Showing posts with label عورتوں کے حقوق. Show all posts
Showing posts with label عورتوں کے حقوق. Show all posts

Thursday, January 4, 2018

شوہر کے پاس اڑ کر پہنچنے کا وظیفہ


آپ اپنے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہیں اور وہ بیرون ملک ہیں تو آپ پہلے ہوائی جہاز کی تصویر رکھیں گی پھر جس ملک میں جانا چاہتی ہیں اس ملک کے جھنڈے کی تصویر رکھیں گی اس کے اوپر پرچی پر اپنا مقصد لکھیں گی اور ایک صاف کاغذ پر مقناطیس کی تصویر بنا کر رکھیں گی۔ عشاء کے بعد 313 مرتبہ

 پڑھ کر حضور نبی کریم ﷺ کو ہدیہ کرکے آپ ﷺ کے وسیلہ جلیلہ سے اس کا ہدیہ اپنے شوہر کی روح کو کردیا کریں انشاء اللہ‘ اللہ تعالیٰ اپنے پاک نام کے صدقے سے آپ گھر بہترین جگہ پر ضرور بسائے گا۔ روزانہ دو رکعت نفل حاجت کے پڑھیے اور اس میں توبہ کی بھی نیت کرلیا کریں۔ 
عمل نمبر2:۔
 چالیس دن تک استغفار پڑھیے‘ 313 مرتبہ

 پاک ناپاک ہر حالت میں پڑھ سکتےہیں۔ 
عمل نمبر3:۔
 شیشے کا کھلے منہ والا پیالہ لے لیں پھر اس میں کچھ سکے ڈالیں جیسے پانچ والا‘ دس والا سکہ ڈالیں پھراپنی حیثیت کے مطابق نوٹ ڈالیں جیسے سو والا‘ پچاس والا‘ بیس والا‘ دس والا (خیال رہے بعد میں یہ پیسے خیرات کرنے ہیں) پھر ان نوٹوں کے اوپر اپنے مقصد کیلئے تصور رکھیں جیسے اگر آپ اپنے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہیں اور وہ بیرون ملک ہیں تو آپ پہلے ہوائی جہاز کی تصویر رکھیں گی پھر جس ملک میں جانا چاہتی ہیں اس ملک کے جھنڈے کی تصویر رکھیں گی اس کے اوپر پرچی پر اپنا مقصد لکھیں گی اور ایک صاف کاغذ پر مقناطیس کی تصویر بنا کر رکھیں گی۔(نوٹ: ایک خالی پیپر لیں اس پر کچی پنسل سے ایک تصویر بنائیں اور چوکور یا گول اور تصور کریں کہ یہ مقناطیس ہے اور اس سے کشش مل رہی ہے) یہ تصویر سب سےآخر میں ڈالیں گی۔ اس پیالہ کو الماری یا بند جگہ نہیں رکھنا بلکہ کھلی جگہ رکھیں گی جہاں آتے جاتے آپ کی نظر پڑتی رہے اور روزانہ کے حساب سے اس میں کچھ پیسے خیرات کی نیت سے ڈالتی رہیں جب آپ کامقصد پورا ہوجائے تو باؤل کے تمام پیسے خیرات کردیں اور شکرانے کے نفل پڑھیں‘ انشاء اللہ کچھ عرصہ میں آپ کاکام ضرور ہوگا۔ جن لوگوں کی شادی نہیں ہورہی وہ اس میں کسی شادی شدہ جوڑے کی تصویر ڈال دیں باقی طریقہ وہی ہے اگر ہوسکے اور حیثیت ہو تو سونے (گولڈ) کی کوئی چھوٹی سی چیز اس میں ڈال دیں اور کام ہونے کے بعد خیرات کردیں اگر شوہر لینے نہیں آرہا تو شوہر کی تصویر ڈال دیں باقی طریقہ وہی ہے اگر آپ کا گھر نہیں ہے تو کسی گھر کی تصویر ڈال دیں اوپر مقصد لکھ کر مقناطیس کی تصویر بنا کر ڈال دیں۔
 (نوٹ: ایک خالی پیپر لیں اس پر کچی پنسل سے ایک تصویر بنائیں اور چوکور یا گول اور تصور کریں کہ یہ مقناطیس ہے اور اس سے کشش مل رہی ہے)۔ تھوڑے تھوڑے پیسے اس کے اوپر خیرات کی نیت سے ڈالتے جائیں جب پیالہ بھر جائے تو اوپر سے اٹھا کر خیرات کردیں اور مقصدپورا ہوجانے تک یہ کام کرتے رہیں جن لوگوں کو جائز پیسہ چاہیے وہ اس میں سونے کی یا پیسوں والی کوئی تصویر رکھ دیں ۔ جو علم کے متلاشی ہیں‘ رزق کی تلاش میں ہیں‘ اچھی نوکری چاہتے ہیں‘ اچھا گھر‘ کاروبار وہ تمام اپنے اپنے مقصد کا تصور کرکے یہ عمل کرسکتے ہیں۔ باقی سب طریقہ وہی ہے۔ ساتھ ہی دعا اور محنت کو نہ چھوڑئیے گا۔ اپنے اللہ اور اس کے حبیب حضور نبی کریم ﷺ کی اتباع کیجئے اس میں سب کی فلاح ہے۔
 (نوٹ: تصویر والا عمل صرف جائز کام کیلئے کریں‘ ناجائز کسی غیرمرد یا غیرعورت کی تصویر ڈال کر سخت گنہگار نہ ہوں‘ مشاہدہ میں ہے جس جس نے ناجائز کیا اس کے ساتھ انتہائی عبرت ناک معاملہ ہوا۔ سختی سے منع ہے۔ اگر میری یہ تحریر پڑھ کر کسی کا اجڑا گھر بس جائے تو وہ میرے لیے اور پوری امت محمدیہ ﷺ کی مغفرت کیلئے ضرور دعا کریں۔ قارئین! اس روحانی ٹوٹکہ کو ہرگز عام نہ سمجھئے گا ۔یہ ٹوٹکہ ان بیچاری بیویوں کیلئے لکھ رہی ہوں جو سالہا سال سے شوہر کے پاس جانے کو ترس گئی ہیں۔ قارئین! یہ عمل من و عن شائع ہوا‘ اس کی شرعی حیثیت ملحوظ رکھیں۔

Tuesday, August 30, 2016

بہترین بیوی بننے کے کامیاب اصول

بہترین بیوی بننے کے کامیاب اصول


اللہ تعالیٰ نے عورت کو عبث پیدا نہیں کیا بلکہ اس کے ذمہ افزائش و تربیت نسل کا بہت اہم کام ہے جس کا نبھانا اس پر لازم ہے۔ ارشاد نبویﷺ ہے کہ تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے‘ ہر کسی سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ معاشرے میں اہم مقام ہونے کی وجہ سے عورت بھی جواب دہ ہوگی۔ بہن، بیٹے، بیوی اور ماں ہونے کی حیثیت سے اس کے کردار کے بارے میں سوال ہوگا۔ ایک بیوی ہونے کی حیثیت سے اس پر مندرجہ ذیل ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی نگران ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ عورت اگر اپنے فرائض سے کوتاہی کرے گی تو وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمان ہوگی‘ عورت پر شوہر کی عزت کرنا‘ بچوں کی پرورش کرنا‘ مرد کے مال کی حفاظت کرنا اور اس کی عزت کی حفاظت کرنا لازم ہے۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: ’’مرد حاکم ہے عورتوں پر اس واسطے کہ بڑائی دی اللہ نے ایک دوسرے پر اور اس واسطے کہ خرچ کئے انہوں نے اپنے مال‘ پھر جو عورتیں نیک ہیں‘ تابعدار ہیں‘ نگہبانی کرتی ہیں‘پیٹھ پیچھے ان چیزوں کی جن کی حفاظت اللہ نے فرمائی‘‘ ایک بیوی ہونے کے ناطے عورت کا اولین فرض یہ ہے کہ اپنے خاوندکی عزت کرے اور نافرمانی نہ کرے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر میں کسی دوسرے کو (اللہ تعالیٰ کے علاوہ) سجدے کی اجازت دیتا تو عورت کو اپنے خاوند کیلئے سجدے کا حکم دیتا‘‘ گویا کہ مرد عورت کا مجازی خدا ہے۔ بہترین بیوی وہ ہوتی ہے جو اپنے خاوند کیلئے سکون اور تسکین کا باعث ہو۔ اسے اپنی زبان اور رویہ سے تکلیف نہ دے بلکہ اس کیلئے خوشی اور طمانیت کا باعث ہو۔ اپنے آپ کو خاوند کا فرمانبردار اور تابعدار بنادے لیکن ایک بات کا دھیان رہے کہ جس حکم میں اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی ہو اس حکم کی ہرگز پیروی نہ ہو بلکہ خوش اسلوبی اور احسن طریقے سے شوہر کی اصلاح کرے اور اسے اسلامی احکام سے آگاہ کرے‘ محبت اور پیارسے اسلامی اصولوں سے آشنا کرے‘ اطاعت اور خدمت سے اپنے کردار کاثبوت دے تاکہ خاوند اس کی طرف مائل ہو۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اس عورت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو جو خود بھی نمازتہجد کیلئے اٹھے اور اپنے خاوند کو بھی اٹھائے اور اگر نہ اٹھے تو اس پر پانی کے چھینٹے مارے۔‘‘

Monday, August 15, 2016

جو میں نے دیکھا سنا اور سوچا قطع رحمی سے سب کچھ اجڑ گیا -


 حدیث کا مفہوم ہے صلہ رحمی سے عمر بڑھتی ہے‘ رزق بڑھتا ہے‘ دعائیں قبول ہوتی ہیں ‘اور بے شمار فضائل ہیں صلہ رحمی میں۔ صلہ رحمی کیا ہے؟ رشتہ داروں کو ان کی کوتاہیوں کمیوں اور عیبوں کے باوجود معاف کرتے رہنا۔ ہر رشتے دار سے لڑائی جھگڑا مول نہ لینا بلکہ وہ برا کرتے جائیں تو بار بار اچھا کرتے جانا۔ اگر پھروہ بار بار برا کریں توپھر بار بار اچھا کر اور ان کو معاف کرتا جا اسی کا نام صلہ رحمی ہے۔ وہ اچھا کرے تو اچھا کر‘ پھر وفا تو نہ ہوئی‘ بلکہ وہ برا کریں توتم اچھا کرو ‘اسی کو صلہ رحمی کہتے ہیں۔ فرمایا: جو تجھ پر ظلم کرے اسے معاف کر جو تیرا حق چھینے تو اسے عطا کر‘ جو تجھے محروم کرے تو اس کو دیتا چلا جا‘ میں نے ایک نہیں کئی گھرانے ایسے دیکھے کہ بہو آئی اور اس نے آتے ہی سب کو جدا کردیا یا ساس نے کسی کو کسی کے منہ دکھانےکے قابل نہ رکھا‘ سب سے لڑائی ‘سب کا جھگڑا اور سب کے عیبوں کو لے کر بیٹھ جانا۔ قارئین! سچ پوچھیں جتنا بھی ہمارے مزاج میں معافی بڑھتی جائے گی درگزر بڑھتا جائے گا اتنا اللہ کی بارگاہ میں ہمارا تعلق بہتر سے بہتر ہوتا چلا جائے گا اور جہاں آخرت بہتر ہوگی وہاں دنیا میں انوکھی برکات اور انوکھے کمالات ملنا شروع ہوجاتےہیں۔ میں آج ایک گھر کا قصہ سچی کہانی کے طور پر لکھ رہا ہوں ہنستا بستا گھر، ساس فوت ہوگئی‘ سسر فوت ہوگیا‘ دو بھائی گھر میں رہتے ہیں‘ ایک بہو نے آتے ہی گھر میں قینچی چلائی اور دوسری بہو میرے کہنے پر صبر حوصلہ کرتی چلی گئی‘ صابر بہو کو رب نے بیٹوں اور رزق والی دولت سے نوازا اور مسلسل رب نواز رہا ہے اور جس نے حسد، کینہ، بغض ،لڑائی جھگڑا کو ہروقت مول لیا اس کا رزق بھی گیا‘ بیٹے بھی نہ ملے‘ زندگی کا سکون بھی گیا‘ حیرت انگیز انوکھی بیماریاں اس کی ہڈی ہڈی اور ریشہ ریشہ میں رچ بس گئی ہیں۔ یہ اس کے ہاتھ کا لکھا ایک خط آپ ملاحظہ فرمائیں کہ قطع رحمی انسان کا رزق‘ صحت اور سکون چھین لیتی ہے۔ آئیے! آج کے بعد ہم فیصلہ کریں کہ رشتہ داروں کی زیادتیوں کے باوجود بھی ہم ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرتے چلیں جائیں اللہ کی بارگاہ میں ضرور انصاف اور اللہ انسان کو ضرور عطا فرماتا ہے۔ ’’محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! آپ مجھ سے بہت سخت ناراض ہیں‘ میں نے دو ہفتے پہلے آپ کے پاس آنا تھا مگر میرے مالی حالات اس قدر خراب تھے کہ میرے پاس پٹرول کے پیسے نہیں تھے‘ دس دن تین سو روپے میں گزارے‘ میں نے مارچ کے آخری ہفتے اور اپریل میں بھی دس دن ایک وقت کا کھانا کھایا اور شوہر نے بھی صرف ایک وقت کا کھانا کھایا۔ بچوں کو سات دن میں نے سادہ چاول کھلائے۔ اللہ سے بہت مانگا‘ بڑی تسبیح پڑھی‘ استغفار بھی کیا لیکن دس دن کچھ نہ ہوا۔ میرا بہت مذاق بھی اڑایا گیا‘ میں نے کسی کو نہیں بتایامگر جنہوں نے دیکھا۔ کسی سے سوال نہیں کیا اور نہ ہی خود اپنی زبان سے حالات بتائے۔ شوہر نے مجھ سے کہا میں کہیں سے ادھار چیزیں لے آتا ہوں‘ میں نے اسے منع کردیا کہ کسی سے سوال نہیں کرنا‘ آپ کی بے عزتی ہوگی‘ بہت صبر سے کام لیا۔ یہ مشکل وقت اپنے اثرات چھوڑ گیا‘ میرے اندر کی ساری بتیاں بجھ گئی ہیں کہ میں تو کسی بھی قابل نہیں‘ میں یہ دس دن قبر تک نہ بھولوں گی۔ جب میرے پاس پیسے آئے پھرمیرے اور میرے بچوں کا ہر لقمے اور ہر چیز پر شکر ہی شکر تھا۔ میں اسی دن سے کوشش کررہی ہوں کہ میری آپ سے ملاقات ہوجائے ۔ لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو ہیں‘ میں نے کیسے حالات دیکھے‘ میں اب ہروقت اپنے آپ کو کوستی رہتی ہوں۔ ہر سانس میں استغفار اور شکر ہے۔ یہ دس دن کی یادیں میری قبر تک کا ساتھ ہیں‘ کبھی بھی اونچی اڑان آگئی تو یہ دس دن فوراً واپسی کا ذریعہ ہیں۔ آپ مرشد ہیں‘ صرف آپ کو بتارہی ہوں اور کسی سے ذکر نہیں کیا۔ تسبیح خانہ میں آنے سے پہلے مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ مرشد کیا ہوتے ہیں؟ میں تو صرف تسبیح خانہ دیکھنے آئی تھی ’’یہ کیا عجیب وغریب چیز ہے‘‘ ہروقت ایک ہی ڈر سا لگا رہتا ہےآپ ناراض نہ ہوجائیں۔(حالانکہ اصل رب ہے جس کی ناراضگی کا احساس نہیں:ایڈیٹر) میرا توسب کچھ اجڑ چکا ہے۔‘‘ -

Sunday, August 14, 2016

مہرمقرر تو کیا مگر دینے کا ارادہ نہ ہو


دعا کی قبولیت کا انتظار:۔

 حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگا کرو کیونکہ وہ پسند کرتا ہے کہ اس سے مانگا جائے اور افضل عبادت دعا کی قبولیت کا انتظار کرنا ہے۔ (جامع ترمذی شریف: ابواب الدعوات)۔

 ہلکے پھلکے لوگ:۔

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہلکے پھلکے لوگ آگے نکل گئے‘‘ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! ﷺ وہ لوگ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جو ذکر الٰہی میں ڈوبے ہوئے ہیں‘ ذکر ان پر سے گناہوں کے بوجھ اتار دیتا ہے۔ لہٰذا وہ قیامت کے دن ہلکے پھلکے ہوکر حاضر ہوں گے۔‘‘
۔ (جامع ترمذی شریف)۔

 تسبیحات انگلیوں پر پڑھنا:۔

 حضرت یسیرہ رضی اللہ عنہا جو مہاجرات میں سے تھیں فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا: ’’تم لوگ تسبیح، تہلیل اور تقدیس (یعنی سبحان الملک القدوس) پڑھتی رہا کرو اور انگلیوں کے پوروں پر گنا کرو‘ اس لیے کہ قیامت کے دن ان (انگلیوں) سے سوال ہوگا اور وہ بولیں گی۔ پھر غافل نہ ہونا کیونکہ اس سے تم اسباب رحمت بھول جاؤگی۔
۔ (جامع ترمذی شریف)۔


 مہرمقرر تو کیا مگر دینے کا ارادہ نہ ہو:۔

 حضرت صہیب رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی عورت کا مہر مقرر کرے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کا وہ قرض واپس کرنے کا ارادہ نہیں ہے صرف اللہ کے نام سے دھوکہ دے کر ناحق کسی کا مال اپنے اوپر حلال کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا شمار چوروں میں ہوگا۔ (مسند احمد بن حنبلؒ)۔۔