Showing posts with label حج و عمرہ. Show all posts
Showing posts with label حج و عمرہ. Show all posts

Monday, January 4, 2016

خوش قسمت ہو جو تسبیح خانہ میں ہو

خوش قسمت ہو جو تسبیح خانہ میں ہو :۔


مولانا ظہور احمد بھگوی صاحب رحمۃاللہ علیہ بڑے اللہ والے گزرے ہیں ان کے ایک خادم منیر احمد بہت مزاحیہ تھے ، ایک دن منیر احمد اپنے پیر سے کہنے لگے آپ کے اتنے امیر امیر مرید ہیں کسی کو کہہ کر مجھے حج تو کروا دیں ۔ مولانا ظہور احمد بھگوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر تو آئندہ سے مذاق کرنا چھوڑ دے تو میں بات کرتا ہوں ۔ حتیٰ کہ یہ بات اسٹامپ پیپر پر لکھی گئی اب حضرت رحمۃاللہ علیہ نے ایک مرید کو حج کا کہہ دیا ۔انہوں نے سعادت سمجھی کہ ہمارے مرشد کا حکم ہے اس لئے انہوں نے حج کا انتظام کیا ۔ اس وقت حج کیلئے مکہ بحری جہاز سے جانا ہوتا تھا حضرت کیساتھ دو تین خدام اور بھی تھے منیر احمد بھی حضرت کے ساتھ تھے اب حج کیلئے گئے حج کیا حلق کرایا حلق سرمنڈوانے کو کہتے ہیں اس کے بعد احرام کھولا احرام کھول کر پھر طواف زیارت کرنے گئے رمی کی ۔
ہن رب نال گلاں کرن دے :۔ واپسی میں جب منیر احمد گدھے پر سوار ہوا تو کہنے لگا ۔ مڑ ظہور احمد ! ہن رب نال گلاں کرن دے ۔ مولانا ظہور احمد بھگوی صاحب رحمۃاللہ علیہ کہنے لگے تو پھر مذاق کر رہا ہے ؟ منیر احمد کہنے لگا ناں ! ناں ! پھر اللہ سے کہنے لگایا اللہ ! ساڈے جھنگ دا اک رواج اے جیڑھا جنھا وڈا خبیث ہوندا اے جنا وڈا مجرم ہوندا اے ،اس دا منہ کالا کر کے انہوں کھوتے دے بیڈھاندے نیں ۔ طے سر وی منڈوادے نیں ۔ اللہ پاک سر دے وال وی گئے طے کھوتے اتے وی بہہ گیا ۔ مڑ ہونٹر بخشش نہ ہوئی طے گل نہ بنٹریں ۔ مولانا ظہور احمد بھگوی صاحب رحمۃاللہ علیہ کہنے لگے ۔ تو مڑ بکواساں شروع کر دیتیاں ۔ منیر احمد کہنے لگا ناں !ناں ! ظہور احمد ہن رب نال گلاں کرن دے بس اب یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں ایک صاحب کمال درویش وقت کے ابدال وہاں سے گزر رہے تھے کیونکہ جتنی بھی باکمال ہستیاں ہوتی ہیں حج پر مکہ میں ضرور ہوتی ہیں ۔ وہ وہاں سے گزرنے لگے تو کہنے لگے بھئی کیا کر رہے ہو؟ اس کو باتیں کرنے سے نہ روکو ۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ جس کیفیت کے ساتھ یہ رب سے باتیں کر رہا ہے اور رب کی رحمتیں اس پر اتر رہی ہیں جب انہوں نے یہ بات کہی تو مولانا ظہور احمد بھگوی صاحب رحمۃاللہ علیہ فرمانے لگے ۔ بس ہن گلاں کر بس چھوڑ تو جان تیرا رب جانے جس کو رب سے باتیں کرنے کا سلیقہ آ گیا وہ پا گیا اس کا کام بن گیا ۔