Tuesday, August 30, 2016

جسمانی و روحانی حسن کے لاجواب آسان ٹوٹک


ہر چہرہ پر میرے اللہ کا نور ہوتا ہے یہ اور بات ہے کہ انسان اپنے اعمال سے ان میں اضافہ کرتا ہے یا اس نور کو ختم کرتا ہے۔ ایک چھوٹا پیدا ہونے والا بچہ ہمیں صرف اس وجہ سے پیارا لگتا ہے کہ اس کا چہرہ ہر گناہ‘ ہرآلودگی اور ہر گمان گناہ سے بھی پاک ہوتا ہے۔ محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! آج میں جس موضوع پر بات کررہی ہوں وہ کوئی ایک چیز نہیں ہے بلکہ ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر پوری کائنات ہے‘ اپنا مقام اور اپنا ہی کام ہے اور کوئی چیز ان کی جگہ نہیں لے
سکتے ہیں وہ ہے ہمارے جسم کے انتہائی اہم حصے یعنی آنکھ‘ کان‘ ناک اور دانت جو سب کو ملا کر ہمارا پیارا اور خوبصورت سا چہرہ بنتا ہے‘ ہر چہرہ میرے پیارے اللہ رب العزت کی تخلیق کو بیان کرتا ہے۔ ہر چہرہ پر میرے اللہ کا نور ہوتا ہے‘ یہ اور بات ہے کہ انسان اپنے اعمال سے ان میں اضافہ کرتا ہے یا اس نور کو ختم کرتا ہے۔ ایک چھوٹا پیدا ہونے والا بچہ ہمیں صرف اس وجہ سے پیارا لگتا ہے کہ اس کا چہرہ ہر گناہ‘ ہرآلودگی اور ہر گمان گناہ سے بھی پاک ہوتا ہے۔ یہی معصومیت بھری آنکھیں جب بالغ ہونے کے بعد اللہ کی نافرمانی میں لگ جاتی ہیں اور اللہ کی مقرر کردہ حدود کو توڑ دیتی ہیں تو ہمیں ان آنکھوں سے وحشت ہوتی ہے۔ اپنی آنکھوں میں ہوش نظر آتی ہے‘ شرابی کی آنکھیں لال اور خمار آلودہ ہوکر بتاتی ہیں کہ ہم اللہ کی بتائی ہوئی حدود پار کرچکے ہیں۔ اسی طرح اللہ کی محبت اور ذکر میں سرشار آنکھیں بھی خمار آلودہ ہوتی ہیں لیکن یہ وہ آنکھ ہوتی ہے جس کا پردہ (پلکیں) اللہ کے حکم سے گرتا اور اٹھتا ہے جو آنکھ اللہ کے خوف سے روئے گی اس کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی جسم کے کسی حصے پر پردہ نہیں لیکن آنکھ کا پردہ دے کر اللہ نے ہماری آنکھوں کو آلودہ ہونے سے بچایا ہے آنکھ سے کسی غیرمحرم کو دیکھا اور دل دے دیا‘ آنکھ سے فلم دیکھی‘ آنکھ سے وہ وہ دیکھا جس نے جسم کے باقی اعضاء کو بھی متاثر کردیا اور یوں پورا جسم گناہوں میں مبتلا ہوگیا‘ گویا پردہ کے جانے سے آخرت بھی گئی۔ اپنی پیاری آنکھوں کی حفاظت کریں‘ ان کو روحانی اور جسمانی گندگی سے بچائیں‘ اپنی نظروں کو نامحرم کی نظروں سے بچائیں‘ آپ یقین کریں اللہ آپ کو اپنی عبادت اور ذکر کامزہ اورلذت دے گا۔ اگر نہیں کرپاتے‘ ماحول ایسا ہے تو کوشش ضرور کریں‘ اللہ سے مدد مانگیں‘ انشاء اللہ تعالیٰ ، اللہ کریم ضرور مدد فرمائیں گے۔ ہر آنکھ کی حفاظت کیلئے نو فرشتے مقرر ہیں‘ وہ فرشتے آپ کی آنکھ کی حفاظت کرتے ہیں‘ بدلے میں وہ چاہتے ہوں گے کہ آپ اپنی آنکھوں میں حیا اور شرم کا پردہ گراکر رکھیں۔ اپنی پیاری آنکھوں کو سنت کے مطابق سنوار کے رکھیں‘ رات کو سوتے وقت سنت کے مطابق سرمہ لگا کر سوئیں‘ شہد میں کسٹرآئل ملا کر روزانہ رات کو سوتےوقت اپنی پلکوں پر لگائیں‘ انشاء اللہ وہ لمبی اور گھنی ہوں گی۔ رات کو سونے سے پہلے نمک ملے پانی سے آنکھیں دھونے سے آنکھیں چمکدار ہوتی ہیں۔ گلاب کے عرق میں روئی کے دو پھائے لے کر بھگو کر ٹھنڈا کرلیں اور آرام سے بستر پر لیٹ کر آنکھوں کے اوپر رکھ لیں اور پندرہ منٹ کے بعد اتار لیں‘ آنکھیں فریش ہوجائیں گی۔ آلو یا کھیرے کے گول قتلے ٹھنڈے کرکے آنکھوں پر رکھنے سے آنکھوں کی سوجن کم ہوگی‘ ٹی بیگز کو استعمال کرنے کے بعد ٹھنڈا کرلیں اور آنکھوں پر رکھ لیں اور بیس منٹ تک رکھیں اور زبان سے کوئی سا بھی درود شریف پڑھتے رہیں‘ حلقے اور سوجن ختم ہوگی۔ کان: کان جس کو لوگ صرف سننے کیلئے اور عورتیں طرح طرح کے جھمکے اور ٹاپس پہننے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اپنے اصل مقصد کو بھولے ہوئے ہیں۔ انسانی جسم میں سب سے خطرناک درد کان ہوتا ہے اور اگر کان کی بیماری کا علاج نہ ہو تو بیماری دماغ کا کینسر تک بن جاتی ہے۔ اسی طرح روحانی کینسر بھی ہوتا ہے کچھ لوگوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کے کان صرف اور صرف گانے سننے کیلئے ہیں اور کچھ لوگوں کے کان صرف دوسروں کی برائیاں سننے میں مزہ لیتے ہیں اور اللہ کے بنائے کچھ نیک لوگوں کے نیک کان صرف تلاوت اور پیارے رسول ﷺ کی پیاری باتیں سننے کیلئے ہوتے ہیں۔ ان کے کان اللہ کے ذکر اور تلاوت اور اذان کی آواز سن کر سرشار ہوجاتے ہیں۔ کان کو فالتو عضو سمجھ کر بہت کم تحقیق کی گئی ہے۔ البتہ فرانس کے سائنس دانوں نے کان کے ہر حصے پر تحقیق کی ہے اور بتایا ہے کہ اگر کان کے اوپر والے حصے کو کچھ دیر نرم ہاتھوں سے مساج کریں تو یہ ہماری بھوک کو کنٹرول کرتے ہیں اور جو لوگ موٹاپا کم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ لوگ اگر دن میں چند بار ایسا کریں تو ان کی بھوک کم ہو کے ان کا موٹاپا اتار سکتی ہے۔ کانوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر سچے دل سے اللہ کے حضور توبہ بھی ہوسکتی ہے۔ ہمارے کانوں کا سیدھا تعلق دماغ سے ہے‘ دل بعد میں سوچتا ہے اور زبان اس کے بعد جواب دیتی ہے۔ زبان سے گالی دو کان سن کر فوراً دماغ کو سگنل دیتے ہیں اور ردعمل ظاہر ہوتا ہے اپنے کانوں میں سورۂ رحمٰن لگا کر سناؤ تو وہ بیمار روح اور بیمار جسم کو فوراً انرجی دیتے ہیں۔ گویا یہ کان ہماری پاور انرجی مشین ہیں۔ یہی کان جب گناہ اور اللہ کی حدود کو پار کرکے شیطانی غذا یعنی موسیقی کو سنتے ہیں تو قیامت کے دن ان میں گرم سیسہ ڈالا جائے گا۔ کان کی حفاظت کریں انہیں شیطان کے حوالے نہ کریں‘ کان کے ذریعے شیطان کو اپنا وار کرنے کاموقع نہ دیں‘ آنکھوں کے ساتھ اپنے کانوں کی بھی حفاظت کریں‘ اللہ آپ کے پورے جسم کی حفاظت کرے گا۔ناک: ناک انسانی زندگی کا اہم ترین عضو ہے‘ اس کے ذریعے سانس آتی ہے اور زندگی کی رمق باقی رہتی ہے اگر سانس نہ آئے تو زندگی ختم! یہ ہماری حواس خمسہ کا اہم ترین رکن ہے‘ یہ خوشبو کو محسوس کرکے دماغ کو احساس دلاتا ہے اور پورے جسم کو فرحت کا احساس ہوتا ہے‘ تازگی کا احساس ہوتا ہے اور جب یہی بدبو اور گندگی کو محسوس کرتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ ہمیں الٹی آگئی‘ دل خراب ہوگیا‘ گویا ناک سے ہمارے احساسات کا بہت تعلق ہے‘ ناک کی بیماری جہاں خوشبو اور بدبو کا احساس نہیں ہونے دیتی بلکہ اگر یہ بڑھ جائے تو اس کا اثر آنکھ اور کان تک بھی جاتاہے۔ نزلہ ناک میں ہوتا ہے اور درد بعض اوقات آنکھ اور کان میں بھی ہوتا ہے گویا یہ سب آپس میں بہن بھائی ہیں‘ ناک اونچی کرنے کیلئے لوگ بعض اوقات اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود سے بھی باہر نکل جاتے ہیں اور جب یہی ناک کٹ جائےتو شکایت اورشکوے کرتے نظر آتے ہیں۔ حسن و خوبصورتی کو بڑھانے کیلئے سب سے پہلےجو سرجری ایجاد ہوئی وہ ناک کی ہی تھی۔ موٹے ناک کو پتلا اور لمبا کرنے کیلئے لوگ پیدا ہوتے ہی بچہ کی ناک دبانے لگ جاتے ہیں۔ ایک بچہ جس کی آنکھوں سے مسلسل پانی آتا تھا آنکھیں ہی چیک کرواتا رہا بعد میں پتہ چلا کہ بچپن میں اس کی ماں نے اس کے موٹے ناک کو پتلا کرنے کیلئے اتنا دبایا کہ اس کے ناک کے اوپر کے حصے کی نسیں دب گئیں جس سے پانی نیچے کے بجائے آنکھوںکے رستے خارج ہونے لگا۔ ناک میں اگر زیادہ نزلہ، زکام رہے تو دماغی کمزوری ہوجاتی ہے لیکن قربان جائیے میرے مدینہ والے تاجدار انبیاء حضور سرور کونین ﷺ کے جنہوں نے وضو کے نام پر ہماری ناک کی صفائی پانچ وقت کروا دی‘ ناک کے اندر پانی ڈالنے سے ناک کے میل‘ مٹی اور ہر قسم کے جراثیم نکل گئے اور ہم سانس فریش طریقے سے لینے لگے۔ رات کو سوتے وقت شیطان، ہماری ناک کے بانس میں رات گزارتا ہے اور جب ہم فجر کیلئے اٹھتے ہیں اور وضو کیلئے ناک صاف کرتےہیں تو وہ گندگی اور نحوست اور بیماری جو وہ ہماری ناک میں چھوڑ جاتا ہے وضو کے ذریعے صاف ہوجاتے ہیں۔ پیارے اللہ کو (باقی صفحہ نمبر 33 پر) (بقیہ:جسمانی و روحانی حسن کے لاجواب آسان ٹوٹکے) ہمارے ایک ایک حصے سے پیار ہے اور ناک بھی ہمارے خوبصورت چہرہ کا حصہ ہے سنت کے مطابق اس کی حفاظت کریں۔ وضو کےذریعے اس کی حفاظت کریں اور شیطان کا گھر نہ بننے دیں۔ دانت: ہمارے پیارے چہرے کا اہم ترین حصہ دانت ہیں‘ خوبصورت‘ سفید اور چمکتے دانت ہماری مسکراہٹ اور ہنسی کو اور مزید حسین بناتے ہیں۔ خوب اور صاف ستھرا انسان اپنے دانتوں کے ساتھ ہی صاف ستھرا لگتا ہے اگر سب صاف ہے اور دانت میلے ہیں‘ گندے ہیں تو انسان کی سب شخصیت ختم ہوجاتی ہے۔ انسان کھل کر مسکرا بھی نہیں سکتا ہے اور اگر منہ میں دانت نہ ہوں تو بڑھاپے کی شکل دکھائی دیتی ہے۔ دانتوں کی اہمیت کا اندازہ ہمیں حضور نبی کریم ﷺ کی مختلف حدیثوں سے ملتا ہے جس میں ہمیں مسواک کی اہمیت بتائی گئی ہے اور مسواک کاکام دانت صاف کرنا ہی نہیں بلکہ یہ ہماری روحانی اور جسمانی بیماریاں دور کرنے کا ذریعہ ہے گویا دانتوں کو صاف کرنا اتنا ضروری ہے کہ اس سے روح بھی پاکیزہ ہوجاتی ہے۔ مسواک کرنے سے کلمہ نصیب ہوتا ہے۔ حلق کی صفائی ہوتی ہے۔ نظر تیز ہوتی ہے۔ سنت ہے‘ برکت ہے اور صحت ہے۔ آخری وقت میں ہمارے پیارے نبی کریمﷺ نے مسواک ہی کی تھی۔ اپنے آپ سے پیار کریں اپنے جسم کے اعضاء کو اللہ کی نافرمانی میں مت لگائیں‘ اپنے جسم کو جنت کے قابل بنائیے۔

No comments:

Post a Comment