Showing posts with label ساس اور بہو. Show all posts
Showing posts with label ساس اور بہو. Show all posts

Tuesday, August 30, 2016

بہترین بیوی بننے کے کامیاب اصول

بہترین بیوی بننے کے کامیاب اصول


اللہ تعالیٰ نے عورت کو عبث پیدا نہیں کیا بلکہ اس کے ذمہ افزائش و تربیت نسل کا بہت اہم کام ہے جس کا نبھانا اس پر لازم ہے۔ ارشاد نبویﷺ ہے کہ تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے‘ ہر کسی سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ معاشرے میں اہم مقام ہونے کی وجہ سے عورت بھی جواب دہ ہوگی۔ بہن، بیٹے، بیوی اور ماں ہونے کی حیثیت سے اس کے کردار کے بارے میں سوال ہوگا۔ ایک بیوی ہونے کی حیثیت سے اس پر مندرجہ ذیل ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی نگران ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ عورت اگر اپنے فرائض سے کوتاہی کرے گی تو وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمان ہوگی‘ عورت پر شوہر کی عزت کرنا‘ بچوں کی پرورش کرنا‘ مرد کے مال کی حفاظت کرنا اور اس کی عزت کی حفاظت کرنا لازم ہے۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: ’’مرد حاکم ہے عورتوں پر اس واسطے کہ بڑائی دی اللہ نے ایک دوسرے پر اور اس واسطے کہ خرچ کئے انہوں نے اپنے مال‘ پھر جو عورتیں نیک ہیں‘ تابعدار ہیں‘ نگہبانی کرتی ہیں‘پیٹھ پیچھے ان چیزوں کی جن کی حفاظت اللہ نے فرمائی‘‘ ایک بیوی ہونے کے ناطے عورت کا اولین فرض یہ ہے کہ اپنے خاوندکی عزت کرے اور نافرمانی نہ کرے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر میں کسی دوسرے کو (اللہ تعالیٰ کے علاوہ) سجدے کی اجازت دیتا تو عورت کو اپنے خاوند کیلئے سجدے کا حکم دیتا‘‘ گویا کہ مرد عورت کا مجازی خدا ہے۔ بہترین بیوی وہ ہوتی ہے جو اپنے خاوند کیلئے سکون اور تسکین کا باعث ہو۔ اسے اپنی زبان اور رویہ سے تکلیف نہ دے بلکہ اس کیلئے خوشی اور طمانیت کا باعث ہو۔ اپنے آپ کو خاوند کا فرمانبردار اور تابعدار بنادے لیکن ایک بات کا دھیان رہے کہ جس حکم میں اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی ہو اس حکم کی ہرگز پیروی نہ ہو بلکہ خوش اسلوبی اور احسن طریقے سے شوہر کی اصلاح کرے اور اسے اسلامی احکام سے آگاہ کرے‘ محبت اور پیارسے اسلامی اصولوں سے آشنا کرے‘ اطاعت اور خدمت سے اپنے کردار کاثبوت دے تاکہ خاوند اس کی طرف مائل ہو۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اس عورت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو جو خود بھی نمازتہجد کیلئے اٹھے اور اپنے خاوند کو بھی اٹھائے اور اگر نہ اٹھے تو اس پر پانی کے چھینٹے مارے۔‘‘

Tuesday, November 10, 2015

خوبصورت نہیں ! نیک و صالح بہو ڈھونڈئیے سکون پائیے

خوبصورت نہیں ! نیک و صالح بہو ڈھونڈئیے سکون پائیے :۔

محترم قارئین!اور وہ معزز مائیں بہنیں آج یہ عاجزہ آپ سے ایک چھوٹا سا سوال کرنے حاضر ہوئی ہے کہ آپ اپنے گھر کیلئے ایک بہو کی تلاش کر رہی ہیں یا ایک سجے سجائے شو پیس کی ؟جس کے قد کی لمبائی اتنی ہو کہ وہ خود کو آپ سے بھی بڑا سمجھنے لگے جس کی زلفوں کی رنگت ایسی ہو کہ اتراتی پھرے جس کی آنکھیں اتنی خوبصورت ہوں کہ آپ کا بیٹا ان میں ڈوب کر اپنی ماں کا چہرہ بھول جائے ۔ یہ سچ میری ہر ماں بہن کو کڑوا ضرور لگے گا مگر سچ تو ہوتا ہی کڑواہے۔عاجزہ خود ان حالات سے گزر چکی ہے لڑکے کی ماں بہنیں جب دیکھتی تھیں تو ایکسرے کا گمان ہوتا تھا ذرا سوچئے ، کیا اس لڑکی کی عزت نفس نہیں ہوتی جس کو آپ کی نظریں ہی یہ احساس دلا دیتی ہیں کہ وہ خوبصورت نہیں تو پھر گنہگار ہے !!! کیا خوبصورتی اچھی زندگی اور فرمانبردار بیوی اور اچھی بہو ہونے کی گارنٹی ہے ؟ عاجزہ کا تجربہ ہے کہ اکثر عام سی شکل و صورت والی بیوی اور بہو بہت فرمانبردار ثابت ہوئی کہ پورے خاندان کی زندگی کو جنت بنا گئی اور اولاد کو نیک سیرت جبکہ اکثر حسین، امیر ، فیشن ایبل لڑکی ہمیشہ آئینے میں خود کو سنوارتی ہوئی اور روٹھ کر میکے بیٹھی ہو ئی اور برائی پھیلاتی ہوئی دیکھی ہے ۔ عاجزہ کے آس پاس ایسی بہت سی کہانیاں بکھری پڑی ہیں جنہیں بیان کروں تو وقت اور صفحات ان کی نذر ہو جائیں ۔ اگر اس حقیر کی یہ باتیں آ پ کو کسی شک میں ڈال رہی ہیں یا آپ غلطط فہمی کا شکار ہو رہی ہیں تو آئیے ! ذرا باقی دینی و دنیاوی مسائل کی طرح اس مسئلے کا حل بھی قرآن و حدیث میں سے تلاش کرتے ہیں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ۔"
 عورتوں سے ان کے حسن کی بنا پر نکاح نہ کرو ہو سکتا ہے کہ ان کا حسن انہیں تباہی میں ڈال دے عورتوں سے ان کے مال دار ہونے کی بنا پر نکاح نہ کرو ہو سکتا ہے کہ ان کی دولت و ثروت ان میں سرکشی پیدا کر دے ۔ عورتوں سے صرف ان کی دین داری کی وجہ سے شادی کرو۔"
 اگر کوئی دین دار عورت ایسی ہو کہ اس کا کان اور ناک کٹے ہوئے ہوں تو وہ بھی دوسری عورتوں سے افضل ہے ۔ بنی کریم ﷺ نے نیک بیوی کو شوہر کیلئے خزانہ قرار دیا ہے ۔چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ۔حضور نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے ۔
" کیا میں تمہیں نہ بتلا دوں کہ مرد کا سب سے عمدہ خزانہ کیا ہے ؟ صالح اور نیک بیوی ایسی کہ شوہر اسے دیکھے تو اس کی طبیعت خوش ہو اگر شوہر کہیں جائے تو وہ اس کے مال و آبرو کی حفاظت کرے اور شوہر اسے کوئی بات کہے تو وہ اسے ماننے میں کوئی تامل نہ کرے ۔"
 فراست کی وجہ سے دیا گیا ہے اگر وہ چاہے تو اسے استعمال کر کے اپنی دنیا و آخرت سنوار سکتا ہے عقل سے بڑھ کر کوئی فائدہ مند دولت نہیں ۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے ۔
"ان باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں جو دانش مند ہے ۔"
 اکثر مائیں اور خود مرد حضرات لڑکیوں کو ان کی کسی نہ کسی کمی یا خامی کی وجہ سے مسترد کر دیتے ہیں تو ان سے میری درخواست ہے کہ لڑکی کی صورت اور اسٹیٹس کے بجائے اس کی نیک سیرتی اور فرمانبرداری پر توجہ دیں اور اسے مسترد ہونے کا دکھ نہ دیں۔اگر اسے اپنے گھر کی عزت بنائیں او رپھر  دیکھیں آپ کا گھر جنت اور آپ کی زندگی گلزار کیسے بنتی ہے ۔ماہنامہ عبقری ایسا رسالہ ہے جسے خواتین کی بڑی تعداد کے علاوہ مرد حضرات بھی شوق سے پڑھتے ہیں ۔ ایک بہن ہونے کے ناطے میں ان تمام بھائیوں سے گزارش کرتی ہوں کہ نکاح ایک پاکیزہ بندھن اور سنت بنوی ﷺ ہے اسے صرف اور صرف دنیاوی آرائش و زیبائش اور حسن و دولت کا حصول مت سمجھیں ۔درج بالا احادیث توجہ سےپڑھ کر سبق حاصل کریں اور عمل کر کے دنیا و آخرت میں خوشی آسودگی اور سرخروہی حاصل کریں ۔جب ایک دین سے ناواقف فیشن ایبل ، مغرور لڑکی آپ کے بچوں کی پرورش اسلامی اصولوں پر نہ کر سکے آپ کی زندگی بھی اجیرن کر دے ۔ اور آپ کی اولاد کو آخرت میں نجات کا ذریعہ بنانے کی بجائے دنیا و آخرت میں پریشانی اور رسوائی کا سامان بنا دے ؟ حدیث نبوی ﷺ ہے۔
" تم میں سے سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں سب سے اچھے ہوں ۔"
 قرآن پا ک میں اللہ عزو جل نے اپنے سمجھ لینے والے اور غور کرنے والے بندوں کیلئے واضح آیات بیان فرما دی ہیں جن میں سے ایک بہت سبق آموز آیت درج ذیل ہے جو میرے مسلمان بھائیوں کی زندگی سنوار دے گی اور وہ اس پر عمل کرتے ہوئے جوان کے رب نے ان کو نصیب میں لکھ دیا ہے اس پر قناعت کر لیں اور اگر ان کی شریک حیات کم صورت یا کسی خامی و کمی میں مبتلا ہے تو اسے اپنے رب کی رضا خوشنودی اور اپنی آخرت میں نجات کا ذریعہ و وسیلہ سمجھ لیں ۔ آیت مبارکہ درج ہے۔
" ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لئے بہتر ہو اور ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لئے بری ہو ۔ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے ۔"
 ہر رشتہ کا حق فرض سمجھ کر ادا کریں اور ہر فرض کو ادا کرنا اپنا معمول بنا لیں ، زندگی آسان اور آسودہ ہو جائے گی ۔ رب کو عبادت سے اور بندوں کو خوش اخلاقی سے خوش رکھیں اور خود بھی خوش رہیں۔

Thursday, September 17, 2015

تجربہ کار بوڑھیوں سے سیکھئے نباہ کے طریقے

تجربہ کار بوڑھیوں سے سیکھئے نباہ کے طریقے :۔


تجربہ کار بڑی بوڑھیوں کا قول ہے کہ نوجوان بیویاں اپنی آرائش اور بناؤ سنگھار پر تو خاص توجہ دیتی ہیں ، اس اہم مسئلے کو اکثر نظر انداز کر دیتی ہیں کہ شوہر کے ساتھ خوش اسلوبی سے نباہ کس طرح کیا جائے؟
خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کرنے کیلئے اگرچہ میاں بیوی دونوں کو اپنا اپنا حصہ ادا کرنا پڑتا ہے ، مگر سلیقہ مند عورت اپنی سمجھ بوجھ اور خوش مزاجی سے گھر کو ایک نمونہ بنا سکتی ہے ۔ کسی نوجوان لڑکی کی شادی ہو جانا اتنی مشکل چیز نہیں ، جتنی کہ شادی کے بعد اپنے شریک زندگی کے ساتھ خوش اسلوبی سے نباہ کرنا ، یہی اس کیلئے سب سے زیادہ توجہ طلب اور اہم چیز ہے ، اس ضمن میں مندرجہ ذیل چند اشارات سے خاص مدد مل سکتی ہے ، جنہیں لائحہ عمل بنانا مفید ہو گا۔

اظہار تشکر و اطمینان :۔ تسخیر شوہر کے لئے یہ سب سے پہلی اور تیر بہدف تدبیر ہے ، بیوی کی طرف سے اظہار طمانیت و شکر گزاری کیلئے شوہر اس کی بہت سی نا پسندیدہ باتیں گوارا کر لیتا ہے ۔ مثلاً اس کی فضول خرچیاں ، اس کی آئے دن کی بیماریاں ، کھانوں میں حد سے زیادہ مرچ مسالے اور دوسری گھریلو سہل انگاریاں ، اس میں شک نہیں کہ غلطیاں اور ناگوار باتیں طرفین کی طرف سے پیدا ہو سکتی ہیں لیکن نباہ کا جزبہ رکھنے والی عورت شوہر کی بہت سی غلطیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کر لیتی ہے بلکہ ان کو اپنا لیتی ہے اور ذرا ذرا سی بات پر کڑہتی نہیں ، شوہر کی عدم پابندی اوقات ،بکثرت چائے نوش ،یا سگریٹ نوش ، متواتر جھلاہٹ یا جلد بازی وغیرہ اسے درہم برہم نہیں کرتی اور وہ ایسی خفیف چیزوں کو ہنس کر ٹال دیتی ہے بلکہ ان سے لطف اندوز ہوتی ہے ۔ بیوی کیلئے سب سے زیادہ طمانیت بخش بات یہ ہونی چاہیے کہ وہ اور اس کا گھر شوہر کیلئے مرکز توجہ بن گیا ہے ، یہ کتنی بڑی بات ہے کہ ایک انسان جو پہلے چاروں طرف بے مقصد سرگرداں رہتا تھا ، عاضی اور وقتی تقاضوں سے کبھی ایک رخ میں اور کبھی دوسرے رخ میں بہہ رہا تھا ، اب سب طرف سے ہٹ کر اور سب چیزوں سے کٹ چھٹ کے ایک منزل مقصور پر آ گیا ہے ، جو اس کا گھر ہے اور جس کی ملکہ اس کی بیوی ہے ۔ کیا بیوی کیلئے یہ بات انتہائی کار گزاری کی نہیں کہ وہ شخص جو پہلے کسی کا نہیں تھا ، اب زندگی بھر کیلئے اس کا ہو کر اس کے زیر اثر ہے ؟ اس فتح یابی اور کامرانی پر بیوی کو بے حد شکر گزارا اور احساس طمانیت سے لبریز ہونا چاہیے۔

اظہار پسندیدگی و قدرشناسی:۔ تشکر و طمانیت کے احساس و اظہار کے بعد دوسرا درجہ شوہر کی باتوں پر اظہار پسندیدگی کا ہے ۔ وہ عورت جو بات بات پر شوہر کی بات کاٹتی اور اس سے اختلاف رائے ظاہر کرتی ہے ، اس کے مزاق پر ناک بھوں چڑھاتی اور ہمیشہ اپنی رائے پر اڑی رہتی ہے یا گفتگو میں حاکمانہ لہجہ اختیار کرتی ہے اور اپنی برتری ظاہر کرتی ہے ، شوہر میں یا س و ناامیدی کا احساس پیدا کر دیتی ہے ، شوہر رفاقت و ہم آہنگی کا بھوکا ہوتا ہے ۔ جب یہ چیزیں اسے گھر میں نہیں ملتیں تو آخر کار وہ گھر سے کترانے اور دور دور رہنے لگتا ہے۔ اور اچھے یا برے دوستوں میں دل بہلانے کو تر جیح دیتا ہے ، رفتہ رفتہ میاں بیوی دونوں میں ایک نفسیاتی یا روحانی خلیج حاہل ہو جاتی ہے ، جس کا خمیازہ زیادہ تر بیوی ہی کو بھگتنا پڑتا ہے ،۔ اس حالت کی ذمہ داری زیادہ تر ناعا قبت اندیش بیوی ہی پر ہوتی ہے ۔
شوہر  کی آرام و آسائش کا خیال :۔  سلیقہ مند بیوی ہر چیز میں شوہر کے آرام و آسائش کے خیال کو مقدم رکھتی ہے رات کو خواہ وہ کتنی ہی دیر سے گھر آئے اسے گرم گرم کھانا دیتی ہے ، صبح کا ناشتہ بڑے اہتمام و سکون سے کراتی ہے ، جاڑوں میں گرم پانی تیار رکھتی ہے اور گرمیوں میں اسے برف پلاتی ہے ۔ کھانا کھلاتے وقت اس سے میٹھی میٹھی باتیں کرتی ہے اور خفیف گھریلو جھگڑوں سے اسے پریشان نہیں کرتی۔  اس طرح کام پر جاتے وقت وہ مطمئن ہو کر گھر سے نکلتا ہے اور جب تھکا ماندہ گھر کو لوٹتا ہے تو گھر میں بیوی کی خوش سلیقگی دیکھ کر باغ باغ ہو جاتاہے ، کاروباری معاملات میں بھی سمجھدار بیوی اپنے شوہر کو نیک مشورے دیتی ہے اور دونوں میں یگانگت اور اتحاد خیال ترقی پزیر ہوتا ہے ، زندگی کے ناہموار مرحلوں کو کامیابی کے ساتھ طے کرنے کیلئے میاں بیوی دونوں کو ہم قدم ہو کر ایک ہی سمت میں چلنا چاہیے ، سلیقہ مند بیوی وہی رخ اختیار کرتی ہے ، جدھر اس کا شوہر گامزن ہے وہ مختلف سمت میں قدم نہیں بڑھاتی بلکہ ہرمرحلے میں شوہر کے ساتھ اشتراک عمل کر کے تمام کٹھن منزلوں میں اس کی ہمدم و ہم ساز اور رفیق راہ بنی رہتی ہے ، اس طرح زندگی کی گاڑی ہم آہنگی کے ساتھ چلتی رہتی ہے اور منزل مقصود تک سلامتی کے ساتھ دونوں کی رسائی ہو سکتی ہے ۔

غرض یہ کہ شوہر کے ساتھ نباہ کے اہم گر یہ ہیں :۔ شکر گزاری ، گوش ہوش ، شوہر کے ہر مرحلے اور بات میں تعاون ، اس کی غلطیوں میں بھی شرکت ، یہ یقین واثق کا رشتہ ، ازدواج ایک ناقابل شکست رشتہ ہے جس آخری دم تک قائم رہنا اور قائم رکھنا چاہیے  یہ تمام اسلحہ ایسے ہیں جو صرف ایک سلیقہ مند اور خوش قسمت عورت کیلئے کاآمد ہو سکتے ہیں ۔



 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر19

Thursday, August 13, 2015

ساس بہو میں دوستی کرانے ے آسان مشورے

 ساس بہو میں دوستی کرانے ے آسان مشورے:


آخر شادی سے پہلے جو لڑکی حور پری لگتی ہے وہ شادی کے بعد چڑیل کیوں لگتی ہے؟ وہ شادی کے فوراً بعد د ل سے کیوں اترنے لگتی ہے اس کے خلاف لفظوں کے تیر کیوں چلائے جاتے ہیں ۔ شاید اس لئے کہ ساس بننے سے پہلے وہ ماں اور بیوی ہوتی ہے  ۔ گھر کی دنیا اس کے گرد گھومتی ہے۔ ہر معاملے میں اس کی رائے کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ اس کے مشورے کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا ہے   تو اسے یہ خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں بہو اس کی جگہ نہ لے ۔ دوسری طرف جب بہو نئے گھر میں آتی ہے تو اس گھر کے متعلق اس نے بہت سے خواب دیکھے ہوتے ہیں ۔ جنہیں پورا کرنے کا موقع شادی کے بعد ملتا ہے ، چنانچہ وہ چاہتی ہے کہ گھر کے سیاہ سفید کا مالک اسے بنا دیا جائے ۔ گھر کی تزئین و آرائش سے لے کر دیگر امور وہ اپنی مرضی و منشاء کے مطابق چلائے ۔ اس سلسلے میں جب اسے جائز نصیحت یا مشورہ دیا جاتا ہے تو وہ اسے اپنی توہین سمجھتی ہے پھر اس کے دل میں ساس کے خلاف نفرت کے جزبات پیدا ہونے لگتے ہیں ۔ ساس بہو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جس طرح ایک میان میں دو تلواریں نہیں رکھی جا سکتیں بالکل اسی طرح ساس بہو بھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتی ہیں اگر یہ دونوں ساتھ رہیں تو آئے دن ان کے درمیان نوک جھونک ہوتی رہتی ہے اسی لئے ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر شادیاں خواتین کی وجہ سے ناکام ہو جاتی ہیں کیونکہ عورت ہی ہے جو گھر کو بناتی ہے اوربگاڑتی ہے ۔ اب چاہے یہ عورت ساس کے روپ میں ہو یا بہو کے روپ میں ۔ ان تمام حقائق کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ساس بہو کے رشتے کی بنیاد نفرت و عداوت ہے ۔ کیا ان میں دوستی کا رشتہ قائم نہیں ہو سکتا ؟  
ساس بہو ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں یہ کوئی حتمی رائے نہیں ہے کیونکہ یہ دونوں اگر تھوڑی سی کوشس کریں تو ساس بہو کے رشتے میں نفرت و عداوت کو ختم کر کے اس کی جگہ دوستی اور محبت پیدا کی جاسکتی ہے جو ان کی گھریلو زندگی پر خوشگوار اثرات مرتب کرے گا اور ان کا گھر ایک آئیڈیل گھر بن جائے گا ۔ لوگ ان پر رشک کریں گے اس کےلئے دونوں کو مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کرنا چاہیے ۔ ساس کو چاہیے کہ بہو کو اپنی بیٹی سمجھے ۔ جس طرح وہ اپنی بیٹی کو تکلیف پہنچانے کا سوچ نہیں سکتی بالکل اسی طرح بہو کو بھی پریشان نہ کرے ۔ اگر اس سے کو غلطی ہو بھی جائے تو درگزر سے کام لے۔ ڈانٹنے کی بجائے پیار سے سمجھائے اور جو کام قابل ستائش ہو اس کی تعریف کرے تاکہ اس کی حو صلہ افزائی ہو۔   گھریلو معاملات میں بہو سے بھی مشورہ لیا جائے تو وہ بھی خود کو گھر کا ایک فرد سمجھے اور ان معاملات  میں دلچسپی لے ۔ ساس کو گھر کی باتیں محلے والوں اور رشتے داروں کو نہیں بتانی چاہئیں ۔ بہو کو بھی کچھ باتوں کا خیال رکھنا چایئے ۔  اپنے شوہر کے ساتھ ساتھ گھر کے تمام افراد پر یکساں توجہ د ینی چاہیے ۔ سارے  گھر والوں کی خواہشات و ضرورتوں کا خیال  رکھے۔ اگر کوئی غلطی ہو جائے اسے فوراً دور کرے۔ لوگوں کی باتوں میں آنے کے بجائے خود حقیقت  معلوم کرنے کی کوشش کرے ۔  گھر کی باتوں کو میکے میں جا کر نہ بتائے ایسا کرنے سے بات ختم ہونے کے بجائے بڑھ جاتی ہے  اور دونوں گھرانوں میں رنجشیں جنم لیتی ہیں ۔ سا س بہو ان باتوں پر دھیان دیں تو ان کا رشتہ دوستی  میں  تبدیل ہو سکتا ہے ۔ ایک دوسرے  کی خامیوں کو تلاش کرنے کے بجائے خوبیوں پر نظر رکھیں کیونکہ ہر انسان خوبیوں و خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے کہیں اچھائی کا عنصر زیادہ ہوتا ہے تو کہیں برائی کا ۔تعلقات کو بہتر بنانے کے سلسلے میں ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ خوشگوار تعلقات کے لئے ضروری ہے کہ فرد کی خوبیوں پرنظر رکھی جائے ۔ ورنہ برائیوں کو زیادہ اہمیت دینے سے رشتو ں میں دراڑ پڑ جاتی ہے ( نعمت جہاں )
 ماہنامہ عبقری "اگست 2015ء شمارہ نمبر 110" صفحہ نمبر19