Showing posts with label جنات. Show all posts
Showing posts with label جنات. Show all posts

Thursday, January 4, 2018

مسائل کا خاتمہ


میں چند سال پہلے عجیب وغریب امراض کا شکار تھا‘جادو جنات کی وجہ سے میں بالکل معذور ہوچکا تھا‘ حتیٰ کہ کروٹ بھی نہ بدل سکتا تھا۔ روحانی علاج کرواکروا کرتھک چکا تھا‘ پھر ایک مرتبہ ایک پرانے سے میگزین میں جادو جنات سے نجات کیلئے ایک وظیفہ پڑھا کہ اول و آخر تین مرتبہ درود پاک کے ساتھ سورۂ بقرہ پڑھ کر آخر میں تین بار سورۂ اخلاص پڑھیں‘ پانی پر دم کرکے خود بھی پینا اور گھروالوں کو بھی پلانا اور دیواروں اور گھر کے چاروں کونوں پر اس پانی کو چھڑکنا ہوتا ہے۔ میں نے خود ہمت کرکے یہ عمل کرنا شروع کیا اور پہلے ہی ہفتے میں تقریباً پون گھنٹے میں میں نے یہ عمل پورا کرلیا‘ مجھے اپنا جسم‘ کمر‘ ٹانگیں بازو ہلکے محسوس ہونے لگے‘ دو ہفتے میں بستر پر کروٹ بدلنے اور اٹھنے بیٹھنے میں آسانی محسوس ہونے لگی‘ ایسا لگتا تھا جیسے کندھوں سے کمر تک بہت بوجھ اتر گیا‘ اس کے علاوہ میرے پسینے میں بہت زیادہ بدبو آتی تھی اور چہرے پر پیلاہٹ رہتی تھی جو اس عمل سے ختم ہوگئی‘ میں یہ عمل پانچ ماہ تک لگاتار کرتارہا ‘الحمدللہ! میں اب ستر فیصد تک ٹھیک ہوچکا ہوں‘ خودہی واش روم جاتا ہوں‘ کھانا کھاتا ہوں‘ ہلکی پھلکی صبح کی سیر کرتا ہوں۔

جنات کیلئے یاقہار کا تعویذ


گزشتہ پندرہ سال سے جنات نے میری زندگی کا سکون غارت کردیا تھا‘ ساری ساری رات نہ سونے دیتے تھے‘ میں زندگی سے تنگ آچکا تھا‘ جگہ جگہ سے علاج کروا کروا کر تنگ آچکا تھا۔ الحمدللہ! علامہ صاحب کا اپنے مشو ر ومعروف سلسلے ’’جنات کا پیدائشی دوست‘‘ میں بتایا ایک تعویذ میں نے خود ہی لکھ لیا‘ اسی رات اپنے سرہانے رکھ کر سویا تو اتنی پرسکون اور میٹھی نیند آئی کہ صبح اٹھ کر مجھے تویقین ہی نہ آیا کہ چھ الفاظ پر مشتمل سادہ سے تعویذ میں اتنی طاقت ہے کہ جہاں مہنگے مہنگے  عاملین عاجز آگئے تھے‘ یہ شریر جنات کسی کے قابو میں نہ آرہے تھے اور ہر عامل بتاتا تھا کہ بہت طاقتور ہیں۔ مگر یہ کیا؟ میں نے صرف وہ چھ لفظ لکھے اور کاغذ کا ٹکڑا اپنے سرہانے رکھ دیا ساری رات کسی کی جرأت نہ ہوئی کہ مجھے تنگ کرسکے۔ وہ تعویذ یاقہار کا تھا ۔ لکھنے  کا طریقہ صرف یہ ہے کہ سادہ کاغذ پر صرف ی۔ا۔ق۔ہ۔ا۔ر لکھیں اور لیجئے جنات کیلئے ننگی تلوار تیار اور اس کے ساتھ اول و آخر گیارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ گیارہ تسبیح صبح اور گیارہ تسبیح رات سوتے وقت یا قہار کی پڑھتا ہوں ہروقت جنات سے محفوظ رہتا ہوں۔ ایک مرتبہ میں اپنی چھوٹی بہن  (جو کہ شادی شدہ ہے) کے گھر گیا‘ اس کی طبیعت بہت خراب تھی اور اس نے بتایا کہ ہمارے گھر میں جنات ہیں‘ اور ہم سب گھر والے اکثر بیمار ہی رہتے ہیں۔ میں نے وہاں یاقہار کا تعویذ درج بالا طریقے سے لکھا اور اس کو دے آیا‘ کچھ دن بعد فون کرکے پوچھا  تو اس نے بتایا کہ جب سے آپ نے یاقہار کا تعویذ دیا ہے ہم سب گھر والے بالکل ٹھیک ہیں اور گھر میں اب جنات کی کوئی نقل وحرکت نہیں ہے۔

جنات تعویذ اور کالا علم


جنات‘ تعویذات اور کالے علم کا توڑ

نمبر ایک:۔
سورۂ بقرہ روزانہ ایک مرتبہ پانی پر دم کرکے پورے گھر میں چھڑکاؤ کریں اور خود پی لیں۔ یہ عمل متواتر اکتالیس دن تک کریں۔
نمبر دو:۔
نماز فجر کے بعد روزانہ سات مرتبہ سورۂ فاتحہ‘ سورۂ فلق تین مرتبہ اور سورۃ الناس تین مرتبہ پڑھیں اور پانی پر دم کریں اور وہ پانی پی لیں۔ یہ عمل بھی اکتالیس دن تک کریں۔بارہا کا آزمودہ عمل ہے۔

Wednesday, January 3, 2018

جنات بولے خبردار


میری شادی کو پانچ سال ہوگئے ہیں‘ میری ساس اور سسر دونوں ہی اس وقت دنیا سے جاچکے ہیں‘ میری ساس شادی سےپہلے اور سسر شادی کے بعد فوت ہوئے۔ میری شادی میری پھپھو کے گھر ہوئی‘ میرے ساس سسر بہت ہی اچھے تھے‘ شادی سے پہلے بھی میرے ساتھ بہت شفقت سے پیش آتے اور شادی کے بعد میرے سسر نے مجھے میرے سگے باپ سے زیادہ پیار دیا‘ اور اتنا پیار اور توجہ دی کبھی مجھے میرے گھر کی یاد تک نہ آنے دی۔ وہ بہت ہی اچھے انسان تھے ایسے انسان دنیا میں کم ہی ہوتے ہیں۔ اب میں آتی ہوں اصل مسئلے کی طرف ’’ہمارے گھر میں جنات ہیں‘‘ اور وہ خود کو اس کا گھر مالک کہتے ہیں۔ شادی سے پہلے وہ میری ساس صاحبہ کو بہت زیادہ تنگ کرتے تھے‘ اکثر جنات میری ساس سے ملاقات کرتے اور کہتے کہ تم اس گھر سے چلی جاؤ‘ یہ ہمارا گھر ہے وہ سب کو بتاتی مگر کوئی بھی ان کا یقین نہیں کرتے تھے‘ بالآخر ان کے ہاتھوں پر زخم بن گئے‘ جتنے زیادہ علاج کرواتے اتنے ہی زیادہ ہاتھ خراب ہوجاتے۔ ان کوجنات نے اتنی زیادہ تکلیف دی کہ وہ اسی تکلیف کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ جب ان کو جنات نظر آتے تو وہ اپنے بچوں کوگھر سےباہر بھیج دیتیں اور اونچی اونچی آواز میں ہنسنا شروع کردیتیں‘ بچےبہت زیادہ خوفزدہ ہوجاتے تھے۔ میری محترم ساس صاحبہ کی وفات کے بعد جب میری شادی ہوئی اور میں اس گھر میں دلہن بن کر آئی تو اس وقت سے لے کر آج تک کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا کہ میں ٹھیک رہی ہوں‘ ہروقت کوئی نہ کوئی مسئلہ‘ کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا رہتی ہوں۔ ہر کوئی کہتا ہےکہ گھر بدل دیں‘ یہ جنات آپ کو اذیتیں دیتے رہیں گے‘ اس گھر پر ان جنات کا قبضہ ہے وہ آپ کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ جنات نے ہمیں بہت مرتبہ گھر چھوڑنے کو کہا‘ مگر ہم نہیں گئے‘ جب جنات کہتے تھے اس وقت ہمارے پاس اتناسرمایہ تھا کہ ہم یہ گھر چھوڑ کر کہیں بھی چھوٹا سا گھر بناسکتے تھے مگر اب گزشتہ چار سال سے جنات نے ہمیں کہنا چھوڑ دیا ہے کہ اس گھرسے چلے جاؤ‘ اب ہمارے ساتھ ایک اور کہانی چل نکلی ہے اور وہ یہ ہے کہ میرے میاں کا کاروبار بالکل ختم ہوگیا ہے‘ میرے میاں نے چھوٹے بھائی کو زمین بیچ کر بیرون ملک بھیجا تھا مگر وہاں اس کےساتھ دھوکہ ہوگیا اور وہ سب کچھ لٹا کر واپس آگیا اب وہ بھی بیروزگار ہے‘ ہرطرف سے ناکامی ہی ناکامی ہے‘ اب نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ کئی کئی دن ہمارے گھر چولہا نہیں جلتا‘ ہر چیز دن بدن ختم ہوتی جارہی ہے‘ میرے شوہر اب ایسے لگتے ہیں کہ جیسے صدیوں سےبیمار ہوں‘ حالانکہ وہ بالکل ٹھیک ہیں‘ ان کا وزن دن بدن کم ہوتا جارہا ہے‘ گھر میں ہروقت بیماریاں‘ لڑائے جھگڑے اور فاقے ہوگئے ہیں۔ان جنات نے میری زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے‘ہمارے کپڑے‘ ہماراکھانا سب برباد کردیتے ہیں۔ میرے شوہر اب کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوتا کہ میرے ساتھ اتنا بُرا ہوگا تو میں یہ گھر کب کا بیچ چکا ہوتا۔ مگر اب کیا ہوسکتا ہے؟ جنات نے ہمارا جینا حرام کردیا ہے ہم کیا کریں؟ کچھ سمجھ نہیں آتا کوئی ہمیں ایک روپیہ تک نہیں دیتا۔ میں اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی ہوں‘ مگر نامعلوم کیوں میں ان سے شدید بدتمیزی کرتی ہوں۔

جادو کے سارے راستے بند


جادو ٹونے کا توڑ:۔
بیرون ممالک کام کرنے والے لوگ حسد اور نظربد کا شکار ہوجاتے ہیں لوگ ان سے حسد کرنے لگ جاتے ہیں اور انہیں تنگ کرنے تکالیف پہنچانے کیلئے مختلف قسم کے غلیظ عمل کرنا شروع کردیتے ہیں۔ لوگوں کے ان غلیظ اعمال کی بدولت کئی لوگوں کا روزگار بھی چھوٹ جاتا ہے اور کئی لوگوں کی صحت خراب رہنے لگتی ہے ان کا کسی کام میں دل نہیں لگتا اور شدید بے چینی ہوتی ہے۔ بیرون ممالک کے تمام بھائیوں کیلئے بہت زبردست عمل ہے۔ اس پر ضرور عمل کریں۔ اس عمل کی بدولت سے ان پر جادو وغیرہ اثر نہیں کرے گا اس کےعلاوہ کوئی غلیظ عمل بھی ان پر عمل نہیں کرے اور ان کی زندگی میں ٹھہراؤ اور سکون آجائے گا۔
عمل یہ ہے:۔
سورۂ فلق سو مرتبہ‘ سورۂ ناس سو مرتبہ (دن میں کسی بھی وقت باوضو پڑھیں) اس کے علاوہ منزل کا وظیفہ: یہ ایک چھوٹی سی کتاب ہے جو کسی بھی کتب کی دکان سےآسانی سے مل جاتی ہے۔ اس کو ایک دفعہ صبح وشام پڑھ لیا کریں۔ آیت قطب کا عجیب و غریب :قرآن پاک کی ہر آیت ہی بڑی بابرکت اور باعث شفاء ہے لیکن آیت قطب ایک لمبی آیت ہے جس کے فوائد بے شمارہیں۔یہ آیت قطب سورۂ آل عمران پارہ 4 کی آیت نمبر 154 ہے۔اختصار کے ساتھ اس کے فوائد مندرجہ ذیل ہیں:۔ اس آیت کا عامل بننے کیلئے ایک چلہ کرلیں‘ یعنی اکتالیس مرتبہ اکتالیس دن تک پڑھیں اس کےبعد تین مرتبہ صبح و شام معمول بنالیں۔ اس کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ گیارہ مرتبہ صبح و شام 160 دن تک پڑھیں انشاء اللہ تعالیٰ عمل میں آجائے گی۔
جنات اور جادو کا توڑ:۔
 اگر کسی انسان پر جن آجائے یا جادو کا اثر ہوجائے تو آیت قطب کو سات مرتبہ پڑھ کر مریض کے دونوں کان‘ آنکھوں اور سر پر پھونک مار دیں۔ اس کی برکت سے وہ راستے بند ہوجائیں گے جن سے جن اور جادو اثرانداز ہوتے ہیں۔ 
سردرد کیلئے:۔
 جس شخص کے سر میں درد ہو تو سات مرتبہ آیت قطب پڑھ کر دم کریں انشاء اللہ آرام آجائے گا۔ اگر سات دفعہ پڑھنے سے آرام نہ آئے تو طاق اعداد یعنی ،11،13،15،17،19،21 تک پڑھ کر دم کرتے رہیں اور مریض سے حال پوچھتے رہیں۔ انشاء اللہ 21 دفعہ پڑھنے سےآرام آجائے گا۔ 
پھوڑے پھنسیوں کیلئے:۔
 ہر قسم کے پھوڑے پھنسیوں کیلئے پانچ دفعہ آیت قطب پڑھیں اور ہر بار پھونک مارتے رہیں اور آخر میں سات مرتبہ ڑھ کر دم کریں۔ انشاء اللہ اس بیماری سے جان چھوٹ جائیگی۔
جلدی امراض کیلئے:۔
 ہر قسم کے جلدی امراض کیلئے یعنی خارش یا انفیکشن وغیرہ کیلئے بہت مفید ہے۔ سات دفعہ پڑھ کر متاثرہ حصے پر دم کردیں۔ انشاء اللہ ضرور بہتری آئے گی۔
بچوں کی بیماریوں کیلئے:۔
 چھوٹے بچوں کا ڈر جانا‘ رونا‘ سوکھا پن‘ دودھ نہ پینا‘ سبق یاد نہ رہنا‘ نظر کا کمزور ہونا ان تمام امراض کیلئے آیت قطب ایک دفعہ روز شام کو سات روز تک درودابراہیمی پڑھ کر بچے پر دم کردیا کریں۔ انشاء اللہ ان تمام امراض سے جان چھوٹ جائےگی۔ 
آدھے سر کا درد:۔
 آدھے سر کے درد کیلئے 21 مرتبہ درج بالا آیت پڑھ کر اتنی ہی پھونکیں ماریں‘ انشاء اللہ ایک ہی ہفتہ میں آرام آجائے گا۔ مرگی: ہرقسم کے مرگی کے دورے کیلئے صبح و شام 21،21 مرتبہ پڑھ کر دعا کریں اور مریض کے مکمل ٹھیک ہونے تک یہ عمل جاری رکھیں۔ اللہ کے فضل سے ضرور شفاء ہوجائے گی۔
ہرقسم کے کینسر کیلئے:۔
 کینسر کی کوئی بھی قسم ہو‘ 41 دن تک صبح و شام 41 دفعہ شام کو آیت قطب پڑھ کر دم کردیں‘ انشاء اللہ پہلے ہی ہفتے سےفرق پڑنا شروع ہوجائے گا اور اس وقت تک یہ عمل جاری رکھیں جب تک مریض مکمل طور پر شفایاب نہیں ہوجاتا۔

Sunday, November 13, 2016

ظالم جن ’’بجرنگ بلی‘‘ سے ملی نجات


یہ مسئلہ میرے ساتھ بہت پرانا ہے۔ 
کوئی ہے جو میرے ساتھ ہر رات غیراخلاقی حرکتیںکرتا ہے۔ بہت اللہ والوں کے پاس گئے‘ انہوں نے مجھے پہننے کو تعویذات دئیےمگر کوئی افاقہ نہ ہوا ۔ سالہا سال سے علاج جاری ہے مگر اس کو کوئی فرق نہیں۔ بہت سے عامل علاج کرتے رہتے ہیں مگر ایک وقت آتا ہے کہ وہ تھک ہار جاتے ہیںکہ وہ بہت طاقتور ہے۔ اب تو میری آنکھوں میں شدید تکلیف‘ سر میں تکلیف‘ جوڑوں میں‘ سینے میں تکلیف اور دل تو جیسے ڈوب ہی گیا ہے۔ ہماری گلی میں ایک مولانا صاحب ہیں ان سے دم شروع کروایا کچھ دن دم کروانے میں گزرے تو ایک دن دَم کے دوران میرے سر اور کندھوں سے کومن پن گرنے لگیں جو کہ درمیان میں سے مُڑی ہوئی تھی تو انہوں نے بتایا کہ کسی نے پتلا بنوایا ہے اور جادو میرے خون میں شامل ہے‘ اس مؤکل کی صورت میں بھی تو طبیعت تب تک ٹھیک رہتی ہےجب تک دم کرواتی جاؤں اور جس دن دم نہ کروایا جائے پھر وہی حالت ہوجاتی ہے تو تین چار دن پہلے

عاملین کو ستانے والاجن


یہ واقعہ تقریباً تیس سال پہلے کا ہے۔
 ہم شادی سے قبل اپنے ماں باپ کے گھر تمام بہن بھائی اکٹھے رہتے تھے کہ ایک مرتبہ سردیوں کو میں سورہی تھی کہ میں نے دیکھا کہ دیوار کی طرف سے ایک چڑیل نکل کر باہر آئی جس کےناخن اور دانت خوفناک قسم کےبڑے بڑے تھے مگر میں خوف زدہ نہیں ہوئی۔ وہ میرے سرہانے آکر کھڑی ہوگئی۔ اس وقت میرا چھوٹا بھائی بعمر تقریباً، چار یا پانچ سال‘ میرے ساتھ سویا ہوا تھا۔ میرا بھائی بہت ہی خوبصورت تھا‘ وہ چڑیل مجھ سے بولی کہ مجھے یہ اپنا بھائی دے دو‘ یہ تمہارا بھائی بہت خوبصورت ہے‘ میں نے اس کو کہا کہ میں اپنا بھائی تجھے ہرگز نہیں دوں گی اس نے کہا کہ میں نے تم سے تمہارا بھائی لے لینا ہے اور میرے بال پکڑ لیے۔ اس دوران میرے منہ سے بے ساختہ نکلا یااللہ مدد اور وہ بے ساختہ بھاگ نکلی اور جاتے جاتے یہ کہہ گئی کہ میں نے تیرا بھائی تم سے لے لینا ہے۔ میں نے صبح کسی کو نہیں بتایا کہ گزشتہ رات کیا ہوا تھا‘ اس واقعہ کے بعد مجھے تین چار دن مسلسل

Wednesday, January 6, 2016

جنات سے دوستی

جنات سے دوستی :۔
Friendship with Ghosts Jinnat

یہ 1985ء کا واقعہ ہے ۔ جب میں ملازمت کے سلسلہ میں فیصل آباد تھا مکان میں اکیلا رہتا تھا محلے والے مجھے اکثر کہتے تھے کہ یہاں جنات ہیں آپ کیسے یہاں رہ رہے ہیں ؟ میں نے کبھی توجہ نہ دی ان دنوں محمد یونس نامی لڑکا جو میرے گھر کے کام کاج ہانڈی روٹی کا بندوبست کرتا تھا ایک دن میں مکان میں بیٹھا تھا اور یونس ہانڈی روٹی پکا رہا تھا تو میں نے یونس کو آواز دی کہ روٹی لگا دو دفتر جانا ہے لیکن کوئی جواب نہ آیا ۔ تھوڑی دیر کے بعد جب میں اٹھ کر گیا تو دستر خوان لگا ہوا تھا تازہ روٹی اور سالن موجود تھا کھانا کھانے کے بعد پھر آواز دی یونس نہ آیا ، جا کر کچن میں دیکھا تو یونس موجود نہیں تھا۔ شام کو جب یونس آیا تو میں نے پوچھا کہ تم صبح کدھر چلے گئے تھے ؟ یونس کہنے لگا صاحب جی روٹی نہیں تھی تو تندور سے روٹی لینے گیا تھا دیر ہوگئی جب واپس آیا تو گھر کو تالا لگا ہوا تھا  میں فوراً سمجھ گیا تھا کہ کوئی مسئلہ ہے ۔ مجھے روزانہ قرآن مجید پڑھنے کی عادت تھی قرآ ن پڑھنے کے دوران ایک آہٹ سنی فوراًخیال آیا اور میں نے دل میں کہا کہ آپ کو میں نے دیکھ لیا جب خود ہی وہ مخاطب ہو کر بولی جناب! مجھے اس گھر میں رہتے ہوئے 20 سال ہو گئے ہیں آج تک کوئی شخص اس مکان میں بسیرا نہیں کر سکا آپ پہلے شخص ہیں کہ اس مکان میں گزارا کر رہے ہیں میں نے ایک عمل حب حب یا بدوح کیا تھا اس عمل کی برکت سے جنات سے دوستی ہو گئی جتنا عرصہ میں فیصل آباد رہا اکثر ملاقات ہوتی رہتی تھی وہ میری معاون بن گئی تھی ۔ 1988 میں میرا تبادلہ ہوا اور میں اسلام آباد آ گیا ۔

Monday, December 14, 2015

مجھے جاگتی آنکھوں سے جنات نظر آتے ہیں

مجھے جاگتی آنکھوں سے جنات نظر آتے ہیں  :۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!میرے ہاتھ میں عبقری کا رسالہ ہے جو کہ جنوری 2011 ء کا ہے یہ رسالہ مجھے ایک دوست سے ملا ہے رسالہ پڑھ کر مجھے بہت حوصلہ  ہوا اور مایوس دل کو اطمینان ملا اور ایمان کو قوت نصیب ہوئی کہ ابھی یہ زمین اللہ کے محبوب بندوں سے خالی نہیں ہوئی کچھ اللہ کے بندے ابھی بھی ہیں جو دل میں انسانیت کیلئے تڑپ رکھتے ہیں ۔ محترم حضرت حکیم صاحب!ہمارے گھرانے میں کچھ عرصہ سے جنات نے اودھم مچائے رکھا جس کی تفصیل درج ہے ۔ ہم ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے ہیں ۔میرے والد کھیتی باڑی کرتے ہیں ۔ اور بھائی سرکاری ملازم ہیں ۔ہم تمام بھائی بہن ایک ہی گھر میں رہتے ہیں ۔ آج سے ایک سال پہلے کی بات ہے کہ ہم لوگ کمرے میں بیٹھے تھے ، بچے کھیل رہے تھے کہ بھابھی بھی اسی کمرے میں آ کر لیٹ گئیں ، اچانک ہی اٹھ کر بھابھی نے چیخنا شروع کر دیا چیخیں اتنی زور دار تھیں کہ ہمارے دل دہل گئے ہم حیران و پریشان ان کو آوازیں دے رہے تھے مگر وہ کسی کی آواز نہیں سن رہی تھیں، بس صرف چیختی ، کبھی اٹھتی ، کبھی بیٹھتی ، اور بیڈ کے نیچے ہاتھ مارتی ، صوفوں کے نیچے جھانکتی اور ہم تینوں ماں بیٹیاں اسے پکڑنے میں ناکام تھیں ۔اسی کیفیت میں آدھا گھنٹہ گزر ا اتنی دیر میں گاؤں ہی کے ایک امام مسجد کو ابو بلا کر لے آئے جب امام صاحب گھرمیں داخل ہوئے تو ان کی آواز سنتے ہی اسی وقت ہوش میں آ گئی اور آرام سے بیٹھ گئی اور حیرت سے ہماری طرف دیکھنے لگی کہ کیا ہوا ہے کیوں پریشان ہو؟ جب قاری صاحب نے دم کیا اور پوچھا کہ کیوں چیخ رہی تھی کیا دیکھاتو کہنے لگی کہ جب میں بیٹھی ہوں تو ابھی پوری طرح آنکھ بھی نہیں لگی کہ مجھے چار آدمی نظر آئے جو چاروں طرف سے مجھے گھیرے ہوئے ہیں ۔میں ان سے بچ کر نکلنا چاہتی ہوں ، کبھی اٹھتی ہوں ، کبھی بیٹھتی ہوں لیکن کوئی راستہ نہیں مل رہا بڑی دیر بعد ان سے بچ کر نکلی ہوں تو آگے سمندر ہے جو مجھے اپنی طرف کھینچ رہا ہے اور میں چیختی ہوں ، دوڑتی ہوں ، اس کے بعد مجھے ہوش آ گیا ۔ محترم حضرت حکیم صاحب ! اس کے بعد پورے 28 دن گزر گئے کوئی دورہ نہیں پڑا لیکن خواب میں کچھ لوگ نظر آتے رہے ۔جنہوں نے چادر نما ٹوپیاں پہن رکھی تھیں اور وہ ٹوپیاں اتنی لمبی تھیں کہ ان کے پاؤں تک پہنچ رہی تھیں پھر اٹھائیس دن کے بعد رات کو دورہ پڑ گیا اور ہلکی ہلکی چیخیں سننے سے ہماری آنکھ کھلی پھر انہی  قاری صاحب سے دم کروانے کے بعد بیس منٹ میں ہوش آ گیا ۔ اگلے دن ہم انہیں شہر کے ایک بڑے قاری صاحب کے پاس لے گئے جنہوں نے دم کیا اور تعویذ وغیرہ دیئے اس کے ہفتہ بعد سے دورہ روزانہ پڑنے لگا اور جاگتی آنکھوں سے بھی جنات نظر آنےلگے پھر بھابھی نے ان کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیا کبھی بے ہوش ہو جاتیں دورہ اکثر رات کہ اوقات میں ہی پڑتا ایک دن یونہی مذاق میں ہم نے بات کی کہ تم رات میں چوروں کی طرح کیوں آتے ہو؟ تو دوسرے دن صبح دس بجے بھابھی کو دورہ پڑ گیا اور کہنے لگے لو ہم لوگ آج دن میں بھی آ گئے ہیں کیونکہ تم لوگ ہی کہتے ہو کہ چوروں کی طرح رات میں آتے ہو ۔ اس کے بعد ہر روز دن میں دو یا تین بار آتے ایک دن بھابھی چولہے میں آگ لگانے لگی ابھی چولہا جلایا بھی نہیں تھا کہ بھابھی کے کپڑوں کو آگ لگ گئی اور وہ چیخنے لگی اللہ کے فضل سے ہم نے آگ پر قابو پالیا ۔ اس کے بعد جب بھی میری بھابھی اب چولہے کے پاس جاتی ہے ان کو خودبخود آگ لگ جاتی ۔ اب یہ کیفیت تھی کہ ہمارے گھر میں ان کو روزانہ دن میں دو یا تین مرتبہ دورہ پڑتا۔ مگر جب اپنے میکے جاتی تو پندرہ بیس دن بعد دورہ پڑتا یہ تو بھابھی کی کیفیت تھی اب میں اپنی طرف آتی ہوں ایک دن میں کھڑی تھی تو اچانک میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تمام جسم ٹھنڈا ہو گیا خوف محسوس ہونے لگا اور جسم میں ایک تھر تھری سے مچی رہتی ہے ہنسنے بولنے کو دل نہیں کرتا دل پریشان رہتا دھرکن تیز ہو جاتی ۔ کوئی کام کرنے کو دل نہیں کرتا ٹانگیں کانپتی رہتی جب چلتی تو ایسے لگتا کوئی میرے پیچھے ہے اور مجھے دبوچ لے گا اور کبھی یونہی رونے کو دل کرتاکبھی بیٹھے بیٹھے ایسا لگتا ہے کوئی چیز سر کے اندر چلی گئی ہے ۔ جسم پر وزن پڑ جاتا ،نہ میں ہل سکتی نہ ہی بول سکتی اور جسم کانپتا محسوس ہوتا ۔جیسے کرنٹ لگنے سے کانپتا ہے پھر تھوڑی دیر بعد مجھے ہوش آ جاتا اور میں کلمہ پڑھنا شروع کردیتی ۔ اکثر گھر میں پر فیوم کی خوشبو آتی اور کبھی بو محسوس ہوتی ۔ جیسے کوئی تار جل رہی ہو۔ پھر ہم گھر والوں نے پانچ وقت کی نماز پڑھنا شروع کر دی گھر کے ہر کمرے میں ایم پی تھر ی آڈیو سے ہر وقت سورہ بقرہ اور رحمن کی تلاوت چلا کے رکھی گھر کے سارے فرد فجر کے نماز کے بعد اونچی آواز میں تلاوت قرآن مجید کرتے اور منزل بھی پانبدی سے روزانہ پڑھتے ہیں جس کی برکت سے اب ہمارے گھر میں کافی سکون ہے جنات کی چہل پہل گھر سے ختم ہوتی جارہی ہے ۔    

Wednesday, November 11, 2015

دوست جننی اور اس کی سہانی یادیں

دوست جننی اور اس کی سہانی یادیں :۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! امید ہے مزاج بخیر ہوں گے چند ماہ قبل کسی دوست کے ہاتھ میں ماہنامہ عبقری دیکھا تو بے ساختہ خیال پیدا ہوا کہ یہ بھی ایسے ہی عام سا رسالہ ہے مگر جب میں نے سرسری لاپرواہی سے اس کا سرورق کھولا تو سرورق پر مولانا محمد کلیم صدیقی دامت پرکاتہم اور اس کے ایڈیٹر کے باکس میں شیخ الوظائف حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی دامت برکاتہم کا نام دیکھا تو تسلی ہو گئی کہ یہ تو ہمارے بڑوں کے پروردہ ہیں اور لوگوںکی اصلاح کے جذبے سے سر شار ہیں اللہ کریم آپ کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ فرمائے ۔ آمین ! اب میں مستقل ماہنامہ عبقری کا قاری ہوں اور ہاکر کو کہہ کر رسالہ گھر لگوایا ہوا ہے اس تحریر سے مقصود یہ ہے کہ میں بھی کچھ مواد ماہنامہ عبقری کے قارئین کی خدمت میں بھیجنا چاہتا ہوں خاص طور پر کوہ قاف سے آئی پری سے خوشگوار ملاقاتیں کی کہانی ،پڑھ کر ۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ دوران ملازمت میری تشکیل بالا کوٹ ہوئی مجھے وہاں ایک فلیٹ ملا جس میں میں صبح کو جاتا اور شام کو آ جاتا تین چار دنوں کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ یہاں میرے علاوہ بھی کوئی اندیکھی مخلوق رہتی ہے کبھی برتن پڑا پڑا خود بخود گر جاتا کبھی کھڑکی خود بخود کھلتی اور بند ہو جاتی ایک دن میں نے ہمت کر کے اس سے بات کی تو اسی رات میری خواب میں ایک نہایت بد صورت چڑیل آئی اور اس نے مجھے دھمکی دی کہ فوراً اس گھر کو چھوڑ دو چار ہفتے اس چڑیل نے مجھے خوب تنگ کیا مگر پھر حیران کن طور پر اس کمرے میں جیسے سکون سا آگیا ۔ نہ برتن گرتا نہ میرے خواب میں کوئی چڑیل آتی ۔ نہ مجھے کوئی دھمکی دیتا ۔ میں بڑا حیران تھا وہ سب کیا ہے ؟ چند دنوں کے بعد میں رات کو سویا ہوا تھا کہ کمرے میں خوب روشنی ہوئی اور نہایت خوبصورت جننی آئی ۔ کمرے میں ہر طرف خوشبو پھیل گئی اس جننی نے مجھ سے کہا کہ اس چڑیل سے تمہاری جان میں نے چھڑوائی ہے اب تم سکون سے اس گھر میں رہ سکتے ہو ۔ پھر اس جننی سے میری ملاقاتیں شروع ہو گئی اور وہ ہر روز میرے خواب میں آتی مجھے جنات کی باتیں بتاتی ۔ میں بڑا خوش تھا میرے کسی عزیز دوست رشتہ دار کو کوئی مسئلہ ہوتا میں اس سے حل کروا لیتا ۔ بہت سی بیماریوں پریشانیوں اور جادو ٹونے کا توڑ اس نے مجھے چند دنوں میں کر کے دے دیا اس دوران جنات کے حوالے سے میری معلومات میں بہت اضافہ ہوا ۔ اس جننی سے میرا تعلق تقریباً تین سال تک رہا ۔۔ ساری ساری رات وہ میرے پاس رہتی صبح جب میری آنکھ کھلتی تو کمرا خوشبو سے بھرا ہوتا میری نیند پوری نہ ہوتی تھی اور دن بدن میری صحت بھی خراب ہوتی جا رہی تھی ۔ پھر مجھے ایک اللہ والے ملے انہیں میں نے اپنا جننی سے تعلق کے متعلق سب کچھ سچ سچ بتادیا ۔۔ پھر انہوں نے مجھے وہ جگہ چھوڑ نے کو کہا اور کہا فوری طور پر اس سے علیحدہ ہو جاؤ اور میں عمل کرتا ہوں ایک تو وہ تمہارے پاس کبھی نہیں آئے گی اور اگر کبھی آ بھی گئی تو اسے اپنے پاس آنے سے منع کر دینا وہ دن اور آج کا دن وہ جننی دوبارہ میرے پاس کبھی نہیں آئی ۔

Sunday, September 20, 2015

دو انمول خزانے نے جنات کو آزادی دلا دی

دو انمول خزانے نے جنات کو آزادی دلا دی:۔



محترم حضرت حکیم صاحب السلا م علیکم! میرا جنات کے ساتھ واسطہ کافی پرانا ہے ، میرے پاس دو جنات بلال خان اور عبداللہ آتے تھے سب سے پہلے میں نے ان کو مسلمان کیا ان دونوں کی وساطت سے میں نے 84 جنات کو مسلمان کیا ۔ اس دوران بہت سے جنات آئے اور چلے گئے وہ بتاتے ہیں کہ ہم آپ کی دادی کے والد کے خادم ہیں اور ان کی تمام فیملی ہے اور آس پاس سے بھیجے گئے جنات ہیں مگر وہ سب اب آپ کی یعنی حضرت حکیم صاحب ! اور اللہ پاک کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ کے وظیفہ دو انمول خزانہ کی وجہ سے ہم آزاد ہوئے ہیں ، وہ ہم سے براہ راست بات کرتے ہیں اور ہمارے بچوں کے لئے تحفے تحائف بھی لاتےہیں ۔ حضرت حکیم صاحب ! مجھے نہیں معلوم یہ سب میرے ساتھ کیوں ہو رہا ہے ؟ ان جنات کی مجھ سے کیوں دوستی ہے جنات مجھے عجیب عجیب کہانیاں سناتے ہیں ۔ میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آ رہا ۔ میری بہنیں کہتی ہیں کہ بھائی کو نفسیاتی ہسپتال لے چلو ، کہیں یہ نفسیاتی مریض تو نہیں ہو گیا ۔

جنات نے نظر بند کر دی:۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلا م علیکم! اللہ پاک آپ کا فیض تادیر جاری رکھے اور آپکےطفیل ہماری بھی دنیا اور آخرت میں آ سانی عطا فرمائے ۔ میں اپنی سچی داستان جو کہ جنات سے متعلق ہے قارئین کو بتانا چاہتا ہوں اسی لئے میں یہ خط کسی سے لکھوا کر بھیج رہا ہوں ۔ میں جب جماعت ہشتم کا طالب علم تھا میرے سر میں شدید درد شروع ہو گیا ، درد ناقبل برداشت تھا ، ڈاکٹر ی ادویات بھی کافی استعمال کیں لیکن افاقہ نہیں ہوتا تھا ، اسی دوران میری ایک بہن جو کہ سکھر میں رہتی تھیں انہوں نے گھر رابطہ کیا تو ابو نے بتا یا کہ (ع) کی یہ کیفیت ہے۔ تو میری بہن کے کہنے پر مجھے سکھر بھیج دیا گیا ، بہن کے پاس ایک نام نہاد عامل عورت رہتی تھی جو کہتی تھی کہ میرا جنات سے رابطہ ہے میں (ع) کو ان سے دم کروا کر لاتی ہوں ، میری بہن نے بنا سوچے سمجھے مجھے اس کے ساتھ بھیج دیا ، وہ مجھے مختلف جگہوں سے گھما پھرا کر گھر لے آئیں ۔اور کہا کہ میں دم کروا لائی ہوں۔ اس کے دم کروانے کے بعد مجھےاور شدید درد شروع ہو گیا ۔اسی دوران شب برات کے موقع پر صبح اٹھا تو میری نظر بند ہو چکی تھی ۔ اس وقت میری عمر 14 سال تھی ۔ جب میری نظر بند ہوئی تو وہی عورت مجھے گاڑی میں بٹھا کر ایک باغ میں لے جاتی ہے۔ اور مجھے محسوس ہوا کہ وہ مجھے ایک درخت کے اندر لے جاتی جو گھر نماتھا ۔اور وہاں پر جنات کی کثرت تھی ۔وہ مجھے باقاعدہ سلام وغیرہ کرتے اور مجھے کھڑا کر کہ میرے جسم کی دھاگوں سےپیمائش کرتے اور کہتے اس کو کہیں لے کر نہ جانا اور جب میں ان سے دعا کی درخواست کرتا تو مجھے کہتے کہ ابھی تمہاری نظر بند کی ہے ہم تمہاری سانس بھی بند کر دیں گے ، وہ دن اور آج کا دن میری دنیا اندھیر ہے ، میں نے بڑے بڑے ڈاکٹروں ،عاملوں کو دکھایا مگر ان جنات نے میری نظر نہ کھولی ، میری قارئین سے التجا ہے کہ کسی بھی سڑک چھاپ عامل سے اپنا روحانی علاج ہر گز مت کروائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ جو سزا میں بھگت رہا ہوں وہ کل آپ کو بھی بھگتنی پڑے۔



 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر28

Tuesday, August 18, 2015

نانی کے پڑوسی کو جنات نے ارب پتی بنا دیا

نانی کے پڑوسی کو جنات نے ارب پتی بنا دیا :

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم ! میں بھی دیگر لاکھوں لوگوں کی طرح آپ کا پرستار ہوں، عبقری کا مستقل قاری ہوں ، آپ کی شائع ہونے والی تالیف "جنات سے سچی ملاقاتیں " پڑھی اور آپ کے حکم پر ، پیش آنے والا سچا واقعہ تحریر کر رہاہوں ۔ میری والدہ کا انتقال میرے بچپن میں ہی  ہو گیا تھا ، میں اپنے ننھیال کےپاس چنددن رہنے کے لئے گیا ، شام کومیں نے اپنی نانی اماں سے کہا " میں بڑے کمرے کے ساتھ متصل کمرہ ہے وہاں سو ؤں گا " انہوں نے مجھے وہاں سونے سے منع کیا ۔ بالآخر میری ضد کے سامنے ہتھیار پھینک دیئے ، مگر یہ بھی کہہ دیا کہ تمہارے ساتھ تمہارے ماموں بھی سوئیں گے ، میں نے کہا " منظور ہے " رات کو میں اپنے معمول کے وقت پر کمرے میں جا کر سو گیا اور بعد میں ماموں بھی آ کر میرے ساتھ سو گئے ۔ رات دو بجے کے قریب کمرے میں مکمل اندھیرا اور سناٹا تھا کہ چھن چھن کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں ، میری نیند کھل چکی تھی اور چھن چھن کی آوازوں میں شدت آ چکی تھی ۔، اور کمرے میں دھڑام کی زور دار آواز آئی اور یوں لگا کہ کوئی قدآور چیز ہے جس کے پاس دیگ نما بڑا سا برتن ہے اور کہہ رہی ہے "پہلوٹھی کا بچہ اور بہو دے دو اور دھن لے لو "  پھر اس مخلوق کو برتن اٹھا ئے ہوئے اپنی چارپائی کے پاس سے گزرتے دیکھا ۔ میری حالت مارے خوف کے ایسی ہو چکی تھی کہ بدن کا ٹو تو لہو نہیں کچھ دیر بعد وہی مخلوق برتن اٹھائے صدا لگاتے ہوئے گزر گئی میں مارے خوف کے منہ لحاف میں دبک کر یہ ہو شربا منظر دیکھتا رہا ۔ نہ جانے کب آنکھ لگ گئی صبح روشن طلوع ہوئی ، میں نے اس واقعہ کا ذکر اپنی نانی امی  سے کیا تو انہوں نے کہا  میں اسی لئے  آپ کو وہاں سونے سے منع کر رہی تھی غیر مرئی مخلوق ہر رات ایساہی کرتی ہے  چھن چھن کی آوازیں اور پہلوٹھی کا بچہ اور بہو دے دو دھن لے لو کی صدا روز ہی سنائی دیتی ہے اور یہ مخلوق پڑوس کے گھر کی طرف چلی جاتی ہے۔ میں چند دن نانی اماں کے گھر بسر کر کے واپس آ گیا ۔ چند سال بعد دوبارہ وہاں گیا تو نانی امی سے ازراہ تجسس دوبارہ دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ پڑوس کے گھر میں پہلوٹھی کا بچہ بھی تھا اور بہو بھی تھی اور وہ بھی یہ آواز سنتے تھے ۔ انہوں نے کسی عامل کو واقعہ بیان کیا تو اس نے کہ اکہ یہ جنات پہلو ٹھی کے بچے اور بہو کے بدلے میں تم لوگوں کو دھن دولت دینا چاہتے ہیں یہ سن کر ان کی نیت میں فتور آ  گیا انہوں نے اسی رات بہو اور پہلوٹھی کے بچےکو اس کمرے میں سلا دیا جو جنات کی گزر گاہ تھی۔ صبح دیکھا تو کمرے سے پلوٹھی کا بچہ اور بہو غائب تھے اور دیگ نما بڑا سا برتن پڑا تھا ۔ ڈھکن ہٹا کر دیکھا تو وہ ہیرے جواہرات سے بھرا ہوا تھا ۔ انہوں نے آہستہ آہستہ یہ زیوارت بیچے اور شہر کے پوش علاقے میں بنگلہ خرید لیا ۔ یہ خاندان پہلے مزدوری پر گولی ٹافی کی پیکنگ کا کا م کرتا تھا ، جسے اب انہوں نے بہت وسعت دے دی تھی ۔ اس واقع کا صحیح علم صرف میری نانی امی کو ہی تھا کہ یہ لوگ راتوں رات کیسے امیر کبیر ہو گئے ۔ اب  نانی امی کے گھر سے نہ تو چھن چھن کی آواز یں آتی ہیں اور نہ ہی کوئی کہتا ہے "پہلوٹھی کا بچہ اور بہو دے دو دھن لے لو" ان دونوں کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا کوئی نہیں جانتا ۔
 ماہنامہ عبقری "اگست 2015ء شمارہ نمبر 110" صفحہ نمبر28