Monday, August 15, 2016

تیرے در کا جو فقیر،وہی دو جہاں کا امیر


برکت کی راہیں:۔
حلال کے اندر برکت ہے۔ حرام کے اندر کثرت ہے ،کبھی برکت نہیں ہے۔ اپنی نسلوں کو برکت دو !کبھی گھاٹے کا سودے نہ کر بیٹھنا!اپنی نسلوں کو برکت دو اور سارا دن برکت سمیٹو اور برکت کے ذرائع اختیار کرو ۔کوشش کریں کہ ہم برکت کی راہیں اختیار کریں! برکت کے راستے اختیار کریں‘ اللہ جل شانہٗ کوشش کرنے والے کو ضرور عطا فرماتے ہیں ۔اگر مجاہدہ آتا ہے قربانی آتی ہے توصحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بھی قربانیاں دی ہیں‘ انہوں نے بڑے مجاہدے کیے ۔میرا کریم جب برکتوں کے دروازے کھولتا ہے تو پھر اللہ پاک نے ان کے گھروں کو مالا مال کر دیا، پھر زکوٰۃ کی آوازیں دینے والا ہر کوئی ہوتا تھا، زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں ہوتا تھا۔ سارے زکوٰۃدینے والے ہوتے تھے ۔ صاحب تحقیق عالم دین سے زکوۃ کے بارے میں جانیں: زکوٰۃ تو اس پر ہوتی ہے جو صاحب نصاب بن جائے ۔ایک صاحب جو پوچھ رہے تھے



’’ میری یہ چیز یں ہیں‘کیا میں صاحب نصاب ہوں؟میں نے کہا :کسی عالم سے پوچھو اور عالم بھی ایسا ہو جو صاحب تحقیق بھی ہو ۔ کن کن چیز وںپر مجھے زکوٰۃدینی چاہیے؟کہاں زکوۃ دینی چاہیے؟یہ سب کسی صاحب تحقیق عالم سے پوچھیں۔گھاٹے کا سودا نہ کربیٹھنا: اللہ والو! اللہ پاک نے ہمیںزندگی کا موقع دیا ہے۔ یہ چند لمحے، چند گھڑیاںدی ہیں ۔اپنی من کی دنیا میں خالق حقیقی کو بسا لو۔کافر کی زندگی من کی دنیا میں گزر گئی، مسلمان کی زندگی بھی من کی دنیا میں گزر گئی یہ تو گھاٹے کا سودا ہے ۔گھاٹے کا سودا نہ کر بیٹھنا ۔خیال کرنا!جو کپڑا بچھا دے اس کو زکوٰۃ دینا شروع کر دی ایسا نہ کریں، علماء سے پوچھ لیا کرو۔ مجھے ایک بندہ کہنے لگا کہ’’ زکوٰۃ بھی پوری دیتا ہوںمگر پھر بھی نقصان ہوتا ہے ۔‘‘میں نے اس سے کہا تو زکوٰۃ غلط جگہ پر دیتا ہوگا۔اس طرح تودرحقیقت تو دیتا ہی نہیں ہے۔ علماء سے پوچھو کہ زکوٰۃ کہاں لگتی ہے؟ فطرانہ کہاں لگتا ہے ؟صدقہ کہاں لگتاہے ؟۔ عبقری ٹرسٹ کا نظام اللہ تعالیٰ چلارہاہے:میں نے آج تک آپ سے عبقری ٹرسٹ کیلئے نہ زکوٰۃ کا سوال کیا اورنہ صدقات کا سوال کیا، میں توآپ سے یہ کہتا ہوں کہ علماء سے پوچھو کہ زکوۃ صدقات کہاں ادا کریں۔اللہ نے مجھے سوال سے بچایا ہوا ہے۔ عبقری ٹرسٹ کانظام اللہ پاک ہی چلا رہا ہے۔اللہ والو!اپنی زندگی میں حلال کو اختیارکرو اور حلال کی تحقیق کرو ۔اللہ والو! اللہ سے مانگنا سیکھیں۔ مانگتے مانگتے ہی بندہ منگتا بنتا ہے ،پھر بھکاری بن جاتا ہے۔ کتنا خوش قسمت ہے جو کملی والےﷺ کے در کا بھکاری ہو۔ ’’تیرے در کا جو بھی فقیر ہے،وہی دو جہاں کا امیر ہے‘‘ مانگتے مانگتے ،مانگنے کا سلیقہ آجائیگا!:کالج کے دن‘ صبح صبح کالج جانا ہوتا تھا۔ مجھے بس میں سیٹ نہ ملی۔ آگے ٹاپے پر جگہ مل گئی۔ سخت سردی تھی اوربہت سے سٹوڈنٹ ایسے تھے جوچھتوں پر بیٹھے ہوئے تھے ۔میں نے تو سورۃ القریش پڑھی تھی تواللہ نے کرم کر دیاتھا۔ وہ بس بڑی تیز رفتار ی سے جارہی تھی۔ہماری سڑکوں پر ٹریفک ایسے ہی بے ہنگم سی ہوتی ہے۔ میری نظرسوئی پر تھی، جوبڑی تیز ی سے حرکت کر رہی تھی۔ میں نے ڈرائیور سے پوچھا ’’ایسے تیز رفتاری سے چلانا کہاں سے سیکھا ؟مجھے کہنے لگا ’’چلاتے چلاتے طریقہ آگیا ہے۔‘‘ اللہ والو!ہمیںبھی اللہ سے مانگتے مانگتے ،مانگنے کاسلیقہ آ جائے گا۔تو مانگ تو سہی ،کریم تو مائل بہ عطا ہے: میں ایک دفعہ نعت سن رہا تھا میرے ذہن میں فوراً آیاکہ’’ تو تنگی داماں میں نہ جا،مانگ کچھ اور مانگ‘‘ ہائے! آج وہ مائل بہ عطاہیں۔میں سوچنے لگا واقعی میں تنگی داماں پر تونہیں مانگتا ہوں ،وہ کریم تو مائل بہ عطا ہیں تو مانگنے کی مشق کریں‘ مانگنا سیکھیں ‘آج کا سبق کتنا دلچسپ ہے ۔اور یہ مانگنا ناممکن بھی نہیں ۔ یہ مانگنا مشکل اور ناممکن نہیں:میرے دوستو! اس کیلئے کوئی احرام باندھنے کی ضرورت نہیں۔ اس کیلئے کالج میں داخلہ لینے کی ضرورت نہیں۔ اس کیلئے قرآن کا حافظ ،قاری یا عالم ہونا ضروری نہیں۔ اس کیلئے پی ایچ ڈی ڈگری، ایم ایس سی لینی ضروری نہیں۔ اس کیلئے عام سا آدمی بلکہ کیا بتائوں کہ اگر کوئی کافر بھی اللہ سے باتیں شروع کر دے۔ تو اللہ اس کو بھی عطا کر دے۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ مظلوم اگرچہ کافر کیوں نہ ہو اللہ اس کی مدد کو ضرور پہنچتا ہے ۔ پورے عالم کی خیر خواہی کا جذبہ دل طمیں ہو: ہمارے دل میں یہ جذبہ ہوکہ اللہ دنیا کے جتنے بھی غیر مسلم ہیں‘ جتنے بھی کافر ہیں ان کو اپنی ذات سے باتیں کرنے والا بنا دے۔ ان کو اپنی ذات سے ملنے والا بنا دے۔ ان کے من کے اندر بھی اپنی ذات کی محبت عطا کر دے۔ اپنے حبیب سرور کونینﷺ کا عشق عطا کر دے ۔اے اللہ کوئی کافر ایسا نہ مرے، جو تیرے آقا تیرے حبیب سرور کونین ﷺکی غلامی کے بغیر ہو ،اللہ اس کو غلامی عطا کر دے۔ ہمارے من میں تو ملک کے صدراور وزیراعظم کے بارے میں بھی یہی جذبہ ہو،ان کیلئے نفرت نہ ہو اللہ والو! فوج کے بارے میں پولیس کے بارے میں یہی جذبہ ہو۔ارے ہندوسے نفرت کیوں ہے؟ وہ بھی تو میرے آقا سرور کونین ﷺکا امتی ہے ،عیسائی بھی امتی ہے ، یہودی بھی امتی ہے اورآگ کی پرستش کرنے والا بھی میرے آقاﷺکا امتی ہے۔(اللہ اپنے فضل سے ان کو ہدایت نصیب کردے) ہمارے من میں کسی کے بارے میں نفرت نہ ہو ۔کسی حکمران کو گالی نہ دیں۔ ان کے لیے دعا کریں ۔دل سے دعا کریں۔ دعا اور دل سے خیر خواہی کا سچا جذبہ ہو۔ اے اللہ اس شخص کیلئے جس کو تو نے صدر، وزیراعظم ،وزیر یا وزیراعلیٰ بنا دیا، فلاں افسر یا ڈائریکٹر بنا دیا، دنیا میں اس کی آنکھ کے اشارے پر گاڑیاں بھاگ رہی ہیں، اے اللہ!اس کا اقتدار تو مختصر ہے ۔اے اللہ!اس کو سچا اور پکا اقتدار دے دے۔اے اللہ! اس کو ایسا اقتدار دے کہ یہ دنیا کا امیر اورآخرت کا غریب نہ ہو۔ ہمارے دل میں تو ہرایک کیلئے سچی خیر خواہی کا جذبہ ہو۔ (جاری ہے) -

No comments:

Post a Comment