Tuesday, August 30, 2016

اپنے پھولوں کو جنسی تشدد سے بچائیں


خاموشی اس جرم کو مزید پھیلا رہی ہے یہاں پر والدین کے کردار کو زیر بحث کیوں نہیں لایا جاتا ؟ کیا ماں باپ اور خاندان کے دیگر لوگوں کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت یقینی بنائیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ بچے بازاروں
اور گلیوں کا رخ اکیلے نہ کریں۔
 یہ خط لکھنے کا مقصد ایک اہم‘ دردناک اور شرمناک نکتہ کی طرف معاشرہ کی توجہ دلانا ہے۔ شاید بہت سے لوگوں کو یہ تحریر بُری لگے مگر یہ نقطہ ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلا ہوا ہے جس سے ہرکوئی آنکھیں چرا رہا ہے۔ میں اس موضوع پر لکھنے سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے اس کا خیال کیسے آیا؟
 دراصل ایک انٹرنیشنل میگزین پڑھا جو معاشرتی برائیوں کا پردہ فاش کرتا ہے‘ اس میں ایک موضوع تھا ۔
۔’’بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی‘‘۔۔
 اس ادارے نے ریسرچ کی کہ زیادتی کے واقعات میں 53 فیصد بچے متاثر ہیں۔ یہ کہانی میری بھی ہے کہ میرا وہ معصوم بچپن کہ جب گناہ تو کیا گمان گناہ بھی نہیں ہوتا۔ میں اُس وقت اس چیز کا شکار ہوا‘ مجھے تھوڑا بہت یاد ہے جب میں صرف چھ یا سات سال کا تھا‘ ہمارے گاؤں کے عزیز ہمارے گھر شہر روزگار کیلئے آئے تو ہمارے گھر کچھ دن ٹھہرے تو اس ’’درندے‘‘ نے میرے ساتھ پہلی بار یہ ’’فعل‘‘ کیا۔ میری معصومیت کے ساتھ کھیلا‘ پھر محلے کے کسی لڑکے نے میرے ساتھ ایسا کیا۔ جب تھوڑا بڑا ہوا تو اپنے ماں باپ کو بھی نہ بتاسکا۔ میری معصومیت اور ڈر کے اپنے کزنوں کو بھی نہ بتایا کہ میری ہی عزت لٹے گی۔ پھر ایک محلے کے ایک قریبی معزز شخص نے زبردستی میرے ساتھ ’’یہ‘‘ کیا۔ پھر مجھے اس فعل بد کی لت پڑ گئی ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب پتہ ہی نہیں کہ ہم کیا کررہے ہیں۔ جب بالغ ہوا تو احساس ہوا یہ تو غلط کام ہے۔

 محترم قارئین! یہ کہانی تو صرف میری ہے‘ جس کا معصوم بچپن خراب ہوا‘ مجھ جیسی نامعلوم کتنی کہانیاں ہر محلے میں ہوں گی۔ میری کہانی تو 90ء کی دہائی کی ہے کہ اس وقت پھر بھی کچھ شرم و حیاء معاشرے میں باقی تھا اب جب انٹرنیٹ‘ موبائل ہر گھر ہر فرد کے ہاتھ میں ہے اور غلاظت کتنی عام ہے۔ قارئین! خبریں میں بہت کم دیکھتا اور پڑھتا ہوں لیکن کبھی کبھار ایسی خبر جب پڑھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں چلا جاؤں‘ یا اس شخص کو جاکر ماردوں۔ قارئین! ہمارے معاشرے میں ہمارے معصوم پھول دونوں (بچے بچیاں) اس غلیظ فعل کاشکار ہوتے ہیں۔ محترم قارئین! ہمیں اپنے پھولوں کی حفاظت کرنا ہوگی‘ ہمارے بچے جب پانچ یا چھ سال کے ہوتے ہیں‘ باہر کھیلنے بھی جاتے ہیں‘ سکول بھی جاتے ہیں‘ کسی عزیز کے گھر بھی رہنے جاتے ہیں یا کوئی عزیز رہنے بھی آیا یا پھر کوئی ٹیوشن پڑھانے بھی آتا ہے‘ ایسے حالات میں جب ماں باپ قریب نہ ہوں اور کسی پر حد سے زیادہ اعتماد کریں تو وہ خود معصوم کلی یا پھول خود کی کیسے حفاظت کرے؟ کیونکہ وہ تو معصوم ہے‘ اگر کوئی اسے ایسی ’’جگہوں‘‘ پر ہاتھ بھی لگائے تو اسے سمجھ نہیں آئے گی کہ میرے ساتھ کچھ غلط ہورہا ہے۔

 والدین کیلئے احتیاطی تدابیر:۔

 ایک ریسرچ کے مطابق پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے جنسی تشدد کا شکار ہو جاتا ہے ۔والدین اپنے بچوں کو آگاہی سے محروم رکھتے ہیں یہی خاموشی اس جرم کو مزید پھیلا رہی ہے یہاں پر والدین کے کردار کو زیر بحث کیوں نہیں لایا جاتا ؟ کیا ماں باپ اور خاندان کے دیگر لوگوں کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت یقینی بنائیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ بچے بازاروں اور گلیوں کا رخ اکیلے نہ کریں۔زیادہ تر واقعات تب رونما ہوتے ہیں جب بچے اکیلے گھر سے با ہر جائیں یا پھر گھر میں اکیلے ملازمین یا کسی رشتہ دار کے ساتھ ہوں اور ماں با پ یا بڑے بہن بھائی ان کے قریب نہ ہوں۔ اگر کسی بچے کو جسمانی تشدد یا زیادتی کا نشانہ بنایا جائے ،اس کو فحاشی پر مبنی مواد دکھایا جائے،اس کے جسم کو ہاتھ لگایا جائے یہ سب استحصال کے زمرے میں آتا ہے۔اس استحصال سے بچے کو بچانے کے لیے والدین،بڑے بہن بھائیوں اور اساتذہ کا کردار قابل ذکر ہے۔اگر یہ سب مل کر بچوں کو اپنی جسمانی حفاظت کے حوالے سے مکمل آگاہی دیں تو بہت سے واقعات رونما ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائیں۔بچے جنسی زیادتی کا شکار صرف گھر سے باہر نہیں گھر میں بھی ہوسکتے ہیں۔ ان کو آگاہی دینا ضروری ہے کہ وہ کسی بھی ملازم یا رشتہ دار کے کمرے میں جانے اور اکیلا ساتھ جانے سے گریز کریں۔ والدین دیگر لوگوں کو منع کریں کہ وہ ان کےبچوں کو بلاوجہ گود میں نہ لیں اور پیار نہ کریں،بچوں کو یہ بتایا جائے اگر انہیں کوئی ہاتھ لگائے،ڈرائے دھمکائے تو خوف زدہ نہ ہوں بلکہ فوراً والدین کو اس بات سے آگاہ کریں۔ جب کوئی سینے پر‘ ٹانگوں کے درمیان اور آپ کی پشت پر کوئی غیر بندہ چاہے وہ آپ کا رشتہ دار کیوں نہ ہو ہاتھ لگائے تو زور سے چیخنا ہے اور وہاں سے بھاگ کر کسی حفاظت کی جگہ پر پہنچنا ہے‘ اس کےعلاوہ اگر کوئی ضرورت سے زیادہ منہ پر ہاتھ پھیرے یا ضرورت سے زیادہ چومے تو سمجھ جائیں یہ غلط کررہا ہے اور اپنے اعتماد مندانہ ماں، باپ، بڑے بھائی یا بہن کو بتائیں۔ والدین اور اساتذہ کوسب سے پہلے تین سے آٹھ سال کے بچوں کو بہت پیار سے اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے ۔ ان کو یہ بات بہت پیار سے باور کروائی جائے کہ کسی سے کوئی چیز لے کر نہیں کھانی ہے کیونکہ بہت سے واقعات کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے جب کوئی ملازمین،رشتہ داروں یا خوانچہ فروشوں میں بچے کو مفت میں کوئی چیز دے کر بچے کا اعتماد حاصل کرتا ہے اور بعد میں انہیں ’’نقصان‘‘ پہنچاتا ہے۔اس لیے بچے کو یہ بات بتائی جائے کہ گھر کے افرادکے علاوہ کسی سے کوئی چیز نہ لیں۔اس عمر کے بچوں کو گھریلو ملازمین سے بھی دور رکھیں اور اپنی نگرانی میں ہی اسکول سے لیں،ٹیوشن یا قرآن پڑھاتے وقت بھی اپنے بچوں کو ایسے کمرے میں اساتذہ کے ساتھ بٹھائیں جہاں سے آپ ان پر نظر رکھ سکیں ،اس عمر کے بچوں کو ہرگز بھی کمرے میں اکیلا نہ چھوڑیں۔ اگر والدین خود مصروف ہیں تو دادا دادی یا نانا نانی اس سلسلے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔نو سے بارہ سال کے عمر کے بچے تھوڑا بہت اپنا خیال رکھ سکتے ہیں ان کو ایسا آسان زبان میں لکھا مواد پڑھنے کے لیے دیں کہ وہ اپنی حفاظت یقینی بنائیں والدین بچوں سے دوستانہ روابط رکھیں اور ان کو کہیں کہ اگر کوئی بھی فرد ان کو برے ارادے سے ہاتھ لگائے، چھپ کر ہاتھ لگائےیا ڈرانے کی کوشش کرے تو فوراً یہ بات والدین کو بتائیں۔اساتذہ بچوں کے بہت اچھے دوست ہوتے ہیں‘ انہیں بھی یہ خیال رکھنا چاہیے کہ بچوں کے کیا مسائل ہیں‘ کہیں کوئی بچوں کو تنگ تو نہیں کررہا، گپ شپ کرتے ہوئے اساتذہ بچوں سے ان کے مسائل اور اس کےحل پر ضرور بات کریں۔جہاں تک کوشش ہو ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کا خیال رکھیں اور گلیوں میں بے جا پھرنے پر پابندی لگائیں۔ بہت سے ماں باپ لاپرواہی برتتے ہیں، خود ٹی وی لگا کر اپنی جان چھڑانے کے لیے بچوں کو گلی میں نکال دیتے ہیں۔ ایسا بالکل مت کریں بہت سے خوانچہ فروش،چرسی اور جرائم پیشہ صرف اسی تاک میں ہوتے ہیں کہ بچہ تھوڑا آگے سناٹے کی طرف جائےاور پھر یہ اس کو بہلا پھسلا کر اپنے ٹھکانے پر لے جائیں۔جنسی تشدد صرف غریبوں کا مسئلہ نہیں ہے بچہ چاہے امیروں کا ہو یا متوسط طبقے کا بھی ہو والدین کی غفلت سے وہ بھی تشدد کا شکار ہوسکتا ہے۔ یہ کام صرف ماں کا نہیں ہے بلکہ والدین اور خاندان کے لوگ مل کر ہی ایسے انجام دے سکتے ہیں اور بچوں کو حفاظت ممکن بنا سکتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں بلوغت، جنسی تبدیلیوں اور سیکس کو ایک ایسا شجرہ ممنوعہ بنا دیا گیا کہ جس کے بارے میں بات ہی کرنا گناہ ہے اور اسی سکوت کے باعث پاکستانی بچے استحصال کا شکار ہو رہے ہیں۔ آگاہی ہی ایک ایسی طاقت ہے جو آج کل کے دور میں بچوں کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔
 

No comments:

Post a Comment