Monday, August 15, 2016

جو میں نے دیکھا سنا اور سوچا قطع رحمی سے سب کچھ اجڑ گیا -


 حدیث کا مفہوم ہے صلہ رحمی سے عمر بڑھتی ہے‘ رزق بڑھتا ہے‘ دعائیں قبول ہوتی ہیں ‘اور بے شمار فضائل ہیں صلہ رحمی میں۔ صلہ رحمی کیا ہے؟ رشتہ داروں کو ان کی کوتاہیوں کمیوں اور عیبوں کے باوجود معاف کرتے رہنا۔ ہر رشتے دار سے لڑائی جھگڑا مول نہ لینا بلکہ وہ برا کرتے جائیں تو بار بار اچھا کرتے جانا۔ اگر پھروہ بار بار برا کریں توپھر بار بار اچھا کر اور ان کو معاف کرتا جا اسی کا نام صلہ رحمی ہے۔ وہ اچھا کرے تو اچھا کر‘ پھر وفا تو نہ ہوئی‘ بلکہ وہ برا کریں توتم اچھا کرو ‘اسی کو صلہ رحمی کہتے ہیں۔ فرمایا: جو تجھ پر ظلم کرے اسے معاف کر جو تیرا حق چھینے تو اسے عطا کر‘ جو تجھے محروم کرے تو اس کو دیتا چلا جا‘ میں نے ایک نہیں کئی گھرانے ایسے دیکھے کہ بہو آئی اور اس نے آتے ہی سب کو جدا کردیا یا ساس نے کسی کو کسی کے منہ دکھانےکے قابل نہ رکھا‘ سب سے لڑائی ‘سب کا جھگڑا اور سب کے عیبوں کو لے کر بیٹھ جانا۔ قارئین! سچ پوچھیں جتنا بھی ہمارے مزاج میں معافی بڑھتی جائے گی درگزر بڑھتا جائے گا اتنا اللہ کی بارگاہ میں ہمارا تعلق بہتر سے بہتر ہوتا چلا جائے گا اور جہاں آخرت بہتر ہوگی وہاں دنیا میں انوکھی برکات اور انوکھے کمالات ملنا شروع ہوجاتےہیں۔ میں آج ایک گھر کا قصہ سچی کہانی کے طور پر لکھ رہا ہوں ہنستا بستا گھر، ساس فوت ہوگئی‘ سسر فوت ہوگیا‘ دو بھائی گھر میں رہتے ہیں‘ ایک بہو نے آتے ہی گھر میں قینچی چلائی اور دوسری بہو میرے کہنے پر صبر حوصلہ کرتی چلی گئی‘ صابر بہو کو رب نے بیٹوں اور رزق والی دولت سے نوازا اور مسلسل رب نواز رہا ہے اور جس نے حسد، کینہ، بغض ،لڑائی جھگڑا کو ہروقت مول لیا اس کا رزق بھی گیا‘ بیٹے بھی نہ ملے‘ زندگی کا سکون بھی گیا‘ حیرت انگیز انوکھی بیماریاں اس کی ہڈی ہڈی اور ریشہ ریشہ میں رچ بس گئی ہیں۔ یہ اس کے ہاتھ کا لکھا ایک خط آپ ملاحظہ فرمائیں کہ قطع رحمی انسان کا رزق‘ صحت اور سکون چھین لیتی ہے۔ آئیے! آج کے بعد ہم فیصلہ کریں کہ رشتہ داروں کی زیادتیوں کے باوجود بھی ہم ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرتے چلیں جائیں اللہ کی بارگاہ میں ضرور انصاف اور اللہ انسان کو ضرور عطا فرماتا ہے۔ ’’محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! آپ مجھ سے بہت سخت ناراض ہیں‘ میں نے دو ہفتے پہلے آپ کے پاس آنا تھا مگر میرے مالی حالات اس قدر خراب تھے کہ میرے پاس پٹرول کے پیسے نہیں تھے‘ دس دن تین سو روپے میں گزارے‘ میں نے مارچ کے آخری ہفتے اور اپریل میں بھی دس دن ایک وقت کا کھانا کھایا اور شوہر نے بھی صرف ایک وقت کا کھانا کھایا۔ بچوں کو سات دن میں نے سادہ چاول کھلائے۔ اللہ سے بہت مانگا‘ بڑی تسبیح پڑھی‘ استغفار بھی کیا لیکن دس دن کچھ نہ ہوا۔ میرا بہت مذاق بھی اڑایا گیا‘ میں نے کسی کو نہیں بتایامگر جنہوں نے دیکھا۔ کسی سے سوال نہیں کیا اور نہ ہی خود اپنی زبان سے حالات بتائے۔ شوہر نے مجھ سے کہا میں کہیں سے ادھار چیزیں لے آتا ہوں‘ میں نے اسے منع کردیا کہ کسی سے سوال نہیں کرنا‘ آپ کی بے عزتی ہوگی‘ بہت صبر سے کام لیا۔ یہ مشکل وقت اپنے اثرات چھوڑ گیا‘ میرے اندر کی ساری بتیاں بجھ گئی ہیں کہ میں تو کسی بھی قابل نہیں‘ میں یہ دس دن قبر تک نہ بھولوں گی۔ جب میرے پاس پیسے آئے پھرمیرے اور میرے بچوں کا ہر لقمے اور ہر چیز پر شکر ہی شکر تھا۔ میں اسی دن سے کوشش کررہی ہوں کہ میری آپ سے ملاقات ہوجائے ۔ لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو ہیں‘ میں نے کیسے حالات دیکھے‘ میں اب ہروقت اپنے آپ کو کوستی رہتی ہوں۔ ہر سانس میں استغفار اور شکر ہے۔ یہ دس دن کی یادیں میری قبر تک کا ساتھ ہیں‘ کبھی بھی اونچی اڑان آگئی تو یہ دس دن فوراً واپسی کا ذریعہ ہیں۔ آپ مرشد ہیں‘ صرف آپ کو بتارہی ہوں اور کسی سے ذکر نہیں کیا۔ تسبیح خانہ میں آنے سے پہلے مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ مرشد کیا ہوتے ہیں؟ میں تو صرف تسبیح خانہ دیکھنے آئی تھی ’’یہ کیا عجیب وغریب چیز ہے‘‘ ہروقت ایک ہی ڈر سا لگا رہتا ہےآپ ناراض نہ ہوجائیں۔(حالانکہ اصل رب ہے جس کی ناراضگی کا احساس نہیں:ایڈیٹر) میرا توسب کچھ اجڑ چکا ہے۔‘‘ -

No comments:

Post a Comment