یہ پتھر وادی جنات سےلایا ہوں!: دعا کے بعد اس مجلس میں بیٹھے ایک جن نے میرے سامنے چمڑے کی بنی ہوئی ایک تھیلی میں سے کچھ پتھر نکالے اور کہنے لگے: آپ اس میں سے کوئی ایک پتھر چن لیجئے میں آپ کو ایک پتھر گفٹ دیناچاہتا ہوں‘ میں نے پوچھا کہ آپ یہ پتھر مجھے کیوں دے رہے ہیں‘ کہنے لگے: دراصل یہ پتھر میں وادی جنات سے لایا ہوں اور وادی جنات کا تذکرہ کرتے ہوئے میری طرف غور سے دیکھا اور کہا یہ وادی جنات دراصل ہمالیہ کے کنارے میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں جنات بہت زیادہ رہتے ہیں‘ اور وہاں میں یہ بات سوفیصد یقین اور وثوق سے کہہ سکتا ہوں اور یہ بات کہتے ہوئے اس نے تمام جنات کے مجمع کی طرف نظر دوڑائی کہ کیونکہ وہ تمام جنات شریر بدکار نہیں تھے اور اپنی بات کو پھر دہرایا کہ میں نہایت وثوق سے کہہ سکتا ہوںکہ ہمالیہ کے کنارے میں وہ لوگ رہتے ہیں جو بہت متقی اور پرہیز گار ہیں اور اللہ کےکلام کا خصوصی علم ان کے پاس ہے‘ قرآن پاک کی آیات کی تفسیر طاقت اور کمال ان پر بہت زیادہ کھلا ہے۔ انہوں نے وادی کے چپے چپے میں کلام الٰہی کی آیات کی اتنی زیادہ طاقت اور تاثیر دی ہے کہ اس چپے کے کسی بھی حصے کا اگر کوئی پتھر اٹھالیاجائے تو وہ پتھر آپ جس کمرے میں رکھیں اندھیرا ہو تو اس کمرے میں روشنی چراغ سے بھی کہیں زیادہ آنا شروع ہوجاتی ہے۔ چھوٹے سے پتھر سے کمرہ جگمگا اٹھا:یہ بات کہتے ہوئے ساتھ ہی کمرے میں مجھے لے گئے اور اس کمرے میں انہوں نے دروازے بند کردئیے‘ کھڑکیاں بند کردیں‘ اندھیرا ہوا‘ چمڑے کی پوٹلی نکالی اور مجھ سے کہنے لگے آپ خود ہی کوئی ایک پتھر نکالیے میں نے ہاتھ ڈالا میں نے جان بوجھ کر ایک چھوٹا سا پتھر نکالا جس کی جسامت سب پتھروں سے بہت چھوٹی تھی۔ بس میرا ہاتھ پوٹلی سےنکلتے ہی پتھر باہر آیا اور ساتھ ہی کمرہ جگمگ جگمگ کرنے لگ گیا۔ میں حیران! مجھے احساس ہوا کہ اللہ کا نور اگر پتھروں میں شامل ہوجائے تو پتھر اتنے روشن اور تابندہ ہوجاتے ہیں اور یہی نوراگر انسان کے اندر داخل ہوجائے تو پھر کیوں نہ اس
انسان کے نور کی وجہ سے وہ شریر جنات اس نورانی اور روحانی دیوار سے دور بیٹھے فرشتوں کی حفاظت اور حصار کا پورا انتظام تھا۔ ایک پتھر آپ ضرور لیجئے:مجھ سے کہنےلگے: اس میں سے ایک پتھر آپ ضرور لیجئے! میں نے وہی چھوٹا پتھراپنے پاس رکھ لیا‘ اس کا اصرار تھا کہ نہیں آپ بڑا پتھر لیں اور بڑے پتھر سے روشنی زیادہ ہوگی‘ لیکن میں نے مناسب نہ سمجھا میں نے وہی چھوٹا پتھر اپنے پاس رکھ لیا‘ وہ آج بھی میرے پاس موجود ہے۔ عجب روشنی‘ عجب نور ہاں اتنا میں نے کیا ہے کہ جو ذکر تسبیحات اور معمولات کرتا ہوں اس کی ایک پھونک اس پتھر پر مار دیتا ہوں اور جس دن میں ذکر تسبیحات معمولات زیادہ کروں اور اسے پھونک ماروں اس کی روشنی تو ویسے بہت زیادہ ہے لیکن اس دن اس کی روشنی حدسے زیادہ بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ جانیے جنات ہماری نسلوںکو کیسے ورغلاتے ہیں:میری بارہا چاہت تھی کہ غار والے جنات اگر اپنے زندگی کے مشاہدات اور جنات کا رہن سہن اور جنات کا انسانی زندگی میں عمل دخل اگر بیان کریں تو مجھے بھی فائدہ ہوگا اور عبقری کے قارئین کو بھی بہت زیادہ فائدہ ہوگا چونکہ اب اس آنے والے قافلے سے کچھ مناسبت ہوگئی تھی اور وہ جنات بھی مجھ سے گھل مل گئے تھے اور پھر یہ ایک جن ان میں ایسا تھا جو مجھے پہلے سے جانتا بھی تھااور اللہ کےفضل و کرم سے دعا کی برکت سے اس کو مرادیں بھی ملی تھیں تو میں نے پھر وہی اپنا موضوع چھیڑا اور میں نے غار والے جنات کو متوجہ کیا کہ کیوں نہ وہی موضوع اور وہ سلسلہ پھر شروع ہوجائے اور اس سلسلے سے مخلوق خدا کو بہت زیادہ حالات سے آگاہی ہوئی‘ میں نے پھر سوال کیا اور اس سوال میں اس قافلے میں آنے والے بہت سے جنات اور بھی متوجہ تھے بلکہ سارے متوجہ تھے میں نے سوال کیا کہ یہ بتائیں جنات ہمارا خزانہ چوری کرلیتے ہیں‘ ہمارا کھانا کھا لیتے ہیں‘ ہماری نوجوان عورتوں کو ورغلاتے اور پریشان بھی کرتے ہیں اور ان سے بُرائی کا ارادہ بلکہ برائی بھی کرلیتے ہیں‘ ہماری نسلوں کو کیسے ورغلاتے اور پریشان کرتے ہیں ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ کی بیماریاں اور تکالیف کیسے لے آتے ہیں؟ ۔جن اگر شر اور فساد کی طرف متوجہ ہوجائیں تو:غار والے جن کے بولنے سے پہلے اسی قافلے میں ایک جن بڑی عمر کا تھا‘کچھ زیادہ بوڑھا بھی نہیں تھا‘ فوراً بولا: کہنے لگا دراصل بات یہ ہے کہ ہم میں سے اگر کوئی جن شریر ہوجاتا ہے یہ سب اسی کی ڈیوٹی کا حصہ ہے‘ ہمارا دن رات مخلوق خدا کو نفع دینا‘ خیر پھیلانا‘ جیسے ابھی آپ ان غار والے جنات کے حوالے سے بتارہے تھے کہ یہ ایک شادی کی تقریب میں جارہے تھے‘ وہاں ہرطرف روحانی دیواریں‘ فرشتوں کی حفاظت‘ فرشتوں کا حصار تھا اور تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ ایک بزرگ وہاں موجود ہیں۔ ان کے نیک اعمال اور نیکی کی وجہ سے اللہ نے ان کو اور ان کے مجمع کو اتنی بڑی خیر سے نوازا ہے‘ اتنی بڑی برکت سے سرفراز کیا ہے‘ بالکل اسی طرح جب ہمارے جنات جو کہ اکثر جنات خود شریر ہوتےہیں شر اور فساد کی طرف متوجہ ہوجائیں تو ان کی زندگی میں ایک چیز ایسی ہوتی ہے جس کو وہ خود پھیلانا چاہتے ہیں چاہے وہ دکھ کی شکل میں ہو یا غم کی شکل میں ہماری پھر بھی کوشش ہوتی ہے کہ یہ ایسا نہ کریں لیکن بعض اوقات ہم بے بس ہوجاتے ہیں۔یہ رزق حلال کی طاقت اور تاثیر ہے: اس کی مثال دیتے ہوئے اس قافلے کے جن نے کہا: اکثر زیرزمین خزانے ہزاروں سال پرانے یا صدیوں پرانے بہت زیادہ ہوتے ہیں‘ اگر ان خزانوں کا کوئی مالک نہ ہو تو ان پر حفاظت کا غیبی نظام ہوتاہے جنات کی کوشش ہوتی ہے کہ جنات ان خزانوں کو لوٹیں‘ لیکن چونکہ فرشتوں کا حصار اور فرشتوں کی حفاظت ہوتی ہے اور ویسے بھی اگر وہ خزانے رزق حلال کے ہیں تو ان کی غیبی حفاظت ایسے ہوتی ہے کہ کوئی طاقتور سےطاقتور جن، دیو، عفریت اس تک پہنچ تو کیا اس طرف اگر گہری نظر سے دیکھے تو اس کی آنکھیںاندھی ہوجاتی ہیں۔ یہ رزق حلال کی طاقت اور تاثیر ہے۔ اب جنات کی کوشش ہوتی ہےکہ ان خزانوں کو نکالیں اور ان خزانوں کو لوٹ لیں۔صحرائی جنات اور خزانہ کی تلاش: ایک دفعہ کا واقعہ ہے حیدرآباد شہر کے قلعہ کے اندر ایک خزانہ تھا‘ اس خزانے کا لوگوں کو علم نہیں تھا ساتھ تھر کے رہنے والے صحرائی جنات بہت عرصہ سے اس کی تلاش میں بھی تھے پھر انہوں نے تلاش کرلیا‘ اب وہ چاہتے تھے کسی طرح اس کو نکالا جائے‘ میں اس قافلے کے جن کی باتیں سن رہا تھا۔ غار والے جنات بھی اس کی باتوں میں متوجہ تھے اور سر ہلارہے تھے‘ قافلے والے جن کی باتوں میں سچائی صداقت اور حقیقت واضح محسوس ہورہی تھی۔ کہنے لگے: ایک دفعہ انہوں نے بھرپور پروگرام بنایا کہ چل کر حیدرآباد کے اس قلعہ کے نیچے خزانہ جو کہ بہت بڑا خزانہ ہے جس میں لاکھوں ہیرے، جواہرات، موتی، منوں کے حساب سے سونا، چاندی اور قیمتی پتھر جس کی قیمت شاید دنیا میں اربوں کھربوں سے بھی زیادہ ہو‘ یہ کل سینتیس جنات تھے جب یہ نکالنے کیلئےوہاں پہنچے ایک
بات کا احساس نہ رہا کہ اس خزانے پر غیبی فرشتوں کی حفاظت کا نظام ہے‘ انہوں نے اس حصار کو محسوس نہ کیا اور اس کا کوئی خیال بھی نہ کیا‘ بس یہ وہاں سے خزانہ ہی لینا چاہتے تھے آندھی طوفان کی طرح آگے بڑھے ایک خوفناک دھماکہ اور جھٹکا لگا اور اس میں سے آٹھ جنات ایک پل میں اُڑ گئے اور جل گئے۔ ان کی چیخ و پکار شروع ہوئی یہ پیچھے ہٹ گئے‘ انہیں احساس ہوا کچھ ہے‘ جب یہ ان کا احساس بڑھا تو ان میں ایک سمجھدار اور علم رکھنے والا جن تھا اس نے اپنے علم کے مطابق پرکھنا شروع کردیا پرکھتے پرکھتے وہ اپنے علم پر پہنچا اس نے کہا کہ ہٹ جاؤ اگر ہم بھی آگے بڑھے تو فرشتوں نے ہمیں بھی جلا دینا ہے ہمارے پاس طاقت ہے ہم جنات ہیں لیکن فرشتوں سے زیادہ طاقتور ہم جنات نہیں ہیں۔ تھکے‘ ہارے ‘ زخمی جنات:وہ جنات تھکے ہارے اور زخمی واپس چلے گئے جو کہ باقی بچے تھے‘ وہ پچھتاتے ہوئے اور گھبراتے ہوئے دور ہوگئے۔ قافلہ کا جن ابھی بول ہی رہا تھا تو غار کےجن نے کہا خزانوں کی کہانیاں میرے پاس بے شمار ہیں‘ جیسے انسان خزانوں کے متلاشی ہوتے ہیں‘ بالکل ایسے ہی جنات بھی خزانوں کے متلاشی ہوتے ہیں لیکن جنات خزانوں کو دیکھ سکتے ہیں انسان دیکھ نہیں سکتے پر نکال سکتےہیں‘ اگر جنات نکال سکتے کہ یہ واقعات جو وقتاً فوقتاً انسانوں کی دنیا میں ہوتے رہتے ہیں کہ فلاں جگہ سے خزانہ نکلا فلاں جگہ سے خزانہ نکلا پھر یہ کوئی خزانہ نہ نکلتا بلکہ جنات سب خزانوں کو صاف کرچکے ہوتے۔ میں نے آج کی محفل کو بہت قیمتی جانا‘ میرے دل نے چاہا کہ ان سے اور زیادہ معلومات حاصل کروں اور خاص طورپر خزانوں کے بارے میں معلومات ضرور لوں۔ کسی جن کوخزانے کے متعلق معلومات ہیں؟: اسی دوران میں نے خود ہی سوال کیا آپ میں سے کسی جن کو کسی خزانے کے بارے میں کچھ معلومات ہیں تو مجھے ضرور بتائیں ‘بہت سے جنات خزانوں کے بارے میں معلومات کیلئے بولنا چاہ رہے تھے لیکن غار والے جن نے ان میں سے ایک ہی کی بات‘ ایک ہی وقت میں سننا پسند کی۔ کہنے لگے کہ میں ایک جگہ انسانی شکل میں خدمت کرتا تھا اور ملازمت کرتا تھا‘ ایک جگہ تعمیرات کاکام ہورہا تھا۔ اس خزانہ کو ہاتھ نہ ڈالنا بے شمارجنات مارے گئے ہیں: میں نے وہاں محسوس کیا کہ کوئی خزانہ وہاں موجود ہے اور پھر چونکہ ہم جنات ہیں اور ہم نے اس خزانہ کو اچھی طرح پرکھ لیا تھا‘ اور بہت تسلی سے دیکھ لیا تھا اب میں موقع کی تلاش میں تھا کہ کسی طرح یہ خزانہ میں حاصل کرلوں میں نے ایک دفعہ کوشش بھی کی کہ کسی طرح اس خزانہ کو حاصل کروں مجھے کسی نے بتایا کہ ایسے خزانہ کو ہاتھ نہ ڈالنا بے شمار جنات مارے گئے ہیں‘ ہمارے ایک بہت بوڑھے صاحب تھے جو کہ عملیات کی دنیا میں بہت زیادہ آگے تھے‘ ان کی شہرت بہت تھیں‘ ان کے تعویذ کی تاثیر کئی دفعہ پرکھی‘ ان کے وظیفے کئی دفعہ چیک کیے اور کہیں ایسا بھی ہوا کہ کتنے عجیب و غریب ناممکن کام انہیں دیئے اور انہوں نے چند دنوں میں ان کاموں کو کرکے دکھایا میں خوش خوش ان کےپاس گیا کہ کسی طرح وہ مجھے اس خزانے کا حل بتاسکیں۔ خزانہ کیا نکلتا میری جان نکلنا شروع ہوگئی: خزانہ بہت بڑا تھا میرے دل میں تھا کہ میں ان سے یہ بات واضح کہوں گا کہ آپ خزانہ اور خزانہ میں سے جتنا حصہ لینا چاہیں گے۔ میں آپ کو دوں گا لیکن کسی طرح یہ خزانہ مجھے مل جائے‘ ان سے باتیں کرتے کرتے میں نے جب ان کے سامنے اس خزانے کی طلب کا تذکرہ کیا تو مجھ سے فرمانے لگے جس طلب کو لے کر آئے ہو‘ اس طلب کو بھول جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو‘ پھر میری طرف گہری اور تیز نظروں سے دیکھ کر کہنے لگے: تو جانتا ہے میں بہت بڑا عامل ہوںاور اگر میں اپنے منہ سے کہوں کہ بہت بڑا منتر اور غیبی علوم کی دنیا کا کامل ہوں تو میں غلط نہیں کہوں گا لیکن ایک بات یاد رکھنا خزانے دراصل کبھی لوگوں کی امانت ہوتے ہیں‘ کبھی نسلوں کی امانت ہوتے ہیں اور کبھی اللہ پاک نے اسے چھپا کر رکھا ہوتا ہے اور وہ راز صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ شروع دنوں میں میں نے بھی بہت کوشش کی تھی کہ میں ان خزانوں کو نکلوا لوں لیکن خزانے کیا نکلنے تھے؟ مجھے اپنی جان نکلتی نظر آئی اور میں اپنی جان بچا کر وہاں سے نکلا۔ خبردار خزانہ کے خیال سے باز آ: ایک دفعہ تو ایسا ہوا کہ میں نے ایک خزانہ کو تلاش کرنے کیلئے اکتالیس دن کا چلہ کیا‘ چلہ کرتے کرتے جب مجھے سینتیس دن ہوگئے میں ایک پوری امید اور توقع میں تھا اب میرا مقصد مجھے حاصل ہوجائے گا لیکن میں اس وقت بہت زیادہ مایوس ہوا جب ٹھیک انتالیس دن بعد بہت طاقتور مخلوق جو کہ نجانے کون تھے؟ نہ فرشتے تھے نہ انسان تھے‘ میرے سامنے آکر کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی: اگر تیرے پاس حفاظت اور حصار کے طاقتور عمل نہ ہوتے تو تجھے ہم ٹکڑے ٹکڑے کردیتے حتیٰ کہ تیری نسلوں کو پھونک دیتے اورتیری نسلوں کو ختم کردیتے‘ لیکن کل آخری دن ہے اور کل فیصلہ ہونا ہے یعنی چالیسواں دن ہے اور فیصلہ ہونا ہے اور اس چالیسویں دن میں تجھے ہم نے ختم کرنے کا بھرپور پروگرام بنایا تھا لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہوں نے تیری حفاظت کی‘ خبردار خزانہ کے خیال سے باز آ۔ یہ نظام جنات سے بھی محفوظ :قارئین!جنات ہوں یا انسان خزانہ ایک غیبی نظام کے ساتھ حفاظت میں رہتا ہے‘ یہ ایک ایسا غیبی نظام ہے جو صرف عرش والا ہی جانتا ہے‘ عام انسان اس کو نہ سمجھ سکتا ہے‘ نہ سوچ سکتا ہے‘ نہ اس نظام کو بدل سکتا ہے حتیٰ کہ یہ نظام رب نے جنات سے بھی محفوظ رکھا ہوا ہے‘ آپ حیران ہوں گے کہ جنات اس نظام کو دیکھ تو سکتے ہیں‘ پرکھ بھی سکتے ہیں لیکن خزانہ نکال نہیں سکتے‘ بالکل یہی معاملہ اس جن کےساتھ ہوا‘ اس نے چالیس دن کا چلہ کیا پر وہی غیبی طاقت جو خزانہ کی حفاظت پر معمور ہے اور ایک وقت معینہ کا انتظار ہوتا ہے کہ یہ خزانے کہاں اور کس جگہ نکلتے ہیں‘ اور نکلنے ہیں کون ان کا وارث ہے؟ اور کہاں کہاں سے آدمی آئیں گے‘ کیسے یہ بکے گا؟ پھر استعمال میں کہاں آئے گا۔ خزانہ نکالنے کے بے شمار قصے: میرے پاس بے شمار ایسے شواہد موجود ہیں کچھ لوگوں نے علم کی طاقت کی بنیاد پر خزانوں کو نکالنے کی کوشش کی‘ چونکہ علم بھی تو رب کا ہوتا ہے اور ہاروت ماروت کا قصہ یہی کچھ بتاتا ہے یعنی قرآن میں ہےکہ اللہ نے ڈھیل دی ہوئی اور ساتھ علم بھی دیا ہوا‘ کہ خیر بھی موجود ہے اور شر بھی موجود ہے‘ اب جو چاہے اس خیرکو کرلے اور جو چاہے شرکو اپنا لے‘ اب انہوں نےا گر کوشش کی بھی اور کوشش میں کامیاب بھی ہوگئے اور وہ خزانہ نکلا لیکن اس خزانہ میں خونریزی قتل‘ لڑائیاں جھگڑے بیماریاں تکالیف مسائل مشکلات مقدمات الجھنیں نسلوں کی بربادی بیٹوں کی کمی‘ مسائل ایک کے بعد دوسرے اور مسلسل مشکلات اور الجھنیں ان میں مبتلا کردیتے ہیں۔ میرے پاس ایک صاحب آئے چونکہ انہیں عمل بتایا تھا اور چالیسویں دن اس عمل میں اس کیلئے واضح اشارہ ہونا تھا کہ یہ خزانہ تیرے لیے خیرو برکت کا ذریعہ ہے یا نہیں ہے۔ (جاری ہے)
انتالیسویں دن اسے ایک منظر نظر آیا اس نے منظر دیکھا ایک بہت بڑا گڑھا ہے ایک شخص آیا اس نے گڑھے میں لکڑیاں جمع کرنا شروع کردیں اتنا بڑا گڑھا تھا کہ اگر دس اونٹ اس میں کھڑے کردئیے جائیں تو نظر نہ آئیں‘ اس نے اس گڑھے کو لکڑیوں سے پر کرکے آگ لگائی آگ جب بہت زیادہ جلی اور اس کے شعلے اور انگارے بنے تو اس نے جنگل کے تمام جانور پکڑ کر اس میں ڈالنے شروع کردئیے سب سے پہلے لومڑی کی باری آئی اس کے بعد بھیڑئیے کی ایک ایک کرکے وہ ڈال رہا تھا اور وہ چیزیں جل رہی تھیں اور جلتے جلتے وہ کوئلہ ہوجاتیں وہ اس کو کوئلہ ہونے میں انتار کرتا اس کے پاس کوئی ایسی طاقت اور تاچیر تھی کہ تمام جنگل کے جانور اکٹھے کھڑے تھے اور لائن بنا کر کھڑے تھے تمام جنگل کے جانور آوہ پکاور کررہے تھے چیخ و پکارو نالاں اس سے سارا جنگل تہل رہر تھا خوف کامنظر خوفناک آوازیں تھیں اور کربناک ایک انوکھا نظام تھا جس سے انسان ایسا دھل جاتا کہ اچھا خاصا انسان اس کو دیکھ کر مر جائے پھر جب ایک کوئلہ ہوجاتا پھر دوسرا کوئلہ بننا شروع ہوتا چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو حتیٰ کہ دودھ پیتے بچوں کو بھی یوں آگ میں ڈالتا ان کی سسکی اورسسکاری تک نہ نکلتی اور وہ چیزیں جل کر کوئلہ ہوجاتیں جانور چلتے گئے بھیڑے بھی جل گئے ہرنوں کی باری آئی پھر ہرن بھی جل گئے پھر پرندوں کی باری آئی غول کےغول پرندے آرہے تھے اور وہ شخص اکٹھے پکڑ پکڑ کر یوں آگ میںجھونک رہا تھا جیسا کہ خشک پتوں کو جھونکا جاتا ہے اور وہ سارے ایک ہی شعلہ میں جلے جارہے تھے اور ایسے جل رہے تھےکہ ایک طوفان تھا ہاتھی جلے شیر جلے چیتے جلے کوئی جانور ایسا نہیں جو بچ گیا ہو۔ یہ عامل یہ منظر دیکھ رہا تھا تھوڑی دیر کے بعد سارے جنگل کو جلانے والے خون کا اس شخص نے اس عامل کی طرف دیکھا کیونکہ میں نے پہلے اسے کہا ہوا تھا کہ تجھے ایسے خوفناک منظر دکھائی دئیے جائیں گےجس کو تو برداشت نہیں کرسکتے گا لیکن کبھی ڈرنا نہیں ہلکی سی جھرجھری بھی تیرے عمل کی چادر کو تجھ سے اتار دے گی اور وہ چادر حفاظت کی چادر ہوگی‘ اس نے بالکل یہی کیا سارے منظر کو دیکھنے کے بعد اس نے کسی قسم کا خوف اپنےاوپر سوار نہیں کیا حتیٰ کہ وہ قاتل اور خونخوار شخص اس کی طرف بڑھا اور اس پر ہاتھ ڈالا اس نے اس کے ہاتھ کے لمس کو اپنے جسم پرمحسوس کیا لیکن اس کے پیچھے میری بات تھی وہ اس بات پر مضبوط رہا اور اس نے ہلکا سا خوف محسوس نہ کیا‘ بس تھوڑی دیر کے بعد اس خونخوار شخص نے زور سے قہقہہ مارا اور اتنا زور کا قہقہ کا تھا کہ اس کے منہ سے آگ کے شعلے تھے اور اس کے قریب جتنے بھی درخت تھے وہ جل گئے اور تھوڑی دیر کے بعد وہ چھوٹاہوتا چلا گیا اس سے پہلے اس کا قد پہار جتنا تھا چھوٹے ہوتے پہلے وہ ہاتھی بنا پھر گھوڑا بنا پھر خچر بنا پھر گدھا بنا پھر بکری بنا پھر کتا بنا پھر کتے کا بچہ بنا پھر بلی بنا پھر بلی کا بچا بنا پھر چوہا بنا اور ایک بل میں گھس گیا۔ اور ایک آواز آئی کہ یہ خزانہ تیرے لیے خیر کا ذریعہ نہیں کہ چونکہ تونے نوری عمل کیا ہے اور نورانی عمل کیا ہوا کبھی ضائع نہیں جاتا اس کی طاقت اس کی تاثیر اور اس کا کمال ہمیشہ رہتا ہے اور اس طاقت تاثیر اور کمال کی وجہ سے اس کے اندر ایک ایسی تاثیر پیدا ہوجاتی ہے کہ کہیں نہ کہیں سے اس کا راستہ نکلتا ہے اور کہیں نہ کہیں سے وہ کوئی عامل کو خیر دے کر جاتا ہے‘ اور ایسی خیر دے کر جاتا ہے جس سے اس کی نسلیں شاذو آباد ہوجاتی ہیں۔ وہی غیبی آواز ایک بار پھر گونجی اور اور ایسی گونجی کہ اس کے قلب اور جگر میں اترگئی اور اس آواز نے پھر کہا یہ خزانہ تیرے لیے خیر کا ذریعہ نہیں اب تو اگر اس خزانہ کو پانا چاہتا تو اس کو اسی حال پر چھوڑ دے اور اس غیبی آواز نے بتایا ہم تجھے ایک عمل بتاتے ہیں وہ ہے سورۂ رحمٰن کی آیت فبای۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تکذبان۔ بس اس آیت کو اس ترتیب سے پڑھ اس غیبی آواز نے ایک ترتیب بتائی۔ کہ اس ترتیب سے پڑھتا جا اور اس کے کمال دیکھتا جا وہ شخص مجھ سےکہنے لگا کہ چالیس دن پورے کرکے میں نے وہ عمل چھوڑ دیا اگر پیچھے آپ کا ہاتھ اور ہدایات اور آپ نے میرے لیے جو حصار اور حفاظتی روحانی نورانی قلعہ بنایا تھا وہ نہ ہوتا وہ مجھے بھی اٹھا کر اس میں جلا دیتا اور جلانے سے مراد یہ ہےکہ یا تو یہ شخص پاگل ہوجاتا یا لولا لنگڑا اپاہج کانا اندھا کسی نہ کسی شکل میں یہ شخص ہوجاتا اور بربادی اور نقصان اس کی نسلوں میں چلا جاتا۔
اور وہ بار بار آنسو بہا کر ایک بات کہہ رہا تھا کہ حضرت علامہ صاحب میں آپ کا بہت مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے ایسا روحانی عمل بتایا جس کو میں نے کیا میں ایک مفلس اور غریب آدمی ہوں اور تنگدست انسان ہوں آپ غریب پرور ہیں غربا کی مدد کرتے ہیں غربا کا ساتھ دیتے ہیں غربا پر شفقت فرماتے ہیں اور غربا میں عنایات کرتے ہیں آپ کا احسان ہے وہ شخص مزید کہنے لگا کہ اس غیبی آواز نے مجھے اس آیت کا جو عمل بتایا کیا میں کرلوں؟ مٰں نے اعتماد اور بھروسے سےکہا ہاں کرلےمیری روحانی توجہ روحانی طاقت اور روحانی کمالات تیرے ساتھ ہوں گے انشاء اللہ اس عمل میں تجھے بہت کچھ ملے گا وہ ستر دن کا عمل تھا اور اسی ترکیب کے مطابق جو ترکیب اس غیبی آواز نے بتائی تھی اس نے کرنا شروع کردی اور کرتے کرتے حتیٰ کہ اس کے ستر دن پورے ہوگئے اس دوران کوئی اسے خواب نہیں آیا کوئی خیال نہیں ٓٓیا کوئی خوف محسوس نہیں ہوا بہت سادگی اور اطمینان سے اس نے یہ تمام عمل پورے کرلیے اور پورا کرنے کے بعد پھر میرے پاس آیا مجھے کہنے لگا کیا ہوگا؟ میں نے پوچھا اس غیبی آواز نے اس عمل کی طاقت تاثیر نفع یا فائدہ وغیرہ کچھ بتایا کہنے لگا انہوں نے کہا تھا بس یہ عمل کرلے اور اس کا نفع ہم پر چھوڑ دے‘ اس کا فائدہ ہم خود دیں گے اور ہم اس کا جو فائدہ دیں گے تیرا خیال اور گمان سےبالاتر ہوگا قارئین آج سالہا سال ہوگئے میں آپ کو یہ واقعہ سنارہا ہوں آج بھی مجھے وہ شخص ملتا ہے جس نے کالے عمل کے زورپر خزانہ نکالنے کی کوشش نہیں کی اس نے روحانی اورنوری عمل کی مدد سے خزانہ تک رسائی حاصل کرلی لیکن ایک روحانی آواز نے اس کو خزانہ سے روک کر اس آیت کا عمل دے دیا اور اس آیت کے عمل کے کرنے کے بعد کئی سال تک تو اس کو اس کانفع فائدہ رزلٹ یا نتیجہ نہ ملا بس! چند سالوں کے بعد اس کے لیے خیر کے غنچے کھلنے لگے برکتوں کی کلیاں پھوٹنے لگیں راحت کےدروازے کھلنے لگے خوشیاں مچلنے لگیں اور ایسے ایسے کمالات برکات ثمرات اور خیریں اس کے قریب آنا شروع ہوگئٰن خود اس کی عقل اس کا شعور اس کا احساس حیران تھا۔ رزق ملا‘ صحت ملی‘ بیماریاں گئیں‘ دکھ دور ہوگئے‘ پریشانیاں دور ہوئیں‘ مشکلات حل ہوئیں‘ مسائل حل ہوئے‘ اور زندگی کی ناکامیاں ختم ہوکر کامیابیوں کے دروازے کھلنا شروع ہوگئے‘ شان و شوکت عزت و راحت خیر اور برکت اس کے قریب آنا شروع ہوگئے اور اس کا وہ نظام بنا کہ جو شاید یہ سوچ نہیں سکتا تھا اوراس کے گمان میں نہیں آسکتا تھا آج بھی وہ دنیا کا خوشحال انسان ہے راحتیں برکات عزتیں شہرتیں سواریاں اور گھر اس کے پاس بے بہا اور بےشمار۔
قارئین! اصل بات یہ ہے کہ جو شخص ایک فیصلہ کرلے کہ میں نے خیر کو ہی تلاش کرنا ہے شر سے دوررہنا ہے اور برکت کا متلاشی رہنا ہے ایک شخص میرے پاس آیا اسے کسی سندھ کے عامل نے ایک عمل دیا اس عمل میں اسے یہ کہا گیا کہ تو کیلے کے درخت کے نیچے بیٹھ کر صرف گیارہ دن یہ عمل کر گیارہ دن میں دن کو عملکرنا تھا اور رات کو سونا تھا کوئی سختی پابندی نہیں تھی یعنی ترک جلالی‘ ترک جمالی‘ ترک لذات‘ ترک ھیوانات ترک شہوات‘ بڑا گوشت نہٰں کھانا‘چمڑے کےبرتن‘ چمڑے کی جوتی اور چمڑے کی چیزیں استعمال نہیں کرنی‘ بیوی سے نہیں ملنا‘ نظروں کو پاک دل کو پاک اور حرام سے بچنا ہے اور بھی بے شمار قیود اور چیزین اس کے ساتھ تھیں یہ ساری چیزیں اس نے کیں اور گیارہ دن کا پورا
Showing posts with label جنات کا پیدائشی دوست. Show all posts
Showing posts with label جنات کا پیدائشی دوست. Show all posts
Thursday, January 4, 2018
Monday, December 11, 2017
جنات کا پیدائشی دوست
پریشانی‘ ویرانی‘ بربادی:میرے غم کو اس نے لطف اور مزہ میں لیا اور مجھے اس نے مذاق بنالیا‘ میرے علم کو نہ دیکھا‘ میری عمر کو نہ دیکھا‘ میرے بڑھاپے کو نہ دیکھا‘ اور چلا گیا۔ اب میں اندھا تو نہیں کانا ہوگیا اورمیرا اندھا پن بڑھتا چلا جارہا تھا‘ مجھے جگہ جگہ ٹھوکریں لگیں اور میں ٹھوکریں کھاتا کھاتا دن رات گزار رہا تھا‘ میرا کوئی پل ایسانہیں تھا کہ میری آنکھوں سےا ٓنسونہ بہہ رہے ہوں‘ میرا ایک ہاتھ مفلوج اور میری ایک آنکھ اندھی تھی‘ میں بے زور ہوکر رہ گیاتھا‘ میری طاقتیں‘ قوتیں ختم ہوگئیں‘ میرا جسم ویران ہوگیا‘ میرے حالات بدسے بدتر ہوگئےبس انہی حالات میں‘ میں پریشانی کے عالم میں بہت زیادہ ویرانی اور بربادی کے ساتھ زندگی کے دن رات گزارنے لگا۔ مجھے بددعائیں کیوں دیں؟ کوئی مہینہ سوا مہینے بعد کا واقعہ ہے کہ میں سویا ہوا تھا تو کسی نے میری پنڈلی پر زور سے کاٹا ‘میں ایک دم چیخ کر اٹھا تو کوئی نہیں تھا‘ بس اس کا ہواؤں اور فضاؤں میں بھیانک قہقہہ اور خطرناک انداز‘ میں ویران ہوگیا‘ غم میں ڈوب گیا‘ میرے انداز سے اسے اور لطف اور مزہ ملا اور وہ یہ کہہ کر چلا گیا کہ تو نے مجھے بددعائیں کیوں دی تھیں اب میں تیرا کوئی پل‘ کوئی سانس ‘کوئی لمحہ سکون کا نہیں رہنے دوں گا۔ تجھے ہمیشہ بے سکون اور بے چین رکھوں گا۔ مجھے تجھ سے بغض ہے‘ عداوت ہے‘ دشمنی ہے ۔میں نے بڑبڑاتے ہوئے کہا :آخرمیں نے خطا کیا کی تھی؟ لیکن اس کا ایک بھیانک قہقہہ سنائی دیااور وہ غائب ہوگیا۔ پھر روزانہ رات کو میرے ساتھ یہی ہونا شروع ہوگیا جب بھی سو جاتامیں درد سے چیختا ‘چلاتا ‘گھبراتا‘ چونکتا اور حیرت انگیز بات ہے کہ یہ جاگتے ہوئے نہیں ہوتا تھا شاید وہ میری نیند کا انتظار کرتا یا مجھ پر خطرناک جادوئی طاقتوں سے نیند مسلط کرتا تھا اس کے بعد وہ میرے جسم کے کسی نہ کسی حصے پر کاٹتا اس کے دانتوں کے پورے نشان ہوتے تھے اور ابھی بھی ہیں اور ان سے خون رستا رہتا ہے‘ کوئی دوایا علاج اس پر اثر نہیں کرتی حتیٰ کہ جوں جوں علاج کرو زخم بڑھنا شروع ہوجاتا ہے‘ تکلیف بڑھنا شروع ہوجاتی ہے اور درد بہت زیادہ بڑھتا ہے۔ رزق لٹ گیا‘بیٹیوں کو طلاق ہوگئی: میں پریشانی کے عالم میں یہی تکلیف سہہ رہا تھا اور یہی درد نبھا رہا تھا‘ میرے ساتھ گھر کا رزق لٹ گیا‘ میری دو بیٹیوں کو طلاق ہوگئی اور جب بھی یہ طلاق دلواتا تھا مجھے آکر بتاتا تھا کہ یہ میں نے کروایا ہے‘ یہ زمین پر خدا بنا ہوا تھا شاید اللہ تعالیٰ نے اسے ڈھیل دی ہوئی تھی گھر میں چیزیں چوری ہوجاتی ہیں‘ میرے گھر میں سونے کی کوئی چیز نہیں بچی یہ چرا کر لے جاتا ہے اور واضح کہتا ہے کہ میں نے چرایا اور ہر چرانے کے بعد بتاتا تھا کہ میں نے وہ سونا وہ رقم وہ مال وہ چیزیں عیاشی میں خرچ کی ہیں‘اس کا پل پل میرے لیے اذیت ناک اب تو نامعلوم کتنے سالوں سے میں سو نہیں سکا لیکن یہ ظالم میری اونگھ میں بھی مجھے تکلیف دیتا اور مجھے زخمی کردیتا میں بوڑھا ہوں لیکن سالہا سال کی اس کی اذیتوں نے مجھے وقت سے پہلے اور بوڑھا کردیا ہے اور سالہا سال کی اس کی اذیتوں نے مجھے وقت سے پہلے ویران اور برباد کردیا ہے۔مجھے جنات سے محبت ہے مگر یہ جن قابل نفرت ہے: وہ مجمع کو غم اور دکھ سنا رہاتھا اور بار بار کہہ رہاتھا کہ بادشاہ سلامت میں عالم ہوں‘ میں مفتی ہوں‘ میں نے علم پڑھا ہے ‘فقہ اورمیرےعلم کے مطابق کالا جادو اور کالا جادوگر اس قابل ہوتا ہے کہ اس کی گردن اتار دی جائے‘ میں خود جن ہوں‘ مجھے جنات سے محبت ہے‘ لیکن یہ جن قابل نفرت ہے‘ یہ جن قابل محبت نہیں ہے‘ بادشاہ سلامت! آپ اس کے ساتھ ہرگز ہرگز ترس نہ کھائیں‘ ہرگز ہرگز رحم نہ کھائیں اور اس کو میرے حوالے کردیں کہ میں اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردوں‘ یہ امت پر احسان ہوگا‘ مظلوموں پر احسان ہوگا اور آپ کا مجھ پر احسان ہوگا ۔وہ بوڑھاعالم مفتی جن رو رہا تھا‘ رو رو کر اپنی فریادیں بیان کررہا تھا کہا کہ مجھے آج پتہ چلا کہ وہ ظالم پکڑا گیا ہے اور پتہ بھی اس لیے چلا کہ میں گزشتہ دو تین دنوں سے کسی تکلیف میں مبتلا نہیں ہوا مجھے حیرت ہوئی کہ اس نے تو میرا پیچھا نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن آج مجھے کیوں چھوڑ گیا پھر مجھے آپ کی طرف سے اطلاع ملی کہ ہر شخص آکر اپنا دکھ بیان کرے میں آج آپ کے سامنے اپنا دکھ اور غم بیان کرنے آیا ہوں بس میرے ساتھ ترس کھائیں اور رحم کھائیں اور مجھے انصاف دلائیں۔ میرا تمام علمی ذخیرہ ضائع کردیا:اس نے میری تمام کتابیں پھاڑ دی ہیں اس نے میرا تمام علمی ذخیرہ ضائع کردیا ہے‘ میرا ہاتھ ابھی تک مفلوج ہے‘ میری آنکھ ابھی تک اندھی ہے‘ مجھے یقین ہے جب یہ قتل ہوگا تب اس کا جادو اور طلسم ٹوٹے گا اور میری آنکھ اور میرا ہاتھ خودبخود ٹھیک ہوجائے گا۔ مجھے آپ سے انصاف چاہیے: وہ بوڑھا عالم جن چیخ رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ بادشاہ آپ کے دربار میں کسی عالم کا کوئی مقام نہیں کیا؟ آپ کے دربار میں کسی بوڑھے کا کوئی وقار نہیں کیا؟ آپ کے دربار میں کسی مظلوم کی کوئی پکار اور فریاد نہیں؟ مجھے آپ سے بہت کچھ نہیں چاہیے مجھے آپ سے صرف انصاف چاہیے۔ میں بہت نادم ہوں کہ میں شاید آپ کے دربار کی گستاخی کرگیا ہوں میں نے آپ کے ادب کا خیال نہیں کیا لیکن آپ میرے دکھ اور غم کو اگر تولیں گے تو شاید یہ دکھ اور غم سب سے زیادہ بھاری ہوگا اور سب سے زیادہ پریشان کن ہوگا۔ میرے دکھ اور غم میں آپ میرا ساتھ دیں۔ اس دکھ اور غم میں آپ مجھے تنہا نہ چھوڑیں۔ بادشاہ سلامت کیا مجھے آپ اس حالت میں چھوڑ دیں گے؟ کیا آپ میرا ساتھ نہیں دیں گے؟ مجھے آپ کا ساتھ چاہیے۔ مجھے الجھنوں کا توڑ چاہیے: مجھے غموں سے نجات چاہیے مجھے الجھنوں کا توڑ چاہیے۔ بادشاہ غم اور غصے کی ملی جلی کیفیات کے ساتھ اس شخص کے حالات سن رہا تھا‘ اب تو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ شاید مجمع کے آنسو ہی ختم ہوگئے ہیں اور مجمع رو رو کر ہچکیاں لے لے کر ہلکان ہورہا تھا وہ ظالم جادوگر زنجیروں میں جکڑا سر جھکائے ہوا تھا‘ معلوم یہ ہوتا تھا کہ وہ اپنے جادو کا ہرگُر زنجیروں سے نکلنے کیلئے آزما چکا ہے لیکن اب اس کا ہر گُر‘ جادو کا طلسم اور راز ختم ہوچکے ہیں وہ مخلوق کو گمراہ کرنے والا تھا۔ مخلوق کےساتھ دکھوں اوردردوں کو چننے والا نہیں تھا‘ پھیلانے والا تھا‘ وہ مظلوم بنانے والا تھا‘ وہ ظلم ڈھانے والا تھا وہ دشمنیاں پھیلانے والا تھا وہ گھروں میں لڑائیاں کروا کر آپس میں نفرتیں پیدا کرکے محظوظ ہوتا تھا۔ اس کا پل پل شرارت اور چنگاڑیوں سے بھرا ہوا تھا اس کا دماغ منفی سوچتا تھا مثبت نہیں سوچتا تھا وہ جانور نہیں تھا بلکہ جانور کتے اور خنزیر سے بدتر تھا وہ سانپ اور بچھو کی طرح تھا کہ بچھو کو ڈسنے سے مزہ نہیں آتا لیکن وہ ڈستا ہے۔آج ظالم کا انجا م اپنی آنکھوں سے دیکھیں: بادشاہ نے جلاد کو بلوایا جلاد فوراً حاضر ہوا پورے مجمع میں کہرام مچ گیا اور انصاف انصاف کی آوازیں لگنے لگیں اور مجمع خوشی کے مارے اچھل رہا تھا کہ آج ظالم کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھیں لیکن اسی دوران ایک عورت بار بار پکار پکار کراپنا غم اور دکھ سنانے کی فریاد کررہی تھی اور وہ چاہ رہی تھی اس کا غم اور دکھ سنا جائے اس کا درد
بھی سنا بھی جائے اور اس کو بھی انصاف دلایا جائے اس ظالم کو ایسے نہ مارا جائے ‘وہ عورت پکار رہی تھی جس طرح اس نے لوگوں کو سسکایا ہے اسی طرح اس کو بھی سسکایا جائے‘ اس نے بادشاہ سلامت کو کہا کہ بادشاہ سلامت پہلے اس کی ایک آنکھ نکالی جائے پھر اس کو تڑپایا جائے پھر چند گھنٹوں کے بعد اس کی دوسری آنکھ نکالی جائے پھر اس کو تڑپایا جائے‘ پھر اس کا ایک کان کاٹا جائے جو بہت شدت سے نہیں کسی کند چھری سے سارا نہ کاٹا جائے ایک ٹکڑا کاٹا جائے پھر اس کو سسکایا اور تڑپایا جائے پھر دوسرا ٹکڑا کاٹا جائے اس طرح چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے اس کا کان کاٹا جائے پھر اس کے جسم کے ایک ایک بال کوکھینچا اور ادھیڑا جائے اورپھر اس کے جسم کے ایک ایک روئیں کو زخمی کیا جائے۔ پھر اسی طرح اس کا دوسرا کان کاٹا نہ جائے بلکہ کترا جائے پھر اسی طرح دوسری آنکھ ہونٹ اور ناک الغرض کوئی چیز اس کی کاٹی نہ جائے بلکہ چھوٹے چھوٹے حصوں سے لوہے کی بڑی قینچیوں کے ساتھ کتری جائے تب ہمیں محسوس ہوگا کہ ہمیں انصاف ملا ہے ۔ یہ جن میری تین بیٹیاں اٹھا کر لے گیا:بادشاہ سلامت آپ خود منصف ہیں ‘ آپ رحم دل ہیں‘ رحم دلی آپ کی نسلوں سے چلتی آرہی ہے‘ آپ شریف ہیں آپ مخلص ہیں۔ یہ جن میری تین بیٹیاں اٹھا کر لے کر گیا ‘میری جوان خوبصورت بیٹیاں‘ میں جننی ہوں‘ میری بیٹیاں بلوغت سے نکل کر شادی کی عمر میں تھیںکہ میری ایک بیٹی کو اٹھا کر لے گیا ‘میری بیٹی اپنے گھر کے درخت کے نیچے بیٹھی تھی اور اپنے خوبصورت لمبے بالوں کو سنواررہی تھی وہ کھڑی ہوکر کنگھی کررہی تھی اور اس کے بال اتنے گھنے اور خوبصورت تھے کہ زمین کو چھو رہے تھے اس دوران میں نے ایک قہقہہ سنا ایک دردناک آواز سنی اور ایک سفاکی اور تیزی کی ایک سیٹی دار لہر سنی جس نے میرے سارے گھر کو سناٹے میں ڈال دیا اور میرا گھر اسی سناٹے میں سہم گیا‘ اس نے زور سے قہقہہ لگایا اور میری بیٹی کو پکارا اور بس پھر میں نے محسوس کیا کہ جیسے کوئی چیل کسی مرغی کے بچے کو اٹھا کر لے جاتی ہے اسی طرح یہ ظالم اپنے خوفناک پنجوں میں چیختی چلاتی بیٹی کو اٹھا کر لے گیا‘ مجھے آج تک وہ بیٹی نہیں ملی یقیناً وہ میری بیٹی دن رات اسی ظالم کے پاس آگ پر بھن رہی ہے اور اس ظالم کے ظلم میں وہ تڑپ رہی ہے‘ ٹھیک پانچ ماہ کے بعد میری دوسری بیٹی بھی اسی طرح اٹھا کر لے گیا‘ اُس وقت جب وہ نہا رہی تھی مجھے رب نے حسن و جمال دیا ہے اس باحجاب بانقاب جننی نے بتایا۔ میری بیٹیاں بہت حسین و جمیل ہیں پانچ ماہ قبل کا غم مجھے نہیں بھولاتھا کہ یہ میری دوسری بیٹی کو بھی اٹھا کر لے گیا۔ میرا گھر اور نسلیں ویران:میرے گھر میں صف ماتم تھی‘ ویرانی تھی‘ میرا گھر کا ہر فرد رو رہا تھا‘ میرے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ہر بیٹا غم اور انتقام میں ابل رہا ہے‘ اس واقعہ کو صرف انیس ماہ ہوئے ہیں اور میرا گھر اجڑ گیا ہے‘ میری نسلیں ویران ہوگئی ہیں اور میں برباد ہوگئی ہوں میرا کوئی وارث نہیں رہا‘ میرا کوئی ساتھی نہیں رہا‘ میری عزتیں مجھ سے لٹ گئی ہیں‘ میرے بیٹے گھر سے باہر نہیں نکل پارہے‘ وہ کس کو منہ دکھائیں اور کیا منہ دکھائیں‘ ابھی یہ غم ہرا ہی تھا کہ تھوڑے ہی دنوں کے بعد میری تیسری بیٹی جو ابھی کچھ ماہ پہلے بالغ ہوئی تھی اس کو بھی اٹھا کر لے گیا‘ مجھے کوئی خبر نہیں مجھے اس کی شکل یاد ہے‘ مجھے اس کا چہرہ یاد ہے‘ نامعلوم اس نے میری بیٹیوں کو کہاں رکھا ہوا ہے؟ وہ تڑپ رہی تھی وہ اپنے ہاتھوں سے چہرہ پیٹ رہی تھی اس نے اپنا سینہ چھلنی کیا ہوا تھا وہ پکار رہی تھی کیا بادشاہ سلامت میری بیٹیاں اسی کے پاس رہیں گی اور آپ اس کو قتل کردیں گے‘ کیا بادشاہ سلامت میری بیٹیاں ایسے ہی سسکتی رہیں گی‘ کیا میں غم کے بادلوں میں ایسے ڈھکی ڈھکی مر جاؤں گی؟ کیا میں اپنی نیک شریف بیٹیوں کا چہرہ کبھی نہیں دیکھ پاؤں گی؟ کیا میں اسی طرح سسکتی‘ روتی اورابلتے آنسوؤں کے ساتھ قبر میں چلی جاؤں گی؟ کیا میں ان بیٹیوں کے ہاتھ پیلے نہیں کرسکوں گی؟ وہ یہ لفظ کہتے ہوئے رو رہی تھی تڑپ رہی تھی اس کے لفظ عجیب تھے ‘سارا مجمع تڑپ رہا تھا۔ بادشاہ کے طاقت ورمحافظوں نے مجمع کو سنبھالا ہوا تھا ‘ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ اس جادوگر کی جاکر گردن مروڑ دیں یا اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں یا اس کو قتل کردیں۔ لیکن بادشاہ کے طاقتور محافظوں نے مجمع کو قریب نہیں آنے دیا اور بادشاہ نے اس کو روکا ہوا تھا۔جب جادوگر میری بیٹی کو پھینک گیا: لمحے گزرتے جارہے تھے اس خاتون کی داستان بڑھتی چلی جارہی تھی‘ وہ کہنے لگی: ایک دفعہ اس نے ہمیں سسکانے اور تڑپنے کیلئے درمیانی بیٹی جس کونہاتے ہوئے اٹھایا تھا اس کو ہمارے گھر پھینک گیا اس کا جسم ہر ہر جگہ سے زخمی تھا اور چبایا ہوا تھا‘ وہ سسک رہی تھی وہ بار بار پانی مانگتی تھی وہ بول نہیں سکتی تھی وہ اپنا درد نہیں بیان کرسکتی تھی‘ اس کی زبان پر اس نے جادو کیا ہوا تھا وہ دیکھ رہی تھی اور اس کے احساسات تھے‘ اس کی سمجھ تھی اس کی عقل تھی‘ اس کا شعور تھا لیکن وہ بول نہیں سکتی تھی‘ وہ آنکھوں سے اور ہاتھوں سے اپنا غم سنانے کی کوشش کرتی لیکن پھر وہ رو کر ڈوب ڈوب جاتی تھی‘ وہ تڑپ جاتی تھی تین دن ہمارے گھر میں رہی‘ ہم نے اسے کھلانے پلانے اس کے زخموں پر مرہم لگانے کی بہت
کوشش کی لیکن اس کا کوئی زخم ٹھیک نہیں ہوتا تھا ان زخموں میں زہر بھرا ہوا تھا‘ وہ کھا پی نہیں سکتی تھی‘ وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی‘ حسن و جمال ختم ہوچکا تھا‘ اس کے آدھے بال گرچکے تھے۔ اس کا جسم نڈھال ہوچکا تھا وہ کروٹ خود نہیں بدل سکتی تھی‘ بیٹھنا تو دور کی بات ہے‘ وہ ٹانگیں سیدھی نہیں کرسکتی تھی‘ اس کا ہاتھ جہاں پڑا ہوتا تھاو ہیں پڑا رہتاتھا تین دن کے بعد دیکھا کہ وہ گھر میں نہیں ہے ہم نے ادھر ادھر تلاش کیا لیکن وہ تو چل پھر ہی نہیں سکتی تھی۔ بس پتہ چل گیا کہ یہ خبیث جن میری بیٹی کو اٹھا کر پھر لے گیا ہے وہ دراصل ہمیں سسکانا چاہتا تھا‘ تڑپانا چاہتاتھا اور بتانا چاہتا تھا کہ میں طاقت ور ہوں! ہم اس زندگی سے اکتا چکے ہیں: ایک اہم بات اس خاتون نے یہ بتائی کہ ہمارے پورے گھر میں بدبو ہے ایسے جیسے کسی نے بہت بڑی غلاظت ہمارے گھر میں چھوڑ دی ہے۔ ہم نے گھر کو خوب صاف کیاایک ایک کونے کو کریدا کوئی مرا ہوا جانور کوئی غلاظت کچھ بھی نہیں‘ بس سارا دن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے گندگی کی آندھی اور طوفان ہمارے گھر میں ہے‘ ہم اس زندگی سے اکتا چکے ہیں ہمارے گھر کا ہرفرد گندگی میں اٹا ہوا ہے میرے بیٹے شرمندہ شرمندہ ہیں‘ ان کے وقت سے پہلے چند ہی مہینوں میں بال سفید ہوگئے ہیں‘ ہمارے گھرمیں کبھی کھانا پکتا ہے کبھی نہیں پکتا‘ اگر پکا ہوا بھی ہوتا ہے تو کسی کا کچھ کھانے کو دل نہیں چاہتا‘ ہر شخص یا ایک دوسرے کا منہ تکتا ہے یا سر نیچا کیے روتا رہتا ہے یا پھر فضاؤں میں گھور گھور کر رب کی مدد اور طاقت کو تلاش کرتا رہتا ہے۔ وہ جننی رو رہی تھی اس کا رونا میں بیان نہیں کرسکتا وہ جننی تڑپ رہی تھی‘ اس کا تڑپنا الفاظ میں ڈھل نہیں سکتا۔ (جاری ہے)
Monday, February 1, 2016
جنات کا پیدائشی دوست
استاد فوقانی ثانی اور
محدث جن کی عیادت:۔استاد فوقانی
ثانی سے میری محبت پیار اور دلچسپی بڑھ گئی مجھے احساس ہوا کہ ان کے اند ر اللہ
پاک نے کوئی اور خصوصی صفات رکھی ہیں ویسے تو صفات ہر انسان اور جن میں ہوتی ہیں
اور اولیاء نیک یا عام جنات میں بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں میری سب سے پہلی ملاقات ان
سے اس وقت ہوئی تھی جب میں اپنی جناتی سواری پر سفر کرتا ہوا ایک دور افتادہ پہاڑی
غار میں ایک محدث جن کی عیادت کرنے جا رہا تھا ۔مجھے عبدالسلام جن نے بتایا کہ وہ
بہت بیمار ہیں اور مسلسل آپ کو یاد کرتے ہیں میں انہیں ڈھونڈتا ڈھانڈتا آخر پہنچ
گیا وہ اٹھ کر بیٹھ گئے بہت خوش ہوئے میں نے ان کیلئے کچھ شفائی تدابیر کیں جس کی
وجہ سے انہیں اسی وقت فوری فائدہ ہوا او ردل کا اور جسم کا سکون میسر ہوا ۔ بہت
خوش ہوئے مجھ سے فرمانے لگے میرا ایک شاگرد ہے میں اسے بلوانا چاہتا ہوں ۔آپ اس سے
ملاتات کرو وہ کائنات کے تہہ در تہہ سربستہ رازوں کو بہت اچھی طرح جانتا ہے اور یہ
تہہ در تہہ سربستہ راز اللہ پاک نے اس پر بہت کھولے ہیں وہ کبھی ایک جگہ بیٹھا
نہیں حتیٰ کہ اپنی شادی کے دن بھی وہ بیٹھا کسی باکمال سے ملاقات کر رہا تھا اور بیوی اس کا انتظار کر رہی تھی
وہ ہمیشہ کھو جوں میں اور تلاشوں میں زندگی کے دن رات گزارتا ہے اس کا ہر پل ہر
سانس ہرلمحہ ہر لحظہ کائنات کے رازوں میں
لگا رہتا ہے اس کی زندگی اس کی سانسیں اور اس کا وجود اتنا زیادہ قیمتی ہے کہ اے
کاش! میری زندگی کے باقی سال بھی اسے لگ جائیں تھوڑی ہی دیر ہوئی وہ ہمارے پاس آ
گئے ایک اونچی اوررعب دار آواز میں سلام کیا اور بیٹھ گئے اور بیٹھتے ہی انہوں نے
اس محدث استاد کے پاؤں اور کندھے دبانے شروع کر دئیے ۔ میری طرف انہوں نے کوئی بھی
توجہ نہ دی میں ان کی خدمت میں بیٹھا رہا تھوڑی ہی دیر میں اس محدث نے میرا تعارف
اس جن سے کرایا کہنے لگےاس کانام فوقانی ہے ۔
استاد فوقانی ثانی جن
سے گفتگو اور کائنات کے سر بستہ راز :۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ استاد فوقانی ثانی جن میری طرف مائل ہوئے اور یوں سلسلہ
گفتگو کا چلنا شروع ہو گیا ۔ گفتگو میں کچھ ایسی باتیں سامنے آئیں جن کا تعلق کائنات
کے سربستہ رازوں میں سے ہے اگر میں ان کا اظہار کروں تو عام عقل انسانی اور انسانی
شعور احساس و ادراک اس کو کبھی سمجھ نہ پائیں لیکن آج کی نشست میں میں کچھ ایسی
چیزیں اپنے قارئین کو بطور امانت پہنچانا چاہتا ہوں جس کا انہیں بہت یقینی فائدہ
اور ان کو یقینی نفع ہو گا ۔
ایک تسبیح اور بے حساب
مغفرت :۔ پہلی چیز جو استاد
فوقانی ثانی جن نے بتائی وہ یہ تھی اگر کوئی بندہ یہ چاہتا ہے کہ میرا خاتمہ ایمان
پر ہو اور آخری وقت میں کلمہ نصیب ہو اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ کا سچا قرب اور
سچا ساتھ ملے قبر جنت بن جائے محشر کا حساب و کتاب سوال و جواب نہایت آسان ہو اور
آخرت میں پل صراط کا راستہ سہولت سے پار ہو جائے نامہ اعمال قیامت کے دن اللہ پاک
بے حساب بخش دے جنت میں استقبال ہو فرشتوں کا ساتھ ہو حوروں کی قدردانی نصیب ہو تو
ایسا آدمی اگر روزانہ صرف ایک تسبیح یاتواب اس کیفیت کے ساتھ پڑھے اور یہ صرف سوتے وقت پڑھنی ہے اول و
آخر تین بار درود شریف اور کیفیت یہ ہو کہ یااللہ !میں دنیا کا سب سے بڑا مجرم ہوں
ساری دنیا کی بخشش ہوگئی لیکن میری نہیں ہو سکتی ہاں تیر ی شان کریمی ہو گی تو ہو
جائے گی اور میرے جرم ناقابل معافی ہیں لہذا اپنے اس صفاتی نام کی برکت سے مجھے
بخشش کاسامان دے بس یہ ایک تسبیح ہو لیکن ہو ایسی جو جسم کے روئے روئے اور انگ انگ
کو اللہ پاک کی ذات کی طرف متوجہ کر دے ۔
استاد فوقانی ثانی جن کی
بات نے مجھے حیران کر دیا :۔ اس
استاد فوقانی ثانی جن نے یہ کیا عجیب حیرت انگیز بات بتائی میں خود حیران ہو گیا
میں لفظ یا تواب کی طرف اگر دیکھتاہوں تو سمجھ آتی ہے اور جب اس استاد
فوقانی ثانی جن کے لہجے رویے اور سچے انداز کی طرف پھر بھی سمجھ آتی ہے اور بہت
زیادہ آتی ہے میں ان کی بات سن رہا تھا ۔
عام سے مسلمان جن کا
لاجواب خاتمہ بالخیر :۔
اسی دوران استاد فوقانی ثانی جن نے ایک
بات سنائی کہنے لگے ہمارے جنات کی دنیا میں ایک شخص تھا کوئی بہت بڑا نیک متقی
نہیں تھا بلکہ عام سا مسلمان تھا میں نے اس کے مرنے سے تقریباً بہت سال پہلے اسے
یہی عمل بتایا تھا کہ وہ شخص سوتے ہوئے وضو ہے یا نہیں ہے پاک ہے یا نہیں ہے ہر
جگہ ہر حالت میں بس ایک تسبیح رات سوتے وقت اول و آخر تین بار درود شریف یا تواب کی پڑھے ابھی تھوڑا عرصہ پہلے وہ فوت ہوا تو مجھے اس کے
گھر والوں نے بتایاکہ آخری لمحے میں کہنے لگا کہ قرآن لے آؤ۔قرآن سامنے لایا گیا
تو وہ قرآن کو بہت خوش الحانی سے بہترین لہجے سے اور خوبصوت آواز سے پڑھنے لگ گیا
حالانکہ وہ بالکل ان پڑھ تھا وہ قرآن نہیں پڑ سکتا تھا لیکن اس وقت وہ بہترین
انداز سے قرآن پڑھ رہا تھا اور قرآن پڑھے جارہا تھا حتیٰ کہ اسی نشست میں اس نے
بہت خوبصورت انداز میں قرآن کا ڈیڑھ پارہ پڑھ لیا اور قرآن واپس کیا اور سب کو
متوجہ کیا لوگو! میں اپنے گناہوں سے معافی مانگتا ہوں اللہ پاک کی نافرمانی سے
معافی مانگتا ہوں جس کا دل دکھایا ان سب تک میرا پیغام پہنچا دینا میں معافی
مانگتا ہوں اللہ پاک پر ایمان ، فرشتوں پر ایمان ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں پر
ایمان لاتا ہوں آخرت کے دن پر ایمان لاتا ہوں خیر اور شر اللہ پاک کی طرف سے ہے اس
پر ایمان لاتا ہوں مرنے کے بعد کی زندگی ہے اس پر ایمان لاتا ہوں ، لوگوں میرے
ایما ن پر گواہ رہنا ، میری توبہ کے گواہ رہنا
میرے توبہ کے گواہ رہنا بس اس طرح کی خیر کی باتیں کرتا ، کلمے کا ورد کرتا
کرتا وہ اپنی زندگی پا گیا ۔
یہ ایک موت نہیں :۔ ایسی بے شمار اعلیٰ قسم کی کئی شاندار اموات میں نے اپنی
زندگی میں پائی ہیں استاد فوقانی ثانی جن
مزید کہنے لگا ورد بہت مختصر لیکن اس کا کمال بہت زیادہ ہے کیونکہ ہر شخص نے مرنا
ہے وہ انسان ہو یا جن ، موت ایک حقیقت ہے اور جو موت کی حقیقت کو پا گیا اور جو
موت کو بھول گیا وہ زندگی کو بھی ہمیشہ کیلئے بھول گیا موت اصل ہے زندگی اصل نہیں
اور آخری لمحے قیامت تک موت کا ذائقہ ہر ذی روح کو چکھنا ہے ۔ قارئین ! یہ تجربہ
اور انوکھا مشاہدہ اس کے بعد میں نے بے شمار لوگوں کو بتانا شروع کر دیا اور بہت
عرصہ دراز تک میں نے اس کو بتایا اور اب بھی بتا رہا ہوں ۔
علامہ صاحب کا انوکھا خواب :۔
ایک رات میں سویا ہوا تھا میں نے ایک خواب دیکھا اور وہ انوکھا خواب تھا ۔ میرے
پاس بہت سے لوگ تھے جن کے خوبصورت لباس ، خوبصورت چہرے اور خوبصورت جسم تھے وہ
کوئی جنتی سوارئیوں پر سوار تھے۔ مجھے علم نہیں کہ وہ سواریاں کیا تھیں بس ایک احساس
ہو رہا تھا کہ تیز رفتار سواریاں ہیں جو لمحوںمیں لاکھوں میلوں کا سفر طے کر لیتی
ہیں ۔ وہ سب میری طرف دیکھ کر مسکرا رہے ان کی مسکراہٹ ایسی تھی کہ میں نے بھی
مسکرانا شروع کر دیا وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ ہم وہ لوگ ہیں جو تیرے اس یا تواب کی وجہ سے آخرت میں سر
خرو ہوئے۔جب اللہ پاک کے سامنے حاضر ہوئے تو اللہ پاک نے ہمارے اس اسم اور توبہ کی
وجہ سے مغفرت کا پروانہ دیا ہم سارے کے سارے آپ سے ملنے آئے ہیں اور یہ خوشخبری
دینے آئے ہیں کہ آپ کی وجہ سے جتنے لوگوں کی بخشش ہوئی وہ دن رات آپ کیلئے بہت
زیادہ دعائیں کرتے ہیں کہ یا اللہ پاک جو ہماری بخشش کا ذریعہ بنا یااللہ پاک اس کی بخشش بھی کر دے اور اسے بھی
معاف کر دے اور اسے بھی ہماری طرح اعلیٰ سے اعلیٰ بہتر جنت عطا فرما اور مزید
ہنستے ہنستے مجھے انہوں نے ایک بات کہی کہ حضرت علامہ صاحب آپ اگر اس عمل کو پوری
دنیا کیلئے پھیلا دیں تو بے شمار لوگوں کا فائدہ ہو گا کئی خطا وار اور گناہ گار
بخشے جائیں گے اور کئی لوگ اللہ کا قرب پائیں گے اور اللہ پاک کی محبت پائیں گے ۔
مغفرت کی ماسٹر آپ کی خدمت میں :۔
قارئین ! جب میں اس خواب سے بیدار ہوا تو میرے دل میں آیا کہ اس عمل کو اور اس
کیمیا نسخے کو پھیلانا چاہیے یہ ایک چابی ہے بلکہ ماسٹر کی ہے مخلوق خدا کا آخرت ،
اللہ پاک کے ساتھ تعلق ، اللہ پاک کے نبی ﷺ کے ساتھ تعلق اس سے بہتر اور کس طرح ہو
سکتا ہے بس یہ جذبہ ہے جس نے مجھے فوقانی ثانی جن کے اس عمل کو پھیلانے پر مجبور
کیا ۔
استاد فوقانی ثانی جن
کا انسانی روپ میں آنا :۔انہوں
نے ایک واقعہ سنایا کہنے لگے کہ ایک میدانی علاقے میں جہاں سخت شدت کی گرمی تھی
میں جارہا تھا تو اس میدانی علاقے میں جہاں سخت شدت کی گرمی تھی میں جا رہا تھا تو
اس میدانی علاقے میں مجھے ایک جھونپڑی نظر آئی ۔ وہ انسانوں کی جھوپنڑی تھی ۔ اس
میں تین مرد ، پانچ عورتیں اور انیس بچے تھے ۔ وہ لوگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے ان کی باتوں سے مجھے محسوس ہوا کہ یہ ایک فیملی
ہے جس میں بچے بھی ہیں جوڑے بھی ہیں اور کچھ بوڑھے لوگ بھی ہیں وہ نیک لوگوں کا
گھرانہ نظر آتا تھا لیکن غریب لوگوں کا ۔ وہ اس بات پر بیٹھے فکر کر رہے تھے کہ ہم
سارے گھر والے کیسے نمازی بن جائیں قرآن پاک کی تلاوت روز کیسے کریں ہمارا دل اللہ
پاک اور اس کے رسول ﷺ سے کیسے جڑ جائے یہ فکر اور غم تھا جو انہیں بٹھائے بیٹھا
تھا ۔
استاد فوقانی ثانی جن
کو ملیں برکات :۔ مجھے ان کے سچے
جذبے نے ان کے قریب بیٹھنے کا مزہ دیا چونکہ میں جن تھا اور ان کے قریب بیٹھا تھا
ان کو پتہ نہیں چل رہا تھا لیکن مجھے احساس ہوا کہ ان کے قریب بیٹھنے سے مجھے
برکات ملیں ۔ اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ ان لوگوں کو یاتواب کا عمل بتا دوں میں ایک مسافر پردیسی کے روپ میں نمودار
ہوا جو کہ یہاں سے گزر رہا تھا اور میں نے اپنی شکل انسانی بنا لی اور میں انسانوں
کے روپ میں ان کے سامنے جب پہنچا تو انہوں نے میرا استقبال کیا ، اور مجھے پردیسی
مسافر سمجھ کر میری خاطرا مدارت کی ۔
استاد فوقانی ثانی جن
کا جھونپڑی مکینوں کیلئے تحفہ :۔
میں نے ان کی خاطر مدارت قبول کی اور جاتے جاتے میں نے انہیں کہا کہ آپ نے میری
اتنی خدمت کی ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ کو ایک تحفہ دے کر جاؤں اور پھر میں نے انہیں
کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا خاتمہ ایمان پر ہو قیامت کے دن اللہ پاک کا
سامنا ہو اور اللہ پاک راضی ہو اور اللہ پاک
آپ کو دیکھ کر مسکرائے ،اور آپ کی مغفرت ہو تو صرف یہ کام کریں کہ یا تواب کی ایک تسبیح سوتے وقت پڑھنے کی مکمل ترکیب بتا دی وہ میری
بات سن کر بہت خوش ہوئے ان کے گھر میں کوئی تحفہ یا ہدیہ تو نہیں تھا لیکن ان کی
چاہت تھی کہ کسی طرح ہم اس پر دیسی کو کوئی ہدیہ دے کر ہی بھیجیں ۔انہوں نے اصرار
کیا میں نے انکار کیا کیونکہ وہ بہت سفید پوش اور غریب لوگ تھے میں وہاں سے چل پڑا
اور چلتے چلتے مجھے ایک ایسے فرد سے واسطہ پڑا کہ جو طرح طرح کی بیماریوں ،تکالیف،
مصائب اور پریشانیوں میں مبتلا تھا ۔
دنیا کے غریب آخرت کے
امیر:۔ میں نے محسوس کیا
زندگی میں تو اس نے تکلیفیں ، پریشانیاں
،دکھ بہت دیکھے لیکن آخرت میں بھی اگر یہ تکلیفیں ، پریشانیاں ، دکھ دیکھے
گا تو دنیا بھی گئی اور آخرت بھی ۔ لہذا یہ دنیا میں تو غریب رہے لیکن آخرت کا
امیر رہے ۔ میں نے اسے یہی تسبیح اور یہی وظیفہ یا تواب کا یہ عمل بہت تفصیل سے بتایا اس کے کچھ فائدے برکات اور
کمالات اسے بتائے ۔ وہ حیران ہوا مجھے سے کہنے لگا میں سارا دن فارغ ہوں اگر میں
سارا دن ہی یاتواب پڑھتا
رہوں میں نے کہا پڑھ سکتے ہو اور عمل تو یہی ہے کہ سوتے ہوئے ایک تسبیح نہایت خشوع
و خضوع ، دھیان توجہ بے چینی ، بے کلی ،
بے قراری سے کرنا ہے اور اس کے کمالات آخرت میں وہ کھلیں گے جو آپ سوچ نہیں سکتے ۔
اس نے پڑھنا شروع کر دیا پھر میں کچھ عرصہ کے بعد گزرا تو دیکھاتو وہ پریشان اور
ویران شخص نہیں تھا ۔
سجی سجائی جنت آنکھوں
کے سامنے :۔ مجھے حیرت ہوئی کہ
وہ حیران و پریشان شخص آخر کہاں گیا ؟میں نے لوگوں سے پوچھا تو لوگ کہنے لگے وہ فوت ہو گیا ۔ میں نے کہا اس کی
موت کی حالت مجھے بتا سکتے ہیں اس کو کتنی بری یا اچھی موت آئی ۔ کہنے لگے ہاں ہم
بتاتے ہیں وہ تین دن پہلے بالکل ٹھیک ہو گیا ایسے تھا جیسے اس کی بیماری ہے ہی
نہیں تین دن کے بعد جب آخری لمحہ اس کا پہنچا وضو کیا نماز پڑھی نماز پڑھنے کے بعد
اس نے دو نفل پڑھے دو نفل کے بعد مسلسل یاتواب پڑھتا
رہا ۔اور اللہ پاک سے اپنے گناہوں کی رو رو کر اونچے اونچے بولوں میں معافی مانگتا
رہا ۔ اس نے سب کو بولایا ۔ کہا دیکھو میں نے زندگی میں کوئی بڑے گناہ نہیں کیے
اور کچھ زیادہ نیکیاں نہیں کیں ۔ ایک نیکی ہے میرے پاس ایک درویش ملا تھا اس نے
مجھے آخری وقت میں سوتے وقت یاتواب کی ایک تسبیح پڑھنے
کو کہا تھا ۔آج جنت سجی سجائی میری آنکھوں کے سامنے ہے ا س کے حسین مناظر اور اس
کے کمالات اس کی خشبو ئیں اس میں فرشتے غلام ، حوریں اللہ پاک نے سب پردے مجھ سے
ہٹا دیئے ہیں ۔اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں قبر میں مجھے بچھو ، سانپ اور اندھیرا
نظر نہیں آرہا ہے ۔ قبر میں مجھے بچھونے ، حور ، نورانیت اور نور نظر آ رہا ہے
لوگو ! تم بھی کبھی اس یا تواب کو نہ بھولنا جو بھی
پڑھتا ہے اسے حیرت انگیز طور پر آخرت کی بہتری ملتی ہے اور دنیا میں بھی اس کے بہت
فوائد ملتے ہیں ۔ (جاری ہے )
Sunday, January 10, 2016
جنات کا پیدائشی دوست
.جنات کا پدرائشی دوست :۔ (قسط نمبر 76)
استاد فوقانی ثانی اور محدث جن کی عاکدت:۔استاد فوقانی ثانی سے مرری محبت پارر اور دلچسپی بڑھ گئی مجھے احساس ہوا کہ ان کے اند ر اللہ پاک نے کوئی اور خصوصی صفات رکھی ہںن ویسے تو صفات ہر انسان اور جن مںز ہوتی ہںا اور اولا ء نکد یا عام جنات مںے بھی بہت زیادہ ہوتی ہںد مرمی سب سے پہلی ملاقات ان سے اس وقت ہوئی تھی جب مںد اپنی جناتی سواری پر سفر کرتا ہوا ایک دور افتادہ پہاڑی غار مںر ایک محدث جن کی عاھدت کرنے جا رہا تھا ۔مجھے عبدالسلام جن نے بتایا کہ وہ بہت بمالر ہںر اور مسلسل آپ کو یاد کرتے ہںز مںت انہںی ڈھونڈتا ڈھانڈتا آخر پہنچ گاج وہ اٹھ کر بٹھن گئے بہت خوش ہوئے مںا نے ان کلئے کچھ شفائی تدابرے کںئ جس کی وجہ سے انہںں اسی وقت فوری فائدہ ہوا او ردل کا اور جسم کا سکون مسرے ہوا ۔ بہت خوش ہوئے مجھ سے فرمانے لگے مراا ایک شاگرد ہے مںئ اسے بلوانا چاہتا ہوں ۔آپ اس سے ملاتات کرو وہ کائنات کے تہہ در تہہ سربستہ رازوں کو بہت اچھی طرح جانتا ہے اور یہ تہہ در تہہ سربستہ راز اللہ پاک نے اس پر بہت کھولے ہںں وہ کبھی ایک جگہ بٹھا نہںن حتیٰ کہ اپنی شادی کے دن بھی وہ بٹھا کسی باکمال سے ملاقات کر رہا تھا اور بوکی اس کا انتظار کر رہی تھی وہ ہمشہا کھو جوں مںو اور تلاشوں مںئ زندگی کے دن رات گزارتا ہے اس کا ہر پل ہر سانس ہرلمحہ ہر لحظہ کائنات کے رازوں مںک لگا رہتا ہے اس کی زندگی اس کی سانسںس اور اس کا وجود اتنا زیادہ قیتث ہے کہ اے کاش! مرای زندگی کے باقی سال بھی اسے لگ جائں تھوڑی ہی دیر ہوئی وہ ہمارے پاس آ گئے ایک اونچی اوررعب دار آواز مںش سلام کاو اور بٹھی گئے اور بٹھتے ہی انہوں نے اس محدث استاد کے پاؤں اور کندھے دبانے شروع کر دئےت ۔ مریی طرف انہوں نے کوئی بھی توجہ نہ دی مں ان کی خدمت مںن بٹھا رہا تھوڑی ہی دیر مںہ اس محدث نے مررا تعارف اس جن سے کرایا کہنے لگےاس کانام فوقانی ہے ۔ استاد فوقانی ثانی جن سے گفتگو اور کائنات کے سر بستہ راز :۔ تھوڑی ہی دیر مںک وہ استاد فوقانی ثانی جن مرای طرف مائل ہوئے اور یوں سلسلہ گفتگو کا چلنا شروع ہو گائ ۔ گفتگو مںر کچھ ایی باتں سامنے آئںم جن کا تعلق کائنات کے سربستہ رازوں مںا سے ہے اگر مںت ان کا اظہار کروں تو عام عقل انسانی اور انسانی شعور احساس و ادراک اس کو کبھی سمجھ نہ پائںی لکنم آج کی نشست مںئ مںو کچھ اییک چز یں اپنے قارئنا کو بطور امانت پہنچانا چاہتا ہوں جس کا انہںا بہت ییور فائدہ اور ان کو ییرب نفع ہو گا ۔ ایک تسبحک اور بے حساب مغفرت :۔ پہلی چزا جو استاد فوقانی ثانی جن نے بتائی وہ یہ تھی اگر کوئی بندہ یہ چاہتا ہے کہ مرسا خاتمہ ایمان پر ہو اور آخری وقت مںر کلمہ نصبر ہو اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ کا سچا قرب اور سچا ساتھ ملے قبر جنت بن جائے محشر کا حساب و کتاب سوال و جواب نہایت آسان ہو اور آخرت مں پل صراط کا راستہ سہولت سے پار ہو جائے نامہ اعمال قاہمت کے دن اللہ پاک بے حساب بخش دے جنت مںا استقبال ہو فرشتوں کا ساتھ ہو حوروں کی قدردانی نصبئ ہو تو ایسا آدمی اگر روزانہ صرف ایک تسبحق یاتواب اس کتنے کے ساتھ پڑھے اور یہ صرف سوتے وقت پڑھنی ہے اول و آخر تن بار درود شریف اور کتتگ یہ ہو کہ یااللہ !مںئ دناا کا سب سے بڑا مجرم ہوں ساری دنائ کی بخشش ہوگئی لکنی مرای نہںل ہو سکتی ہاں ترھ ی شان کریین ہو گی تو ہو جائے گی اور مرلے جرم ناقابل معافی ہںل لہذا اپنے اس صفاتی نام کی برکت سے مجھے بخشش کاسامان دے بس یہ ایک تسبحص ہو لکنل ہو اییل جو جسم کے روئے روئے اور انگ انگ کو اللہ پاک کی ذات کی طرف متوجہ کر دے ۔ استاد فوقانی ثانی جن کی بات نے مجھے حرران کر دیا :۔ اس استاد فوقانی ثانی جن نے یہ کاھ عجبد حرےت انگز بات بتائی مںن خود حرلان ہو گاو مںر لفظ یا تواب کی طرف اگر دیکھتاہوں تو سمجھ آتی ہے اور جب اس استاد فوقانی ثانی جن کے لہجے رویے اور سچے انداز کی طرف پھر بھی سمجھ آتی ہے اور بہت زیادہ آتی ہے مںئ ان کی بات سن رہا تھا ۔ عام سے مسلمان جن کا لاجواب خاتمہ بالخرق :۔ اسی دوران استاد فوقانی ثانی جن نے ایک بات سنائی کہنے لگے ہمارے جنات کی دناہ مںظ ایک شخص تھا کوئی بہت بڑا نکر متقی نہںے تھا بلکہ عام سا مسلمان تھا مںق نے اس کے مرنے سے تقریباً بہت سال پہلے اسے ییج عمل بتایا تھا کہ وہ شخص سوتے ہوئے وضو ہے یا نہںا ہے پاک ہے یا نہںھ ہے ہر جگہ ہر حالت مںد بس ایک تسبح رات سوتے وقت اول و آخر تن بار درود شریف یا تواب کی پڑھے ابھی تھوڑا عرصہ پہلے وہ فوت ہوا تو مجھے اس کے گھر والوں نے بتایاکہ آخری لمحے مںت کہنے لگا کہ قرآن لے آؤ۔قرآن سامنے لایا گات تو وہ قرآن کو بہت خوش الحانی سے بہترین لہجے سے اور خوبصوت آواز سے پڑھنے لگ گال حالانکہ وہ بالکل ان پڑھ تھا وہ قرآن نہںح پڑ سکتا تھا لکنت اس وقت وہ بہترین انداز سے قرآن پڑھ رہا تھا اور قرآن پڑھے جارہا تھا حتیٰ کہ اسی نشست مںر اس نے بہت خوبصورت انداز مںل قرآن کا ڈیڑھ پارہ پڑھ لان اور قرآن واپس کار اور سب کو متوجہ کاھ لوگو! مںظ اپنے گناہوں سے معافی مانگتا ہوں اللہ پاک کی نافرمانی سے معافی مانگتا ہوں جس کا دل دکھایا ان سب تک مررا پغاگم پہنچا دینا مںئ معافی مانگتا ہوں اللہ پاک پر ایمان ، فرشتوں پر ایمان ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہوں آخرت کے دن پر ایمان لاتا ہوں خرا اور شر اللہ پاک کی طرف سے ہے اس پر ایمان لاتا ہوں مرنے کے بعد کی زندگی ہے اس پر ایمان لاتا ہوں ، لوگوں مرقے ایما ن پر گواہ رہنا ، مرآی توبہ کے گواہ رہنا مرآے توبہ کے گواہ رہنا بس اس طرح کی خرا کی باتںب کرتا ، کلمے کا ورد کرتا کرتا وہ اپنی زندگی پا گان ۔ یہ ایک موت نہںا :۔ اییر بے شمار اعلیٰ قسم کی کئی شاندار اموات مںب نے اپنی زندگی مںن پائی ہںں استاد فوقانی ثانی جن مزید کہنے لگا ورد بہت مختصر لکنب اس کا کمال بہت زیادہ ہے کوتنکہ ہر شخص نے مرنا ہے وہ انسان ہو یا جن ، موت ایک حققت ہے اور جو موت کی حققت کو پا گال اور جو موت کو بھول گان وہ زندگی کو بھی ہمشہز کلئے بھول گات موت اصل ہے زندگی اصل نہں اور آخری لمحے قالمت تک موت کا ذائقہ ہر ذی روح کو چکھنا ہے ۔ قارئنز ! یہ تجربہ اور انوکھا مشاہدہ اس کے بعد مںی نے بے شمار لوگوں کو بتانا شروع کر دیا اور بہت عرصہ دراز تک مںا نے اس کو بتایا اور اب بھی بتا رہا ہوں ۔ علامہ صاحب کا انوکھا خواب :۔ ایک رات مںن سویا ہوا تھا مںگ نے ایک خواب دیکھا اور وہ انوکھا خواب تھا ۔ مراے پاس بہت سے لوگ تھے جن کے خوبصورت لباس ، خوبصورت چہرے اور خوبصورت جسم تھے وہ کوئی جنتی سوارئوقں پر سوار تھے۔ مجھے علم نہںل کہ وہ سواریاں کاا تھںر بس ایک احساس ہو رہا تھا کہ تزا رفتار سواریاں ہںر جو لمحوںمیں لاکھوں ملواں کا سفر طے کر لیتن ہںئ ۔ وہ سب مرھی طرف دیکھ کر مسکرا رہے ان کی مسکراہٹ اییت تھی کہ مںس نے بھی مسکرانا شروع کر دیا وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ ہم وہ لوگ ہںت جو ترآے اس یا تواب کی وجہ سے آخرت مںی سر خرو ہوئے۔جب اللہ پاک کے سامنے حاضر ہوئے تو اللہ پاک نے ہمارے اس اسم اور توبہ کی وجہ سے مغفرت کا پروانہ دیا ہم سارے کے سارے آپ سے ملنے آئے ہںئ اور یہ خوشخبری دینے آئے ہںں کہ آپ کی وجہ سے جتنے لوگوں کی بخشش ہوئی وہ دن رات آپ کلئے بہت زیادہ دعائں کرتے ہں کہ یا اللہ پاک جو ہماری بخشش کا ذریعہ بنا یااللہ پاک اس کی بخشش بھی کر دے اور اسے بھی معاف کر دے اور اسے بھی ہماری طرح اعلیٰ سے اعلیٰ بہتر جنت عطا فرما اور مزید ہنستے ہنستے مجھے انہوں نے ایک بات کہی کہ حضرت علامہ صاحب آپ اگر اس عمل کو پوری دناش کلئے پھلا دیں تو بے شمار لوگوں کا فائدہ ہو گا کئی خطا وار اور گناہ گار بخشے جائںی گے اور کئی لوگ اللہ کا قرب پائں گے اور اللہ پاک کی محبت پائںد گے ۔ مغفرت کی ماسٹر آپ کی خدمت مںئ :۔ قارئنا ! جب مںی اس خواب سے بداار ہوا تو مرہے دل مںی آیا کہ اس عمل کو اور اس کاوع نسخے کو پھلاپنا چاہےک یہ ایک چابی ہے بلکہ ماسٹر کی ہے مخلوق خدا کا آخرت ، اللہ پاک کے ساتھ تعلق ، اللہ پاک کے نبی ﷺ کے ساتھ تعلق اس سے بہتر اور کس طرح ہو سکتا ہے بس یہ جذبہ ہے جس نے مجھے فوقانی ثانی جن کے اس عمل کو پھلا نے پر مجبور کال ۔ استاد فوقانی ثانی جن کا انسانی روپ مںئ آنا :۔انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہنے لگے کہ ایک مدلانی علاقے مںن جہاں سخت شدت کی گرمی تھی مںت جارہا تھا تو اس مدقانی علاقے مںی جہاں سخت شدت کی گرمی تھی مںر جا رہا تھا تو اس مدتانی علاقے مںہ مجھے ایک جھونپڑی نظر آئی ۔ وہ انسانوں کی جھوپنڑی تھی ۔ اس مںک تنا مرد ، پانچ عورتںی اور انسا بچے تھے ۔ وہ لوگ بٹھے باتں کر رہے تھے ان کی باتوں سے مجھے محسوس ہوا کہ یہ ایک فیلے ہے جس مں بچے بھی ہںا جوڑے بھی ہںد اور کچھ بوڑھے لوگ بھی ہںت وہ نکل لوگوں کا گھرانہ نظر آتا تھا لکنع غریب لوگوں کا ۔ وہ اس بات پر بٹھے فکر کر رہے تھے کہ ہم سارے گھر والے کسےب نمازی بن جائں قرآن پاک کی تلاوت روز کسےق کریں ہمارا دل اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ سے کسےی جڑ جائے یہ فکر اور غم تھا جو انہںت بٹھائے بٹھا تھا ۔ استاد فوقانی ثانی جن کو ملںو برکات :۔ مجھے ان کے سچے جذبے نے ان کے قریب بٹھنے کا مزہ دیا چونکہ مںل جن تھا اور ان کے قریب بٹھا تھا ان کو پتہ نہںا چل رہا تھا لکنق مجھے احساس ہوا کہ ان کے قریب بٹھنے سے مجھے برکات ملںی ۔ اچانک مراے دل مںا خاےل آیا کہ کواں نہ ان لوگوں کو یاتواب کا عمل بتا دوں مںا ایک مسافر پردییھ کے روپ مںی نمودار ہوا جو کہ یہاں سے گزر رہا تھا اور مںر نے اپنی شکل انسانی بنا لی اور مںں انسانوں کے روپ مںھ ان کے سامنے جب پہنچا تو انہوں نے مرھا استقبال کان ، اور مجھے پردییپ مسافر سمجھ کر مرکی خاطرا مدارت کی ۔ استاد فوقانی ثانی جن کا جھونپڑی مکنویں کلئے تحفہ :۔ مںو نے ان کی خاطر مدارت قبول کی اور جاتے جاتے مںی نے انہںہ کہا کہ آپ نے مرری اتنی خدمت کی ہے مںن چاہتا ہوں کہ آپ کو ایک تحفہ دے کر جاؤں اور پھر مںھ نے انہںی کہا کہ اگر آپ چاہتے ہںت کہ آپ کا خاتمہ ایمان پر ہو قارمت کے دن اللہ پاک کا سامنا ہو اور اللہ پاک راضی ہو اور اللہ پاک آپ کو دیکھ کر مسکرائے ،اور آپ کی مغفرت ہو تو صرف یہ کام کریں کہ یا تواب کی ایک تسبح سوتے وقت پڑھنے کی مکمل ترکب بتا دی وہ مرای بات سن کر بہت خوش ہوئے ان کے گھر مںط کوئی تحفہ یا ہدیہ تو نہںت تھا لکنا ان کی چاہت تھی کہ کسی طرح ہم اس پر دییو کو کوئی ہدیہ دے کر ہی بھںہبا ۔انہوں نے اصرار کاھ مںل نے انکار کاا کوھنکہ وہ بہت سفدے پوش اور غریب لوگ تھے مںی وہاں سے چل پڑا اور چلتے چلتے مجھے ایک ایسے فرد سے واسطہ پڑا کہ جو طرح طرح کی بماےریوں ،تکالفش، مصائب اور پریشانواں مںو مبتلا تھا ۔ دنات کے غریب آخرت کے امرت:۔ مںب نے محسوس کاھ زندگی مںے تو اس نے تکلںبتا ، پریشانا ں ،دکھ بہت دیکھے لکنے آخرت مںا بھی اگر یہ تکلںااا ، پریشاناکں ، دکھ دیکھے گا تو دناث بھی گئی اور آخرت بھی ۔ لہذا یہ دناا مںی تو غریب رہے لکنت آخرت کا امرق رہے ۔ مںھ نے اسے ییھ تسبحک اور ییئ وظفہی یا تواب کا یہ عمل بہت تفصل سے بتایا اس کے کچھ فائدے برکات اور کمالات اسے بتائے ۔ وہ حروان ہوا مجھے سے کہنے لگا مںح سارا دن فارغ ہوں اگر مںر سارا دن ہی یاتواب پڑھتا رہوں مںف نے کہا پڑھ سکتے ہو اور عمل تو ییا ہے کہ سوتے ہوئے ایک تسبح نہایت خشوع و خضوع ، دھاہن توجہ بے چیے ، بے کلی ، بے قراری سے کرنا ہے اور اس کے کمالات آخرت مںھ وہ کھلں گے جو آپ سوچ نہںع سکتے ۔ اس نے پڑھنا شروع کر دیا پھر مںن کچھ عرصہ کے بعد گزرا تو دیکھاتو وہ پریشان اور ویران شخص نہںے تھا ۔ سجی سجائی جنت آنکھوں کے سامنے :۔ مجھے حردت ہوئی کہ وہ حرںان و پریشان شخص آخر کہاں گاج ؟مںے نے لوگوں سے پوچھا تو لوگ کہنے لگے وہ فوت ہو گاا ۔ مںز نے کہا اس کی موت کی حالت مجھے بتا سکتے ہںو اس کو کتنی بری یا اچھی موت آئی ۔ کہنے لگے ہاں ہم بتاتے ہںچ وہ تنگ دن پہلے بالکل ٹھک ہو گاا ایسے تھا جسےل اس کی بماتری ہے ہی نہںن تنھ دن کے بعد جب آخری لمحہ اس کا پہنچا وضو کات نماز پڑھی نماز پڑھنے کے بعد اس نے دو نفل پڑھے دو نفل کے بعد مسلسل یاتواب پڑھتا رہا ۔اور اللہ پاک سے اپنے گناہوں کی رو رو کر اونچے اونچے بولوں مںھ معافی مانگتا رہا ۔ اس نے سب کو بولایا ۔ کہا دیکھو مںن نے زندگی مںل کوئی بڑے گناہ نہںل کےی اور کچھ زیادہ نانے ں نہںو کںا ۔ ایک نینچ ہے مرحے پاس ایک درویش ملا تھا اس نے مجھے آخری وقت مںو سوتے وقت یاتواب کی ایک تسبحب پڑھنے کو کہا تھا ۔آج جنت سجی سجائی مرھی آنکھوں کے سامنے ہے ا س کے حسنت مناظر اور اس کے کمالات اس کی خشبو ئںا اس مںن فرشتے غلام ، حوریں اللہ پاک نے سب پردے مجھ سے ہٹا دیئے ہںن ۔اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں قبر مںح مجھے بچھو ، سانپ اور اندھرما نظر نہںا آرہا ہے ۔ قبر مںت مجھے بچھونے ، حور ، نورانتے اور نور نظر آ رہا ہے لوگو ! تم بھی کبھی اس یا تواب کو نہ بھولنا جو بھی پڑھتا ہے اسے حرات انگز طور پر آخرت کی بہتری ملتی ہے اور دناے مں بھی اس کے بہت فوائد ملتے ہںھ ۔ (جاری ہے )
Wednesday, December 30, 2015
جنات کا پیدائشی دوست
جنات کا پیدائشی دوست :۔
شاہی قلعہ لاہور میں داروغہ جن کی دعوت :۔
قارئین ! بہت عرصہ پہلے شاہی قلعہ کے داروغہ جن کی بیٹی کی شادی میں ،میں نے اپنی
شرکت کا آپ کو تفصیلی احوال سنایا تھا ابھی عید کے بعد سب جنات اکٹھے ہو کر میرے
پاس آئے کہ اس بیٹی کے ہاں بیٹا ہوا ہے اور بھی خاندان میں ولادتیں ہوئی ہیں ان سب
کی خوشی میں اکٹھی دعوت کرنا چاہتے ہیں میں نے ان کی دعوت قبول کی ۔ حاجی صاحب ،
صحابی بابا اوور دوسرے بہت سارے جنات کے ساتھ شاہی قلعہ لاہور میں داروغہ جن کی
دعوت پر جب ہم پہنچے حسب معمول انوکھی ریل پیل ہر طرف طلسماتی قمقمے جن کا دنیا کی
بجلیوں سے اور دنیا کی روشنیوں سے نہ کوئی تعلق بلکہ اس سے بھی زیادہ انوکھی
روشنیاں کہ انسانی عقل حیران اور پریشان ہو جائے ہر طرف جنات مختلف شمعیں ، پھولوں
کے گلدستے اور رنگا رنگ کی مختلف روشنیاں لے کر آنے والے مہمانوں کا استقبال کر
رہے تھے ۔خواتین اور مردوں کا انتظام الگ الگ تھا ۔ جب ہم پہنچے تو انہوں نے بھر
پور استقبال کیا ہر طرف مرحبا مرحبا کی آوازیں تھیں ۔
مخلصین کا سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے سے انکار :۔اس
کے بعد دستر خوان بچھے ، دستر خوان کے بچھنے سے پہلے ایک جن قاری نے نہایت خوبصورت
آواز میں سورہ رحمن پڑھی ۔ اس کے بعد میں نے دعا کروائی ۔ آخری اور تفصیلی دعا
صحابی بابا نے کروائی ۔ دعا کے بعد دستر خوان بچھا اس دفعہ دستر خوان میں سونے
چاندی کے برتنوں کے ساتھ ساتھ کانچ ، چینی اور قیمتی پتھروں کے برتن بھی تھے ۔ میں
نے اس سے پہلے جب اس تقریب میں شرکت کی تو ہمارے سامنے بھی برتنوں میں کھانا اور
قہوہ آیا میں نے صحابی بابا نے اور دوسرے مخلصین جنات نے سونے چاندی کے برتنوں میں
کھانے سے انکار کیا تو فوراً ہمارے لئے انہوں نے قیمتی پتھروں کے برتن چن دیئے تھے
۔ اس دفعہ ہمارے دستر خوان پر بہت قیمتی زمرد ، یاقوت ، مرجان زبر جد اور دودھیا
پتھروں کے نہایت قیمتی برتن رکھے ہوئے تھے ۔ کہیں کہیں انہوں نے سونے کے برتن اور
چاندی کے برتن بھی رکھے ہوئے تھے ۔ انہیں سخت تاکید کی جس کا انہوں نے آئندہ سونے
اور چاندتی کے برتن کا استعمال نہ کرنے کا مکمل وعدہ کیا ۔
جنات نے بنایا چھوٹی الائچی کا انوکھا قہوہ :۔کھانا
کیا تھا کہ قدرت کی انوکھی چیزیں تھیں ایک چیز جو میں نے محسوس کی اس کھانے میں جو
شاید اور کہیں نہ ملے وہ چھوٹی الائچی کا قہوہ تھا لیکن وہ چھوٹی الائچی لیکن وہ
چھوٹی الائچی یہ نہیں تھی جو ہمارے پاس بلکہ چھوٹی الائچی لگنے سے پہلے اس کو ایک
پھول لگتا ہے اس پھول کو کھلنے سے پہلے کلی کی شکل میں جنات توڑ لیتے ہیں اس کو
مخمل کے کپڑے میں سائے میں خشک کرتے ہیں یہ ساری باتیں مجھے ہمارے دیرینہ دوست
باورچی جن نے بتائی ۔ پھر اس کو مخصوص انداز میں قہوہ بنایا جاتا ہے آپ نے جتنی
بھی خوراک کھائی ہے اور جتنی زیادہ کھائی ہے دوسرے معنوں میں آپ نے بہت ہی زیادہ
بدپرہیزی کی اس سب کا حل صرف اس قہوہ کے دو گھونٹ تھے اور ہر گھونٹ کے اندر ایک
انوکھی تاثیر ، چاشنت ، لذت ، خوشبو اور ہاضمہ کی قوت تھی ۔
Sunday, November 15, 2015
جنات کا پیدائشی دوست
جنات کا پیدائشی دوست
:۔
ساتویں اور آخری نصحیت
:۔ان کی ساتویں اور آخری نصحیت جو
بہت زیادہ اہم تھی وہ اس لئے کہ اس چیز کا تعلق زندگی کے ہر دور اور ہر لمحہ سے
تھا ہر انسان چاہے چھوٹا ہو یا بڑا غریب ہو یا امیر ، معزور ہو یا صحت مند اس
مرحلے سے سب کو گزرنا پڑتا ہے اور وہ مرحلہ ہے خواب کا فرمانے لگے کبھی بھی کوئی
خواب غیر اہم نہ سمجھنا لیکن ہر خواب خواب نہیں ہوتا کچھ خواب جن کا تعلق زندگی کے
خیالات ، تصورات اور گزری زندگی کے واقعات کے ساتھ ہوتا ہے لیکن پھر بھی کوئی خواب
غیر اہم نہیں ہوتا ۔
غیر اہم خواب :۔ ہاں ! خواب غیر اہم اس وقت ہوتا ہے جب خواب کو کسی غیر اہم
آدمی کے سامنے بیان کر دیا جائے تو سمجھ لیں وہ خواب غیر اہم ہو گیا ۔ اس کی اہمیت
اس کی طاقت اس کی تاثیر اور اس کا ملنے والا رزلٹ جو بعض اوقات نقد ملتا ہے اور
بعض اوقات سالہا سال کے بعد اور کبھی چالیس سال کے بعد بھی ملتا ہے اگر کوئی بھی
خواب کسی نااہل اور غیر اہم آدمی کو بیان کر دیا گیا تو وہ خواب بے تاثیر ہو جاتا
ہے حتیٰ کہ اس خواب کی تعبیر وہ ناہل آدمی اچانک منہ سے نکال بھی دے تو اس کا بہت
زیادہ نقصان ہوتا ہے اور بعض اوقات جو تعبیر منہ سے نکالے وہ خدانخواستہ پوری ہو
جاتی ہے وہ تابعی رحمۃ اللہ علیہ جن کی روح سے صحابی بابا ملاقات کر رہے تھے ایک
ٹھنڈی سانس بھر کر اپنی گفتگو کو روک بیٹھے اور یہی کیفیت خود صحابی بابا کی بھی
تھی وہ ٹھنڈی سانس بھر کر اپنی گفتگو روک بیٹھے او پھر تھوڑی دیر کے بعد صحابی
بابا ہم سے بولے کہ چونکہ ا س تابعی رحمۃ اللہ علیہ کی مبارک روح نے یہی عمل کیا
تھا تو اس لیے میں نے بھی یہ عمل ان کے ساتھ دہرایا اور پھر فرمانے لگے انہوں نے
مجھے جو خاص ایک واقعہ اس ضمن میں سنایا۔
تابعی رحمۃ اللہ علیہ
کا انوکھا خواب :۔ تابعی رحمۃ
اللہ علیہ فرمانے لگے ایک دفعہ میں نے خواب دیکھا ایک درخت ہے اور پھلدار ہے میں
اس کو پتھر مار کر پھل گرانے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن ہر پتھر واپس آ کر مجھے لگتا
ہے چند بار ایسے ہوا پھر میں نے ایک طرف بچ کر وہ پتھر مارنے کی کوشش کی لیکن پھر
بھی وہ پتھر واپس آ کر مجھے لگا مجھے حیرت ہوئی اور میں حیران ہوا یہ کیا ہوا ؟
میں کتنی بار کوشش کرتا رہا کوئی پھل نہ گرا لیکن ہر بار پتھر مجھے لگا میری آنکھ
کھل گئی ، چند دن حیرت میں اپنے خیالات اور گمان میں گم رہا اس کے بعد میں نے یہ
خواب ایک بدو جو مشہور تھا کہ خواب کی تعبیر بتاتا ہے ۔
لوگ تجھے پتھر ماریں گے
؟ اس کو سنانے چل پڑا مجھے اچانک
خیال بھی آیا کہ یہ نہایت جاہل ان پڑھ اور نادان شخص ہے یہ تو اپنے خواب کی تعبیر
نہیں جانتا ہو گا میرے خوابوں کی تعبیر کیا بتائے گا ؟ لیکن نامعلوم پھر کیوں میں
بتانے کیلئے متوجہ ہوا تو اندر پھر خیال آیا کہ جیسے کوئی طاقت مجھے روک رہی میں
ان خیالات کے باوجود بول بیٹھا اور یہی پتھر مارے کا خواب میں نے جب ان کو سنایا
تو کہنے لگا کہ خواب اپنی تعبیر کے ساتھ یہ معنی رکھتا ہے کہ لوگ تجھے پتھر ماریں
گے میں اچانک چونک پڑا میں نے کہا کیوں ؟ کہنے لگا بغیر وجہ کے مجھے یہ بات سمجھ
نہ آئی میں کئی دن انہی سوچوں میں ڈوبا رہا ۔
صحابی رضی اللہ تعالیٰ
عنہ کے خدمت گزار سے تعبیر ملے گی ! صحابی بابا یہ بات کہتے ہوئے آسمان کو تکنے لگے جیسے ان کی سانسیں اٹک گئی
ہوں اور ان کی روح بکھر گئی ہو اپنے حواس مجتمع کرتے ہوئے پھر بولے کہ وہ تابعی
رحمۃ اللہ علیہ کی روح مجھے کہنے لگی کہ میں آخر کار کئی ہفتے پریشان رہنے کے بعد
استخارہ کی طرف متوجہ ہوا اور میں استخارہ کئی دن کرتا رہا پر میرے اوپر استخارہ
نہ کھلا ۔ میں نے سوچا کہ آج کے بعد استخارہ نہیں کرنا اور یہ آخری رات ہے اور اسی
رات مجھے واضح اشارہ ہوا کہ فلاں گاؤں چلے جاؤ اس بستی میں ایک فرد ہے جو فلاں
صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں
انیس سال رہا ہے وہ اس علم کا کامل ہے اس کو جا کراس خواب کے بارے میں بتائیں اور
وہ اس کی تعبیر بتائے گا۔
میں شرم کے مارے ڈوب
گیا :۔اس رات کو جس پہر میں
میری آنکھ کھلی میں نے اپنا سامان باندھا اور اسی وقت چل پڑا حتیٰ کہ نماز فجر میں
نے راستے میں پڑھی دو دن اڑھائی راتوں کا
یہ سفر مجھے آخر کار اس منزل کی طرف لے گیا جب میں وہاں پہنچا ایسے محسوس
ہوا جیسے وہ میرا انتظار کر رہے تھے مجھے دیکھ کر کہنے لگے اتنا عالیشان خواب اور
تجھ جیسا باکمال شخص ایک بدو کو بتا آیا ۔کیا تجھے احساس نہ ہوا ؟ بس اتنا سننا
تھا میں شرم سے ڈوب گیا میری آنکھیں جھک گئیں اور میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
لیکن اگلے ہی لمحے مجھے پکڑ کر سینے سے لگایا تیر ہاتھ سے نکل گیا ہے اور تیر نکلا
ہوا واپس نہیں آتا لیکن کچھ اللہ کے بندے زمین پر ایسے بھی ہیں جو نکلے ہوئے تیر
کو اللہ کی قدرت اور طاقت سے واپس لا سکتے ہیں ۔کوئی بات نہیں پریشان نہ ہو پھر
اپنے خادم کو بلایا اور اچھے اچھے کھانے اور دھلا ہوا لباس پیش کیا ۔ خادم نے مجھے
غسل کیلئے خوشبودار پانی دیا میں نے وہ پانی اور اس جیسا پانی آج تک نہیں دیکھا
کتنا خوشبودار پانی تھا ۔ میں نے غسل کیا میں توتازہ ہو گیا پھر بہترین کھانے
کھائے ۔
توایک پھل دار درخت ہے
:۔ اس کے بعد چمڑے کا ایک بچھونا
تھا جس کے اردگرد چمڑے کے تکیے لگے ہوئے تھے وہاں ہم بیٹھے وہ ہستی میری طرف متوجہ
ہو کر فرمانے لگی ہاں اب بتائیں اپنا خواب میں نے وہ سارا خواب نہیں سنایا فرمانے
لگے اصل خواب کی تعبیر یہ ہے تو ایک پھل دار درخت ہو گا۔ اور لوگ تجھے پتھر ماریں
گے اور پتھر تجھے مارنے والے کو لگیں گے اورتیر احاسدین بہت نقصان کرنے کی کوشش
کریں گے اور تیرے لگے پھل کو پتھروں سے توڑنے اور ہٹانے کی بھر پور کوشش کریں گے
لیکن تیر اکوئی کچھ نہیں بگاڑ سکے گا ۔
جا میں دعا دیتا ہوں :۔ جا میں دعا دیتا ہوں تجھے
دعا دیتا ہوں کہ تو ہمیشہ سدا بہار رہے گا
ہمیشہ شادا ں و فرحاں رہے گا اور ہمیشہ تیرا علم ، تیرا رزق ، تیری صحت ، تیری
فراست اور تیرا شعور احسا س اور ادراک کامل رہے گا ۔ ایک بڑا مجمع تجھ سے نفع پائے
گا میں اگلے لمحے بولا لیکن اس بدو کی تعبیر کاحل کیا ہو گا ۔ مسکرا کر فرمانے لگے
اس کا حل بھی ہمارے پاس ہے ۔ میں نے پوچھا کیا؟ کہنے لگے کہ آپ اس کے پاس جائیں اس
کو احترام اور محبت سے کچھ گفٹ پیش کریں پھر اس کے ساتھ کچھ دن رہیں اور کسی طرح
اس کا وضو کا پانی کسی برتن میں جمع کریں اور وہ سارا پانی اپنے اوپر ڈال لیں یہ
کر کے پھر میرے پا س آنا اور مجھے کہنے لگے آپ ابھی فوراً جائیں میں نے ان کا لباس
پہنا ہوا تھا کہنے لگے یہ لباس تمہیں ہدیہ ہے اور یہ مجھے حکماً بتایا گیا کہ تم آ
رہے ہو اور تمہیں میں یہ لباس اور اتنا احترام دوں لیکن ابھی فوراً اس بدو کی طرف
جاؤ میں پھر دو دن اور اڑھائی راتوں کا سفر کرتے ہوئے اس بدو کی طرف گیا جب میں نے
اسے بہترین ہدیے دیئے بہت خوش ہوا ۔ اور خوشی سے کہنے لگا لگتا ہے میرے خواب کی
تعبیر تجھے اچھی لگی میں خاموش رہا ۔
غلط تعبیر کاازالہ :۔ میں نے ارادہ کیا کہ میں آپ کے ساتھ کچھ دن رہنا چاہتا ہوں
وہ اور خوش ہو گیا میں نے ا سے محبت اور پیار انا بڑھایا کہ چند ہی دنوں میں اس سے
میرا پیار اور محبت قلب و جگر بن گیا ایک دن میں نے خواہش کا اظہار کیا کہ میں آپ
کے وضو کا پنی لینا چہتا ہوں اور اگر اجازت ہو تو وہ لے کر اپنے اوپر ڈال لوں ۔
اگر وہ صاحب علم ہوتا تو میری تدبیر کو فوراً جان لیتا اسے میری تدبیر کی کوئی خبر
نہ ہوئی وہ فوراً اس پر راضی ہو گیا الی نماز پر جب اس نے وضو کیا ایک بڑے برتن
میں پانی مجھے دے دیا وضو کرنے کے بعد وہ پانی اپنے جسم پر ڈال کر سارے جسم کو اس
سے بھگو دیا ۔
جسم کی سیاہی ختم :۔ پھر ایک دن رہنے کے بعد میں نے اس سے اجازت چاہی وہ اداس
ہو گیا ۔ میں نے اس سے اپنی بہت ساری مجبوریاں بتائی ۔ ا س بدو نے اجازت دے دی پھر
طویل سفر کر کے اس عظیم ہستی کے پاس پہنچ گیا اسے جا کر ساری صورتحال بتائی وہ بہت
خوش ہوئے اور کہنے لگے پہلے تیرے جسم کے اردگرد سیاہ رنگ کی سیاہی تھی جس نے تیرے
جسم کے ایک ایک حصے کو ڈھکا ہوا تھا ۔ اب تیرے جسم کے اردگرد ایک نورانی نور اور
نور کا ہالہ ہے جو تیری سدا حفاظت کرے گا ۔
جا میں تجھے نصحیت کرتا ہوں :۔ آج کے بعد کوئی بھی خواب کسی
نااہل آدمی کومت بتانا چاہے جتنا بھی عرصہ وہ خواب اپنے سینے میں امانت رکھنی پڑے
۔یہ نصحیت سننے کے بعد صحابی بابا اپنے تھکے ہوئے انداز سے بولے کہ میں نے ان سے
اجازت چاہی تو اس تابعی رحمۃاللہ
علیہ کی روح مجھے اجازت نہیں دے رہی تھی ۔
قوم جنات کو تابعی رحمۃاللہ
کا ایک مشورہ :۔ میرےسامنے وہ
دمشق کا پھیلا ہوا قبرستان اور قبرستان میں پھیلے ہوئے بڑے بڑے کبائر صحابہ ، اہل
بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین، محدثین ، مفسرین اور باکمال اولیاء رحمہم اللہ علیہم اجمعین ہستیوں کے مبارک مزارات لیکن
واقعی میرا بھی دل نہیں چاہتا تھا کہ میں ان سے ہٹوں ۔ وہ روح مجھے کہنے لگی کہ
دیکھو تم جنات اور انسانوں کی زندگی میں بہت فرق ہے ۔ تم کھلے اور ننگے گوشت کے
بہت دیوانے ہوتے ہو تم جیسا کوئی نیک ہو جائے اور صالح ہو جائے تو اس کی نظریں بھی
پاک ہو جاتی ہیں لیکن جنات میں بہت کم جنات ایسے ہیں جن کی نظریں پاک ہوں جن کے
جزبے پاکیزہ ہوں اور جن کا انداز متقی جیسا ہو اپنی تمام جنات کی قوم کو ایک بات
کہنا کہ تم کہیں جہنم کا مستقل ایندھن نہ بن جاؤ۔
اپنے جزبوں اور نظروں
کو پاک رکھنا :۔ اپنے جزبوں کو
اور نظروں کو پاک رکھنا جب تمہیں کوئی عورت نظر آئے جس کے کھلے بال اور جسم ہو تم
نے اس پر ایک لفظ پڑھ دینا ہے اور اگر وہ لفظ پڑھ دیا تو زندگی میں کبھی عورت کا
فتنہ قابو نہیں کرے گا وہ لفظ ہے "کُفُّو" بس ! جب بھی دیکھو یہ لفظ پڑھ لینا یہ لفظ بہت بڑی طاقت اور تاثیر رکھتا ہے
ااور اس لفظ کے اندر ایک انوکھی حفاظت ہے ایک انوکھا جادو ہے ۔اور ایک طاقتور اور
حیرت انگیز تاثیر ہے جو بھی کوئی عورت دیکھے خاص طور پر وہ عورت جس کے کھلے بال
ہوں ننگا بدن ہو یا کوئی عورت کوئی مرد دیکھے جو مرد اس حالت میں ہو جس کو
دیکھنانہیں چچاہیے یا کہ کوئی مرد غیر محرم ہو بس ایک ہی دفعہ "کُفُّو"پڑھ لے ۔
یہ ایک بار "کُفُّو"پڑھا اور جہنمی جنتی بن گئے :۔
کتنی خواتین ایسی ہیں جو یہ لفظ "کُفُّو" پڑھ کر جہنمی سے جنتی بن گئیں ۔ جنہیں آج میں اپنے قبرستان میں روحوں میں دیکھ
رہا ہوں اور کتنی عورتیں ایسی ہیں جو یہ لفظ پڑھ کر بہت بڑی برائیوں گناہوں اور
مسائل اور مشکلات سے بچ گئیں اور کتنی عورتیں ایسی ہیں جنہں نے یہ لفظ پڑھا ان کا
گھر ٹوٹتے ٹوٹتے بچ گیا ۔ کتنے مرد ایسے ہیں جو نیکی کا ارادہ تو رکھتے اور شیطانی
جال اور قوتیں انہیں ہمیشہ برائیوں کی طرف گھسیٹ کر لے جاتے تھے جب انہوں نے یہ
لفظ پڑھا تو انہیں شیطانی جال کوئی نقصان نہ دے سکے اور ان کا حال نہایت مطمئن ہو
گیا ۔ کتنے نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے "کُفُّو" کو اک بار نہیں بار بار پڑھا جب بھی کوئی ایسا موقع دیکھا
جہاں ان کا ایمان ختم ہونے یالٹنے کاخطرہ ہوا وہیں انہیں اس کا نہایت فائدہ ہوا۔
میرا تحفہ دل کے دامن
میں باندھ لینا:۔ تو جاتے جاتے
میرایہ ایک تحفہ ہے ۔ اپنے دل کے دامن میں باندھ کر رکھنا اور اس کی گرہ مضبوط
لگانا،اور ہر سانس ہر لمحہ ان سات نصیحتوں پر عمل کرتے رہنا جو شخص بھی ان سات
نصیحتوں پر مسلسل عمل کرے گا وہ دنیا میں خیریں پائے گا اور برکتیں اپنے اردگرد
دیواروں کی طرح کھڑی کر لے گا اور برکتوں میں سدا ڈوبارہے گا اور دنیا کی کوئی
طاقت ، حسد ، جادو اور بد ترین سے بدترین پریشانی ، آفت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے
گی اور اگر کوئی آفتوں میں حاسدوں کے حسد میں اور دشمنوں کے شر میں واقعی دھنس بھی
گیا ہے وہ ان سات نصیحتوں پر عمل کرے اور مسلسل کچھ عرصہ کرے تو زیادہ ہی عرصہ
نہیں گزرے گا ۔
مقدر نکھر جائے گا :۔ تقدیر اس کا ساتھ دے گی مقدر اس کا نکھر جائے گا۔بکھرے
ہوئے حالات اس کے سمٹ جائیں گے اور دربدر کی ٹھوکریں کھانے والا شخص عزت ، شان و
شوکت کے تاج پہنے گا ۔ ہر فرد اس کا منتظر ہو گا ۔ہر نگا ہ اس کو تحسین کہے گی ہر
ہاتھ اس کو شاباش دے گا اور زندگی کے دن رات اس کیلئے گلاب کی طرح مہک جائیں گئے ۔
کانٹوں کی دیواریں ہٹ جائیں گی ۔
صدیوں پرانی بیٹی زندگی
کے تجربات :۔ گلاب اور بہاروں کے
راستے اس کی طرف خود پلٹ پڑیں گے میری آخری
نصیحت ہے ۔ پھر شاید تیرا یہاں آنا ہو یا نہ ہو لیکن میں تجھے ضرور کہوں گا کہ
میری اس نصیحت اور ان سات نصیحتوں پر خود بھی اور اگر مجھ پر احسان کرتے ہو تو
انسانوں کی بستی میں کسی ایسے فرد کو بتا دینا جو انسانوں تک اس نصیحت کو پہنچا
سکے ۔میری صدیوں پرانی بیتی زندگی کے بیتے
تجربات اور مشاہدات میں نہیں چاہتا اسے میں قبر میں اپنے ساتھ لے کر چلتا رہوں
بلکہ میں چاہتا ہوں کہ یہ میرے ساتھ بھی رہیں اور میرے علاوہ دوسرے افراد اور وسیع
خلقت اور عظیم انسانیت تک قیامت تک کیلئے ہمیشہ شادو آباد رہیں ۔یہ میرے لظ یہ
میرے بول یہ میرے حرف اور یہ میری نصیحتیں تیرے لئے تیری نسلوں کیلئے قوم جنات
کیلئے اور عالم انسانیت کیلئے بطور تحفہ ہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ و بر کاۃ۔
صحابی بابا کی بات ختم ہوئی تو جیسے ایک طلسم ٹوٹا ہم تمام ان کی باتو ں میں اتنے
مدہوش اور مگن تھے اور حیران کہ اتنے تجربات اور اتنے حیرت انگیز مشاہدات اور ان
تجربات و مشاہدات کے جو واقعی انسانوں تک پہنچیں گے اور جہاں ان کی خواہش پوری ہو
گی وہاںہمارا صدقہ جاریہ بھی ہو گا ۔ ( جاری ہے)
Monday, October 19, 2015
جنات کا پیدائشی دوست
جنات کا پیدائشی دوست:۔
آیۃالکرسی نے ہمیشہ
میرا ساتھ دیا :۔
تیسری چیز جب
بھی میں گھر سے نکلا میں نے ہمیشہ آیۃ الکرسی پڑھی مجھے یاد نہیں میں گھر سے نکلا
ہوں، اور میں نے آیۃالکرسی نہ پڑھی ہو۔ میں کبھی آیۃالکرسی بھول جاؤں یہ گمان نہیں
کر سکتا ،بلکہ میں بھول کر بھی اس کو نہیں بھولا ۔ اور آیۃ الکرسی کو میں نے اپنی
زندگی کا ہمیشہ ساتھی بنایا اور پھر آیۃالکرسی نے بھی ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔ میں ہر
نماز کیلئے جب گھر سے نکلا اور میرے قد م مسجد کی طرف اٹھے تو میں نے آیۃالکرسی
پڑھی، اور ہمیشہ آیۃالکرسی نے مجھے تابندہ اور شاد مان رکھا ۔ مجھے زندگی میں اس
کے جو فائدے ملے وہ یہ ہیں ۔ ایک دن ایسا ہوا میں کسی کام کی غرض سے گھر سے نکلا،
مجھے بازار کا رخ کرنا تھا میں مسلسل آیۃالکرسی پڑھ رہا تھا ۔ میں نے چند بار
آیۃالکرسی پڑھی تو سامنے ایک صاحب گلی کے کونے پر بڑی سی چادر اوڑھے شاید میرا
انتظار کر رہے تھے ۔ دن تھا میں چاشت کےنفل پڑھ کر ہی نکلا تھا اچانک میں نے محسوس
کیا کہ وہ مجھ پر وار کرنا چاہتا ہے ، اس وقت میری زبان پر لا تاخزہ سنتہ ولا نوم تھا۔
حملہ کرنے سے پہلے
حملہ:۔
بس یہی پڑھ رہا تھا،
وہ میری طرف بڑھا اس کے ہاتھ میں ایک تیز دھار برچھا تھا ،جسے میں چھوٹی تلوار کہہ
دوں وہ میری طرف بڑھ ہی رہا تھا ،سب لوگ اسے دیکھ رہے ہیں، اچانک اس کی ہائے نکلی
! اور اس کی تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔ میں نے تیزی سے لپک کر وہ تلوار اٹھائی
لیکن وہ اپنی پنڈلی پکڑ کر بیٹھ گیا ،اور درد اور تکلیف میں اتنا گم ہوا کہ اسے یہ
یاد نہ رہا اور ہوش نہ رہا ۔ کہ وہ اس وقت کس حالت میں ہے اور کہاں ہے ؟ لوگ اکٹھے
ہو گئے سب خاموش تماشائی مختلف چہ مگوئیاں کر رہے تھے ۔ ایک شخص نے اسے ہلایا تو
وہ اچانک گر گیا اور وہ دراصل بے ہوش تھا ۔سب نے کہا کوئی سانپ یا کسی زہریلی چیز
نے اسے ڈسا ہے ۔ ادھر ادھر دیکھا اس کے لباس کو جھاڑا پر کچھ بھی نہ تھا ۔ بہت سے
لوگ ا س کو لعنت ملامت کرتے ہوئے چلے گئے ۔نہ معلوم میرے اندر کیا احساس تھا میں
وہاں ٹھہر گیا اور تلوار میرے ہاتھ میں ہے اور میں ٹھہرا ہو اور بھی بہت سے لوگ
وہا ں ٹھہرے ۔ آخر ایک طبیب کو بلایا اس نے اپنے طریقے سے اور اپنی دواؤں سے اس کو
ہوش میں لانے کی بھرپور کوشش کی آخر وہ ہوش میں آیا ۔
میں پیشہ ور قاتل ہوں !
تھوڑی دیر کے بعد اس کی آنکھیں کھلیں اس کی نظریں جب مجھ
سےملیں تو اس نے نظریں جھکا لیں ۔ اور وہ زور زور سے دھاڑیں مار کر رونے لگا۔ وہ
چل نہیں سکتا تھا خود کو گھسیٹتا ہوا میری طرف آیا اور قدموں پر ہاتھ رکھ کر رونے
لگاکہ معاف کر دیں ۔ میں دراصل پیشہ ور قاتل ہوں ! آپ کا کسی کے ساتھ کھجور کے باغ
کا تنازع تھا مجھے بھی علم ہے، کہ وہ باغ دراصل آپ کا ہے ۔ ایک ظالم شخص ا س پر قبضہ
کرنا چاہتا ہے ۔ اس نے مجھے آپ پر مسلط کیا ہے۔ میں کئی دنوں سے آپ کی تاک میں ہوں
، آج موقع بہترین تھا ۔ جب میں آپ کے قریب لپکا اسی انداز میں مجھے محسوس ہوا کہ
کسی نے میری پنڈلی پر زور درا تلوار کا وار کیا ہے ، اس کے بعد مجھے یاد نہیں رہا
کہ میرے ساتھ کیا بنا؟ درد نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
جو کچھ ہوا میری سمجھ
سے بالاتر:۔
اب مجھے ہوش آیا تو
میں نے اپنی پنڈلی کو دیکھا نہ کوئی زخم ، نہ خون ، نہ وار ، بس کیا ہوا ؟ یقیناً
جو کچھ ہوا میری سمجھ میں نہ آیا ۔لیکن جو ہوا میری خطا سے ہوا ، آپ مجھے معاف کر
دیں، میں آپ سے معافی چاہتا ہوں ۔ میں نے اسے سچے جزبے سے معاف کر دیا ۔ اور سچی طلب
سے اس کے اندر کی کیفیتوں کو درگزر کے ساتھ لیا ۔
روح کی نصیحت بہت قیمتی
ہوتی ہے :۔
یہ واقعہ ایک ایسا
واقعہ ہے جس نے مجھ پر آیۃالکرسی کے کمالات اتنے واضح کیے اتنے واضح کئے کہ میں آج
تک خود حیران ہوں ،کہ آیۃالکرسی آخر چیز کیا ہے ؟
میں جب تک نہیں پڑھتا تھا مجھ پر رزق کی تنگی تھی، جب سے پڑھنے لگا ہوں ،
رزق کی بارش ہے ، اس سے پہلے میرے گھر میں بیماریاں ، تنگدستی ، مسائل ، مشکلات ،
الجھنیں بات کچھ نہیں ہوتی خوامخواہ ہم آپس میں الجھ جاتے تھے ایک مشکل حل نہیں
ہوتی تھی دوسری ، دوسری ختم نہیں ہوتی تھی، تیسری ، اور جب میں نے آیۃالکرسی پڑھی
یعنی گھر سے نکلتے ہوئے ، پڑھنا شرو ع کیا تو بس میرے اندر ایک راحت ، خوشی اور
کامیابی کی لہر دوڑ گئی تو میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں اور روح کی نصیحت بہت قیمتی
نصیحت ہوتی ہے آپ کبھی بھی گھر سے نکلتے ہوئے آیۃالکرسی پڑھنا نہ بھو لیں ! یہ وہ
چیز ہے جو آپ کو سدا بہار اور کامیاب کرتی چلی جائے گی۔
تابعیؒ روح کی چوتھی
نصیحت :۔
چوتھی چیز جو میری
نصیحت ہے وہ یہ ہے ہر کام ہر عمل شروع کرنے سے پہلے ﷽ ضرور
پڑھا کریں ، ابھی آپ عالم وجود اور عالم شہود میں ہیں ۔ اور عالم برزخ میں نہیں
آئے۔ جب آپ عالم برزخ میں آئیں گے تو آپ کے سامنے جو حقائق اور حقیقتیں کھلیں گی ۔
وہ آپ سوچ نہیں سکتے اور وہ حقائق اور حقیقتیں ایسی ہوں گی جس کو اظہار کریں گے تو
شاید لوگ نہ مانیں جو شخص﷽ کسی کام کو شروع
کرنے سے پہلے پڑھتا ہے انیس فرشتے اس کی مدد کو فوراً آ جاتے ہیں انیس رحمتیں اس
کو گھیر لیتی ہیں ،اللہ پاک کی مدد کی انیس طاقتیں اس کے کام میں شامل ہو جاتی ہیں
،انیس عذاب اس سے ٹلتے ہیں ، انیس خیریں اسے ملتی ہیں ۔ انیس خبیث جنات اور شیاطین
جنہوں نے اس کے کام کو بگاڑنا تھا اور نقصان کرنا تھا وہ اس سے دور ہوتے ہیں، انیس
قوتیں اور طاقتیں اور اللہ پاک کی مدد میں اس کے ساتھ شامل حال ہو جاتی ہیں ۔ میں
نے زندگی میں جب بھی ﷽ پڑھی مجھے ہمیشہ ﷽ نے ترقیاں ، عزتیں ، کامیابیاں ، خیریں اور برکتیں
عطا فرمائیں اور مجھے ایک احساس ہوا کہ ﷽ نے
مجھے ایک نئی زندگی اور نئی جان دی ہے۔
شیطانی اور نامراد
چیزوں سے بچنے کا راز :۔
پہلے ایسا ہوتا تھا کام تھوڑی دیر کا وقت زیادہ لگ جاتا تھا لیکن اب کام تھوڑی دیر
کا وقت اس سے بھی تھوڑا لگتا ہے اور میں اپنے کام کو جلدی سمیٹ لیتا تھا ۔﷽ نے مجھے کسی میدان میں ناکامی نہیں دی ہمیشہ
کامیابی دی ہے ۔ اس نے مجھے ہر بری نظر سے بچایا ، ہر برے منصوبے سے بچایا ، ہر
بری عادت سے بچایا اور ہر بری چاہت سے بچایا ۔ میں اپنی عادات میں ، چاہتوں میں ،
مزاجوں میں بہترین ڈھلتا چلا گیا ، میں نے جب بھی ﷽
پڑھی مجھے خیروں نے گھیر لیا ، برکتوں نے چھاؤں کر دی ایک احساس عالم ارواح میں
آنے کے بعد اب بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ ﷽ پڑھنے
والا ہمیشہ شیطانی اور نامراد چیزوں سے بچا رہتا ہے اور ﷽ پڑھنے
والا ہمیشہ ایسے ایسے حادثات اور ناقابل یقین نشانوں سے بچا رہتا ہے جس کی خود اس
کو خبر نہیں ہوتی۔ تو وہ اس کا بچاؤ کر لیتا جب خبر ہی نہیں تو بچاؤ کیسے کرے گا ؟
﷽ پڑھنے والا بہت زیادہ سکھی رہتا ہے اور
ہر کام میں ﷽ سے دل کی دنیا کھلتی ہے ،
مشکلات کی دنیا حل ہوتی ہے ۔ پریشانیاں وجود میں نہیں آتیں مسائل حل ہوتے ہیں اور ﷽ ضرور پڑھا
کریں اس سے زندگی میں وہ راحتیں ،خوشیاں، عزتیں اور کامیابیاں ملیں گی جو آپ کبھی
سوچ ہی نہ سکیں ۔
تابعیؒ روح کی پانچویں
اور خاص نصیحت :۔
میری پانچویں
نصیحت اور جو بڑی خاص نصیحت ہے ۔ اس کو
سدا یاد رکھنا اپنے منہ کو گالی سے پاک کر لینا جاندار غیر جاندار ، پاک ناپاک
کوئی بھی چیز ہو بس گالی نہیں دینی ، اور اپنے ذہن کو اپنے مزاج کو اپنی طبیعت کو
گالی سے ایسے دور کر لو جیسے تمہارے مزاج میں گالی نام کی چیز کبھی تھی ہی نہیں
ایک واقعہ سناتا ہوں ۔
گالیوں کے عبرت انگیز
اثرات :۔
یہ اس دور کی بات ہے
جب آپ کی دنیا کی ایجادات نہیں تھیں ، ہماری دنیا کا خیر کا دور تھا، برکتوں کا دور تھا ، سادہ غذائیں ، صحت مند
چہرے اور خشبودار بول ہوتے تھے ۔ مجھے ایک صاحب ملے میں نے انہیں دیکھا کہ وہ اکثر
اپنی گفتگو میں جب بھی گفتگو کرتے گالیاں دیتے تھے ۔ اور میں نے ان کی زندگی میں
بس مشکلات ، پریشانیاں ، الجھنیں ، رکاوٹیں ، دکھ اور ناکامیاں ہی دیکھی ، وہ میرے
پاس دعا کیلیے آئے ۔ ان پر ایک مکھی بار بار بیٹھ رہی تھی ایک بار اٹھاتے دوسری
بار اس کو جھڑکاتیسری بار مکھی کو گالی دے دیتے ۔ بس میں وہیں سمجھ گیا ان کی
مشکلات کی وجہ گالیاں ہیں۔ میں نے ان سے سوال کیا آپ گالیاں دیتے ہیں ؟ کہنے لگے
نہیں بس غصہ آئے تو گالیاں تو آتی ہی ہیں غصے کے وقت دیتا ہوں ویسے نہیں ۔ پھر
کہنے لگے نہیں ہماری بستی میں رواج ہے جب غصے میں آئیں تو بھی گالیاں دیتے ہیں جب
خوشی ہو تب بھی ایک دوسرے کو گالیاں ضرور دیتے ہیں ۔میں نے کہا آپ کی الجھنیں اور پریشانیاں سو فیصد ختم ہوجائیں گی اگر آپ
گالی دینا چھوڑ دیں ۔
زندگی کی مشکلات سے
نجات:۔
انہوں نے میری بات
کو یقین سے لیا کچھ عرصہ بعد ملے اور کہنے لگے آپ کی بات اس وقت سمجھ نہیں آئی تھی
اور میں نے چاہا تھا کہ میں آپ سے شاید کوئی وظیفہ پالوں گا ، کوئی تسبیح پالو ں
گا ۔ آپ نے مجھے یہی وظیفہ دیا تھا ، کہ گالیاں نہ دیا کرو آپ مجھے کوئی تسبیح
وظیفہ دے دیتے وہ میرے لیے آسان تھا گالی ایسی چیز ہے جو میری زبان پر پختہ ہو چکی
ہے۔ اس کو ذہن اور زبان سے نکالنا میرے
لیے نہایت مشقت اور مشکل کام ہے لیکن میں نے مشقت کی ۔با ربار میرے منہ پر گالی
آتی ، میں جھٹک دیتا ، میرے منہ پر برا لفظ آتا میں اپنے منہ کو بند کر لیتا ، کچھ
ہفتے محنت کے بعد اب میں اس مشکل سے نکل آیا ہوں۔ اور اس مشکل سے ایسا نکلا ہوں کہ
خود زندگی کی مشکلات سے نکل گیا ہوں ۔ میرے اوپر زندگی نے مشکلات کا ایک طوفان
تانا ہوا تھا میں پریشانیاں ، الجھنیں ، مسائل اور ناکامیوں میں بہت زیادہ گرا ہوا
تھا بس میں نے اب سوچا تھا کہ اس کا حل صرف موت ہی ہو سکتا تھا ۔اور میں موت کا
انتظار کر رہا تھا لیکن جب سے آپ نے مجھے گالیاں دینے سےمنع کیا ہے میں اس دن سے
بہت پرسکون ہوں ، میرے مسئلے ، مشکلات ، زندگی ،پریشانیوں اور ناکامیوں سے نکل کر
راحتوں اور برکتوں کی طرف چل پڑی ہے ۔
چھوٹے سے عمل نے
مصیبتوں سے نجات دے دی:۔
میں حد سے زیادہ ممنون اور مشکور ہوں کہ آ پ نے مجھے گالیاں نہ دینے کا وظیفہ
بتایا ۔۔ یہ خود ایسا وظیفہ ہے جس نے میری زندگی سے مشکلیں چن لی ہیں پریشانیاں
دھو دی ہیں میرے گھر میں راحت ہے ، سکون ہے ، میرا گھر مشکلات اور پریشانیوں سے
ایسا نکلا ہے کہ میں حد سے زیادہ مطمئن ہوں ۔ میں آپ کا نہایت مشکور ہوں کہ آپ نے
مجھے اس مصیبت سے نجات دلائی ۔
انوکھے تجربات ، انوکھی
باتیں ، انوکھے مشائدات :۔
صحابی بابا یہ ساری باتیں کر رہے تھے اور میں
یہ ساری باتیں بہت غور سے سن رہا تھا اہل محفل بھی ان باتوں سے محظوظ ہو رہے تھے ۔واقعی
انوکھے تجربات ، انوکھی باتیں ،اور انوکھے مشائدات تھے۔ جو عام عقل سوچ اور گمان
سے بالاتر تھے ۔
اپنی نظروں کو
ماشاءاللہ دو :۔
ایک نصیحت خاص
اور بتائی اپنی نظروں کو ماشاءاللہ دو ،جب بھی نظر اٹھے کسی چیز پر نظر جائے بیٹی
ہو، بیٹا ہو ، بیوی ہو، گھر ہو، سواری ہو ، زندگی کی کوئی بھی چیز ہو اپنی نظروں کو اور اپنی زبان کو ماشاءاللہ دو ۔
جب آپ ماشاءاللہ کہیں گے آپ کا منہ اور آپ کی سانسیں خوشبو بکھیریں گی اور آپ کی
طبیعت میں راحتیں ،خوشیاں اور خلوص بکھر
جائے گا ۔ وہ تابعیؒ اعتماد سے بولے یاد رکھو ہماری نظریں تیروں میں سے تیر ہیں
اور یہ لگتی ہیں ، اپنوں کو بھی غیروں کو بھی اور ہر نظر ایک اثر رکھتی ہے ۔ اور
اس اثر سے یا تو خیر یں پھیلتی ہیں یا پھر شر پھیلتا ہے ۔ اور اگر آپ چاہتے ہیں آپ
کی نظر سے خیریں پھیلیں ۔گھر میں سکون چین ہو ، راحت اور رحمت ہو ، برکت اور عافیت
ہو تو پھر آپ جب بھی نظر اٹھاائیں تو ماشاءاللہ کہیں ۔
نظروں میں کیمیا تاثیر
پیدا کریں :۔
ایسا کرنے سے کچھ ہی
دنوں میں آپ کی نظروں میں کیمیا تاثیر پیدا ہو گی جس کو دیکھیں گے اس کو شفاء ملے
گی ، جس کو دیکھیں گے وہ آپ کا دوست بن جائے ، جس کو دیکھیں گے اس کے دل میں آپ کی
محبت اتر جائے ،جہاں دیکھیں گے وہاں آپ کیلئے رحمت ، راحت ، برکت اور خیر ایسے
نکلے گی کہ آپ سوچ نہیں سکتے ۔ آپ اپنی نظروں میں نور پائیں گے ، آنکھوں میں سرور
پائیں گے ، دل میں رحمت کا ایک ہلکا سا وزن محسوس کریں گے ، جب آپ ہمیشہ جس طرف
توجہ کریں ۔( جاری ہے)
Subscribe to:
Posts (Atom)



