اعلیٰ برانڈ کے کپڑے ، جوتے ، مہنگے ہوٹل کا کھانا ۔ بس میں ان دنوں ہواؤں میں اڑ رہی تھی ۔ پھر ایک وقت یہ بھی آیا کہ میں ایک ہاتھ سے دوسرے پھر تیسرے اور پھر چوتھے ہاتھ میں استعمال ہوئی حتٰی کہ بعض لوگوں نے مجھے طوائف کہنا شروع کر دیا ۔ میں نے سگریٹ پینا شروع کر دی ۔ میں نے بی اے تک پڑھائی کی پھر پڑھائی چھوڑ دی میرے والدین میری شادی تو نہ کرواسکے مگر میں اپنی عزت کا نایاب زیور کسی ہوٹل کے کمرے میں گم کر چکی تھی۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود اندر بے چینی تھی ، ایک خلش تھی ،ایک چبھن تھی ،جو مجھے ہر وقت عیاشی کے باوجود بے قرار رکھتی تھی ۔ میں نے گھر میں کچھ فلمی ڈائجسٹ لگوا رکھے تھے جو ہاکر ہر ماہ آ کر پھینک جاتا ایک مرتبہ وہ ان ڈائجسٹ کے ساتھ عبقری رسالہ بھی پھینک گیا ۔ میں نے ایسے ہی پڑھا اور بے پرواہی سے صوفے پر پھینک کر ٹی وی دیکھنا شروع کر دیا ۔ پھر اس رسالے کو میری والدہ اور بھائی نے پڑھا تو ان کو یہ پسند آیا انہوں نے ہاکر کو کہہ دیا کہ دوسرے میگزینز کے ساتھ یہ رسالہ بھی ہر ماہ دے جایا کرو ۔ ایک مرتبہ ایسے ہی بور ہو رہی تھی تو میں نے رسالہ پکڑ کر پڑھنا شروع کر دیا ۔اس میں آپ کا درس ہدایت کا صفحہ پڑھا ،تو اندر ایک ہدایت کی چنگاری تھی جو تھوڑی سی بھڑکی ۔ میں نے نیٹ پر آپ کے درس سنے تو میری راتوں کی نیند اڑ گئی ۔ میں پہلی بار کانپتے ہاتھوں سے وضو کیا اور نماز مجھے جیسے بھی آتی تھی کانپتے ہونٹوں اور بہتے آنسوؤں سے پڑھ کر اللہ پاک سے خوب رو رو کر توبہ کی ،اور وہیں جائے نماز پار روتے روتے سو گئی ۔ مجھے ایسی پر سکون نیند آئی کہ جو آج تک نہ آئی تھی ۔ جب اذان فجر ہوئی تو میری آنکھ کھلی میں نے پھر وضو کیا اور نماز فجر ادا کی ۔حالانکہ اس وقت مجھے نہیں معلوم تھا کہ فجر کی سنتیں اور فرض کتنے ہیں ۔ میں نے اپنی تمام سمز بلاک کروا دیں موبائل فون توڑ دیئے ۔ اپنی غلیظ کمائی کے کپڑے جوتوں کو آگ لگا دی میں نے اپنی دوست سے صحیح نماز پڑھنے کا طریقہ سیکھا ، صفائی ستھرائی، پاکی ناپاکی، کے بارے میں سب جانا ۔اچھی اچھی دینی کتب گھر میں لائی جن کا اب میں بھر پور مطالعہ کرتی ہوں ۔ لوگوں نے میرا پیچھا تب بھی نہ چھوڑا میرے گھر کے باہر آ کر آوازیں کستے میرے والد نے تنگ آ کر وہ شہر ہی چھوڑ دیا اب ہم نے دوسرے شہر میں اپنی خالہ کے گھر کے پا س گھر لے لیا ہے ۔ ہمارے گھر میں دینی ماحول آ رہا ہے ۔ میرے ابو بھی اب قریبی مسجد میں جاتے ہیں اور امام صاحب سے نماز کا طریقہ سیکھ رہے ہیں ۔۔ گھر میں ہر وقت آپ کا درس چلتا ہے ۔ الحمدللہ ! میری والدہ اور چھوٹے بھائیوں نے بھی نماز پڑھنا سیکھ لی ہے ۔ اب الحمدللہ ! میں اعمال کی طرف آ گئی ہوں۔ رو رو کر اللہ پاک سے اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگتی ہوں ۔ آپ کے درس نیٹ سے سنتی ہوں ۔ میں نے درس سے کچھ دعائیں یاد کی ہیں ۔ کھانا شرمندہ ہو کر کھانا اور کم کھانا ، کھانے سے پہلے سات بار استغفار کرتی ہوں۔ کھانے کے بعد سورہ قریش تین بار پڑھتی ہوں ۔ بیت الخلا میں جاتے ہوئے دعا پڑھتی ہوں ۔ بیت الخلا میں مسلسل دل ہی دل میں پڑھتی ہوں اس کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ مجھے پہلے غصہ بہت آتا تھا ایک پل میں آگ بگولہ ہو جاتی تھی اب اندر طوفان تو اٹھتے ہیں مگر زبان ادب کے دائرے میں رہتی ہے ۔ وضو کے بعد والی دعا پڑھتی ہوں رات سوتے وقت کی دعا پڑھتی ہوں گیارہ بار سونے والی دعا تین بار درود شریف ایک بار سورہ فاتحہ تین بار سورہ اخلاص تین بار کلمہ طیبہ پڑھ کر اپنے ایمان کی تجدید کرتی ہوں ۔ یہ آپ کے درس سے دعائیں لی ہیں ۔ میری خالہ کے بیٹے سے منگنی ہو چکی ہے ۔ وہ میرے بارے میں سب جانتے ہوئے مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ الحمد للہ ! امام مسجد ہیں اور بہت جلد ہمارا نکاح مسجد میں سادگی سے ہو رہا ہے ۔


 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر15