Showing posts with label موسمی تبدیلیاں اور اثرات. Show all posts
Showing posts with label موسمی تبدیلیاں اور اثرات. Show all posts

Tuesday, August 23, 2016

مارچ! تازگی ‘ رعنائی اور زیبائی کا شاندار موسم


ماہ مارچ موسم بہار کے آغاز و استقبال کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں اپنے گلستان جسم کے پھولوں یعنی دل، دماغ، جگر اور معدہ جن کو طبی اصطلاح میں اعضائے ریئسہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، پورے غور و التفات سے نگہداشت کریں۔ سال کے بارہ مہینوں میں کیفیت و بشاشت اور رعنائی و زیبائی کے لحاظ سے جو فوقیت مارچ کو حاصل ہے وہ کسی اور مہینے کو نہیں ہے۔ یہ مہینہ موسم بہار کا نہ صرف آغاز ہے بلکہ بہار کی حلاوت آفرین اور کیف پرور رعنائیوں کے سعود کا بھی زمانہ کہلاتا ہے اور ہر انسان خواہ غریب ہو یا امیر طبع و مزاج میں صرف ایک گونہ مستعدی توانائی اور شبابی کیفیت محسوس کرتا ہے۔ غذائی معمولات جو موسم سرما میں ہر انسان کی عادت ثانیہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ اس مہینے کے شروع ہوتے ہی قدرتی طور پر اعتدال و توازن کی جانب مائل ہونے لگتے ہیں۔

لباس میں واضح قسم کا تغیر رونما ہونے لگتا ہے اور سوائے کمزور صحت والے افراد کے ہر تندرست و توانا شخص گرم ملبوسات کو خیر باد کہنے لگتا ہے۔ طبعی انجماد ، جسم کا ٹھٹھرائو اور ہمہ وقت سرد ہوائوں کے تھپیڑوں سے محفوظ رہنے کا احساس دور ہو جاتا ہے۔ پودوں میں نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ شاخوں کی انگڑائیوں میں حسن و شباب کا ایک مسحور کن فطری بانکپن لہراتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ باغوں میں نئے نئے شگوفے پھوٹ کر چشم بینا کیلئے تسکین چشم و دل کی دعوت دیتے ہیں اور حسین گلستان کے ساتھ ساتھ آروزئوں اور ولولوں کے خیابانوں میں بھی نگہت و رنگ اور راحت کے پھول کھلنے لگتے ہیں۔ قدرت کاملہ کا کوئی کام حکمت و مقصدیت سے خالی نہیں۔ خلائق عالم کی حکمت بالغہ مہکتے ہوئے پھولوں کے اندر جو مشک عنبر کی سی مہک اور ختن جیسی خوشبو پیدا کرتی ہے وہ اشرف المخلوقات کیلئے فی الواقعی پیغام شفا اور نوید صحت کا درجہ رکھتی ہے۔ جس طرح سوکھی اور برہنہ شاخوں کو پتوں اور شگوفوں کی سبز خلعت پہنانے کیلئے موسم بہار کی ضرورت ناگزیر ہے اور چمن زاروں کی تزئین و آرائش کا حسن موسم بہار کے گنگناتے ہوئے لمحوں میں مضمر ہے، بالکل یہی کیفیت ہمارے اور آپ کے جسم کی ہے اور اگر آپ اپنے جسم کی زیب و زینت اور صحت و سلامتی کے آرزو مند ہیں تو آمد بہار سے پہلے یعنی مارچ کے شروع ہوتے ہی اس طرف توجہ کریں۔

 ماہ مارچ موسم بہار کے آغاز و استقبال کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں اپنے گلستان جسم کے پھولوں یعنی دل، دماغ، جگر اور معدہ جن کو طبی اصطلاح میں اعضائے ریئسہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، پورے غور و التفات سے نگہداشت کریں۔ یاد رکھئیے آپ کی اس بروقت اور ہوشمندانہ توجہ سے صرف اعضائے رئیسہ کو ہی فائدہ نہیں پہنچے گابلکہ اس کے ساتھ ساتھ اعضائے غریبہ کو بھی خاطر خواہ فوائد حاصل ہوں گے۔ ان احتیاطوں اور حفاظتی تدابیر سے اغماض کا نتیجہ ہی ہے کہ اپریل میںبہت سے لوگ خرابی خون اور متعدد جلدی عوارض (بالخصوص بچے) مثلاً خسرہ، موتی جھرہ، لاکڑا کاکڑا، کالی کھانسی، چیچک، فلو، وغیرہ کے عوارض سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس قسم کے موسمی عوارض سے محفوظ رہنے کیلئے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر کرنا بے حد سود مند ثابت ہو گا۔
۔۔ (1) زیادہ گرم تاثیر والے میوہ جات سے اجتناب کریں۔۔
۔۔ (2) رات کو جلد سوئیں اورصبح جلدبیدار ہونے کی عادت ڈالیں۔
۔۔۔(3) ہر قسم کی شیریں غذائیں مثلاً مٹھائی، بالخصوص چینی بہت کم استعمال کریں کیونکہ یہ خون میں فساد و خرابی پیدا۔ کرکے شوگر جیسے موذی مرض کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
۔۔۔ (4) پیدل چلنے، صبح کی ہوا خوری اور مناسب ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔ پیدل ہوا خوری کا سیدھا طریقہ یہ ہے کہ جلد صبح سورج نکلنے سے ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے نکل جایا کریں اور اس وقت لوٹا جائے جبکہ دھوپ زیادہ تیز نہیں ہوئی ہو۔ حسب طاقت ایک شخص ایک میل سے پانچ چھ میل تک روزانہ پیدل ہوا خوری کر سکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ پیدل ہوا خوری سے آپ کی برداشت بڑھ جائے گی اور پورے نظام جسمانی کو یکساں طور پر یہ فائدہ پہنچے گا کہ اگر کسی مرض کے جراثیم آپ کے جسم کے اندر پہنچ بھی چکے ہوں گے یا جو موسمی رطوبات نظام جسمانی میں بیماریوں کو پالنے والی موجود ہوں گی ان کا اخراج حتمی طور پر عمل میں آجائے گا۔ اگر زمین پتھریلی اور کنکریلی نہ ہو تو ننگے پائوں پیدل ہوا خوری کرنے سے مطلوبہ نتائج برآمد ہوں گے لیکن مشکل یہ ہے کہ شہروں میں اس طرح پیدل ہوا خوری ممکن نہیں ہے۔ اگر قصبات و دیہات کی کچی اور گھاس والی پگ ڈنڈیوں اور راستوں پر چلنے کا موقع میسر آئے تو یہ سب سے زیادہ مناسب صورت ہے۔دوا کی تدابیر: صبح و شام ایک تولہ خمیرہ گائوزبان پانچ تولہ عرق گائوزبان کے ساتھ استعمال کریں۔ یہ استقرار صحت اور ازالہ عوارض کی بہترین تدبیر ہے۔ ایرانی عناب بقدر ایک تولہ لے کر رات کو پائو بھر پانی میں بھگو دیں اور صبح کو اس کا مقطر پانی قدرے شہد میں ملا کر استعمال کریں۔ جلدی عوارض اور سینے کے امراض سے محفوظ رہنے کی یہ مناسب دوائی ہے۔ اس مہینے رونما ہونے والے دیگر عوارض کی تفصیلات کے سدباب کی تدابیر حسب ذیل ہیں۔ بخار: اس مہینے میں تغیر موسم کے سبب سے بخار بھی ہو جایا کرتا ہے جو عدم علاج کے باعث بگڑ کر اعضائے رئیسہ اور اعضائے غریبہ میں خلل و فتور کا باعث بنتا ہے اس کی یہ صورت ہے کہ مغز کرنجوہ کا پائوڈر دن میں چار مرتبہ (شیر خوار بچوں سے لے کر عمر طبعی تک دو رتی سے دو ماشہ تک یعنی حسب العمر) چینی کے نیم گرم جوشاندے کے ساتھ دیں۔ خسرہ: یہ ایک متعدی مرض ہے جو عام طور پر بچوں کو لاحق ہو جاتا ہے اور اس میں سہل انگاری اور لاپروائی کے نتیجہ میں کانوں کے بہرہ ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہوتا ہے اور ایسی حالت میں سینہ میں درد پیدا ہو تو یہ نمونیہ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات آنکھوں میں بھی اس عارضہ کے باعث خرابی پیدا ہو جایا کرتی ہے۔ ایسی حالت کے پیش نظر بچوں کو کمرے میں لٹائیں اور مناسب علاج اور احتیاط اختیارکریں۔کن پیڑے:یہ بھی ایک متعدی مرض ہے۔ جس میں ابتدا ہی میں کان کے نیچے درد محسوس ہونے لگتا ہے اور دوسرے یا تیسرے روز بخار ہو جاتا ہے۔ درد کے مقام پر ورم نمودار ہوتا ہے۔ جوں جوں یہ ورم بڑھتا ہے نگلنے میں دشواری ہوتی ہے۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ خناق تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ بخار کا درجہ حرارت 101 سے 104 تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں ہمیشہ کسی لائق اور تجربہ کار معالج سے رجوع کریں۔ ہنگامی حالت میں مغز کرنجوہ کا پائوڈر 4رتی سے ایک ماشہ تک اور چھ ماشہ گل بنفشہ جو شاندہ بنا کر چینی ملا کر نیم گرم، دن میں چار مرتبہ دیں۔
 

Thursday, December 17, 2015

دسمبر کا جاڑا اور چقندر کے فائدے

دسمبر کا جاڑا اور چقندر کے فائدے :۔


لیجئے ! جاڑے آگئے ! چھنتی گھٹائیں ، گھٹتے دن ، گرد سے پاک ہوا ، فضا، میں بڑھتی خشکی اور دھیرے دھیرے ٹھنڈی ہوتی راتیں اس کی گواہی دے رہی ہیں ، اسی کے ساتھ اس موسم کے پھل اور سبزیاں بھی بازاروں میں نظر آنے لگی ہیں ان میں چقندر ، پھر مولی ، شلجم اور گاجریں آ رہی ہیں ۔۔ یہ سب صحت و توانائی کا سامان کرتی ہیں ۔ چقندر بحیرہ روم کے ملکوں کا تحفہ ہے ۔ اکیسویں صدی میں اس کے بیج شمالی یورپ پہنچے اور وہاں کی جڑی بوٹیوں کے ماہرین کے مطابق چقندر نے ذائقے کو راحت اور آنکھوں کو ٹھنڈک بخشی ۔ اس کے سبز پتے اور چقندری سرخ رنگ بے ذائقے کے علاوہ رنگ اور شوخی کھانوں کو عطا کرتے ہیں ہمارے ہاں بھی چقندر استعمال ہوتا ہے ۔ گاؤں دیہات میں بطور سالن اور شہروں میں زیادہ تر بطور سجاوٹ ۔ اس کے پتے عام طور پر بڑی بے دردی سے مروڑ کر پھینک دیئے جاتے ہیں حالانکہ غذائی اعتبار سے یہ بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔
چقندر بطور  دوا :۔
چقندر کے کھانے سے خون کے سرخ خلیات خوب بنتے ہیں تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ اگر سرطان خون کے مریض کو علاج کے ساتھ روزانہ ایک کلو چقندر کھلائے جائیں تو اسے بہت فائدہ ہوتا ہے کیونکہ اس میں سرطان دور کرنے والا جوہر لائکو پین خوب ہوتا ہے ۔ ضروری نہیں کہ ایک ہی وقت میں ایک کلو چقندر کھائیں ۔ دن میں تین چار مرتبہ کھا کر بھی یہ مقدار پوری کی جاسکتی ہے لیکن چقندر تازہ ہو نا چاہیے اس کو تین مرتبہ پینے سے گردے اور مثانے کی پتھری بھی نکل سکتی ہے ۔ اس سے گردے اور مثانے کا ورم بھی دور ہو جاتا ہے یہی رس یرقان کیلئے بھی مفید ہوتا ہے کیونکہ گنے کے رس کی طرح اس میں بھی شکر ہوتی ہے ۔ اسی طرح یہ رس گھٹیا کیلئے بھی مفید ثابت ہوتا ہے ۔ بشرطیکہ مریض کو ذیابیطس نہ ہو ۔
چقندر کا روسی سوپ :۔
تازہ چقندر 900 گرام ، تازہ بند گوبھی ایک عدد ، گوشت کی یخنی دس پیالی، تازہ مکھن ایک کھانےکا چمچہ ، سرکہ بقدر ضرورت ، نمک بقدر ضرورت ، کالی مرچ ،دہی پھینٹا ہو اچھ کھانے کے چمچے ۔ ہر ادھنیا ایک گڈی ، چقندر چھیل لیں ۔ دو چقندر ثابت رہنے دیں باقی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر لیں ۔ بند گوبھی کے تین حصے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں یخنی میں ہرا دھنیا اور چقندر اور گوبھی کے ٹکڑے ڈال کر دھیمی آنچ پر ڈیڑھ دو گھنٹے پکنے دیں جب دونوں گل کر گھل جائیں ، چھلنی میں چھان لیں ۔ اب باقی گوبھی اور چقندر کو کدو کش کرلیں ۔ پتیلی میں مکھن گرم کر کے گوبھی چقندر کے لچھے کو بارہ منٹ تک پکنے دیں اس میں سوپ شامل کر دیں خوش رنگ سرخ سوپ تیار ہو جائے گا حسب ذائقہ سرکہ نمک ، مرچ ڈال کر پیا لوں میں نکالیں اور ہر ایک میں ایک ایک چمچہ بھینٹا ہو دہی ڈال کر گرم گرم پیش کریں جی چاہے تو باریک کٹی ہوئی ہری مرچیں ڈال کر پاکستانی ذائقے کی تکمیل کر لیں یہ سوپ چھ افراد کیلئے کافی ہو گا 
رومانیہ کا چقندری سوپ :۔
ھوالشافی:۔ چقندر درمیانے پتوں کے ساتھ ، چھ عدد، مرغی کی یخنی آٹھ پیالی، پیاز کٹی ہوئی ڈیڑھ پیالی، بغیر بالائی کا دہی ڈیڑھ پیالی، مولی پتلی کٹی ہوئی ایک پیالی، لیموں کا رس دو کھانے کے چمچ ، سویا تازہ کٹا ہوا دو کھانے کے چمچ، ہر دھنیا کٹا ہوا ایک کھانے کا چمچ، سیاہ مرچ پسی ہوئی بقدر ذائقہ ، نمک حسب ذائقہ ، چقندر اچھی طرح دھو کر چھیل کر کاٹ لیں ، پتیلی میں مرغی کی یخنی گرم کر کے اس میں چقندر ، کٹی ہوئی پیاز ، مولی ، چقندر کے پتے ڈال کر کوئی بیس منٹ ڈھک کر درمیانی آنچ پر پکائیے۔ سبزیاں گل جائیں تو اس میں دہی پھینٹ کرملا دیں ۔ لیموں کا رس ، سویا ، ہرا دھنیا ، نمک مرچ شامل کر کے پیش کریں ۔ 

Thursday, December 10, 2015

جاڑا آیا ! موسم سرما میں حسن کی دیکھ بھال

جاڑا آیا ! موسم سرما میں حسن کی دیکھ بھال :۔



جلد کی خوبصورتی ہی دراصل آپ کے حسن کی ضامن ہے ۔اس لئے ہر عورت کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی جلد صحت مند اور چمکدار نظر آئے ۔ جلد چونکہ ہمارے جسم کا حساس ترین حصہ ہے ۔ لہذا اسے ہر موسم میں خصوصی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے ۔ سردیوں کے موسم میں جلد خشک ہو جاتی ہے ۔ اس لئے ایسے موسم میں جلد کی حفاظت کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ۔ یہاں آپ کیلئے چند تجاویز حاضر ہیں جن پر عمل کرنے سے سردیوں کے موسم میں آپ کی جلد کھل اٹھے گی اور صحت جگمگانے لگے گی۔ سردیوں کے موسم میں چہرے کی جلد بھی خشک ہو جاتی ہے لہذا اس موسم میں خاص طور سے صابن سے چہرہ دھونے سے گریز کریں اور فیس واش استعمال کریں کیونکہ صابن آپ کی جلد سے چکنائی اور نمی کھینچ لیتا ہے ۔ موسم کوئی بھی ہو لیکن آپ مہینے میں دو مرتبہ اپنے چہرے کی کلینزنگ ضرور کریں ۔ خاص طور سے جب کہیں باہر مثلاً شاپنگ وغیرہ کیلئے جائیں تو گھر آ کر کلینزنگ کرنا ہر گز نہ بھولیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سردیوں میں دھوپ آپ کیلئے اچھی ہے لیکن اس طرح دھوپ میں بیٹھنا کہ یہ براہ راست آپ کے چہرے پر نہ پڑے ، سردیوں کے موسم میں بھی جلد کیلئے نقصان دہ ہے ۔ سرد موسم میں جلد کو خشکی سے محفوظ رکھنے کیلئے اپنی جلد کی مناسبت سے مو ئسچرائزنگ کریمز سے لوشن کا استعمال باقاعدگی کے ساتھ کریں اور چہرے کے علاوہ ہاتھ پیروں پر بھی کوئی اچھی سی کریم لگانا ہر گز نہ بھولیں ۔جن خواتین کی جلد پر زیادہ خشکی ہو انہیں چاہیے کہ وہ پٹرولیم جیلی استعمال کریں تاکہ ان کی جلد خشک ہو کر پھٹنے سے بچانے کیلئے اچھی کوالٹی کا لپ بام استعمال کریں ۔
ایسی اسکن پراڈکٹس کا استعمال اپنی جلد پر ہر گز نہ کریں جن کا رنگ گلابی ہو کیونکہ گلابی رنگ والی کریمز اور لوشنز میں کیمکلز ہوتے ہیں جو آپ کی جلد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔اس لئے ہمیشہ سفید رنگ کی یاٹرانسپیرنٹ کریمز ، لوشنز اور آئل استعمال کریں ۔ پہلے تو کوشش کریں کہ گھریلو ٹوٹکوں پر اکتفا کریں اور بازاری کریمیں اور لوشنز کم سے کم استعمال کریں ۔ اگر بوجہ مجبوری استعمال کرنی پڑ جائے تو ہمیشہ اچھے برانڈ کی اسکن کیئر پراڈکٹس خریدیں اور کسی بھی ایسے برانڈ کی براڈکٹ خریدنے سے گریز کریں جو رجسٹرڈ شدہ نہ ہوں ۔ اس کے علاوہ کوئی بھی میڈیکٹیڈ پراڈکٹس ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں ۔ اپنے چہرے کا مساج ہمیشہ درست انداز میں اور نرمی کے ساتھ کریں چہرے پر غلط ملط طریقے سے انگلیاں چلانے سے جلد پر جھریاں پڑ جاتی ہیں ۔ موسم خواہ کتنا ہی سرد کیوں نہ ہو لیکن زیادہ گرم پانی سے چہرہ دھونے سے گریز کریں اور اس کے بجائےنیم گرم پانی استعمال کریں ۔ چہرے کی کلینزنگ کے بعد بھاپ لینا ہمیشہ اچھا رہتا ہے ۔ لیکن سردیوں کے موسم میں اسٹیم لینا بہت سود مند ہے ۔ چہرے پربلیچ کریم لگانے سے پہلے اس  میں Soothing Lotion ضرور شامل کر لیں تا کہ چہرے پر جلن نہ ہو ۔ اس کے علاوہ بلیچ کرنے کے بعد صابن سے کبھی چہرہ نہ دھوئیں کیونکہ اس طرح جلد پر جلن ہو جاتی اور سرخ نشان پڑ سکتے ہیں ۔ جب کبھی پارٹی میک اپ کریں تو گھر آنے کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو اسے صاف کرلیں ۔
سردیوں کے موسم میں بہت زیادہ چکنائی والے اور مرغن کھانے نہ کھائیں کیونکہ یہ جلد پر دانوں اور کیلوں کا سبب بنتے ہیں ۔ جلد کی نگہداشت کیلئے پانی کی اہمیت کسی بھی موسم میں کم نہیں ۔ لہذا سردیوں کے موسم میں پانی پینا کم نہ کریں کیونکہ اس موسم میں آپ جتنا پانی پئیں گی آپ کی جلد اتنی ہی صحت مند اور چمکدار نظر آئے گی ۔ متوازن غذا کا استعمال کسی بھی موسم میں جلد کی حفاظت کیلئے بے حد ضروری ہے ۔سرد موسم میں کسی اچھے ٹونر کا استعمال بہت مفید ہے کیونکہ اس سے آپ کے چہرے کی جلد کی رنگت یکساں رہتی ہے اچھی اسکن کیلئے دودھ باقاعدگی کے ساتھ پئیں کیونکہ اس میں موجود پروٹین آپ کی جلد کے ساتھ ساتھ بالوں کیلئے بہت مفید ہے ۔

Monday, December 7, 2015

خواتین اب یخ بستگی اور ٹھٹھرنے سے بچ سکتی ہیں

خواتین اب یخ بستگی اور ٹھٹھرنے سے بچ سکتی ہیں !



ماہ دسمبر موسم سرما کے غفوان شباب کا زمانہ ہوتا ہے ۔ گرم مشروبات اور گرم غذاؤں کا زور بڑھ جاتا ہے ۔نحیف سے نحیف معدہ بھی شدت اشتہا بن جاتا ہے اور جسمانی نظام قوت پذیری کی طرف مائل ہونے لگتا ہے ۔
اس مہینے میں جہاں ایک اوسط درجہ کی صحت رکھنے والا آدمی زندگی کے تمام تر مادی تقاضوں میں ایک غیر معمولی انقلاب محسوس کرتا ہے وہاں اس کی صحت کا معیار بھی روبہ تغیر ہونے لگتا ہے ۔ ہر ذی روح اپنے اپنے طور پر خدشات اور احتیاطوں کے مختلف النوع سانچوں میں ڈھلنے لگتا ہے ۔ کیونکہ اس ماہ کی خنک تابی اور انجمادی کیفیت کسی وقت بھی کسی بھی ذی روح کو اپنی گرفت میں لینے پر کمر بستہ رہتی ہے ۔ یخ بستگی اور ٹھٹھراؤ کا دہانہ کسی وقت بھی کھل سکتا ہے اور موسمی تقاضوں کے مطابق نہ چلنے والے افراد اچانک اور غیر متوقع طور پر سردی کی لپیٹ میں آ کر زکام ، سر درد ، اعصابی ٹھٹھراؤ ، پسلیوں کے سکیڑ پن ، سر سام دماغی ، نخاع دماغی کے جمود ، نمونیہ ایسے عوارض میں مبتلا ہو جایا کرتے ہیں ۔
امراء و صاحب حیثیت افراد تو موسم سرما کے اس شدید زمانے میں حسب ضرورت گرم ملبوسات ، حفاظتی تدابیر اور انڈہ ، مچھلی ،مرغ اور میوہ جات پر مشتمل اعلیٰ غذاؤں سے اپنے نظام صحت کے گرد مناسب حفاظتی حصار استوار کئے رہتے ہیں لیکن غریب اور مزدور پیشہ افراد اپنی اقتصادی و معاشی ناہمواریوں کے تحت شدید سردی کے ان ایام میں موسم کے برفیلے تھپیڑے  سہنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ خاص کر اس موسم کا سب سے زیادہ جو شکار ہوتی ہیں وہ گھریلو خواتین ہیں اور آج میں گھریلو خواتین کیلئے کچھ ٹوٹکے لائی ہوں جنہیں آزما کر وہ اس شدید ٹھنڈ کا مقابلہ بڑی آسانی سے کر سکتی ہیں ۔ گرم دودھ کے کپ میں ایک چمچ شہد ، مونگ کی گرم پتلی دال کا سوپ ، چنوں کا شوربہ ، ہڈیوں کی یخنی ، آپ کو سردی سے محفوظ رکھے گی ۔ تھوڑی سی ورزش  بھی آپ کے جسم کو گرما سکتی ہے ۔ ہلکے سوتی موزے گرم جرابوں کے نیچے پہنیں تاکہ پاؤں گرم رہیں ، ایک بھاری موٹے سویٹر سے بہتر دو ہلکے سویٹر ہیں ۔ یہ آپ کو سردی سے بچائیں گے ۔ آپ موسمی سبزیوں اور پھلوں سے بھی سردی کا مقابلہ کر سکتی ہیں ۔ آج کل چقندر ، پالک ، ساگ ، شلجم ، سستے داموں دستیاب ہیں ۔ بڑے گوشت کے ساتھ ہڈیاں ہوتی ہیں آپ ان ہڈیوں کا سوپ بنا سکتی ہیں جو سستے داموں پوری گھر کی ضرورت پوری کر سکتا ہے آپ ایسی چند چیزیں بنا کر خود بھی استعمال کریں اور دوسری خواتین کو بھی بتائیے  ۔ہڈیوں کا سوپ ہڈیاں 250گرام پیاز درمیانہ ایک عدد، لہسن درمیانہ چھیل کر ڈالیں ،نمک حسب ذائقہ، گرم مصالحہ ثابت ایک چاول والا چمچ ، ادرک ایک چھوٹا ٹکڑا ، دھنیا پسا ہوا آدھا چائے کا چمچ ۔ترکیب! ہڈیاں دھو کر اس میں خاصا پانی ڈالیں ، تیار ہو کروہ ہڈیوں سے ایک انچ اوپر رہے ۔(اتنا اندازہ کر لیں ) پیاز کے چار ٹکڑے کریں اور سب چیزیں چڑھا دیں ۔ سوپ پریشر ککر میں اچھا بنتا ہے ۔ دیگچی میں بنانا ہو تو اسے دو تین گھنٹے ہلکی آنچ پر پکائیں۔ پانی کم ہو جائے تو اور ڈال لیں ۔ اسے گرم گرم پئیں تاکہ آپ کے  جسم میں توانائی آئے اور سردی سے محفوظ رہیں ۔
ہری سبزی کا سوپ :۔  پالک کاٹا ہوا ایک گٹھی ، آلو درمیانہ ایک عدد، مٹر پونا کپ، ہری پیاز ایک عدد، ہرا لہسن ایک ایک عدد ہڈیاں 250 گرام ثابت گرم مصالحہ ایک بڑا چمچ  نمک حسب ذائقہ ، ادرک ایک چھوٹا ٹکڑا ۔ ترکیب۔ہری پیاز ، ہرا لہسن چھیل کر موٹا موٹا کاٹ لیں ۔ آلو کے چار ٹکڑے کرلیں ۔پالک ڈنٹھل کے ساتھ کاٹیں ۔ سب چیزوں کو ملا کر پکائیں ۔جب تیار ہو جائیں تو چھلنی میں چھان لیں ۔ آپ اس میں ڈبل روٹی کے توس سینک کر ڈال سکتی ہیں اسے سوپ کی طرح سادہ بھی استعمال کر سکتی ہیں ۔ بچوں کیلئے اس میں آدھا کپ نو ڈلز ابال کر پلا سکتی ہیں ۔
گاجر کا سوپ:۔ ایک عدد بڑا چقندر لے کر پتوں اور ڈنٹھل کے قریب حصے سمیت چوکور ٹکڑے کاٹ لیں ایک بڑی گاجر کے لمبے ٹکڑے کر لیں پیاز، ایک عدد ، لہسن ایک عدد ادرک ایک چھوٹا ٹکڑا ، گوشت لگی ہوئی ہڈیاں 200 گرام ،بند گوبھی 2 پتے ، نمک حسب ذائقہ ، گرم مصالحہ پسا ہو ا پونا چائے کا چمچ۔ترکیب گاجر بند گوبھی ،لہسن ، پیاز ، ادرک ،ہڈیاں ڈال کر ہلکی آنچ پر پکائیں ۔ تیار ہو جائے تو چھان لیں ۔گرم مصالحہ چھڑک کر سوپ استعمال کریں ۔ یہ سوپ بڑا مقوی اور صحت بخش ہوتا ہے ۔پیشاب کھل کر آتا ہے جسم سے زہریلے مادے خارج ہو جاتے ہیں چقندر کے پتوں میں غذائی اجزا زیادہ ہوتے ہیں ۔ پالک سے زیادہ فولاد اور دیگر غذائی اجزاء چقندر کے اوپری حصہ میں پائے جاتے ہیں ۔چقندر خون کی کمی کو دور کرتا ہے ۔
آپ دو شلجم مع چھلکوں کے کاٹ لیں اور پانی میں خوب ابالیں ۔ کسی تسلے یا ٹب میں یہ گرم پانی ڈالیں اس میں تھوڑا سا سادہ پانی ملائیں پونا چمچ نمک ڈالیں اور دس منٹ کیلئے اس پانی میں پاؤں ڈال کر بیٹھ جائیں تین چار روز شلجم کے پانی میں پاؤں بھگونے سے سوجے ہوئے پاؤں ٹھیک ہو جاتے ہیں ایڑیاں پھٹ جائیں تب بھی شلجم کے پانی میں پاؤں ڈالیں ۔

Wednesday, October 7, 2015

سردیوں میں آپ کے بال توجہ چاہتے ہیں

سردیوں میں آپ کے بال توجہ چاہتے ہیں :۔

موسم سرما کے دوران اکثر خواتین بال گرنے کی شکایت کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔ اس کا سبب عام طور پر موسم کی تبدیلی اور اس کے تقاضے ہیں ۔ ہم چونکہ موسم کے تقاضوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور اپنے بالوں کی حفاظت کا خیال نہیں رکھتے ، اس لئے بال کمزور ہو کر ٹوٹنے لگتے ہیں ، ان سطور میں آپ کے لئے کچھ احتیاطی تدابیر حاضر ہیں ، جن پر عمل کر کے آپ اپنے بالوں کی کھوئی صحت بحال کر سکتے ہیں۔
بالوں میں تیل لگائیں :۔ بالوں کی حفاظت کیلئے ان میں تیل لگانا صدیوں پرانا اور انتہائی کا رگر نسخہ ہے ۔ لیکن اب بالوں میں تیل لگانے کا رواج تقریباً ختم ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں ہم بہت سے فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ تیل سے نہ صرف بالوں کی کنڈ یشننگ ہوتی ہے اور ان میں قدرتی چمک آ جاتی ہے بلکہ یہ بالوں سے خشکی کا خاتمہ بھی کرتا ہے ۔ لہذا ہمارے ہاں کی بڑی بوڑھیوں کا یہ کہنا غلط نہیں کہ تیل لگا نے سے دماغ کو تقویت حاصل ہوتی ہے ۔ اور بال تیزی سے بڑھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے دور سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو بھی بالوں میں تیل لگا نے کو ضروری قرار دیتے ہیں ۔ یوں تو اب بیوٹی سیلونز میں بھی آئل ٹریٹمنٹ کا باقاعدہ انتظام موجود ہے لیکن آپ چاہیں تو گھر پر خود ہی یہ نسخہ آزما کر تیل کی گونا گوں خوبیوں سے مستفید ہو سکتی ہیں ۔ سردیوں کے موسم میں سر کی مالش کے لئے زیتون یا ناریل کا تیل بہت مفید پایا جاتا ہے اور سرسوں کا تیل بھی اگر خالص ہو تو بالوں میں لگا نے کیلئے بہترین ثابت ہوتا ہے۔
بال دھونے کی احتیاطیں:۔ گو کہ بالوں کی حفاظت کا اصول ہے کہ انہیں روزانہ دھو یا جائے لیکن اگر آپ اپنے لائف اسٹائل یا بالوں کی ساخت ، جیسے کہ ان کے چکنے ہونے کے باعث روزانہ دھونا ضروری سمجھتی ہیں تو تھوڑی سی احتیاط کے ساتھ یہ کام انجام دے سکتی ہیں ۔ اس کے لئے سب سے پہلے اپنے بالوں کو اچھی طرح گیلا کریں پھر کسی اچھے برانڈ کا صابن یا ہر بل شیمپو لے کر اس کی مطلوبہ مقدار سر کی جلد پر ملیں کیونکہ یہیں سبیم اور گندگی جمع ہوتی ہے ۔ اس کے بعد خاص طور پر یہ احتیاط کہ بالوں کو تیز گرم پانی کے بجائے قدرے ٹھنڈے پانی سے دھوئیں ۔ گرم پانی بالوں کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ۔ ا س لئے موسم ٹھنڈا ہی کیوں نہ ہو بال دھونے کیلئے ہمیشہ ہلکا سا گرم یا ٹھنڈا پانی استعمال کریں ۔
نرمی سے خشک کریں :۔ سردیوں کے موسم میں ہم چاہتے ہیں کہ بالوں کو جلد سے جلد خشک کر لیں تاکہ ٹھنڈک اور نمی کے اثرات سے نجات مل سکے ۔ اس کا سب سے آسان حل ظاہر ہے کہ بلوڈرائی ہے لیکن بالوں کو بلوڈرائی کرتے ہوئے یہ خیال رکھیں کہ یہ تقریباً خشک ہو چکے ہیں کیونکہ پانی ٹپکتے ہوئے بالوں کو ڈرائر سے خشک کرنا سخت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ۔ تاہم بالوں کو خشک کرنے کیلئے انہیں تولیہ سے رگڑنا بھی مناسب نہیں۔ اس سے بال روکھے ، کمزور اور دو شاخہ ہو کر ٹوٹنے لگتے ہیں ۔ لہذا مناسب یہی ہے کہ بالوں پر تھوڑی دیر تولیہ لپیٹیں اور پھر انہیں ہلکے سے تھپتھپا کر قدرتی ہوا میں قدرے خشک ہونے دیں ۔ ڈرائر استعمال کرتے ہوئے اس کا نوزل بالوں سے تقریباً دو انچ دور رکھیں اور اس دوران گول برش کے بجائے چپٹا برش ہی استعمال کریں ۔ نیز بلو ڈرائی کرنے سے پہلے بالوں میں ہیٹ پروٹیکٹو سیرم یا اسپر ضرور لگائیں ۔
توجہ اور محبت بھی دیں :۔ یوں تو بال ہر موسم میں آپ کی توجہ چاہتے ہیں لیکن سردیوں کے موسم میں انہیں خاص طور  سے اپنی محبت کا محور بنائیں کیونکہ اس لاپروائی نے انہیں ناقابل تلافی نقصان سے دو چار کر سکتی ہے ۔ جلد کی طرح ہمارے بال بھی ناموزوں لائف اسٹائل اور موحولیاتی اثرات سے متاثر ہوتے ہیں لہذا روکھے اور کمزور ہو جاتے ہیں ۔ بالوں کی اچھی صحت کیلئے انہیں بھی غذائیت اور کلینزنگ کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے اچھا ہر بل شیمپو اور ڈیپ کنڈیشنر یا ڈیپ کنڈیشنگ ماسک لگا ئیں لیکن اس کے باوجود آپ کے بال روکھے یا بے جان نظر آئیں اور بدستور گرتے رہیں تو کسی ماہر امراض جلد یا ہیئر ایکسپرٹ سے مشورہ کریں ۔ تاکہ وہ آپ کے بالوں اور سر کی جلد کا معائنہ کر کے کوئی مناسب حل آپ کو تجویز کر سکیں ۔