Showing posts with label نفسیاتی مسائل. Show all posts
Showing posts with label نفسیاتی مسائل. Show all posts

Thursday, January 4, 2018

نفسیاتی گھریلو الجھنیں اور علاج


سوال:۔
ناکامی کا خوف:۔
انٹر میں داخلہ لینے کے بعد میں نے راتوں کو جاگ کر پڑھنا شروع کردیا۔ گھر والے مستقل مجھے احساس دلاتے کہ اگر میں نے اچھے نمبروں سے امتحان پاس نہ کیا تو میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں ملے گا۔ میں بھی سوچتی کہ مستقبل تاریک نہیں کرنا‘ اب پڑھنا ہے۔ میں نیند بھگانے کیلئے چائے اور کافی کثرت سے استعمال کرتی‘ جیسے تیسے امتحان دے دیا۔ پاس بھی ہوگئی لیکن اتنے نمبر نہ آئے کہ داخلہ ہوجاتا۔ اب گھر والے شادی کا ذکر کررہے ہیں میں اس پر بالکل بھی تیار نہیں۔ عجیب قسم کا خوف ہے‘ ساری ساری رات جاگ کر گزارتی ہوں‘ گھبراہٹ ہوتی ہے‘ نیا گھر‘ نئے لوگ اور وہ اجنبی شخص جس کے ساتھ زندگی بھر کا ساتھ ہوگا پتا نہیں کیسا ہو؟ کہیں میری زندگی ناکام نہ ہوجائے‘ اس سے بہتر ہے میں خود کو ختم کرلوں۔ (ج۔ جگہ نامعلوم)
جواب:۔
 بے خوابی انسان کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے‘ مسلسل جاگنے سے گھبراہٹ‘ پژمردگی کی کیفیت اور جلد مایوس ہوجانے کی عادت کے ساتھ چڑچڑاپن بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ امتحان میں اچھے نمبر تو آگئے لیکن آپ نے داخلہ نہ ہونے کی وجہ سے خود کو ناکام سمجھ لیا۔ اب یہ خوف شادی کے حوالے سے بھی پیدا ہورہا ہے۔ اچھے نمبروں سے کامیابی زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں اسی طرح شادی کے ناکام ہوجانے کا ڈر اتنا نہ ہوکہ خود کو ختم کرنے کا خیال غالب آجائے۔ مثبت سوچیں‘ اکثر لڑکیوں کو نئے لوگوں کے ساتھ ہی زندگی گزارنی پڑتی ہے‘ شادی شدہ ایسی لڑکیوں سے ملیں جو کامیاب اور خوشحال زندگی گزار رہی ہوں تاکہ خیالات میں مثبت تبدیلی آئے۔
سوال:۔
 شادی کیوں نہیں کی؟
میری شادی 35 سال کی عمر میں ہوئی‘ دس سال ہوگئے‘ اس وقت بیٹا 8 سال کا ہے‘ اس کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ میں نے 25 سال کی عمر میں شادی کیوں نہیں کی۔ بیٹا جوان ہوتا تو کتنا اچھا تھا‘ چھوٹے چھوٹے بچوں کو بڑی عمر تک کس طرح توجہ دے سکوں گا۔ یہ سوچ کر تھک جاتا ہوں‘ رشتہ دار اور دوست بھی اس بات کا احساس دلاتے ہیں‘ مایوسیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ (محمد عمر‘ لاہور)
جواب:۔
شادی دیر سے ہویا جلدی‘ بچے سب کے بڑے ہوجاتے ہیں۔ عمر کی پروانہ کریں بچوں کی تعلیم اور تربیت اچھی ہونی ضروری ہے‘ مثبت انداز میں سوچا کریں اور دوسروں کی بھی ایسی باتوں پر توجہ نہ دیں جو مایوسی کا شکار بنائیں بلکہ کسی سے ملتے ہوئے خوشی کا اظہار کریں۔ آپ کے مثبت رویے کا بچوں پر بھی اچھا اثر ہوگا۔ اگر مایوسی بڑھتی گئی تو بچے بھی بہت جلد مایوس ہونا سیکھ جائیں گے۔
سوال:۔ 
 بیٹی ہروقت آئینہ دیکھتی رہتی ہے:۔
میری بیٹی ہر وقت اپنا چہرہ آئینے میں دیکھتی رہتی ہے اور کہتی ہے کہ کبھی اس کو اپنی اصلی شکل نظر آتی ہے جو بہت خراب ہے اور بعض اوقات وہ ایسا چہرہ دیکھتی ہے جس کو خوبصورت کہا جاسکتا ہے۔ اس کو آئینے میں اپنا چہرہ مختلف انداز سے نظر آتا ہے‘ یہ ہماری اکلوتی بیٹی ہے جو کچھ وہ کہتی ہے میں پوری توجہ سے سنتی ہوں‘ مسئلہ یہ ہے کہ کسی گوری چٹی لڑکی کو دیکھ کرمرعوب ہوجاتی ہے اور کہتی ہے کہ میری جلد بدلوادیں‘ پھر ہم سب ہی اداس ہوجاتے ہیں کہ ہمارے پاس اتنی دولت نہیں۔ ایک روز میری بہن نے کہا کہ اس کے ساتھ تو نفسیاتی مسئلہ ہے اس پر ہم لوگوں کو بہت غصہ آیا کیونکہ ہم کبھی برداشت نہیں کرسکتے کہ ہماری بیٹی کو کوئی نفسیاتی مریضہ یا پاگل کہے کیونکہ وہ بہت اچھی باتیں کرتی ہے۔ پڑھنے میں ٹھیک ہے‘ دیکھنے میں اچھی نظر آتی ہے بس یہ آئینے میں چہرہ دیکھ کر پریشان ہونے والی بات سمجھ میں نہیں آرہی۔ (عائشہ‘ ملتان)
 جواب:۔
 یہ آپ کی بیٹی کا ہی مسئلہ نہیں‘ اکثر لڑکیاں یہ سوچتی ہیں کہ وہ بہت لمبی ہیں یا چھوٹی یا موٹی یا ان کے بال اچھے نہیں‘ رنگ گورا نہیں‘ نقوش موٹے ہیں وغیرہ اہم یہ ہے کہ گھر کے دیگر لوگ خاص طور پر ماں اس رویے پر کیسا رد عمل کرتی ہیں۔ بیٹی آئینے میں چہرہ دیکھتی ہے تو آپ اس کے اس عمل کو نظر انداز کریں بلکہ اس کو کوئی مصروفیت دیں۔ جو لڑکیاں گھر کے کاموں‘ تعلیم یا جاب میں وقت گزارتی ہیں ان کے پاس اپنے بار ےمیں مستقل منفی سوچنے کا وقت نہیں رہتا بلکہ ذمہ داریوں کی ادائیگی سکون مہیا کرتی ہے۔
سوال:۔ 
 معدے میں تکلیف اور ٹیسیں:۔
کئی ماہ سے میرے معدے میں تکلیف ہے کبھی درد اٹھتا ہے تو کبھی ٹیسیں۔ دوستوں نے سگریٹ پینے کا مشورہ دیا۔ اس سے چند روز فائدے کا احساس ہوا پھر وہی حالت ہوگئی۔ البتہ رات کو یہ تکلیف نہیں ہوتی‘ فون پر دوستوں سے اچھے موڈ میں باتیں کرتا ہوں‘ کوئی کہہ نہیں سکتا میں بیمار ہوں‘ صبح ہوتے ہی بستر پر کروٹیں بدل رہا ہوتا ہوں‘ کالج میں پڑھنے کی وجہ سے بڑی بہن کے گھر رہ رہا ہوں میں نہیں چاہتا کہ ان کو مجھ سے تکلیف پہنچے۔ (شرجیل خان‘پشاور)
جواب:۔
 ماہرین کے مطابق مختلف قسم کے درد سے بچنے کیلئے زندگی بسر کرنے کے صحت مند طریقے اپنانے چاہئیں۔ نشہ آور اشیاء ادویات اور تیزابیت پیدا کرنے والی خوراک سے پرہیز کریں‘ ہر روز رات کو ایک مقررہ وقت تک بھرپور نیند لیں‘ اس کے علاوہ ورزش کو معمول بنالیں۔
سوال:۔ 
 وہ کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے:۔
میرے بیٹے کی عمر 18 سال ہے‘ پڑھنے میں ٹھیک ہے‘ پہلے بہت اچھا تھا‘ اس کے دوستوں نے بتایا ہے کہ وہ کسی لڑکی کو پسند کرنے لگا ہے‘ میں نے بھی محسوس کیا کہ اب وہ اکثر کھویا کھویا سار رہنے لگا‘ اردگرد کہیں بھی کوئی دلچسپی نہیں رہی‘ کوئی آئے کوئی جائے وہ اپنی ذات میں مگن رہتا ہے‘ موبائل فون پر مسلسل بات کرتا نظر آتا ہے۔ میں نے تو اسے اعلیٰ تعلیم دلوانی چاہی تھی‘ یہ سب کیا ہوگیا؟ میرا ایک ہی بیٹا ہے۔ (عفت کریم‘ لاہور) 
جواب:۔
 ایسا عموماً ان لڑکوں کے ساتھ ہوتا ہے جو اپنے والدین سے زیادہ بے تکلف نہیں ہوتے‘ اپنے مسائل اور معاملات کو اپنے تک رکھتے ہیں یا پھر دوستوں میں زیر بحث لاتے ہیں‘ دوست بھی انہی کی عمروں کے ناتجربہ کار لڑکے غلط مشورے دے ڈالتے ہیں بیٹے سے نرمی اور ہمدردی کے ساتھ بات کرنے کی ضرورت ہے نوجوان لڑکے لڑکیوں میں افسردگی کی یہ علامت بہت عام ہے۔اس کیفیت کو گفتگو سے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

Wednesday, January 3, 2018

اسم اعظم کا روحانی دم


مجھے کسی نے ہرماہ تسبیح خانہ میں ہونے والے اسم اعظم کے روحانی دم کے بارے میں بتایا تو میں بھی ان کے ساتھ مقررہ دن چل پڑا۔ میرا مسئلہ یہ تھا کہ میرے بازو میں ہروقت درد رہتا تھا‘ ہر قسم کا علاج کروایا مگر آرام نہ آتا تھا۔ میں پہلی مرتبہ ہی دم میں شریک ہوا‘ آپ نے مجھے دم کیا بہت سکون ملا۔ میرے بازو میں شدید درد تھا وہ صرف چار دم میں شرکت کرنے سے بالکل ختم ہوگیا۔ میں تسبیح خانہ میں دم کے علاوہ آپ کے درس میں بھی شرکت کی۔ اسم اعظم کے روحانی دم کے علاوہ مجھے آپ کے درس سے بھی بہت زیادہ فائدہ ہورہا ہے۔ میرے پاس بھینسیں ہیں اور میں انہیں چرانے کیلئے شہر سے دور ویران جگہ لے جاتا ہوں‘ ایک مرتبہ بھینسیں چراتے ہوئے ظہر کا وقت ہوا تو میں نے اپنے ساتھی سے اجازت لی اور نماز پڑھنے گیا‘ میں نے وضو کیا اور مسجد میں چلا گیا تو اکثر وہ مسجد ویران ہی رہتی ہے۔ میں نے آپ کے درس میں سنا تھا کہ اللہ نے نیک صالح جنات کی ڈیوٹیاں لگائی ہوتی ہیں جو ان مساجد کو آباد کرتے ہیں تو میں نے جاکر السلام علیکم جنات المسلمین کہا مجھے نظر تو کچھ نہیں آیا لیکن ایک خوشبو ایسی آئی جو زندگی نے آج تک نہیں سونگھی تھی اور حسب معمول جھاڑو دیا کیونکہ آپ کے درس میں سنا تھا کہ ویران مسجد میں جھاڑو دینے کے بہت فائدے ہیں پھرمیں نے مسجد میں جھاڑو دیا اور جب سنتوں کے بعد فرض پڑھنے لگا تو پھر وہ ہی خوشبو آنے لگی۔ اسم اعظم کے روحانی دم میں ہر ماہ باقاعدگی سے شرکت کرتا ہوں‘ الحمدللہ! میری جسمانی مسائل کے ساتھ ساتھ میرے روحانی مسائل بھی حل ہورہے ہیں‘ اللہ نے حرام سے بچایا ہوا ہے‘ ایک مرتبہ میرے دوست میرے لیے مالٹے لائے میں نے پوچھا کہاں سے لائے تو انہوں نے کہا کہ چوری کے ہیں‘ تو میں نے ہاتھ کھینچ لیے‘ انہوں نے میرا مذاق بھی اڑایا اور کھانے شروع کردئیے‘ مالٹے کھا کر سوئے تو جو ساتھی مالٹے چوری کرکے لایا تھا اسے اسی رات کسی نے غلطی سے گولی ماردی‘ انہوں نے مارنا کسی اور کو تھا اور گولی اس کو لگ گئی۔ گولی لگنے کی وجہ سے اس کا بازو کٹ گیا۔ تو میں نے دل میں کہا کہ یااللہ یہ انجام ہے اس کا جو ناحق کسی کا حق کھائے۔ میرے مزاج میں یہ تبدیلی صرف ہرماہ اسم اعظم کے روحانی دم میں شرکت کی وجہ سے آرہی ہے۔

Monday, December 11, 2017

عجب مسائل اور حل


عجب مسائل:۔ 
 دائیں کان میں پھڑپھڑاہٹ‘ مخصوص آواز کا رات کو نیند سے جگا دینا‘ بالوں میں دائیں طرف خارش جیسے بڑا کیڑا چل رہا ہوں‘ جسم لاغر‘ جان ختم‘ بال اور دانت خراب‘ منہ اندر سے خراب ہوگیا ہے۔ میکے اور سسرال میں جھگڑے‘ اپنے پرائے ہوگئے ہیں۔ اس سب کیلئے کوئی خصوصی وظیفہ عنایت فرمائیں۔ اس کے علاوہ والدہ کی طبیعت بہت خراب‘ اکثر جھٹکے لگتے ہیں‘ ہروقت گھبراہٹ اور ڈر رہتا ہے۔
جواب:۔
آپ اور آپ کی والدہ سورۂ مومنون کی آخری چار آیات اور اذان سات سات مرتبہ اول وآخر تین مرتبہ درودشریف کے ساتھ ہر گھنٹے بعد پڑھ کر اپنے دونوں کانوں پر دم کریں۔ساتھ جو پانی پینے کیلئے استعمال کرتے ہیں اس پر دم کریں اور سارا گھر وہ پانی پیے۔ناغہ کے دنوں میں یہ عمل نہ کریں۔ آپ کی طرف سے کوئی اور گھر کا فرد کرسکتا ہے۔

Saturday, September 3, 2016

نفسیاتی گھریلوالجھنیں اور آزمودہ یقینی علاج

تم کوئی اور کام کرو
 آج کل میں اپنے ایک دوست سے رپورٹنگ سیکھ رہا ہوں‘ وہ بڑی مشکل سے اپنے ساتھ لے جاتا ہے کیونکہ بہت مصروف ہے۔ بہرحال جب بھی مجھے موقع ملتا ہے اپنی موٹرسائیکل پر کیمرہ لے کر اس کے ساتھ چل پڑتا ہوں۔ کہیں آگ لگی ہو‘ گولیاں چل رہی ہوں‘ لوگ زخمی ہوں وہ بالکل نہیں ڈرتا‘ نہ گھبراتا ہے بلکہ تصاویر کھینچتا رہتا ہے۔ وہ اپنے پیشے میں کامیاب ہے۔ جان کی پرواہ نہیں کرتا جبکہ میں ایسی جگہوں سے ڈر جاتا ہوں۔ زخمیوں کو دیکھ نہیں سکتا‘ توان پر خبر یا تصویر کیسے بناؤں؟ وہ کہتا ہے تم کوئی اور کام کرو۔ (اسد علی‘ لاہور)
مشورہ
 اپنے پیشے میں کامیاب ہونے کیلئے جان کی پرواہ نہ کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ انسانی جان پیشے سے زیادہ قیمتی ہے۔ اپنی جان ہو یا کسی

Thursday, September 1, 2016

قوت فیصلہ اور جلد بازی


جلد بازی ہمیشہ کام بگاڑ دیتی ہے۔ اس سے حتیٰ الوسع اجتناب کریں۔ زندگی کا کوئی فیصلہ کرنے بیٹھیں تو پہلے اسے اپنے ذہن میں ضرور تولیں‘ اس کے حسن و قبح کا امکان بھی جائزہ لیں‘ آئندہ زندگی میں اس کی وجہ سے جو تبدیلیاں متوقع ہیں۔ ان کا ایک خاکہ بنا لینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں لیکن اس سارے معاملے کو جتنی جلدی سمیٹ لیا جائے تو اتنا ہی آپ کے حق میں بہتر ہوگا۔ورنہ ہروقت کی فکر اور تشویش سے آپ کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں سخت متاثر ہونگی اور آپ کبھی اپنےفیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حالات کے سامنے سینہ سپر نہ ہوسکیں گے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے: انسان جب تک کسی معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ کرکے اسے نمٹا نہیں لیتا‘ اس کے ذہن میں اندیشہ ہائے دور دراز کلبلاتے رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اسے جوذہنی کوفت اٹھانی پڑتی ہے اور جس اعصابی شکست و ریخت سے دوچار ہونا پڑتا ہے وہ کسی غلط فیصلے کے نتیجے میں ظہور پذیر ہونے والی صورت حال کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ ڈیل کارنیگی کا کہنا ہے کہ اسے جب کسی اہم معاملے کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے وہ سب سے اس کے متعلق تمام معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کرتا ہے گویا وہ ایک وکیل کا فریضہ انجام دیتا ہےجو اپنے مقدمے کی پوری تیاری کرتا ہے اور اس کی کامیابی کے لیے تمام ضروری مواد جمع کرتا ہے۔ ڈیل کارنیگی کا نسخہ آپ بھی آزما سکتے ہیں۔ اس طرح کوئی قدم اٹھانےسےپہلےجو بھی فیصلہ کریں گے۔ اس سے پیدا ہونے والےنتائج کے اچھے اور برے دونوں رخ کھل کر سامنے آجائیں گے۔
 

Tuesday, February 23, 2016

مایوس نہ ہوں! زندگی کو زندگی کی طرح بسر کرنا سیکھ لیں


آدمی کو مغموم رہنے سے ایک غیرفطری قسم کی طمانیت محسوس ہوتی ہے۔ آپ نے اپنے ملنے جلنے والوں ہی میں ایسے کئی افراد دیکھے ہوں گے جنہیں بیمار رہنے کا شوق ہے اسی طرح بعض لوگ رنج و الم سے لذت حاصل کرتے ہیں۔احمد پہلونٹی کا بچہ تھا۔ باپ کپڑے کی ایک چھوٹی سی د کان کا مالک تھا جب بڑے سرمایہ دار اس میدان میں اترے تو اس کا کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ اس مصیبت کا مداوا اس نے ایک عجیب سے احساس برتری میں پایا‘ وہ بڑے پیمانے کی تجارت کو حقارت سے دیکھنے لگا‘ گویا کاروبار کے متعلق منفی زاویہ نظر کا سبق اسے بچپن ہی میں مل چکا تھا‘

 اس کی اپنی تو کوئی چھوٹی دکان تھی نہیں مگرباپ کے نقش قدم پر چلنا ضروری تھا چنانچہ اس نے ایک چھوٹی دکان پرنوکری کرلی۔ بچپن میں احمد اکثر بیمار رہتا چونکہ پہلا بچہ تھا اس لیےماں کی ساری توجہات اسی پر مرکوز رہتیں لیکن چند سال بعد یکے بعد دیگرے گھر میں ایک بچی اور بچے نے قدم رکھا اور والدین کی توجہ اب تینوں بچوں میں بٹ گئی احمد کیلئےوہ پہلا سا التفات نہ رہا‘ چنانچہ وہ بے زار رہنے لگا‘ والدین سمجھے کہ بچہ واقعی بیمار ہے کچھ عرصے بعد اسے پھر ویسی ہی توجہ ملنے لگی جیسی پہلے ملتی تھی۔ عمر کے اس دور میں احمد نے دو ایسےسبق سیکھے جومستقبل میں اس کے اطوار کی بنیاد بن گئے لیکن یہ سبق تھے بہت نقصان دہ۔ ایک سبق یہ تھا کہ اپنے اوپر خوب افسردگی اور بے زاری طاری کرلو تو تمہاری طرف توجہ دی جائے گی‘ بچپن میں یہ حربہ کامیاب رہتا ہے لیکن بڑے ہوکر کام نہیں دیتا۔ عام لوگ مردہ دلی کو پسند نہیں کرتے اور ایسے افراد سے کنی کتراتے ہیں۔ احمد کو بڑے ہوکر یہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہیے تھی لیکن اس نے ایسا نہ کیا۔ اس کے تحتُ الشعور میں لڑکپن کی وہی باتیں جمی ہوئی تھیں اور اب بھی اس کے جذبات اسی بچگانہ اصول کے تابع تھے کہ ابا اماں کی توجہ کھینچنے کیلئے منہ بسورنا ضروری ہے۔ والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا مگر منہ بسورنے کی عادت نہ گئی۔ دوسرا سبق اس نے بچپن میں یہ سیکھا کہ آدمی کو مغموم رہنے سے ایک غیرفطری قسم کی طمانیت محسوس ہوتی ہے۔ آپ نے اپنے ملنے جلنے والوں ہی میں ایسے کئی افراد دیکھے ہوں گے جنہیں بیمار رہنے کا شوق ہے اسی طرح بعض لوگ رنج و الم سے لذت حاصل کرتے ہیں۔ ایسے لوگ دراصل زندگی کی ہمہ گیری سے گھبراتے‘ اس کے نشیب و فراز سے ڈرتے اور حقائق کا سامنا کرنے سے جی چراتے ہیں۔ حزن و ملال اور یاس و ناامیدی کی تاریکیوں میں ہمہ وقت گھرے رہنا ہی انہیں تسکین دیتا ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے ساتھ دوسروں کو بھی افسردگی اور مایوسی کے تاریک غاروں میں دھکیل دیتے ہیں۔ مسرت اور شگفتگی کوئی خدادا عطیہ نہیں۔ آدمی خواہ کسی حال میں ہو وہ چاہے تو خوشی اور مسرت کے سامان پیدا کرسکتا ہے یہی وہ سبق تھا جو احمد کو سیکھنا تھا لیکن اس کے لیے ضروری تھا کہ بچپن میں رٹے ہوئے اسباق کو فراموش کردیا جائے۔ یہ تو ہر شخص جانتا ہے کہ پُرانی عادت یک لخت ترک کردینا آسان نہیں زندگی کےمتعلق زاویہ نظر بدلنا تو اور بھی مشکل ہے‘ تاہم نئی راہیں کون تلاش نہیں کرتا۔ زندگی سنوارنے کیلئے ہم میں سے ہر ایک کو بارہا اپنے طور طریقے بدلنے پڑتے ہیں آخر ہم انسان ہیں‘ جھاڑ جھنکار نہیں کہ ایک تودۂ خاک میں جڑپکڑلیں‘ تو عمر بھر کے لیے وہیں کے ہورہیں‘ ناپختہ احساسات اور بچپن سے ذہن میں بیٹھے ہوئے غلط تصورات کو زندگی بھر کے لیے اپنے اوپر طاری کرلینے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ انسان ایک خزاں رسیدہ درخت کی مانند کملایا مُرجھایا رہتا ہے۔ہم میں سے اکثر لوگ چھوٹی چھوٹی شکایات‘ حقیر سے تفکرات اور معمولی معمولی دشواریوں کے مقابلے میں اضمحلال اور یاس و الم میں مبتلا رہنے کےعادی ہوچکے ہیں۔ کوئی بات ذرا بھی خلاف مزاج ہوجائے تو خود اعتمادی کو ٹھیس لگتی محسوس ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ ہر بات پر بیزاری کا اظہار ہمارے لیے وقار کامسئلہ بن جاتا ہے لیکن اداس اوربیزار رہنا زندگی کی توہین ہے بلکہ کفران نعمت میں داخل ہے۔ صحت مندانہ زاویہ نظریہ ہے کہ آپ زندگی کو اللہ کی عطا کردہ نعمت تصور کیجئے ایسی نعمت جو دوبارہ نہ ملے گی لہٰذا اسے بوجھ نہ سمجھئے اور اس کے ایک ایک لمحے کو انتہائی قیمتی اور بیش بہا جان کر کام میں لانے کی سعی کیجئے یاد رکھیے! اگر ہم زندگی کو زندگی کی طرح بسر کرنا سیکھ لیں تو دنیا میں ہم سے زیادہ مطمئن اور خوش و خرم انسان کوئی اور نہ ہوگا۔ اس حقیقت کو تسلیم کرلینے کے بعد احمد کے لیے بس ایک آسان سے نسخے پر عمل کرنا باقی رہ گیا جب کوئی مشکل سر اٹھاتی تو وہ اپنے آپ سے سوال کرتا کہ اسے کس طرح حل کرسکتا ہوں بہت غور و فکر کے بعدجو حل سامنےآتا اس کے مطابق عمل کرتا۔ دراصل افسردگی اور بیزاری کے زہر کا تریاق عمل سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ حقیقت بھی ذہن پر نقش کرلینی چاہیے کہ دنیا کی ساری مصیبتیں آپ ہی کیلئے خاص نہیں ہیں۔ دوسروں کو بھی ایسے ہی مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کوئی بھی مشکل ایسی نہیں جو حل نہ ہوسکے اور کوئی عقدہ ایسا نہیں جو وا نہ ہوسکے۔ ذرا کاپی پنسل لے کر بیٹھیے اور ان چیزوں کی فہرست بنائیے جن سے محرومی آپ کو صدمہ پہنچائے گی دیکھئے ایمانداری سے کام لیجئے اس فہرست میں وہ چیزیں بھی لکھئے جن سے بعض اوقات آپ کو شکایت ہوتی ہے۔ اسی طرح فہرست بناتے چلے جائیے آپ دیکھیں گے کہ خاصی طویل بن جائے گی بلکہ جب بھی آپ اس پر نظرثانی کریں گے اس میں اضافہ ہوگا۔ اب آپ ملنے جلنے والوں میں سے کسی ایسے شخص کا انتخاب کیجئے جو عموماً شگفتہ نظر آتا ہو۔ اس کے متعلق ایسی باتوں کی فہرست تیار کیجئے جنہیں وہ برداشت کرتا ہو لیکن یہ باتیں آپ کے نزدیک قطعی ناقابل برداشت ہوں‘ یہاں یہ احمقانہ عذر پیش نہ کیجئے کہ میں تو عام لوگوں سے زیادہ حساس واقع ہوا ہوں‘ یہ قابل فخر بات نہیں‘ اس کا مطلب یہ کہ آپ زندگی بسر نہیں کرتے بلکہ اس کے بخیے ادھیڑنے میں لگے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ بعض لوگ دوسروں سے کسی قدر زیادہ حساس ہوتے ہیں لیکن حساس ہونے کا یہ مطلب کہاں ہے کہ آپ تکلیف ہی تکلیف محسوس کرتے جائیں حقیقتاً حساس آدمی اسے کہیں گے جو دوسروں کی نسبت اگر تکلیف زیادہ محسوس کرتا ہے تو خوشی کے موقع پر خوش بھی دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے‘ مصیبت نازل ہو تو خود کو بدنصیب ٹھہرانے کے بجائے یہ سوچنے کی کوشش کیجئے کہ دنیا میں آپ سے بھی زیادہ بدنصیب لوگ نہ جانے کتنے ہوں گے پھر ذرا برنارڈ شاہ کے اس مقولے پر غور فرمائیے کہ جس طرح اپ کو دولت پیدا کیے بغیر اس سے استفادے کا حق نہیں اسی طرح مسرت کےاسباب پیدا کیے بغیر مسرور ہونے کا حق بھی نہیں۔ مشہور ماہر نفسیات ایلفرڈایڈلر کے پاس مالیخولیا کا مریض آتا تو وہ مریض سے کہتا: روزانہ کوئی ایسی تدبیر سوچو کہ کسی دوسرے شخص کو تمہارے باعث خوشی اور مسرت حاصل ہو۔ احمد نے بھی اس نسخے پر عمل کیا۔ ایک مرتبہ اس نے مجھے بتایا: ہردم خوش و خرم رہنے کی کوشش کرتا ہوں اور جب بھی کوئی مشکل سامنے آتی ہے تو سوچتا ہوں گھبرانے کی ضرورت نہیں‘ سب ٹھیک ہوجائے گا لیکن اطمینان قلب پھر بھی نصیب نہیں ہوتا۔ مجھے ہنسی آگئی۔ میں نے اسے سمجھایا: بھلے آدمی‘ تم نے بزرگوں کا یہ قول نہیں سنا کہ ایمان عمل کے بغیر بے کار ہے‘ جو کچھ سوچتے ہو اس پر عمل بھی تو کیا کرو‘ محض دل کو اس بات کا دلاسا دینا کافی نہیں کہ سب ٹھیک ہوجائے گا‘ اس کےبعد احمد کی شخصیت میں واقعی انقلاب سا آگیا۔ وہ شاداں و فرحاں رہتا ہے اور اپنی عمر سے زیادہ بوڑھا نظر نہیں آتا۔ارشدحسین‘ لاہور

Saturday, December 12, 2015

نفسیاتی گھریلو الجھنیں اور آزمودہ یقینی علاج

نفسیاتی گھریلو الجھنیں اور آزمودہ یقینی علاج :۔


اسے کسی کی پروا نہیں:۔
شوہر دل کے مریض ہیں ۔ پچھلے ہفتے ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو ہسپتال میں داخل کروانا پڑا ۔ اب میں رات بھر ان کی تیمارداری کیلئے ہسپتال میں رہتی ہوں ۔ دن میں ان کے بھائی آ جاتے ہیں ۔ میں جاتی ہوں تو ان کا کوئی دوست آ کر رہتا ہے بیٹا پندرہ سال کا ہے اسے کسی کی پروا نہیں ، آٹھویں جماعت میں پڑھتا ہے سوچتی ہوں۔ اس کو اس کے والد کے پاس چھوڑا تو پڑھائی کا نقصان ہو گا دلچسپی نہیں لیتا مجھ سے بھی ہمدردی نہیں یہ خط ہسپتال سے ہی لکھ رہی ہوں ۔
مشورہ :۔ آپ نے گھر اور ہسپتال کی ساری ذمہ داری خود سنبھال لی اس لئے بیٹا بے فکر ہو گیا چند گھنٹے دن یا رات اس کو ہسپتال میں بٹھا ئیں تاکہ اس کو معلوم ہو کہ والد کی کتنی طبیعت خراب ہے ۔ڈاکٹر کیا کہتے ہیں ۔ اس عمر کے بچوں سے گھر کے مسائل چھپانے نہیں چاہئیں اور نہ ہی بڑھا کر بتائیں اس طرح کہ وہ سیکھیں مشکلات کا مقابلہ کس قدر حوصلے اور بردباری سے کیا جاتا ہے کبھی وہ آپ کی بات میں دلچسپی نہ لے تو برا نہ مانیں اس سے اس کے مسائل پر بات کریں اس کو بولنے کا موقع دیں تحمل سے سنیں ضرورت ہو تو ہمدردی کریں اسے جلد احساس ہو جائے گا کہ ماں سراپا محبت ہے پھر وہ کبھی آپ کو پریشان نہ دیکھ پائے گا لیکن ایسا ایک دم نہیں ہو گا تربیت اور اصلاح صبر آزما کام ہے ۔
ترقی کے راستے :۔
میٹرک کے بعد ڈر تھا کہ میری شادی کزن سے کر دی جائے گی مگر امی کو مجھے ڈاکٹر بنانے کا شوق تھا۔ ہمارے خاندان میں کوئی لڑکی ڈاکٹر نہیں جس لڑکے سے رشتہ طے ہو رہا تھا وہ ان پڑھ تھا بہر حال اب میں میڈیکل کالج کی طالبہ ہوں خاندان والے میرا مذاق اڑاتے ہیں میری وجہ سے کئی رشتے داروں نے ملنا چھوڑ دیا میری امی کو بھی باتیں سنائی جاتی ہیں تب مجھے غصہ آتا ہے ابو کسی کو کچھ کہنے نہیں دیتے بعض اوقات غصے میں آ کر کہتے ہیں پڑھائی چھوڑ دو اس سے تمہار دماغ خراب ہو رہا ہے تب مجھے بہت رونا آتا ہے ۔
مشورہ :۔ مہر ! خاندان والوں کے مذاق کو کچھ عرصہ اور برداشت کرلیں اپنی مرضی اور شوق کے مطابق زندگی گزارنے کیلئے صبر تو کیا جاتا ہے والدہ کو کوئی کچھ کہے تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنا جواب خود دیں ۔ آپ کو شامل نہیں کریں تاکہ والد آپ سے ناراض نہ ہوں آپ کو معلوم ہے زندگی کی مشکلات پر شکایت کرنے کے بجائے سبق لے کر آگے بڑھنے سے ترقی کے راستے کھلتے ہیں۔
خیالوں کا سکون :۔
مجھے بچپن سے خواب دیکھنے کی عادت ہے خیالوں ہی خیالوں میں خود کو سکول کا مانیٹر تصور کرتا رہا ہاتھ میں اسکیل لے کے بچوں کی پٹائی کرتا اس بچے کی جو اسکول میں مجھے تنگ کرتا رہتا ڈر اس قدر کہ اس کی کسی سے شکایت بھی نہیں کی جاتی اب میں ایف ایس سی کر چکا ہوں ابھی تک کہیں داخلہ نہیں لیاوالد کپڑے کا کاروبار کرتے ہیں اور میں خوابوں خیالوں میں خود فیکٹری کا مالک سمجھتا ہوں مجھے ان کی دکان پسند نہیں اور ان کو میرا فارغ رہنا اچھا نہیں لگتا بارہ سال پڑھ کر تھک گیا ہوں میرے گروپ کے دو لڑکے گریجوایٹ کر رہے ہیں ۔
مشورہ:۔خیالوں کا سکون پائیدار نہیں ۔ سچی اور حقیقی خوشیوں کا احساس ہی مختلف ہوتا ہے ۔ خوابوں اور خیالوں میں فرق ہے ۔ خوابوں پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا جبکہ خیالوں کو اپنی مرضی اور ارادے سے منفی یا مثبت بنایا جا سکتا ہے بچپن اب گزر گیا لہذا وہ تمنائیں بھی نہ رہیں حقیقی معنوں میں ترقی کیلئے اپنے عمل کو ابتدا سے شروع کرنا ہوتا ہے والد کے ساتھ دکان پر کام کریں کاروبار کا تجربہ حاصل ہو گا اس دوران تعلیم جاری رکھیں دوستوں سے زیادہ کامیاب رہیں گے ۔
بری خبر سن کر :۔
میرے دماغ پر ہر وقت دباؤ رہتا ہے دم گھٹتا ہے ۔ کوئی بری خبر خواہ کسی کے حوالے سے ہو سن کر پریشان ہو جاتی ہوں گھر میں سب ہی سمجھاتے ہیں اپنی فکر کرو صحت کا کیا حال کر لیا ہے۔مگر مجھے دنیا کی فکر ہے میں اپنی فکر کرنے والوں کو بے حس اور خود غرض سمجھتی ہوں ۔ ایک بات کا خیال ہے وہ یہ کہ چہرہ بہت مرجھایا ہوا ہے اور بڑی بہن چھوٹی معلوم ہوتی ہے ۔
مشورہ :۔چہرہ انسان کی ذہنی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے اب اگر آپ ہر وقت ذہنی دباؤ میں رہیں گی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کا اثر چہرے پر نہ آئے بری یا تکلیف دہ خبر سب کیلئے افسوس ناک ہوتی ہے مگر جسمانی اور ذہنی کیفیت کو اس انداز میں نہیں بدلتی کہ دم گھٹا ہوا محسوس ہو یا معمولات زندگی میں بڑی تبدیلی آ جائے سانس کی بہت سی مشقیں ہیں جو دم گھٹنے پر قابو پانے میں مدد گار ہو سکتی ہیں ۔ ان میں ایک یہ بھی ہے کہ جب آپ اپنے کاموں سے فارغ اور فرصت میں ہوں تو آنکھیں بند کر کے ناک سے سانس اندر کی طرف لیں ۔چند سیکنڈ کیلئے سانس کو روکیں پھر منہ کے ذریعے آہستہ آہستہ سانس باہر نکالیں اس دوران یہ تصور کریں کہ جب آپ سانس اندر لے رہی ہیں تو چہرے پر شادابی آ رہی ہے اور جب سانس باہر نکال رہی ہیں تو ساتھ میں ذہن سے منفی خیالات اور دباؤ دور ہو رہا ہے ۔
بیوی کو مجھ سے محبت نہیں :۔
میں طویل عرصے سے ملک سے باہر جانے کا خواہشمند تھا ۔ اور اب ایک عرب ملک سے جاب کی آفر آ گئی ۔ پہلے تو مجھے یقین نہیں آیا پھر وہاں رہنے والے ایک دوست سے رابطہ کیا اس نے کہا فوراً آ جاؤ حال ہی میں میری شادی ہوئی ہے ۔ گزارے کے قابل ملازمت بھی ہے دل نہیں چاہتا کہ ملک چھوڑ کر جاؤں جبکہ بیوی خوش ہے کہ میں ملک سے باہر جا رہا ہوں سوچتا ہوں اس کو مجھ سے محبت نہیں یہ بات اس سے کہی نہیں ڈر بھی ہے نئی نئی بات ہے ہم ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف نہیں ۔
مشورہ:۔ بیوی کے خوش ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو محبت نہیں ہے بلکہ و ہ آپ کی ترقی کی خواہشمند ہے اور اس کیلئے وہ دور رہنے کی قربانی دینے کو تیار ہے ۔دراصل آپ کی خوشحالی میں اس کی خوشیاں بھی شامل ہیں ۔یہ فیصلہ آپ کو خود کرنا ہے کہ کیا بہتر ہے یہاں رہنا یا جانا؟ دوست کا مشورہ بھی آ چکا اورہمارا مشورہ یہ ہے کہ موجودہ ملازمت کے حوالے سے اور بیرون ملک ملنے والی ملازمت کے مثبت اور منفی پوائنٹس نوٹ کرلیں جس میں مثبت پوائنٹ زیادہ ہوں وہ کام کریں ۔

Monday, November 30, 2015

غصیلے شوہر کا آزمودہ روحانی علاج

غصیلے شوہر کا آزمودہ روحانی علاج :۔
محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم !میں عبقری کی پچھلے چار سال سے مسلسل قاری ہوں ۔ میرے شوہر بہت غصے والے تھے ، جب انہیں غصہ آتا تو انہیں کچھ ہوش نہ رہتا اور اکثر مجھ پر ہاتھ تک اٹھا دیتے ۔ جس کی وجہ سے میں بہت پریشان تھی ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر بہت بڑا ہنگامہ کھڑا کر دیتے ۔ پھر ماہنامہ عبقری میں ایک وظیفہ دیکھا اور روزانہ درج ذیل آیت سات سو مرتبہ روزانہ پڑھنی شروع کر دی ۔ امن یحیب المضطر اذا دعاہ  و یکشف السوء ۔" (النمل 62) اس کے علاوہ آپ کی کتاب "کالی دنیا کالا جادو ۔""وظائف اولیاء اور سائنسی تحقیقات ۔"میں سے وظیفہ 21 دن والا چاروں قل ، آیت کریمہ ، آیۃ الکرسی اول و آخر درود پاک پڑھنا شروع کیا ، ساتھ ہی سجدہ میں جا کر "رب انی مغلوب فانتصر ۔"(القمر 10) پڑھنا شروع کیا ، دیکھتے ہی دیکھتے شوہر کا رویہ میرے ساتھ بدلنا شروع ہو گیا ۔ اب الحمدللہ ! میرے آج کے شوہر اور کل کے شوہر میں زمین آسمان کا فرق ہے شکریہ عبقری !

Saturday, September 19, 2015

نفسیاتی گھریلو الجھنیں اور آزمودہ یقینی علاج

نفسیاتی گھریلو الجھنیں اور آزمودہ یقینی علاج:۔


سوالات سے پریشان :۔گزشتہ ایک سال سے ریاض میں ہوں اچھی جاب ہے ، کسی برائی میں نہیں ، اب گھر والے کہیں رشتہ طے کرتے ہیں تو لڑکی والے اپنے جاننے والوں کو میری چھان بین کیلئے بھیجتے ہیں ، کئی بار لوگ مجھ سے مختلف طرح کے سوالات کر کے جا چکے ہیں ، ان سے ان کی تسلی تو ہو گی مگر مجھے اچھا نہیں لگتا ، میرے دوست کتنے رشتے بتا چکے ہیں ، دل نہیں مانتا ، گھر والے ہی اچھا فیصلہ کریں گے لوگوں کے عجیب سوالات سے پریشان ہو کر میں خود ان لوگوں کو مسترد کر دیتا ہوں ۔

جواب:۔ دراصل جو لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں وہ آپ کو جانتے نہیں اس لئے برا نہ مانیں ، شادی پوری زندگی کا تعلق ہوتا ہے ۔ جب تک شناسائی نہ ہو گی لوگ اپنی بیٹی کو کسی طرح آپ سے منسوب کریں گے ، برا نہ مانیں گفتگو آپ کے تعارف کا بہترین ذریعہ ہے ، اس سے آپ کی سوچ کے معیار کا اندازہ ہوتا ہے اور آپ دوسروں کو بھی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں ، غصے میں آکر کسی کو قبول یا مسترد نہیں کرنا چاہیے ۔

شادی کی صحیح عمر:۔ میری عمر 32 سال ہے ۔ اب تک شادی نہیں ہو سکی حالانکہ تعلیم یافتہ اور مناسب صورت شکل ہوں ، احساس کمتری ہونے لگاہے ، فکر بڑھتی جا رہی ہے مجھے لگتا ہے کہ شادی کی صحیح عمر یہی ہے اگر وقت نکل گیا تو اچھا رشتہ ملنا مشکل ہو جائے گا ۔

جواب:۔  آپ نے  یہ نہیں بتایا  کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد کیا کر رہی ہیں شادی کی عمر پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے اگر فکر کرنے سے شادیاں ہوا کرتیں تو یہ مسئلہ ہی نہ ہوتا جو آج کل اکثر گھروں میں ہے ۔ رشتے کا گھر بیٹھ کر انتظار کرنا اور کچھ نہ کرنا بھی طبیعت میں بیزاری اور پریشانی کا سبب بنتا ہے بہتر ہے کہ تعلیم کا فائدہ اٹھائیں اپنی صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے کوئی اچھی مصروفیت اپنائی جائے ، رشتے کے لئے والدین قابل اعتبار لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں یعنی جو نیک نام ہوں اور رشتہ کروانے میں دیانتداری سے بے لوث خدمت انجام دیتے ہوں ، قسمت میں اچھا رشتہ ہوتا ہے تو جلد یا دیر سے مل جاتا ہے ، اپنے لئے خود دعا کریں اس طرح قلبی اور ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے ۔

میرا قصور کیا تھا ؟:۔ ہم دو بھائیوں کی شادی دو بہنوں سے طے ہوئی ۔ پہلے بڑے بھائی کی شادی ہوئی ، ایک سال سے زیادہ وہ ساتھ نہ رہ سکے کیونکہ بھائی اپنےآفس میں ایک لڑکی کو پسند کرتے تھے ، اس نے اپنے شوہر سے طلاق لے کر بھائی سے کہا کہ تم نے مجھ سے شادی کا وعدہ کیا تھا بھائی دو بیویاں رکھنے کی حیثیت نہیں تھے، اس لئے انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ، سارا سامان وغیرہ بھی دے دیا ، میں اپنی منگیتر کو چھوڑنے پر تیار نہیں تھا لیکن اس واقعے کے بعد اس نے خود منگنی ختم کر دی جس کا مجھے بہت صدمہ ہے ، بھائی سے بھی جھگڑا ہوتا رہتا ہے ،نہ وہ یہ سب کرتے اور نہ مجھے بھگتنا پڑتا ، امی ہم دونوں کو سمجھاتی ہیں ، میں کہتا ہوں صرف بھائی کو سمجھائیں تو ان کی طبیعت خراب ہونے لگتی ہے ۔
جواب:۔  اب بھائی سے جھگڑا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جو تاثر خراب ہونا تھا وہ ہو چکا ، جس گھر میں ایک بیٹی کی زندگی خراب ہوئی ہو اس گھر میں لوگ اپنی دوسری بیٹی کیسے دے سکتے ہیں اور وہ لڑکی بھی جب اپنی بہن کو دکھی دیکھتی ہو گی تو اس کو صدمہ ہوتا ہو گا ، اسے حق تھاکہ وہ منگنی ختم کر دے اب آپ کو حقائق قبول کر لینے چاہئیں ۔ والدہ کا خیال رکھنا سب سے اہم ہے ان کے سکون کے بارے میں سوچیں اورخود کبھی کوئی ایسی خوشی حاصل نہ کریں جس میں دوسرے کو دکھ دیا جائے ۔
افسوس ہوتا ہے :۔ میں ہر موضوع پر بات کر سکتا ہوں ،دوستوں کا گروپ ہو یا کوئی تقریب ، میں بولتا ہوں تو لوگ سنتے ہیں ۔ اگر کوئی اختلاف کرنا چاہے تو اس کو موقع نہیں ملتا ، اب میں نے محسوس کیا ہے کہ کچھ حاسد قسم کے لوگ میری بات نہیں سنتے بلکہ آپس میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں افسوس اس وقت ہوتا ہے جب قریبی دوست ایسا  کریں ۔

جواب:۔کچھ لوگ بولنے کے شوقین ہوتے ہیں وہ ہر موقع پر بے تکا بولتے ہیں لیکن ایسا بولنا جو بے مقصد ہو ، جس میں صرف لوگوں کی توجہ کا حصول مقصود ہو فضول ہوتا ہے ، کچھ کہنے سےپہلے جاننا جس موضوع پر بات کرنا ہو اس کے بارے میں علم ہو اور بات کرنے کا موقع بھی ہونا ضروری ہے ، اختلاف سے نہ گھبرائیں اور اپنی رائے کو دوسروں پر مسلط ہر گز نہ کریں اس حقیقت کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں کہ دوست ہوں یا رشتہ دار کوئی آپ  کی باتیں اور خاص طور پر بے موقع باتیں سننے کا پابند نہیں ، اس لئے ناراض نہیں ہونا چاہیے ۔ آخری بات یہ ہے کہ عملی جدوجہد کے ذریعے خود کو بہترین انسان بنائیں ۔ لوگ آپ سے بات کر کے خوش ہوں گے ۔

اسے مجھ سےمحبت ہے :۔ میڈیکل کالج کی طالبہ ہوں ،اس مشکل پڑھائی میں ایک بات مجھے اندر ہی اندر پریشان کرتی ہے ، میں ایک لڑکے کو پسند کرتی ہوں ، اسے بھی مجھ سے محبت ہے ۔ میرے گھر والے راضی ہیں لیکن اس کے گھر والوں نے پہلے ہی اس کی منگنی اپنے خاندان میں کر دی ہے ، اب وہ لڑکا اگر منگنی ختم کرتا ہے پھر بھی اس کے گھر والے خاندان سے باہر رشتہ نہیں کریں گے ۔ ان کا خاندان ہم سے بالکل مختلف ہے مگر میں کیا کروں ، اس کے  علاوہ کسی اور سے شادی نہیں کر سکتی ۔

جواب:۔ لڑکے نے اپنی صورتحال واضح کر دی کہ وہ چاہے گا پھر بھی اس کے گھر والے دوسرے خاندان میں شادی نہیں کریں گے۔ آپ کیلئے یہ بات بہت بہتر ہے کہ کسی ایسے خاندان سے تعلق نہیں جوڑا جا رہا جو آپ کو ناپسند کرتا ہو۔ اگر زبردستی یہ رشتہ ہو بھی جاتا تو ساری زندگی مشکل میں گزرتی ، بعض اوقات مرضی کے خلاف ہونے والے فیصلے انسان کے اپنے حق میں بہت بہتر ہوتے ہیں ۔ آپ حقائق کو قبول کر لیں ، باوجود اس کے کہ یہ کہنا جتنا آسان ہے ، کرنا اتنا ہی مشکل ہے مگر ناممکن نہیں ، ذہنی طور پر صحت رکھنے والے لوگ خلاف مزاج باتوں کوبھی برداشت کرتے ہوئے ان سے سمجھوتہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، سفر خواہ کہیں کا بھی ہو اس کی کامیابی کا ایک ہی اصول ہے اور وہ یہ کہ سفر کے آغاز میں اختتام تک اندازہ کر لیا جائے ورنہ پے در پے ایسی مشکلات آتی ہیں کہ خود کو سنبھالنا بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔

 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر25



Thursday, September 17, 2015

تجربہ کار بوڑھیوں سے سیکھئے نباہ کے طریقے

تجربہ کار بوڑھیوں سے سیکھئے نباہ کے طریقے :۔


تجربہ کار بڑی بوڑھیوں کا قول ہے کہ نوجوان بیویاں اپنی آرائش اور بناؤ سنگھار پر تو خاص توجہ دیتی ہیں ، اس اہم مسئلے کو اکثر نظر انداز کر دیتی ہیں کہ شوہر کے ساتھ خوش اسلوبی سے نباہ کس طرح کیا جائے؟
خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کرنے کیلئے اگرچہ میاں بیوی دونوں کو اپنا اپنا حصہ ادا کرنا پڑتا ہے ، مگر سلیقہ مند عورت اپنی سمجھ بوجھ اور خوش مزاجی سے گھر کو ایک نمونہ بنا سکتی ہے ۔ کسی نوجوان لڑکی کی شادی ہو جانا اتنی مشکل چیز نہیں ، جتنی کہ شادی کے بعد اپنے شریک زندگی کے ساتھ خوش اسلوبی سے نباہ کرنا ، یہی اس کیلئے سب سے زیادہ توجہ طلب اور اہم چیز ہے ، اس ضمن میں مندرجہ ذیل چند اشارات سے خاص مدد مل سکتی ہے ، جنہیں لائحہ عمل بنانا مفید ہو گا۔

اظہار تشکر و اطمینان :۔ تسخیر شوہر کے لئے یہ سب سے پہلی اور تیر بہدف تدبیر ہے ، بیوی کی طرف سے اظہار طمانیت و شکر گزاری کیلئے شوہر اس کی بہت سی نا پسندیدہ باتیں گوارا کر لیتا ہے ۔ مثلاً اس کی فضول خرچیاں ، اس کی آئے دن کی بیماریاں ، کھانوں میں حد سے زیادہ مرچ مسالے اور دوسری گھریلو سہل انگاریاں ، اس میں شک نہیں کہ غلطیاں اور ناگوار باتیں طرفین کی طرف سے پیدا ہو سکتی ہیں لیکن نباہ کا جزبہ رکھنے والی عورت شوہر کی بہت سی غلطیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کر لیتی ہے بلکہ ان کو اپنا لیتی ہے اور ذرا ذرا سی بات پر کڑہتی نہیں ، شوہر کی عدم پابندی اوقات ،بکثرت چائے نوش ،یا سگریٹ نوش ، متواتر جھلاہٹ یا جلد بازی وغیرہ اسے درہم برہم نہیں کرتی اور وہ ایسی خفیف چیزوں کو ہنس کر ٹال دیتی ہے بلکہ ان سے لطف اندوز ہوتی ہے ۔ بیوی کیلئے سب سے زیادہ طمانیت بخش بات یہ ہونی چاہیے کہ وہ اور اس کا گھر شوہر کیلئے مرکز توجہ بن گیا ہے ، یہ کتنی بڑی بات ہے کہ ایک انسان جو پہلے چاروں طرف بے مقصد سرگرداں رہتا تھا ، عاضی اور وقتی تقاضوں سے کبھی ایک رخ میں اور کبھی دوسرے رخ میں بہہ رہا تھا ، اب سب طرف سے ہٹ کر اور سب چیزوں سے کٹ چھٹ کے ایک منزل مقصور پر آ گیا ہے ، جو اس کا گھر ہے اور جس کی ملکہ اس کی بیوی ہے ۔ کیا بیوی کیلئے یہ بات انتہائی کار گزاری کی نہیں کہ وہ شخص جو پہلے کسی کا نہیں تھا ، اب زندگی بھر کیلئے اس کا ہو کر اس کے زیر اثر ہے ؟ اس فتح یابی اور کامرانی پر بیوی کو بے حد شکر گزارا اور احساس طمانیت سے لبریز ہونا چاہیے۔

اظہار پسندیدگی و قدرشناسی:۔ تشکر و طمانیت کے احساس و اظہار کے بعد دوسرا درجہ شوہر کی باتوں پر اظہار پسندیدگی کا ہے ۔ وہ عورت جو بات بات پر شوہر کی بات کاٹتی اور اس سے اختلاف رائے ظاہر کرتی ہے ، اس کے مزاق پر ناک بھوں چڑھاتی اور ہمیشہ اپنی رائے پر اڑی رہتی ہے یا گفتگو میں حاکمانہ لہجہ اختیار کرتی ہے اور اپنی برتری ظاہر کرتی ہے ، شوہر میں یا س و ناامیدی کا احساس پیدا کر دیتی ہے ، شوہر رفاقت و ہم آہنگی کا بھوکا ہوتا ہے ۔ جب یہ چیزیں اسے گھر میں نہیں ملتیں تو آخر کار وہ گھر سے کترانے اور دور دور رہنے لگتا ہے۔ اور اچھے یا برے دوستوں میں دل بہلانے کو تر جیح دیتا ہے ، رفتہ رفتہ میاں بیوی دونوں میں ایک نفسیاتی یا روحانی خلیج حاہل ہو جاتی ہے ، جس کا خمیازہ زیادہ تر بیوی ہی کو بھگتنا پڑتا ہے ،۔ اس حالت کی ذمہ داری زیادہ تر ناعا قبت اندیش بیوی ہی پر ہوتی ہے ۔
شوہر  کی آرام و آسائش کا خیال :۔  سلیقہ مند بیوی ہر چیز میں شوہر کے آرام و آسائش کے خیال کو مقدم رکھتی ہے رات کو خواہ وہ کتنی ہی دیر سے گھر آئے اسے گرم گرم کھانا دیتی ہے ، صبح کا ناشتہ بڑے اہتمام و سکون سے کراتی ہے ، جاڑوں میں گرم پانی تیار رکھتی ہے اور گرمیوں میں اسے برف پلاتی ہے ۔ کھانا کھلاتے وقت اس سے میٹھی میٹھی باتیں کرتی ہے اور خفیف گھریلو جھگڑوں سے اسے پریشان نہیں کرتی۔  اس طرح کام پر جاتے وقت وہ مطمئن ہو کر گھر سے نکلتا ہے اور جب تھکا ماندہ گھر کو لوٹتا ہے تو گھر میں بیوی کی خوش سلیقگی دیکھ کر باغ باغ ہو جاتاہے ، کاروباری معاملات میں بھی سمجھدار بیوی اپنے شوہر کو نیک مشورے دیتی ہے اور دونوں میں یگانگت اور اتحاد خیال ترقی پزیر ہوتا ہے ، زندگی کے ناہموار مرحلوں کو کامیابی کے ساتھ طے کرنے کیلئے میاں بیوی دونوں کو ہم قدم ہو کر ایک ہی سمت میں چلنا چاہیے ، سلیقہ مند بیوی وہی رخ اختیار کرتی ہے ، جدھر اس کا شوہر گامزن ہے وہ مختلف سمت میں قدم نہیں بڑھاتی بلکہ ہرمرحلے میں شوہر کے ساتھ اشتراک عمل کر کے تمام کٹھن منزلوں میں اس کی ہمدم و ہم ساز اور رفیق راہ بنی رہتی ہے ، اس طرح زندگی کی گاڑی ہم آہنگی کے ساتھ چلتی رہتی ہے اور منزل مقصود تک سلامتی کے ساتھ دونوں کی رسائی ہو سکتی ہے ۔

غرض یہ کہ شوہر کے ساتھ نباہ کے اہم گر یہ ہیں :۔ شکر گزاری ، گوش ہوش ، شوہر کے ہر مرحلے اور بات میں تعاون ، اس کی غلطیوں میں بھی شرکت ، یہ یقین واثق کا رشتہ ، ازدواج ایک ناقابل شکست رشتہ ہے جس آخری دم تک قائم رہنا اور قائم رکھنا چاہیے  یہ تمام اسلحہ ایسے ہیں جو صرف ایک سلیقہ مند اور خوش قسمت عورت کیلئے کاآمد ہو سکتے ہیں ۔



 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر19