Showing posts with label اعمال صالحہ. Show all posts
Showing posts with label اعمال صالحہ. Show all posts

Monday, December 11, 2017

یا قادر یا رافع کی برکت


عمل

 کی برکت ہے‘ صبح و شام پڑھ رہی ہوں۔بہت سکون ہے‘ مسائل حل ہوئے‘ بہن بھائیوں کے ساتھ تعلقات اچھے ہوئے‘بندشیں ٹوٹیں۔ اللہ آپ کو مزید نوازے اور آپ اسی طرح لوگوں کے مسائل حل کرتے رہیں۔

Monday, November 14, 2016

’’شکریہ‘‘ کو صرف ایک لفظ نہ سمجھئے!


 
ماتحت تو شاید ہر بات پر افسر کو شکریہ کہہ دے لیکن افسر کسی ملازم کا شکریہ ادا کرنا اپنی توہین سمجھتا ہے۔ اسی طرح جب ہم کوئی چیز خریدیں تو لاشعوری طور پر گویا دکاندار پر احسان کرتے ہیں اور شکریہ ادا کرنا غیرضروری بلکہ غلط سمجھتے ہیں۔ ہمیں یہ اعتراف کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کہ تہذیبی و اخلاقی طور پر انسان ترقی کی بجائے تنزلی کا شکار ہورہا ہے۔ سائنس نے بہت ترقی کرلی‘ سائنسی ایجادات کا سیلاب آگیا‘ جدید طرز زندگی کے لوازمات بیشتر گھروں میں آگئے‘ لیکن زبان و بیان‘ شائستگی اورسلجھے ہوئے انداز و اطوار جو ہماری قدیم معاشرت کا لازمی جزو تھے‘ ناپید ہوگئے ہیں۔ مسلمانوں کی بیشتر اچھی عادات غیرمسلموں نے اپنالیں‘ انہی میں سے ایک اچھی عادت ’’شکریہ‘‘ کہنے کی بھی ہے۔ آپ اس خیال سے متفق ہوں گے کہ ہمارے ہاں یہ عادت بہت کم ہے کیونکہ ہم اپنے بچوں کو شکریہ کہنا کم ہی سکھاتے ہیں۔ اس کے برعکس آپ نے مغربی اقوام کو

Monday, August 15, 2016

تیرے در کا جو فقیر،وہی دو جہاں کا امیر


برکت کی راہیں:۔
حلال کے اندر برکت ہے۔ حرام کے اندر کثرت ہے ،کبھی برکت نہیں ہے۔ اپنی نسلوں کو برکت دو !کبھی گھاٹے کا سودے نہ کر بیٹھنا!اپنی نسلوں کو برکت دو اور سارا دن برکت سمیٹو اور برکت کے ذرائع اختیار کرو ۔کوشش کریں کہ ہم برکت کی راہیں اختیار کریں! برکت کے راستے اختیار کریں‘ اللہ جل شانہٗ کوشش کرنے والے کو ضرور عطا فرماتے ہیں ۔اگر مجاہدہ آتا ہے قربانی آتی ہے توصحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بھی قربانیاں دی ہیں‘ انہوں نے بڑے مجاہدے کیے ۔میرا کریم جب برکتوں کے دروازے کھولتا ہے تو پھر اللہ پاک نے ان کے گھروں کو مالا مال کر دیا، پھر زکوٰۃ کی آوازیں دینے والا ہر کوئی ہوتا تھا، زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں ہوتا تھا۔ سارے زکوٰۃدینے والے ہوتے تھے ۔ صاحب تحقیق عالم دین سے زکوۃ کے بارے میں جانیں: زکوٰۃ تو اس پر ہوتی ہے جو صاحب نصاب بن جائے ۔ایک صاحب جو پوچھ رہے تھے

Tuesday, February 23, 2016

اللہ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے


عاشق رسولؐ کی چادر نے آتش فشاں ٹھنڈا کردیا

 جب میں نے بارگاہ رسالت میں عجیب کرامت کا تذکرہ کیا تو حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے ابوذر اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے بھی ہیں جو زمین میں سیر کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کی بھی ڈیوٹی فرمادی ہے کہ وہ میری آل کی امدادو اعانت کرتے رہیں۔کھانے میں عظیم برکت: حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ بارگاہ رسالت کے تین مہمانوں کو اپنے گھر لائے اور خود حضور اکرم ﷺ کی خدت اقدس میں حاضر ہوگئے اور گفتگو میں مصروف رہے یہاں تک کہ رات کا کھانا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے دسترخوان نبوتﷺ پر کھالیا اور بہت زیادہ دیر گزر جانے کے بعد مکان پر واپس تشریف لائے۔ ان کی بیوی نے عرض کیا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنے گھر پر مہمانوں کو بلا کر کہاں غائب رہے؟

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا کہ کیا اب تک تم نے مہمانوں کو کھانا نہیں کھلایا؟ بیوی صاحبہ نے کہا کہ میں نے کھانا پیش کیا مگر ان لوگوں نے صاحب خانہ کی غیرموجودگی میں کھانا کھانے سے انکار کردیا۔ یہ سن کر آپ اپنے صاحبزادے حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ پر بہت زیادہ خفا ہوئے اور وہ خوف و دہشت کی وجہ سے چھپ گئے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کےسامنے نہیں آئے پھر جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا غصہ فرو ہوگیا تو آپ مہمانوں کے ساتھ کھانے کیلئے بیٹھ گئے اور سب مہمانوں نے خوب شکم سیر ہوکر کھانا کھالیا۔ ان مہمانوں کا بیان ہے کہ جب ہم کھانےکے برتن میں سے لقمہ اٹھاتے تھے تو جتنا کھانا ہاتھ میں آتا تھا اس سے کہیں زیادہ کھانا برتن میں نیچے سے ابھر کر بڑھ جاتا تھا اور جب ہم کھانے سے فارغ ہوئے تو کھانا بجائے کم ہونے کے برتن میں پہلے سے زیادہ ہوگیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے متعجب ہوکر اپنی بیوی صاحبہ سے فرمایا کہ یہ کیا معاملہ ہے کہ برتن میں کھانا پہلے سے کچھ زائد نظر آتا ہے۔ بیوی صاحبہ نے قسم کھا کر کہا واقعی یہ کھانا تو پہلے سے تین گنا بڑھ گیا ہے پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اس کھانے کو اٹھا کر بارگاہ رسالت ﷺ میں لے گئے جب صبح ہوئی تو ناگہاں مہمانوں کا ایک قافلہ دربار رسالت ﷺ میں اترا جس میں بارہ قبیلوں کے بارہ سردار تھے اور ہر سردار کے ساتھ بہت سے دوسرے شتر سوار بھی تھے۔ ان سب لوگوں نے یہی کھانا کھایا اور قافلہ کے تمام سردار اور تمام مہمانوں کا گروہ اس کھانے کو شکم سیر کھاکر آسودہ ہوگیا لیکن پھر بھی اس برتن میں کھانا ختم نہیں ہوا۔ (بخاری شریف ج1 ص506 مختصراً) فرشتوں نے چکی چلائی: حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا بیان ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے مجھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو بلانے کیلئے ان کے مکان پر بھیجا تو میں نے وہاں یہ دیکھا کہ ان کےگھر میں چکی بغیر کسی چلانے والے کے خودبخود چل رہی ہے جب میں نے بارگاہ رسالت میں عجیب کرامت کا تذکرہ کیا تو حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے ابوذر اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے بھی ہیں جو زمین میں سیر کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کی بھی ڈیوٹی فرمادی ہے کہ وہ میری آل کی امدادو اعانت کرتے رہیں۔ (ازالۃ الخفاء مقصد 2 ص273) قبر والوں سے گفتگو:امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ایک مرتبہ ایک نوجوان صالح کی قبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اے فلاں! اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ولمن خاف مقام ربہ جنتان (یعنی جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈر گیا اس کیلئے دو جنتیں ہیں) اے نوجوان! بتا تیرا قبر میں کیا حال ہے؟ اس نوجوان صالح نے قبر کے اندر سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نام لے کر پکارا اور بآواز بلند دو مرتبہ جواب دیا کہ میرے رب نے یہ دونوں جنتیں مجھے عطا فرمادی ہیں۔(حجۃ اللہ علی العالمین ج2 ص860 بحوالہ حاکم) مدینہ کی آواز نہاوند تک: امیرالمومنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بنا کر نہاوند کی سر زمین میں جہاد کیلئے روانہ فرمادیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ جہاد میں مصروف تھے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے مسجد نبوی ﷺ کے منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ناگہاں یہ ارشاد فرمایا کہ یاساریۃ الجبل (یعنی اے ساریہ! پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو) حاضرین مسجد حیران رہ گئے کہ حضرت ساریہ تو سرزمین نہاوند میں مصروف جہاد ہیں اور مدینہ منورہ سے سینکڑوں میل کی دوری پر ہیں۔ آج امیرالمومنین نے انہیں کیونکر اور کیسے پکارا؟ لیکن نہاوند سے جب حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا قاصد آیا تو اس نے یہ خبر دی کہ میدان جنگ میں جب کفار سے مقابلہ ہوا تو ہم کو شکست ہونے لگی۔ اتنے میں ناگہاں ایک چیخنے والے کی آواز آئی جو چلا چلا کر یہ کہہ رہا تھا کہ اے ساریہ! تم پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو۔ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا کہ یہ تو امیرالمومنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی آواز ہے۔ یہ کہا اور فوراً ہی انہوں نے اپنے لشکر کو پہاڑ کی طرف پشت کرکے صف بندی کا حکم دیا اور اس کے بعد جو ہمارے لشکر کی کفار سے ٹکر ہوئی تو اچانک جنگ کا پانسہ ہی پلٹ گیا اور چشم زدن میں اسلامی لشکر نے کفار کی فوجوں کو روند ڈالا اور عساکر اسلامیہ کے قاہرانہ حملوں کی تاب نہ لاکرکفارکا لشکر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور افواج اسلام نے فتح مبین کا پرچم لہرا دیا۔ (مشکوٰۃ باب الکرامات ص546، حجۃ اللہ ج 2 ص860، تاریخ الخلفاء ص 85) چادر دیکھ کر آگ بجھ گئی: روایت میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی خلافت کے دور میں ایک مرتبہ ناگہاں ایک پہاڑ کے غار سے ایک بہت ہی خطرناک آگ نمودار ہوئی جس نے آس پاس کی تمام چیزوں کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنادیا جب لوگوں نے دربار خلافت میں فریاد کی تو امیرالمومنین نے حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو اپنی چادر مبارک عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ تم میری یہ چادر لے کر آگ کے پاس چلے جاؤ۔ چنانچہ حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اس مقدس چادر کو لے کر روانہ ہوگئے اور جیسے ہی آگ کے قریب پہنچے یکایک وہ آگ بجھنے اور پیچھے ہٹنے لگی یہاں تک کہ وہ غار کے اندر چلی گئی اور جب یہ چادر لے کر غار کے اندر داخل ہوگئے تو وہ آگ بالکل ہی بجھ گئی اور پھر کبھی بھی ظاہر نہیں ہوئی۔ (ازالۃ الخفاء مقصد 2 ص172) ا بولبیب شاذلی

حلال کمائیں‘ چین کی نیند پائیں


اللہ سے باتیں کرنا سیکھ لیں!: اللہ والو!اللہ سے باتیں کرنا سیکھ لیں‘ اللہ سے راز و نیاز کرنا سیکھ لیں!چلتے چلتے باتیں کریں!سوتے سوتے باتیں کریں!جاگتے جاگتے باتیں کریں! اٹھیں تو باتیں کریں! ارے پاکی میں ہیںتو باتیں کریں! ناپاکی میں ہیں توباتیں کریں !وضو میں ہیں توباتیں کریں!بے وضو ہیں توباتیں کریں!اس کریم کے ساتھ راز و نیاز کریں! اس کریم کے ساتھ باتیں کریں! اس کو اپنے دکھڑے سنائیں !اللہ جل شانہ سے باتیں کریں! نہیں آتیں تب بھی کریں!بولنا نہیں آتاتب بھی بولیں! ایک وقت آئے گاکہ آپ کو بولنا آ جائے گا!ایک وقت آئے گا آپ کو کرنا آجائے گا! پھر ایک وقت آئے گاکہ صرف ایک مس کال پر آپ کے سارے کام ہو جائیں گے! جیسے اس اللہ کے بندے نے ایک طرف کھڑے ہو کر صرف مس کال دی تھی کہ اس کاکام ہوگیا۔ لیکن اس کاکام تب ہوا جب نیت ٹھیک کرلی تھی،اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس نے حلال کھانا ہے ۔کوئی بات نہیں ۔۔ہفتہ وار درس سے اقتباس درس روحانیت وامن)  
اگرمیرے بچے معیاری سکولوںسے ، قیمتی لباسوں سے، بہترین گاڑیوں سے، عمدہ چیزوں سے اورپرتکلف آسائشوں سے محروم ہیںکوئی بات نہیں اگرمیں زندگی کی اعلیٰ آسائشوں اور اعلیٰ چیزوں سے محروم رہوں! کوئی حرج ہی نہیں۔ اللہ!شفاء دینے والی اور شفاء لینے والی ذات:گزشتہ دنوں کی بات ہے میں ایک مریض کے پاس اس کی عیادت کیلئے گیا ۔تقریباً 33,32 کلو اس کا وزن رہ گیا تھا۔ میں نے جاتے ہی ان کو ترغیب دی کہ آپ بیمار ہیں آپ کی دعا قبول ہوگی ،لہٰذا آپ دعا کریں ۔اس اللہ کے بندے نے عشاء کے وقت ایسی دعا کی۔اس کے ہاتھ اوپر جاتے اورپھر نیچے آتے تھے ۔ اس کی دعائیںاس کے دل کی کیفیتوں سے نکل رہی تھیں اور وہ کیفیات مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھیں۔جانے وہ دل ہی دل میں اللہ سے کیامانگ رہا تھا؟ وہ مریض جو بستر مرگ پر ہے جس کو کینسر کی وجہ سے سارے جہان نے لاعلاج قرار دیا ہے۔ شفاء دینے والاتووہ کریم ہے، بظاہربس انتظار ہو رہا ہے۔ میں بھی دعا مانگ رہا تھا، وہ بھی دعا مانگ رہا تھا ،مریض اور میں دونوں ایک ساتھ آمین کہہ رہے تھے۔کافی دیر دعا مانگی۔ اس کی آنکھوں سے ہی نہیں بلکہ اس کے دل سے بھی آنسو بہہ رہے تھے اور میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ کریم کی کریمی ایسے عرشِ الٰہی سے برس پڑی ہے اور میں دل میں کہہ رہا تھا:’’ الٰہی اس کو عاجز تو نے کیا ہے! یہ تو صحت مند تھا!اللہ اس کو مریض تو نے بنایا ہے! یہ تو چلتا پھرتا تھا!میرے پاس بھی آتا تھا! اے اللہ! یہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا! اس کے جسم کی ساری طاقتیںساری قوتیں تو نے لے لیں!دی ہوئی بھی تیری تھیں۔ الٰہی! تو خود تو فرماتا ہے اپنے حبیب سرور کونینﷺ کے ذریعے سے کہ جب میرا بندہ مریض ہوتا ہے اور میرے سامنے عاجز اور بے بس ہوتا ہے،اور اس حال میںجب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میںاس کا سوال رد نہیں کرتا۔ الٰہی!آج اس کے سوال کورد نہ کر ۔اس شخص نے دعا کے بعد ہاتھ منہ پر پھیرے۔ ہاتھ منہ پر پھیرنے کے بعد بڑی دیر تک وہ انہیںکیفیتوں میں ڈوبا رہا۔ وہ شخص آنسوؤں میں ڈوبا رہا۔ پھر اس نے اپنے رومال سے اپنے آنسو پونچھے اور میں نے ان سے اجازت چاہی اور واپس آیا تب میں نے سوچا! آج کی عبادت تو مجھے نفع دے گئی ۔ تو ہو کسی بھی حال میں،مولا سے لو لگائے جا:اللہ والو! اللہ سے مانگناسیکھو ۔اس کے در پر محتاج بن جائو،اس کے غلام بن جائو ، اس کے در کے فقیر بن جائو ۔ساعتیں مانگنے کی آ گئی ہیں ۔گھڑیاں مانگنے کی چل پڑی ہیں۔ اس کریم سے مانگنا سیکھو۔وہ تو تھوڑے سے مانگنے پر بھی بہت عطا کر دیتا ہے ۔ بڑا کریم ہے!بڑا رحیم ہے!یوں اپنی نیت کو سنوارو! یوں اپنے جذبے کو سنوارو!اپنے اندر دیانتداری اور سچائی کا جذبہ پیدا کرو۔ آخرایک دن کریم کی رحمت برس پڑتی ہےاور پھر اس کی عطا ئیںبندوں پرایسے آتی ہیں کہ ہم اور آپ سوچ بھی نہیں سکتے ۔اس سے مانگنا سیکھیں ۔حلال کمائیں ،چین کی نیند پائیں:حلال کے راستوں کی طرف بڑھیں۔ حلال سے نسلیں پلتی ہیں۔ حلال سے چین آتا ہے۔ حلال سے سکون آتا ہے۔ کرا چی کے ایک تاجر نے مجھے سامان دکھایا میں نے پوچھا جناب یہ ایک نمبر ہے یا دو نمبر ہے؟ میرے ہاتھ سے وہ چیز واپس لے کروہ کہنے لگا ’’بھیا میں نے رات کو چین سے سونا ہے، یہ ایک نمبر ہے۔ اتنے سے لفظ اس نے کہے’’ میں نے رات کو چین سے سونا ہے ،یہ ایک نمبر ہے۔‘‘ زندگی کے خوش قسمت ساتھی:زندگی میں اللہ نے ایک موقع دیا ہے اپنی آمدنی کا خیال رکھیں کہ ان نسلوں کو کیا کھلا کر جا رہے ہیں؟ ان نسلوں کو کیسے پال رہے ہیں ؟کتنی خوش قسمت بیوی ہے جو حلال کا تقاضاکرے ‘شوہر کی ساتھی بن جائے اوروہ دونوںحلال کے راستوں پر چل پڑیں۔ کتنا خوش نصیب شوہر ہے جو حلال کی کمائی لا کراپنی بیوی کا ساتھی بن جائے اوروہ دونوں حلال کے راستوں پر چل پڑیں۔ کتنا خوش قسمت بھائی ہے جو حلال کمائی گھر لاکر بہن کا ساتھی بن جائے ۔کتنی خوش قسمت بہن ہے جو اپنے بھائی کو حلال کمانے کی ترغیب دے کر اپنے بھائی کی ساتھی بن جائے۔ اللہ والو! آج ہمیںموقع ملا ہے۔ کسی کو مال پر بٹھایا،کسی کو خزانے پربٹھایا، کسی کو جنس پر بٹھایا ،کسی کو کسی اورچیز پر بٹھایا۔ کامیاب کون ہے؟: اب یہ دیکھیں کہ یہاں کون ان مواقع سے فائدہ اٹھاکراللہ کے ساتھ اپنے معاملات کو حلال کر رہا ہے۔ دیانت و امانت کا معاملہ کررہا ہے‘ سچائی اور صداقت کا معاملہ کر رہا ہےجو بھی یہ سب کررہا ہے بس وہ کامیاب ہو گیا۔بچہ فاقوں سے بلک رہا ہے مگر اس نے حلال روزگارکیاتو یہ کامیاب ہو گیا ۔اس کےبچے کے ہر رونے پر عرش الٰہی سے اللہ کی رحمتیں اتر رہیں۔اگرچہ اس کی ضرورتیں پوری نہیں ہو رہی ہیں لیکن اس نے حلال روزگار کرنے کا طے کررکھا ہے ۔اس نے حرام کا طے نہیں کیا ہوا اس نے اپنے اقتدار کا غلط استعمال نہیں کیا۔ (حکیم محمد طارق محمود چغتائی

اللہ کی خوشنودی کیلئے ایک دوسرے سے خالص محبت کرنے والوں کا رتبہ


حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگو! سنو اور سمجھو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ انبیاء ہیں اور نہ شہدا ہیں‘ ان کے بیٹھنے کے خاص مقام اور اللہ تعالیٰ سے ان کے خاص قرب اور تعلق کی وجہ سے انیباء اور شہداء ان پر رشک کریں گے۔ ایک دیہاتی آدمی نے جومدینہ منورہ سے دور (دیہات کا) رہنے والاآیا ہوا تھا (متوجہ کرنے کیلئے) اپنے ہاتھ سے رسول اللہ ﷺ کی طرف اشارہ کیا اور عرض کیا: یارسول اللہﷺ! کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء، انبیاء اور شہداء ان کے بیٹھنے کے خاص مقام اور ان کے اللہ تعالیٰ سے خاص قرب اور تعلق کی وجہ سے ان پر رشک کریں گے۔ آپ ان کا حال بیان فرمادیجئے یعنی ان کی صفات بیان فرمادیجئے۔ اس دیہاتی کے سوال سے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ غیرمعروف افراد اور مختلف قبیلوں کے لوگ ہوں گے جن میں باہمی کوئی ایسی رشتہ داریاں بھی نہیں ہوں گی کہ جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے قریب ہوں، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی کیلئے ایک دوسرے سے خالص و سچی محبت کی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کیلئے نور کے منبر رکھیں گے جن پر ان کوبٹھائیں گے‘ پھر اللہ تعالیٰ ان کے چہروں اور کپڑوں کو نور والابنادیں گے۔ قیامت کے دن جب عام لوگ گھبرا رہے ہوں گے ان پرکسی قسم کی گھبراہٹ نہ ہوگی‘ وہ اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ (مسند احمد)
الحب للہ

Sunday, January 10, 2016

دعوت خیر کی برکت

دعوت خیر کی برکت :۔


انہوں نے فون ملا کر میری طرف بڑھایا کہ بریرہ آپ سے بات کرنے کیلئے رو رہی ہے ۔کئی روز سے مجھے پریشان کر رکھا ہے کہ آپ حضرت سے فون پر بات نہیں کراتے ذرا اس بچی سے بات کر لیجئے ۔ میں نے بات کی اس بچی سے جس کی ابھی عمر چار سال بھی نہیں ہو گی ۔ بڑی معصوم آواز میں سلام کر کے خیریت معلوم کی اور بولی حضرت ہمارے لئے دو دعائیں کر دیجئے میں نے کہا ہاں بتاؤ میں اپنی بیٹی کیلئے کون سی دعا کروں ؟ وہ بولی ایک تو یہ دعا کر دیجئے کہ عید جلدی آ جائے کیونکہ آپ ہمارے گھر عید کے روز ہی آتے ہیں میرا دل آپ سے ملنے کو بہت چاہ رہا ہے عید جلدی آ جائے ی تو آپ جلدی آ جائیں گے ۔ دوسری دعا یہ کر دیجیئےٓ کہ اللہ پاک مجھے دین کی سچی داعی بنا دے اور میرے بھائی تاج کو اور ہماری سب بہنوں کو بھی دین کا داعی بنا دے اس حقیر کی طبیعت بھی کچھ سست چل رہی تھی اور کچھ بے نظم مصروفیات میں حد درجہ تھکان ہو رہی تھی اس ننھی سی بچی کی ایسی بامقصد اور ننھی ننھی باتوں نے دل و دماغ کو تروتازہ کر دیا وہ بچی

Wednesday, January 6, 2016

صلوۃ التسبیح کے کمالات

صلوۃ التسبیح کے کمالات :۔

Salaat al Tasbeeh and its effects

آج سے تقریباً 35 سال پہلے کی بات ہے جب 1979ء میں ماوند (کوہلو ایجنسی) میں بحیثیت استاد تعینات ہوا ، دور دراز کا علاقہ تھا ۔ ذرائع آمدورفت نام کی کوئی چیز نہیں تھی ، سفر ٹرکوں پر وہ بھی جب مال بردار ٹرک ماوند کیلئے کوہلو ایجنسی سے جاتا تھا کافی دن انتٖظار کے بعد ایک دن گورنمنٹ ہائی سکول ماوند کے ہیڈ ماسٹر ملے اور کہنے لگے کل مال بردار ٹرک ماوند جائے گا اس پر جانا ہوگا ۔ بہر حال جیسے تیسے ہم ماوند پہنچ گئے ۔ ماوند میں کھانے کیلئے کوئی چیز نہ  ملتی تھی اور نہ ذرائع آمدورفت تھے دل بہت اداس تھا ان دنوں میں نے باقاعدگی سے صلوۃ التسبیح مغرب کی نماز کے بعد پڑھنا شروع کر دی ۔ روحانیت میں مغرب کے وقت میں خاص تاثیر ہوتی ہے لہذا میرا روزانہ کا معمول بن گیا ۔ جب سردیوں کی چھٹیاں ہوئی بھائی کے پاس ملتان آ گیا ۔ بھائی ایف جی پبلک سکول ملتان چھاؤنی میں ٹیچر تھے ۔ ان سے ذکر کیا کہ دور دراز کا علاقہ ذرائع آمدورفت نہیں بعض اوقات کھانے کیلئے بھی کچھ نہیں ملتا ان دنوں میں نے ڈرائنگ ٹیچر کا کورس کیا ہوا تھا بھائی نے اپنے شاگرد سے ذکر کیا جن کے والد صاحب جی ایچ کیو راولپنڈی میں چیف ایڈمنسٹریٹر آفیسر تھے ۔ جب میری چھٹیاں ختم ہو گئیں تو واپس اپنی ڈیوٹی پر ماوند واپس آ گیا ۔ حسب معمول روزانہ مغرب کی نماز کے بعد صلوۃ التسبیح پڑھتا رہا اور اللہ سے دعا کرتا رہا ۔ اللہ پاک کی قدرت اچانک بھائی کا ملتان سے وائرلیس کے ذریعے میسج آیا کہ آپ کی بحیثیت ڈرائنگ ٹیچر ایف جی بوائز ہائی سکول نمبر 2 آرڈر ہوگئے ہیں فوراً پہنچیں ۔ حالانکہ میں نے انٹرویو دیا اور نہ ہی کوئی درخواست دیکر آیا تھا بلکہ صرف زبانی کہا تھا فوراً ملتان پہنچ کر ڈیوٹی پر حاضر ہو گیا اور اللہ پاک کا شکر ادا کیا اللہ پاک نے صلوۃ التسبیح کے پڑھنے سے میرے لئے ملازمت کا بندوبست فر ما دیا ۔

Monday, November 16, 2015

اصلاح معاشرہ کے سلسلہ میں بڑی رکاوٹ

اصلاح معاشرہ کے سلسلہ میں بڑی رکاوٹ  :۔


گھر کے سبھی لوگ اکٹھے تھے بزم امین کے سب لوگ جمع تھے اس کا نمبر آیا تو اس نے اصلاح معاشرہ کے عنوان پر تقریر کرنا شرع کی اس نے کہا معاشرہ کی اصلاح اس لئے نہیں ہو رہی ہے کہ ہر آدمی کو اس کی فکر ہے کہ معاشرہ کی اصلاح کیسے ہو ؟ اس کی فکر بالکل نہیں کہ میری اصلاح کیسے ہو ؟ ننھی سی بچی کی اس تقریر نے پورے خاندان کو جھنجوڑ دیا ۔ اس حقیر کو اس کی تقریر سن کر جہاں اپنے اس خیال پر اعتماد بڑھا وہیں دل کی گہرائی سے یہ نکلا  "الحمدللہ الذک ھدانا لھا ذاوما کنا لنھتدی لو لا ان ھدا نا اللہ۔"اللہ تعالیٰ نے کیسا پیارا دین عطا فرمایا کہ زندگی کی چولوں کو ٹھیک رکھنے کیلئے دعوت کو فرض منصبی قرار دیا ملت اگر دعوت کو مقصد بنا لے تو خیر کے دہانے اللہ تعالیٰ کھول دیتے ہیں ۔ اس خیال سے کہ گھر میں دعوت کا ماحول بنے بچوں اور بچیوں میں دعوتی شعور بیدار ہو خاندان میں ہر گھر میں اس کا سلسلہ  شروع کیا گیا کہ ہفتہ میں ایک مجلس گھر کے افراد کی ہو اور اس میں گھر کا ہر فرد کسی موضوع پر تقریر کرے ، ا س کا فاہدہ یہ ہو گا کہ ہر فرد کو کچھ یاد کرنے اور دین کے بارے میں معلومات کا شوق ہو گا اور جب وہ دوسروں کے سامنے کہیں گے تو پھر خود ان کے اندر دین پر عمل کی توفیق بڑھے گی عید وغیرہ کے موقع پر جب سب خاندان کے لوگ جمع ہوتے ہیں جس میں یہ سلسلہ ہو تا ہے ۔ والد محترم کے نام سے اس کا نام بزم امین بزم امین ب وغیرہ رکھ دیئے گئے دعوتی پس منظر میں بچے ایسے ایسے پیرایہ میں مختلف موضوعات پر بات کرتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے ایسی ہی تقریر اس بچی نے بھی کی ہے واقعی یہ بات بڑی کلیدی ہے کہ اصلاح معاشرہ کی ساری کوشش بے سود اس لیے ہے کہ ہر آدمی کو اصلاح معاشرہ کی فکر ہے اپنی اصلاح اور خود عمل سے بے نیاز ہو کر اصلاح معاشرہ کی کوئی کوشش سود مند نہیں ہو سکتی ہے ۔ ابلیس لعین جس کا نام عزازیل تھا جب اس کو اپنی عبادات اور مقبولیت پر غرور ہو ا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوا کہ ہم ایک بندہ کو راندہ درگاہ کرنے والے ہیں ۔سارے فرشتے تھر اگئے ہر ایک گھبرا کر عزازیل کے پاس آتا تھا کہ ہمارے واسطے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں راندہ درگاہ نہ کرے ابلیس بڑے ناز سے کہتا آپ فکر نہ کریں میں اللہ پاک سے آپ کیلئے دعا کروں گا اس کے دل میں یہ خیال بھی نہ آیا کہ میں بھی راندہ درگاہ ہو سکتا ہوں ۔ اس لئے اپنے کو اصلاح حال سے بے نیاز سمجھتا رہا ۔ یہ شیطانی جبلت ہے ہمیں اصلاح حال سے محروم کئے ہوئے ہے بس ہر ایک کو دوسروں کی اصلاح کی فکر ہے ۔ اصلاح معاشرہ کی کوشش کرنے والے مقررین کے ذہن اکثر اپنی اصلاح حال کی فکر سے خالی ہیں سچی بات یہ ہے کہ تقریر سننے والوں کے ذہن میں بھی اپنی اصلاح حال کی فکر سے خالی ہیں ، تقریر و، وعظ سن کر نکلنے والے لوگ یہ سر گوشی کرتے نکلتے ہیں کہ فلاں حاجی صاحب نے یہ بتایا دیکھا مولانا صاحب کیا فرما رہے تھے اور وہ صاحب کیا کرتے ہیں اپنے حال کا محاسبہ اور اپنی اصلاح کی کوشش اور فکر مفقود ہوتی جا رہی ہے جن مصلحین نے دنیا میں اصلاح حال کا تجدیدی کارنامہ انجام دیا وہ دوسروں کو وعظ اپنے حال کی اصلاح کیلئے کہتے تھے ۔ حکیم الامت فرماتے تھے جب میں اپنے اندر کسی چیز کی کمی دیکھتا ہوں تو دو چار وعظ اس موضوع کے کہہ لیتا ہوں گویا وہ دوسروں کو وعظ و نصیحت اس لئے کرتے تھے کہ کہنے سے خود کی اصلاح ہو جائے گی اصلاح معاشرہ میں جان پیدا کرنے کیلئے یہ سوچ کہ میں سب سے زیادہ اصلاح کا محتاج ہوں شاہ کلید ہے کاش ہمیں اس کی فکر ہو ۔

Thursday, November 12, 2015

ہر نعمت ماں کے قدم چومنے سے ملی

ہر نعمت ماں کے قدم چومنے سے ملی :۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!میری عمر 21 سال ہے میں ڈپلومہ کا طالب علم ہوں، الحمدللہ ! ناظرہ قرآن ماں باپ نے بچپن میں ہی پڑھا دیا تھا اورخدا کا شکر ہے کہ تلاوت کی بھی وہی توفیق دیتا ہے عبقری پڑھ کر اور آپ کی چند کتابیں پڑھ کر اب تو اور بھی جزبہ اور شوق لگن پیدا ہوگئی ہے اور ان سب میں میری نیت یہی ہوتی ہے کہ یاللہ ! تو مجھے اپنا قرب عطا فرما اور کرم ہے اس ذات کا کہ وہ ہر موڑ پر میرا ساتھ دیتا ہے ۔ میں اپنی زندگی کے کچھ راز عبقری قارئین سے شیئر کرنا چاہتا ہوں ۔ تاکہ اور لوگوں کو بھی توفیق ہو اور وہ بھی وہ کچھ پائیں جو میں نے پایا ہے ۔ میرے میٹرک کے سالانہ بورڈ کے امتحانات تھے میری والدہ جو کہ 2004ء سے بیمار ہیں فالج کی مریضہ ہیں اور مرگی کی بھی بیماری ہے ان دنوں وہ بہت زیادہ بیمار تھیں تو میں گھر کے سارے کام کرتا تھا ، امی ابو اور بھائی کے کپڑے دھو نے، بھائی مجھ سے بڑے ہیں اور وہ ملتان میں ہوتے ہیں آٹا گوندنا ، روٹی بنانا ، برتن دھونے ، امی کو وضو کروانا ، نماز پڑھوانی ، کھانا کھلانا وغیرہ ۔ الغرض وہ تمام کام جو گھر میں ایک عورت سر انجام دیتی ہے ، میں کرتا تھا اور میری والدہ ہمیشہ کی طرح مجھے بے حد دعائیں دیتی تھیں ۔ آپ یقین جانئے کہ میرے پیپر بالکل اچھے نہیں ہوئے تھے لیکن میرے اللہ پاک کی کرم نوازی دیکھیں جب رزلٹ آیا تو میں نے پورے سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کی مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ میں پاس ہو گیا ہوں بلکہ پوزیشن لے لی ہے ۔ بس پھر تو میں امی کے پیروں میں گر گیا خدمت تو پہلے بھی کرتا تھا اب اور زیادہ خدمت کرنے لگا الحمد للہ ! امی مجھے اب بھی بہت دعائیں دیتی ہیں ۔ پھر اللہ پاک نے مجھے ہر چیز سب سے پہلے دی ۔ میں اپنے تمام کزنوں میں سب سے چھوٹا ہوں لیکن سب سے پہلے گزشتہ سال میری شادی ہو گئی اللہ پاک نے مجھے سنت رسول ﷺ  ڈاڑھی شریف رکھنے کی توفیق دی ، گناہوں سے دور کر دیا اپنے دین کے راستے میں قبول کر لیا الحمدللہ ! قبول فرمائے اور اب میوزک ، ٹی وی ، گانے وغیرہ ان سب سے  نفرت ہو گئی ہے الحمدللہ ! سنتی لباس پہنتا ہوں ، چھوٹی سی عمر میں اللہ رب العزت نے بہت زیادہ نعمتوں سے نواز دیا اور جب میں اپنی والدہ کے پیروں کو چومتا ہوں تو بہت سکون ملتا ہے الحمدللہ ! اللہ پاک نے کبھی پیسوں کی کمی نہیں ہونے دی بلکہ میں جتنا صدقہ کرتا ہوں مجھے دوگنا کیا سات گناہ زیادہ مل جاتا ہےیہ سب میں اپنی تعریف نہیں کر رہا اپنی زندگی کے وہ تمام حالات آپ کو بتا رہا ہوں جو ابھی تک کسی کو نہیں بتائے لیکن والدہ والا قصہ سب کو بتاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ ماں باپ کی خدمت کرو پھر دیکھو تم کہاں سے کہاں جاتے ہو ۔ آپ کو بھی اجازت دے رہا ہوں میری والدہ والا قصہ بغیر میرا نام شائع کئے عبقری رسالے میں چھاپ دیں تاکہ اور لوگ بھی عمل کر سکیں ۔

Wednesday, November 4, 2015

وجودہ ڈیپریشن اور پر سکون رہنے کا نبویؐ نسخہ

موجودہ ڈیپریشن اور پر سکون رہنے کا نبویؐ نسخہ :۔


حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ نصیحت فرمائیے ۔ گو یا کہ نصیحت کی بھی درخواست کی اور ساتھ میں یہ شرط لگا دی کہ وہ نصیحت مختصر ہو ، لمبی چوڑی نہ ہو اور حضور اقدس ﷺ نے اس شرط پر ناگواری کا اظہار نہیں فرمایا چنانچہ حضور اقدس ﷺ نے اس کو یہ مختصر نصیحت فرمائی کہ ۔ "لَا تَغْضَبْ " غصہ مت کرو۔ اگر آدمی اس مختصر نصیحت پر عمل کرے تو شاید سینکڑوں بلکہ ہزاروں گناہوں سے اس کی حفاظت ہو جائے۔
گناہوں کے دو محرک ، غصہ اور شہوت:۔  اس لئے کہ دنیا میں جتنے گناہ ہوتے ہیں چاہے وہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے ۔ اگر انسان غور گرے تو یہ نظر آئے گا کہ ان تمام گناہوں کے پیچھے دو جزبے کا ر فرما ہوتے ہیں ۔ ایک غصہ دوسرے شہوت ، شہوت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے اصل معنی ہیں ۔ "خواہش نفس۔" مثلاً دل کسی چیز کے کھانے کو چاہ رہا ہے یہ کھانے کی شہوت ہے یا کسی ناجائز کام کے ذریعہ انسان اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کرنا چاہ رہا ہے ۔ یہ بھی شہوت ہے  لہذا بہت سے گناہ تو شہوت سے پیدا ہوتے ہیں اور بہت سے گناہ غصہ سے پیدا ہوتے ہیں چنانچہ ابھی اس کی تفصیل عرض کروں گا ، لہذا جب یہ فرمایا کہ غصہ مت کرو اگر آدمی اس نصیحت پر عمل کر لے تو اس کے نتیجے میں آدھے گناہ ختم ہو جائیں گے۔
غصہ ایک فطری چیز ہے:۔ یوں تو اللہ پاک نے غصہ انسان کی فطرت میں رکھا ہے کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس کے اندر غصے کا مادہ نہ ہو اور اللہ پاک نے حکمت کے تحت ہی یہ مادہ انسان کے اندر رکھا ہے یہی مادہ ہے کہ اگر انسان اس پر کنٹرول کر لے اور اس کو قابو میں کر لے تو پھر یہی مادہ انسان کو بے شمار بلاؤں سے محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔
غصے کے نتیجے میں ہونے والے گناہ ؛۔ لیکن اگر یہی غصہ قابو میں نہ ہو تو اس کے نتیجے میں جو گناہ پیدا ہوتے ہیں وہ بے شمار ہیں ، چنانچہ غصے ہی سے "تکبر" پیدا ہوتا ہے غصے سے" حسد "پیدا ہوتا ہے غصے سے" بغض "پیدا ہوتا ہے غصے سے" عداوت" پیدا ہوتی ہے اور ان کے علاوہ نہ جانے کتنی خرابیاں ہیں جو اس غصے سے پیدا ہوتی ہیں جبکہ یہ غصہ قابو میں نہ ہو اور انسان کے کنٹرول نہ ہو ۔مثلا ً اگر غصہ قابو میں نہیں تھا اور وہ غصہ کسی انسان پر آ گیا اب اگر جس شخص پر غصہ آیا ہے وہ قابو میں نہیں تھا اور وہ ماتحت ہے تو اس غصے کے نتیجے میں اس  کو تکلیف پہنچائے گا یا اس کو مارے گا یا اس کو ڈانٹے گا اس کو گالی دے گا اس کو برا بھلا کہے گا اس کا دل دکھائے گا اور یہ سب کام گناہ ہیں جو غصے کے نتیجے میں اس سے سرزد ہوں گے اس لئے کہ دوسرے کو ناحق مارنا بہت بڑا گناہ ہے اسی طرح اگر غصے کے نتیجے میں گالی دے دی تو حدیث میں۔
" حضور اقدسﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا مسلمان کو گالی دینا بدترین فسق ہے اور اس کا قتل کرنا کفر ہے۔" (بخاری)
اسی طرح اگر غصے کے نتیجے میں دوسرے کو طعن و تشنیح کر دی جس سے دوسرے انسان کا دل ٹوٹ گیا اور اس کی دل شکنی ہوئی تو یہ بھی بہت بڑا گناہ ہے ، یہ سب گناہ اس وقت ہوئے جب ایسے شخص پر غصہ آیا جو آپ کا ماتحت تھا۔
"بغض" غصے سے پیدا ہوتا ہے:۔ اور اگر ایسے شخص پر غصہ آ گیا جو آپ کا ماتحت نہیں ہے اور وہ آپ کے قابو میں نہیں ہے تو غصہ کے نتیجے میں آپ اس کی غیبت کریں گے مثلاً جس پر غصہ آیا وہ بڑا ہے اور صاحب اقتدار ہے ، اس کے سامنے اس کو کچھ کہنے کی جرات نہیں ہوتی زبان نہیں کھلتی تو یہ ہو گا کہ اس کے سامنے تو خاموش رہیں گے لیکن جب وہ نظروں سے اوجھل ہو گا تو اس کی برائیاں بیان کرنا شروع کر دیں گے ۔ اور اس کی غیبت کریں گے اب یہ غیبت اسی غصے کے نتیجے میں ہو رہی ہے او ر بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ انسان دوسرے کی کتنی بھی غیبت کر لے مگر اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا بلکہ غصہ کے نتیجے میں یہ دل چاہتا ہے کہ اس کو تکلیف پہنچاؤں مگر چونکہ وہ صاحب اقتدار اور بڑا ہے اس لئے اس پر قابو نہیں چلتا ۔ اس کے نتیجے میں دل کے اندر ایک گھٹن پیدا ہو گی اور دل چاہتا ہے کہ اس کو تکلیف پہنچاؤں یا اسے خود بخود تکلیف پہنچ جائے یہ بغض ہے جو ایک مستقل گناہ ہے جو اسی غصے کے نتیجے میں پیدا ہو ا۔حسد غصہ سے پیدا ہوتا ہے اور اگر جس شخص پر غصہ آ رہا ہے اور ا س کو تکلیف پہنچنے کے بجائے راحت اور خوشی حاصل ہو گئی اس کو کہیں سے پیسے زیادہ مل گئے یا اس کو کوئی بڑا منصب مل گیا تو اب دل میں یہ خواش ہو رہی ہے کہ یہ منصب اس سے چھن جائے یہ مال و دولت یہ روپیہ و پیسہ کسی طرح اس کے پاس سے ضائع ہو جائیں ختم ہو جائیں یہ حسد بھی اسی غصے کے نتیجے میں پیدا ہو رہا ہے بہر حال جس شخص پر غصہ آ رہا ہے اگر اس پر قابو چل جائے تو بھی بے شمار  گناہ اس کے ذریعہ صادر ہو جاتے ہیں اور اگر قابو نہ چلے تو بھی بے شمار گناہ اس کے ذریعہ صادر ہوتے ہیں ۔یہ سب گناہ اس غصے کے قابو میں نہ رہنے کے نتیجے میں پیدا ہو رہے ہیں ۔ اگر غصہ قابو میں ہوتا تو انسان ان سارے گناہوں سےمحفوظ رہتا چنانچہ قرآن کریم میں اللہ پاک نے نیک مسلمانوں کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ۔
" یعنی نیک مسلمان وہ ہیں جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں سے غصے کو درگزر کرتے ہیں ۔"
اس لئے کہ غصہ پینے کے نتیجے میں یہ سارے گناہ سر زد نہیں ہوں گے۔

Monday, October 12, 2015

رات بھرنیند کیوں نہیں آتی ؟ اب سمجھ آئی

رات بھرنیند کیوں نہیں آتی ؟ اب سمجھ آئی !

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!میں عبقری کی پرانی قاری ہوں ، دو دفعہ آپ سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا ۔ پہلے بھی آپ کو خط لکھتی رہی ، اپنے اعمال سے آگاہ کرتی رہی لیکن چار پانچ ماہ ہو گئے خط لکھنے کا موقع نہ ملا کچھ مصروفیات اور کچھ گناہوں نے قید کر رکھا تھا۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ اپنی داستان کیسے شروع کروں ، چار ماہ پہلے میں نے ایک کورس کیا جس کی چالیس روزہ ورکشاپ تھی ۔ میں شیخوپورہ کے قریب ایک چھوٹا  سا گاؤں ہے وہاں  کی رہنے والی ہوں ۔ جب کورس سٹارٹ کیا تو میری ورکشاپ کا سنٹر لاہور میں رکھا گیا ۔ اب بہت مسئلہ تھا کہ شیخوپورہ سے روزانہ لاہور جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا تو میں نے وہیں شاہدرہ کے قریب اپنے رشتہ داروں کے گھر رہائش رکھ لی لیکن چند دن ورکشاپ اٹینڈ کی تو وہاں سے بھی مجھے بہت دور پڑ رہا تھا روزانہ دو گاڑیاں بدل کے جانا اور جاتی بھی اکیلی تھی پھر یونیورسٹی کے قریب میری ایک دوست رہتی تھی جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی وہ لوگ ہمارے گاؤں کے تھے لیکن شہر میں رہتے تھے اس نے مجھے آفر کی کہ تم اتنی دور سے روز آتی ہو تو میرے گھر رہ لو قریب بھی ہے اور میری دوست کی جس گھر میں شادی ہوئی ہے وہ شخص اربوں پتی ہے اکیلی رہتی تھی ۔ میں نے گھر والوں سے مشورہ کیا گھر سے اجازت مل گئی کیونکہ میری دوست کے ساتھ ہمارے پرانے گھریلو تعلقات تھے جب میں نے وہاں رہنا شروع کیا کروڑوں کا اس کا بنگلہ تھا 6 گاڑیاں گھر میں ہر وقت کھڑی رہتیں ۔ وقت پر مجھے گاڑی یونیورسٹی چھوڑ کر آتی اور وقت پر لے کر آتی ۔ میری ہر طرح کی ضروریات کا خیال رکھا گیا ۔ یہ سب میری دوست نے بہت خوش اسلوبی سے کیا ۔مجھے وہاں پر ہر طرح کی آسائش تھی ہر وقت جس طرح کا چاہے کھانا اور بالکل آزادی تھی ۔ پردہ تو میں نے وہاں بھی کیے رکھا اس کے شوہر سے میں نے مکمل پردہ کیا میں اپنے طور پر اعمال کی بھی کوشش کرتی تھی لیکن وہاں مشکل سے فرض نمازیں مکمل کر پاتی اور کسی عمل کی لاکھ کوشش کے باوجود توفیق نہیں ملتی تھی۔میں اپنے کمرے میں زیادہ تر اکیلی ہوتی تھی۔ میرے کمرے میں بڑا ایل ای ڈی ٹی وی تھا ۔ کمرے میں اکیلی رہ رہ کر بور ہو جاتی تو ٹی وی لگا لیتی ، تسبیح پڑھنے کیلئے ہاتھ میں لیتی تو پتہ نہیں دھیان کدھر چلا جاتا بھول ہی جاتا کہ میں تسبیح کر رہی تھی یوں ہوتا کہ یونیورسٹی سے آ کر سارا وقت ٹی وی لگائے رکھتی اور پوری پوری رات مجھے نیند نہ آتی تھی  ۔ حالانکہ میں اپنے گھر میں سب سے زیادہ سوتی ہوں اور پکی نیند والی تھی، لیکن میں حیران و پریشان تھی کہ نیند پوری رات نہ آتی ، دیکھتے ہی دیکھتے صبح ہو جاتی نیند کی گولیاں بھی کئی دفعہ کھائیں لیکن کوئی اثر نہ ہوتا اور یوں بہت سے گناہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہو جاتے فلم ، ڈرامہ ، گانے دیکھنا اور بھی کئی گناہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہو جاتے ، ان دنوں ایسے ایسے گناہ ہوئے کہ جن کو سوچتے ہی میں شرم سے پانی پانی ہو جاتی ہوں ۔ اللہ پاک کا لاکھ لاکھ کرم ہے کہ اس نے عزت محفوظ رکھی ۔ میری دوست کا شوہر بہت اچھاانسان تھا اس نے میرا سگی بہنوں سے بھی زیادہ خیال رکھا ۔ لیکن باہر کی دنیا بہت گندی ہے۔ پھر جب میں اپنا چالیس روزہ کورس مکمل کر کے گھر آئی تو تعلیم ہو رہی تھی اتنے گناہوں سے لتھڑی ہوئی آ ئی تب بھی اللہ پاک نے تعلیم میں بیٹھنے کی توفیق دی ، ہمارا گھرانہ ماشاءاللہ مذہبی ہے تعلیم باقاعدگی سے ہوتی ہے ۔ پھر میں نے اپنے گھر والوں سے اپنی دوست کی دولت کا تذکرہ کیا تو میری بھابھی نے پوچھا کہ اس کا شوہر کام کیا کرتاہے ۔ جب میں نے کام بتایا کہ وہ فلاں کام کرتا ہے تو بھابھی نے کہا کہ اس میں تو حرام شامل ہے ۔ اوہ ہو ! پھر میری سمجھ میں آیا کہ میں وہاں چالیس دن مشکوک مال پر عیش کرتی رہی اب جب دینی تعلیمات نے تھوڑا تھوڑا مجھ پر اثر کرنا شروع کیا تو مجھے سجمھ آئی کہ مجھے وہاں نیند کیون نہیں آتی تھی ۔ فل ایئر کنڈیشنڈ روم اعلیٰ قسم کے گدے لیکن سکون نہیں تھا اور دل گناہ پر ہی مائل رہتا تھا شاید مشکوک مال کھا کے انسان کا دھیان نیک کاموں کی طرف جاتا ہی نہیں ہے ۔اب میں بہت پریشان ہوں کیسے اس حرام مال کو اپنے اندر سے نکالوں اس حرام خون کے قطروں کو کیسے ختم کروں ؟     

Monday, September 28, 2015

شرعی پردہ شروع کیا اور زندگی آسان ہو گئی

شرعی پردہ شروع کیا اور زندگی آسان ہو گئی:۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! مجھے بچپن سے ٹوپی والے برقعے کا شوق تھا میری ایک کلاس فیلو اپنی مرحومہ والدہ کا برقعہ لائی اور مجھے دے دیا کہ گھر میں بھی تو پڑا ہے تمہیں شوق ہے تم لے لو۔ جب تم پہنو گی تو میری والدہ کو بھی ثواب ہو گا ۔  نہ پوچھیں حضرت حکیم صاحب! مجھے جو مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ، سلائی سنٹر کی ٹیچرز اور تمام کلاس فیلوز نے مخالفت کی کہ نہ پہنو ٹوپی والا برقعہ ۔ مجھے شوق تھا بڑے بھائی نے بھی حوصلہ بڑھایا میں نے کسی کی پرواہ نہ کی ۔ امی چھوٹا بھائی اور بڑی بہنیں بھی سمجھاتی رہیں میں نہ مانی ۔ اب ماشاءاللہ دوسرا تیسرا سال ہے میں ٹوپی والا برقعہ پہن رہی ہوں ۔ میں نے بی ایڈ کے پیپر دینے بوائز کالج میں بھی ٹوپی والا برقعہ پہن کر جاتی تھی۔ میری تمام کلاس فیلوز اور تمام عملہ دیکھ کر ہنستے تھے ، میری حوصلہ شکنی ہوتی تھی ، دل کرتا تھا کہ نہ پہنو ، تمام لوگ ہنستے ہیں چھوٹا بھائی بھی مذاق کرتا تھا پھر تہیہ کیا کہ نہیں پہنا ہے  تو اب اتارنا نہیں ہے تاحیات پہننا ہے ۔ ایک مرتبہ 2013 میں این ٹی ایس کا ٹیسٹ ہوا خانیوال جانا تھا رول نمبر سلپ آ گئی ۔ این ٹی ایس کی کتاب نہ خرید سکی ، کوئی تیاری نہ کر سکی ، جس دن پیپر تھا چھوٹا بھائی کہنے لگا ٹوپی والا برقعہ نہ پہننا خانیوال میں فوج اور پولیس کی چوکیاں ہیں ۔وہ تو تمہیں دیکھتے ہی پکڑ لیں گے اور کہیں گے دہشت گرد ہے بم دھماکہ کرنے آئی ہے ۔ میرے ساتھ جانا ہے تو اس کو اتارو، ورنہ میں نہیں لے کر جاتا ، میں نے بڑے بھائی کو بتا دیا انہوں نے اس کو ڈانٹا بہر حال اللہ کا نام لیا اور بیٹھ گئے دونوں بہن بھائی بس میں بیٹھ گئے پھر جو بس میں الٹیا ں آئیں تمام راستے کرتی گئی جو یاد تھا وہ بھی بھول گئی۔ وہاں پر موجود تمام طالبات کے پاس این ٹی ایس کی کتابیں تھیں میرے پاس نہیں تھی ۔اللہ کا نام لے کر ٹیسٹ دے آئی ۔ واپسی پر بھی الٹیاں، چکر اور بہت طبعیت خراب ہوئی ۔تمام راستے اللہ سے دعا کرتی آئی یا اللہ تیرے نبی حضرت محمد ﷺ کی خاطر اور تیری خاطر تکلیف برداشت کی ہے کامیاب کر دینا ، سفر ضائع نہ کرنا ، مجھے پیڑن کا بھی پتہ نہیں تھا پیپر بہت مشکل اور تھوڑے سے سوالوں کے علاوہ باقی تمام سوالات انگریزی میں تھے ۔ پہلے کوئی این ٹی ایس ٹیسٹ کا تجربہ بھی نہیں تھا ،۔ جب رزلٹ آیا تو اللہ کے کرم سے این ٹی ایس میں 56 نمبر لے کر پا س ہو گئی ، اس کے چند دن بعد خبر آئی کہ وہ این ٹی ایس ٹیسٹ جعلی اور فراڈ تھا اور اب اصل این ٹی ایس ٹیسٹ ہو گا ۔اور اس کو مانا جائے گا پہلے والا رزلٹ کارڈ بے کار گیا ، دوبارہ داخلہ بھیجا اور اب کی بار اللہ تعالی ٰ کی مہربانی سے این ٹی ایس کی کتاب بھی خریدی لی ۔ بڑی تیاری کی  جس دن پیپر تھا اس دن بڑی باجی اور بھانجے کے ساتھ گئی۔ بڑی باجی بہت ضدی تھی اور باتوں کے ذریعے میرے اوپر غالب آ گئی امی بھی اس کے ساتھ مل گئی تھیں ، بڑا بھائی گھر نہیں تھا اس لئے ان کی بات ماننا پڑی اور اب کی بار ٹوپی والا برقعہ نہیں پہنا ۔ الٹیاں تو پہلی کی طرح آ ئیں ، طبیعت بھی خراب ہو گئی پر چادر میں گئی ۔ این ٹی ایس پہلے کی نسبت بہت اچھا ہوا جب رزلٹ آیا تو بہت برے طریقے سے فیل ہو گئی جس کی وجہ سے پیسے اور سفر ضائع ہو گیا ۔ این ٹی ایس فائدہ نہ دے سکی ، تکلیف علیحدہ اٹھائی ۔ حضرت حکیم صاحب ! میں سوچتی ہوں کے واقعی وہ ٹوپی والے برقعے کی برکت تھی جو میں بغیر کتاب کے تیاری کے پاس ہو گئی تھی۔ اور اب کی بار تیاری بھی کی لیکن ٹوپی والا برقعہ نہ پہننے کی وجہ سے فیل ہو گئی ۔حالانکہ پیپر بھی پہلے کی نسبت بہت اچھا ہوا تھا یہ میرا مشائدہ ہے ٹوپی والے برقعے کا ۔ میں نے  ایم اے اسلامیات سال دوم کا ایڈمیشن بھیجنا تھا مجھے پتہ چلا کہ ایڈمیشن تو چلے گئے ہیں اور اب فیس سنگل اور ڈبہ کی بجائے ٹرپل ہو گئی ہے ،۔ میرا چھوٹا بھائی فارم اور فیس لے کر گیا تو بینک والے افسر نے کہا کہ اب ٹرپل فیس لے کر آؤ ،ورنہ  فارم جمع نہیں ہو گا تاریخ گزر گئی ہے ۔ چھوا بھائی کہہ رہا تھا کہ بینک میں انگریزی میں ہدایات لگی ہوئی تھیں ، میں بہت پریشان ہوئی کہ اب کیا ہو گا ، بالآخر بڑے بھائی نے ہم دونوں کو کہا کہ تم لوگ بینک میں جاؤ ساری معلومات لے کر آؤ پھر کچھ کرتے ہیں ۔ لہذا میں نے احتیاطاً فارم اور فیس ساتھ لے لی ، اور راستے میں ایک دو جگہ تصدیق اور فوٹو سٹیٹ کروانے کیلئے بھی رکے فوٹو سٹیٹ کروانے کے دوران میں بیچ پر بیٹھی ہوئی تھی اور ٹوپی والا برقعہ پہنا ہوا تھا پریشان تو تھی ہی شدید گرمی تھی پسینہ آیا ہوا تھا ،اچانک میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے ،اور میں اللہ تعالیٰ سے دل ہی دل میں باتیں کرنے لگ گئی کہ یا اللہ ! تیر رضا کی خاطر ٹوپی والا موٹا برقعہ پہنا ہوا ہے میرا مسئلہ حل فرما اور مجھے اس کا اجر ضرور دینا ، پھر ہم بینک میں پہنچے میں نے چھوٹے بھائی سے کہا کہ فارم اور فیس لے کر جاتی ہوں شاید عورت سمجھ کر حیاء کر جائیں حکیم صاحب! آپ یقین کریں اس نے فارم اور فیس لے لی اور مہریں لگا کر دستخط کر دیئے پھر وہ فارم اپنے ایک بڑے افسر کے پاس لے گیا کچھ دیر باتیں کرتے رہے ، میں یہ دیکھ کر پریشان ہو گئی ، کہ اب کیا ہو گا ۔ پھر وہ فارم لے کر آیا رسید کاٹ کر مجھے دے دی ۔اور کہا یہ لوبیٹی اور مجھے کچھ بھی نہ کہا جب کہ اگلے ہی دن میرے چھوٹے بھائی سے اس بندے نے بڑی جرح کی تھی اور کہتا تھا ڈیٹ گزر گئی ہے ہم کیا کریں ہم اپنے پاس سے فیس بھر یں جبکہ اب بھی وہی آدمی تھا اور اس نے کوئی بحث وغیرہ نہیں کی حکیم صاحب! میرا دل کہتا ہے یہ ٹوپی والے برقعے کی برکت ہے ۔


 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر33


Wednesday, September 9, 2015

ذی الحجہ ! دس دنوں میں پائیے دس بڑی فضیلتیں


ذی الحجہ ! دس دنوں میں پائیے دس بڑی فضیلتیں :۔


ذی الحجہ  کے مہینے کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے خصوصی طور پر اس مہینے کے شروع کے دس دنوں کی بڑی بزرگی بیان کی گئی ہے ۔ مختصراً طور پر ملاحظہ ہو ۔
ان دنون کی عزت کرنے والے کو اللہ پاک درج ذیل دس نعمتوں سے نوازتا ہے۔1. عمر میں برکت اور صحت فرماتا ہے ۔2. مال میں زیادتی عطا کر کے حوصلہ افزائی فرماتا ہے ۔3. اہل و عیال کی حفاظت کر کے حوصلہ افزائی فرماتا ہے ۔4. گناہوں کا کفارہ عطا فرماتا ہے ۔5. اس شخص کی نیکیوں میں اضافہ کر دیتا ہے اور گناہ معاف فرما دیتا ہے ۔6. اس کے نزع کے وقت کی تنگی میں آسانی پیدا کرتا ہے ۔7. ظلمت میں روشنی عطا فرما دیتا ہے ۔8. نیکیوں کے اجر کا پلڑا بھاری کرتا ہے ۔9. جہنم سے نجات عطا فرماتا ہے ۔10. جنت کے درجات میں بلندی عطا فرماتا ہے۔ اس کے علاوہ اس دن اگر کسی نے اس عشرے میں کسی مسکین کو کھانا کھلایا یا خیرات دی تو گو یا اس نے پیغمبروں کی سنت پر عمل کیا ۔

اعمال و نوافل :۔

٭ جو کوئی ذی الحجہ  کی نو تاریخ کو چار رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد تین مرتبہ سور کافرون اور اکیس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے تو انشاءاللہ ،اللہ پاک اس کی جو بھی جائز حاجت ہو گی وہ ضرور پوری ہو گی ۔
٭  جو کوئی عرفہ کی شب نماز عشاء کے بعد دو رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد پانچ مرتبہ سور ہ قریش پڑھے تو بفضل باری تعالیٰ اس کے گناہ  معاف ہوں گے۔
٭   جو ذی الحجہ  کی نو تاریخ کو نماز عشاء کے بعد چار رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد پچاس پچاس مرتبہ سور ہ اخلاص پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد ایک ہزار مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے تو انشاءاللہ تعالیٰ اس کی جو بھی جائز مراد ہو گی پوری ہو گی اور ثواب عظیم حاصل کریگا ۔
٭ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وقوف عرفہ میں اس دعا سے افضل اور کوئی قول یا عمل نہیں ہے ۔ اللہ پاک اس دعا کو پڑھنے والے کی طرف توجہ فرماتا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ عرفات میں قبلہ رو ہو کر دعا مانگنے والے کی طرح دونوں دست مبارک پھیلا کر تین مرتبہ لبیک فرماتے ، پھر ایک سو مرتبہ یہ فرماتے

 لاَ إِلہَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، یُحْیِی وَیُمِیتُ وَیُمِیتُ وَیُحْیِی، وَھُوَ حَیٌّ لاَ یَمُوتُ، بِیَدِہِ الْخَیْرُ، وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ

پھر ایک سو مرتبہ یہ ( مبارک کلمات ارشاد  فرماتے ۔

إن الله هو السميع العليم 

پھر تین مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھتے ۔ ہر مرتبہ سور فاتحہ﷽ سے شروع فرماتے اور آمین پر ختم کرتے اس کے بعد پھر ایک سو مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھتے ، پھر ایک مرتبہ یہ پڑھتے

﷽ اللَّهمَّ صلِّ وسلِّم وبارك على النَّبي الأمِّي وَ رَحْمَۃُ اللہِ وَ بَرَکَۃُہُ

اس کے بعد آپﷺ جو چاہتے دعا فرماتے ۔ حضور بنی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص اس طرح دعا کرتا ہے فرشتوں سے اللہ پاک فرماتا ہے میرے بندہ کو دیکھو اس نے میرے گھر کی طرف رخ کیا۔ میری بزرگی بیان کی تسبیح  و تہلیل میں مشغول ہوا اور جو سورۃ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی وہی پڑھی اور میرے رسول پر درود بھیجا۔ میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس کےعمل کو قبول کیا اس کے اجر کو واجب کر دیا اس کے گناہ بخش دیئے اور اس نے جو کچھ مانگا میں نے اس کی سفارش قبول کی ۔
٭ عرفہ کے دن  چائیے کہ نماز فجر کے بعد سات مرتبہ یہ دعا پڑھے اول و آخر درود پاک پڑھے ،

یَا ذَخِیْرَتِیْ یَا ذَخِیْرَتِیْ یَا مُمِدِّ عِنْدَ شِدَّ تِیْ یَا رَِ جَا نِیْ عِنْدَ وَحْدَ تِیْ  یَا رَحْمَتِیْ فِیْ دِقَّتِی فِیْ خَیْرَ تِیْ  بِکَّ التَّوْفِیْقِ۔

پروردگار عالم عرفہ کے دن اس دعا کو پڑھنے والے کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے اس کی نیک حاجت پوری فرماتا ہے اور نیکی کے کاموں کے کرنے کی توفیق مرحمت فرماتا ہے۔

 ماہنامہ عبقری "ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر 11


Tuesday, August 18, 2015

میں نے پائی اعمال کی برکت! آپ بھی پڑھیے

میں نے پائی اعمال کی برکت! آپ بھی پڑھیے:

انسولین چھوٹ گئی شوگر نارمل ہو گئی:۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!  ہمارے ایک ڈاکٹر صاحب ہیں وہ خود شوگر کے مریض ہیں تو مجھے ایک دن ملے تو بالکل ہشاش بشاش تھے ، ان کی صحت قابل رشک تھی ، میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ ایک عمل سے میری انسولین چھوٹ گئی اور شوگر نارمل ہو گئی اور میری صحت بھی کافی بہتر ہو گئی ہے ۔ میں نے ان سے عمل پوچھا تو انہوں نے درج ذیل عمل بتایا :۔
عمل:۔ اول وآخر درود شریف تین بار، یہ آیت ایک مرتبہ  إِنَّهُ عَلَىٰ رَجْعِهِ لَقَادِرٌ سورہ الزریت پوری سورہ ایک مرتبہ ۔یہ پور عمل ہوا۔
اس طرح دن میں جتنی دفعہ آپ یہ عمل کر سکتے ہیں ۔ آپ شوگر کی بیماری کا تصور کھ کر یہ پڑھیں ۔ انشاءاللہ، اللہ پاک کی رحمت خاص ہو گی۔



  سورہ کوثر اور برکت والی تھیلی کی برکت :۔

میں نے اپنے ایک دوست کو برکت والی تھیلی ہدیہ کی تھی اور اس کا عمل تفصیل سے سمجھا دیا تھا ۔ کچھ عرصہ بعد میرا دوست مجھے بتانے لگا کہ برکت والی تھیلی کا عمل جو آپ نے دیا تھا وہ بڑا زبردست ہے ۔ میں نے پوچھا کیسے؟ بتانے لگا کے چند ماہ پہلے میری بہن کی شادی تھی تو ہم نے اپنی زمین بیچ دی تھی اور جو اس کی رقم تھی وہ ہم نے برکت والی تھیلی میں ڈال کر رکھ دی اور ہم نے رمضان میں بھی اس پر سورہ کوثر 129 مرتبہ صبح و شام پڑھی ۔ اس تھیلی میں ہم نےا ڑھائی لاکھ روپے رکھے تھے اور شادی کے سارے خرچے اسی تھیلی کے پیسوں سے کرتےرہے ۔ کہنے لگا کہ جب ہم نے شادی کے بعد اخراجات کا حساب لگایا تو وہ خرچہ ساڑھے چار لاکھ روپیہ تھا ۔ اللہ پاک کی غیبی مدد آئی ۔ اللہ پاک کے نام کی برکت سے سارے کام اڑھائی لاکھ میں ہو گئے ۔
سلام قولا من رب رحيم کی برکت

ایک شخص نے مجھے بتایا کہ میں جب بھی موٹر سائیکل پر گھر سے نکلتا ہو ں سلام قولا من رب رحيم کا وردشروع کر دیتا ہوں اس کی برکت سے میں ہر قسم کے حادثات و پریشانیوں سے بچا رہا ہوں ، دو مرتبہ تویقینی حادثوں سے اللہ پاک نے مجھے بچایا ۔


دل نیکی کی طرف مائل:۔

ایک لڑکا اپنا تجربہ بتانے لگا کہ میںسلام قولا من رب رحيمکی صبح فجرکے بعد تسبیح کرتا ہوں ۔ جس کی وجہ سے میرا دل نیکی کر طرف مائل ہونا شروع ہو گیا ہے ، نماز میں خشوع و خضوع آ گیا ہے ۔ ذکر و درود پاک پڑھنے کو خوب دل کرتا ہے ۔ اللہ پاک نے جھوٹ، غیبت، چغلی سے بچایا ہوا ہے۔

 ماہنامہ عبقری "اگست 2015ء شمارہ نمبر 110" صفحہ نمبر30