Showing posts with label حقوق العباد. Show all posts
Showing posts with label حقوق العباد. Show all posts

Tuesday, August 30, 2016

بہترین بیوی بننے کے کامیاب اصول

بہترین بیوی بننے کے کامیاب اصول


اللہ تعالیٰ نے عورت کو عبث پیدا نہیں کیا بلکہ اس کے ذمہ افزائش و تربیت نسل کا بہت اہم کام ہے جس کا نبھانا اس پر لازم ہے۔ ارشاد نبویﷺ ہے کہ تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے‘ ہر کسی سے اس کی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ معاشرے میں اہم مقام ہونے کی وجہ سے عورت بھی جواب دہ ہوگی۔ بہن، بیٹے، بیوی اور ماں ہونے کی حیثیت سے اس کے کردار کے بارے میں سوال ہوگا۔ ایک بیوی ہونے کی حیثیت سے اس پر مندرجہ ذیل ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی نگران ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ عورت اگر اپنے فرائض سے کوتاہی کرے گی تو وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمان ہوگی‘ عورت پر شوہر کی عزت کرنا‘ بچوں کی پرورش کرنا‘ مرد کے مال کی حفاظت کرنا اور اس کی عزت کی حفاظت کرنا لازم ہے۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: ’’مرد حاکم ہے عورتوں پر اس واسطے کہ بڑائی دی اللہ نے ایک دوسرے پر اور اس واسطے کہ خرچ کئے انہوں نے اپنے مال‘ پھر جو عورتیں نیک ہیں‘ تابعدار ہیں‘ نگہبانی کرتی ہیں‘پیٹھ پیچھے ان چیزوں کی جن کی حفاظت اللہ نے فرمائی‘‘ ایک بیوی ہونے کے ناطے عورت کا اولین فرض یہ ہے کہ اپنے خاوندکی عزت کرے اور نافرمانی نہ کرے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر میں کسی دوسرے کو (اللہ تعالیٰ کے علاوہ) سجدے کی اجازت دیتا تو عورت کو اپنے خاوند کیلئے سجدے کا حکم دیتا‘‘ گویا کہ مرد عورت کا مجازی خدا ہے۔ بہترین بیوی وہ ہوتی ہے جو اپنے خاوند کیلئے سکون اور تسکین کا باعث ہو۔ اسے اپنی زبان اور رویہ سے تکلیف نہ دے بلکہ اس کیلئے خوشی اور طمانیت کا باعث ہو۔ اپنے آپ کو خاوند کا فرمانبردار اور تابعدار بنادے لیکن ایک بات کا دھیان رہے کہ جس حکم میں اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی ہو اس حکم کی ہرگز پیروی نہ ہو بلکہ خوش اسلوبی اور احسن طریقے سے شوہر کی اصلاح کرے اور اسے اسلامی احکام سے آگاہ کرے‘ محبت اور پیارسے اسلامی اصولوں سے آشنا کرے‘ اطاعت اور خدمت سے اپنے کردار کاثبوت دے تاکہ خاوند اس کی طرف مائل ہو۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اس عورت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو جو خود بھی نمازتہجد کیلئے اٹھے اور اپنے خاوند کو بھی اٹھائے اور اگر نہ اٹھے تو اس پر پانی کے چھینٹے مارے۔‘‘

Monday, August 15, 2016

جو میں نے دیکھا سنا اور سوچا قطع رحمی سے سب کچھ اجڑ گیا -


 حدیث کا مفہوم ہے صلہ رحمی سے عمر بڑھتی ہے‘ رزق بڑھتا ہے‘ دعائیں قبول ہوتی ہیں ‘اور بے شمار فضائل ہیں صلہ رحمی میں۔ صلہ رحمی کیا ہے؟ رشتہ داروں کو ان کی کوتاہیوں کمیوں اور عیبوں کے باوجود معاف کرتے رہنا۔ ہر رشتے دار سے لڑائی جھگڑا مول نہ لینا بلکہ وہ برا کرتے جائیں تو بار بار اچھا کرتے جانا۔ اگر پھروہ بار بار برا کریں توپھر بار بار اچھا کر اور ان کو معاف کرتا جا اسی کا نام صلہ رحمی ہے۔ وہ اچھا کرے تو اچھا کر‘ پھر وفا تو نہ ہوئی‘ بلکہ وہ برا کریں توتم اچھا کرو ‘اسی کو صلہ رحمی کہتے ہیں۔ فرمایا: جو تجھ پر ظلم کرے اسے معاف کر جو تیرا حق چھینے تو اسے عطا کر‘ جو تجھے محروم کرے تو اس کو دیتا چلا جا‘ میں نے ایک نہیں کئی گھرانے ایسے دیکھے کہ بہو آئی اور اس نے آتے ہی سب کو جدا کردیا یا ساس نے کسی کو کسی کے منہ دکھانےکے قابل نہ رکھا‘ سب سے لڑائی ‘سب کا جھگڑا اور سب کے عیبوں کو لے کر بیٹھ جانا۔ قارئین! سچ پوچھیں جتنا بھی ہمارے مزاج میں معافی بڑھتی جائے گی درگزر بڑھتا جائے گا اتنا اللہ کی بارگاہ میں ہمارا تعلق بہتر سے بہتر ہوتا چلا جائے گا اور جہاں آخرت بہتر ہوگی وہاں دنیا میں انوکھی برکات اور انوکھے کمالات ملنا شروع ہوجاتےہیں۔ میں آج ایک گھر کا قصہ سچی کہانی کے طور پر لکھ رہا ہوں ہنستا بستا گھر، ساس فوت ہوگئی‘ سسر فوت ہوگیا‘ دو بھائی گھر میں رہتے ہیں‘ ایک بہو نے آتے ہی گھر میں قینچی چلائی اور دوسری بہو میرے کہنے پر صبر حوصلہ کرتی چلی گئی‘ صابر بہو کو رب نے بیٹوں اور رزق والی دولت سے نوازا اور مسلسل رب نواز رہا ہے اور جس نے حسد، کینہ، بغض ،لڑائی جھگڑا کو ہروقت مول لیا اس کا رزق بھی گیا‘ بیٹے بھی نہ ملے‘ زندگی کا سکون بھی گیا‘ حیرت انگیز انوکھی بیماریاں اس کی ہڈی ہڈی اور ریشہ ریشہ میں رچ بس گئی ہیں۔ یہ اس کے ہاتھ کا لکھا ایک خط آپ ملاحظہ فرمائیں کہ قطع رحمی انسان کا رزق‘ صحت اور سکون چھین لیتی ہے۔ آئیے! آج کے بعد ہم فیصلہ کریں کہ رشتہ داروں کی زیادتیوں کے باوجود بھی ہم ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرتے چلیں جائیں اللہ کی بارگاہ میں ضرور انصاف اور اللہ انسان کو ضرور عطا فرماتا ہے۔ ’’محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! آپ مجھ سے بہت سخت ناراض ہیں‘ میں نے دو ہفتے پہلے آپ کے پاس آنا تھا مگر میرے مالی حالات اس قدر خراب تھے کہ میرے پاس پٹرول کے پیسے نہیں تھے‘ دس دن تین سو روپے میں گزارے‘ میں نے مارچ کے آخری ہفتے اور اپریل میں بھی دس دن ایک وقت کا کھانا کھایا اور شوہر نے بھی صرف ایک وقت کا کھانا کھایا۔ بچوں کو سات دن میں نے سادہ چاول کھلائے۔ اللہ سے بہت مانگا‘ بڑی تسبیح پڑھی‘ استغفار بھی کیا لیکن دس دن کچھ نہ ہوا۔ میرا بہت مذاق بھی اڑایا گیا‘ میں نے کسی کو نہیں بتایامگر جنہوں نے دیکھا۔ کسی سے سوال نہیں کیا اور نہ ہی خود اپنی زبان سے حالات بتائے۔ شوہر نے مجھ سے کہا میں کہیں سے ادھار چیزیں لے آتا ہوں‘ میں نے اسے منع کردیا کہ کسی سے سوال نہیں کرنا‘ آپ کی بے عزتی ہوگی‘ بہت صبر سے کام لیا۔ یہ مشکل وقت اپنے اثرات چھوڑ گیا‘ میرے اندر کی ساری بتیاں بجھ گئی ہیں کہ میں تو کسی بھی قابل نہیں‘ میں یہ دس دن قبر تک نہ بھولوں گی۔ جب میرے پاس پیسے آئے پھرمیرے اور میرے بچوں کا ہر لقمے اور ہر چیز پر شکر ہی شکر تھا۔ میں اسی دن سے کوشش کررہی ہوں کہ میری آپ سے ملاقات ہوجائے ۔ لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو ہیں‘ میں نے کیسے حالات دیکھے‘ میں اب ہروقت اپنے آپ کو کوستی رہتی ہوں۔ ہر سانس میں استغفار اور شکر ہے۔ یہ دس دن کی یادیں میری قبر تک کا ساتھ ہیں‘ کبھی بھی اونچی اڑان آگئی تو یہ دس دن فوراً واپسی کا ذریعہ ہیں۔ آپ مرشد ہیں‘ صرف آپ کو بتارہی ہوں اور کسی سے ذکر نہیں کیا۔ تسبیح خانہ میں آنے سے پہلے مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ مرشد کیا ہوتے ہیں؟ میں تو صرف تسبیح خانہ دیکھنے آئی تھی ’’یہ کیا عجیب وغریب چیز ہے‘‘ ہروقت ایک ہی ڈر سا لگا رہتا ہےآپ ناراض نہ ہوجائیں۔(حالانکہ اصل رب ہے جس کی ناراضگی کا احساس نہیں:ایڈیٹر) میرا توسب کچھ اجڑ چکا ہے۔‘‘ -

Tuesday, February 23, 2016

اللہ کی خوشنودی کیلئے ایک دوسرے سے خالص محبت کرنے والوں کا رتبہ


حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگو! سنو اور سمجھو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ انبیاء ہیں اور نہ شہدا ہیں‘ ان کے بیٹھنے کے خاص مقام اور اللہ تعالیٰ سے ان کے خاص قرب اور تعلق کی وجہ سے انیباء اور شہداء ان پر رشک کریں گے۔ ایک دیہاتی آدمی نے جومدینہ منورہ سے دور (دیہات کا) رہنے والاآیا ہوا تھا (متوجہ کرنے کیلئے) اپنے ہاتھ سے رسول اللہ ﷺ کی طرف اشارہ کیا اور عرض کیا: یارسول اللہﷺ! کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء، انبیاء اور شہداء ان کے بیٹھنے کے خاص مقام اور ان کے اللہ تعالیٰ سے خاص قرب اور تعلق کی وجہ سے ان پر رشک کریں گے۔ آپ ان کا حال بیان فرمادیجئے یعنی ان کی صفات بیان فرمادیجئے۔ اس دیہاتی کے سوال سے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ غیرمعروف افراد اور مختلف قبیلوں کے لوگ ہوں گے جن میں باہمی کوئی ایسی رشتہ داریاں بھی نہیں ہوں گی کہ جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے قریب ہوں، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی کیلئے ایک دوسرے سے خالص و سچی محبت کی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کیلئے نور کے منبر رکھیں گے جن پر ان کوبٹھائیں گے‘ پھر اللہ تعالیٰ ان کے چہروں اور کپڑوں کو نور والابنادیں گے۔ قیامت کے دن جب عام لوگ گھبرا رہے ہوں گے ان پرکسی قسم کی گھبراہٹ نہ ہوگی‘ وہ اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ (مسند احمد)
الحب للہ

45 سالہ کنواری لڑکی کی ماں باپ سے فریاد


گزشتہ دنوں مرحوم تجمل الٰہی شمسی صاحب کی نواسیوں کی شادی کی تقریب میں جانا ہوا‘ٹیبل پر کھانے کی میز پر ایک جہاں دیدہ شخص بیٹھے ہوئے تھے باتوں ہی باتوں میں میرا تعارف ہوا تو ان کے گھر عبقری بہت ذوق وشوق سے پڑھا جاتا تھا‘ موصوف چند ماہ پہلے رنڈوے ہوئے تھے۔ بیوی کے وصال کے بعد احباب اور رشتہ داروں کا تقاضا ہے کہ آپ سنت پوری کرتے ہوئے فوراً شادی کرلیں۔ قریب بیٹھے ایک صاحب نے ازراہ مذاق کہا حکیم صاحب آپ ہی انہیں کہہ دیجئے یہ شادی کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ان کی بات سن کر ان کے ماتھے پر بل آگئے



 اور کہنے لگے ایک ہمارا دور تھا آج میں ساٹھ سال سے اوپر ہوگیا ہوں کہ جب بیٹی کی بلوغت کے بعد اس کی صرف اور صرف شادی کا فکر ہوتا تھا‘ جانچ پرکھ کی جاتی تھی لیکن جو آج کی جانچ پرکھ ہے وہ اصل ذریعہ ہے جس کی وجہ سے شادی میں تاخیر ہوتی ہے موصوف ایک لمبا سانس لے کر مزید کہنے لگے کہ بیوی کے وصال کے بعد احباب کے تقاضا نے مجھے شادی کیلئے مجبور کیا‘ میں تو ایک بات پر حیران ہوا کہ جن رشتوں کو ہم دیکھتے ہیں چالیس سے پینتالیس سال کی خواتین کنواری عام طور پر مل رہی ہیں۔ مجھے افسوس بھی ہوا اور حیرت بھی تو پتہ چلا کہ شادی کی تاخیر کی بنیاد معیار اور پرسنیلٹی ہے۔ اور وہ پرسنیلٹی کیا ہے؟ کہ خود مجھے ایک پینتالیس سال کی کنواری لڑکی کیلئے جب رشتہ کی بات چلی تو ان کی ڈیمانڈ سترلاکھ کی پراڈو گاڑی‘ فلاں چیزیں‘ اتنا بڑا گھر وغیرہ۔ جو خواتین دیکھنے گئی تھیں ان کا تبصرہ یہ تھا کہ لڑکی کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے اور وہ حیرت سے ماں باپ کا منہ دیکھ رہی تھی۔ یعنی اس کے دل کی آواز تھی اور وہ والدین کو حال دل سے پکار رہی تھی کہ میرے ساتھ پینتالیس سال تک تو زیادتی کرچکے ہیں اب تو مزید زیادتی نہ کریں۔ اب تو میں بظاہر اولاد پیدا کرنے کے قابل ہی نہیں رہی مجھے اماں کون کہے گا اب تو میں ہی اماں ابا کہہ رہی ہوں۔ موصوف اپنی بات کرتے کرتے غصے میں آگئے اور کہنے لگے جن کے گھر میں ایک کمرہ ہے اور تین وقت کی روٹی بمشکل ہے ان کی ڈیمانڈ بھی اتنی زیادہ ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ چلو میں تو بوڑھا ہوں لیکن یہ سب کچھ جوانوں کیلئے ہورہا ہے اور مجھے کہنے لگے کہ حکیم صاحب آپ مجھے شادی کا نہ کہیے گا اللہ بخشے میری بیوی بس اس نے میرے ساتھ جو اچھا سلوک‘ اچھی زندگی گزاری وہ اتنی شاندار ہے کہ مجھے یہ ڈیمانڈیں اور ڈیمانڈوں کے بعد پھر ایک اور انجام نظر آتا ہے جن کی نظر پہلے دن دولت مال گاڑیاں‘ کوٹھیاں‘ جائیداد پر ہے ابتدا ہی خراب ہوئی ہے انتہا کا کیا ہوگا؟ پھر اپنے نانا مرحوم کے بارے میں فرمانے لگے کہ وہ بہت عقلمند اور جہاں دیدہ انسان تھےاور بنیے تھے میں چونک پڑا میں نے کہا بنیے تو ہندو کو کہتے ہیں کہنے لگے نہیں اصل میں جو صابن آٹا گھی چاول کا کام کرتا ہے بنیا اس کو کہتے ہیں۔ایک دن ہمارے گھر تشریف لائے پندرہ بیس سال سے ایک صاحب ہمارے ہاں دروازے پر سبزی دینے آتے تھے‘ سبزی کی ریڑھی تھی وہ گلی گلی اسی پر سبزی بیچتے تھے ایک دن وہ صاحب ہمیں سبزی دینے آئے‘ نانا مرحوم بیٹھے تھے دیکھ کر کہنے لگے اس نے سبزی کم تولی ہے‘ ہم حیران ہوئے کہ پندرہ بیس سال سے ان سے سبزی لے رہے بہت اچھے انسان ہیں۔ کہنے لگے میں تجربہ کرکے بتاتا ہوں ان سے سبزی تولائی تو انہوں نے ایسے صفائی سے ڈنڈی ماری کہ ہم حیران ہوگئے اور ان پندرہ بیس سالوں میں ہم انہیں بالکل پرکھ نہ سکے۔ دوسری بات نانا کی یہ بتائی کہ نانا مرحوم نے فرمایا عورت کا خصم اس کا شوہر ہے اور شوہر کا خصم اس کا کاروبار ہے یعنی عورت اگر اپنے شوہر کی نہیں تو پھر کسی چیز کی بھی نہیں اور کسی قابل نہیں اور مرد اگر کاروبار کا نہیں تو پھر اس کو شوہر کہلوانے کا حق نہیں۔ میرے نانا نےاپنے تجربات میں تیسری بات یہ بتائی کہ سب سوٹوں (کپڑوں) پر نمبر لکھ کررکھیں۔ مثلاً ہر سوٹ پر نمبرنگ ہو‘ قمیص پر نمبر ایک‘ بنیان پر بھی ایک نمبر ہو‘ شلوار پر بھی ایک نمبر ہو۔ اس طرح کبھی کپڑے گم نہیں ہوتے۔قارئین! بڑوں کے تجربات اور مشاہدات میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے۔ آپ بھی آزمائیں اور استفادہ حاصل کریں۔

Thursday, December 10, 2015

تعلقات برقرار تکلیفیں برداشت پھر دیکھیں کمال

تعلقات برقرار تکلیفیں برداشت پھر دیکھیں کمال :۔


کہا جاتا ہے کہ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے اس دنیا میں وہ اکیلا نہیں رہ سکتا اللہ پاک نے اس کی ضروریات کی تکمیل دوسرے انسانوں کے ساتھ وابستہ کر رکھی ہے خوراک پوشاک اور رزق کے حصول کیلئے اسے دوسرے انسانوں کا محتاج بنایا گیا ہے ۔ مگر دوسرے انسانوں کے ساتھ جب معاملات اور لین دین کی بات ہوتی ہے تو وہاں  اس کے مزاج کے خلاف بہت سی باتیں پیش آتی ہیں جو ناگواری ، غم و غصہ اور بسااوقات اذیت کا سبب بھی بن جاتی ہیں ۔ اگر صورتحال کنٹرول سے باہر ہو جائے تو حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ پاک اس مومن کو زیادہ پسند کرتے ہیں جو رشتہ داروں سے پہنچنے والی تکلیفوں  کے باوجود میل جول رکھتا ہے بنسبت اس مومن کے جو نہ میل جول رکھتا ہے اور نہ ہی تکلیفوں کو برداشت کرتا ہے صلہ رحمی کے متعلق بہت سی احادیث میں تاکید آئی ہے ۔ آج کے دور میں یہ بہت مشکل کام ہے کہ آپ تعلقات کو برداشت کرتے  ہیں۔ صلہ رحمی کے متعلق بہت سی احادیث میں تاکید آئی ہے ۔ آج کے دور میں یہ بہت مشکل کام ہے کہ آپ تعلقات بھی برقرار رکھیں اور تکلیفوں کو بھی برداشت کریں زیر نظر مضمون میں دیئے گئے انتہائی آسان تصورات کی مدد سے آپ نہ صرف ان نفسیاتی الجھنوں سے چھٹکارا پا سکتے ہیں بلکہ قرآن و حدیث کے مطابق قطع رحمی جیسے گناہوں سے بچتے ہوئے رشتہ داروں سے اچھے تعلقات بھی برقرار رکھ سکتے ہیں انشاءاللہ ان تصورات کی مدد سے آپ نہ صرف ان نفسیاتی الجھنوں سے چھٹکارا پا سکتے ہیں بلکہ قرآن و حدیث کے مطابق قطع رحمی جیسے گناہوں سے بچتے ہوئے رشتہ داروں سے اچھے تعلقات بھی برقرار رکھ سکتے ہیں ۔ انشاءاللہ ان تصورات کی مدد سے آپ اپنی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی پیدا کر کے دوسروں کو بھی ان مسائل سے نجات دلا کر ان کو ایک خوشگوار زندگی کا احساس دلا کر ان کی دعائیں سمیٹ سکتے ہیں ۔
٭نیکیوں کو دس مرتبہ بڑھانا:۔ سورہ انعام میں ارشاد باری ہے ۔ جو ایک نیکی لے کر آئے گا اسے دس نیکیوں کا اجر ملے گا جو ایک برائی لے کرآئے گا اسے ایک برائی کی سزا ملے گی ذرا غور کیجئے ! اللہ پاک ہماری ایک نیکی کو تو دس گنا بڑھا رہا ہے مگر برائی نہیں بڑھا رہا ۔کیوں نہ ہم بھی اس قرآنی اصول پر لوگوں کے اچھے کاموں کو دس گنا بڑھا دیں خاص طور پر اپنے گھر والوں ، بچوں اور قریبی رشتہ داروں کے اچھے کاموں کو دس گنا بڑھا دیں۔اب تصور کریں کے اس انسان کی نیکیوں کاپہاڑ میرے سامنے کھڑا ہے اور اس کی چھوٹی سی خامی اس پہاڑ کے کنارے پر پڑی ہے اب آپ اپنے آپ سے کہیں کہ معاف کرو۔ اس سے انشاءاللہ اس شخص کی طرف سے پہنچائی گئی تکلیف کم ہو جائے گی ۔ غم و غصہ کے بجائے دل میں شکر گزاری کے احساسات پیدا ہوں گے ۔
٭روحانی اولاد کا طریقہ :۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ "میں ا مت کا باپ ہوں اس لحاظ سے ہم سب آپ ﷺ کی روحانی اولاد ہیں ۔ میں نے فلاں کو حضور نبی اکرم ﷺ کی روحانی اولاد سمجھ کر معاف کر دیا ۔ ایسا کرنے سے انشاءاللہ آپ کے غصہ میں کمی آ جائے گی اللہ پاک معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے یہ عمل کرنے سے آپ اللہ پاک کے پسندیدہ لوگوں کی فہرست میں آ جائیں گے ۔ غور کریں تو آپ کو اس شخص کا شکر گزار ہونا چاہیے جس کی وجہ سے آپ اللہ پاک کے پسندیدہ لوگوں کی فہرست میں آ گئے۔ حقیقتا ً وہ شخص آپ کو اللہ کے قریب کرنے کا ذریعہ بن گیا ۔
٭دائرے میں کالا نقطہ:۔ ایک دائرہ لگا ئیں اس میں ایک موٹا سا کالانقطہ لگا دیں ۔ آپ جب اس دائرے کو دیکھیں گے تو آپ کہیں گے دائرے میں کالا نقطہ ہے ۔ بالکل صحیح کہا آپ نے مگر اس دائرے میں ڈھیر ساری سفید جگہ بھی تو ہے جس طرح آپ کو دائرے میں چھوٹا سا کالا نقطہ فورا ً  نظر آ گیا اور سفید جگہ زیادہ ہونے کے باوجود نظر نہیں آئی ۔ بالکل اسی طرح ہم اپنی زندگی میں خوشیاں ، کامیابیاں ، آسانیاں ، محبتیں لوگوں کا حسن سلوک اللہ پاک کی عطا کردہ بے شمارنعمتیں کم دیکھتے ہیں جبکہ تکالیف ، غم ، مصیبتیں ، نفرتیں اور دکھ ہمیں تھوڑا ہونے کے باوجود فوراً نظر آ جاتے ہیں ۔ اگر آپ کو کوئی تکلیف پہنچے تو آپ اپنے آپ سے تصور میں تین دفعہ کہیں میں کالےنقطے کے بارے میں نہیں سوچوں گا ۔ اور سفید جگہ کو سوچیں ان تصورات سے انشاءاللہ آپ کو اپنی زندگی میں خوشگوار یت کا احساس پیدا ہونا شروع ہو جائے گا آپ اپنی زندگی کو ایک نئے رخ سے جینے کی عادت ڈالیں گے فائدہ محسوس کریں تو بخیل نہ بنیں بلکہ عبقری کے پیغام کے مطابق سخی بنیں آج سے خود سے ایسا سوچنا شروع کر دیں اور دوسروں کو ترغیب دیں تاکہ لوگ آپ کے ساتھ مجھے بھی دعاؤں میں یاد رکھیں ۔

Wednesday, September 2, 2015

جن کے ماتھے پر اللہ غنی لکھ دیتے ہیں

جن کے ماتھے پر اللہ غنی لکھ دیتے ہیں :۔


ایک خوشخبری ہے کوئی بندہ صبح اٹھتے ہی اگر اللہ جل شانہ کو یاد کرتا ہے اور اس کے حبیب حضور سرور کونین ﷺ کو یاد کرتا ہے ۔ اللہ پاک اور اس کے محبوب ﷺ کی محبت میں ڈوب جاتا ہے ، تو اس کے ماتھے پر ایک لفظ غنی لکھ دیا جاتا ہے اور جسے میرا اللہ پاک غنی کر دے کائنات کا کوئی شخص اس کو فقیر نہیں کر سکتا ۔ ساری دنیا کے لوگ اس کو دھوکا دےدیں ، ساری دنیا کو لوگ اس کے ساتھ فریب کریں ، ساری دنیا کے چالاک چالاکی کریں ، مکار مکر کریں ، شریر شرارتیں کریں ، چور چوریاں کریں ، بدمعاش ڈاکے ڈالیں اللہ پاک کی قسم اس کو کوئی فقیر نہیں کر سکتا جس کو ہمارا رب غنی کرنا چاہے۔
اللہ پاک ماتھے پر فقیر لکھ دیتے ہیں :۔
جو شخص صبح اٹھتے ہیاللہ پاک کی ذات اعلیٰ کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور اس کے حبیب سرور کونین ﷺ کی محبت کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور دنیا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے وہ عجیب معاملے سے دوچار ہو جاتا ہے ، اس کے ماتھے پر فقیر کا لفظ لکھ دیا جاتا ہے ۔ ساری دنیا کے دولتیں ، دنیا کا سارا مال ، دنیا کا اقتدار اسے اللہ پاک کے خزانوں سے لینے والا بنا نہیں سکتا اور اس کو اللہ پاک سے دلوا نہیں سکتا ، وہ ہمیشہ فقیر رہے گا ۔
 غیب کے خزانے :۔
یہ ایک کھلی حقیقت ہے میر ارب جس کو دینا چاہتا ہے اور جس کو  دینے  پر آتا ہے غیب کے خزانے عطا کر دیتا ہے اور جس کی نظر مخلوق کی جیب پر ہوتی ہے وہ لے تو لیتا ہے لیکن لے کر پلتا نہیں ہے جس کی نظر اللہ پاک کے خزانے پر ہوتی ہے وہ لیتا بھی ہے وہ پلتا بھی ہے اس کی نسلیں بھی پلتی ہیں ۔
حرام کبھی نہیں پلتا :۔
مجھے ایک صاحب کہنے لگے ! کسی دور میں میں وزیر رہا ، بڑا نام تھا ، بڑا مال کمایا ، بڑا اقتدار آیا،  بہت کچھ آیا مگر بچا کچھ نہیں ۔  ہتھیلی پرپھونک مار کر کہنے لگے سب کچھ اڑ گیا ۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ میں نے جوا باً کہا! وجہ یہ تھی کہ کثرت آئی تھی ، برکت نہیں آئی تھی ۔ میں اکثر یہ مثال دیا کرتا ہوں ۔ کتیا کتنے بچے دیتی ہے ؟ آٹھ بچے ! اور بکری ایک یا دو بچے ۔ ہزاروں میں کوئی ایک بکری ہو گی جو تین بچے دیتی ہے کہ دنیا دار الاسباب ہے اصولاً تو ریوڑ کتیا کے ہونے چایئیں کیونکہ کتیا بچے  زیادہ دیتی ہے ۔ یاد رکھنا ! حرام کبھی پلتا نہیں ۔ حرام کبھی سنبھلتا نہیں ، حرام کبھی چلتا نہیں ہے ۔
 خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃاللہ علیہ کی وضاحت :۔
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃاللہ علیہ بڑے اللہ والے ہو گزرے ہیں چشتی سلسلے کے درویش ہیں ۔ ان کے پاس ایک بندہ آیا کہنے لگے ! حضرت بکری کے ریوڑ کیوں ہوتے ہیں ؟ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا ! اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیشہ قربانی حلال جانور دیتا ہے ، بکری قربانی دیتی ہے اپنا سب کچھ تن، من، دھن ،کسی اور کیلئے لٹا  دیتی ہے پھر اللہ پاک اس کی راہ جو قربانی دیتا ہے اس کو سدا بہار رکھتا ہے سدا زندہ رکھتا ہے ۔
قربانی دو ۔ سدا بہار رہو :۔
یہ  قدرت کا اصول ہے جو قربانی دیتا ہے اس کو سدا بہاررکھتاہے یہ رب کا وعدہ ہے ۔ وہ قربانی اس گرمی کے اعتبار سے دیں ، وہ قربانی اپنے گھر چھوڑنےکے اعتبار سے دیں ، ساری مخلوق روک رہی ہے کہ نہ جاؤ ، اس اعتبار سے قربانی دیں ، وہ قربانی ساری مخلوق اعتراض کر رہی ہے اس کی کسی سنت پر  ، اس کی کسی زندگی پر ، وہ اس پر قربانی دیں ، وہ قربانی اس کی تسبیح پر دیں ، وہ قربانی اس کے مراقبہ پر دیں ، وہ قربانی اس کے ذکرپر دیں ، وہ قربانی اس کی دینی زندگی پر دیں ، وہ قربانی اس کے حجاب پر دیں ، وہ زندگی کے جس شعبہ میں قربانی دیں ، اللہ پاک قربانی والے کو سدا بہار رکھتا ہے اور پالتا ہے ، بظاہر اسماعیل علیہ السلام ذبح نہیں ہو رہے ہیں لیکن قربا نی پوری دی ، چھری کے نیچے پورے آئے اور چھری چل بھی گئی اور خون کا فوارہ بھی نہ  نکلا ، کیونکہ اللہ پاک نے قربانی لینی ہی نہیں تھی ۔ اللہ پاک قربانیاں مانگتا ہے ۔ لیتا نہیں ہے  ۔ ہم قربانیاں دینے کے قابل ہی کہاں ہیں ؟
اللہ پاک قربانی کیوں مانگا ہے ؟
اللہ پاک  نے قربانی مانگی اور قربانی اس لیے مانگی کہ بندے کو پرکھے کہ یہ میرا بندہ ہے یا اسباب کا بندہ ۔ کس کا ؟عبداللہ یا عبد دینا رہے ،  یا عبد درہم ہے ، نوٹ کا بندہ ہے ، ریال کا بندہ ہے ، ڈالر کا بندہ ہے ، کس کا بندہ ہے ؟ یہ دنیا کو اللہ پاک نے اسباب کے ساتھ جوڑا ہے ۔ ساتھ اسباب بھی لگا دیئے ، مجبوریاں بھی لگا دیں ، سب کچھ لگانے کے بعد میرے رب نے کہا ! ٹھیک ہے اب میں دیکھتا ہوں کون میر ا بن کر آتا ہے ۔
میں جنات سے نہیں اپنے رب سے باتیں کر رہا تھا :۔
حضرت میا  ں شیر محمد صاحب رحمۃاللہ علیہ شرقپور شریف  بڑے اللہ والے تھے ۔ ان سے ایک دفعہ کسی بندے نے کہا کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ! آپ ایک دفعہ کہیں جا رہے تھے اور آپ باتیں کر رہے تھے لیکن کوئی بندے نظر نہیں آ رہے تھے ، کیا آپ کے ساتھ جنات گفتگو کر رہے تھے ؟  فرمایا ! نہیں میں اپنے اللہ پاک سے باتیں کر رہا تھا ، اللہ پاک کو اپنے دکھ سنا رہا تھا ، اللہ پاک سے اپنی ضرورتیں مانگ رہا تھا اور اللہ پاک  کےساتھ ایسے باتیں کر رہا تھا جیسے میں اللہ پاک کے حضور بیٹھا ہوں ۔ حضرت میا  ں شیر محمد صاحب رحمۃاللہ علیہ شرقپور شریف   فرماتے ہیں کہ " میرا تصور یہ تھا کہ میر ارب ایک عالی شان اونچی کرسی پر بیٹھا ہو اور میں مجبور و پریشان ہاتھ باندھ کے زاریاں کر کے کہہ رہا ہوں کہ اللہ پاک مجھے یہ بھی چائیے ۔ اللہ پاک مجھے یہ بھی چائیے ، اللہ پاک میں پریشان ہوں ، اللہ پاک میری یہ مشکل ہے ، اللہ پاک مجھے یہ تنگی درپیش ہے ، اللہ پاک مجھے یہ دکھ پہنچا ہے ، اللہ پاک مجھے یہ غم لگا ہے ۔ فرماتے ہیں ، میں اللہ پاک کے  سامنے ایسے زاریاں کرتا ہوں اور دونوں ہاتھ باندھے کھڑا ہوتا ہوں ۔ یہ سب بظاہر نہیں ہوتا تھا بلکہ میں جار ہا  ہوتا ہوں اپنے کسی کام سے ، اپنے راستے پر ، لیکن میری دل کی اندرونی کیفیت ایسی ہو ا کرتی تھی کہ جیسے میں اپنے رب سے سچی التجا کر رہا ہوں ۔ حضرت میا  ں شیر محمد صاحب رحمۃاللہ علیہ   نے فرمایا ! میں جنات سے باتیں نہیں کر رہا تھا میں تو اپنے رب سے باتیں کر رہا تھا ۔ 
(جاری ہے )
 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر4