میں ایک ریٹائرڈ فوجی ہوں اور1971 کی جنگ کے دوران میں سیالکوٹ چھاؤنی میں سروس کررہا تھا ایک دن ظہر کے وقت میں اپنے جے سی او میں بیٹھا ہوا تھا کہ 19 لانسر کا ایک جوان میرے کمرے میں داخل ہوا اور مجھے سیلوٹ کرنے کے بعد مجھے بتایا کہ سر آپ کو ہمارے نائب رسالدار ملک خان محمد صاحب یاد کررہے ہیں جو ابھی ابھی اپریشنل ایریا سے ایک شہید کی میت لے کر آئے ہیں۔ یہ نائب رسالدار صاحب میرے گاؤں کےرہنے والے تھے اورمیرے دوست بھی تھے۔ جنگ کے دنوں میں ہم لوگ ہروقت وردی میں ہوتے تھے۔ میں فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔ 19 لانسر کی جے سی او میں تقریباً پندرہ بیس گز کے فاصلہ پر تھی درمیان میں صرف ایک سڑک تھی اس کو کراس کرکے میں فوراً ملک خان محمدصاحب کے پاس پہنچ گیا۔ ان کو سیلوٹ کیا اور ہاتھ ملایا۔ اس وقت چند جوان ایک گاڑی سے میت کی سٹریچر اتار رہے تھے انہوں نے اس میت کو برآمدے میں ایک چارپائی پر رکھ دیا۔ میں نے خان محمدصاحب سے پوچھا کہ سر یہ کون صاحب ہیں؟ انہوں نے نے کہا کہ پہلے آپ چہرہ دیکھ لیں پھر میں تفصیل بتاتا ہوں۔ انہوں نے میت کے چہرہ سے کمبل اٹھایا تو اس کے نیچے سے میں نے ایک ابدی نیند سوئے ہوئے جوان کو دیکھا جس کا چہرہ پھول کی طرح کھلا ہوا تھا‘ بال بکھرے ہوئے تھے اور پر مورچوں کی مٹی کا گردو غبار تھوڑا تھوڑا نظر آرہا تھا اور ہونٹ ایسے لگ رہے تھے جیسے ہلکی ہلکی مسکراہٹ محسوس ہورہی ہو‘ میں نےگالوں پر ویسے ہی ہاتھ لگادیا میت مجھے گرم محسوس ہورہی تھی۔ میرا خیال ہے کہ اس سوار کی شہادت تقریباً پانچ یا چھ گھنٹے پہلے ہوئی تھی بعد میں جناب خان محمد صاحب نے میرے اس گمان کی تصدیق بھی کردی تھی۔ میت کا چہرہ اتنا پرسکون تھا اس سے مجھے نور کی ایسی جھلک نظر آرہی تھی کہ میں نے اس سے پہلے اپنی زندگی میں کسی میت کا چہرہ اس طرح پرسکون نہیں دیکھا تھا۔ دل کررہا تھا کہ بس اس پرنور چہرے کو دیکھتا رہوں‘ اس پر اترتے انوارات کا مشاہدہ کرتا رہوں میں چاہ کر بھی اس پرنور مکھڑے سے نظر نہیں ہٹاپارہا تھا۔
ملک خان محمد صاحب نے مجھے آواز دی تو میں چونک اٹھا‘ مڑ کر ان کی طرف دیکھا تو انہوں نے کہا ادھر میرے پاس آجائیں میں آپ کو تفصیل بتاتا ہوں میں حیران پریشان کرسی پربیٹھ گیا۔ ان کے چہرے کی شیو بڑھی ہوئی تھی اور مسلسل کئی راتوں کی بے آرامی کی وجہ سے وہ کافی تھکے ہوئے لگ رہے تھے اور ساتھ ہی میت کی طرف دیکھ کر ان کی آنکھوں میں آنسو بھی تیر رہے تھے انہوں نے کہا کہ یہ جوان میرے ٹروپ کا تھا اس کا گریڈ تو ڈرائیور تھا لیکن پچھلے مسلسل دو دنوں سے اگلے مورچوں میں اتنی دلیری اور مستعدی سے ایمونیشن پہنچا رہا تھا کہ اس کی کارکردگی کی بدولت ہمارے جوان دشمن کی یلغار کو روکنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ سوار محمد حسین شہید نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اپنے جوانوں کی ایسی مدد کی جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اس کوشش کے دوران دشمن کا ایک برسٹ اس کوآلگا اور یہ شہید ہوگیا اس شہید کی کارکردگی اور بہادری کو دیکھ کر ہمارے سی او صاحب نے اس کی بہادری کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو بھجوا دی ہے اور ابھی ہمارے سی او صاحب اور بریگیڈکمانڈر صاحب آنے والے ہیں ہوسکتا ہے کہ اس سوار کو کوئی اعلیٰ فوجی اعزاز مل جائے چنانچہ واقعی ہی سوار محمد حسین شہید کو پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز یعنی ’’نشان حیدر‘‘سے نوازا گیا۔ یہ تھا میرا آنکھوں دیکھا واقعہ۔
Showing posts with label پاک فوج. Show all posts
Showing posts with label پاک فوج. Show all posts
Thursday, January 4, 2018
Monday, December 11, 2017
پاک فوج کے دو سپاہی بمقابلہ انڈین رجمنٹ
سہ 1965ء کی جنگ قصور سیکٹر پر گزاری ہے۔ تین واقعات میرے ساتھ ایسے ہوئے ہیں کہ جیسے کوئی ہماری غیبی حفاظت کررہا ہو‘ یعنی کہ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ پاک فوج کی غیبی حفاظت ہورہی ہے۔ پہلا واقعہ: جس دن جنگ شروع ہوئی تھی اسی دن میرے اپنے ہی ہاتھ سے سٹین گن چل گئی تو ناک اور آنکھوں کے ساتھ سے گولی اوپر نکل گئی‘ حالانکہ بچنا ناممکن تھا مگر اللہ تعالیٰ نے بچالیا۔ دوسرا واقعہ: ہم آموں کے باغ میں تھے‘ رات کی ڈیوٹی تھی‘ غالباً رات دو بجے کا وقت تھا‘ ساتھ کماد کا کھیت تھا اس میں دشمن کی گوریلا فورس اسی تاک میں بیٹھی تھی کہ ہمارے کیمپ پر حملہ کرے لیکن ہم دو آدمی ڈیوٹی پر تھے ہم نے آپس میں باتیں کیں اور باتیں بھی اس انداز سے کیں کہ جیسے بہت زیادہ لوگ ہوں تو صرف باتیں کرنے سے اللہ تعالیٰ نے ان پر ہیبت طاری فرمادی اور وہ بھاگ گئے۔ حالانکہ اگر وہ ہم پر حملہ کرتے تو ہمیں بآسانی اپنی گولیوں کا نشانہ بناسکتے تھے۔تیسرا واقعہ: میں ڈرائیور تھا‘ میرے ساتھ ایک اور ساتھی تھا‘ ہم آگے پل پر ڈیوٹی دینے والے چار جوانوں کو کھانا دینے کے بعد واپس کیمپ میں آرہے تھے‘ قصور شہر سے جونہی باہر نکل رہے تھے کہ دشمن کے دو جہاز بلندی سے ہم پر گولیاں برسارہے تھے ہم ایک چھپر کے پاس سے گزر رہے تھے جو گولیاں اور بریسٹ پانی میں لگ رہے تھے میں نے جیپ کو جلدی سے روکا اور ایک بہت بڑے درخت کے ساتھ چھپ گئے اتنے میں ہمارے لڑاکا طیارے نے ان کا پیچھا کیا تو وہ بھاگ گئے‘ اللہ نے ہمیں بچالیا پھر غالباً اسی دن میں اکیلا سڑک پر جارہا تھا میری گاڑی کا سلف سٹارٹر خراب تھا میں گاڑی بند نہیں کرسکتا تھا میرے آگے ڈی آر جارہا تھا جو بات وائرلیس پر نہ بتانے والی ہو وہ (ڈی آر) دستی کاغذ لیکر دفتروں میں پہنچاتا ہے۔ مجھ سے تھوڑا ہی آگے ایک ڈی آر جارہا تھا اس پر دشمن کے جہاز نے حملہ کای ڈی آر اللہ کے فضل سے بچ گیا لیکن سڑک میں 6x6 فٹ کا شگاف بن گیا۔ میں تھوڑا ہی پیچھے آرہا تھا اللہ نے ہم دونوں کو ہی بچالیا اور میں نے ساتھ والے کھیت کے اندر سے گاڑی نکال کر پھر اپنے کیمپ کی طرف آگیا۔ اللہ تعالیٰ اس عظیم ملک کو نظربد سے بچائے اور ہمیشہ آباد و خوشحال رکھے۔
Tuesday, December 22, 2015
دشمن کے نرغے میں ایک رات
دشمن کے نرغے میں ایک رات :۔
محترم
حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!میرے والد مرحوم پاک فوج میں ملازم تھے 1965ء کی جنگ
کے واقعات بڑے شوق سے سنایا کرتے تھے ۔ انہی میں سے ایک واقعہ عبقری قارئین کے گوش
گزر کر رہا ہوں ۔
چونڈہ
کی بڑی لڑائی کا آغاز 17 ستمبر سے ہو ا اور 21 ستمبر تک جاری رہی تاہم 10 ستمبر سے
ہی دونوں اطراف میں ٹینک یونٹوں کا اضافہ ہونا شروع ہو گیا تھا جنگ میں کبھی
سیالکوٹ پسرور ریلوے لائن پر تیزی آ جاتی تو کسی دن جلسر سیکٹر کے علاقے میں حملہ
ہو جاتا دشمن سیالکوٹ کو بائی پاس کرتے ہوئے وزیر آباد پہنچنا چاہتا تھا ۔ اس
زمانے میں ٹینکوں کی لڑائی رات کے وقت نہیں ہوتی تھی کیونکہ ٹینکوں پر اندھیرے میں
دیکھنے کے آلات نہیں ہوتے تھے اس لئے سورج ڈوبنے کے وقت دونوں اطراف کے ٹینکوں کو
واپسی کا حکم ملتا اور دو دو کلومیٹر اپنے اپنے علاقے میں پیچھے آ کر رک جاتے اور
مرمت ایمونیشن اور پٹرول ڈلوانے کا کام
رات کو ہوتا رہتا تاکہ تیاری کر کے اگلے دن پھر صبح فرنٹ لائن پر جانا ہوتا تھا
تاہم انفنٹری اور توپ خانہ رات کو اپنی کاروائیاں جاری رکھتے ۔18 ستمبر لڑائی
زوروں پر تھی دشمن کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ آگے نہیں بڑھ سکتا اب صرف اپنا منہ
اونچا دکھانے کیلئے لڑ رہا تھا سارا دن توپوں کی گھن گرج آسمان پر ہوائی جہازوں کی
چیخ چنگاڑ اور ٹینکوں کی خوفناک جنگ بغیر وقفے سے جاری تھی ۔ دھواں اور گرد و غبار
اس قدر زیادہ تھا کہ ٹینک بہت قریب سے اور بعض اوقات سو میٹر سے بھی کم فاصلے پر
ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے تھے ایک عینی شاہد فوجی کا کہنا ہے کہ بعض موقع پر
اچانک انتہائی قریب سے دشمن نظر آیا دونوں خراب ہوئے وہیں پر چار چار جوان ٹینکوں
سے باہر نکلے اور دست بدست جنگ ہوئی اللہ پاک کا شکر ہے ایسے واقعات میں بھی زیادہ
تر پاکستانی فوجیوں کا پلہ بھاری رہا سورج غروب ہونے پر دونوں اطراف کے ٹینکوں کو
واپسی کا حکم ملا ۔ ہمارا ایک ٹینک جو دشمن کے ٹینکوں کے بہت ہی زیادہ قریب تھا
وائرلیس سسٹم تباہ ہونے کی وجہ سے واپسی کا آرڈر نہیں سن سکا اس میں صوبیدار صاحب
اور دوسرے تین جوان شام کے اندھیرے اور گرد و غبار کی وجہ سے درست سمت کا اندازہ
نہیں لگا سکے اور محض دوسرے ٹینکوں کا رخ موڑتے دیکھ کر ان کے ساتھ غلطی سے بھارت
کی طرف چل پڑے ، تین چار کلو میٹر دور جا کر ٹینک جھمگٹوں میں درختوں کے نیچے کھڑے
ہو گئے ۔ ابھی تک صوبیدار صاحب اور ساتھیوں کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کس خطرناک
صورتحال میں گھر چکے ہیں ۔ ان کے دو ساتھی نکل کر کھانا لینے کیلئے لنگر کی طرف
رروانہ ہوئے اور بغیر کھانا لئے بہت جلد گھبرائے ہوئے واپس آ گئے ۔ انہوں نے بتایا
کہ بھارتی فوجیوں کی وردی پر پونا ہارس (رجمنٹل بیچ ) کا نشان ہے اور اردگرد کے
ٹینک بھی اپنے نہیں ہیں یہ سب کچھ انہوں نے لنگر کی آگ کی روشنی میں دیکھا تھا ۔
بہر حال صوبیدار صاحب نے اللہ پاک سے دعا کی اور ساتھیوں کی ہمت بند ھائی اور دو
بندوں کو پھر کھانا لینے بھیجا ۔ اس دفعہ انہوں نے قمیص اتاری ہوئی تھی اور منہ پر
ذرا تولیہ لپیٹ رکھا تھا ۔ لنگر پر بھارتی فوجیوں کی لائن لگی ہوئی تھی اور جلدی
جلدی کھانا تقسیم کیا جارہا تھا ۔ باری آنے پر دونوں جوانوں نے تولیے سے پسینہ
پوچھتے ہوئے پلیٹیں آگے کر دیں اور کھانا لے کر باخیریت ٹینک میں آ گئے ۔اب چارو ں
یہاں سے بچ نکلنے کی تدبیریں سوچنے لگے ان کو پتہ تھا تھوڑی دیر بعد پٹرول ڈالنے
والے آ جائیں گے پھر ایک گروپ ٹینک کی مرمت کے بارے میں پوچھنے آئے گا ۔ اس کے
علاوہ ایک گروپ ٹینک کیلئے ایمبونیشن دینے آئے گا ۔ ان تمام حالات کا اندازہ کرتے
ہوئے ان میں گھبراہٹ طاری ہو رہی ہے ۔ ٹینک کو سٹارٹ کر کے بھگا لے جانا ابھی ممکن نہیں تھا لیکن صبح کی روشنی
سے پہلے پہلے وہاں سے نکلنا ضروری تھا اللہ پاک سے التجا کرتے ہوئے سب نے بار بار
دعائیں مانگیں آخر صوبیدار صاحب نے اپنے تینوں جوانوں کو کہا ہم ہتھیار بالکل نہیں
ڈالیں گئے ۔ او بچنے کی پوری کوشش کریں گئے ۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا جو بھی کام
کرنے والے بندے آئیں بالکل مختصر بات کرنی ہے جیسے ٹھیک ہے کر دو ، نہیں ضرورت
وغیرہ وغیرہ تھوڑی دیر بعد بھارتی فوج کی پٹرول ڈالنے والی گاڑی آئی اور ٹینک میں
پٹرول ڈلوالیا ۔ پانچ گولے پہلے سے بچے ہوئےتھے ۔ سحری کے وقت بھارتی فوجیوں کی
نقل و حرکت شروع ہو گئی ۔ رسالے کو مارچ کا حکم آنے والا ہے لیکن صوبیدار صاحب نے
بسم اللہ پڑھتے ہوئے اپنا ٹینک پہلے سٹارٹ کر دیا اور کبھی آگے اور پیچھے کرتے
ہوئے دشمن کے جم گٹھوں سے ذرا سو میٹر باہر لے آئے یک دم انہوں نےے بڑی گن کا رخ
بھارتی ٹینکوں کی طرف کیا پورے پانچ گولے دشمن پر فائر کیئے۔ اور فرنٹ لائن کی طرف دوڑ لگا دی جو کہ تین چار
کلو میٹر دور تھی ۔ تھوڑی دیر تک دشمن کو بالکل سمجھ نہیں آئی پھر اس نے توپ خانے
کی مدد سے ٹینک کو روکنے کی کوشش کی ۔ بہر حال فرنٹ لائن کے قریب پہنچ کر ایک اور
خطرناک مرحلہ ابھی عبور کرنا باقی تھا پاکساتی فوجیوں کو کیسے معلوم ہو کہ بھارت
کی طرف سے ان کا اپنا ٹینک آ رہا ہے ۔ اب قدرے روشنی ہونے لگی تھی ٹینک کی گن پر
سفید کپٹرے باندھ دیے گئے اور گن کا رخ ایک سائیڈ کی طرف موڑ دیا گیا تاکہ دیکھنے
والوں کو معلوم ہو کہ خطرناک ارادہ نہیں ہے ۔ پاک فوج کے جوانوں نے ٹینک کو نشانے
پر لے رکھا تھا اور عجیب کشمکش میں دیکھ رہے تھے کہ دشمن ہتھیار ڈالنے کیوں آ رہا
ہے ۔ ٹینک آہستہ آہستہ بڑھتا ہوا ہمارے مورچوں کے درمیان آ گیا چاروں جوان نعرہ
تکبیر بلند کرتے ہوئے باہر نکلے اور اردگرد موجود فوجی جوانوں سے گلے مل رہے تھے
یہ اللہ پاک کی مدد شامل حال تھی جس کی وجہ سے انہوں نے خطرناک صورتحال میں رات
گزارنے کے باوجود بھارت کے پانچ ٹینک تباہ کر دیئے اور خود بھی کامیابی سے واپس آ
گئے ۔
Sunday, November 15, 2015
سوار محمد حسین شہید کا مقام و رتبہ اپنی آنکھوں سے دیکھا
سوار محمد حسین شہید کا
مقام و رتبہ اپنی آنکھوں سے دیکھا :۔
اس عظیم شہید کی شہادت کے تین سال بعد کی کہانی سنانے سے
پہلے میں ان کی حیات پر ایک نظر ڈالنا چاہوں گا سوا محمد حسین شہید 18 جون 1949 ء
کو ڈھوک پیر بخش کے مقام پر پیدا ہوئے تین ستمبر 1966ء کو پاک فوج میں بھرتی ہوئے
۔ پاک فوج میں بھرتی ہونے کے بعد آپ نے ڈرائیونگ میں مہارت حاصل کی ۔ 1971ء کو
سوار محمد حسین شہید نشان حیدر شکر گڑھ کے محاذ پر جا کر نوجوانوں کو اسلحہ اور بارودپہنچا رہے تھے 6 ستمبر 1971 ء
کو وہ ایک لڑاکا اور پر خطر مہمات میں ان کے ہمراہ جاتے رہے ۔10 دسمبر 1971ء کو
سوار محمد حسین شہید نے دشمن کو ہرا ر خورد گاؤں میں مورچے کھودتے دیکھ کر یونٹ
کمانڈر کو اطلاع دی ۔ سوار محمد حسین شہید کی ذاتی کوششوں سے دشمن کے 16 ٹینک تباہ
ہوئے دس دسمبر کو ہی چار بجے سوار محمد حسین شہید اپنے ایک رائفل سے دشمن کو
ٹھکانے لگاتے ہوئے گولیوں کی بوچھاڑ میں شہید ہوئے میجر امان اللہ کی سفارش پر
سوار محمد حسین شہید کو نشان حیدر سے نوازا گیا ۔آپ کی شادی 1971ء میں ہوئی ۔ آپ کی
اولاد میں ایک بیٹی اور ایک بیٹا شامل ہے ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 1965ء کی
پاک بھارت جنگ میں سوار محمد حسین شہید نشان حیدر ابھی دیوی ہائی سکول میں زیر
تعلیم تھے لیکن ان کے دل میں وطن سے بھر پور محبت کا جزبہ موجود تھا آپ نے پرائمری
تک تعلیم جھنگ پیرو میں حاصل کی ۔ آپ گھر میں شلوار قمیض یا تہبند باندھتے تھے جنگ
پر جانے سے پہلے آپ کے والد محترم نے آپ کو سفید کپڑوں کا ایک جوڑا دیا ۔سوار محمد
حسین شہید اکثر واقعہ کربلا دہرایا کرتے تھے اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ
عنہ کی جرات و شجاعت پر جھوم جھوم جایا
کرتے تھے ۔ آپ جب شہید ہوئے تو آپ کی جیب سے سو روپے ایک منی آرڈر اور دو خون آلود
خط بر آمد ہوئے جب سوار محمد حسین شہید کی شہادت کی خبر ان کے والد کو دی گئی تو
ان کے پہلے الفاظ یہ تھے کہ محمد حسین شہید نے کہیں میدان جنگ میں بزدلی تو نہیں
دکھائی میدان جنگ میں جب ان کے ساتھیوں سے پوچھا گیا کہ ان کا جزبہ کیا تھا تو
ساتھی بتاتے ہیں کہ سوار محمد حسین شہید کو وطن کی خاطر جان قربان کرنے کا بہت شوق
تھا وہ بہت زیادہ جزبے سے لڑ رہے تھے اور ہر وقت اپنے ساتھیوں کا مورال بلند کرتے
رہتے تھے رات کو آگ جلا کر سب کو مختلف طریقوں سے خوش کرتے لطیفے سناتے ۔ درج بالا
معلومات تو شاید کافی لوگوں کو معلوم ہوں گی مگر اب جو میں بتانے جارہا ہوں وہ بہت
کم لوگ جانتے ہیں سوار محمد حسین جب شہید ہوئے تو جنگ کے حالات تھے ان کا جسد خاکی
ان کے گاؤں نہیں پہنچایا جا سکتا تھا اس لئے ان کو وہیں محاذ پر ہی امانتا ً دفنا
دیا گیا ۔ تقریبا ً ایک ماہ کے بعد ان کے جسدخاکی کو وہاں سے نکال کر ان کے گاؤں
میں لایا گیا مگر ان کے دادا نے کسی کو بھی شہید کا دیدار نہ کرنے دیا ۔ تقریبا ً
تین سال کے بعد پاک فوج نے آپ کا مزار بنانے کیلئے آپ کا تابوت مبارک قبر سے نکالا
تو دادا نے علماء کرام کہ مشورے سے تابوت کو صرف چہرے کے حصے سے کھولا تو
ماشاءاللہ اب بھی خون تازہ تھا اور پورا علاقہ خوشبو سے بھر گیا پورے گاؤں نے تسلی
سے شہید کا دیدار کیا ۔ شہادت کے تیسرے سال بھی وہ ایسے ہی تھے جیسے ابھی ابھی
انہیں شہید کیا گیا ہو بےشک شہید کو موت نہیں ہے میری آنکھوں کے سامنے آج بھی وہ
منظر بالکل تازہ ہے ۔
Thursday, October 15, 2015
پاک فوج کے ساتھ اللہ کی مدد کا انوکھا واقعہ
پاک فوج کے ساتھ اللہ
کی مدد کا انوکھا واقعہ:۔
محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!میں نے اپنی زندگی کے 32
سال پاک فوج کی خدمت کی ہے ۔ اس دوران بہت سے نشیب و فراز آئے بارڈر پر بہت ہی
عجیب و غریب کچھ واقعات بھی ہوئے ۔ آج کل میں ریٹائرڈ فوجی کی زندگی گزار رہا ہوں
اور جب کبھی تنہا ٹیرس پر بیٹھ کر چائے کاکپ ہاتھ میں پکڑ کر بہار رفتہ کی یادیں
دماغ میں بستی ہیں تو چہرے پر ہلکی سی مسکان اور آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں ۔ فوج
میں گزرے صبح و شام کتنے شاندار ہوتے ہیں اس کا مشاہدہ صرف کسی پاک فوج کے جوان کو
ہی ہو سکتا ہے ۔سروس کے دوران ایک مرتبہ ہماری ڈیوٹی آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں
کے جنگلات میں بارڈر پر لگی ۔ وہاں ہماراا مقابلہ دشمن کے ساتھ ساتھ جان لیوا
کھائیوں اور خطرناک جانوروں سے بھی تھا ۔ ان علاقوں میں ایسی ایسی خطرناک کھائیاں
ہیں کہ اگر کوئی گیا تو اس کی ہڈی تک ملنا مشکل ہے کیونکہ ہزاروں فٹ گہری نوک دار
پتھریلی کھائیوں میں جب کوئی گرتا ہے تو اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں اور
جو بچتا ہے وہ درندے نہیں چھوڑتے ۔ ہمیں
وہاں آئے چند دن ہی ہوئے تھے کہ ایک مرتبہ ہمار ا ایک جوان پاؤں پھسلنے کی وجہ سے
ان ہزاروں فٹ گہری پتھریلی کھائی میں گر گیا اس سے بھی خطرناک بات ہمارے کسی ساتھی
کو اس کے گرنے کا علم نہ تھا ۔ جب وہ کافی دیر غیر حاضر رہا تھا تو ساتھیوں کو
تشویش ہوئی اس کو ادھر ادھر جنگلوں میں خوب ڈھونڈا گیا مگر وہ نہ ملا تو سمجھا گیا
شاید وہ بھاگ گیا ہے ۔ ہمارے آفیسرز کے حکم پر ہمیں کہا گیا کہ آس پاس شہر کے بس
اڈوں اور دیگر جگہوں پر جا کر اس کو تلاش کیا جائے ہم نے باہر جانے والے راستوں ،
بس اڈووں ہر جگہ چھان ماری مگر ہمیں وہ جوان نہ مالا ۔ سب پریشان تھے کہ اچانک وہ
کہاں غائب ہو گیا ؟ ان کی پوسٹ سے لے کر ہیڈ کوارٹر تک رات گئے تک سب ڈھونڈتے رہے
مگر وہ نہ ملا تھک ہارکر اس کی تلاش بند کر دی گئی ۔اور صبح اس کے گھر رابطہ کرنے
کا سوچ کر سب سو گئے ، اگلی صبح ایک جوان ایسے ہی ٹہل رہا تھا اچانک اس نے ایک
کھائی میں دیکھا تو اسے دور نیچے ایک خاکی سی چیز نظر آئی، اس نے فوراً ہم سب کو
اطلاع کی ہم سب وہاں پہنچے اور دور بین سے نیچے دیکھا تو ایک جوان پڑا تھا ۔ مختلف
تدابیر کر کے گھنٹو ں لگا کر کچھ جوانوں کو نیچے بھیجا گیا ،آدھے دن کی محنت کے
بعد وہ جوان بڑی مشکل سے اوپر لے کر آئے تو سب حیران رہ گئے کہ ہزاروں فٹ بلندی سے
پتھروں سے ٹکرا ٹکرا کےنیچے گرنے والے کا جسم بالکل صحیح سلامت تھا اتنے خطرناک
جنگل میں جہاں بھیڑیے ،تیندوے ، سانپ ،بچھو
اور پتہ نہیں کس کس قسم کے جانور ہیں ۔انہوں نے اس کو چھوا تک نہیں، اور اتنی شدید
سردی کہ انسان دو منٹ باہر بیٹھ جائے تو اس کا خون جم جائے، اور وہ جوان آدھا دن
اور ساری رات کھلے آسمان کے بیچے پڑا رہا ، اس کا جسم بالکل نارمل درجہ حرات میں
تھا ۔سانس چل رہا تھا ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسے سی ایم ایچ راولپنڈی پہنچایا گیا ،
تھوڑی سی ٹریٹمنٹ کے بعد اسے ہوش آ گیا ، اس کے جسم کی چند ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں ،
ایک سال علاج کے بعد وہ بالکل تندرست ہو گیا اور یونٹ میں حاضر ہو گیا ۔
Tuesday, September 29, 2015
چیتھڑوں میں بٹا جسم بوقت تدفین سلامت
چیتھڑوں میں بٹا جسم
بوقت تدفین سلامت:۔
محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!اللہ پاک آپ کو آپ کی
پوری ٹیم کو دین و دنیا کی تمام کامیابیاں عطا فرمائے ۔ آمین! محترم قارئین ! بے
شک اللہ پاک کی راہ میں لڑنے ، مرنے اور مارنے والے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ۔ آج ایک
ایسے ہی واقعہ کیلئے عاجزہ حاضرہوئی ہے ۔ میری دوست کے ایک بھائی سیاچن کے محاذ پر
شہید ہو چکے ہیں ۔ اللہ پاک کے اس بندے کو شہید ہونے کی تڑپ بھی کچھ زیادہ ہی تھی
۔ اللہ پاک اپنے عاشقوں کی ایسی تڑپ کا اجر ضرور دیتا ہے جیسے کہ انہیں بھی ملا ۔
وہ اپنی شہادت سے پہلے ایک دن ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم لوگ جب
سیاچن کی برف پوش پہاڑی پر کیمپ لگائے ہوئے تھے تو رات کی تاریکی میں دور ایک
پہاڑی پر ہمیں بہت پیاری روشنی نظر آئی جیسے کہ اس جگہ پر سو واٹ کا کوئی بلب جل
رہا ہو ۔ پہلے تو ہم نے توجہ نہ دی مگر جب آپس میں فوجیوں میں اس بات کا ذکر ہوا
تو سب نے کہا کہ یہاں اس ویران جگہ میں ایسے کون لوگ رہتے ہیں اور ہم میں سے کسی
کے علم میں بھی نہیں ؟ اسی شوق و تجسس میں رات گزری اور اگلے دن ہمارے افسر صاحب
تین چار فوجیوں کو لے کر اس جگہ پر ( جہاں روشنی نظر آتی تھی) پہنچنے کیلئے چل پڑے
کچھ سفر طے کر کے ہم جب اس جگہ پہنچے تو اللہ پاک کی قدرت کا عجیب نظارہ دیکھ کر
حیران رہ گئے کیونکہ اس جگہ بڑے پتھر کی اوٹ میں ایک شہید فوجی کی لاش پڑی تھی جس
پر ایک ہی زخم یعنی گولی کا نشان تھا اور اس نشان کے علاوہ وہ شہید جسم صاف اور
سلامت نظر آتا تھا ۔ اس کا چہرہ صاف ، پر سکون اور پر نور نظر آتا تھا اور لباس
بھی سلامت ، اس کی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی کی سوئیاں رکی ہوئی تھیں ۔ اور ساتھ
تاریخ بھی لکھی ہوئی تھی۔ جب اس کی شہادت کا سن چیک کیا گیا تو پتہ چلا کہ اس کی
شہادت کا وقت آج سے تقریباً پچاس سال پہلے کا ہے۔ ہم لوگ بہت احترام کے ساتھ اس کی
لاش اٹھا لائے اور اس کے لواحقین کو تلاش کیا اور جب ان تک پہنچے تو پتہ چلا کہ اس
مجاہد کے دو بیٹے جو اس کی شہادت کے وقت کم عمر تھے اب اپنے پوتوں ، نواسوں کے
دادا ، نانا بھی بن چکے ہیں ۔ سبحان اللہ ! اللہ پاک نے پاک وطن کی سرحدوں کی
حفاظت کرنے والے جوان کی لاش کو کس طرح اتنے سال سردی ، گرمی ، دھوپ ، بارش میں
محفوظ رکھا بلکہ راتوں کو اس کو روشن بھی رکھا تا کہ کسی موذی جانور سے بھی نقصان
نہ ہو ۔ سبحان اللہ تیری شان مولا ! اسی طرح کا ایک اور واقعہ میرے کزن نے سنایا
جو کہ خود پاک آرمی کے جوان ہیں ، وہ بتاتے ہیں کہ ہمارے ایک فوجی جوا ن شہادت کے
رتبے پر فائز ہوا تو اس کے جسم کا حال یہ تھا کہ لاش لے جانے کے قابل نہ تھی ۔
کیونکہ جسم کے کچھ چیٹھڑے ہی باقی بچے تھے۔ وہ شہید اپنی بہنوں کا اکلوتا بھائی
تھا ، بہر حال اس کے جسم کے بچے کھچے ٹکڑے اکٹھے کیے اور مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ
اس کے جسم کی پاک باقیات تابوت میں ڈال کر اس کے گھر پہنچائی گئیں ۔ اب اس کی ماں
اور بہنیں رو رو کر ہم سے التجا کرتی تھیں کہ ہمیں اس کا آخری دیدار کر وا دوان کے
حد درجہ اصرار پر ہم نے پریشان ہو کر اپنے افسر صاحب کی طرف دیکھا کہ اب ان ماں
بہنوں کو کیا بتائیں اور کیا دکھائیں کہ اپنے پیارے کے جسم کا یہ حال دیکھ کر وہ
اور بھی دکھ سے نڈھال ہو جائیں گی۔ ہمارے افسر صاحب نے جب ان کی تڑپ دیکھی تو ہمیں
مجبوراً دیدار کرانے کا اشارہ دے دیا اور آخر بے بس ہار کر میں نے چہرے کی جگہ سے
تابوت ہٹا دیا مگر جب میں نے تابوت ہٹا یا تو اللہ پاک کی قدرت یوں دیکھی کہ اس
پاک فوج کے شہید کا چہرہ جو دراصل چہرے کا ایک حصہ بھی نہ تھا ۔ چند گوشت کی
بوٹیاں تھیں ۔ اللہ پاک نے اس کی ماں بہنوں کی خوشی کی خاطر صحیح سلامت کر دیا ۔
میں نے جب تابوت ہٹایا تو یہ منظر دیکھ کر میں کافی دیر تک سکتے کی حالت میں یہ
منظر دیکھتا رہا ۔ پھر اس کی ماں بہنوں کے علاوہ تمام لوگوں نے جی بھر کر اس عظیم
شہید کا دیدار کیا سبحان اللہ۔
ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر38
Subscribe to:
Posts (Atom)






