Showing posts with label درس روحانیت و امن. Show all posts
Showing posts with label درس روحانیت و امن. Show all posts

Thursday, January 4, 2018

روحانی مسائل حل


چند سالوں سے کام کا مسئلہ بنا ہوا تھا‘ پہلے تو کئی سال کام بند رہا‘ پھر اللہ آپ کا بھلا کرے‘ عبقری رسالہ سے میں اور میری بیٹی وظائف کرتی رہی توہمارا کام بہترہوگیا ہے۔ ایک اللہ والی نے مجھے ایک وظیفہ بتایا تھا ۔ 

اس سے نماز کی پابندی اور چغلی‘ غیبت وغیرہ سے کافی پرہیز ہوجاتا ہے اور دل نیکیوں کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ الحمدللہ! میں یہ وظیفہ پڑھ رہا ہوں میرے روحانی مسائل حل ہورہے ہیں۔

روحانی محفل اپریل 2017


اس ماہ کی روحانی محفل11اپریل بروزمنگل رات9 بجے سے لیکر 10 بجکر21 منٹ تک‘22 اپریل بروز ہفتہ عصر سے مغرب‘ 30 اپریل بروز اتوارصبح 10 بجکر 15منٹ سے 11 بجکر21منٹ تک

 (صرف اتنا)پڑھیں۔یہ ذکر، بھکاری بن کر ، خلوص دل ، درددل ، توجہ اور اس یقین کے ساتھ کہ میرارب میری فریا د سن رہا ہے اور سو فی صد قبول کر رہا ہے۔ پانی کا گلاس سامنے رکھیں ا و ر اس تصو ر کیساتھ پڑھیں کہ آسمان سے ہلکی پیلی روشنی آپکے دل پر ہلکی بارش کی طر ح برس رہی ہے اور دل کو سکون چین نصیب ہورہا ہے اور مشکلات فوری حل ہورہی ہیں۔ وقت پورا ہونے کے بعد دل و جان سے پوری امت، عالم اسلام اور غیرمسلموں کے ایمان کیلئے پوری دنیا میں امن کی دعا‘ اپنے لیے اور اپنے عزیز و اقارب کیلئے دعا کریں۔ پورے یقین کے ساتھ دعا کریں۔ ہر جائز دعا قبول کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ دعا کے بعد پانی پر تین بار دم کر کے پانی خود پئیں۔ گھروالوں کو بھی پلا سکتے ہیں۔ انشاء اللہ آپکی تمام جائز مرادیں ضرور پوری ہونگی۔ ہر محفل کے بعد 11روپے صدقہ ضرور کریں
 ( نوٹ :)1-روحانی محفل کے درمیان اگر نماز کا وقت آجائے تو پہلے نماز ادا کی جائے اور بقیہ وقت نماز کے بعد پورا کیا جائے۔ اگر اسی وقت یہ وظیفہ روزانہ کرلیں تو اجازت ہے مستقل بھی کرنا چاہیں تو معمول بناسکتے ہیں۔ ہر مہینے کا ورد مختلف ہوتا ہے اور خاص وقت کے تعین کے ساتھ ہوتا ہے۔ بے شمار لوگوں کی مرادیں پوری ہوئیں۔ ناممکن ،ممکن ہوئیں۔ پھر لوگوں نے اپنی مرادیں پوری ہونے پر خطوط لکھے آپ بھی مراد پوری ہونے پرخط ضرور لکھیں۔

روحانی علاج اور وظائف


اگر میاں بیوی میں آپس میں نااتفاقی رہتی ہو اور ایک دوسرے سے کٹے کٹے رہتے ہوں ایسی صورت میں عشاء کی نماز کے بعد باوضو ایک سو بار

 پڑھے۔ انشاء اللہ تعالیٰ باہمی تعلقات خوشگوار ہوجائیں گے اگر بیوی شوہر سے الگ الگ رہتی ہو تو شوہر یہ عمل کرے غلط وساس اور گندے خیالات سے نجات: اگر کوئی شخص وساوس اور گندے گندے خیالات میں مبتلا ہو۔ اس کو ہروقت بے ہودہ اور گندے خیالات آتے رہتے ہوں جس کے سبب وہ پریشان اور غائب دماغ رہتا ہو۔ اس کا کسی کام میں دل نہ لگتا ہو اور نہ وہ کوئی کام پوری توجہ سے کرسکتا ہو۔ ہروقت بے چین اور مدہوش رہتا ہو۔ اس کیلئے سب سے پہلا کام یہ ہے کہ پابندی کے ساتھ نماز باجماعت ادا کرے۔ اس کے بعد ہروقت باوضو رہنے کی کوشش کرے۔ جب وضو ٹوٹ جائے فوراً وضو کرلے۔ ہرنماز کے بعد ایک سو بار اسم

 پابندی کے ساتھ پڑھے اور فجر اور عشاء کی نماز کے بعد یہ عمل کرکے پانی پر دم کرکے پانی پی لے اور تمام بدن پر سر سے پاؤں تک ہاتھ پھیرلے۔ وہ عمل یہ ہے:۔ اول سات مرتبہ درودشریف، الحمدشریف پوری سورۂ تین مرتبہ‘ آیۃ الکرسی تین مرتبہ‘ چاروں قل تین تین مرتبہ‘ آخر میں سات مرتبہ درودشریف پڑھے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس کا دل کام یا پڑھنے میں دل لگے گا بُرے خیالات آنا بند ہوجائیں گے اور حالت سدھر جائے گی۔ آفات اور حاسدین سے حفاظت:اگر کوئی شخص پے درپے آفات کا شکار ہوتا ہو اور حاسداسے ظلم کا نشانہ بناتے ہوں تو ان تمام آفات وظلم سے نجات کیلئے بعد نمازعشاء ایک سو چھتیس بار اسم الٰہی یَامُؤْمِنُ پڑھے۔ یہ عمل چالیس دن پابندی کے ساتھ کریں۔ انشاء اللہ تعالیٰ ہر قسم کی آفات سے نجات حاصل ہوگی اور آئندہ ظلم اور آفات سےحفاظت رہےگی۔ بانجھ عورت کا بانجھ پن ختم: اگر کوئی عورت بانجھ ہو اور اولاد کے نہ ہونے سے پریشان ہواوراس کی بڑی تمنا ہو کہ اس کے بھی بچہ پیدا ہوجائے تو بانجھ پن کو ختم کرنے کیلئے پانچ وقت کی نماز پابندی کے ساتھ ادا کیا کرے اس میں سستی کاہلی نہ کرے اور ہروقت کوشش کرے کہ باوضو رہے اگر وضو ٹوٹ جائے دوبارہ وضو کرلے اور ہر نماز کے بعد اول گیارہ بار درودشریف پڑھے اس کے بعد اکتالیس مرتبہ 

 پڑھے اس کے بعد گیارہ بار درودشریف پڑھے۔ یہ عمل حمل قائم ہونے تک کرے‘ انشاء اللہ تعالیٰ بانجھ پن ختم ہوکر اولاد ہوگی۔ ہرقسم کی بے چینی اور پریشانی کا خاتمہ: اگر کوئی شخص کسی قسم کی بے چینی محسوس کرتا ہے اور پریشان رہتا ہے تو اس کیلئے باوضو عشاء کی نماز کے بعد ایک سو اکیس مرتبہ اسم الٰہی 

 پڑھا کرے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس عمل کی برکت سے جلد ہی اس کی بے چینی ختم ہوجائے گی اور ہر قسم کی پریشانی دور ہوجائے گی۔ عمل شرط ہے۔ جب تک بےچینی ختم نہ ہو برابر عمل کرتا رہے۔کچھ عرصہ مستقل مزاجی سے کرے۔ 
 ملازمت میں ترقی کیلئے:۔
 اگر کوئی چاہتا ہے کہ اپنے شعبے میں ملازمت کے دوران اونچے سے اونچے منصب پر فائز ہوجائے اور اس کی ترقی میں کوئی رکاوٹ نہ بنے بلکہ وہ تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کرتا جائے تو اس کیلئے بعد نمازفجر کسی سے بات نہ کرےاور نمازِ اشراق تک اپنی جگہ بیٹھ کر اسم الٰہی 

 پڑھے اورسورج نکلنے تک باقاعدہ پڑھتا رہے۔ درمیان میں اپنی جگہ سے نہ اٹھے اور نہ کسی سے بات کرے۔ اس اسم الٰہی کے ذکر میں مشغول رہے اور یہ عمل ہمیشہ کرتا رہےتو انشاء اللہ تعالیٰ اس کے اثرات قدم قدم پر اس کی زندگی میں ظاہرہوتے رہیں گے اور وہ بآسانی ترقی کرتے کرتے اعلیٰ منصب پر پہنچ جاتا ہے۔ نقصان پہنچانے والے سےبچاؤ کیلئے: اگر کسی جگہ کسی حاسد یا نقصان پہنچانےوالے کے حملہ کا خطرہ ہے اور سمت معلوم ہے کہ وہ اس طرف سے آئے گا تو اس کیلئے باوضو درج ذیل آیت ستر مرتبہ پڑھ کر ایک مٹھی ریت (مٹی) پر دم کرکے دشمن کے آنےوالے راستے کی طرف پھینک دے۔ انشاء اللہ تعالیٰ حاسد اور نقصان پہنچانے کی نیت سےآنے والا واپس پلٹ جائے گا اور اس کا قدم کسی صورت میں بھی آگے کی طرف نہیں اٹھےگا اور اس کے دل پر رعب غالب آجائے گا۔ وہ آیت یہ ہے۔ 

 دیدار نبی کریم ﷺ کی سعادت حاصل کیجئے:۔
ہر عاشق رسول کے دل میں تڑپ ہوتی ہے کہ وہ تاجدار انبیاءرحمۃ اللعالمین حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت خواب میں کرے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ خواب میں زیارت ہونے کے بہت سے طریقے علماء کرام اور صوفیاء عظام نے اپنے اپنے تجربات کی روشنی میں بیان کیے ہیں۔ ان میں ایک طریقہ یہ ہے کہ جمعرات کا دن گزرنے کے بعد جو رات آتی ہے وہ جمعہ کی رات ہے۔ اس میں دو رکعت نمازنفل بعد نمازعشاء پڑھے ہررکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد 35 مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے۔ نماز کے بعد ایک ہزار بار یہ درودشریف پڑھ کر دعا کرے کہ اے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت خاص سے مجھے حضرت محمد ﷺ خاتم الانبیاء ﷺ کی خواب میں زیارت کرا دے۔ اس کے بعد پاک بستر پر قبلہ رُخ باوضو سوجائے۔ انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ جمعہ آنے سے قبل خواب میں زیارت نصیب ہوجائے گی۔ اگر ایک مرتبہ کے عمل سے زیارت نہ ہو تو تین بار (تین جمعہ کی رات) عمل کرے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ضرور کامیاب ہوجائے گا۔ وہ درودشریف یہ ہے:۔ 

 میاں بیوی میں محبت و اتفاق:۔
 اگر میاں بیوی میں آپس میں نااتفاقی رہتی ہو اور ایک دوسرے سے کٹے کٹے رہتے ہوں ایسی صورت میں عشاء کی نماز کے بعد باوضو ایک سو بار

 پڑھے۔ انشاء اللہ تعالیٰ باہمی تعلقات خوشگوار ہوجائیں گے اگر بیوی شوہر سے الگ الگ رہتی ہو تو شوہر یہ عمل کرے اور شوہر بیوی سے میل جول میں کمی کرتا ہے تو بیوی پڑھے جب تک تعلقات صحیح قائم نہ ہوجائیں اس وقت تک برابر عمل کرنا ہے۔ a

روتا ہوا تسبیح خانہ آیا اور۔ ۔


میں ایک لڑکی کے عشق میں مبتلا ہوگیا تھا۔ میں اس کے عشق میں کیسے گرفتار ہوا؟ اس کی تفصیل میں یہاں بتانا ضروری نہیں سمجھتا۔ عشق میں گرفتارہونے کے بعد میری کیا حالت ہوئی اور میں کیسے حالات کا شکار ہوگیا تھا وہ بتارہا ہوں اور اس دنیاوی عشق نے مجھے عشق حقیقی سے ملادیا۔ قارئین! میری حالت بہت زیادہ خراب ہوگئی تھی‘ مجھے اس کی یاد بہت ستاتی تھی اور میں اس کو حاصل کرنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار تھا اور میں نے کوئی ایسی دعا نہ مانگی ہوگی جس میں میں نے اپنے رب سے اس کو نہ مانگا ہوگا۔ پانچ وقت نماز کی پابندی کرتا تھا اور ہر نماز میں اس کو حاصل کرنے کی دعائیں اور التجائیں کرتا تھا۔ میری حالت دیکھ کر ایک دوست مجھے ایک باباجی کےپاس لےگیا‘ اس نے میرا سارا مسئلہ سننے کے بعد مجھے کچھ عمل بتائے جس میں اس نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے کاغذ کے ٹکڑے دو صبح اور دو شام کو جلانے کا کہا اور ایک کاغذ کے ٹکڑے کو مچھلی کے منہ میں رکھ کر کسی چوطرفہ راستہ پر مچھلی کو دفنانے کا کہا اور اس نے کہا یہ عمل اس کی (میری محبوبہ) شادی کو روکنے کیلئے اور باقی عمل اس کے دل میں میری محبت ڈالنے کیلئے ہے اور اس طرح میری شادی اس لڑکی کےساتھ ہوجائے گی۔ الغرض جب میں اس باباجی سے سارا عمل کاطریقہ سمجھ کر واپس آیا تو راستہ میں مجھے میرا ایک اور دوست ملا‘ اس نے مجھے شدید پریشان دیکھا تو مسئلہ پوچھا میں نے سب کچھ بتادیا اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ میں اس طرح ایک باباجی کے پاس گیا تھا انہوں نے مجھے یہ چیزیں دیں ہیں۔ چونکہ میں ہرطرف سے ناامید ہوچکا تھا انتہائی پریشان تھا‘ میرے دوست نے مجھ سے وہ تمام چیزیں لیں اور کہا کہ تم میرے ساتھ تسبیح خانہ چلنا‘ وہاں حضرت حکیم صاحب ہیں اگر ان سے ملاقات ہوگئی تو وہ تمہارا مسئلہ حل فرمادیں گے اور تمہاری اس لڑکی سے شادی ہوجائےگی۔ میں یہ سنتے ہی اس کے پیچھے پڑگیا کہ مجھے آج ہی لے کرچلو‘ اس نے مجھے کہا کہ ان سے ملاقات سے پہلے وقت لینا پڑتا ہے‘ ایسے ان سے ملاقات نہیں ہوتی‘ اس نے مجھے بہت سمجھایا کہ بغیر ٹوکن کے وہ نہیں ملتے‘ مگر وہ میری حالت دیکھ اور میرے اصرار پر وہ مجھے حضرت حکیم صاحب سے ملاقات کیلئے بروز سوموار دفتر ماہنامہ عبقری لے آیا‘ میں وہاں اُن سے ملاقات کیلئے پانچ گھنٹے بیٹھا رہا جب شام کے سات بج گئے تو وہاں موجود لڑکے نے آکر بتایا کہ حضرت حکیم صاحب نے ملاقات سے انکار کردیا ہے‘ ابھی ملاقات نہیں ہوسکتی اگر ملاقات کرنی ہے توپہلے فون پر وقت لیں پھر آئیں۔ مگر میں اس بات پر بضد تھا کہ میں نے حضرت حکیم صاحب سے ملاقات کرکے ہی جانا ہے۔ وہاں موجود خادموں نے مجھے بہت سمجھایا مگر میں نے کسی کی بات نہ سنی اور جب ساڑھے سات کا وقت ہوا تو میں بہت زیادہ رونے لگا اور اللہ سےعرض کی کہ اے اللہ! میرے مسئلہ کا حل نہیں نکل رہا‘ میں تیرا بندہ کے پاس اپنا مسئلہ لے کر آیا ہوں کہ شاید وہ میری رہنمائی فرمائے لیکن وہ بھی ملنے کو تیار نہیں‘ خیر ادھر میں بہت رویا اور پھر سات پینتالیس پر حضرت حکیم صاحب کلینک سے باہر نکلے تومیں باہر ہی کھڑا تھا میں نے آپ کو السلام علیکم کہا آپ نے میری طرف دیکھا اور کلینک سے باہر جانا چاہا میری ہمت نہیں ہورہی تھی کہ میں آپ کو روکوں خیر آپ نے مجھے بلایا اور آپ بہت شدید جلال میں تھے آپ نے مجھے کہا کہ اپنے دوست کو بتادینا کہ تم زیادتی کررہے ہوں اور مرشد کو ایسے نہیں ستاتے۔ جب آپ نے یہ بات کہی تو میں نے آپ سے التجا کی کہ (ع) کا کوئی قصور نہیں ہے سارا قصور میرا ہے میں نے اس کو مجبور کیا تھا ادھر آنےکو‘ خیرمیں بہت رونے لگا اور آپ چلے گئے اور میں واپس (ع) کے پاس آیا اور میں نے اس کو روک کر کہا کہ دوست مجھے معاف کردینا‘ میری وجہ سے حضرت حکیم صاحب آپ پر غصہ ہوئے ہیں‘ میں سارا راستہ روتا رہا اوراپنے کوارٹر تک پہنچنے تک روتا رہا۔ جب اپنے کمرے میں داخل ہوا تو مجھے (ایس) کا میسج آیا ’’آپ کیسےہیں؟‘‘ میں بہت زیادہ ٹینشن میں تھا‘ عجیب کیفیت تھی میری‘ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا میں کیا کررہا ہوں میں نے اس کو جواب دیا ’’ میں تمہارے لیے مَرچکا ہوں اور تم میرے لیے‘ خبردار مجھے کوئی کال یا کوئی میسج نہ کرے‘ نہ ہی اب میری طرف سے آئے گا اللہ حافظ‘‘ یہ لکھتے ہوئے اور لکھنے کےبعد میں بہت دیر تک روتا رہا اور خود کو بعد میں کوستا رہا یہ میں نے کیوں لکھا‘ میرے ہاتھوںنے میرا ساتھ کیسے دے دیا کہ میں جس سے اتنا عشق کرتا ہوں اس کو یہ الفاظ لکھوں‘ خیر میں بہت دیر تک بلک بلک کر روتا رہا‘ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے‘ میرا دل بند ہورہا تھا اور میرےاوپر کوئی عجیب روحانی کیفیت تھی‘ خیر میں قریبی مسجد میں چلا گیا اور بس روئے جارہا تھا‘ مسجد سےرات گیارہ بجے واپس آیا اور بڑی مشکل سے اپنے بیڈ پر سونے کیلئے لیٹا نہ جانے کب نیندآئی۔ اس رات میں نے خواب دیکھا کہ حضرت حکیم صاحب ممبر پر بیٹھے اور (ع) اکیلا تسبیح خانہ لاہورمیں موجود ہے اور اس کےبعد (ع) میرا دل نکال کر کہہ رہا ہے کہ یہ تمہارا دل ہے اس کو دھو دیا گیا ہے۔ پھر تہجد کے وقت میری آنکھ کھلی‘ اٹھ کرتہجد کی نماز ادا کی‘ پھر فجر کی نماز ادا کی‘ مسجد میں بیٹھے ہی میں نے اشراک اور چاشت بھی ادا کی۔ میری آنکھ سے آنسو تھے کہ تھمتے ہی نہ تھے۔ میں نے ارادہ کرلیا کہ اس جمعرات حضرت حکیم صاحب کا درس سننے تسبیح خانہ لاہور میں ضرور جاؤں گا‘ پھر میں جمعرات کو درس سننے تسبیح خانہ گیا‘ درس سنا اور اسی دن بیعت کی اور واپس آکر کوارٹر میں سوگیا اور اسی رات مجھے خواب میں پھر حضرت حکیم صاحب کی زیارت ہوئی‘ خواب یہ تھا کہ میں تسبیح خانہ سے ایک بہت بڑی گٹھڑی اٹھا کر لے جارہا ہوں‘ حکیم صاحب مجھے کہہ رہے ہیں کہ تم سب سے قیتمی گٹھڑی اٹھا کر لے جارہے ہوں۔ پھر میں آپ کے ساتھ بیٹھ کر کھیر کھارہا ہوں‘ میں حضرت حکیم صاحب کو بتارہا تھا کہ میں اس بغیر ٹوکن کے آپ سے ملاقات کیلئے آیا تھا اور آپ جلال میں آگئے تھے آپ میری بات سن کر مسکرا دیتے ہیں۔ قارئین! جب سے میں نے تسبیح خانہ کا چکر لگایا ہے اور درس سنا ہے مجھے (ایس) کی بالکل یاد نہیں آتی اور میں اس کےبارے میں اب اگر سوچتا بھی ہوں تو خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ شاید اللہ نے مجھے بہت بڑی مصیبت سے بچالیا ہے۔ میری زندگی بہت زیادہ بدل گئی ہے‘ پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کرتا ہوں‘ اشراک، چاشت اور تہجد پڑھتا ہوں‘ تسبیحات پڑھتا ہوں۔ ہر جمعرات کو درس سنتا ہوں اور حلقہ کشف المحجوب میں بھی شامل ہوتا ہوں۔ حضرت حکیم صاحب کےدرس اور آپ کی ڈانٹ نے میری زندگی ہی بدل ڈالی ہے۔ اس پر میں سب سے پہلے اپنے رب کا شکرادا کرتا ہوں کہ جس نے مجھے گمراہی سےبچالیا اور مجھے گمراہی سے محفوظ رکھا اور اس کے بعد میں حضرت حکیم صاحب کا شکرا دا کرتا ہوں۔ آپ کی نگاہ کرم سے میری زندگی میں نکھار آگیا ہے اور میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں (ایس) کے بغیر زندہ رہ پاؤں گا۔الحمدللہ میں زندہ ہوں اور بہت خوش و مطمئن ہوں۔ اگلے ماہ (ایس) کی شادی ہے اور مجھے اس کی کوئی پریشانی نہیں ہے کہ اس کی میرے ساتھ شادی نہیں ہورہی۔ بس اپنے کریم رب کاشکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے میری زندگی کی راہیں بدل ڈالیں۔

درس کی برکت


میں اپنے شوہر اور ا ن کے دینی اور معاشی معاملات کی وجہ سے بہت پریشان تھی‘ وہ بالکل ہی دنیا کے ہوکر رہ گئے تھے ‘ نہ نماز‘ نہ روزہ‘ نہ نوافل بس کام ،کام اور کام‘ معاشی معاملات بھی دن بدن خراب ہوتےجارہے تھے‘ ہم اس سلسلے میںملاقات کیلئے آپ کے پاس آئے‘ ملاقات کی‘آپ نے ہمیں 21 درس تسبیح خانہ میں آکر سننے کا حکم دیا۔ الحمدللہ! ہم درس سن رہے ہیں اب تک 17 درس ہوچکے ہیں۔ میں اب اس وقت حیران ہوجاتی ہوں جب میرے شوہر فجر کیلئے اٹھتے ہیں‘ نماز پڑھتے ہیں اور بعد میں تلاوت قرآن کریم بھی کرتے ہیں‘ پانچ وقت نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان میں بہت زیادہ تبدیلیاں آگئی ہیں۔ گھر میں سکون ہے‘ پہلے غصہ کرتے تھے اب نہ جانے ان کا غصہ کدھر گیا؟ ہر کسی کے ساتھ پیار محبت اور شفقت سے پیش آتے ہیں‘ ہمارے معاشی حالات بہت زیادہ خراب تھے درس میں آنے کی برکت سے دن بدن بہتر ہورہے ہیں۔

Wednesday, January 3, 2018

اسم اعظم کا روحانی دم


مجھے کسی نے ہرماہ تسبیح خانہ میں ہونے والے اسم اعظم کے روحانی دم کے بارے میں بتایا تو میں بھی ان کے ساتھ مقررہ دن چل پڑا۔ میرا مسئلہ یہ تھا کہ میرے بازو میں ہروقت درد رہتا تھا‘ ہر قسم کا علاج کروایا مگر آرام نہ آتا تھا۔ میں پہلی مرتبہ ہی دم میں شریک ہوا‘ آپ نے مجھے دم کیا بہت سکون ملا۔ میرے بازو میں شدید درد تھا وہ صرف چار دم میں شرکت کرنے سے بالکل ختم ہوگیا۔ میں تسبیح خانہ میں دم کے علاوہ آپ کے درس میں بھی شرکت کی۔ اسم اعظم کے روحانی دم کے علاوہ مجھے آپ کے درس سے بھی بہت زیادہ فائدہ ہورہا ہے۔ میرے پاس بھینسیں ہیں اور میں انہیں چرانے کیلئے شہر سے دور ویران جگہ لے جاتا ہوں‘ ایک مرتبہ بھینسیں چراتے ہوئے ظہر کا وقت ہوا تو میں نے اپنے ساتھی سے اجازت لی اور نماز پڑھنے گیا‘ میں نے وضو کیا اور مسجد میں چلا گیا تو اکثر وہ مسجد ویران ہی رہتی ہے۔ میں نے آپ کے درس میں سنا تھا کہ اللہ نے نیک صالح جنات کی ڈیوٹیاں لگائی ہوتی ہیں جو ان مساجد کو آباد کرتے ہیں تو میں نے جاکر السلام علیکم جنات المسلمین کہا مجھے نظر تو کچھ نہیں آیا لیکن ایک خوشبو ایسی آئی جو زندگی نے آج تک نہیں سونگھی تھی اور حسب معمول جھاڑو دیا کیونکہ آپ کے درس میں سنا تھا کہ ویران مسجد میں جھاڑو دینے کے بہت فائدے ہیں پھرمیں نے مسجد میں جھاڑو دیا اور جب سنتوں کے بعد فرض پڑھنے لگا تو پھر وہ ہی خوشبو آنے لگی۔ اسم اعظم کے روحانی دم میں ہر ماہ باقاعدگی سے شرکت کرتا ہوں‘ الحمدللہ! میری جسمانی مسائل کے ساتھ ساتھ میرے روحانی مسائل بھی حل ہورہے ہیں‘ اللہ نے حرام سے بچایا ہوا ہے‘ ایک مرتبہ میرے دوست میرے لیے مالٹے لائے میں نے پوچھا کہاں سے لائے تو انہوں نے کہا کہ چوری کے ہیں‘ تو میں نے ہاتھ کھینچ لیے‘ انہوں نے میرا مذاق بھی اڑایا اور کھانے شروع کردئیے‘ مالٹے کھا کر سوئے تو جو ساتھی مالٹے چوری کرکے لایا تھا اسے اسی رات کسی نے غلطی سے گولی ماردی‘ انہوں نے مارنا کسی اور کو تھا اور گولی اس کو لگ گئی۔ گولی لگنے کی وجہ سے اس کا بازو کٹ گیا۔ تو میں نے دل میں کہا کہ یااللہ یہ انجام ہے اس کا جو ناحق کسی کا حق کھائے۔ میرے مزاج میں یہ تبدیلی صرف ہرماہ اسم اعظم کے روحانی دم میں شرکت کی وجہ سے آرہی ہے۔

Monday, December 11, 2017

درس کی برکت


ہمارے بہت سارے مسائل تھے اور میری بیوی کو جنات کا مسئلہ لاحق تھا‘ وہ پہلے بالکل ٹھیک تھی‘ اچانک اس پر جنات حاضر ہونا شروع ہوگئے‘ بہت علاج‘ دم‘ دھاگے کروائے مگر تھوڑی دیر کیلئے فائدہ ہوتا لیکن دوبارہ پھر وہی مسئلہ شروع ہوجاتا‘ جب مجھے عبقری کا ایک دوست کے ذریعے معلوم ہوا تو میں تسبیح خانہ میں آیا‘ آپ کا درس سنا تو مزید درس سننے کا شوق ہوا‘ دفتر ماہنامہ عبقری سے درس والا میموری کارڈ خریدا سارا دن موبائل میں درس لگا کر سنتا رہتا‘ میرے حالات بہتر ہونا شروع ہوگئے‘ نماز پڑھنا شروع کردی۔ اعمال پر لگ گیا‘ دفتر عبقری فون کیا‘ خوش قسمتی سے آپ سے ملاقات کا وقت مل گیا‘ مقررہ دن پر آیا‘ آپ نے بیوی کیلئے افحسبتم اور اذان کا وظیفہ دیا۔ پڑھنا شروع کیا‘ ماشاء اللہ بہت زیادہ فائدہ ہونا شروع ہوگیا‘ بیوی کی طبیعت میں بہت بہتری ہوئی اور جب کوئی مسئلہ ہوتا ہے ہم یہی وظیفہ پڑھتے اور بیوی فوراً ٹھیک ہوجاتی ہے‘ بیوی اب تقریباً بالکل ٹھیک ہوچکی ہے کبھی کبھار مسئلہ ہوتا ہے تو میں خود پڑھتا ہوں‘ کئی بار وہ جن حاضر ہوا ہے اور کہتا ہے میں نہیں آنا چاہتا مجھے بھیجا جاتا ہے میں نے اس کو کہا میں مان لیتا ہوں تجھے بھیجتے ہیں لیکن تیرے آنےسے ہمیں تکلیف ہوتی ہے تو تسبیح خانہ شیخ الوظائف کے پاس چلا جا وہ تیری جان اس عامل سے چھڑوادیں گے جس نے تجھے قید کیا ہوا ہے۔ ایک مرتبہ آیا میں نے آپ کا ویڈیو درس چلا دیا آپ کو دیکھتے ہی بہت گھبرایا‘ چلایا اور بھاگ گیا۔الحمدللہ! آپ کے بتائے وظیفے اور درس سے بہت برکت ہوئی ہے۔آپ کی کوششوں اور دعاؤں نے ہماری زندگی بدل کر رکھ دی ہے۔ میں بیرون ملک رہتا ہوں‘ ہم تمام گھر والے نمازی ہوگئے ہیں اور آپ کے درس کی برکت سے پاکستان میں بھی تمام گھر والے نماز پڑھ رہے ہیں ایسا پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔

Tuesday, February 23, 2016

حلال کمائیں‘ چین کی نیند پائیں


اللہ سے باتیں کرنا سیکھ لیں!: اللہ والو!اللہ سے باتیں کرنا سیکھ لیں‘ اللہ سے راز و نیاز کرنا سیکھ لیں!چلتے چلتے باتیں کریں!سوتے سوتے باتیں کریں!جاگتے جاگتے باتیں کریں! اٹھیں تو باتیں کریں! ارے پاکی میں ہیںتو باتیں کریں! ناپاکی میں ہیں توباتیں کریں !وضو میں ہیں توباتیں کریں!بے وضو ہیں توباتیں کریں!اس کریم کے ساتھ راز و نیاز کریں! اس کریم کے ساتھ باتیں کریں! اس کو اپنے دکھڑے سنائیں !اللہ جل شانہ سے باتیں کریں! نہیں آتیں تب بھی کریں!بولنا نہیں آتاتب بھی بولیں! ایک وقت آئے گاکہ آپ کو بولنا آ جائے گا!ایک وقت آئے گا آپ کو کرنا آجائے گا! پھر ایک وقت آئے گاکہ صرف ایک مس کال پر آپ کے سارے کام ہو جائیں گے! جیسے اس اللہ کے بندے نے ایک طرف کھڑے ہو کر صرف مس کال دی تھی کہ اس کاکام ہوگیا۔ لیکن اس کاکام تب ہوا جب نیت ٹھیک کرلی تھی،اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس نے حلال کھانا ہے ۔کوئی بات نہیں ۔۔ہفتہ وار درس سے اقتباس درس روحانیت وامن)  
اگرمیرے بچے معیاری سکولوںسے ، قیمتی لباسوں سے، بہترین گاڑیوں سے، عمدہ چیزوں سے اورپرتکلف آسائشوں سے محروم ہیںکوئی بات نہیں اگرمیں زندگی کی اعلیٰ آسائشوں اور اعلیٰ چیزوں سے محروم رہوں! کوئی حرج ہی نہیں۔ اللہ!شفاء دینے والی اور شفاء لینے والی ذات:گزشتہ دنوں کی بات ہے میں ایک مریض کے پاس اس کی عیادت کیلئے گیا ۔تقریباً 33,32 کلو اس کا وزن رہ گیا تھا۔ میں نے جاتے ہی ان کو ترغیب دی کہ آپ بیمار ہیں آپ کی دعا قبول ہوگی ،لہٰذا آپ دعا کریں ۔اس اللہ کے بندے نے عشاء کے وقت ایسی دعا کی۔اس کے ہاتھ اوپر جاتے اورپھر نیچے آتے تھے ۔ اس کی دعائیںاس کے دل کی کیفیتوں سے نکل رہی تھیں اور وہ کیفیات مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھیں۔جانے وہ دل ہی دل میں اللہ سے کیامانگ رہا تھا؟ وہ مریض جو بستر مرگ پر ہے جس کو کینسر کی وجہ سے سارے جہان نے لاعلاج قرار دیا ہے۔ شفاء دینے والاتووہ کریم ہے، بظاہربس انتظار ہو رہا ہے۔ میں بھی دعا مانگ رہا تھا، وہ بھی دعا مانگ رہا تھا ،مریض اور میں دونوں ایک ساتھ آمین کہہ رہے تھے۔کافی دیر دعا مانگی۔ اس کی آنکھوں سے ہی نہیں بلکہ اس کے دل سے بھی آنسو بہہ رہے تھے اور میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ کریم کی کریمی ایسے عرشِ الٰہی سے برس پڑی ہے اور میں دل میں کہہ رہا تھا:’’ الٰہی اس کو عاجز تو نے کیا ہے! یہ تو صحت مند تھا!اللہ اس کو مریض تو نے بنایا ہے! یہ تو چلتا پھرتا تھا!میرے پاس بھی آتا تھا! اے اللہ! یہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا! اس کے جسم کی ساری طاقتیںساری قوتیں تو نے لے لیں!دی ہوئی بھی تیری تھیں۔ الٰہی! تو خود تو فرماتا ہے اپنے حبیب سرور کونینﷺ کے ذریعے سے کہ جب میرا بندہ مریض ہوتا ہے اور میرے سامنے عاجز اور بے بس ہوتا ہے،اور اس حال میںجب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میںاس کا سوال رد نہیں کرتا۔ الٰہی!آج اس کے سوال کورد نہ کر ۔اس شخص نے دعا کے بعد ہاتھ منہ پر پھیرے۔ ہاتھ منہ پر پھیرنے کے بعد بڑی دیر تک وہ انہیںکیفیتوں میں ڈوبا رہا۔ وہ شخص آنسوؤں میں ڈوبا رہا۔ پھر اس نے اپنے رومال سے اپنے آنسو پونچھے اور میں نے ان سے اجازت چاہی اور واپس آیا تب میں نے سوچا! آج کی عبادت تو مجھے نفع دے گئی ۔ تو ہو کسی بھی حال میں،مولا سے لو لگائے جا:اللہ والو! اللہ سے مانگناسیکھو ۔اس کے در پر محتاج بن جائو،اس کے غلام بن جائو ، اس کے در کے فقیر بن جائو ۔ساعتیں مانگنے کی آ گئی ہیں ۔گھڑیاں مانگنے کی چل پڑی ہیں۔ اس کریم سے مانگنا سیکھو۔وہ تو تھوڑے سے مانگنے پر بھی بہت عطا کر دیتا ہے ۔ بڑا کریم ہے!بڑا رحیم ہے!یوں اپنی نیت کو سنوارو! یوں اپنے جذبے کو سنوارو!اپنے اندر دیانتداری اور سچائی کا جذبہ پیدا کرو۔ آخرایک دن کریم کی رحمت برس پڑتی ہےاور پھر اس کی عطا ئیںبندوں پرایسے آتی ہیں کہ ہم اور آپ سوچ بھی نہیں سکتے ۔اس سے مانگنا سیکھیں ۔حلال کمائیں ،چین کی نیند پائیں:حلال کے راستوں کی طرف بڑھیں۔ حلال سے نسلیں پلتی ہیں۔ حلال سے چین آتا ہے۔ حلال سے سکون آتا ہے۔ کرا چی کے ایک تاجر نے مجھے سامان دکھایا میں نے پوچھا جناب یہ ایک نمبر ہے یا دو نمبر ہے؟ میرے ہاتھ سے وہ چیز واپس لے کروہ کہنے لگا ’’بھیا میں نے رات کو چین سے سونا ہے، یہ ایک نمبر ہے۔ اتنے سے لفظ اس نے کہے’’ میں نے رات کو چین سے سونا ہے ،یہ ایک نمبر ہے۔‘‘ زندگی کے خوش قسمت ساتھی:زندگی میں اللہ نے ایک موقع دیا ہے اپنی آمدنی کا خیال رکھیں کہ ان نسلوں کو کیا کھلا کر جا رہے ہیں؟ ان نسلوں کو کیسے پال رہے ہیں ؟کتنی خوش قسمت بیوی ہے جو حلال کا تقاضاکرے ‘شوہر کی ساتھی بن جائے اوروہ دونوںحلال کے راستوں پر چل پڑیں۔ کتنا خوش نصیب شوہر ہے جو حلال کی کمائی لا کراپنی بیوی کا ساتھی بن جائے اوروہ دونوں حلال کے راستوں پر چل پڑیں۔ کتنا خوش قسمت بھائی ہے جو حلال کمائی گھر لاکر بہن کا ساتھی بن جائے ۔کتنی خوش قسمت بہن ہے جو اپنے بھائی کو حلال کمانے کی ترغیب دے کر اپنے بھائی کی ساتھی بن جائے۔ اللہ والو! آج ہمیںموقع ملا ہے۔ کسی کو مال پر بٹھایا،کسی کو خزانے پربٹھایا، کسی کو جنس پر بٹھایا ،کسی کو کسی اورچیز پر بٹھایا۔ کامیاب کون ہے؟: اب یہ دیکھیں کہ یہاں کون ان مواقع سے فائدہ اٹھاکراللہ کے ساتھ اپنے معاملات کو حلال کر رہا ہے۔ دیانت و امانت کا معاملہ کررہا ہے‘ سچائی اور صداقت کا معاملہ کر رہا ہےجو بھی یہ سب کررہا ہے بس وہ کامیاب ہو گیا۔بچہ فاقوں سے بلک رہا ہے مگر اس نے حلال روزگارکیاتو یہ کامیاب ہو گیا ۔اس کےبچے کے ہر رونے پر عرش الٰہی سے اللہ کی رحمتیں اتر رہیں۔اگرچہ اس کی ضرورتیں پوری نہیں ہو رہی ہیں لیکن اس نے حلال روزگار کرنے کا طے کررکھا ہے ۔اس نے حرام کا طے نہیں کیا ہوا اس نے اپنے اقتدار کا غلط استعمال نہیں کیا۔ (حکیم محمد طارق محمود چغتائی

Monday, January 4, 2016

خوش قسمت ہو جو تسبیح خانہ میں ہو

خوش قسمت ہو جو تسبیح خانہ میں ہو :۔


مولانا ظہور احمد بھگوی صاحب رحمۃاللہ علیہ بڑے اللہ والے گزرے ہیں ان کے ایک خادم منیر احمد بہت مزاحیہ تھے ، ایک دن منیر احمد اپنے پیر سے کہنے لگے آپ کے اتنے امیر امیر مرید ہیں کسی کو کہہ کر مجھے حج تو کروا دیں ۔ مولانا ظہور احمد بھگوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر تو آئندہ سے مذاق کرنا چھوڑ دے تو میں بات کرتا ہوں ۔ حتیٰ کہ یہ بات اسٹامپ پیپر پر لکھی گئی اب حضرت رحمۃاللہ علیہ نے ایک مرید کو حج کا کہہ دیا ۔انہوں نے سعادت سمجھی کہ ہمارے مرشد کا حکم ہے اس لئے انہوں نے حج کا انتظام کیا ۔ اس وقت حج کیلئے مکہ بحری جہاز سے جانا ہوتا تھا حضرت کیساتھ دو تین خدام اور بھی تھے منیر احمد بھی حضرت کے ساتھ تھے اب حج کیلئے گئے حج کیا حلق کرایا حلق سرمنڈوانے کو کہتے ہیں اس کے بعد احرام کھولا احرام کھول کر پھر طواف زیارت کرنے گئے رمی کی ۔
ہن رب نال گلاں کرن دے :۔ واپسی میں جب منیر احمد گدھے پر سوار ہوا تو کہنے لگا ۔ مڑ ظہور احمد ! ہن رب نال گلاں کرن دے ۔ مولانا ظہور احمد بھگوی صاحب رحمۃاللہ علیہ کہنے لگے تو پھر مذاق کر رہا ہے ؟ منیر احمد کہنے لگا ناں ! ناں ! پھر اللہ سے کہنے لگایا اللہ ! ساڈے جھنگ دا اک رواج اے جیڑھا جنھا وڈا خبیث ہوندا اے جنا وڈا مجرم ہوندا اے ،اس دا منہ کالا کر کے انہوں کھوتے دے بیڈھاندے نیں ۔ طے سر وی منڈوادے نیں ۔ اللہ پاک سر دے وال وی گئے طے کھوتے اتے وی بہہ گیا ۔ مڑ ہونٹر بخشش نہ ہوئی طے گل نہ بنٹریں ۔ مولانا ظہور احمد بھگوی صاحب رحمۃاللہ علیہ کہنے لگے ۔ تو مڑ بکواساں شروع کر دیتیاں ۔ منیر احمد کہنے لگا ناں !ناں ! ظہور احمد ہن رب نال گلاں کرن دے بس اب یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں ایک صاحب کمال درویش وقت کے ابدال وہاں سے گزر رہے تھے کیونکہ جتنی بھی باکمال ہستیاں ہوتی ہیں حج پر مکہ میں ضرور ہوتی ہیں ۔ وہ وہاں سے گزرنے لگے تو کہنے لگے بھئی کیا کر رہے ہو؟ اس کو باتیں کرنے سے نہ روکو ۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ جس کیفیت کے ساتھ یہ رب سے باتیں کر رہا ہے اور رب کی رحمتیں اس پر اتر رہی ہیں جب انہوں نے یہ بات کہی تو مولانا ظہور احمد بھگوی صاحب رحمۃاللہ علیہ فرمانے لگے ۔ بس ہن گلاں کر بس چھوڑ تو جان تیرا رب جانے جس کو رب سے باتیں کرنے کا سلیقہ آ گیا وہ پا گیا اس کا کام بن گیا ۔

Wednesday, December 2, 2015

اللہ سے باتیں کرنے کا انعام

اللہ سے باتیں کرنے کا انعام  :۔


اللہ سے باتیں کرنے کا انعام  :۔ ایک اللہ والے خط میں لکھتے ہیں اکتوبر 2005ء کے قیامت خیز زلزلے کے متاثرین کو مفت معاوضے کی ادائیگی کیلئے حکومت نے یونین کونسل کی وساطت سے سرکاری ملازمین پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دیں جو آرمی کی معاونت سے زلزلہ سے متاثرہ گھرانوں کو معاوضہ اور Death Clime  جاری کرتی تھی ۔ راقم بھی ایک ایسی ٹیم کا چیئرمین مقرر ہوا ، ٹوٹے ہوئے مکانات کے معاوضے کی ابتدائی قسط پچیس ہزار روپے اور ایسے گھرانے جن کے ہاں اموات ہوئی تھیں ان کے لئے فی آدمی ایک لاکھ روپے Death Clime مقرر ہوا۔ Death Clime کا ایک لاکھ روپے والا چیک گم ہو گیا ۔ میں بہت پریشان ہوا کیونکہ وہاں تو جعلسازی کا خطرہ تھا ۔ تمام نظام ڈسڑب تھے ، زلزلے نے سب کچھ تہہ و بالا کر دیا تھا ۔ ایسا چیک کوئی بھی کیش کرو اسکتا تھا ۔ میں سوچ رہا تھا کہ کل ڈپٹی کمشنر کو مکتوب لکھوں گا کہ فلاں نمبر کا چیک منسوخ کر دیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بندہ اس چیک کو کیش کر وا لے ۔دو تین روز کے بعد اچانک میں نے واسکٹ چیک کی تو وہ چیک میری جیب میں موجود تھا حالانکہ میں پہلے چیک کر چکا تھا ۔ کوئی بندہ ڈال گیا تھا ۔ اللہ جل شانہ نے کسی جن کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ جاؤ وہ چو ر لے گیا تھا اس چور کی واسکٹ سے اس کی واسکٹ میں ڈال دیں ۔ رب آقا ہے ۔ ساری خدائی اس کے ماتحت ہے ۔ رب کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ رب سب کچھ کر سکتا ہے اس کے بعد وہ صاحب خط میں لکھتے ہیں کہ " میں نے اپنی سوچ کے دہارے بدل دیئے۔"
غیبی امداد کا دوسرا واقعہ :۔پہلی قسط تقسیم ہونے کے بعد دوبارہ ڈی سی آفس مظفر آباد گیا تاکہ مزید رقم ، چیک لا کر فہرست کے مطابق تقسیم کروں ۔ مظفر آباد ڈی سی آفس سے پچیس لاکھ روپے کیش اور پندرہ لاکھ روپ کے Death Clime چیک لے کر میں نے اپنے کپڑے کے تھیلے میں پیک کر کے اپنی موٹر سائیکل کے پیچھے رک دیئے تاکہ نیشنل بینک سے وہ Death Clime  چیک کیش کر لوں جب میں اپنے چچا کے گھر پہنچا ، تو دیکھا کہ موٹر سائیکل سے تو وہ تھیلا جو پیچھے  باندھا ہوا تھا غائب تھا ۔ جس تھیلے میں پچیس لاکھ روپے نقد اور پندرہ لاکھ روپے کی چیک تھے ۔
گمشدہ 25 لاکھ نقد اور 15 لاکھ کے چیک کی تلاش :۔ اب میں اسی راستے سے واپس ڈی سی آفس کی جانب سے روانہ ہوا جہاں سے آ رہا تھا ۔ راستے میں جگہ جگہ موٹر سائیکل کھڑی کر کے بازار میں ، دکانداروں سے اور دیگر پیدل چلنے والے افراد سے پوچھتا رہا کہ آپ نے یہاں روڈ پر کوئی گرا ہوا تھیلا تو نہیں دیکھا ؟ سب نے انکار کر دیا ۔
حواس باختہ کی رب سے فریاد:۔ ایک لمحے کیلئے ایسے محسوس ہوا کہ میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں کیونکہ اتنی بڑی گمشدہ رقم نے مجھے حواس باختہ کر دیا تھا ۔ میں کافی پریشان ہو گیا ۔ میں جب تلاش بسیار کے باوجود مکمل مایوس ہوا تو ہجوم سے ذرا ہٹ کر کھڑے ہو کر رب سے باتیں کیں کہ " اے اللہ اگر میں نے زندگی میں کوئی ایسا کام کیا جو تجھے پسند ہو تو مجھ پر رحم کر کیونکہ میں اب مجبور ہوں اور میری ساری جائیداد بھی اتنی نہیں کہ میں رقم کی ادائیگی کر سکوں اور پھر بات یہ ہے کہ مجبور لوگوں کا مال ہے اور رقم کی گمشدگی پر میرا کوئی یقین بھی نہیں کرے گا ۔ یااللہ تو ہی میرا مولا ہے ۔ بس تو ہی مجھ پر کرم فرما ۔ ( "اللہ والوں ! اللہ سے باتیں کرنا سیکھ لو۔")
اور میری رقم مجھے مل گئی :۔ وہ صاحب خط میں مزید لکھتے ہیں کہ دعا مانگ کر میں اسی راستے پر ایک بار پھر موٹر سائیکل لے کر نکلا جس راستے پر پہلے ڈھونڈ ڈھانڈ کر آیا تھا ۔ اسی راستے میں لڑکوں کی ایک ٹولی کے پاس رکا ، ان سے پوچھا یہاں اس رنگ کا کوئی تھیلا تو نہیں دیکھا ؟ تو ان میں سے کسی نے کہا ہاں دیکھا ہے ۔ ابھی کوئی 30 منٹ پہلے ایک لڑکا وہ تھیلا فلاں خیمہ بستی میں لے کر گیا ہے ۔ میں اس لڑکے کی نشاندہی پر اس بچے کے ساتھ خیمہ بستی گیا ۔ متعلقہ خیمے کے باہر کھڑے ہو کر آواز دینے لگا کہ وہ میرا تھیلا جو تمہارے بچے کو ملا ہے مجھے واپس دو اور وہ تھیلا اس رنگ کا ہے ۔ اندر خاتون موجود تھی ، میں نے اس خاتون سے کہا کہ ابھی کچھ دیر پہلے تمہارا بچہ جو تھیلا لے کر آیا ہے وہ میرا ہے وہ مجھے دے دو ۔
رقم صحیح سلامت تھی :۔ 30 سیکنڈ کے انتظار کے بعد دوبارہ اس خاتون کے ہاتھ میں وہی تھیلا تھا اور بالکل کھلا ہوا نہیں تھا ۔ اور اس میں وہ سب کچھ موجود تھا جو میرا تھا اور جس کا میں امین تھا اور جو مجھے زلزلہ سے متاثرہ بے گھر لوگوں تک پہنچانا تھا ۔ آگے لکھتے ہیں کہ تھیلا دیکھ کر بے اختیار میری آنکھوں سے شکر کے آنسو نکلے ، سبحان اللہ ! سچے دل سے اور رزق حلال کھا کر مانگی ہوئی دعا کبھی رد نہیں ہوتی ۔ آگے لکھتے ہیں میری امانت مجھے مل گئی ۔ وہ لڑکا جس نے تھیلے کی نشاندہی کی تھی پہلے اس سے جب میں پہلے چکر پر آیا تھا تب بھی میں نے اس سے پوچھا تھا اس نے تب بھی انکار کیا تھا  ۔لیکن دعا کے بعد اس نے نشاندہی کی ۔ 

Tuesday, November 3, 2015

نور بصیرت اور نور بصارت میں فرق

نور بصیرت اور نور بصارت میں فرق:۔



نور بصیرت اور نور بصارت میں فرق:دل کی آنکھ سے دیکھنا نور بصیرت ہے اور ظاہری آنکھ سے دیکھنا نور بصارت ہے اور دل کی آنکھ کے حصول کیلئے اپنے آپ کو کسی فقیر کی غلامی میں مکمل سچائی سے دینا ہو گا  نفس کی خواہشات کو ختم کرنا ہو گا ۔ اس فقیر پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے ہر مشورے پر عمل کرنا ہو گا ۔ اس کے بعد ہی نور بصیرت سے آپ منور ہو سکیں گے۔
مرشد ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان: میرے حضرت سیدمحمد عبداللہ ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے !جس کا مرشد اس کو کسی کام سے روک نہ سکے اور اس کو ڈانٹ نہ سکے یا اس کو کسی چیز سے منع نہ کر سکے اور اس کو کسی کام کا حکم نہ کر سکے تو وہ مرید سمجھ لے کہ وہ ابھی کچا ہے اور کچا گھڑا کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ پکاتب ہوتا ہے جب مشقتوں کی آگ میں آتا ہے ۔ کسی چیز سے روکنا مزاج کیخلاف تو ہے مگر روکنے سے منع کرنے سے مزاج ٹوٹتا ہے ۔  منع کرنے سے اپنا شریکہ ٹوٹتا ہے اور اپنی فیملیاں ٹوٹتی ہیں ، اپنے رواج ٹوٹتے ہیں ، اندر کے مزاج ٹوٹتے ہیں ، جب یہ سب ٹوٹتے ہیں تو پھر گھڑے کو آگ ملتی ہے اور اس آگ سے وہ گھڑا پکا ہوتا ہے۔
سڑا ہوا عاشق اور گھڑا:ایک سڑا ہوا عاشقق جا رہا تھا ایک حسینہ کے سر پر گھڑے کو دیکھ کر کہنے لگا !واہ گھڑے تو ہم سے بھی اچھا ہے کہ حسیناؤں کے سر کا تاج بنا ہوا ہے ۔ گھڑا کہنے لگا ! میرے تاج بننے کے پیچھے میری مشقتوں کو بھی دیکھ۔ انسان کہتا ہے میں مشقتیں بھی نہ کروں اور حسیناؤں کے سر کا تاج بھی بن جاؤں۔
ابراھیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کا اپنے وزیر کو جواب: ابراھیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے وزیر کی بات سن کر اپنی سوئی دریا میں پھینک دی اور پھینک کر کہنے لگے ! اے مچھلیو جس رب کو تم مانتی ہو ، اس رب کو میں بھی مانتا ہوں، مجھے میری سوئی واپس کر دو ، اللہ اکبر ! جو اللہ کا ہو جاتا ہے ، اللہ اس کا ہو جاتا ہے ، ساری مچھلیاں منہ کے اندر سوئیاں لے کر پانی کی سطح پر آئیں ۔ کوئی سونے کی سوئی لیکر آئی ، کوئی چاندی کی سوئی لیکر آئی ، ایک مچھلی لوہے کی سوئی لے کر آئی ، ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کہنے لگے ہاں میری سوئی یہ ہے ۔ پھر اپنے وزیر کی طرف مڑے جس نے واپس رعایا میں جانے کیلئے کہا تھا،ان سے فرمانے لگے ! اب بتا بڑی بادشاہت کونسی ہے ؟ وزیر کہنے لگا ہاں واقعی آپ کی بادشاہت بڑی ہے ۔ ارے اللہ والو! سچ کہہ رہا ہوں جس کو اللہ کے ساتھ باتیں کرنا نصیب ہو جائے وہ خوش قسم ہے اور جس کو اللہ کے ساتھ باتیں نصیب نہیں ہوئی تو سمجھ لو رب ناراض ہے ۔ وہ تم سے بات کرنا پسند نہیں کرتا وہ تمہاری کچھ سنناپسند نہیں کرتا جس کو رب کے ساتھ راز و نیاز نصیب ہو جائے وہ شخص خوش قسمت ہے ، مبارک باد کا مستحق ہے ۔ نور بصیرت کی روشنی دیکھنے کے بعد وہ وزیر کہنے لگا مجھے اب پتہ چلا ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کہ آپ کی بادشاہت بہت بڑی ہے ۔ آپ کا تخت بہت بڑا ہے ۔ آپ نے بلخ کی حکومت چھوڑی ہے بلخ(چیچنیاں) کو کہتے ہیں ، اس کا نام کوہ قاف بھی ہے  کوہ قاف کو اللہ نے بہت حسن و جمال دیا ہے ۔ ابراھیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے بلخ کی حکومت اللہ کی رضا کیلئے چھوڑی ۔ کسی غرض اور طمع کیلئے نہیں چھوڑی۔
فقیر کی بات کو سن لیں جو اللہ کیلئے حکومت کو چھوڑے گا ۔ حکومت سے مراد تاج و تخت نہیں بلکہ ذاتی اختیارات ہیں جیسے ! جھوٹ پر اقتدار تھا میں جھوٹ بول سکتا تھا، دھوکے پر اقتدار تھا میں دھوکہ دے سکتا تھا، فریب پر اقتدار تھا میں فریب کر سکتا تھا، چوری پر اقتدار تھا میں چور ی کر سکتا تھا، حرام پر اقتدار تھا میں حرام کام کر سکتا تھا ، کسی کے قبضہ پر اقتدار تھا میں قبضہ کر سکتا تھا ، مجھے فیشن پر اقتدار تھا فیشن کر سکتا تھا ، مجھے نافرمانی پر اقتدار تھا میں نافرمانی کر سکتا تھا ، مجھے ترکی بہ ترکی جواب دینے پر اقتدار تھا میں جواب دے سکتا تھا مگر یااللہ ! میں نے تیری خاطر یہ سب نہیں کیا ،  ایسا شخص قیامت کے دن ابراھیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کیساھ کھڑا ہو جائے گا کہ اسے اقتدار حاصل تھا مگر اس نے اللہ تعالیٰ کیلئے اپنا ذاتی اقتدار قربان کیا ، اقتدار چھوٹا بھی ہوتا ہے اور اقتدار بڑا بھی ہوتا ہے ۔کوئ پانچ بندوں کا حاکم ہے ،کوئی پچاس بندوں کا حاکم ہے ، کوئی علاقے کا حاکم ہے ، کوئی شہر کا حاکم ہے، کوئی ملک کا حاکم ہے۔ چاہے وہ حاکم چھوٹا ہو یا بڑاہو۔
تسبیح خانہ میں آنے والے لوگ:کسی شعبے کے بڑے افسر ہیں یہاں درس سنتے ہیں اور اس درس کے بعد اللہ پاک نے باتیں کرنے کا سلیقہ عطا فرما دیا ، بڑے مالدار تھے ۔ بڑی گاڑیاں تھیں ، بڑ ا تخت تھا، بڑی حکومت تھی،بہت اقتدار تھا۔ کہنے لگے ! اگر آپ مرشد نہ ہوتے تو میں یہ بات کبھی نہ بتاتاکہ میری جیب میں اتنے پیسے نہیں تھےکہ میں وین کا کرایہ ادا کرتا ۔ ایک سٹاپ سے دوسرے سٹاپ کیلئے ویگن دس روپے لیتی ہے اور میرے پاس دس روپے بھی نہیں تھے ۔ میں گلشن راوی سے اکیلا پیدل چل پڑا ، پسینے سے شرابور ہو گیا لیکن میں نے کہا کہ میں نے درس میں ضرور جانا ہے بس اس لئے مجھے دیر ہو گئی ، یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ حضرات کی قربانی کی برکت سے اللہ پاک لوگوں کی دل و دماغ اور دین و دنیا میں انقلاب پیدا کر رہا ہے ۔ گھروں کے گھروں کی بساط پلٹ رہی ہے ، ایک صاحب کے پاس کسی کی امانت 50 ہزار روپے تھے اس کے وہ پیسے راستے میں چوری ہو گئے تو اس نے اللہ سے باتیں کیں اور اللہ سے عرض کیا یاللہ میری کوئی ذاتی غرض نہیں پھر یہ پچاس ہزار روپے کیوں گم ہوئے ؟اتنی رقم میں کہاں سے مہیا کروں گا ؟ اسی ادھیڑ پن میں تھا کہ اللہ کی مدد آئی ، وہاں موجود ایک شخص نے مجھے اپنی جیب سے پچاس ہزار روپے نکال کر دیئے ۔ اور کہنے لگے یہ رقم میں نے احتیاطاً اپنے ایک دو عزیزوں کیلئے رکھی تھی ۔ حالانکہ ایسا بالکل نہیں تھا اس شخص نے فریب کیا تھا ۔ یہ تو بس میرے مولا کا کرم تھا کہ وہ چرائی ہوئی رقم واپس کرنے پر مجبور ہو گیا ۔ اس کے دل کی دنیا پلٹ گئی ، اللہ نے اس کے دل میں ڈال دیا کہ لوٹی ہوئی رقم واپس کر ، یہ میرا دیانتدار بندہ ، اس پر امتحان آ گیا ہے مجھ سے باتیں کر کے اپنے مسائل حل کرواتا ہے۔

Wednesday, September 2, 2015

جن کے ماتھے پر اللہ غنی لکھ دیتے ہیں

جن کے ماتھے پر اللہ غنی لکھ دیتے ہیں :۔


ایک خوشخبری ہے کوئی بندہ صبح اٹھتے ہی اگر اللہ جل شانہ کو یاد کرتا ہے اور اس کے حبیب حضور سرور کونین ﷺ کو یاد کرتا ہے ۔ اللہ پاک اور اس کے محبوب ﷺ کی محبت میں ڈوب جاتا ہے ، تو اس کے ماتھے پر ایک لفظ غنی لکھ دیا جاتا ہے اور جسے میرا اللہ پاک غنی کر دے کائنات کا کوئی شخص اس کو فقیر نہیں کر سکتا ۔ ساری دنیا کے لوگ اس کو دھوکا دےدیں ، ساری دنیا کو لوگ اس کے ساتھ فریب کریں ، ساری دنیا کے چالاک چالاکی کریں ، مکار مکر کریں ، شریر شرارتیں کریں ، چور چوریاں کریں ، بدمعاش ڈاکے ڈالیں اللہ پاک کی قسم اس کو کوئی فقیر نہیں کر سکتا جس کو ہمارا رب غنی کرنا چاہے۔
اللہ پاک ماتھے پر فقیر لکھ دیتے ہیں :۔
جو شخص صبح اٹھتے ہیاللہ پاک کی ذات اعلیٰ کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور اس کے حبیب سرور کونین ﷺ کی محبت کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور دنیا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے وہ عجیب معاملے سے دوچار ہو جاتا ہے ، اس کے ماتھے پر فقیر کا لفظ لکھ دیا جاتا ہے ۔ ساری دنیا کے دولتیں ، دنیا کا سارا مال ، دنیا کا اقتدار اسے اللہ پاک کے خزانوں سے لینے والا بنا نہیں سکتا اور اس کو اللہ پاک سے دلوا نہیں سکتا ، وہ ہمیشہ فقیر رہے گا ۔
 غیب کے خزانے :۔
یہ ایک کھلی حقیقت ہے میر ارب جس کو دینا چاہتا ہے اور جس کو  دینے  پر آتا ہے غیب کے خزانے عطا کر دیتا ہے اور جس کی نظر مخلوق کی جیب پر ہوتی ہے وہ لے تو لیتا ہے لیکن لے کر پلتا نہیں ہے جس کی نظر اللہ پاک کے خزانے پر ہوتی ہے وہ لیتا بھی ہے وہ پلتا بھی ہے اس کی نسلیں بھی پلتی ہیں ۔
حرام کبھی نہیں پلتا :۔
مجھے ایک صاحب کہنے لگے ! کسی دور میں میں وزیر رہا ، بڑا نام تھا ، بڑا مال کمایا ، بڑا اقتدار آیا،  بہت کچھ آیا مگر بچا کچھ نہیں ۔  ہتھیلی پرپھونک مار کر کہنے لگے سب کچھ اڑ گیا ۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ میں نے جوا باً کہا! وجہ یہ تھی کہ کثرت آئی تھی ، برکت نہیں آئی تھی ۔ میں اکثر یہ مثال دیا کرتا ہوں ۔ کتیا کتنے بچے دیتی ہے ؟ آٹھ بچے ! اور بکری ایک یا دو بچے ۔ ہزاروں میں کوئی ایک بکری ہو گی جو تین بچے دیتی ہے کہ دنیا دار الاسباب ہے اصولاً تو ریوڑ کتیا کے ہونے چایئیں کیونکہ کتیا بچے  زیادہ دیتی ہے ۔ یاد رکھنا ! حرام کبھی پلتا نہیں ۔ حرام کبھی سنبھلتا نہیں ، حرام کبھی چلتا نہیں ہے ۔
 خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃاللہ علیہ کی وضاحت :۔
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃاللہ علیہ بڑے اللہ والے ہو گزرے ہیں چشتی سلسلے کے درویش ہیں ۔ ان کے پاس ایک بندہ آیا کہنے لگے ! حضرت بکری کے ریوڑ کیوں ہوتے ہیں ؟ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا ! اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیشہ قربانی حلال جانور دیتا ہے ، بکری قربانی دیتی ہے اپنا سب کچھ تن، من، دھن ،کسی اور کیلئے لٹا  دیتی ہے پھر اللہ پاک اس کی راہ جو قربانی دیتا ہے اس کو سدا بہار رکھتا ہے سدا زندہ رکھتا ہے ۔
قربانی دو ۔ سدا بہار رہو :۔
یہ  قدرت کا اصول ہے جو قربانی دیتا ہے اس کو سدا بہاررکھتاہے یہ رب کا وعدہ ہے ۔ وہ قربانی اس گرمی کے اعتبار سے دیں ، وہ قربانی اپنے گھر چھوڑنےکے اعتبار سے دیں ، ساری مخلوق روک رہی ہے کہ نہ جاؤ ، اس اعتبار سے قربانی دیں ، وہ قربانی ساری مخلوق اعتراض کر رہی ہے اس کی کسی سنت پر  ، اس کی کسی زندگی پر ، وہ اس پر قربانی دیں ، وہ قربانی اس کی تسبیح پر دیں ، وہ قربانی اس کے مراقبہ پر دیں ، وہ قربانی اس کے ذکرپر دیں ، وہ قربانی اس کی دینی زندگی پر دیں ، وہ قربانی اس کے حجاب پر دیں ، وہ زندگی کے جس شعبہ میں قربانی دیں ، اللہ پاک قربانی والے کو سدا بہار رکھتا ہے اور پالتا ہے ، بظاہر اسماعیل علیہ السلام ذبح نہیں ہو رہے ہیں لیکن قربا نی پوری دی ، چھری کے نیچے پورے آئے اور چھری چل بھی گئی اور خون کا فوارہ بھی نہ  نکلا ، کیونکہ اللہ پاک نے قربانی لینی ہی نہیں تھی ۔ اللہ پاک قربانیاں مانگتا ہے ۔ لیتا نہیں ہے  ۔ ہم قربانیاں دینے کے قابل ہی کہاں ہیں ؟
اللہ پاک قربانی کیوں مانگا ہے ؟
اللہ پاک  نے قربانی مانگی اور قربانی اس لیے مانگی کہ بندے کو پرکھے کہ یہ میرا بندہ ہے یا اسباب کا بندہ ۔ کس کا ؟عبداللہ یا عبد دینا رہے ،  یا عبد درہم ہے ، نوٹ کا بندہ ہے ، ریال کا بندہ ہے ، ڈالر کا بندہ ہے ، کس کا بندہ ہے ؟ یہ دنیا کو اللہ پاک نے اسباب کے ساتھ جوڑا ہے ۔ ساتھ اسباب بھی لگا دیئے ، مجبوریاں بھی لگا دیں ، سب کچھ لگانے کے بعد میرے رب نے کہا ! ٹھیک ہے اب میں دیکھتا ہوں کون میر ا بن کر آتا ہے ۔
میں جنات سے نہیں اپنے رب سے باتیں کر رہا تھا :۔
حضرت میا  ں شیر محمد صاحب رحمۃاللہ علیہ شرقپور شریف  بڑے اللہ والے تھے ۔ ان سے ایک دفعہ کسی بندے نے کہا کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ! آپ ایک دفعہ کہیں جا رہے تھے اور آپ باتیں کر رہے تھے لیکن کوئی بندے نظر نہیں آ رہے تھے ، کیا آپ کے ساتھ جنات گفتگو کر رہے تھے ؟  فرمایا ! نہیں میں اپنے اللہ پاک سے باتیں کر رہا تھا ، اللہ پاک کو اپنے دکھ سنا رہا تھا ، اللہ پاک سے اپنی ضرورتیں مانگ رہا تھا اور اللہ پاک  کےساتھ ایسے باتیں کر رہا تھا جیسے میں اللہ پاک کے حضور بیٹھا ہوں ۔ حضرت میا  ں شیر محمد صاحب رحمۃاللہ علیہ شرقپور شریف   فرماتے ہیں کہ " میرا تصور یہ تھا کہ میر ارب ایک عالی شان اونچی کرسی پر بیٹھا ہو اور میں مجبور و پریشان ہاتھ باندھ کے زاریاں کر کے کہہ رہا ہوں کہ اللہ پاک مجھے یہ بھی چائیے ۔ اللہ پاک مجھے یہ بھی چائیے ، اللہ پاک میں پریشان ہوں ، اللہ پاک میری یہ مشکل ہے ، اللہ پاک مجھے یہ تنگی درپیش ہے ، اللہ پاک مجھے یہ دکھ پہنچا ہے ، اللہ پاک مجھے یہ غم لگا ہے ۔ فرماتے ہیں ، میں اللہ پاک کے  سامنے ایسے زاریاں کرتا ہوں اور دونوں ہاتھ باندھے کھڑا ہوتا ہوں ۔ یہ سب بظاہر نہیں ہوتا تھا بلکہ میں جار ہا  ہوتا ہوں اپنے کسی کام سے ، اپنے راستے پر ، لیکن میری دل کی اندرونی کیفیت ایسی ہو ا کرتی تھی کہ جیسے میں اپنے رب سے سچی التجا کر رہا ہوں ۔ حضرت میا  ں شیر محمد صاحب رحمۃاللہ علیہ   نے فرمایا ! میں جنات سے باتیں نہیں کر رہا تھا میں تو اپنے رب سے باتیں کر رہا تھا ۔ 
(جاری ہے )
 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر4















Wednesday, August 5, 2015

ہم دنیا میں کیوں اور کس لئے آئے؟

ہم دنیا میں کیوں اور کس لئے آئے؟

فلاح پانے والے:
ایک خاتون نے ایک اللہ والے سے پوچھا کہ میرا بچہ جب سکول جاتا ہے  تو میرا دل ہر وقت اس میں اٹکا رہتا ہے۔ تو اس اللہ والے نے فرمایا: کیا کیفیت ہوتی ہے ؟ خاتون نے عرض کیا : حضرت  ہر پل میرا دل اس کی کیفیتوں میں اٹکا رہتا ہے کہ اب سو رہا ہو گا، یا جاگ رہا ہو گا ،کہیں چوٹ تو نہیں لگی ،کہیں گرتو نہیں پڑا  ،کہیں کھانا، پیاس ،پیشاب، کی کیفیت ہو گی تو چھوٹا بچہ ہے ۔ اگر پیشاب آیا تو کون استنجاء کروائے، گا اگر بھوک لگی تو کون کھانا کھلائے گا ،اگر پیاس لگی تو کون پیاس بھجائے گا ،کون کیا کرے گا ، ہر وقت اس میں ہی دل اٹکا رہتا ہے ۔ تو اللہ والے نے فرمایا ؛ میں نے تجھے اللہ ،اللہ سکھا دیا ہے  آج کے بعد تیرا دل اللہ کی ذات کی طرف ایسے ہی اٹکا رہے گا ۔ جیسے تیرا دل تیرے بچے کے بارے میں رہتا ہے ۔  تو جس کا دل اللہ کی ذات اعلیٰ کی طرف ایسے ہی اٹکا رہے گا وہ فلاح پائے گا۔ 
اللہ جن کے قریب آتا ہے:
ایسا فرد بظاہر دنیا میں ہو گا لیکن اس کا دل اللہ پاک کی ذات اعلیٰ کی طرف ایسا اٹکا ہوا ہو گا جیسے بچے کی طرف اس کی ماں کا دل اٹکا ہوا ہوتا ہے ۔اور ماں ہر پل بچے کے ساتھ نہ ہوتے ہوئے بھی ساتھ ہوتی ہے ،اسی طرح بچہ ہم سے دور ہے اور ہم نے بچے کودیکھا نہیں لیکن بچہ دور ہوتے ہوئے بھی ہمارے ساتھ ہے۔  پھر ماں خیال ہی خیال میں اس کا بوسہ لے رہی ہوتی ہے۔ اسے اپنی بانہوں میں لے رہی ہوتی ہے تصور ہی میں اس کو کھلا رہی ہوتی ہے ۔ پھر ایسے ہی اللہ پاک کی ذات اعلیٰ کا تصور ہو جاتا ہے اللہ پاک سے محبت اور اللہ پاک سے تعلق دل میں رچ بس جاتا ہے ۔ پھر اس کے لئے محنت کر کہ، توجہ کر کے ،مشقت کرکے ،مجائدہ کر کے، جب بندہ اس کیفیت میں پہنچتا ہے تو پھر اللہ پاک اس کے قریب آ جاتے ہیں ۔
ضروریات زندگی اور حلال و حرام ذرائع:
اب اللہ پاک اللہ جل شانہ  نے بندے کہ ساتھ ساری ضروریات لگا دی ہیں کھانا کھانا ضرورت ،پانی پینا ضرورت ، کپڑا پہننا ضرورت زندگی کا نظام ضرورت ہے۔ یہ سب اللہ پاک نے انسان کے ساتھ لگا دیا ہے اب اللہ پاک فرماتے ہیں یہ بتا کے تو حلال کی زندگی میں جائے گا یا حرام کی زندگی میں جائے گا پھر اللہ پاک نے اس کو ڈھیل دے دی یہ حرام کے راستے ہیں یہ حلال کے راستے ہیں دونوں بتا دیئے حرام کے راستوں ظاہراً چمک اور لذت آ رہی ہوتی ہے لیکن حلال کے راستوں کے اندر بظاہر خشکی نظر آ رہی ہوتی ہے ان راستوں کے اندر ظاہراً کوئی چمک نظر نہیں آتی ۔ اللہ پاک نے صرف دو راستے دیئے ہیں اور ان دونوں راستوں پر اختیار بھی دے دیا ہے اور اختیار بھی تھوڑے عرصے کے لئے دیا ہے اقتدار بھی تھوڑا عرصہ دیا ۔
ہر عروج کا ذوال ہے:
یہ حقیقت توجہ طلب ہے ! انسان اپنے فن میں فنکار بھی ہوتا ہے کسی سبجیکٹ میں اسپیشلسٹ بھی ہوتا ہے ۔ اپنے فن میں یکتا بھی ہوتا ہے کوئی کاریگر ہے ، جتنی عمر بڑھتی جائے گی کاریگری میں یکتا ہوتاجائے گا ادھر فن میں یکتا ہوتا ہے ادھر فن میں عروج پاتا ہے تو ادھر موت کا فرشتہ دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔کہیں یہ دعویٰ نہ کر بیٹھے کہ سب کچھ میں ہی ہوں پھر وہ کاریگر اور اس کی داستان ختم ہو جاتی ہے ۔ پھر نیا بندہ آتا ہے وہ کبھی ڈوبتا ہے اور کبھی ابھرتا ہے پھر اس کا ستارہ چمکتا ہے پھر وہ استاد کہلواتا ہے پھر وہ اپنے فن میں باکما ل ہو جاتا ہے پھر یوں ہوتا ہے کہ موت کا فرشتہ اس کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے ازل سے یہ تاریخ ایسے ہی چلی آ رہی ہے۔
کیا ہم دنیا میں اس لئے آتے ہیں :
اب یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ کیا ہم یہاں بچے پیدا کرنے کی مشین مال کمانے کی مشین نوٹ چھاپنے کی مشین ایک گاڑی سے دوسری ایک پلاٹ سے دوسرا پلاٹ کیا ہم اس لئے آتے ہیں ؟ہم کس لئے آتے ہیں ؟ ایک پیغام ہے اور یہ میرے لئے بھی ہے آپ کے لئے بھی ہے میں بھی اس کا محتاج ہوں آپ بھی اس کے محتاج ہیں پیغام یہ ہے کہ ہم کس لئے آئے ہیں دنیا میں ؟ کیوں آئے ہیں دنیا میں؟
کیا مسلمان اور کافر کی زندگی میں کچھ فرق نہیں ؟
کافر سے پوچھا کیوں آیا؟کہنے لگا اس لئے آیا کہ بڑا ہوجاؤں لہذا کھیلتے کھیلتے بڑا ہو گیا اس کے بعد ماں باپ نے کسی کسب میں لگا دیا پہلے پڑھانے میں لگایا پھر کاروبار میں لگا یا اس کے بعد شادی کر دی شادی کے بعد بچے ہو گئے  پھر بوڑھا ہو کر مر گیا بس زندگی ختم ۔ مسلمان بھی سوچے کے اس کی زندگی کے دن رات بھی ایسے ہی گزرنے چاہیں ؟ تو پھر کافر اور مسلمان کی زندگی میں کوئی فرق ہی نہیں رہا صبح اٹھتے ہی کافر سوچتا ہے آج کا دن کیسے گزرے گا ؟ کوئی فرق رہا ؟ کوئی فرق بھی نہ رہا ۔
مسلمان کی زندگی میں امتیاز کیسے آئیگا :
فرمایا کے جب کوئی مسلمان صبح اٹھتے ہی دنیا کو ، مال کو، چیزوں کو، اسباب کو، سوچتا ہے تو ایک فرشتہ جو دائیں طرف ہوتا ہے وہ آواز دیتا ہے کہ اے اللہ پاک کے بندے میرے اللہ پاک کو سوچ اللہ پاک کی سوچ دامن گیر کر کہ میں آج کے دن اللہ پاک کو کیسے راضی کروں گا اس وقت ایک شیطان جو انسان کے بائیں طرف ہوتا ہے وہ آواز دیتا ہے خیال کرنا اللہ پاک کو نہ سوچنا دنیا کو سوچ جو تو سوچ رہا ہے بالکل ٹھیک سوچ رہا ہے مسلمان فرشتے کی آواز کو نہیں سن سکتا وہ شیطا ن کی آواز کو بھی نہیں سن سکتا فرشتہ اپنی ڈیوٹی پوری کرتا ہے شیطان اپنی ڈیوٹی پوری کرتا ہے۔۔۔(جاری ہے)   ماہنامہ عبقری "اگست 2015ء شمارہ نمبر 110" صفحہ نمبر4 

Tuesday, July 14, 2015

کملی والے محمدﷺ کا غلام بن کر تو دیکھ

کملی والے محمد ﷺ کا غلام بن کر تو دیکھ۔

حکیم محمد طارق محمود چغتائی 
کملی والے محمدﷺ اپنی نہیں کسی اور کی بکریاں چرا رہے تھے جبل ثور کا وہ نقشہ آج بھی ان پہاڑوں کو یاد ہو گا!آج بھی آسمان کو وہ حیرت انگیز منظر یاد ہو گا۔ صدیاں گزرنے کہ باوجود جبل ثور کا پہاڑ آج بھی ویسے ہی کھڑا ہوا ہے جہاں پر سرور کونین ﷺ اس امت کو یہ پیغام دے کر گئے ہیں کہ پاؤں میں جوتا نہیں لیکن شان یہ ہے کہ آپ ﷺ کے اشارے سے احد پہاڑ سونے کا بن جائے مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے بہہ نکلیں ! جن کہ اشارے پر اللہ پاک بارہ ہزار کہ لشکر کی خوراک زخیرہ کر دیں ! غم گسار نبی ﷺ نے اپنی امت کہ غریب کو یہ پیغام دیاہے کہ اگر تیرے پاس غربت تنگدستی ہے تیرے بچے زیادہ ہیں تیرا گھر چھوٹا ہے تیری نوکری چھوٹی ہے اور تیرا ذریعہ آمدنی کم ہے تو تم نے پریشان نہیں ہونا کوئی حرج نہیں تیرے حبیب ﷺ کہ پاؤں میں بھی جوتا نہیں تھا ان کہ سر پر بھی کپڑا نہیں تھا لیکن کملی والے ﷺ نے اپنے رب کو نہیں چھوڑا تھا۔آج تو کملی والے ﷺ کا وہ غلام بن جا کہ اگر تیرے ہاں تنگدستی ہے فقرو فاقہ ہے تیری ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں کوئی حرج کی بات نہیں! بس تو محمد ﷺ کی غلامی کو نہ چھوڑ ایک وقت آئے گا جب تیرا رب تیری نسلوں کو بھی پالے گا ۔ تیرا رب تجھے بہت عطا کرے گا! یہی پیغام ہمارے لئے بھی ہے کہ ہر حال میں آقا ﷺ کی غلامی ہی سرخروئی کا باعث ہےشادی ہے تو اس میں یہ پیغام ہے کے جو خوشیاں تجھے تیرے رب نے دیں ہیں تو ان خوشیوں میں آقا کملی والے ﷺ کو بھی یاد رکھ ان کے احسانات کو بھی یاد رکھ اور تجھے جو غم دیا ہے تو دیکھ کے ہمارے آقاﷺ نے بھی غم سہا ہے۔ آقا ﷺ کو بہت سارے غم ملے ہیں۔ ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ بیٹے ہیں ان کی رحلت پر آنکھوں سے زاروقطار آنسو رواں ہیں ان کو ہاتھوں میں لیا ہوا تھا دل میں غم و اندوہ کی کیفیت طاری تھی سرور کونین ﷺ کی بیٹیاں سرورکونین ﷺ کے بیٹے ان کی زندگی میں فوت ہوئے ہیں آپ ﷺ کو ام المومنین  حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کا غم زندگی میں ہی ملا۔ آخر وہ سارے غم جو سرور کونینﷺ کو ملےان غموں میں آپ ﷺ کی کیفیت کیسی تھی؟ اللہ جل شانہ کے ساتھ تعلق کیسا تھا؟ بازار میں کیسے تھے؟ زندگی میں کیسے تھے؟ ہمہ وقت کیفیت کیسی تھی؟ ان ساری کیفیات کو مد نظر رکھ کر چلنا ہی غلامی ہے اور اس لئےغلام مصطفیﷺبنیں ۔
میرے محترم دوستو! کچھ چیزیں ضرورت کے ساتھ لگا کر دی گئی ہیں۔ کھانا ہماری ضرورت ہے، پینا ہماری ضرورت ہے، لباس ہماری ضرورت ہے، پینا ہماری ضرورت ہے، شادی ہماری ضرورت ہے، سردی سے بچنا ہماری ضرورت ہے، گرمی سے بچنا ہماری ضرورت ہے۔ یہ ساری ہماری ضرورتیں ہیں ہمارے ساتھ لگا دی گئی ہیں۔ پھر ضرورت لگا کر اللہ  نے ہمیں ان ضرورتوں کا محتاج اور غلام بھی بنا دیا کہ کھانا نہیں کھائیں تو پیٹ کیسے بھرے گا پانی نہیں پئیں تو پیاس کیسے بجھے گی اب رب اور ضرورت آمنے  سامنے ہے۔ انسان کا اپنا ایک مزاج ہے جہاں سے اس کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں وہ کہتا ہے میں یہاں سے پل رہا ہوں۔ بیوی کہتی ہے میاں اگر دکان پر نہیں جائیں گئے تو بچے کیسے پلیں گئے۔ میاں دفتر میں نہیں جائیں گئے، صنعت اور تجارت میں نہیں جائیں گئےتو بچے کیسی پلیں گئے۔  اور پھر میاں کا خیال بھی یہی ہوتا ہے۔ کہ مجھے اور میرے بچوں کو، میری دکان، دفتر، تجارت،اور صنعت کی تنخواہ پال رہی ہے۔حدیث کہ الفاظ ہیں سرور کونین ﷺ نے فرمایا، مفہوم ہے ! اگر انسان کا یقین ان پرندوں کی طرح ہو جائے کہ پرندے صبح تو خالی ہاتھ جاتے ہیں پھر شام کو ہرے بھرے آتے ہیں اللہ غیب سے ان کو پالتے ہیں اسی طرح اللہ پاک اپنے بندوں کو بھی دست غیب سے عطا فرماتے ہیں۔ اللہ ضرورتیں پیدا ہونے ہی نہیں دیتا۔
ضرورتیں پیدا ہوں گی تو انسان محتاج بنے گا کھانے کا ، پینے کا، اٹھنے کا، بیٹھنےکا، گرمی کا، سردی کا، پیاس کا، ایک دست غیب یہ بھی ہے کہ اللہ بغیر طلب عطا کر دیتا ہے اللہ بغیر خواہش کہ پورا کر دیتا ہے اللہ پاک پھر خواہش کو بھی پیدا نہیں ہونے دیتا اللہ اس کے بغیر ہی زندگی کا نظام چلا دیتا ہے اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب بندا اللہ کا بن جاتا ہے۔ ہر پل، ہر لمحہ،ہر لحظہ اس کی نظر اللہ پر رہتی ہے۔ ایک اللہ والے کے پاس ایک مائی آئی کہنے لگی! حضرت مجھے اللہ اللہ سکھا دیں اللہ والے نے فرمایا تجھے سکھانا آسان ہے انہوں نے مزید فرمایا بچے کو مکتب سکول یا کالج میں پڑھنے کے لئے بھیجتے ہیں خاتون نے عرض کی جی حضرت بھیجتے ہیں تو اللہ والے نے فرمایا بھیجنے کہ بعد کیا تو اس سے غافل ہو جاتی ہے خاتون نے عرض کی نہیں تو اللہ والے نے فرمایا کیا کیفیت ہوتی ہے؟ خاتون نے عرض کیا! حضرت ہر پل میرا دل اس کی کیفیتوں میں اٹکا رہتا ہے کہ اب سو رہا ہو گا یا جاگ رہا ہو گا کہیں چوٹ تو نہیں لگی، کہیں گر تو نہیں پڑا،کہیں کھانا، پیاس، پیشاب کی کیفیت ہو گی تو چھوٹا بچہ ہے اگر پیشاب آیا تو کون استنجاء کرائے گا۔  اگر بھوک لگی تو کون کھانا کھلائے گا اگر پیاس لگی تو کون پیاس بجھائے گا کون کیا کرے گا ہر وقت اس میں ہی دل اٹکا رہتا ہے ۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔