Showing posts with label نوجوان لڑکیوں کے مسائل. Show all posts
Showing posts with label نوجوان لڑکیوں کے مسائل. Show all posts

Tuesday, February 23, 2016

45 سالہ کنواری لڑکی کی ماں باپ سے فریاد


گزشتہ دنوں مرحوم تجمل الٰہی شمسی صاحب کی نواسیوں کی شادی کی تقریب میں جانا ہوا‘ٹیبل پر کھانے کی میز پر ایک جہاں دیدہ شخص بیٹھے ہوئے تھے باتوں ہی باتوں میں میرا تعارف ہوا تو ان کے گھر عبقری بہت ذوق وشوق سے پڑھا جاتا تھا‘ موصوف چند ماہ پہلے رنڈوے ہوئے تھے۔ بیوی کے وصال کے بعد احباب اور رشتہ داروں کا تقاضا ہے کہ آپ سنت پوری کرتے ہوئے فوراً شادی کرلیں۔ قریب بیٹھے ایک صاحب نے ازراہ مذاق کہا حکیم صاحب آپ ہی انہیں کہہ دیجئے یہ شادی کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ان کی بات سن کر ان کے ماتھے پر بل آگئے



 اور کہنے لگے ایک ہمارا دور تھا آج میں ساٹھ سال سے اوپر ہوگیا ہوں کہ جب بیٹی کی بلوغت کے بعد اس کی صرف اور صرف شادی کا فکر ہوتا تھا‘ جانچ پرکھ کی جاتی تھی لیکن جو آج کی جانچ پرکھ ہے وہ اصل ذریعہ ہے جس کی وجہ سے شادی میں تاخیر ہوتی ہے موصوف ایک لمبا سانس لے کر مزید کہنے لگے کہ بیوی کے وصال کے بعد احباب کے تقاضا نے مجھے شادی کیلئے مجبور کیا‘ میں تو ایک بات پر حیران ہوا کہ جن رشتوں کو ہم دیکھتے ہیں چالیس سے پینتالیس سال کی خواتین کنواری عام طور پر مل رہی ہیں۔ مجھے افسوس بھی ہوا اور حیرت بھی تو پتہ چلا کہ شادی کی تاخیر کی بنیاد معیار اور پرسنیلٹی ہے۔ اور وہ پرسنیلٹی کیا ہے؟ کہ خود مجھے ایک پینتالیس سال کی کنواری لڑکی کیلئے جب رشتہ کی بات چلی تو ان کی ڈیمانڈ سترلاکھ کی پراڈو گاڑی‘ فلاں چیزیں‘ اتنا بڑا گھر وغیرہ۔ جو خواتین دیکھنے گئی تھیں ان کا تبصرہ یہ تھا کہ لڑکی کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے اور وہ حیرت سے ماں باپ کا منہ دیکھ رہی تھی۔ یعنی اس کے دل کی آواز تھی اور وہ والدین کو حال دل سے پکار رہی تھی کہ میرے ساتھ پینتالیس سال تک تو زیادتی کرچکے ہیں اب تو مزید زیادتی نہ کریں۔ اب تو میں بظاہر اولاد پیدا کرنے کے قابل ہی نہیں رہی مجھے اماں کون کہے گا اب تو میں ہی اماں ابا کہہ رہی ہوں۔ موصوف اپنی بات کرتے کرتے غصے میں آگئے اور کہنے لگے جن کے گھر میں ایک کمرہ ہے اور تین وقت کی روٹی بمشکل ہے ان کی ڈیمانڈ بھی اتنی زیادہ ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ چلو میں تو بوڑھا ہوں لیکن یہ سب کچھ جوانوں کیلئے ہورہا ہے اور مجھے کہنے لگے کہ حکیم صاحب آپ مجھے شادی کا نہ کہیے گا اللہ بخشے میری بیوی بس اس نے میرے ساتھ جو اچھا سلوک‘ اچھی زندگی گزاری وہ اتنی شاندار ہے کہ مجھے یہ ڈیمانڈیں اور ڈیمانڈوں کے بعد پھر ایک اور انجام نظر آتا ہے جن کی نظر پہلے دن دولت مال گاڑیاں‘ کوٹھیاں‘ جائیداد پر ہے ابتدا ہی خراب ہوئی ہے انتہا کا کیا ہوگا؟ پھر اپنے نانا مرحوم کے بارے میں فرمانے لگے کہ وہ بہت عقلمند اور جہاں دیدہ انسان تھےاور بنیے تھے میں چونک پڑا میں نے کہا بنیے تو ہندو کو کہتے ہیں کہنے لگے نہیں اصل میں جو صابن آٹا گھی چاول کا کام کرتا ہے بنیا اس کو کہتے ہیں۔ایک دن ہمارے گھر تشریف لائے پندرہ بیس سال سے ایک صاحب ہمارے ہاں دروازے پر سبزی دینے آتے تھے‘ سبزی کی ریڑھی تھی وہ گلی گلی اسی پر سبزی بیچتے تھے ایک دن وہ صاحب ہمیں سبزی دینے آئے‘ نانا مرحوم بیٹھے تھے دیکھ کر کہنے لگے اس نے سبزی کم تولی ہے‘ ہم حیران ہوئے کہ پندرہ بیس سال سے ان سے سبزی لے رہے بہت اچھے انسان ہیں۔ کہنے لگے میں تجربہ کرکے بتاتا ہوں ان سے سبزی تولائی تو انہوں نے ایسے صفائی سے ڈنڈی ماری کہ ہم حیران ہوگئے اور ان پندرہ بیس سالوں میں ہم انہیں بالکل پرکھ نہ سکے۔ دوسری بات نانا کی یہ بتائی کہ نانا مرحوم نے فرمایا عورت کا خصم اس کا شوہر ہے اور شوہر کا خصم اس کا کاروبار ہے یعنی عورت اگر اپنے شوہر کی نہیں تو پھر کسی چیز کی بھی نہیں اور کسی قابل نہیں اور مرد اگر کاروبار کا نہیں تو پھر اس کو شوہر کہلوانے کا حق نہیں۔ میرے نانا نےاپنے تجربات میں تیسری بات یہ بتائی کہ سب سوٹوں (کپڑوں) پر نمبر لکھ کررکھیں۔ مثلاً ہر سوٹ پر نمبرنگ ہو‘ قمیص پر نمبر ایک‘ بنیان پر بھی ایک نمبر ہو‘ شلوار پر بھی ایک نمبر ہو۔ اس طرح کبھی کپڑے گم نہیں ہوتے۔قارئین! بڑوں کے تجربات اور مشاہدات میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے۔ آپ بھی آزمائیں اور استفادہ حاصل کریں۔

Wednesday, January 6, 2016

نوجوانوں کولگے عشق کے روگ کا علاج

نوجوانوں کولگے عشق کے روگ کا علاج :۔

Treatment of love for teenagers


کسی کو عشق کا روگ لگ جائے اور زندگی کو یہ مرض دیمک کی طرح چاٹ رہا ہو اور سکون غارت ہو چکا ہو تو یہ ایک بزرگ کا دیا ہوا ہے بار بار خیال آتا ہو کسی کا اور ہٹانے سے بھی نہ ہٹتا ہو کسی اور چیز میں دل نہ لگتا ہو پڑھائی وغیرہ میں تو یہ عمل کریں اس کی اجازت ہر مرد و عورت کیلئے ہے ۔


لَا مَرْغُوْبِیْ اِلَّااللّٰہ  
لَامَطْلُوْبِیْ اِلَّااللّٰہ  
لَامَحْبُوْبِیْ اِلَّاللّٰہ  

لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ
ایک تسبیح پڑھنی ہے ۔ ہم نے اس عمل سے سینکڑوں نہیں ہزاروں نوجوان بچوں اور بچیوں کو اس عمل کے صدقے گناہ کبیرہ سے بچ کر زندگی گزراتے دیکھا ہے جو بچیاں کہتی تھیں کہ ہم مر جائیں گی جو نوجوان کہتے تھے کہ ہم مر جائیں گے فلاں کے بغیر چند دن انہوں نے یہ عمل کیا نہ کوئی مرا اللہ نے دین اور ایمان اور عمل کی حفاظت بھی فرمائی اگر خدا نخواستہ دل میں کوئی ایسی کیفیت آ جائے تو دل صاف کرنے کیلئے یہ عمل ہارٹ کلینر کی طرح ہے ۔ 

Thursday, December 10, 2015

جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی لڑکیوں کیلئے کچھ مشورے

جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی لڑکیوں کیلئے کچھ مشورے :۔



اس مضمون میں عورت کے کچھ مسائل بیان کیے جا رہے ہیں جن کی بناء پر وہ اپنی صحت کا خیال رکھنے سے قاصر نظر آتی ہے ہم ان مسائل کے حل کیلئے کچھ آسان اور آزمودہ نسخے پیش کر رہے ہیں جن کے ذریعے عام نسانی بیماریوں کا علاج پیش کر رہے ہیں جن کے ذریعے عام نسوانی بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے ۔کسی نوجوان لڑکی کے چہرے پر اگر چند مہاسے نکل آئیں تو وہ سخت اذیت اور تکلیف میں مبتلا ہو جاتی ہے اسی ذہنی اذیت کے دوران ان کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بھی پڑ جاتے ہیں جلد بے رنگ ہو جاتی ہے ہونٹ پھیکے پڑ جاتے ہیں قد بڑھنا بند ہو جاتا ہے اور جسم کی نشوونما بھی مناسب طور پر نہیں ہو پاتی ۔ اس بات سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسی قسم کی کوئی بھی شکایت اگر کسی نوجوان لڑکی کو ہو جائے تو وہ کس ذہنی اذیت میں مبتلا ہو سکتی ہے ۔
نوجوان لڑکیوں میں پیدا ہونے والی یہ شکایات زیادہ تکلیف دہ اس صورت میں ہو جاتی ہیں جب وہ ان امراض سے سخت پریشان اور خوفزدہ رہتی ہیں اور وہ اپنی فطری شرم و حیا کی وجہ سے کسی سے اس بارے میں نہ پوچھ سکتی ہیں اور نہ مشورہ لے سکتی ہیں ۔ اسی لئے ان امراض کی لاعلمی یا کم علمی ان کے خوف کو بڑھا دیتی ہے ۔ خوف کے باوجود بھی وہ اپنی فطری شرم و حیا کی وجہ سے کسی معالج یا ڈاکٹر تو دور اپنی والدہ یا سہیلیوں سے بھی اپنے ان مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے جھجھک محسوس کرتی ہیں ۔کم عمر لڑکیاں جن شکایات کی زیادہ تر شکار رہتی ہیں اور ان سے پریشان رہتی ہیں ان میں جسم کی بالیدگی کا متاثر ہو جانا اور ہونٹوں کی رنگت کا پھیکا پڑ جانا آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کی موجودگی جلد پر داغ دھبے یا مہاسے ہو جانا ،نسوانی حسن کی پوری طرح نشوونما ہونا ، ایام میں خرابی اور سب سے بڑھ کر سیلان الرحم(لیکوریا) یہی عمر محنت ، مشقت دوڑ دھوپ اور کھیل کود کی ہوتی ہے ۔ اسی عمر میں ایام شروع ہو تے ہیں جس سے خون کا اضافی خرچ ہوتا ہے اگر اس عمر میں غذا اور عام صحت پر توجہ نہ دی گئی تو بہت سے مسائل پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ سب سے پہلے جسم کی نشوونما رک جاتی ہے پھر جسم بھرپور رعنائی اور توانائی حاصل نہیں کر پاتا ساتھ ساتھ جلد کی رنگت پھیکی اور بے رنگ پڑجاتی ہے ۔ ہونٹوں کی رنگت پھیکی پڑ جانا ، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ جانا ، آنکھوں کے سفید حصے کی رنگ سیاہی مائل ہو جانا ، ایام میں بے قاعدگی ، ہاتھ پیروں کا سرد رہنا ، جلد تھک جانا ، سانس پھول جانا ، مزاج چڑ چڑا ہو جانا یہ تمام باتیں غذا اور خون کی کمی کو ظاہر کرتی ہیں ۔ لیکوریا عام طور پر غذائی اجزاء کی کمی سے ہوتا ہے اس میں خون کی کمی کا دخل بھی ہے منرلز اور وٹامن کی کمی بھی ایک سبب ہے ۔ اندرونی زخم ، سوزش اور سرم سے بھی یہ شکایت ہو جاتی ہے ،۔ اعصابی حساسیت ،ہیجان اور دیگر ذہنی کیفیات اثر انداز ہوتی ہیں ، بعض ہارمونز کی کمی بیشی سے بھی یہ شکایت ہو سکتی ہے اس کے عام اسباب میں قبض اور خون کی کمی شامل ہیں ۔ اسی وجہ سے آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ جاتے ہیں ۔ کمر ، پنڈلیوں اور جوڑوں میں درد رہنے لگتا ہے چکر آتے ہیں اور سانس پھولنے لگتا ہے ۔ اور حسن ماند پڑ جاتا ہے اس شکایت کا ذہن پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے ۔ ناپاکی کا احساس بھی پریشان کئے دیتا ہے ۔ نوجوان لڑکیاں وہ غذائیں کثرت سے استعمال کریں جن میں پروٹین ہومثلاً گوشت، مچھلی ، انڈا، دودھ ، بالائی ، مٹر ، سویا بین، سیم، دالیں وغیرہ ۔ اس کے علاوہ پتوں والی سبزیاں ، انڈے کی زردی ،لسی ، انار ، امرود، سیب، کھجور، اخروٹ، بادام ، کلیجی ، ہڈیوںکا گودا اور یخنی بھی مفید ہے ۔ صرف نوجوان ہی نہیں ہر عمر کی عورتوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ پیدل چلیں ۔ اچھی صحت اور توانا جسم کیلئے آپ کے اندر جسم و صحت کا شعور پیدا ہونا لازمی ہے ۔ اور اب تو نہایت پس ماندہ ممالک میں بھی عورتوں کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ عورت کو اچھی خوراک کا حق ہے اچھی صحت کا حق ہے ماں بننے کا حق ہے ہر عمر میں اپنی صحت اور جسم کی دیکھ بھال کا حق ہے ۔ سب سے بڑا حق اپنے جسم و صحت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا ہے یہ تو تھے عورت کے مسائل جن کی بناء پر وہ اپنی صحت کا خیال رکھنے سے قاصر ہے ۔ہم یہاں کچھ آسان اور آزمودہ نسخے پیش کر رہے ہیں جن کے ذریعے عام نسوانی بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے ۔
٭مغز تخم تمر ہندی 12 گرام ، سمندر سوکھ 12 گرام، مازو 12 گرام تینوں ادویہ کا بریک سفوف بنا کر چنے کے برابر گولیاں بنا لیں  ایک ایک گولی دودھ کے ساتھ صبح و شام دیں لیکوریا کےلئے نہایت مفید دوا ہے ۔
٭گوند کیکر 120 گرام ، چینی 120 گرام ، کو خالص گھی میں اتنا بھون لیں کہ پھول کر سرخی مائل سیاہ ہو جائے لیکن جلے نہ ، اسے باریک کر لیں ، ایک تولہ 12 گرام صبح و شام دودھ کے ساتھ لیں ۔یہ لیکوریا کے لئے نہایت مفید دوا ہے ۔
٭پھول دھاوا 6 گرام، پھول سپاری 6 گرام ، کمر کس 6 گرام، موچرس 6 گرام ، گوند کیکر 6 گرام، گوند مولسری 6 گرام، چینی 30 گرام ،  تمام ادویہ کو باریک سفوف بنا لیں دو گرام صبح و شام نیم گرم دودھ کے ہمراہ لیں لیکوریا کیلئے مجرب دوا ہے ( کمر درد اور کمزوری دور کرتی ہے )
٭کیکر کی پھلیاں سبز بغیر بیج کے 12 گرام، کیکر کے پھول 12 گرام، مصری 24 گرام ، کا سفوف بنا لیں ۔ دس گرام صبح و شام کھائیں ۔ لیکوریا کیلئے مفید دوا ہے ، دو ہفتہ میں آرام آ جاتا ہے ۔