Showing posts with label اولاد کی تربیت. Show all posts
Showing posts with label اولاد کی تربیت. Show all posts

Thursday, January 4, 2018

میری ہڈیاں توڑ دیں بےوضو آقا کا نام نہ لوں گا


احمد نامی ایک بچہ سکول میں پڑھتا تھا اس کے اسلامیات کے ٹیچر نے اسے خواجہ الطاف حسین حالی کی مشہور نظم یاد کروائی۔ وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا مرادیں غریبوں کی برلانے والا احمد جب بھی پڑھتا یوں پڑھتا:۔ وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے مرادیں غریبوں کی برلانے والے استاد نے کئی مرتبہ کہا: شاعر نے ’’والا‘‘ لکھا ہے تم بھی ایسے ہی پڑھا کرو مگر وہ اسی طرح پڑھتا ‘استاد نے سوچا شاید وہ اس غلطی کو آہستہ آہستہ ٹھیک کرلے گا۔ سکول کی سالانہ تقریب منعقد ہوئی احمد نے جب وہ نعت سنائی تو پھر وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے پڑھا۔ ڈپٹی کمشنر صاحب آئے ہوئے تھے انہوں نے اپنی صدارتی خطبے جہاں دیگر کچھ باتیں کہیں ساتھ یہ بھی کہا: آج کل استاد بچوں کا خیال نہیں کرتے یہ دیکھئے اسلامیات کے ٹیچر نے بچے کو نعت سکھائی اور بچے نے ’’والا‘‘ کی بجائے’’ والے‘‘ کہا‘ حالانکہ صحیح شعر میں لفظ والا ہے۔ استاد کو پتا ہی نہیں شاعر نے کیا لکھا اور لڑکا کیا پڑھ رہا ہے۔ اس طرح بھرے مجمع میں استاد کی سبکی ہوئی تو وہ اپنی صفائی پیش کرنے پر مجبور ہوئے انہوں نے کہا: میں نے غلطی کی نشاندہی کئی بار کی تھی مگر اس بچے نے میری بات نہیں مانی اور مجھے سب کے سامنے رسوا کیا۔ یہ سال کی آخری تقریب تھی طلبہ اگلے سال کی کلاسوں میں چلے گئے احمد کی کلاس کے ابتدائی دن تھے ایک دن ان کے ریاضی کے ٹیچر نہیں آئے تھے ہیڈ ماسٹر صاحب نے دیکھا کہ سٹاف روم میں اسلامیات کے استاد موجود ہیں ان کا پیریڈ خالی تھا انہوں نے کہا: آپ اس کلاس میں چلے جائیں‘ آج ان کے ٹیچر نہیں آئے آج تو داخلے کا پہلا دن ہے‘ ان کے پاس کتابیں بھی نہیں ہیں آپ ان سے پیارو محبت کی باتیں کرتے رہیں تو یہ شور نہیں کریں گے۔ چنانچہ اسلامیات کے ٹیچر آگئے اور کہنے لگے بھئی میں کچھ باتیں آپ کو سنائوں گا پھر آپ سے چھوٹے چھوٹے سوال پوچھوں گا آپ جواب دیجئے گا‘ ہمارا وقت اچھا گزر جائے گا‘ لڑکے تیار ہوگئے۔ پہلے استاد نے کچھ باتیں بتائیں پھر ان بچوں سے چھوٹے چھوٹے سوالات کرنا شروع کردیئے‘ کسی سے کچھ پوچھا‘ کسی سے کچھ ‘جب احمد کی باری آئی تو استاد صاحب نے کہا: ہمارے نبیﷺ کا نام کیا ہے؟ احمد تم بتائو! احمد اٹھ کھڑا ہوگیا لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا‘ استاد نے پھر سوال دہرایا یہ پھر بھی چپ رہا۔ استاد نے دل میں سوچا اس نے پہلے بھی میری بے عزتی کروائی تھی اب پھر پوری کلاس کے سامنے پوچھ رہا ہوں یہ جواب نہیں دیتا‘ لگتا ہے یہ لڑکا بہت ضدی قسم کا ہے۔ استاد نے ڈنڈا ہاتھ میں لہرایا اور قریب آکر کہا: تمہیں ہمارے نبیﷺ کا نام آتا ہے؟ احمد نے سر ہلا کر کہا جی ہاں! بتاتے کیوں نہیں؟ احمد چپ ہوگیا۔ استاد نے پھر کہا: میں تمہاری پٹائی کروں گا تم نام کیوں نہیں بتاتے؟ احمد اب بھی خاموش رہا‘ ساری کلاس کے بچے حیران تھے کہ یہ تو اتنا لائق ہے بتاکیوں نہیں دیتا۔ استاد کو غصہ آگیا‘ بار بار پوچھنے پر بھی اس نے نہ بتایا آخر استاد نے اسے دو چار ڈنڈے لگائے۔ احمد کو اپنی لیاقت کی وجہ سے کبھی سکول میں مار نہیں پڑی تھی یہ اس کی پہلی مرتبہ کلاس میں پٹائی ہوئی تو وہ رونے لگا۔ آنسو بہنے لگے‘ اتنے میں تفریح کی گھنٹی بجی‘ استاد کہنے لگے: اچھا میں اگلے پیریڈ میں آرہا ہوں اور میں دیکھتا ہوں تم کیسے نام نہیں بتاتے‘ میں تمہاری ضد کو توڑ کر دکھائوں گا۔ استاد غصے میں یہ کہہ کر چلے گئے۔ بچے بھی اٹھ گئے لیکن کچھ بچے ایسے تھے جو اس کے دوست تھے وہ اس کے قریب بیٹھ گئے‘ احمد بلک بلک کر رو رہا تھا آنسو پونچھ رہا تھا مگر کسی سے کچھ نہیں کہہ رہا تھا۔ کچھ دیر بعد احمد باہر نکلا اور منہ ہاتھ دھوکر آگیا۔ تفریح کے بعد وہ اپنی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا استاد دوبارہ آگئے‘ اپنا ڈنڈا لہراتے ہوئے انہوں نے کہا: احمد کھڑے ہوجائو! احمد کھڑا ہوگیا۔ انہوں نے پوچھا بتائو ہمارے نبیﷺ کا نام کیا ہے؟ احمد نے انتہائی ادب اوراحترام اور سر جھکا کرکہا حضرت محمدﷺ استاد خوش ہوگئے۔ کہنے لگے تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟ احمد پھر خاموش رہا‘ اب استاد سمجھ گئے کہ اس کے پیچھے کوئی راز ہے۔ استاد قریب آئے احمد کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا پھر بولے تم میرے اچھے شاگرد ہو‘ میرے بیٹے کی مانند ہو‘ میں نے تم سے کہا تھا وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا پڑھنا تم نے وہاں بھی والے پڑھا تھا اور اب بھی پہلے بار بار پوچھنے پر بھی تم نے نام نہیں بتایا تھا اور اب بتادیا آخر وجہ کیا ہے؟ جب احمد کو پیار ملا تو اس نے پھر بلک بلک کر رونا شروع کردیا۔ استاد نے تسلی دی بیٹے رو نہیں بتائو وجہ کیا ہے؟ احمد آنسو خشک کرتے ہوئے کہنے لگا: اصل بات یہ ہے کہ میرے ابو دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں انہیں نبی کریمﷺ سے بہت محبت تھی وہ مجھے نصیحت کیا کرتے تھے بیٹا تم کبھی بھی حضورﷺ کا نام بے ادبی سے نہیں لینا اس لئے والا کے بجائے میں نے والے کہا یعنی:۔ وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والے مرادیں غریبوں کی برلانے والے یہ سن کر ندامت کے مارے استاد صاحب کا پسینہ بہنے لگا‘ پھر انہوں لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا: اور تم نے حضورﷺ کا نام کیوں نہیں بتایا؟ میرے ابو مجھے کہا کرتے تھے بیٹا نبی کریمﷺ کا نام کبھی بھی بے وضو نہیں لینا۔ میرا اس وقت وضو نہیں تھا‘ آپ کی مار میں نے کھالی آپ میری ہڈیاں بھی توڑدیتے تو میں برداشت کرلیتا میں مار تو کھالیتا لیکن اپنے آقا ﷺ کا نام بے وضو نہ لیتا۔ اب میں تفریح کے دوران وضو کرکے آیا ہوں آپ نے پوچھا میں نے اپنے محبوبﷺ کا نام بتادیا۔ یہ سن کر استاد صاحب کی آنکھیں بھر آئیں پوری کلاس پر بھی سکتہ طاری تھا۔

Wednesday, January 3, 2018

بچے جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟


بچے کی تربیت اور سیکھنے کا عمل تو اس کے گھر سے ہی شروع ہوتا ہے اور سکول میں داخل ہونے سے پہلے کا عرصہ ہی بچوں کی عمر کا ایسا دور ہے جب ان کے اخلاقی اور جذباتی کردار کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور یہی ان کی عمر کا فیصلہ کن دور ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہٗ جب ماں کے پیٹ میں بچے کی خلقت فرماتے ہیں تو سب سے پہلے اس بچے کی شہادت کی انگلی تخلیق فرماتے ہیں اور باقی جسم کی تکمیل بعد میں ہوتی ہے‘ یہی شہادت کی انگلی وحدانیت کی گواہ بنتی ہے اور اس کے حبیبﷺ کے آخری نبیﷺ ہونے کی بھی گواہی دیتی ہے۔ انسان کی پیدائش تو اسی ایمان پر ہوتی ہے اور یہی فطرت کا اصول بھی ہے لیکن دنیا میں آنے کے بعد اس کے ایمان کا بٹوارہ ہوجاتا ہے‘ مذاہب کے نام پر‘ مسلکوں کے نام پر‘ اور پھر آبائو اجداد کا مذہب ہی ان کا مذہب بن جاتا ہے۔ تقریباً دو سال قبل کی بات ہے‘ میں ایک دکان پر گئی‘کچھ خریدنا تھا دکان کا مالک نہیں تھا‘ دو بچے کھڑے تھے تقریباً دس بارہ سال کے ہوں گے میں نے ان سے اس چیز کی قیمت پوچھی‘ ایک بچہ جو مسلمان تھا‘ اس نے کہا: اس سے پوچھیں‘ یہ جھوٹ نہیں بولتا‘‘ اس نے دوسرے بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا وہ بچہ ہندو مذہب کا تھا میں حیران و پریشان دونوں بچوں کی طرف دیکھتی رہی۔ وہ بچہ جس کے مذہب کی بنیاد ہی جھوٹ پر‘ جھوٹے بتوں کو پوجنے والا‘ اس کو اپنے جھوٹے خدائوں پر اتنا پختہ یقین کہ وہ عام زندگی میں جھوٹ نہیں بولتا۔ آخر کیوں؟میں بہت دیر تک سوچتی رہ گئی صرف اس بات پر کہ بچے جھوٹ بولتے کیوں ہیں؟ وہ کون سے عوامل ہیں جو ان کو جھوٹ بولنے پر مجبور کرتے ہیں وہ بچے جن کو دنیا میں آتے ہی اللہ اکبر کی آواز کانوں میں سنائی جاتی ہے‘ جن کو شعور میں آتے ہی کلمہ سکھاکر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیا جاتا ہے۔ سچ اور سچائی کی روشنی میں چلنا سکھایا جاتا ہے آگے چل کر یہی بچے مختلف مسائل کا شکار ہوکر بھٹک جاتے ہیں‘ بکھر بھی جاتے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے؟ بچے کی تربیت اور سیکھنے کا عمل تو اس کے گھر سے ہی شروع ہوتا ہے اور سکول میں داخل ہونے سے پہلے کا عرصہ ہی بچوں کی عمر کا ایسا دور ہے جب ان کے اخلاقی اور جذباتی کردار کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور یہی ان کی عمر کا فیصلہ کن دور ہوتا ہے۔ اچھی تربیت بھی ایمان کا ایک جز ہے کیونکہ صحیح تربیت اور صحیح نگہداشت سے ہی بچوں کی شخصیت کے اوصاف اجاگر ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق:’’بچوں کی پرورش کیلئے صرف یہ دیکھنا ہی کافی نہیں ہوتا کہ ہر ماہ ان کے وزن میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ یا ان کو بھوک کیوں نہیں لگتی البتہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ان میں کس قسم کے احساس پیدا ہورہے ہیں کیونکہ کئی احساس ہی مل کر ایک بچے کی شخصیت تشکیل کرتے ہیں اور ان کا اپنا ایک کردار بناتے ہیں‘ یہی احساسات بچے کی زندگی میں کمال اور زوال میں ایک اہم رول ادا کرتے ہیں‘‘ یہ بچے جو مستقبل کے معمار ہیں وہ بے راہ روی کا شکار کیوں ہوجاتے ہیں‘ ان میں جو منفی احساسات اور جذبات پرورش پائے ہیں اس میں خارجی ماحول کا اثر ہوتا ہے یا اپنے ہی گھر کے ناسازگار ماحول میں اس کی شخصیت تباہ ہوجاتی ہے۔ وہ اپنے راستے کا انتخاب خود کر تو لیتے ہیں‘ مگر غلط کیا ہے‘ صحیح کیا ہے۔ اس کو پہچان نہیں ہوپاتے‘ وہ کبھی جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں‘ کبھی مجرم بن کر معاشرے کیلئے ناسور بن جاتے ہیں ہم کیوں نہیں سوچتے کہ والدین کا کردار اور ان کی سوچ بچوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ وہ فطری طور پر جھوٹا نہیں ہوتا بلکہ جو احساسات بچے کی شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں اس میں بچے کے ماں باپ کا خاص طور پر اہم کردار ہوتا ہے۔ اس لئے ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ بچوں کی تربیت کرنے والے ماں باپ کا رویہ ان کے ساتھ کیسا ہے۔ خاص طور پر ماں کا کردار بچوں کی نشوونما میں اہم رول ادا کرتا ہے‘ اکثر مائیں بچوں کو بے تحاشا مارتی پیٹتی ہیں‘ اکثر مائوں کو یہ کہتے بھی سنا ہے’’ میرا بچہ تو بہت بدتمیز ہوگیا ہے‘ سنتا ہی نہیں‘ یا یہ تو میرے لئے عذاب ہے‘ ایسی اولاد نہ ہوتی تو بہتر تھا‘‘ اور نہ جانے کیا کچھ کہہ جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ کہنے سے پہلے یہ سوچنا چاہئے کہ کیا ہمارا بچہ ان الفاظ کا حقدار ہے؟ اگر ہے تو کیوں! اس میں ہمارا اپنا کردار واضح ہوجاتا ہے‘ بچہ تو ماں باپ کا آئینہ ہوتا ہے۔ آج کل کے دور میں والدین اور اساتذہ کا اولین فرض ہے کہ بچوں کے ذہنی‘ جذباتی اور معاشرتی رحجانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی تربیت کریں کیونکہ غیر متوازن رویے ا ور ناسازگار ماحول بچے کی تباہی کا سبب بن جاتے ہیں۔ ایک طرف تو بچوں کو تمام آسائشات میسر ہوتی ہیں اور دوسری طرف صرف ایک تصوراتی زندگی‘ جس میں بچہ جو چاہتا ہے اس کو ملتا نہیں لیکن وہ اپنے ہم عمر بچوں میں اپنے آپ کو برتر ثابت کرنے کیلئے سب کو بتاتا ہے: آج میں نے یہ سب کھایا تھا‘ آج میں اپنے بابا کے ساتھ فلاں جگہ گھومنے گیا تھا‘ یا پھر میں نے خوب شاپنگ کی‘‘ وغیرہ وغیرہ۔اس کا سبب صرف غربت نہیں بلکہ والدین کی عدم توجہی‘ لاپرواہی اور بچوں کو اپنے حال پر چھوڑ دینا سب سے بڑا سبب ہے جس کی وجہ سے وہ محرومیوں کا شکار ہوکر جھوٹی دنیا میں رہنا شروع کردیتا ہے جہاں سے جرائم کی ابتداء ہوتی ہے۔ بچوں کو والدین کے بے جا لاڈ و پیار یا پھر اس سے محرومی‘ دونوں صورتوں میں بچے احساس برتری اور احساسِ کمتری کا شکار ہوکر مختلف جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اگر والدین کے درمیان اختلافات ہوں تو بھی بچوں میں احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے اس صورت میں وہ اپنی اہمیت منوانے کیلئے باہر کی دنیا میں اپنا مقام ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے‘ گلیوں کی خراب سوسائٹی میں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش میں مختلف جھوٹ کا سہارا بھی لیتا ہے جو بچے کی شخصی نشوونما کیلئے زہر ثابت ہوتا ہے۔ پیسے کی فراوانی سے بچے مثبت راستے پر کم نظر آتے ہیں کیونکہ اس صورت میں بچہ ہر جائز ناجائز خواہش کے پیچھے لگ کر کئی کوتاہیاں کر بیٹھتا ہے جن پر پردہ ڈالنے کی خاطر جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔ دوسری طرف غربت کی وجہ سے بھی بچہ احساس محرومی کا شکار ہوکر جھوٹ اور جرم کا ایک بہت بڑا محرک بن جاتا ہے جس سے والدین انجان بنے رہتے ہیں۔ سکول میں اساتذہ کا غیر مساویانہ رویہ اور سخت گوئی بھی بچوں کو جھوٹ بولنے پر مجبور کردیتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو سزا سے بچانے کی کوشش میں جھوٹ ضرور بولتا ہے بعض بچے اپنے ساتھیوں کو سزا سے بچانے کی خاطر بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ بعض والدین بچوں پر بے جا سختی کرتے ہیں محبت سے سمجھانے کی بجائے مار پیٹ اور تشدد سے کام لیتے ہیں‘ دوسروں کے سامنے اپنے بچوں کو نیچا دکھا کربُرا بھلا کہتے ہیں‘ اس سے بچوں کی عزت نفس پر ایک چوٹ سی لگتی ہے اور وہ خود سر اور باغی ہوجاتے ہیں۔ اپنی انا کی خاطر ہر قدم پر جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں‘ اس طرح ان کی مستقبل کی زندگی‘ معاشی‘ معاشرتی اور سیاسی سطح پر اسی جھوٹ کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہے اور یہ معاشرے کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ بچوں کی تربیت کے اس اہم پہلو کو نظر انداز کرنا ایک معاشرتی جرم ہے والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں سے متوازن رویہ رکھیں‘ سازگار ماحول فراہم کریں‘ ان کے جذبات اور احساسات کو پرکھیں اور سمجھیں اور ان کی وہی شہادت کی انگلی پکڑ کر سچ کا سودا کرنا سکھائیں جو اَن دیکھے رب کی توحید کی گواہی دیتی ہے۔ اگر ایسا نہ کیا تو جھوٹ بچے کو ایک مہذب شہری بننے سے روکے گا اور وہ جھوٹ کا سہارا لیتے لیتے مختلف جرائم کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ غلط سوسائٹی ایسے ہی افراد سے جنم لیتی ہے‘ جس کو ہم معاشرہ اور معاشرے کی برائیاں کہہ کر الزام لگادیتے ہیں لیکن اپنا محاسبہ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ڈونلڈ ولسن کے مطابق: بچہ اس بات کا حقدار ہے کہ اسے وہ تمام سہولیات حاصل ہوں جو قوم اور ملک اس کو فراہم کرسکتا ہو اس دنیا کو بہتر بنانے اور امن اور سکون قائم کرنے کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہوسکتا جب تک بچوں کی حالت درست نہ ہو۔ بچے ہی ہمارے عظیم الشان کردار کا معیار ہیں۔

Sunday, November 13, 2016

مرحوم زرگر کی عیاش پرست اولاد


میں آج قارئین کو ایک ایسا کربناک واقعہ سنانے جارہی ہوں جسے پڑھ کر یقیناً لوگوں کیلئے عبرت کا ساماں پیدا ہوگا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ہماری گلی میں ایک سنار صاحب رہتے تھے‘ ان کا کام ٹھیک ٹھاک تھا‘ دکان اچھی خاصی چلتی تھی مگر نہ نماز‘ نہ روزہ‘ نہ تسبیح! ہروقت شیخی مارتے‘ لوگوں کو خوب دونوں ہاتھوں سے ’’لوٹتے‘‘ تھے۔ ماشاء اللہ شادی شدہ تھے اور پانچ بچوں جن میں چار بیٹیاں اورایک بیٹا تھا۔ نہ خود ساری عمر دین سیکھنے اور اس پر چلنے کی توفیق ہوئی اور نہ کبھی اپنی اولاد کو اس طرف لائے بلکہ اولاد کو نت نئے فیشن‘ موبائل‘ لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کنکشن سے نوازا۔ تین سال پہلے وفات پاگئے۔ یہ میرے قریبی عزیز ہیں۔ اب میں آتی ہوں ان کی جمع پونجی یعنی اولاد کی طرف‘

Saturday, November 12, 2016

مکار عورت‘ معصوم بچہ اور عقل مند شہزادہ


نوعمر شہزادہ محل کے باہر اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا‘ وہ عورتوں کی طرف متوجہ ہوا اور صورت حال معلوم کی‘ دانش مند شہزادہ سمجھ گیا‘ فیصلہ کچھ غلط ہوا ہے‘ دونوں عورتوں اور ان کے ساتھیوں کو اپنے پاس بلا کر سارا ماجرا پوچھا‘ قافلے والوں نے کہا شہزادہ عالم ہم بہت دور سے سفر کرکے آرہے تھے

۔کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا‘ اس کا کنبہ زیادہ تھا اور مالی حالت اچھی نہ تھی‘ ہروقت اللہ سے دعائیں مانگتا رہتا کہ آسانیاں پیدا کردے۔ اب اس کے بچے بڑے ہوگئے‘ کام کاج انہوں نے سنبھال لیا اور باپ سے کہا کہ کچھ کام نہ کریں صرف جب راہٹ چل رہا ہو تو ایک کیارہ پانی لے لو دوسرے کیارے کو لگادیا کریں۔ بس یہی اس کی ڈیوٹی تھی۔ ایک راہٹ چل رہا تھا بیٹھے بیٹھے کسان کی آنکھ لگ گئی جب آنکھ کھلی تو دوڑ کرکھیت کی طرف گیا کہ پانی اگلے کیارے کو لگائے وہاں دیکھا تو سفید ریش شخص اگلے کیارے کو پانی لگارہا ہے‘ حیران ہوکے اس سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟

Saturday, September 3, 2016

نفسیاتی گھریلوالجھنیں اور آزمودہ یقینی علاج

تم کوئی اور کام کرو
 آج کل میں اپنے ایک دوست سے رپورٹنگ سیکھ رہا ہوں‘ وہ بڑی مشکل سے اپنے ساتھ لے جاتا ہے کیونکہ بہت مصروف ہے۔ بہرحال جب بھی مجھے موقع ملتا ہے اپنی موٹرسائیکل پر کیمرہ لے کر اس کے ساتھ چل پڑتا ہوں۔ کہیں آگ لگی ہو‘ گولیاں چل رہی ہوں‘ لوگ زخمی ہوں وہ بالکل نہیں ڈرتا‘ نہ گھبراتا ہے بلکہ تصاویر کھینچتا رہتا ہے۔ وہ اپنے پیشے میں کامیاب ہے۔ جان کی پرواہ نہیں کرتا جبکہ میں ایسی جگہوں سے ڈر جاتا ہوں۔ زخمیوں کو دیکھ نہیں سکتا‘ توان پر خبر یا تصویر کیسے بناؤں؟ وہ کہتا ہے تم کوئی اور کام کرو۔ (اسد علی‘ لاہور)
مشورہ
 اپنے پیشے میں کامیاب ہونے کیلئے جان کی پرواہ نہ کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ انسانی جان پیشے سے زیادہ قیمتی ہے۔ اپنی جان ہو یا کسی

Tuesday, August 30, 2016

اپنے پھولوں کو جنسی تشدد سے بچائیں


خاموشی اس جرم کو مزید پھیلا رہی ہے یہاں پر والدین کے کردار کو زیر بحث کیوں نہیں لایا جاتا ؟ کیا ماں باپ اور خاندان کے دیگر لوگوں کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت یقینی بنائیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ بچے بازاروں
اور گلیوں کا رخ اکیلے نہ کریں۔
 یہ خط لکھنے کا مقصد ایک اہم‘ دردناک اور شرمناک نکتہ کی طرف معاشرہ کی توجہ دلانا ہے۔ شاید بہت سے لوگوں کو یہ تحریر بُری لگے مگر یہ نقطہ ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلا ہوا ہے جس سے ہرکوئی آنکھیں چرا رہا ہے۔ میں اس موضوع پر لکھنے سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے اس کا خیال کیسے آیا؟
 دراصل ایک انٹرنیشنل میگزین پڑھا جو معاشرتی برائیوں کا پردہ فاش کرتا ہے‘ اس میں ایک موضوع تھا ۔
۔’’بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی‘‘۔۔
 اس ادارے نے ریسرچ کی کہ زیادتی کے واقعات میں 53 فیصد بچے متاثر ہیں۔ یہ کہانی میری بھی ہے کہ میرا وہ معصوم بچپن کہ جب گناہ تو کیا گمان گناہ بھی نہیں ہوتا۔ میں اُس وقت اس چیز کا شکار ہوا‘ مجھے تھوڑا بہت یاد ہے جب میں صرف چھ یا سات سال کا تھا‘ ہمارے گاؤں کے عزیز ہمارے گھر شہر روزگار کیلئے آئے تو ہمارے گھر کچھ دن ٹھہرے تو اس ’’درندے‘‘ نے میرے ساتھ پہلی بار یہ ’’فعل‘‘ کیا۔ میری معصومیت کے ساتھ کھیلا‘ پھر محلے کے کسی لڑکے نے میرے ساتھ ایسا کیا۔ جب تھوڑا بڑا ہوا تو اپنے ماں باپ کو بھی نہ بتاسکا۔ میری معصومیت اور ڈر کے اپنے کزنوں کو بھی نہ بتایا کہ میری ہی عزت لٹے گی۔ پھر ایک محلے کے ایک قریبی معزز شخص نے زبردستی میرے ساتھ ’’یہ‘‘ کیا۔ پھر مجھے اس فعل بد کی لت پڑ گئی ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب پتہ ہی نہیں کہ ہم کیا کررہے ہیں۔ جب بالغ ہوا تو احساس ہوا یہ تو غلط کام ہے۔

 محترم قارئین! یہ کہانی تو صرف میری ہے‘ جس کا معصوم بچپن خراب ہوا‘ مجھ جیسی نامعلوم کتنی کہانیاں ہر محلے میں ہوں گی۔ میری کہانی تو 90ء کی دہائی کی ہے کہ اس وقت پھر بھی کچھ شرم و حیاء معاشرے میں باقی تھا اب جب انٹرنیٹ‘ موبائل ہر گھر ہر فرد کے ہاتھ میں ہے اور غلاظت کتنی عام ہے۔ قارئین! خبریں میں بہت کم دیکھتا اور پڑھتا ہوں لیکن کبھی کبھار ایسی خبر جب پڑھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں چلا جاؤں‘ یا اس شخص کو جاکر ماردوں۔ قارئین! ہمارے معاشرے میں ہمارے معصوم پھول دونوں (بچے بچیاں) اس غلیظ فعل کاشکار ہوتے ہیں۔ محترم قارئین! ہمیں اپنے پھولوں کی حفاظت کرنا ہوگی‘ ہمارے بچے جب پانچ یا چھ سال کے ہوتے ہیں‘ باہر کھیلنے بھی جاتے ہیں‘ سکول بھی جاتے ہیں‘ کسی عزیز کے گھر بھی رہنے جاتے ہیں یا کوئی عزیز رہنے بھی آیا یا پھر کوئی ٹیوشن پڑھانے بھی آتا ہے‘ ایسے حالات میں جب ماں باپ قریب نہ ہوں اور کسی پر حد سے زیادہ اعتماد کریں تو وہ خود معصوم کلی یا پھول خود کی کیسے حفاظت کرے؟ کیونکہ وہ تو معصوم ہے‘ اگر کوئی اسے ایسی ’’جگہوں‘‘ پر ہاتھ بھی لگائے تو اسے سمجھ نہیں آئے گی کہ میرے ساتھ کچھ غلط ہورہا ہے۔

 والدین کیلئے احتیاطی تدابیر:۔

 ایک ریسرچ کے مطابق پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے جنسی تشدد کا شکار ہو جاتا ہے ۔والدین اپنے بچوں کو آگاہی سے محروم رکھتے ہیں یہی خاموشی اس جرم کو مزید پھیلا رہی ہے یہاں پر والدین کے کردار کو زیر بحث کیوں نہیں لایا جاتا ؟ کیا ماں باپ اور خاندان کے دیگر لوگوں کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت یقینی بنائیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ بچے بازاروں اور گلیوں کا رخ اکیلے نہ کریں۔زیادہ تر واقعات تب رونما ہوتے ہیں جب بچے اکیلے گھر سے با ہر جائیں یا پھر گھر میں اکیلے ملازمین یا کسی رشتہ دار کے ساتھ ہوں اور ماں با پ یا بڑے بہن بھائی ان کے قریب نہ ہوں۔ اگر کسی بچے کو جسمانی تشدد یا زیادتی کا نشانہ بنایا جائے ،اس کو فحاشی پر مبنی مواد دکھایا جائے،اس کے جسم کو ہاتھ لگایا جائے یہ سب استحصال کے زمرے میں آتا ہے۔اس استحصال سے بچے کو بچانے کے لیے والدین،بڑے بہن بھائیوں اور اساتذہ کا کردار قابل ذکر ہے۔اگر یہ سب مل کر بچوں کو اپنی جسمانی حفاظت کے حوالے سے مکمل آگاہی دیں تو بہت سے واقعات رونما ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائیں۔بچے جنسی زیادتی کا شکار صرف گھر سے باہر نہیں گھر میں بھی ہوسکتے ہیں۔ ان کو آگاہی دینا ضروری ہے کہ وہ کسی بھی ملازم یا رشتہ دار کے کمرے میں جانے اور اکیلا ساتھ جانے سے گریز کریں۔ والدین دیگر لوگوں کو منع کریں کہ وہ ان کےبچوں کو بلاوجہ گود میں نہ لیں اور پیار نہ کریں،بچوں کو یہ بتایا جائے اگر انہیں کوئی ہاتھ لگائے،ڈرائے دھمکائے تو خوف زدہ نہ ہوں بلکہ فوراً والدین کو اس بات سے آگاہ کریں۔ جب کوئی سینے پر‘ ٹانگوں کے درمیان اور آپ کی پشت پر کوئی غیر بندہ چاہے وہ آپ کا رشتہ دار کیوں نہ ہو ہاتھ لگائے تو زور سے چیخنا ہے اور وہاں سے بھاگ کر کسی حفاظت کی جگہ پر پہنچنا ہے‘ اس کےعلاوہ اگر کوئی ضرورت سے زیادہ منہ پر ہاتھ پھیرے یا ضرورت سے زیادہ چومے تو سمجھ جائیں یہ غلط کررہا ہے اور اپنے اعتماد مندانہ ماں، باپ، بڑے بھائی یا بہن کو بتائیں۔ والدین اور اساتذہ کوسب سے پہلے تین سے آٹھ سال کے بچوں کو بہت پیار سے اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے ۔ ان کو یہ بات بہت پیار سے باور کروائی جائے کہ کسی سے کوئی چیز لے کر نہیں کھانی ہے کیونکہ بہت سے واقعات کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے جب کوئی ملازمین،رشتہ داروں یا خوانچہ فروشوں میں بچے کو مفت میں کوئی چیز دے کر بچے کا اعتماد حاصل کرتا ہے اور بعد میں انہیں ’’نقصان‘‘ پہنچاتا ہے۔اس لیے بچے کو یہ بات بتائی جائے کہ گھر کے افرادکے علاوہ کسی سے کوئی چیز نہ لیں۔اس عمر کے بچوں کو گھریلو ملازمین سے بھی دور رکھیں اور اپنی نگرانی میں ہی اسکول سے لیں،ٹیوشن یا قرآن پڑھاتے وقت بھی اپنے بچوں کو ایسے کمرے میں اساتذہ کے ساتھ بٹھائیں جہاں سے آپ ان پر نظر رکھ سکیں ،اس عمر کے بچوں کو ہرگز بھی کمرے میں اکیلا نہ چھوڑیں۔ اگر والدین خود مصروف ہیں تو دادا دادی یا نانا نانی اس سلسلے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔نو سے بارہ سال کے عمر کے بچے تھوڑا بہت اپنا خیال رکھ سکتے ہیں ان کو ایسا آسان زبان میں لکھا مواد پڑھنے کے لیے دیں کہ وہ اپنی حفاظت یقینی بنائیں والدین بچوں سے دوستانہ روابط رکھیں اور ان کو کہیں کہ اگر کوئی بھی فرد ان کو برے ارادے سے ہاتھ لگائے، چھپ کر ہاتھ لگائےیا ڈرانے کی کوشش کرے تو فوراً یہ بات والدین کو بتائیں۔اساتذہ بچوں کے بہت اچھے دوست ہوتے ہیں‘ انہیں بھی یہ خیال رکھنا چاہیے کہ بچوں کے کیا مسائل ہیں‘ کہیں کوئی بچوں کو تنگ تو نہیں کررہا، گپ شپ کرتے ہوئے اساتذہ بچوں سے ان کے مسائل اور اس کےحل پر ضرور بات کریں۔جہاں تک کوشش ہو ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کا خیال رکھیں اور گلیوں میں بے جا پھرنے پر پابندی لگائیں۔ بہت سے ماں باپ لاپرواہی برتتے ہیں، خود ٹی وی لگا کر اپنی جان چھڑانے کے لیے بچوں کو گلی میں نکال دیتے ہیں۔ ایسا بالکل مت کریں بہت سے خوانچہ فروش،چرسی اور جرائم پیشہ صرف اسی تاک میں ہوتے ہیں کہ بچہ تھوڑا آگے سناٹے کی طرف جائےاور پھر یہ اس کو بہلا پھسلا کر اپنے ٹھکانے پر لے جائیں۔جنسی تشدد صرف غریبوں کا مسئلہ نہیں ہے بچہ چاہے امیروں کا ہو یا متوسط طبقے کا بھی ہو والدین کی غفلت سے وہ بھی تشدد کا شکار ہوسکتا ہے۔ یہ کام صرف ماں کا نہیں ہے بلکہ والدین اور خاندان کے لوگ مل کر ہی ایسے انجام دے سکتے ہیں اور بچوں کو حفاظت ممکن بنا سکتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں بلوغت، جنسی تبدیلیوں اور سیکس کو ایک ایسا شجرہ ممنوعہ بنا دیا گیا کہ جس کے بارے میں بات ہی کرنا گناہ ہے اور اسی سکوت کے باعث پاکستانی بچے استحصال کا شکار ہو رہے ہیں۔ آگاہی ہی ایک ایسی طاقت ہے جو آج کل کے دور میں بچوں کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔
 

رکاوٹیں زینہ ہیں

اسباب کی فراوانی آدمی کے اندر بے فکری پیدا کرتی ہے اور اسباب کی کمی سے آدمی کے اندر فکرمندی کا جذبہ ابھرتا ہے۔

26 مئی 1987ء کو شہر کے اخبارات نے اپنے پہلے صفحہ پر جو خبریں نمایاں طور پر دیں ان میں سے ایک خبر وہ تھی جو شہر کے سینئر سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ امتحان سے متعلق تھی۔ اس امتحان میں
 جن طالب علموں نے ٹاپ کیا
 ان میں اکثریت
 لڑکیوں
 کی ہے۔ اخبارات کے نمائندوں نے ان ٹاپ کرنے والے طلباء و طالبات سے ملاقات کرکے ان کا انٹرویو لیا اور اس کو باتصویر خبر کے طور پر شائع کیا۔ ان ممتاز طالب علموں کے حالات میں ایک نہایت سبق کی بات تھی۔ اکثر ٹاپ کرنے والوں میں مشترک طور پر یہ بات پائی گئی کہ
 وہ خوش حال گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نہ تھے۔
 درحقیقت ان میں سے کچھ طالب علموں کو سخت رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ غریب گھرانوں کا فرد ہونے کی وجہ سے ان کے پاس لکھنے پڑھنے کیلئے مناسب جگہ نہ تھی‘ کتابیں بہت کم تھیں۔ مزید یہ کہ شوروغل ان کے ذہن کو منتشر کرتا رہتا تھا۔ تاہم وہ ان عوامل کو پار کرگئے اور اپنے دل چسپی کے مضمون میں امتیازی نمبر حاصل کیا۔

اسباب کی فراوانی آدمی کے اندر بے فکری پیدا کرتی ہے اور اسباب کی کمی سے آدمی کے اندر فکرمندی کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اسباب کی فراوانی آدمی کوبے عملی کی طرف لے جاتی ہے اور اسباب کی کمی کے مسئلہ سے دوچار ہو۔ رکاوٹیں آدمی کیلئے زینہ ہیں۔ بشرطیکہ وہ ان کو زینہ کے طور پر استعمال کرسکے۔
 

Friday, August 19, 2016

دو لفظ پڑھے اور موت کے منہ میں گیا مریض صحت یاب


مگر جب سے میں نے یہ وظیفہ پڑھنا شروع کیا ہے ایک مریضہ بہت ہی تشویشناک حالت میں لائی گئی‘ اس کا علاج کیا تو اس کی حالت حیرت انگیز طور پر سنبھلنا شروع ہوگئی اور صرف تین دن بعد اس کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔ 


 ایک لیڈیز ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ کوئی وظیفہ دیں‘ ہسپتال میں روزانہ کوئی نہ کوئی پرابلم ہوجاتی ہے‘سب کچھ ہے مگر پریشانی جان نہیں چھوڑتی تو میں نے اس کو


 حٰمٓ لَایُنْصَرُوْنَ



 دیا۔ دو تین دن بعد اس کا فون آیا کہا کہ وظیفہ نے اثر یہ دکھایا کہ پچھلے دنوں ایمرجنسی میں جتنے بھی مریض آئے ان کا علاج کیا‘ مگر کوئی بھی نہ بچ سکا۔ مگر جب سے میں نے یہ وظیفہ پڑھنا شروع کیا ہے‘ ایک مریضہ بہت ہی تشویشناک حالت میں لائی گئی‘ اس کا علاج کیا تو اس کی حالت حیرت انگیز طور پر سنبھلنا شروع ہوگئی اور صرف تین دن بعد اس کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔ میں جس بھی مقصد کیلئے یہ عمل پڑھتی ہوں الحمدللہ وہ مقصد پورا ہوجاتا ہے۔
 (سلیم اللہ سومرو‘ کنڈیارو)۔

 بگڑے بچوں سے پریشان والدین کیلئے آسان عمل


 محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! اللہ آپ کو تاقیامت تک اسی طرح لوگوں کو دین کی طرف متوجہ کرنے کی توفیق دے اور آپ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے‘ اللہ آپ کو دین و دنیا کی تمام خیریں اور بھلائیاں عطا فرمائے۔ ہمارے ہمسایوں کا بیٹا جس کا باپ دنیا میں نہیں رہا اور ماں محلے کے سارے بچوں کو قرآن پاک پڑھاتی ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا جو کہ سولہ سال کا ہے‘ شہر کے بُرے لڑکوں کے ساتھ اس کی بیٹھک ہوگئی‘ موٹرسائیکل کا شوقین ہوگیا‘ ویلنگ بھی شروع کردی‘ ایک دو دفعہ گھر کی چھت پر نشہ کرتے ہوئے بھی بھائیوں نے دیکھا اور ہروقت موبائل فون استعمال کرتا رہتا‘ ماں اس کی وجہ سے بہت پریشان تھی‘ 9thجماعت میں دو سے تین سپلی بھی آچکی تھی۔ ماں کوسسرال والے بھی‘ میکے والے بھی اور محلے والے بھی سب طعنے دیتے اور کہتے تم اتنے لوگوں کے بچوں کو پڑھاتی ہو‘ اپنے بچوں کا پتہ ہی نہیں وہ بہت پریشان تھی پھر انہوں نے


نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ اِلَیْہِ۔ 


قرآن مجید پر پڑھنا شروع کردیا‘ قرآن مجید کی ہر لائن پر یہ پڑھتی اور پڑھنے سے پہلے اللہ سے دعا کرتی اور معافی مانگتی‘ یہ انہوں نے عبقری میگزین یا شاید دفتر عبقری کی کسی کتاب سے پڑھا تھا۔ انہوں نے نیت کی کہ میرا بیٹا اچھی صحبت اختیار کرلے۔ اللہ نے ان کی مدد کی اور وہ ہی بچہ ہے کہ آج بہت اچھا بن گیا ہے اب محلے والے کہتے ہیں وہ توکبھی کسی کو نظر ہی نہیں آیا اور سکول میں استاد کہتے ہیں کہ یہ بہت لائق بچہ ہے۔

 اسی طرح ہمارے محلے میں ایک اور عورت اپنے بیٹے کی وجہ سے بہت پریشان تھی ایک دن انہی باجی جان کے پاس آئی اور کہنے لگی میرا بیٹا مجھے بہت تنگ کرتا ہے۔ اس کا باپ وفات پاچکا ہے اور میرے گھر والوں نے میری شادی دیور سے کردی ہے۔ وہ بھی اسے زیادہ ڈانٹ نہیں سکتے کیونکہ اگر ڈانٹتے ہیں تو سب کہتے ہیں کہ یہ اپنا بیٹا نہیں اس لیے مارتا ہے۔ وہ بہت پریشان تھی۔ انہوں نے اس کو بھی وہی قرآن مجید پڑھنے کو کہا اور کہا اس طرح (درج بالا طریقہ) پانچ دفعہ قرآن مجید ختم کرنا ہے۔ ابھی اس نے دو یا تین دفعہ ہی پڑھا تھا کہ بیٹا کافی بہتر ہوگیا۔ اب کام پر جاتا ہے اور زیادہ تنگ بھی نہیں کرتا۔ اس کی ماں بہت خوش ہے۔

 ہمارے محلے میں ایک اور لڑکے کے ویزے کا مسئلہ تھا جن سےویزا لینا تھا وہ پیسہ لے کر کبھی کہتے دس دن انتظار کرو‘ کبھی بیس دن کرو‘ وہ ٹال مٹول کیے جارہے تھے‘ یہی قرآن مجید پڑھنا شروع کیا‘ انہیں ایک یا دو دفعہ پڑھا تھا کہ اس کا ویزہ آگیا اور وہ باہر چلا گیا۔

ایک اور لڑکا بیروزگار تھا اور کوئی کام نہ تھا‘ اس کی ماں نے بھی یہ قرآن مجید پڑھا اور اللہ نے ان کی مدد کی‘ ان کا ویزہ مل گیا اور وہ باہر چلا گیا اب مہینے کی ٹھیک ٹھاک آمدن آرہی ہے اور بہت مطمئن اور خوش ہیں۔ (سدرہ صابر)

Tuesday, August 16, 2016

بچوں کی تربیت کا ’’بیڑہ غرق‘‘ کیسے ہوتا ہے؟


کچھ بچے والدین کی طرف سے زبردستی کرنے پر ہوم ورک کرنے تو بیٹھ جاتے ہیں‘ مگر بار بار اٹھ کر ادھر ادھر گھومنے پھرنے لگتے ہیں۔ اس کا علاج پڑھائی کے دوران آرام کے وقفے ہیں۔ پڑھائی لکھائی بلکہ کسی بھی ذہنی کام کے دوران آرام کے وقفے لازمی ہیں بچوں میں خوداعتمادی کی کمی کی وجہ! والدین جب اپنے بچوں سے شفقت کا معاملہ کرتے ہیں تو بچوں کو اس سے بڑھ کر کوشش ہوتی ہے کہ وہ بھی اپنے والدین کو خوش رکھیں اور کسی معاملے میں شکایت کا موقع نہ دیں ایسے بچوں میں فرمانبرداری اور خوداعتمادی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے اس کے برعکس وہ والدین جو اپنے بچوں سےسختی کامعاملہ کرتےہیں تو ایسی صورت حال میں بچے باغی ہوجاتے ہیں اور خوب بدتمیزی کرتے ہیں‘ بچوں پر سختی صرف ان کی اصلاح کے لیے کرنی چاہیے۔ بے جاروک ٹوک بچوں کو ضدی اور ہٹ دھرم بنادیتی ہے۔ یہی پودے جب تناور درخت بن جاتے ہیں تو ان کو سیدھا کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ والدین اس بات پر توجہ دیں۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ باپ معمولی بات پربچوں کے سامنےشور شرابا کرنا شروع کردیتا ہے یا بچوں کی غلطی پر بجائے نرمی اور اصلاح سے کام لینے کےانہیں سب کے سامنے خوب بے عزت کیا جاتا ہے‘ اس طرح بچے احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ احساس محرومی بچوں میں خوداعتمادی کے پرخچے اڑا دیتا ہے۔ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بچے سکولوں میں صرف ڈر کی وجہ سے سبق بھول جاتے ہیں تو اس میں ان معصوم بچے بچیوں کا کوئی قصور نہیں ہوتا کیونکہ سبق سناتے وقت ان کامعصوم ذہن صرف اس بات میں اٹکا ہوتا ہےکہ جسے والدین معمولی غلطی پر سختی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو کیا معلوم یہ اساتذہ بھی ایسے ہی کریں۔ ایک خوف ہوتا ہے جو ان کے دلوں میں بھرا ہوتا ہے‘ بہت سے ایسے بچے غیرمعمولی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں لیکن خوداعتمادی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی صلاحیتوں کو یوں زنگ لگ جاتا ہے‘

Tuesday, February 23, 2016

45 سالہ کنواری لڑکی کی ماں باپ سے فریاد


گزشتہ دنوں مرحوم تجمل الٰہی شمسی صاحب کی نواسیوں کی شادی کی تقریب میں جانا ہوا‘ٹیبل پر کھانے کی میز پر ایک جہاں دیدہ شخص بیٹھے ہوئے تھے باتوں ہی باتوں میں میرا تعارف ہوا تو ان کے گھر عبقری بہت ذوق وشوق سے پڑھا جاتا تھا‘ موصوف چند ماہ پہلے رنڈوے ہوئے تھے۔ بیوی کے وصال کے بعد احباب اور رشتہ داروں کا تقاضا ہے کہ آپ سنت پوری کرتے ہوئے فوراً شادی کرلیں۔ قریب بیٹھے ایک صاحب نے ازراہ مذاق کہا حکیم صاحب آپ ہی انہیں کہہ دیجئے یہ شادی کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ان کی بات سن کر ان کے ماتھے پر بل آگئے



 اور کہنے لگے ایک ہمارا دور تھا آج میں ساٹھ سال سے اوپر ہوگیا ہوں کہ جب بیٹی کی بلوغت کے بعد اس کی صرف اور صرف شادی کا فکر ہوتا تھا‘ جانچ پرکھ کی جاتی تھی لیکن جو آج کی جانچ پرکھ ہے وہ اصل ذریعہ ہے جس کی وجہ سے شادی میں تاخیر ہوتی ہے موصوف ایک لمبا سانس لے کر مزید کہنے لگے کہ بیوی کے وصال کے بعد احباب کے تقاضا نے مجھے شادی کیلئے مجبور کیا‘ میں تو ایک بات پر حیران ہوا کہ جن رشتوں کو ہم دیکھتے ہیں چالیس سے پینتالیس سال کی خواتین کنواری عام طور پر مل رہی ہیں۔ مجھے افسوس بھی ہوا اور حیرت بھی تو پتہ چلا کہ شادی کی تاخیر کی بنیاد معیار اور پرسنیلٹی ہے۔ اور وہ پرسنیلٹی کیا ہے؟ کہ خود مجھے ایک پینتالیس سال کی کنواری لڑکی کیلئے جب رشتہ کی بات چلی تو ان کی ڈیمانڈ سترلاکھ کی پراڈو گاڑی‘ فلاں چیزیں‘ اتنا بڑا گھر وغیرہ۔ جو خواتین دیکھنے گئی تھیں ان کا تبصرہ یہ تھا کہ لڑکی کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے اور وہ حیرت سے ماں باپ کا منہ دیکھ رہی تھی۔ یعنی اس کے دل کی آواز تھی اور وہ والدین کو حال دل سے پکار رہی تھی کہ میرے ساتھ پینتالیس سال تک تو زیادتی کرچکے ہیں اب تو مزید زیادتی نہ کریں۔ اب تو میں بظاہر اولاد پیدا کرنے کے قابل ہی نہیں رہی مجھے اماں کون کہے گا اب تو میں ہی اماں ابا کہہ رہی ہوں۔ موصوف اپنی بات کرتے کرتے غصے میں آگئے اور کہنے لگے جن کے گھر میں ایک کمرہ ہے اور تین وقت کی روٹی بمشکل ہے ان کی ڈیمانڈ بھی اتنی زیادہ ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ چلو میں تو بوڑھا ہوں لیکن یہ سب کچھ جوانوں کیلئے ہورہا ہے اور مجھے کہنے لگے کہ حکیم صاحب آپ مجھے شادی کا نہ کہیے گا اللہ بخشے میری بیوی بس اس نے میرے ساتھ جو اچھا سلوک‘ اچھی زندگی گزاری وہ اتنی شاندار ہے کہ مجھے یہ ڈیمانڈیں اور ڈیمانڈوں کے بعد پھر ایک اور انجام نظر آتا ہے جن کی نظر پہلے دن دولت مال گاڑیاں‘ کوٹھیاں‘ جائیداد پر ہے ابتدا ہی خراب ہوئی ہے انتہا کا کیا ہوگا؟ پھر اپنے نانا مرحوم کے بارے میں فرمانے لگے کہ وہ بہت عقلمند اور جہاں دیدہ انسان تھےاور بنیے تھے میں چونک پڑا میں نے کہا بنیے تو ہندو کو کہتے ہیں کہنے لگے نہیں اصل میں جو صابن آٹا گھی چاول کا کام کرتا ہے بنیا اس کو کہتے ہیں۔ایک دن ہمارے گھر تشریف لائے پندرہ بیس سال سے ایک صاحب ہمارے ہاں دروازے پر سبزی دینے آتے تھے‘ سبزی کی ریڑھی تھی وہ گلی گلی اسی پر سبزی بیچتے تھے ایک دن وہ صاحب ہمیں سبزی دینے آئے‘ نانا مرحوم بیٹھے تھے دیکھ کر کہنے لگے اس نے سبزی کم تولی ہے‘ ہم حیران ہوئے کہ پندرہ بیس سال سے ان سے سبزی لے رہے بہت اچھے انسان ہیں۔ کہنے لگے میں تجربہ کرکے بتاتا ہوں ان سے سبزی تولائی تو انہوں نے ایسے صفائی سے ڈنڈی ماری کہ ہم حیران ہوگئے اور ان پندرہ بیس سالوں میں ہم انہیں بالکل پرکھ نہ سکے۔ دوسری بات نانا کی یہ بتائی کہ نانا مرحوم نے فرمایا عورت کا خصم اس کا شوہر ہے اور شوہر کا خصم اس کا کاروبار ہے یعنی عورت اگر اپنے شوہر کی نہیں تو پھر کسی چیز کی بھی نہیں اور کسی قابل نہیں اور مرد اگر کاروبار کا نہیں تو پھر اس کو شوہر کہلوانے کا حق نہیں۔ میرے نانا نےاپنے تجربات میں تیسری بات یہ بتائی کہ سب سوٹوں (کپڑوں) پر نمبر لکھ کررکھیں۔ مثلاً ہر سوٹ پر نمبرنگ ہو‘ قمیص پر نمبر ایک‘ بنیان پر بھی ایک نمبر ہو‘ شلوار پر بھی ایک نمبر ہو۔ اس طرح کبھی کپڑے گم نہیں ہوتے۔قارئین! بڑوں کے تجربات اور مشاہدات میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے۔ آپ بھی آزمائیں اور استفادہ حاصل کریں۔

Monday, January 4, 2016

اولاد کو جاہل اور منگتا چھوڑ کر نہ جائیے

اولاد کو جاہل اور منگتا چھوڑ کر نہ جائیے :۔


روز کی ملاقاتین ، خطوط ، میرے سامنے کیسےدکھی دکھی ، الجھے رویے ، لہجے اور چہرے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ خاص طور پر وہ لوگ جن میں ایسے لوگ بھی ہیں جو جوانی کی دہلیز پار کر چکے ہیں یا ابھی جوان ہیں جب ان کے حالات سنتا ہوں تو دل کڑھتا ہے اور احساس ہوتا ہے کہ جب میاں بیوی دونوں کمانے پر لگ جائیں اور نسلوں کیلئے وقت نہ ہو تو اس وقت نسلوں کا کیا بنتا ہے ؟یا پھر بیوی گھر داری میں میاں کا ساتھ دے اور میاں اپنی مصروف زندگی چاہے وہ سیاسی ہو ، مذہبی ہو، سماجی ہو ، یا کاروباری ہو جس نوعیت کی بھی ہو اپنے گھر اور نسلوں کیلئے وقت نہ دے سکے اس وقت نسلوں کا کیا بنے گا اور وہ کن لہجوں اور رویوں کے ساتھ زندگی کے دن رات طے کرتے ہیں ؟ اس کا کچھ عکس ایک خط کی شکل میں ، میں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔


 یاد رکھیں ! ابتدا کے پانچ سال نہایت اہم ہوتے ہیں

بچے کی میموری میں جو چیز ڈالنی ہے ڈال دیں ۔ پھر اس کی تعمیر اور ترقی ہمیشہ سدا بہار رہے گی مجھے ایک تھانیدار نے کام کی بات کہی کہنے لگا سپریم کورٹ تک فیصلے تھانے کی ایف آئی آر پر ہی ہوتے ہیں ایف آئی آر ٹھیک کٹی تو فیصلے بھی ٹھیک ، ایف آئی آر غلط کٹی تو فیصلے بھی غلط ، اصل بنیاد ایف آئی آر ہوتی ہے ۔ ایسے ایسے جوان نیم پاگل ، نفسیاتی مریض اور ٹینشن کے مارے ہوئے ملتے ہیں کہ جو مخلوق سے بے زار نعوذباللہ خالق سے بے زار ، معاشرہ میں رہتے ہوئے بھی اپنے اندر معاشرہ کیلئے نفرت بھر ے جذبات حتیٰ کہ ماں باپ ، بہن بھائیوں کیلئے بھی منفی جذبات رکھتے ہیں ۔ معلوم ہوا شروع سے اولاد کی تعمیر و تربیت اور ترقی کیلئے وقت نہیں نکالا گیا ۔ آپ پوری کوشش پوری محنت کر لیں باقی ان کی قسمت اور مقدر ، جو وقت اولاد کیلئے ہوتا ہے وہ موبائل ، انٹرنیٹ ، خبریں اور چینل کیلئے وقف ہوتا ہے

اور اولاد کو موبائل ، انٹرنیٹ اور کارٹونوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے ، اس کے بعد کیا ہوتا ہے ۔ ایک جوان کے جذبات آپ خود ملاحظہ کریں ۔

Monday, December 14, 2015

بچو ہمیشہ اپنے سے کم حیثیت کو دیکھو اور شکر خدا کرو

بچو ہمیشہ اپنے سے کم حیثیت کو دیکھو اور شکر خدا کرو :۔



کالج سے آتے ہی امبر نے کتابیں میز پرپھینکیں اور دھم سے بستر پر گر گئی امبر کا سر چکرا رہا تھا اور تھکاوٹ سے جسم چور تھا امی نے گھبرا کر پوچھا کیا بات ہے ؟ طبیعت تو ٹھیک ہے آج بہت دیر کردی تم نے ؟ کیا کالج میں کوئی فنکشن تھا ؟ نہیں امی ! فنکشن ونکشن کچھ نہیں تھا ۔ امبر نے اکتائے ہوئے لہجہ میں جواب دیا کالج کی بس خراب تھی امی نے پیار سے میری طرف دیکھا اور بسوں کا تو آپ کو پتہ ہی ہے نہ ؟ امبر نے پھر کہا اول تو کوئی آتی ہی نہیں بھولے سے کوئی آتی ہے تو اس میں پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی ہے ۔ کیا مصیبت ہے ؟ امی مسکرانے لگیں علم حاصل کرنے کیلئے قربانیاں تو دینی پڑھتی ہیں نہ ۔ تمہارا زمانہ تو پھر بھی اچھا ہے بسیں ، ویگنیں ، رکشے ہیں ، ذرا ان لوگوں کی حالت کا اندازہ لگاؤ۔
جب نہ بسیں چلتی تھی ،نہ ویگنیں ، اور نہ ہی رکشے تھے کئی کئی میل لوگ ٹھٹھرتی ہوئی سردیوں اور جھلسا دینے والی گرمی میں میں علم کی پیاس بجھانے کیلئے پیدل چلتے تھے امی تھوڑی سی خاموشی کے بعد بولیں پھر تم اکیلی تو ہو نہیں ہزاروں لڑکیاں روزانہ اس کیفیت سے دو چار ہوتی ہیں امی جو کچھ کہہ رہی تھیں وہ درست تھا لیکن مجھے جو چیز ہر وقت بے چین رکھتی تھی وہ وہ میں نے بتا دی ۔
انیلا ہے نا میری کلاس فیلو، اتنی امیر ہے کہ تین تین گاڑیاں ہر وقت ان کے گھر پر کھڑی رہتی ہیں اور ایک میں ہوں کہ امی نے بات کاٹ کر کہا ناشکری کی باتیں منہ سے نہ نکالو اپنے نیچے لوگوں کی طرف دیکھو اپنے سے اونچے لوگوں کو نہ دیکھو اگر تم ان پر نظر دوڑاؤ گی جو ہم سے بھی غریب ہیں ۔ تو تمہیں ایک سکون سا نصیب ہو گا ۔ برخلاف اس کے اپنے سے امیر لوگوں کو دیکھنے سے دل میں حسد پیدا ہو تا ہے ۔ اور زندگی اجیرن ہو جاتی ہے ۔ امی کا سمجھانے کا اندازہ بڑا اچھا تھا ان کی باتیں امبر کے دل میں اترتی جا رہی تھیں ۔
انہوں نے پھر کہا ۔ تمہاری کلاس میں ایسی بھی لڑکیاں ہوں گی جن کے پاس رکشہ تو کیا بس کے کرائے کے پیسے بھی نہیں ہوں گے وہ بے چاری کس طرح کالج سے آتی جاتی ہوں گی ہاں امی ثمینہ بے چاری تو پیدل ہی چار کلو میٹر چل کر آتی ہے اور جاتی ہے تمہیں تو اس پر رشک کرنا چاہیے امی نے کہا علم حاصل کرنے کیلئے اسے کسی تکلیف کی پرواہ نہیں امی خاموش ہو گئی مگر امبر کے دل کی کایا پلٹ چکی تھی اسنے دل میں تہیہ کر لیا کہ کبھی ناشکری نہیں کرے گی ۔ اورنے بھی  بھی علم حاصل کرنے کیلئے ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کا عزم کر لیا ۔

Thursday, December 3, 2015

بچوں کی خراب لینگویج ! وجوہات و سد باب

بچوں کی خراب لینگویج ! وجوہات و سد باب  :۔



بچہ والدین کی پرچھائی ہوتا ہے ۔ وہ زندگی کا ہر بنیادی طرز عمل گھر سے سیکھتا ہے ، ہمارے مذہب میں بچے کے پیدا ہونے پر اس کے کان میں اذان یعنی اللہ کا نام پکارا جاتا ہے تاکہ بچہ زندگی کا پہلا لفظ سنے تو اپنے تخلیق کرنے والے کو یاد رکھے اس کے کان میں والدین کے جملے ، باتیں اور گالم گلوچ بھی پڑتی ہے ۔ یہ سب Input اور Out put کا معاملہ ہے جو کچھ بچے کے کان میں Input ہو گا اس کے ہونٹوں سے Output کی صورت  سے باہر نکل آئے گا ۔ بچہ جو کچھ اپنے بڑوں سے سنتا ہے اس کے ذہن پر نقش ہو جاتا ہے اور پھر موقع محل ہو یا نہ ہو وہ انہی الفاظ کو دہرا دیتا ہے  خوف انسان کی جبلت میں شامل ہے ۔ بچے کو بری باتوں اور برے کاموں سے روکنے کیلئے اوائل عمر سے اسے ڈرایا جاتا ہے " یہ نہ کرو ورنہ اللہ آ جائے گا ۔ یا اگر تم یہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ ماریں گے " اسی طرح بچے سے کوئی سچ اگلوانا ہو تو اسے اللہ کی قسم دلوانا بھی بڑے یا والدین سکھاتے ہیں ؟ بچہ جوں جوں بڑا ہوتا ہے وہ اللہ کے خوف کو بھولتا جاتا ہے کیونکہ وہ سمجھ جاتا ہے کہ اس کی ، کی گئی غلطیوں پر کبھی اللہ نہیں آیا لیکن وہ اللہ کی قسم کو اپنی حفاظت یا بچت کیلئے استعمال کرتا ہے ۔ چھوٹی عمر میں بچے کو جھوٹ کے نقصان سمجھانا ایسا ہی ہے جیسا ہمالیہ کی چوٹی سر کرنا لہذا کوئی بھی شرارت بچہ کرتا ہے۔ وہ قسم کھا کر اس سے انکار کرتا اور جھوٹ کا سہارا لیتا ہے ۔ گھر میں اگر زائد بچے ہوں اور ان کے درمیان عمر کا فرق ہو تو ان کی آپس کی لڑائی اور گالم گلوچ کا طرز عمل ان کے والدین کے برعکس بن کر سامنے آتا ہے اور جب والدین اپنے چار سے دس برس کے بچوں کے منہ سے گالیاں قسمیں اور معیوب زبان سنتے ہیں تو انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی بے خیالی یا نظر انداز نے پانی سر سے اونچا کر دیا ہے۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت کی مصداق اپنے بچوں کو بدگوئی سے بچانا عقدہ لایخل ہوتا ہے ۔ پر یہ سوچ کر اس تربیت پر گامزن ہو جاتے ہیں جس میں دیر تو ہو گئی ہے لیکن بہت زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ کیا آپ والدین نے اس رخ پر کبھی سو چاہے یا نہیں ! توآج ہی سے اپنے بچوں پر نظر رکھئے اور مشاہدہ کیجئے کہ آپ سے کوتاہی کہاں ہوئی ۔ کیا آپ کے بچے نے یہ بدگوئی آپ سے سیکھی ہے ،یا بچے کی گفتگو جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ان کے ماحول اور اردگرد موجود لوگوں ، والدین یا بڑوں کی گفتگو کے برعکس ہوتی ہے بچے اس تناظر میں توجہ حاصل کرنے کیلئے بھی ان جملوں کا استعمال کرتے ہیں جو بڑے اکثر بولتے ہیں ۔ اس سلسلے میں وہ والدین انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں ، وہ اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں بہت فکر مند اور ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ والدین کی آپس میں نوک جھونک ، طعنہ زنی ، گالم گلوچ یا غصے کی حالت میں برا بھلا کہنا بچو کو نہ صرف سراسیمہ کرتا ہے بلکہ وہ دماغی تناؤ کی صورت میں لاشعوری طور پر ان الفاظ کو دہراتے ہیں اور جب وہ کسی بات پر غصہ کرتے ہیں تو ان الفاظ کو دہرا دیتے ہیں ۔ اس قسم کے روہیے کو ماہر نفسیات Conduct Disorder کہتے ہیں ۔ اس قسم کے کیس میں بچہ گالم گلوچ کے علاوہ دوسری خراب عادتیں بھی سیکھتا ہے ۔ ریسرچ بتاتی ہے کہ اس قسم کے بچوں میں نیو کیمیکل کی سطح کم ہوتی ہے ۔ ماہر نفسیات کے مطابق بچے کا یہ رویہ غیر صحت مندانہ ہوتا ہے اور وہ اس رویہ کو کسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے استعمال کرتے ہیں ، جو ان کی شخصیت کو بگاڑنے میں معاون ثابت ہوتا ہے ۔ وہ اس شخصیت کے اس بگاڑ کو  Tic Disorder کہتے ہیں ۔ بچہ جسمانی ردعمل کا تیز رفتاری سے مظاہرہ کرتا ہے یعنی ٹکر مارنا ، تھپڑ مارنا وغیرہ ۔ اور دوسرا Vocal Tics ہے جس میں بچہ ان باتوں کو بار بار دہراتا ہے جس کا مطلب اسے معلوم بھی نہیں ہوتا ۔ وہ والدین جن میں ماہر نفسیات یا مشورہ سازوں کو بھاری بھر کم معاوضے دینے کی سکت نہیں ہوتی ان کیلئے کچھ ہدایات ہیں لیکن پہلے بچوں میں بری عادات پر نظر دوڑائیے آپ کو میڈیا کے برے اثرات کا بچے کے ذہن پر پڑنے کا بخوبی ادراک ہونا چاہیے ۔ بچوں میں بڑوں کا یا اپنے پسندیدہ ہیروز کی نقل کرنے کا رجحان ہوتا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے پسندیدہ کارٹون کرداروں کی نقل کرنا بھی پسند کرتے ہیں ۔بچے گفتگو کا بہت حصہ اپنی آیاؤں ، سکول بس ڈرائیور گھر میں کام کاج کرنے والی نوکرانیوں یا ماسیوں سے سیکھتے ہیں ۔ بہت سے تہذیب یافتہ والدین بھی منہ پھٹ ہوتے ہیں ۔ وہ نوکروں یا ڈرائیوروں کو گالم گلوچ سے نوازتے ہیں ۔ جس سے بچے بھی ان الفاظ کا استعمال سیکھتے ہیں ۔اس کے سدباب کیلئے سب سے پہلے آپ کوا س خراب زبان کو روکنا ہو گا ۔جو آپ دوسرے لوگوں کے ساتھ استعمال کرتے ہیں ۔ یعنی ڈرائیور ، نوکروں یا اپنے پڑوسیوں سے بھی ۔ سب سے پہلے تو ان الفاظ کے معنی بچوں کو سمجھائیے انہیں بتائیے کہ یہ بہت غلط الفاظ ہیں ، آئندہ اگر انہوں نے یہ الفاظ کہے تو ان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی ۔اچھے اور پیار بھرے الفاظ خود بھی استعمال کیجئے بچوں کو بھی سکھائیے بچے اگر کوئی خراب لفظ غصے کی حالت میں بول رہے ہیں تو آپ ٹھنڈے مزاج سے اسے روکئے، اور سمجھائیے۔اسے پہلے پانی کا گلاس دیجئے اور سکون سے بٹھائیے۔ اس سے اسے غصہ کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملے گی اور پھر آہستہ آہستہ اس کے الفاظ پر اسے سرزنش کیجئے۔ٹی وی پروگرام میں اگر کوئی بری بات یا خراب لینگوئج ہے تو فوراً اس پرسخت ردعمل کیجئے۔بچے کو بتائیے کہ ٹی وی پر کہے گئے الفاظ غلط ہیں اور جو کردار ایسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں وہ انتہائی برے ہیں اور ان کی تقلید نہیں کرنی چاہیے۔ بچے کو اچھی کتابیں پڑھنے کو دیجئے ، نصیحت آموز کہانیاں اور قصے ، بچوں کو بہت ساری اچھی باتیں سکھانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔بچوں کو اچھے رول ماڈل دیجئے وہ ان کی تقلید میں خود بھی اچھے رول ماڈل بننے کی کوشش کریں گے ۔

Monday, November 16, 2015

اصلاح معاشرہ کے سلسلہ میں بڑی رکاوٹ

اصلاح معاشرہ کے سلسلہ میں بڑی رکاوٹ  :۔


گھر کے سبھی لوگ اکٹھے تھے بزم امین کے سب لوگ جمع تھے اس کا نمبر آیا تو اس نے اصلاح معاشرہ کے عنوان پر تقریر کرنا شرع کی اس نے کہا معاشرہ کی اصلاح اس لئے نہیں ہو رہی ہے کہ ہر آدمی کو اس کی فکر ہے کہ معاشرہ کی اصلاح کیسے ہو ؟ اس کی فکر بالکل نہیں کہ میری اصلاح کیسے ہو ؟ ننھی سی بچی کی اس تقریر نے پورے خاندان کو جھنجوڑ دیا ۔ اس حقیر کو اس کی تقریر سن کر جہاں اپنے اس خیال پر اعتماد بڑھا وہیں دل کی گہرائی سے یہ نکلا  "الحمدللہ الذک ھدانا لھا ذاوما کنا لنھتدی لو لا ان ھدا نا اللہ۔"اللہ تعالیٰ نے کیسا پیارا دین عطا فرمایا کہ زندگی کی چولوں کو ٹھیک رکھنے کیلئے دعوت کو فرض منصبی قرار دیا ملت اگر دعوت کو مقصد بنا لے تو خیر کے دہانے اللہ تعالیٰ کھول دیتے ہیں ۔ اس خیال سے کہ گھر میں دعوت کا ماحول بنے بچوں اور بچیوں میں دعوتی شعور بیدار ہو خاندان میں ہر گھر میں اس کا سلسلہ  شروع کیا گیا کہ ہفتہ میں ایک مجلس گھر کے افراد کی ہو اور اس میں گھر کا ہر فرد کسی موضوع پر تقریر کرے ، ا س کا فاہدہ یہ ہو گا کہ ہر فرد کو کچھ یاد کرنے اور دین کے بارے میں معلومات کا شوق ہو گا اور جب وہ دوسروں کے سامنے کہیں گے تو پھر خود ان کے اندر دین پر عمل کی توفیق بڑھے گی عید وغیرہ کے موقع پر جب سب خاندان کے لوگ جمع ہوتے ہیں جس میں یہ سلسلہ ہو تا ہے ۔ والد محترم کے نام سے اس کا نام بزم امین بزم امین ب وغیرہ رکھ دیئے گئے دعوتی پس منظر میں بچے ایسے ایسے پیرایہ میں مختلف موضوعات پر بات کرتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے ایسی ہی تقریر اس بچی نے بھی کی ہے واقعی یہ بات بڑی کلیدی ہے کہ اصلاح معاشرہ کی ساری کوشش بے سود اس لیے ہے کہ ہر آدمی کو اصلاح معاشرہ کی فکر ہے اپنی اصلاح اور خود عمل سے بے نیاز ہو کر اصلاح معاشرہ کی کوئی کوشش سود مند نہیں ہو سکتی ہے ۔ ابلیس لعین جس کا نام عزازیل تھا جب اس کو اپنی عبادات اور مقبولیت پر غرور ہو ا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوا کہ ہم ایک بندہ کو راندہ درگاہ کرنے والے ہیں ۔سارے فرشتے تھر اگئے ہر ایک گھبرا کر عزازیل کے پاس آتا تھا کہ ہمارے واسطے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں راندہ درگاہ نہ کرے ابلیس بڑے ناز سے کہتا آپ فکر نہ کریں میں اللہ پاک سے آپ کیلئے دعا کروں گا اس کے دل میں یہ خیال بھی نہ آیا کہ میں بھی راندہ درگاہ ہو سکتا ہوں ۔ اس لئے اپنے کو اصلاح حال سے بے نیاز سمجھتا رہا ۔ یہ شیطانی جبلت ہے ہمیں اصلاح حال سے محروم کئے ہوئے ہے بس ہر ایک کو دوسروں کی اصلاح کی فکر ہے ۔ اصلاح معاشرہ کی کوشش کرنے والے مقررین کے ذہن اکثر اپنی اصلاح حال کی فکر سے خالی ہیں سچی بات یہ ہے کہ تقریر سننے والوں کے ذہن میں بھی اپنی اصلاح حال کی فکر سے خالی ہیں ، تقریر و، وعظ سن کر نکلنے والے لوگ یہ سر گوشی کرتے نکلتے ہیں کہ فلاں حاجی صاحب نے یہ بتایا دیکھا مولانا صاحب کیا فرما رہے تھے اور وہ صاحب کیا کرتے ہیں اپنے حال کا محاسبہ اور اپنی اصلاح کی کوشش اور فکر مفقود ہوتی جا رہی ہے جن مصلحین نے دنیا میں اصلاح حال کا تجدیدی کارنامہ انجام دیا وہ دوسروں کو وعظ اپنے حال کی اصلاح کیلئے کہتے تھے ۔ حکیم الامت فرماتے تھے جب میں اپنے اندر کسی چیز کی کمی دیکھتا ہوں تو دو چار وعظ اس موضوع کے کہہ لیتا ہوں گویا وہ دوسروں کو وعظ و نصیحت اس لئے کرتے تھے کہ کہنے سے خود کی اصلاح ہو جائے گی اصلاح معاشرہ میں جان پیدا کرنے کیلئے یہ سوچ کہ میں سب سے زیادہ اصلاح کا محتاج ہوں شاہ کلید ہے کاش ہمیں اس کی فکر ہو ۔

Sunday, September 20, 2015

چھوٹے بھالو کو ملی سکول نہ جانے کی انوکھی سزا

چھوٹے بھالو کو ملی سکول نہ جانے کی انوکھی سزا:۔


جو بچے تعلیم حاصل نہیں کرتے انہیں قدم قدم پر ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں ، تو آئیے دیکھتے ہیں کیسے ؟ ایک جنگل میں تمام جانوروں کے بچے ہر روز صبح سکول جاتے تھے مگر چھوٹا بھورا بھالو بلو سکول نہ جاتا ، اس کی امی کے لاکھ بھیجنے کے باوجود وہ سکول نہ جاتا اور کہتا مجھے سکول جانے اور پڑھنے کی ضرورت نہیں بس میں ہر روز جنگل سے میٹھا میٹھا شہد تلاش کروں گا اور مزے مزے سے کھاؤں گا ، ایک دن بلو نے سوچا کہ چچا خرگوش کے پاس جانا چاہیے ۔بلکہ ان سے مزے مزے کی کہانیاں سنی جائیں ، جب وہ چچا خرگوش کے دروازے پر پہنچا تو دروازے پر ایک چٹ پر کچھ لکھا ہوا تھا ، بلو پڑھ نہیں سکتا تھا لہذا اس نے زور زور سے دروازہ پیٹا مگر کوئی جواب نہ ملنے پر واپس مڑ گیا ۔ ابھی وہ آدھے راستے میں تھا کہ چچا خرگوش سے ملاقات ہو گئی چچا خرگوش کو جب پتہ چلا کہ بلو ان کے دروازے سے لوٹ کر آ رہا ہے تو انہیں شدید غصہ آیا ۔ انہوں نے کہا کیا تم نے دروازے پر لگی چٹ نہیں پڑھی۔ اس پر لکھا تھا کہ میں جلد واپس آ جاؤں گا براہ مہربانی میرا انتظار فرمائیں ۔ بلو بہت شرمندہ ہوا اور معافی مانگ کر گھر واپس آ گیا مگر اس کے دل میں سکول جانے کا خیال پھر بھی نہ آیا ، اسے احساس ہی نہیں ہوا کہ تعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہے ۔ تعلیم قدم قدم پر انسان کے کام آتی ہے ۔ دوسرے دن اس نے شہد کا پیالہ ہاتھ میں لیا اور چچا الو کے گھر کی طرف چل پڑا ، جب وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ایک کرسی رکھی ہے اور اس پر بھی ایک چٹ لگی ہوئی ہے ۔ بلو نے کہا اب میں ان چٹوں کے بارے میں اچھی طرح جان گیا ہوں ضرور اس پر لکھا ہے کہ میں جلد لوٹ آؤں گا براہ مہربانی میرا انتظار فرمائیے ، مگر ساتھیو! اس چٹ پر لکھا تھا اس کرسی پر نیا رنگ کیا گیا ہے لہذا اسے ہاتھ نہ لگائیں ۔ ظاہر ہے بلو غلط مطلب سمجھا اور کرسی پر بیٹھ گیا دوسرے ہی لمحے وہ ایک دم اچھل پڑا کیونکہ اس کی نئی پیلے رنگ کی پتلون پر سبز رنگ کا داغ لگ چکا تھا ۔ بلو کے رونے پر چچا الو باہر آئے اپنی آنکھیں گھمائیں اور کہا تمہیں پتہ ہونا چاہیے تھا کہ رنگ گیلا ہے میں نے اس پر ایک چٹ لگا رکھی تھی بلو اداس ہو کر گھر لوٹ آیا مگر بچو ! اس کے دل میں علم حاصل کرنے کی خواہش پھر بھی نہ جاگی ۔ تیسرے روز وہ جنگل کی سیر کرنے کے بعد واپس گھر آیا تو دیکھا کہ خطوط کے ڈبے میں کوئی چٹ نم شے پڑی ہے وہ سمجھا شاید بکس پر گھر والوں نے نیا رنگ کرایا ہے اسی لئے اس کے متعلق چٹ ہو گی ۔ مگر بچو! وہ بلو کے لئے دعوت نامہ تھا جو ایک بڑی تقریب میں شرکت کیلئے اس کے دوستوں نے بھیجا تھا لیکن بلو نے چٹ کو یہ سمجھ کر ہاتھ بھی نہیں لگایا کہ کہیں اس کے کپڑے خراب نہ ہو جائیں ۔ چوتھے دن اس نے دیکھاکہ چاروں چوہے بھائی ! خرگوش کے چھوٹے بچے ۔ کچھوے بھائی اور چک چک گلہریاں کھانے پینے کا ڈھیر سارا سامان اٹھائے جھیل کی طرف جا رہے ہیں بلو بھی ان کے پیچھے چل پڑا ۔ کافی آگے جا کر یہ قافلہ نیلی جھیل کے پاس رکا تو بلو کو پتہ چلا کہ وہ سب دوست پکنک منانے آئے ہیں ، یہ معلوم ہوتے ہی وہ چیخ چیخ کر رونے لگا ، سب ساتھی اس کی طرف متوجہ ہو گئے وجہ پوچھی تو بلو نے بتا یا کہ وہ اس لئے رو رہا ہے کہ تم لوگوں نے اسے دعوت کیوں نہ دی؟ سب نے کہا بلو ہم نے تمہیں بھی دوسرے دوستوں کی طرح دعوت نامہ بھیجا تھا مگر تم نے کوئی جواب نہیں  دیا اب اس میں ہمار اکیا قصور ؟ اسی وقت بلو کی امی ایک بڑا سا کیک اٹھائے وہاں آ گئیں ،انہوں نے کہا بلو کل تم نے اپنے خطوط کے ڈبے سے دعوتی کارڈنہیں نکالا تھا لیکن میں نے اسے پڑھ لیا اسی لئےاب تمہارے لئے کیک بنا کر لائی ہوں ۔ اب بلو کو احساس ہوا کہ نہ پڑھنے سے انسان قدم قدم پر غلطی کرتا ہے اور نہ پڑھنے سے مشکلات اٹھانی پڑتی ہیں ۔۔ اس نے اسی وقت سکول جانے کا فیصلہ کر لیا ۔ اگلے دن وہ بھی اپنے دوستوں کے ہمراہ خوش خوش سکول کی جانب رواں دواں تھا ۔

 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر27


Wednesday, September 16, 2015

How to protect children from Net harms, dark side of Net


انٹر نیٹ اور اس کے عا لمگیر اثرات خرابیوں سے بچاؤ کی تدابیر:۔


سائنس و ٹیکنالوجی کی دم بخود ترقی نے جہاں نئے نئے ایجادات اور انکشافات سے دنیا کیلئے سہولیات اور معلومات کا انبار لگادیا وہیں اس نے دنیائے شہوت پرستی کیلئے نئی رائیں بھی کھول دی ہیں ۔ مواصلاتی دور یوں نے سمٹ کر جہاں انسانیت کو آسانیاں دیں ، وہیں نفسانی خواہشات کے دیوانوں کو تسکین کا سامان بھی کیا ، چند دن قبل شائع شدہ اخباری رپورٹ کے مطابق " کچے گوشت" کی دلالی کا کاروبار بھی انٹر نیٹ پر زور و شور سے ہو رہا ہے ، جس میں مالدار اور ان میں مخصوص نوجوان نسل کو مائل کیا جا رہا ہے ۔ اور بڑی بھاری رقومات ان سے حاصل کی جا رہی ہیں بلکہ اس بہانے  Debit Credit  کارڈ کے نمبرز حاصل کرتے ہوئے اور ان کے Passwords کو محفوظ کرتے ہوئی کھاتے خالی کئے جا رہے ہیں ۔ یعنی اخلاق و ایمان کی بربادی کے ساتھ مال کی بھی بربادی ، اس کے  علاوہ بیسیوں ویب سائٹس فحش مناظر اور لٹریچر سے بھری ہیں ، جزبات مشتعل بھی کئے جا رہے ہیں اور اس کی تسکین کیلئے دلالی کا کام بھی جاری ہے جس کے نتیجہ میں ایسا لگتا ہے جیسے بے حیائی اور فحاشی کا سیلاب امڈ آیا ہے اور بالخصوص نوجوان نسل اس کی زد میں ہے ۔ بی بی سی ٹیلی ویژن نے اس سلسلہ میں ماہرین نفسیات اور عام شہریوں کے درمیان 2013ء سے قبل ایک مباحثہ کا اہتمام کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ15 فیصد برطانوی لوگ فی ہفتہ گیارہ گھنٹے جنسی مناظر دیکھتے ہیں ، یہ رپورٹ آج سے چار سال قبل کی ہے جب انٹر نیٹ اور کمپیوٹر کا شیوا اس قدر نہیں تھا ۔غریب طبقے کے مقابلے میں مالدار لوگ انٹر نیٹ پر شہوانیت کے نت نئے طریقے سیکھ رہے ہیں جنسی طور پر ایک دوسرے کو تکلیف دے کر خوش ہونا ، ہم جنس پرستی ، جانوروں سے تعلاقات ، چھوٹے بچوں ، بچیوں ، عورتوں ، بوڑھوں ، ماں ،بہن ، بیٹی اور دیگر محرم رشتہ داروں کے ساتھ عمل قوم لوط ، زنا  بالجبر اور دیگر کئی طرح کی چیزیں مالدار اور انٹر نیٹ سے مربوط نوجون نسل سیکھ رہی ہے ، جس کو وہ اپنے معاشرے اور بیویوں کے ساتھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں  جس سے رشتوں کا تقدس بھی پامال ہو رہا ہے اور شادی شدہ جوڑے بے کیفی کی زندگی گزار رہے ہیں ، رپورٹ کے مطابق اس وقت امریکہ میں کئی لاکھ جوڑے ایسے ہیں جن کی ازدواجی زندگی انٹر نیٹ کی وجہ سے تباہ ہو چکی ہے ، ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت انٹر نیٹ پر دس لاکھ سے زائد عریاں تصاویر موجود ہیں اور ایک لاکھ سے زائد عریاں فلمیں انٹر نیٹ سے حاصل کی جاسکتی ہیں ، یہ تو ان بے ہودہ اور غلط  پروگراموں کی ہلکی سی جھلک ہے ، حقیقتاً ایسے بہت سے پروگرام انٹر نیٹ پر کمپیوٹر کے ذریعہ دستیاب ہیں جنہیں دیکھ کر شرافت آنکھیں بند کر لیتی ہے ۔ ماں باپ اور سر پرست پوری احساس ذمہ داری کے باوجود اپنی نسل کو اس طرح کے فواحش سے روکنے میں بہت کامیاب نہیں ، بالخصوص پڑھا لکھا طبقہ ان کے یہاں اگر بچوں کو انٹر نیٹ کے استعمال سے روکا جائے تو معلومات کے ایک اہم ذریعہ سے وہ محروم رہیں ، اگر اپنے گھر انٹر نیٹ رکھیں تو ان کی  نگرانی کیسے کی جائے گی ؟ انٹر نیٹ کےا ستعمال کنندگان جانتے ہیں کہ انٹرنیٹ نے دنیا کو ایک گاؤں کی شکل دے رکھی ہے ، یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جس سے کروڑہا افراد بیک وقت مربوط اور ایک دوسرے کے خیالات اور سہولتوں سے استفادہ کر سکتے ہیں یہاں ہر اہم عملی چیز آپ کو مل ئے گی۔ اس کی معلومات ، عارف اور توضیحات بس ایک کلک کی محتاج ہیں دنیوی میدان کی بہت کم چیزیں ایسی ہیں جو انٹر نیٹ پر دستیاب نہ ہوں ، معلومات کے حصول کی اتنی بڑی سہولت سے اگر آپ ان کو روکنا چاہیں تو یہ مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے اور حصول تعلیم کے ذرائع سے روکنےکا الزام بھی آپ کے سر لگا دیا جائے گا ، یہ بھی ا پنی جگہ مسلم ہے کہ دین محض نماز ، روزے اور دیگر عبادات ہی کا نام نہیں بلکہ زندگی کے ہر عمل اور ہر حرکت کیلئے دین اسلام میں رہنمائی موجود ہے اور بحثیت مسلمان ہمیں ان کا اتباع بھی لازم ہے ، لہذا اس تعلق سے اعتدال کی راہ یہ ہے کہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوئے اس کا استعمال ہو اور اس کے برے اثرات سے بچنے کیلئے احیتاطی تدابیر اختیار کی جائیں ، آپ کو یہ جان کر یقیناً  حیرت ہو گی اور آپ مسرور بھی ہوں گے کہ انٹرنیٹ کے مختلف پروگرام چلانے کیلئے جہاں بہت سے سافٹ وئیر ہیں وہیں چند ایک پروگراموں اور Sites based sex کو  Block  بند کرنے کیلئے بھی چند ایک سافٹ وئیر موجود ہیں ، اگر آپ کے نیٹ رفراہم کرنے والے مخصوص اور غیر شرعی ویب سائٹس کو بند کرنے کی کوئی سہولت نہ دیں تو آپ مندرجہ ذیل سافٹ وئیر کی مدد سے جو مارکیٹ میں دستیاب بھی ہیں ، نامناسب ،غیر اخلاقی ، فحش اور اسلام مخالف ویب سائٹس کو بند کر سکتے ہیں ، ان سافٹ وئیرز کے نام حسب ذیل ہیں  Nanny Net, Petrol Cyber, Security Internet Norton Sitter, Cyber,  ان سافٹ وئیرز کو اپنے کمپیوٹر پر انسٹال کریں اس کے بعد ان کی  Settings کریں ، یہ فحش ویب سائٹس کو بلاک کر دیتے ہیں ۔ دراصل یہ سافٹ وئیرز بھی غیر اسلامی ویب سائٹس کو بنیادی طور پر بند نہیں کرتے لیکن ان میں ایسے آپشنز ہوتے ہیں جن کی مدد سے آپ کسی بھی غیر شرعی اور فحش ویب سائٹ کو بند اور بلاک کر سکتے ہیں  ۔ ان سافٹ وئیرز کی سیٹنگ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ، سافٹ وئیر کی مدد سے فحش اور غیر اسلامی لٹریچر سے بچنے کا یہ طریقہ ان حضرات کے لئے تھا جہاں حکومت اور نیٹ فراہم کرنے والے ادارے اس طرح کی ویب سائٹس کو بلاک کرنے کی کوئی سہولت اپنے صارفین کیلئے فراہم نہ کئے ہوں ان کے بالمقال ترقی یافتہ ممالک میں اقامت پزیر لوگوں کیلئے یہ مسئلہ آسان ہے وہ اس طور پر کہ ان ممالک کے لوگ جب انٹر نیٹ کا کنکشن خریدیں تو اس وقت اس کمپنی سے جس سے انٹر نیٹ خرید رہے ہیں یہ کہیں کہ ہمیں کنٹرول چاہیے ۔ یا اگر انٹر نیٹ خرید تے وقت کمپنی کوئی فارم پر کروالے تو اس میں کنٹرول پر ٹک لگا دیں۔ اس طریقہ پر جب آپ اس انٹر نیٹ فراہم کرنے والی کمپنی کے صارف بنیں گے تو آپ کے گھر استعمال ہونے والے کمپیوٹر پر فحش مواد پر مبنی ویب سائٹس نہیں کھلیں گی ۔ انٹر نیٹ کی مضرتوں سے بچنے کیلئے مذکورہ بالا طریقوں کو اختیار کرنا اور اپنے گھر والوں کے ایمانی ، اسلامی ، اخلاقی اور تہذیبی اقدار کے تحفظ کیلئے ان کی مسلسل نگرانی نا گزیر ہے ورنہ انٹر نیٹ سے ضرر رساں تعلق قائم کرتے ہوئے آپ یہ بھی ضرور سوچ لیں کہ آپ اپنے گھر والوں کے مذہب ، تہذیب اور اخلاق کی تباہی کے ذمہ دار بھی ہیں ، آپکی بچی کسی اجنبی سے بات کرے تو کیا آپ بے تعلق رہ سکتے ہیں ؟ آپ کا بچہ گلیوں میں نکل کر اجنبیوں سے راہ رسم بڑھائے تو کیا آپ خاموش رہ سکتے ہیں ؟ یقیناً نہیں ۔ لیکن یقین کریں کہ انٹر نیٹ پر گھر بیٹھے یہی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں ، شیطان اور اس کے پیرو کار گھروں میں گھس کر ہمیں تباہ کر رہے ہیں اور ہماری نسلوں کو بے حیائی اور بدچلنی پر انگیختہ کر رہے ہیں ۔اس ٹیکنالوجی سے اور اس پر موجود علمی مواد سے فائدہ اٹھانے کے وقت یہ بات ضرور سامنے رہنی چاہیے کہ اس کے فاسد اور نقصانات سے کس طرح بچا جا سکتا ہے ۔


 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر17

Monday, September 14, 2015

Wazifa for Disobedient son and daughter


نافرمان اور نشے باز جوان بیٹا :۔

میرا نوجوا ن بیٹا جو عرصہ سے آوارہ لوگوں کے ماحول میں داخل ہو گیا ہے چرس پیتا ہے رات کو گھر دیر سے آتا ہے گھر آ کر بھی نشہ کرتا ہے صبح دیر تک سویا رہتا ہے ، لڑائی جھگڑا غلیظ گالیاں نکالتا ہے اس کی بد بختی کی وجہ سے اس کی والدہ دل کی مریضہ بن چکی ہے کوئی کام نہیں کرتا ۔
 جواب :۔ محترمہ ! آپ درج ذیل وظیفہ دی گئی ترتیب کے مطابق کچھ عرصہ مستقل مزاجی سے پڑھیں انشاءاللہ آپ کا بیٹا بہت جلد راہ راست پر آ جائے گا ۔"یا ممیت ، یا قابض، یا مانع، یا صبور" ہر نماز کے بعد ایک تسبیح پڑھ کر اولاد کی تربیت کیلئے اللہ پاک سے دعا کریں ۔

 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر13

Wednesday, August 19, 2015

اولاد کی اسلامی تربیت نہ کرنے کا بھیانک انجام

اولاد کی اسلامی تربیت نہ کرنے کا بھیانک انجام :


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم !میں عبقری رسالہ بڑے شوق سے پڑھتاہوں ، عبقری رسالہ میرے غموں کا مداوا ہے ، میں ہر ماہ بڑی بےچینی سے اس کا انتظار کرتا ہوں ۔ عبقری رسالے سے لے کر بہت سے نسخہ جات میں نے  لوگوں کو استعمال کروائے جس سے سینکڑوں نہیں ہزاروں مریض صحت یاب ہوئے۔ اللہ پاک آپ کو اس کا اجر عطا کرے گا ، اللہ پاک آپ کو ایمان والی زندگی عطا کرے آپ سدا اسی طرح مخلوق خدا کی خدمت کرتے رہیں ۔ اور یونہی ہم سب آپ کو دعاؤں سے نوازتے رہیں  محترم حضرت حکیم صاحب! آج میں قارئین ! کو اپنی آپ بیتی سنانا چاہتا ہوں اور ان سے چند باتیں کرنا چاہتا ہوں ۔ میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں جو باتیں کرنے جا رہا ہوں کچھ بھی غلط بیانی نہیں کروں گا اور جو کچھ لکھوں گا سچ لکھوں گا کیونکہ سچ کو آنچ نہیں ، جھوٹ جھوٹ ہے اور سچ سچ ہے۔
محتر م قارئین! میرے 7 بچے ہیں ، چار بیٹے اور تین بیٹیاں ، میرے کاروباری حالات کبھی بھی یکساں نہیں رہے، زندگی میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے ۔ میں نے اپنے بچوں کی بہترین پرورش کی ، بہترین کھلایا ، بہترین پلایا ، بہترین سکول ، کالجز سے تعلیم دلوائی ۔ میں نے اپنے بچوں کو اس قابل بنایا کے وہ ملک کے بہترین اداروں میں نوکری کے فرائض انجام دے سکیں ۔ میرے دو بیٹے انگلینڈ میں ویل سیٹل ہیں ۔ ماہانہ ٹھیک ٹھاک آمدن ہے ، دو بیٹے پاکستان میں گورنمنٹ جاب کر رہے ہیں اور ان کی بھی ٹھیک ٹھاک آمدن ہے ۔ دو بیٹیوں کی دھوم دھام سے میں نے شادی کی ۔ اپنا سب کچھ اپنی اولاد پر لٹا دیا ۔ مگر ! آج تک میرے بچوں نے مجھ سے سیدھے  منہ بات نہ کی، جو کمایا اپنی ماں کے ہاتھ پر رکھ دیا، میری بیوی نے بھی کبھی میرا ساتھ نہ دیا ۔ پچھلے سال میرا ایک بیٹا انگلینڈ سے واپس آیا ۔ ان دنوں میری طبیعت سخت خراب تھی ۔ میرے بیٹوں  اور میری بیوی سب نے مل کر مجھے گھرسے دھکے دے کر نکال دیا ۔ میں نے بچوں کو روتے اور ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ " میر قصور تو بتادو" میرا قصور کیا ہے؟ 
مگر بچوں اور ان کی ماں نے ایک نہ سنی ، جب مجھے مین دروازے سے باہر دھکا دیا گیا تو میں نے یہ الفاظ ضرور کہے کہ بیٹا آج اپنے بیمار باپ کو گھر سے نکال رہے ہو تو کل کو تمہاری اولاد بھی تم کو اسی طرح نکالے گی ، قدرت کا نظام ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گئے۔، جو بوؤ گے وہی کاٹو گے۔ مگر میرے دوسرے بیٹے نے چلا کر کہا " کل جو ہو گا سو ہو گا " وہ بھی ہم دیکھ لیں گے تو فی الحال یہاں سےنکل ۔ پچھلے سال سے میں اپنے غریب بوڑھے والدین کے گھر میں رہ رہا ہوں میری خود کی عمر 52 سال ہے ۔ میری دو بیٹیوں کی شادی ہو چکی ہے جو کہ بیرون ملک ہیں ، کبھی انہوں نے باپ کا آج تک فون کر کے حال نہیں پوچھا ، میں خود رابطہ کر لوں تو بھی سیدھے منہ بات نہیں کرتیں ۔ میری بیوی نے ایک بیٹے کی شادی کی مگر مجھے بلانا تو بڑی دور کی بات پوچھا تک نہیں ۔ میں اپنے بیوی بچوں اور معاشرے سے پوچھنا چاہتا ہوں آخر میرا قصور کیا ہے؟  بچوں نے آج تک جو منہ سے بات نکالی میں نے پوری کی، حلال کمایا اور حلال ہی کھلایا ۔ کیا اولاد ایسی ہوتی ہے ؟ شاید یہ میرے کسی گناہ کی مجھے سزا مل رہی ہے ، ہاں ! ایک غم مجھے اندر سے کھائے جارہا ہے کہ میں نے اپنے بچوں کو دنیا کی ڈگری تو دلادی اے کاش ! میں ان کو آخرت کی ڈگری بھی دلا دیتا اے کاش! میں اپنے بچوں کو دین بھی سکھا دیتا ۔ میری قارئین! سے گزارش ہے کہ میرے لئے دعا کریں کہ مجھے کسی طرح سکون مل جائے ، میرے بچے مجھے واپس مل جائیں ۔ محترم حضرت حکیم صاحب! میرا یہ پیغام عبقری کے قارئین ! تک پہنچا دیں کہ اپنے بچوں کو دنیاوی ڈگری کے ساتھ ساتھ آخرت کی ڈگری بھی ضرور دلائیں ایسا نہ ہو کہ کہیں میری طرح بڑھاپے میں در در کی ٹھوکریں کھاتے رہیں ۔ ابھی بھی وقت ہے سوچ لیں !۔
 ماہنامہ عبقری "اگست 2015ء شمارہ نمبر 110" صفحہ نمبر32