Friday, August 19, 2016

دو لفظ پڑھے اور موت کے منہ میں گیا مریض صحت یاب


مگر جب سے میں نے یہ وظیفہ پڑھنا شروع کیا ہے ایک مریضہ بہت ہی تشویشناک حالت میں لائی گئی‘ اس کا علاج کیا تو اس کی حالت حیرت انگیز طور پر سنبھلنا شروع ہوگئی اور صرف تین دن بعد اس کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔ 


 ایک لیڈیز ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ کوئی وظیفہ دیں‘ ہسپتال میں روزانہ کوئی نہ کوئی پرابلم ہوجاتی ہے‘سب کچھ ہے مگر پریشانی جان نہیں چھوڑتی تو میں نے اس کو


 حٰمٓ لَایُنْصَرُوْنَ



 دیا۔ دو تین دن بعد اس کا فون آیا کہا کہ وظیفہ نے اثر یہ دکھایا کہ پچھلے دنوں ایمرجنسی میں جتنے بھی مریض آئے ان کا علاج کیا‘ مگر کوئی بھی نہ بچ سکا۔ مگر جب سے میں نے یہ وظیفہ پڑھنا شروع کیا ہے‘ ایک مریضہ بہت ہی تشویشناک حالت میں لائی گئی‘ اس کا علاج کیا تو اس کی حالت حیرت انگیز طور پر سنبھلنا شروع ہوگئی اور صرف تین دن بعد اس کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔ میں جس بھی مقصد کیلئے یہ عمل پڑھتی ہوں الحمدللہ وہ مقصد پورا ہوجاتا ہے۔
 (سلیم اللہ سومرو‘ کنڈیارو)۔

 بگڑے بچوں سے پریشان والدین کیلئے آسان عمل


 محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! اللہ آپ کو تاقیامت تک اسی طرح لوگوں کو دین کی طرف متوجہ کرنے کی توفیق دے اور آپ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے‘ اللہ آپ کو دین و دنیا کی تمام خیریں اور بھلائیاں عطا فرمائے۔ ہمارے ہمسایوں کا بیٹا جس کا باپ دنیا میں نہیں رہا اور ماں محلے کے سارے بچوں کو قرآن پاک پڑھاتی ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا جو کہ سولہ سال کا ہے‘ شہر کے بُرے لڑکوں کے ساتھ اس کی بیٹھک ہوگئی‘ موٹرسائیکل کا شوقین ہوگیا‘ ویلنگ بھی شروع کردی‘ ایک دو دفعہ گھر کی چھت پر نشہ کرتے ہوئے بھی بھائیوں نے دیکھا اور ہروقت موبائل فون استعمال کرتا رہتا‘ ماں اس کی وجہ سے بہت پریشان تھی‘ 9thجماعت میں دو سے تین سپلی بھی آچکی تھی۔ ماں کوسسرال والے بھی‘ میکے والے بھی اور محلے والے بھی سب طعنے دیتے اور کہتے تم اتنے لوگوں کے بچوں کو پڑھاتی ہو‘ اپنے بچوں کا پتہ ہی نہیں وہ بہت پریشان تھی پھر انہوں نے


نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ اِلَیْہِ۔ 


قرآن مجید پر پڑھنا شروع کردیا‘ قرآن مجید کی ہر لائن پر یہ پڑھتی اور پڑھنے سے پہلے اللہ سے دعا کرتی اور معافی مانگتی‘ یہ انہوں نے عبقری میگزین یا شاید دفتر عبقری کی کسی کتاب سے پڑھا تھا۔ انہوں نے نیت کی کہ میرا بیٹا اچھی صحبت اختیار کرلے۔ اللہ نے ان کی مدد کی اور وہ ہی بچہ ہے کہ آج بہت اچھا بن گیا ہے اب محلے والے کہتے ہیں وہ توکبھی کسی کو نظر ہی نہیں آیا اور سکول میں استاد کہتے ہیں کہ یہ بہت لائق بچہ ہے۔

 اسی طرح ہمارے محلے میں ایک اور عورت اپنے بیٹے کی وجہ سے بہت پریشان تھی ایک دن انہی باجی جان کے پاس آئی اور کہنے لگی میرا بیٹا مجھے بہت تنگ کرتا ہے۔ اس کا باپ وفات پاچکا ہے اور میرے گھر والوں نے میری شادی دیور سے کردی ہے۔ وہ بھی اسے زیادہ ڈانٹ نہیں سکتے کیونکہ اگر ڈانٹتے ہیں تو سب کہتے ہیں کہ یہ اپنا بیٹا نہیں اس لیے مارتا ہے۔ وہ بہت پریشان تھی۔ انہوں نے اس کو بھی وہی قرآن مجید پڑھنے کو کہا اور کہا اس طرح (درج بالا طریقہ) پانچ دفعہ قرآن مجید ختم کرنا ہے۔ ابھی اس نے دو یا تین دفعہ ہی پڑھا تھا کہ بیٹا کافی بہتر ہوگیا۔ اب کام پر جاتا ہے اور زیادہ تنگ بھی نہیں کرتا۔ اس کی ماں بہت خوش ہے۔

 ہمارے محلے میں ایک اور لڑکے کے ویزے کا مسئلہ تھا جن سےویزا لینا تھا وہ پیسہ لے کر کبھی کہتے دس دن انتظار کرو‘ کبھی بیس دن کرو‘ وہ ٹال مٹول کیے جارہے تھے‘ یہی قرآن مجید پڑھنا شروع کیا‘ انہیں ایک یا دو دفعہ پڑھا تھا کہ اس کا ویزہ آگیا اور وہ باہر چلا گیا۔

ایک اور لڑکا بیروزگار تھا اور کوئی کام نہ تھا‘ اس کی ماں نے بھی یہ قرآن مجید پڑھا اور اللہ نے ان کی مدد کی‘ ان کا ویزہ مل گیا اور وہ باہر چلا گیا اب مہینے کی ٹھیک ٹھاک آمدن آرہی ہے اور بہت مطمئن اور خوش ہیں۔ (سدرہ صابر)

No comments:

Post a Comment