Showing posts with label جڑی بوٹیوں کے فائدے. Show all posts
Showing posts with label جڑی بوٹیوں کے فائدے. Show all posts

Wednesday, December 23, 2015

پیاز کے فائدے

نیویارک(نیوزڈیسک)پیاز کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہی وجہ ہے کہ یہ ماں رات کو سوتے ہوئے اپنے بچے کے پاس پیاز رکھتی ہے،آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ اس کا کیا فائدہ ہوتا ہے۔


کھانسی سے نجات
پیازمیں سلفر پایا جاتا ہے اور بچوں اور بڑوں کو اگررات کو کھانسی ہونے لگے تو آنکھ کھل جاتی ہے اور کافی مشکل ہوتی ہے یکن اگر پیاز پاس رکھا جائے تو کھانسی نہیں ہوتی۔


متلی کے لئے
اگر آپ کو متلی ہونے لگے یا دل گھبرائے تو پیاز کاٹ کر بغل میں دبا لیں،تھوڑی ہی دیر میں آپ کی طبیعت بحال ہوجائے گی۔


کیڑے مکوڑوں اور مچھروں سے حفاظت
جب پیاز پاس رکھا جائے تو آپ کے پاس کیڑے مکوڑے اور مچھر نہیں آئیں گے اور آپ پرسکون نیند لیں سکیں گے۔


انفیکشن کے لئے
پیاز پاس رکھنے سے کانوں اور جسم کی دیگر انفیکشن سے بچا جاسکتا ہے۔


سردی لگنے کی صورت میں
اگر سردی لگ جائے تو پیاز سے طبیعت ٹھیک ہوجاتی ہے،پیاز کی چائے بنائیں اور پی کر سردی ے نجات حاصل کریں۔

دانوں کے لئے
اگر دانے بن جائیں تو ایک پیاز لے کر اسے آدھے کپ شہد میں ڈالیں اور اس محلول کو دانوں پر لگانے سے دانے ٹھیک ہوجائیں گے۔


گرتے بالوں کے لئے
اگر آپ کے بال گرنے لگیں تو پیاز کا رس سر میں لگانے سے بال مضبوط ہوں گے۔پیازمیں موجود سلفر آپ کے سر کے بالوں کومضبوط کرے گا اور وہ گرنا رک جائیں گے۔
نوٹ : اگر کسی قسم کی الرجی کا شکار ہوں تو اس نسخے پر عمل سے پہلے ڈاکٹر سے اجازت لے لیں .

Monday, December 21, 2015

لونگ !خوشبو اورذائقہ کے ساتھ دے طبی افادیت بھی

لونگ !خوشبو اورذائقہ کے ساتھ دے طبی افادیت بھی :۔


گرم مصالحے خوشبو پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ہاضم بھی ہیں ۔ مختلف کھانوں کو مختلف چیزوں سے نگھارا جاتا ہے۔مثلاً دالوں کو لہسن ، سفید زیرے سے قورمہ کو گرم مصالحے یا سیاہ زیرے سے مچھلی کو میتھی سے میٹھے کھانوں کو الائچی یا لونگ زیرے سے مچھلی کو میتھی سے میٹھے کھانوں کو الائچی یا لونگ سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کھانوں میں دہی بگھارا اچھا بھی لگتا ہےبلکہ پڑوسی تک باخبر ہو جاتے ہیں کہ آج کیا پک رہا ہے ۔ ایسا ہی ایک مصالحہ لونگ ہے ۔ جو خوشبو اور مہک کے ساتھ زبردست طبی افادیت بھی رکھتا ہے ۔
لونگ پہلے جزائر شرق الہند میں پیدا ہوتی تھی اور انتہائی قدیم زمانےمیں ہندو اس کو بہت زیادہ استعمال کرتے تھے، یورپ میں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ و السلام کی پیدائش سے قبل اسکری یونیٹس لارگس نےروم کے باشندوں کو لونگ کے استعمال کے بارے میں بتایا تھا ۔پرانے زمانے میں بغداد میں لونگ کے تیل کو خواتین بطور عطر استعمال کرتی تھیں ۔ اس کے بعد لونگ کو پکایا جانے لگا اور کمزور آنکھوں کیلئے اس کا عرق استعمال کیا جانے لگا ۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح سے بینائی بہتر ہو جائے گی ۔قدیم یونانی اپنی یاداشت کو بہتر بنانے کیلئے لونگ کو چوستے رہتے تھے اور قدیم ایران میں بے اولادخواتین لونگ استعمال کروائی جاتی تھی ۔ لونگ میں طاقت ور جراثیم کش خواص شامل ہیں اور اپنے اندار تازگی کو خصوصیات رکھتا ہے ۔ اس کے استعمال سے خارش اور سرخ بادہ وغیرہ میں افاقہ ہوتا ہے ۔ آج کل اس کا استعمال طبی کریموں اور پیکس میں ہوتا ہے ۔ دانتوں کیلئے فائدہ مند ہے اور سانس میں تروتازگی پیدا کرتا ہے ۔ خواتین کھانا پکانے میں خوشبو اور ذائقے کیلئے لونگ کا استعمال کرتی ہیں حکماء کے نزدیک دانت کی تکالیف کی صورت  میں لونگ کا استعمال بہترین ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے امراض میں زمانہ قدیم سے استعمال کیا جارہا ہے ۔ کھانوں میں اس کا مسلسل استعمال بالوں کو سیاہ ۔ لمبے اور چمکدار بناتا ہے ماہرین اسے جلد کی حفاظت کرنے والی تمام قسم کی کریموں میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کا آئل جلد کے مساج کیلئے بہترین ہے ۔
لونگ کے ٹوٹکے :۔ لونگ جہاں خوش ذائقہ اور مسرور کن مہک کا حامل ہے ۔وہاں جسمانی صحت بھی مہیا کرتی ہے بدہضمی میں دو لونگ پیس کر ابلتے ہوئے آدھا کپ پانی میں ڈالیں پھر کچھ ٹھنڈا ہونے پر پی لیں اس طرح تین چار دن استعمال کرنے سے اکثر افاقہ ہو جاتا ہے ایک حصہ لونگ اور دو حصے انار کے چھلکے ملا کر پیس کر ان کا چوتھائی چمچ آدھے چمچ شہد میں ملا کر روزانہ تین بار چاٹنے سے کھانسی میں افاقہ ہو سکتا ہے ۔ لونگ منہ میں رکھنے سے بلغم آسانی سے خارج ہو جاتا ہے اور بلغم کی بدبو سے بھی نجات مل جاتی ہے منہ اور سانس  کی بدبو دور ہو کر سانسوں میں خوش کن مہک سما جاتی ہے ۔ لونگ دانتوں کی تکالیف میں بھی مفید ثابت ہوتی ہے  پانچ لونگ پیس کر ان میں لیموں کا رس نچوڑ کر دانتوں پر ملنے سے دانتوں کا درد دور ہو سکتا ہے ۔ دانت میں کیڑا لگنے پر لونگ کو دانت میں رکھنا یا اس کا تیل لگانا مفید ہے پیاس کی شدت ہونے پر ابلتے ہوئے پانی میں لونگ ڈال کر پلائیں اس سے پیاس کی شدت میں کمی واقع ہو تی ہے ۔ حکماء لونگ کو نزلہ ، زکام ، کھانسی ، دمہ ، اسہال، بدہضمی ، الٹی ،ہچکی، کم بلڈ پریشر ، اور نامردی میں استعمال کرواتے ہیں اگر نزلہ زکام کی وجہ سے سر درد ہو تو اس کا تیل کنپٹیوں پر مالش کرنے سے فوری آرام ملتا ہے ورم اور سوجن دور کرنے کیلئے لونگ کے تیل کی مالش سے فائدہ ہوتا ہے تیز بخار یا قے روکنے کیلئے لونگ کی چائے پی جاتی ہے ۔
نوٹ:۔ دو سال سے کم عمر بچوں کو لونگ نہیں استعمال کروانا چاہیے ۔ دودھ پلانے والی ماؤں اور حاملہ خواتین کو بھی اس کا استعمال احتیاط سے کرنا چاہیے۔

Saturday, September 19, 2015

ہلدی اور کچور پر میری گہری تحقیق کے ثمرات


ہلدی اور کچور پر میری گہری تحقیق کے ثمرات:۔


ہر وہ دوا جو جڑ کی شکل میں سامنے آتی ہو اس میں شفایابی زیادہ ہوتی ہے ۔ہلدی بنیادی طور پر جڑ  ہے اسی طرح کچور بھی ، سبزیوں میں وہ سبزیاں جو جڑ  ہوں جیسے شلجم مولی گاجر وغیرہ اور ایک وہ چیز ہے جو پھولوں اور پھلیوں کیشکل میں ہے لیکن جو قوت و طاقت اور انرجی جڑ میں ملتی ہے وہ کسی اور چیز میں بہت کم ملتی ہے ۔ بالکل یہی حال ہلدی اور کچور کا ہے ۔ یہ دونوں عام سستی ملنے والی چیزیں ہیں لیکن ہم انہیں بھول گئے ہیں اور ہم نے انہیں پس پشت ڈال کر رنگ برنگی ڈبیاں اور رنگ برنگے کیپسولز اپنی زندگی میں شامل کر لئے ہیں ، ایک چھوٹا سا واقعہ جو شاید آپ کو چونکا دے اور آپ کی سوچ کا زاویہ بدل دے وہ آپ کی خدمت میں پیش کروں گا ۔
ایک صاحب میرے پاس آئے ، اس سےپہلے وہ پہلوان تھے ساری عمر خوب جی بھر کر اکھاڑے اور پہلوانی میں گزاری ، آخری عمر میں گھٹنے ، کمر ، جسم جواب دے گئے۔ اب مجبوراً اندگی میں مختلف دوائیں ، درد ختم کرنے والی گولیاں استعمال کرنی شروع کیں اس کا اثر گردوں ، جگر اور معدے پر بہت زیادہ پڑا ، ایک مخلص سمجھدار پرانے ڈاکٹر نے ان دواؤں سے فوراً منع کیا ۔ ایک نکاح کی تقریب میں مجھے ملے کسی نے میرا تعارف کرایا ، مسجد میں نکاح تھا سب نیچے بیٹھے تھے وہ کرسی پر مجبوراً بیٹھے ہوئے تھے ، کرسی گھسیٹ کر میرے پاس لے آئے اور اپنی حالت بتائی اور اپنا مکمل تعارف بھی کروایا کہ میں وہ پہلوان ہوں اور کچھ اپنے کارنامے بھی سنائے غائبانہ میں نے ان کا نام کچھ سنا ہوا تھا ،۔ میں نے ان سے عرض کیا آپ سب دواؤں سے تھک ہار بیٹھے ہیں ، مایوس اور پریشان نہ ہوں ،۔ پچاس گرام ہلدی اور پچاس گرام کچور لیں لیکن یہ دونوں چیزیں پہلے پسی ہوئی نہ ہوں ، خود پیس لیں ، اکٹھا پیس لیں یا علیحدہ علیحدہ مکس کر کے ڈبے میں محفوظ رکھیں ، آدھا چمچ ایک کپ گرم دودھ میں دودھ میٹھا ہو یا پھیکا جو آپ کا دل چاہے ملا کر چسکی چسکی پئیں ، اس میں تھوڑا سا دیسی گھی بھی ضرور ملائیں وہ بھی ایک چمچ سے آدھا چمچ ہونا ضروری ہے ، ایک کپ آپ چاہے روزانہ صبح ودوپہر شام پی لیں چاہے ایک کپ دو وقت پی لیں ۔ بہر حال ضرور استعمال کریں ۔
آپ چند ہفتے یا چند مہینے استعمال کر کے پھر مجھے اطلاع ضرور کریں ۔ بہت خوش ہوئے ایک مختصر سی چیز لیکن فائدہ اتنا لاجواب میں ضرور بالضرور استعمال کروں گا ۔ انہوں نے استعما ل کرنا شروع کیا ان کا ایک پڑوسی تھا جس کا میرے پاس آنا جانا زیادہ تھا ، کچھ ہی ہفتوں کے بعد پڑوسی کہنے لگا کہ آج پہلوان جی نیچے چٹائی پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے میں ان کی بات پر چونکا پہلوان جی ستر سال سے زیادہ عمر کے تھے ، کرسی پر بیٹھنا بھی مشکل ، اٹھنا بھی مشکل ،، عجیب بات ہے۔ کہ وہ نیچے بیٹھے کیسے ہوں گے، اور اٹھے کیسے ہوں گے ؟ میں انہی سوچوں میں تھا کہ وہ پڑوسی کہنے لگا کہ دراصل آپ نے جو اسے کچور اور ہلدی کا ٹوٹکہ بتا یا تھا وہ ایساکارگر ثابت ہوا کہ پہلوان جی کہتے ہیں میری کمر سولہ سال کے جوان جیسی ہو گئی ہے ، میرے گھٹنے اٹھارہ سال کے جوان جیسے، میرا سارا جسم پچیس سال جیسا ، میرے پٹھے تیس سال جیسے ،اور میری طاقتیں اور قوتیں واپس جوانی کو آوازیں دے رہی ہیں ۔ اور میں اب اس قابل ہو گیا ہوں کہ آہستگی سے بیٹھ سکوں اور آہستگی سے اٹھ سکوں ، اب اٹھنا بیٹھنا میرے لئے اتنا تکلیف دہ نہیں ہے جتنا پہلے تھا کہ میری کراہیں اور آہیں نکلتی تھیں ، کوئی دو تین ماہ کے بعد پہلوان جی مجھے ملے ۔ پہلوانوں جیسا خاص لباس ، خاص پگڑی پہنی ہوئی ، گلے میں عقیق کے پتھر کی مالا ڈالی ہوئی ، سرمہ لگایا ہوا ، مونچھیں جو پہلے ڈھلک چکی تھیں اب ان کو اچھا خاصا تاؤ دیا ہوا تھا ، ان کی شکل بتا رہی تھی کہ پہلوان جی بہت مطمئن ہیں ، آتے ہی مجھے کہنے لگے میں نے آپ سے گلے ملنا ہے ، میں کھڑا ہو گیا ان سے گلے ملا ، انہوں نے اپنی مکمل پہلوانی اور طاقت کا بھر پور مظاہرہ کیا ، قریب ہی تھا کہ میرا دم گھٹتا میں نے کان میں کہا پہلوان جی ابھی اور علاج کروانا ہے ابھی تو میں نے آپ کو جوان بنانا ہے زور سے قہقہہ لگا کر مجھے چھوڑا اور پھر میرے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گئے اورکہنے لگے میں نے دن میں تین بار یہ دوائی استعمال کی لیکن میں تھوڑی مقدار استعمال نہیں کرتا کیونکہ میری خوراک زیادہ ہے دودھ کابڑا پیالہ اور بڑا چمچ میں نے استعمال کرنا شروع کر دیا ، ایک کپ اور آدھی چمچ سے کیا ہوتا ہے اور دو تین ہفتوں میں میری طبیعت مجھے خود کہنے لگی کہ میں بہت مطمئن ہوں اور مجھے بہت فائدہ ہے اور مجھے بہت تسلی ہوئی میرے جسم ، پٹھے ، گھٹنے اور کمر نے میرا ساتھ دینا شروع کر دیا اور میری طبعیت میں ایک انوکھا احساس پیدا ہوا اور وہی احساس ایسا تھا جس نے میرے اندر بھر پور تسلی دی اور بھر پور اطمینان دیا اور یہ اطمینان تسلی ایسا تھا جو مجھے آپ کی طرف دوبارہ کھینچ لایا ۔ بہت دعائیں دے رہے تھے بار بار میرا ہاتھ پکڑ کر چوم رہے تھے ، میرا ماتھا چوم رہے تھے، پھر ایک بات ایسی کہی جو میرے تجربات کو بڑھا گئی کہنے لگے کہ جب پاکستان بنا تھا تو اس وقت میں دس گیارہ سال کا تھا باشعور تھا ، سمجھدار تھا ، ہمارا گھر لاہور اندرون شہر موچی دروازہ میں تھا ، غربت کا دور تھا ، میرے دادا بھی پہلوان تھے تو ان کے آخری عمر میں حالات ایسے ہو گئے تھے ، ایک ہندو دروازے پر منگتا آیا ، وہ سنیاسی بھی تھا ، میرے دادا جب اسے آٹا دینے کیلئے باہر گئے تو اس نے جب ان کی حالت دیکھی تو اپنے جھولے میں سے ہلدی رنگ کی ایک دوائی نکالی ، کہنے لگے میاں جی ! اس کو دودھ اور دیسی گھی کے ساتھ کچھ عرصہ استعمال کر لینا ، فائدہ ہو گا پھر کبھی آیا تو اور دے جاؤں گا ، دادا نے استعمال کرنا شروع کی ان کے جسم میں صحت کی ایک لہر دوڑی اور صحت مندی ایسی پیدا ہوئی کہ وہ خود حیران ہوئے ، دوائی چند دنوں کے بعد ختم ہوئی لیکن انہوں نے جتنے دن بھی استعمال کی انہیں دوائی سے بہت فائدہ ہوا ، اب وہ ہندو سنیاسی کا انتظار کرنے لگے کوئی مہینے یا اس سے زیادہ دنوں کے بعد اس سنیاسی نے صدا لگائی دادا جان دوڑے ہوئے گئے اور اسے اپنے گھر بٹھایا ، اس کیلئے ایک سوٹ ،ایک جوتی ،ایک رومال ،اور کھانے پینے کی چیزیں، اور اسے کہا کہ مجھے اور دوائی دے دے ، اتنے گفٹ اس کی توقع سے بالا تر تھے اسے گمان نہیں تھا کہ اندرون موچی دروازہ کا ایک بوڑھا پہلوان مجھے اتنے گفٹ دے دے گا ، سنیاسی کہنے لگا۔میں دراصل آسام کا ہوں ، میں لاہور میں  دو تین سال کے بعد چکر لگاتا ہوں پھر یہاں سے جو روزی مل جاتی ہے پھر میں دوسرے شہروں میں چلا جاتا ہوں میں ہر شہر میں کئی سالوں کے بعد آتا ہوں ، میں پھر تا پھراتا رہتا ہوں اگر تم نے مجھے اتنے تحائف دئیے ہیں تو یہ نسخہ تمہیں میں دے جاتا ہوں اور وہ نسخہ یہی تھا یعنی یہی دو چیزیں ہلدی اور کچور میں نے جب پہلوان کی یہ بات سنی تو پہلوان کی بات میرے کئی معاملات کو درست کر گئی اور میرے کئی زندگی کے پہلو روشن ہوئے۔پھر میں نے اسی پاؤڈر کو پرانے معدے کے مریض ، جن کی آنتوں میں السر کی انتہا تھی جن کا معدہ گل چکا تھا بہت زیادہ شراب پینے والے، باہر کے کھانے کھانے والے، اور باہر کی چیزوں کو استعمال کرنے والوں نے جب اپنا معدہ برباد کیا تو میں نے آدھا چمچ دن میں تین بار پانی یا دودھ کے ساتھ استعمال کروایا ، جوڑوں کے درد ، پٹھوں اور کمر کے درد یا ایسے لوگ جو دن رات اپنے جسم کے دردوں میں تھکے اور الجھے رہتے ہیں اور ان کا جسم ہر وقت جکڑا رہتا ہے ، کندھے کھچے ہوئے ، گردن کھچی ہوئی ، اعصاب کھچے ہوئے، ٹانگوں میں درد ، جی چاہے مجھے کوئی دبائے یا رات کو سوتے ہوئے بار بار بستر پر ٹانگیں پٹخنا ، عورتوں کی کمر کا درد ، حاملہ عورتوں کےلئے تو اس کو بہت لاجواب پایا حمل کے بعد اگر خواتین گرم دودھ کے ساتھ دن میں دو تین بار استعمال کریں چند ہفتے یا چند مہینے پرانی لیکوریا کمر کے درد ، اور حمل کے بعد کے نظام کو بہتر کرنے کیلئے ایک انوکھا راز بھی ہے ٹوٹکہ بھی ہے۔ حتیٰ کے اسے دل کے مریضوں کو بھی استعمال کروایا ۔ جن کا خون گاڑھا ، کولیسٹرول ، یوریا ، یورک ایسڈ بڑھ چکا تھا انہیں بھی بہت فائدہ ہوا ۔ قارئین! آپ بھی بنائیں اور استعمال کریں بہت زیادہ آزمودہ ہے دل کا راستہ آپ کو دے رہا ہوں ، زندگی کی خبر نہیں جو راز ہے میں چاہتا ہوں وہ اپنے لاکھوں قارئین تک لوٹا جاؤں ۔ آپ بھی اپنا کوئی ٹوٹکہ آزمودہ تجربہ ضرور لکھیں اور جلدی لکھیں اور اس کے تجربات آپ آزمائیں تو ضرور خط کے ذریعے لکھیں ۔


 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر24



Monday, August 24, 2015

پندرہ سال پرانی مریضہ چھوٹے سے ٹوٹکہ سے ٹھیک


پندرہ سال پرانی مریضہ چھوٹے سے ٹوٹکہ سے ٹھیک:۔

محترم  حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! اللہ پاک آپ کو جزائے خیر سے نوازے ۔ آمین!  محترم  حضرت حکیم صاحب! میں عبقری کی دو سال سے قاری ہوں ۔ میں بلڈپریشر کی مریضہ تھی ، ڈاکٹر یہی کہتے تھے لیکن بیماری پتہ نہیں کیا تھی ، اچانک سے میرا سانس بند ہونا شروع ہو جاتا، دھڑکن بہت تیز ہو جاتی، دماغ کو پتہ نہیں کیا ہونے لگ جاتا ، جب میری ایسی طبیعت ہوتی تو پھر چار ، پانچ دن میری طبیعت نہیں سنبھلتی تھی رنگ ہلدی کی طرح ہو جاتا تھا ۔ ایک بڑے حکیم کو چیک کروایا تو اس نے کہا کہ دل کا ایک والو بند ہے ، تب بھی آرام نہ آیا ۔ پھر ایک ڈاکٹر نے مجھے دو گولیاں لکھ دیں وہ میں روزانہ کھاتی رہی ، ان گولیوں سے فوری طبیعت سنبھل جاتی تھی ۔ 15 سال سے ڈاکٹر کی بتائی گئی گولیاں کھا رہی تھی ۔ پھر میری ملاقات عبقری رسالے سے ہوئی اس میں ایک نسخہ تھا میں نے وہ بنایا اور استعمال کرنا شروع کر دیا ۔ اللہ پاک کے کرم سے میری ساری بیماری ختم ہو گئی ، پہلے سوتے وقت ایک گولی بلڈ پریشر اور ایک گولی نیند کی کھاتی تھی ، وہ بھی اب چھوٹ گئی ہیں ۔ یہ گولیاں میں نے تین ماہ کھائی ہیں ، دو گولی رات کو سوتے وقت کھانی ہیں ۔ یہ گولیاں جسم درد ،پاؤں  درد ، کیلئے بھی بہت مفید ہیں جس نے بھی عبقری میں یہ ٹو ٹکہ لکھا ہے میں اس کیلئے بہت دعا کرتی ہوں ۔ نسخہ درج ہے ۔
ھوالشافی :۔ 100پتے نیم کے نرم  والے تازہ درخت سے اتار لیں اور 100 عدد کالی مرچ  لے کر اسے پیس لیں اور کالی مرچ کے دانے کے برابر گولیاں بنا لیں اور روزانہ رات کو دو گولیاں کھا لیں ۔ اگر چاہیں تو صبح ، دوپہر ، شام بھی دو ، دو گولیاں کھا سکتے ہیں ۔( مسز یعقوب 'چشتیاں )
 ماہنامہ عبقری "اگست 2015ء شمارہ نمبر 110" صفحہ نمبر46