Showing posts with label حکیم محمد طارق محمود چغتائی. Show all posts
Showing posts with label حکیم محمد طارق محمود چغتائی. Show all posts

Monday, August 15, 2016

تیرے در کا جو فقیر،وہی دو جہاں کا امیر


برکت کی راہیں:۔
حلال کے اندر برکت ہے۔ حرام کے اندر کثرت ہے ،کبھی برکت نہیں ہے۔ اپنی نسلوں کو برکت دو !کبھی گھاٹے کا سودے نہ کر بیٹھنا!اپنی نسلوں کو برکت دو اور سارا دن برکت سمیٹو اور برکت کے ذرائع اختیار کرو ۔کوشش کریں کہ ہم برکت کی راہیں اختیار کریں! برکت کے راستے اختیار کریں‘ اللہ جل شانہٗ کوشش کرنے والے کو ضرور عطا فرماتے ہیں ۔اگر مجاہدہ آتا ہے قربانی آتی ہے توصحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بھی قربانیاں دی ہیں‘ انہوں نے بڑے مجاہدے کیے ۔میرا کریم جب برکتوں کے دروازے کھولتا ہے تو پھر اللہ پاک نے ان کے گھروں کو مالا مال کر دیا، پھر زکوٰۃ کی آوازیں دینے والا ہر کوئی ہوتا تھا، زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں ہوتا تھا۔ سارے زکوٰۃدینے والے ہوتے تھے ۔ صاحب تحقیق عالم دین سے زکوۃ کے بارے میں جانیں: زکوٰۃ تو اس پر ہوتی ہے جو صاحب نصاب بن جائے ۔ایک صاحب جو پوچھ رہے تھے

جو میں نے دیکھا سنا اور سوچا قطع رحمی سے سب کچھ اجڑ گیا -


 حدیث کا مفہوم ہے صلہ رحمی سے عمر بڑھتی ہے‘ رزق بڑھتا ہے‘ دعائیں قبول ہوتی ہیں ‘اور بے شمار فضائل ہیں صلہ رحمی میں۔ صلہ رحمی کیا ہے؟ رشتہ داروں کو ان کی کوتاہیوں کمیوں اور عیبوں کے باوجود معاف کرتے رہنا۔ ہر رشتے دار سے لڑائی جھگڑا مول نہ لینا بلکہ وہ برا کرتے جائیں تو بار بار اچھا کرتے جانا۔ اگر پھروہ بار بار برا کریں توپھر بار بار اچھا کر اور ان کو معاف کرتا جا اسی کا نام صلہ رحمی ہے۔ وہ اچھا کرے تو اچھا کر‘ پھر وفا تو نہ ہوئی‘ بلکہ وہ برا کریں توتم اچھا کرو ‘اسی کو صلہ رحمی کہتے ہیں۔ فرمایا: جو تجھ پر ظلم کرے اسے معاف کر جو تیرا حق چھینے تو اسے عطا کر‘ جو تجھے محروم کرے تو اس کو دیتا چلا جا‘ میں نے ایک نہیں کئی گھرانے ایسے دیکھے کہ بہو آئی اور اس نے آتے ہی سب کو جدا کردیا یا ساس نے کسی کو کسی کے منہ دکھانےکے قابل نہ رکھا‘ سب سے لڑائی ‘سب کا جھگڑا اور سب کے عیبوں کو لے کر بیٹھ جانا۔ قارئین! سچ پوچھیں جتنا بھی ہمارے مزاج میں معافی بڑھتی جائے گی درگزر بڑھتا جائے گا اتنا اللہ کی بارگاہ میں ہمارا تعلق بہتر سے بہتر ہوتا چلا جائے گا اور جہاں آخرت بہتر ہوگی وہاں دنیا میں انوکھی برکات اور انوکھے کمالات ملنا شروع ہوجاتےہیں۔ میں آج ایک گھر کا قصہ سچی کہانی کے طور پر لکھ رہا ہوں ہنستا بستا گھر، ساس فوت ہوگئی‘ سسر فوت ہوگیا‘ دو بھائی گھر میں رہتے ہیں‘ ایک بہو نے آتے ہی گھر میں قینچی چلائی اور دوسری بہو میرے کہنے پر صبر حوصلہ کرتی چلی گئی‘ صابر بہو کو رب نے بیٹوں اور رزق والی دولت سے نوازا اور مسلسل رب نواز رہا ہے اور جس نے حسد، کینہ، بغض ،لڑائی جھگڑا کو ہروقت مول لیا اس کا رزق بھی گیا‘ بیٹے بھی نہ ملے‘ زندگی کا سکون بھی گیا‘ حیرت انگیز انوکھی بیماریاں اس کی ہڈی ہڈی اور ریشہ ریشہ میں رچ بس گئی ہیں۔ یہ اس کے ہاتھ کا لکھا ایک خط آپ ملاحظہ فرمائیں کہ قطع رحمی انسان کا رزق‘ صحت اور سکون چھین لیتی ہے۔ آئیے! آج کے بعد ہم فیصلہ کریں کہ رشتہ داروں کی زیادتیوں کے باوجود بھی ہم ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرتے چلیں جائیں اللہ کی بارگاہ میں ضرور انصاف اور اللہ انسان کو ضرور عطا فرماتا ہے۔ ’’محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! آپ مجھ سے بہت سخت ناراض ہیں‘ میں نے دو ہفتے پہلے آپ کے پاس آنا تھا مگر میرے مالی حالات اس قدر خراب تھے کہ میرے پاس پٹرول کے پیسے نہیں تھے‘ دس دن تین سو روپے میں گزارے‘ میں نے مارچ کے آخری ہفتے اور اپریل میں بھی دس دن ایک وقت کا کھانا کھایا اور شوہر نے بھی صرف ایک وقت کا کھانا کھایا۔ بچوں کو سات دن میں نے سادہ چاول کھلائے۔ اللہ سے بہت مانگا‘ بڑی تسبیح پڑھی‘ استغفار بھی کیا لیکن دس دن کچھ نہ ہوا۔ میرا بہت مذاق بھی اڑایا گیا‘ میں نے کسی کو نہیں بتایامگر جنہوں نے دیکھا۔ کسی سے سوال نہیں کیا اور نہ ہی خود اپنی زبان سے حالات بتائے۔ شوہر نے مجھ سے کہا میں کہیں سے ادھار چیزیں لے آتا ہوں‘ میں نے اسے منع کردیا کہ کسی سے سوال نہیں کرنا‘ آپ کی بے عزتی ہوگی‘ بہت صبر سے کام لیا۔ یہ مشکل وقت اپنے اثرات چھوڑ گیا‘ میرے اندر کی ساری بتیاں بجھ گئی ہیں کہ میں تو کسی بھی قابل نہیں‘ میں یہ دس دن قبر تک نہ بھولوں گی۔ جب میرے پاس پیسے آئے پھرمیرے اور میرے بچوں کا ہر لقمے اور ہر چیز پر شکر ہی شکر تھا۔ میں اسی دن سے کوشش کررہی ہوں کہ میری آپ سے ملاقات ہوجائے ۔ لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو ہیں‘ میں نے کیسے حالات دیکھے‘ میں اب ہروقت اپنے آپ کو کوستی رہتی ہوں۔ ہر سانس میں استغفار اور شکر ہے۔ یہ دس دن کی یادیں میری قبر تک کا ساتھ ہیں‘ کبھی بھی اونچی اڑان آگئی تو یہ دس دن فوراً واپسی کا ذریعہ ہیں۔ آپ مرشد ہیں‘ صرف آپ کو بتارہی ہوں اور کسی سے ذکر نہیں کیا۔ تسبیح خانہ میں آنے سے پہلے مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ مرشد کیا ہوتے ہیں؟ میں تو صرف تسبیح خانہ دیکھنے آئی تھی ’’یہ کیا عجیب وغریب چیز ہے‘‘ ہروقت ایک ہی ڈر سا لگا رہتا ہےآپ ناراض نہ ہوجائیں۔(حالانکہ اصل رب ہے جس کی ناراضگی کا احساس نہیں:ایڈیٹر) میرا توسب کچھ اجڑ چکا ہے۔‘‘ -

Tuesday, February 23, 2016

حلال کمائیں‘ چین کی نیند پائیں


اللہ سے باتیں کرنا سیکھ لیں!: اللہ والو!اللہ سے باتیں کرنا سیکھ لیں‘ اللہ سے راز و نیاز کرنا سیکھ لیں!چلتے چلتے باتیں کریں!سوتے سوتے باتیں کریں!جاگتے جاگتے باتیں کریں! اٹھیں تو باتیں کریں! ارے پاکی میں ہیںتو باتیں کریں! ناپاکی میں ہیں توباتیں کریں !وضو میں ہیں توباتیں کریں!بے وضو ہیں توباتیں کریں!اس کریم کے ساتھ راز و نیاز کریں! اس کریم کے ساتھ باتیں کریں! اس کو اپنے دکھڑے سنائیں !اللہ جل شانہ سے باتیں کریں! نہیں آتیں تب بھی کریں!بولنا نہیں آتاتب بھی بولیں! ایک وقت آئے گاکہ آپ کو بولنا آ جائے گا!ایک وقت آئے گا آپ کو کرنا آجائے گا! پھر ایک وقت آئے گاکہ صرف ایک مس کال پر آپ کے سارے کام ہو جائیں گے! جیسے اس اللہ کے بندے نے ایک طرف کھڑے ہو کر صرف مس کال دی تھی کہ اس کاکام ہوگیا۔ لیکن اس کاکام تب ہوا جب نیت ٹھیک کرلی تھی،اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس نے حلال کھانا ہے ۔کوئی بات نہیں ۔۔ہفتہ وار درس سے اقتباس درس روحانیت وامن)  
اگرمیرے بچے معیاری سکولوںسے ، قیمتی لباسوں سے، بہترین گاڑیوں سے، عمدہ چیزوں سے اورپرتکلف آسائشوں سے محروم ہیںکوئی بات نہیں اگرمیں زندگی کی اعلیٰ آسائشوں اور اعلیٰ چیزوں سے محروم رہوں! کوئی حرج ہی نہیں۔ اللہ!شفاء دینے والی اور شفاء لینے والی ذات:گزشتہ دنوں کی بات ہے میں ایک مریض کے پاس اس کی عیادت کیلئے گیا ۔تقریباً 33,32 کلو اس کا وزن رہ گیا تھا۔ میں نے جاتے ہی ان کو ترغیب دی کہ آپ بیمار ہیں آپ کی دعا قبول ہوگی ،لہٰذا آپ دعا کریں ۔اس اللہ کے بندے نے عشاء کے وقت ایسی دعا کی۔اس کے ہاتھ اوپر جاتے اورپھر نیچے آتے تھے ۔ اس کی دعائیںاس کے دل کی کیفیتوں سے نکل رہی تھیں اور وہ کیفیات مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھیں۔جانے وہ دل ہی دل میں اللہ سے کیامانگ رہا تھا؟ وہ مریض جو بستر مرگ پر ہے جس کو کینسر کی وجہ سے سارے جہان نے لاعلاج قرار دیا ہے۔ شفاء دینے والاتووہ کریم ہے، بظاہربس انتظار ہو رہا ہے۔ میں بھی دعا مانگ رہا تھا، وہ بھی دعا مانگ رہا تھا ،مریض اور میں دونوں ایک ساتھ آمین کہہ رہے تھے۔کافی دیر دعا مانگی۔ اس کی آنکھوں سے ہی نہیں بلکہ اس کے دل سے بھی آنسو بہہ رہے تھے اور میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ کریم کی کریمی ایسے عرشِ الٰہی سے برس پڑی ہے اور میں دل میں کہہ رہا تھا:’’ الٰہی اس کو عاجز تو نے کیا ہے! یہ تو صحت مند تھا!اللہ اس کو مریض تو نے بنایا ہے! یہ تو چلتا پھرتا تھا!میرے پاس بھی آتا تھا! اے اللہ! یہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا! اس کے جسم کی ساری طاقتیںساری قوتیں تو نے لے لیں!دی ہوئی بھی تیری تھیں۔ الٰہی! تو خود تو فرماتا ہے اپنے حبیب سرور کونینﷺ کے ذریعے سے کہ جب میرا بندہ مریض ہوتا ہے اور میرے سامنے عاجز اور بے بس ہوتا ہے،اور اس حال میںجب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میںاس کا سوال رد نہیں کرتا۔ الٰہی!آج اس کے سوال کورد نہ کر ۔اس شخص نے دعا کے بعد ہاتھ منہ پر پھیرے۔ ہاتھ منہ پر پھیرنے کے بعد بڑی دیر تک وہ انہیںکیفیتوں میں ڈوبا رہا۔ وہ شخص آنسوؤں میں ڈوبا رہا۔ پھر اس نے اپنے رومال سے اپنے آنسو پونچھے اور میں نے ان سے اجازت چاہی اور واپس آیا تب میں نے سوچا! آج کی عبادت تو مجھے نفع دے گئی ۔ تو ہو کسی بھی حال میں،مولا سے لو لگائے جا:اللہ والو! اللہ سے مانگناسیکھو ۔اس کے در پر محتاج بن جائو،اس کے غلام بن جائو ، اس کے در کے فقیر بن جائو ۔ساعتیں مانگنے کی آ گئی ہیں ۔گھڑیاں مانگنے کی چل پڑی ہیں۔ اس کریم سے مانگنا سیکھو۔وہ تو تھوڑے سے مانگنے پر بھی بہت عطا کر دیتا ہے ۔ بڑا کریم ہے!بڑا رحیم ہے!یوں اپنی نیت کو سنوارو! یوں اپنے جذبے کو سنوارو!اپنے اندر دیانتداری اور سچائی کا جذبہ پیدا کرو۔ آخرایک دن کریم کی رحمت برس پڑتی ہےاور پھر اس کی عطا ئیںبندوں پرایسے آتی ہیں کہ ہم اور آپ سوچ بھی نہیں سکتے ۔اس سے مانگنا سیکھیں ۔حلال کمائیں ،چین کی نیند پائیں:حلال کے راستوں کی طرف بڑھیں۔ حلال سے نسلیں پلتی ہیں۔ حلال سے چین آتا ہے۔ حلال سے سکون آتا ہے۔ کرا چی کے ایک تاجر نے مجھے سامان دکھایا میں نے پوچھا جناب یہ ایک نمبر ہے یا دو نمبر ہے؟ میرے ہاتھ سے وہ چیز واپس لے کروہ کہنے لگا ’’بھیا میں نے رات کو چین سے سونا ہے، یہ ایک نمبر ہے۔ اتنے سے لفظ اس نے کہے’’ میں نے رات کو چین سے سونا ہے ،یہ ایک نمبر ہے۔‘‘ زندگی کے خوش قسمت ساتھی:زندگی میں اللہ نے ایک موقع دیا ہے اپنی آمدنی کا خیال رکھیں کہ ان نسلوں کو کیا کھلا کر جا رہے ہیں؟ ان نسلوں کو کیسے پال رہے ہیں ؟کتنی خوش قسمت بیوی ہے جو حلال کا تقاضاکرے ‘شوہر کی ساتھی بن جائے اوروہ دونوںحلال کے راستوں پر چل پڑیں۔ کتنا خوش نصیب شوہر ہے جو حلال کی کمائی لا کراپنی بیوی کا ساتھی بن جائے اوروہ دونوں حلال کے راستوں پر چل پڑیں۔ کتنا خوش قسمت بھائی ہے جو حلال کمائی گھر لاکر بہن کا ساتھی بن جائے ۔کتنی خوش قسمت بہن ہے جو اپنے بھائی کو حلال کمانے کی ترغیب دے کر اپنے بھائی کی ساتھی بن جائے۔ اللہ والو! آج ہمیںموقع ملا ہے۔ کسی کو مال پر بٹھایا،کسی کو خزانے پربٹھایا، کسی کو جنس پر بٹھایا ،کسی کو کسی اورچیز پر بٹھایا۔ کامیاب کون ہے؟: اب یہ دیکھیں کہ یہاں کون ان مواقع سے فائدہ اٹھاکراللہ کے ساتھ اپنے معاملات کو حلال کر رہا ہے۔ دیانت و امانت کا معاملہ کررہا ہے‘ سچائی اور صداقت کا معاملہ کر رہا ہےجو بھی یہ سب کررہا ہے بس وہ کامیاب ہو گیا۔بچہ فاقوں سے بلک رہا ہے مگر اس نے حلال روزگارکیاتو یہ کامیاب ہو گیا ۔اس کےبچے کے ہر رونے پر عرش الٰہی سے اللہ کی رحمتیں اتر رہیں۔اگرچہ اس کی ضرورتیں پوری نہیں ہو رہی ہیں لیکن اس نے حلال روزگار کرنے کا طے کررکھا ہے ۔اس نے حرام کا طے نہیں کیا ہوا اس نے اپنے اقتدار کا غلط استعمال نہیں کیا۔ (حکیم محمد طارق محمود چغتائی

45 سالہ کنواری لڑکی کی ماں باپ سے فریاد


گزشتہ دنوں مرحوم تجمل الٰہی شمسی صاحب کی نواسیوں کی شادی کی تقریب میں جانا ہوا‘ٹیبل پر کھانے کی میز پر ایک جہاں دیدہ شخص بیٹھے ہوئے تھے باتوں ہی باتوں میں میرا تعارف ہوا تو ان کے گھر عبقری بہت ذوق وشوق سے پڑھا جاتا تھا‘ موصوف چند ماہ پہلے رنڈوے ہوئے تھے۔ بیوی کے وصال کے بعد احباب اور رشتہ داروں کا تقاضا ہے کہ آپ سنت پوری کرتے ہوئے فوراً شادی کرلیں۔ قریب بیٹھے ایک صاحب نے ازراہ مذاق کہا حکیم صاحب آپ ہی انہیں کہہ دیجئے یہ شادی کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ان کی بات سن کر ان کے ماتھے پر بل آگئے



 اور کہنے لگے ایک ہمارا دور تھا آج میں ساٹھ سال سے اوپر ہوگیا ہوں کہ جب بیٹی کی بلوغت کے بعد اس کی صرف اور صرف شادی کا فکر ہوتا تھا‘ جانچ پرکھ کی جاتی تھی لیکن جو آج کی جانچ پرکھ ہے وہ اصل ذریعہ ہے جس کی وجہ سے شادی میں تاخیر ہوتی ہے موصوف ایک لمبا سانس لے کر مزید کہنے لگے کہ بیوی کے وصال کے بعد احباب کے تقاضا نے مجھے شادی کیلئے مجبور کیا‘ میں تو ایک بات پر حیران ہوا کہ جن رشتوں کو ہم دیکھتے ہیں چالیس سے پینتالیس سال کی خواتین کنواری عام طور پر مل رہی ہیں۔ مجھے افسوس بھی ہوا اور حیرت بھی تو پتہ چلا کہ شادی کی تاخیر کی بنیاد معیار اور پرسنیلٹی ہے۔ اور وہ پرسنیلٹی کیا ہے؟ کہ خود مجھے ایک پینتالیس سال کی کنواری لڑکی کیلئے جب رشتہ کی بات چلی تو ان کی ڈیمانڈ سترلاکھ کی پراڈو گاڑی‘ فلاں چیزیں‘ اتنا بڑا گھر وغیرہ۔ جو خواتین دیکھنے گئی تھیں ان کا تبصرہ یہ تھا کہ لڑکی کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے اور وہ حیرت سے ماں باپ کا منہ دیکھ رہی تھی۔ یعنی اس کے دل کی آواز تھی اور وہ والدین کو حال دل سے پکار رہی تھی کہ میرے ساتھ پینتالیس سال تک تو زیادتی کرچکے ہیں اب تو مزید زیادتی نہ کریں۔ اب تو میں بظاہر اولاد پیدا کرنے کے قابل ہی نہیں رہی مجھے اماں کون کہے گا اب تو میں ہی اماں ابا کہہ رہی ہوں۔ موصوف اپنی بات کرتے کرتے غصے میں آگئے اور کہنے لگے جن کے گھر میں ایک کمرہ ہے اور تین وقت کی روٹی بمشکل ہے ان کی ڈیمانڈ بھی اتنی زیادہ ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ چلو میں تو بوڑھا ہوں لیکن یہ سب کچھ جوانوں کیلئے ہورہا ہے اور مجھے کہنے لگے کہ حکیم صاحب آپ مجھے شادی کا نہ کہیے گا اللہ بخشے میری بیوی بس اس نے میرے ساتھ جو اچھا سلوک‘ اچھی زندگی گزاری وہ اتنی شاندار ہے کہ مجھے یہ ڈیمانڈیں اور ڈیمانڈوں کے بعد پھر ایک اور انجام نظر آتا ہے جن کی نظر پہلے دن دولت مال گاڑیاں‘ کوٹھیاں‘ جائیداد پر ہے ابتدا ہی خراب ہوئی ہے انتہا کا کیا ہوگا؟ پھر اپنے نانا مرحوم کے بارے میں فرمانے لگے کہ وہ بہت عقلمند اور جہاں دیدہ انسان تھےاور بنیے تھے میں چونک پڑا میں نے کہا بنیے تو ہندو کو کہتے ہیں کہنے لگے نہیں اصل میں جو صابن آٹا گھی چاول کا کام کرتا ہے بنیا اس کو کہتے ہیں۔ایک دن ہمارے گھر تشریف لائے پندرہ بیس سال سے ایک صاحب ہمارے ہاں دروازے پر سبزی دینے آتے تھے‘ سبزی کی ریڑھی تھی وہ گلی گلی اسی پر سبزی بیچتے تھے ایک دن وہ صاحب ہمیں سبزی دینے آئے‘ نانا مرحوم بیٹھے تھے دیکھ کر کہنے لگے اس نے سبزی کم تولی ہے‘ ہم حیران ہوئے کہ پندرہ بیس سال سے ان سے سبزی لے رہے بہت اچھے انسان ہیں۔ کہنے لگے میں تجربہ کرکے بتاتا ہوں ان سے سبزی تولائی تو انہوں نے ایسے صفائی سے ڈنڈی ماری کہ ہم حیران ہوگئے اور ان پندرہ بیس سالوں میں ہم انہیں بالکل پرکھ نہ سکے۔ دوسری بات نانا کی یہ بتائی کہ نانا مرحوم نے فرمایا عورت کا خصم اس کا شوہر ہے اور شوہر کا خصم اس کا کاروبار ہے یعنی عورت اگر اپنے شوہر کی نہیں تو پھر کسی چیز کی بھی نہیں اور کسی قابل نہیں اور مرد اگر کاروبار کا نہیں تو پھر اس کو شوہر کہلوانے کا حق نہیں۔ میرے نانا نےاپنے تجربات میں تیسری بات یہ بتائی کہ سب سوٹوں (کپڑوں) پر نمبر لکھ کررکھیں۔ مثلاً ہر سوٹ پر نمبرنگ ہو‘ قمیص پر نمبر ایک‘ بنیان پر بھی ایک نمبر ہو‘ شلوار پر بھی ایک نمبر ہو۔ اس طرح کبھی کپڑے گم نہیں ہوتے۔قارئین! بڑوں کے تجربات اور مشاہدات میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے۔ آپ بھی آزمائیں اور استفادہ حاصل کریں۔

Sunday, January 10, 2016

عبقری روحانی اجتماع کے حسین مناظر

عبقری روحانی اجتماع کے حسین مناظر :۔


آج کے اس پر فتن دور میں ہر ایک پریشان ہے اور سکون کی تلاش میں سر گرداں ہے کوئی ایسا نہیں جو مطمئن ہو۔امیر ہو یا غریب مرد ہو یا عورت ہر کوئی پریشان ہے ۔ کسی کو مفلسی تنگ کئے ہوئے تو کوئی جادو جنات کا مارا ہوا ہے کوئی بے اولادی کا روگ پالے ہوئے ہے تو کوئی اولاد ہوتے ہوئے ان کی اصلاح کی فکر میں ہے کسی کو جسمانی بیماریوں نے گھیرا ہوا ہے تو کوئی روحانی بیماریوں سے پریشان ہے ان ہی پریشان حال لوگوں کیلئے کچھ درد دل رکھنے والے لوگ اپنی کوشش اور جدوجہد کرتے رہتے ہیں تاکہ عوام الناس کی پریشانیوں میں نجات ہو سکے اور ان کی مشکلیں حل ہو سکیں ان ہی کوششوں کا ایک سلسلہ لاہور میں منعقد ہوا ۔ عبقری کا روحانی اجتماع نومبر 2015 بروز جمعہ، ہفتہ، اتوار مورخہ 20،21،22 کو منعقد ہوا ایڈیٹر عبقری شیخ الوظائف حضرت حکیم محمد طارق محمود چغتائی دامت برکاتہم اپنی دواؤں اور درس سے فیض پہنچا رہے ہیں ۔لیکن اس دفعہ یہ نئی کاوش انہتائی سود مند ثابت ہوئی ۔ موسم سرما کے باوجود لوگوں نے اس روح پرور اجتماع میں شرکت کی ۔ توقع سے زیادہ لوگوں کی آمد ہوئی ۔ یہاں تک کہ مزید خیمے لگائے گئے ۔ پاکستان کے دور دراز علاقوں سے لوگ تشریف لائے ۔ کوئی اپنی بکری بیچ کر حاضر ہوا تو کسی نے اپنا زیور بیچا تو کوئی کسی سے ادھار لیکر پہنچا تو کچھ حضرات پیسے جمع کرتے ہوئے آئے تو وہیں امیر اپنی شاہانہ آسائش کو بالائے طاق رکھ کر شریک ہوئے ۔نہ ان کو ان کے مزاج کا کھانا ملا نہ آرام ملا ۔ مگر جاتے ہوئے سب خوش تھے ۔ ایک خاتون کے بیگ میں موجود ایک لپ اسٹک کی قیمت ایک لاکھ تھی وہ بھی عام لوگوں کے ساتھ شریک ہوئی ۔ اس میں لاکھوں کروڑوں کی گاڑیوں اور کوٹھیوں والے بھی شریک ہوئے اپنی غرض جو لے کر آیا تھا وہ دعائیں دیتا ہوا گیا ۔ طعام و قیام کا معقول انتظام تھا حضرت حکیم صاحب نے اپنے قیمتی اوقات میں سے وقت نکال کر نہایت محبت سے اس اجتماع کا اہتمام کیا ان کے قیمتی درس نے جہاں آنے والوں کو فائدہ پہنچایا وہاں جہاں جہاں سننے والے تھے ان کو بھی فائدہ پہنچا اور فیض یاب ہوئے اجتماع میں شرکت کیلئے آئے خوش نصیبوں کو تسبیح خانہ میں نہایت خوبصورت خواب آئے جس میں انہیں بزرگوں کی زیارتیں ہوئیں ۔ جس کا اظہار انہوں نے دوران اجتماع لوگوں سے کیا ۔ بہت سے ایسے خوش نصیب بھی تھے جن کی من کی مرادیں صرف دوران اجتماع ہی پوری ہوئیں ۔ الحمدللہ ! اب ہم اس اجتماع میں حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی چھ نشستوں کا مختصر تعارف بیان کرتے ہیں الحمدللہ !اجتماع کا آغاز 19 نومبر کو مغرب کی نماز کے بعد حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کے پرسوز درس سے ہوا اجتماع میں مرد خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ مردوں کیلئے ساڑھے چار کنال کے وسیع و عریض تسبیح خانہ میں رہائش و طعام کا بہترین انتظام کیا گیا تھا چوبیس گھنٹے بجلی و پانی کا انتظام تھا ۔اجتماع کے پہلے دن صبح فجر کی نماز کے بعد حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم اپنی پہلی نشست میں درس روحانیت و امن دیا ۔ درس کے بعد ذکر، مراقبہ اور آنسوؤں سے لبریز دعا ہوئی ۔ دوپہر ایک بجے جمعۃ المبارک کا خطبہ شروع ہوا جو مولانا ولید حاحب خلیفہ حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم نے دیا رات عشاء کے بعد ایک اور نشست ہوئی یہ حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی دوسری نشست تھی جس میں آپ حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کا درس ،ذکر،مراقبہ اور پر سوز دعا ہوئی ۔ دعا کے بعد شرکاء کو سونے کی اجازت دی گئی ۔ صبح فجر کے بعد حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی تیسری نشست ہوئی جس میں درس، مراقبہ اور دعا ہوئی اور مہمانوں کی لذیذ کھانے ، حلوہ اور چائے سے تواضع ہوئی ۔ نماز ظہر کے بعد حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی چوتھی نشست ہوئی جس میں درس کے بعد حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم مہمانوں میں گھل مل گئے ۔ اور مہمانوں سے باری باری ان کے طبی و روحانی مشاہدات سنے مہمانوں نے بخل شکنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے دلوں کے راز آزمودہ نسخہ جات و روحانی بھید اس محفل میں سب کو بتائے ۔ جس سے لوگوں کو بھر پور فائدہ ہوا ۔ اس کے بعد نماز عشاء کے بعد پانچویں نشست میں درس، ذکر ، مراقبہ اور دعا ہوئی ۔ اس کے بعد 22 نومبر 2015 بروز اتوار کو نماز فجر کے بعد حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کی چھٹی اور آخری نشست ہوئی جس میں حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم نے پر سوز درس، ذکر ، مراقبہ، اور دعا کے بعد برکت والا دم کیا ۔ بروز اتوار آخری دعا میں شرکت کیلئے لاہور اور گرد نوح سے بھی کثیر تعداد میں شہریوں نے شرکت کی اور تسبیح خانہ درا التوبہ اور تسبیح خانہ کی گلیوں میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہ بچی ۔ مزید حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم نے بے اولادوں کیلئے خصوصی اسم اعظم کا دم کیا جس کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا تھا اس دم کیلئے بہت سے لوگ گھروں سے اکتالیس لونگ اور ایک سیب ہمراہ لائے بے اولادوں کیلئے حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم نے ایک دوا بھی دی جو کہ نہایت ہی ارزاں قیمت ایک سو روپے میں دستیاب تھی ۔ لوگوں نے ان تین دنوں میں اللہ پاک سے خوب مانگا اور خوب پایا ۔ آخری دن دعا کے بعد مہمانوں کیلئے ناشتے کا وسیع انتظام تھا اور اس دن لنگر کی خاص بات یہ تھی کہ حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم نے اپنے ہاتھوں سے تمام مہمانوں کو لنگر تقسیم کیا جس سے مہمانوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا ہر کسی کے چہرے پر خوشی تھی ہر کوئی مسرور تھا ۔ اس اجتماع کی ایک اور خاص بات یہ بھی تھی کہ اس میں خواتین کا علیحدہ انتظام تھا ۔ عورتیں اور بچے کثیر تعداد میں شریک ہوئے جہاں عورتوں کا انتظام تھا وہاں بے پناہ رش ہونے کے باوجود عورتوں نے نہایت نظم و ضبط اور برداشت کا مظاہرہ کیا ۔ لاکھوں کے بیڈز پر سونے والی بہنوں نے سردیوں کی راتوں میں فرش پر پر سکون نیند سوتی رہیں ۔بعض بہنوں نے دوران اجتماع خط لکھ کر دفتر ماہنامہ عبقری میں جمع کروائے جس میں لکھا تھا کہ ان کی سالہا سال کی بیماریا ں حیرت انگیز طور پر ختم ہو رہی ہیں اور دل کو عجب سکون مل رہا ہے انہیں دوران دعا خوب رونا آ رہا ہے۔اور دعا ہے کہ وہ اگلے اجتماع میں ضرور شریک ہوں ۔ اجتماع گزرنے کے بعد حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم نے وہ محبین اور ساتھی جنہوں نے دن رات کر کے اجتماع کے انتظامات ، کو سنبھالا اور تمام خدمات سر انجام دیئے ۔ حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم نے ان تمام حضرات کو بلایا ان حضرات کا نہایت اکرام کیا شکریہ ادا کیا ۔ اور ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ نہایت خوبصورت جائے نماز اور تسبیح کا ہدیہ دیا ۔ جسے پا کر ہر خدمت ، والا نہایت مسرور اور خوش تھا اور اپنی قسمت پر ناز کر رہا تھا ۔  

Monday, January 4, 2016

خوش قسمت ہو جو تسبیح خانہ میں ہو

خوش قسمت ہو جو تسبیح خانہ میں ہو :۔


مولانا ظہور احمد بھگوی صاحب رحمۃاللہ علیہ بڑے اللہ والے گزرے ہیں ان کے ایک خادم منیر احمد بہت مزاحیہ تھے ، ایک دن منیر احمد اپنے پیر سے کہنے لگے آپ کے اتنے امیر امیر مرید ہیں کسی کو کہہ کر مجھے حج تو کروا دیں ۔ مولانا ظہور احمد بھگوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر تو آئندہ سے مذاق کرنا چھوڑ دے تو میں بات کرتا ہوں ۔ حتیٰ کہ یہ بات اسٹامپ پیپر پر لکھی گئی اب حضرت رحمۃاللہ علیہ نے ایک مرید کو حج کا کہہ دیا ۔انہوں نے سعادت سمجھی کہ ہمارے مرشد کا حکم ہے اس لئے انہوں نے حج کا انتظام کیا ۔ اس وقت حج کیلئے مکہ بحری جہاز سے جانا ہوتا تھا حضرت کیساتھ دو تین خدام اور بھی تھے منیر احمد بھی حضرت کے ساتھ تھے اب حج کیلئے گئے حج کیا حلق کرایا حلق سرمنڈوانے کو کہتے ہیں اس کے بعد احرام کھولا احرام کھول کر پھر طواف زیارت کرنے گئے رمی کی ۔
ہن رب نال گلاں کرن دے :۔ واپسی میں جب منیر احمد گدھے پر سوار ہوا تو کہنے لگا ۔ مڑ ظہور احمد ! ہن رب نال گلاں کرن دے ۔ مولانا ظہور احمد بھگوی صاحب رحمۃاللہ علیہ کہنے لگے تو پھر مذاق کر رہا ہے ؟ منیر احمد کہنے لگا ناں ! ناں ! پھر اللہ سے کہنے لگایا اللہ ! ساڈے جھنگ دا اک رواج اے جیڑھا جنھا وڈا خبیث ہوندا اے جنا وڈا مجرم ہوندا اے ،اس دا منہ کالا کر کے انہوں کھوتے دے بیڈھاندے نیں ۔ طے سر وی منڈوادے نیں ۔ اللہ پاک سر دے وال وی گئے طے کھوتے اتے وی بہہ گیا ۔ مڑ ہونٹر بخشش نہ ہوئی طے گل نہ بنٹریں ۔ مولانا ظہور احمد بھگوی صاحب رحمۃاللہ علیہ کہنے لگے ۔ تو مڑ بکواساں شروع کر دیتیاں ۔ منیر احمد کہنے لگا ناں !ناں ! ظہور احمد ہن رب نال گلاں کرن دے بس اب یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں ایک صاحب کمال درویش وقت کے ابدال وہاں سے گزر رہے تھے کیونکہ جتنی بھی باکمال ہستیاں ہوتی ہیں حج پر مکہ میں ضرور ہوتی ہیں ۔ وہ وہاں سے گزرنے لگے تو کہنے لگے بھئی کیا کر رہے ہو؟ اس کو باتیں کرنے سے نہ روکو ۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ جس کیفیت کے ساتھ یہ رب سے باتیں کر رہا ہے اور رب کی رحمتیں اس پر اتر رہی ہیں جب انہوں نے یہ بات کہی تو مولانا ظہور احمد بھگوی صاحب رحمۃاللہ علیہ فرمانے لگے ۔ بس ہن گلاں کر بس چھوڑ تو جان تیرا رب جانے جس کو رب سے باتیں کرنے کا سلیقہ آ گیا وہ پا گیا اس کا کام بن گیا ۔

Wednesday, December 2, 2015

اللہ سے باتیں کرنے کا انعام

اللہ سے باتیں کرنے کا انعام  :۔


اللہ سے باتیں کرنے کا انعام  :۔ ایک اللہ والے خط میں لکھتے ہیں اکتوبر 2005ء کے قیامت خیز زلزلے کے متاثرین کو مفت معاوضے کی ادائیگی کیلئے حکومت نے یونین کونسل کی وساطت سے سرکاری ملازمین پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دیں جو آرمی کی معاونت سے زلزلہ سے متاثرہ گھرانوں کو معاوضہ اور Death Clime  جاری کرتی تھی ۔ راقم بھی ایک ایسی ٹیم کا چیئرمین مقرر ہوا ، ٹوٹے ہوئے مکانات کے معاوضے کی ابتدائی قسط پچیس ہزار روپے اور ایسے گھرانے جن کے ہاں اموات ہوئی تھیں ان کے لئے فی آدمی ایک لاکھ روپے Death Clime مقرر ہوا۔ Death Clime کا ایک لاکھ روپے والا چیک گم ہو گیا ۔ میں بہت پریشان ہوا کیونکہ وہاں تو جعلسازی کا خطرہ تھا ۔ تمام نظام ڈسڑب تھے ، زلزلے نے سب کچھ تہہ و بالا کر دیا تھا ۔ ایسا چیک کوئی بھی کیش کرو اسکتا تھا ۔ میں سوچ رہا تھا کہ کل ڈپٹی کمشنر کو مکتوب لکھوں گا کہ فلاں نمبر کا چیک منسوخ کر دیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بندہ اس چیک کو کیش کر وا لے ۔دو تین روز کے بعد اچانک میں نے واسکٹ چیک کی تو وہ چیک میری جیب میں موجود تھا حالانکہ میں پہلے چیک کر چکا تھا ۔ کوئی بندہ ڈال گیا تھا ۔ اللہ جل شانہ نے کسی جن کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ جاؤ وہ چو ر لے گیا تھا اس چور کی واسکٹ سے اس کی واسکٹ میں ڈال دیں ۔ رب آقا ہے ۔ ساری خدائی اس کے ماتحت ہے ۔ رب کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ رب سب کچھ کر سکتا ہے اس کے بعد وہ صاحب خط میں لکھتے ہیں کہ " میں نے اپنی سوچ کے دہارے بدل دیئے۔"
غیبی امداد کا دوسرا واقعہ :۔پہلی قسط تقسیم ہونے کے بعد دوبارہ ڈی سی آفس مظفر آباد گیا تاکہ مزید رقم ، چیک لا کر فہرست کے مطابق تقسیم کروں ۔ مظفر آباد ڈی سی آفس سے پچیس لاکھ روپے کیش اور پندرہ لاکھ روپ کے Death Clime چیک لے کر میں نے اپنے کپڑے کے تھیلے میں پیک کر کے اپنی موٹر سائیکل کے پیچھے رک دیئے تاکہ نیشنل بینک سے وہ Death Clime  چیک کیش کر لوں جب میں اپنے چچا کے گھر پہنچا ، تو دیکھا کہ موٹر سائیکل سے تو وہ تھیلا جو پیچھے  باندھا ہوا تھا غائب تھا ۔ جس تھیلے میں پچیس لاکھ روپے نقد اور پندرہ لاکھ روپے کی چیک تھے ۔
گمشدہ 25 لاکھ نقد اور 15 لاکھ کے چیک کی تلاش :۔ اب میں اسی راستے سے واپس ڈی سی آفس کی جانب سے روانہ ہوا جہاں سے آ رہا تھا ۔ راستے میں جگہ جگہ موٹر سائیکل کھڑی کر کے بازار میں ، دکانداروں سے اور دیگر پیدل چلنے والے افراد سے پوچھتا رہا کہ آپ نے یہاں روڈ پر کوئی گرا ہوا تھیلا تو نہیں دیکھا ؟ سب نے انکار کر دیا ۔
حواس باختہ کی رب سے فریاد:۔ ایک لمحے کیلئے ایسے محسوس ہوا کہ میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں کیونکہ اتنی بڑی گمشدہ رقم نے مجھے حواس باختہ کر دیا تھا ۔ میں کافی پریشان ہو گیا ۔ میں جب تلاش بسیار کے باوجود مکمل مایوس ہوا تو ہجوم سے ذرا ہٹ کر کھڑے ہو کر رب سے باتیں کیں کہ " اے اللہ اگر میں نے زندگی میں کوئی ایسا کام کیا جو تجھے پسند ہو تو مجھ پر رحم کر کیونکہ میں اب مجبور ہوں اور میری ساری جائیداد بھی اتنی نہیں کہ میں رقم کی ادائیگی کر سکوں اور پھر بات یہ ہے کہ مجبور لوگوں کا مال ہے اور رقم کی گمشدگی پر میرا کوئی یقین بھی نہیں کرے گا ۔ یااللہ تو ہی میرا مولا ہے ۔ بس تو ہی مجھ پر کرم فرما ۔ ( "اللہ والوں ! اللہ سے باتیں کرنا سیکھ لو۔")
اور میری رقم مجھے مل گئی :۔ وہ صاحب خط میں مزید لکھتے ہیں کہ دعا مانگ کر میں اسی راستے پر ایک بار پھر موٹر سائیکل لے کر نکلا جس راستے پر پہلے ڈھونڈ ڈھانڈ کر آیا تھا ۔ اسی راستے میں لڑکوں کی ایک ٹولی کے پاس رکا ، ان سے پوچھا یہاں اس رنگ کا کوئی تھیلا تو نہیں دیکھا ؟ تو ان میں سے کسی نے کہا ہاں دیکھا ہے ۔ ابھی کوئی 30 منٹ پہلے ایک لڑکا وہ تھیلا فلاں خیمہ بستی میں لے کر گیا ہے ۔ میں اس لڑکے کی نشاندہی پر اس بچے کے ساتھ خیمہ بستی گیا ۔ متعلقہ خیمے کے باہر کھڑے ہو کر آواز دینے لگا کہ وہ میرا تھیلا جو تمہارے بچے کو ملا ہے مجھے واپس دو اور وہ تھیلا اس رنگ کا ہے ۔ اندر خاتون موجود تھی ، میں نے اس خاتون سے کہا کہ ابھی کچھ دیر پہلے تمہارا بچہ جو تھیلا لے کر آیا ہے وہ میرا ہے وہ مجھے دے دو ۔
رقم صحیح سلامت تھی :۔ 30 سیکنڈ کے انتظار کے بعد دوبارہ اس خاتون کے ہاتھ میں وہی تھیلا تھا اور بالکل کھلا ہوا نہیں تھا ۔ اور اس میں وہ سب کچھ موجود تھا جو میرا تھا اور جس کا میں امین تھا اور جو مجھے زلزلہ سے متاثرہ بے گھر لوگوں تک پہنچانا تھا ۔ آگے لکھتے ہیں کہ تھیلا دیکھ کر بے اختیار میری آنکھوں سے شکر کے آنسو نکلے ، سبحان اللہ ! سچے دل سے اور رزق حلال کھا کر مانگی ہوئی دعا کبھی رد نہیں ہوتی ۔ آگے لکھتے ہیں میری امانت مجھے مل گئی ۔ وہ لڑکا جس نے تھیلے کی نشاندہی کی تھی پہلے اس سے جب میں پہلے چکر پر آیا تھا تب بھی میں نے اس سے پوچھا تھا اس نے تب بھی انکار کیا تھا  ۔لیکن دعا کے بعد اس نے نشاندہی کی ۔ 

Tuesday, November 3, 2015

نور بصیرت اور نور بصارت میں فرق

نور بصیرت اور نور بصارت میں فرق:۔



نور بصیرت اور نور بصارت میں فرق:دل کی آنکھ سے دیکھنا نور بصیرت ہے اور ظاہری آنکھ سے دیکھنا نور بصارت ہے اور دل کی آنکھ کے حصول کیلئے اپنے آپ کو کسی فقیر کی غلامی میں مکمل سچائی سے دینا ہو گا  نفس کی خواہشات کو ختم کرنا ہو گا ۔ اس فقیر پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے ہر مشورے پر عمل کرنا ہو گا ۔ اس کے بعد ہی نور بصیرت سے آپ منور ہو سکیں گے۔
مرشد ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان: میرے حضرت سیدمحمد عبداللہ ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے !جس کا مرشد اس کو کسی کام سے روک نہ سکے اور اس کو ڈانٹ نہ سکے یا اس کو کسی چیز سے منع نہ کر سکے اور اس کو کسی کام کا حکم نہ کر سکے تو وہ مرید سمجھ لے کہ وہ ابھی کچا ہے اور کچا گھڑا کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ پکاتب ہوتا ہے جب مشقتوں کی آگ میں آتا ہے ۔ کسی چیز سے روکنا مزاج کیخلاف تو ہے مگر روکنے سے منع کرنے سے مزاج ٹوٹتا ہے ۔  منع کرنے سے اپنا شریکہ ٹوٹتا ہے اور اپنی فیملیاں ٹوٹتی ہیں ، اپنے رواج ٹوٹتے ہیں ، اندر کے مزاج ٹوٹتے ہیں ، جب یہ سب ٹوٹتے ہیں تو پھر گھڑے کو آگ ملتی ہے اور اس آگ سے وہ گھڑا پکا ہوتا ہے۔
سڑا ہوا عاشق اور گھڑا:ایک سڑا ہوا عاشقق جا رہا تھا ایک حسینہ کے سر پر گھڑے کو دیکھ کر کہنے لگا !واہ گھڑے تو ہم سے بھی اچھا ہے کہ حسیناؤں کے سر کا تاج بنا ہوا ہے ۔ گھڑا کہنے لگا ! میرے تاج بننے کے پیچھے میری مشقتوں کو بھی دیکھ۔ انسان کہتا ہے میں مشقتیں بھی نہ کروں اور حسیناؤں کے سر کا تاج بھی بن جاؤں۔
ابراھیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کا اپنے وزیر کو جواب: ابراھیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے وزیر کی بات سن کر اپنی سوئی دریا میں پھینک دی اور پھینک کر کہنے لگے ! اے مچھلیو جس رب کو تم مانتی ہو ، اس رب کو میں بھی مانتا ہوں، مجھے میری سوئی واپس کر دو ، اللہ اکبر ! جو اللہ کا ہو جاتا ہے ، اللہ اس کا ہو جاتا ہے ، ساری مچھلیاں منہ کے اندر سوئیاں لے کر پانی کی سطح پر آئیں ۔ کوئی سونے کی سوئی لیکر آئی ، کوئی چاندی کی سوئی لیکر آئی ، ایک مچھلی لوہے کی سوئی لے کر آئی ، ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کہنے لگے ہاں میری سوئی یہ ہے ۔ پھر اپنے وزیر کی طرف مڑے جس نے واپس رعایا میں جانے کیلئے کہا تھا،ان سے فرمانے لگے ! اب بتا بڑی بادشاہت کونسی ہے ؟ وزیر کہنے لگا ہاں واقعی آپ کی بادشاہت بڑی ہے ۔ ارے اللہ والو! سچ کہہ رہا ہوں جس کو اللہ کے ساتھ باتیں کرنا نصیب ہو جائے وہ خوش قسم ہے اور جس کو اللہ کے ساتھ باتیں نصیب نہیں ہوئی تو سمجھ لو رب ناراض ہے ۔ وہ تم سے بات کرنا پسند نہیں کرتا وہ تمہاری کچھ سنناپسند نہیں کرتا جس کو رب کے ساتھ راز و نیاز نصیب ہو جائے وہ شخص خوش قسمت ہے ، مبارک باد کا مستحق ہے ۔ نور بصیرت کی روشنی دیکھنے کے بعد وہ وزیر کہنے لگا مجھے اب پتہ چلا ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کہ آپ کی بادشاہت بہت بڑی ہے ۔ آپ کا تخت بہت بڑا ہے ۔ آپ نے بلخ کی حکومت چھوڑی ہے بلخ(چیچنیاں) کو کہتے ہیں ، اس کا نام کوہ قاف بھی ہے  کوہ قاف کو اللہ نے بہت حسن و جمال دیا ہے ۔ ابراھیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے بلخ کی حکومت اللہ کی رضا کیلئے چھوڑی ۔ کسی غرض اور طمع کیلئے نہیں چھوڑی۔
فقیر کی بات کو سن لیں جو اللہ کیلئے حکومت کو چھوڑے گا ۔ حکومت سے مراد تاج و تخت نہیں بلکہ ذاتی اختیارات ہیں جیسے ! جھوٹ پر اقتدار تھا میں جھوٹ بول سکتا تھا، دھوکے پر اقتدار تھا میں دھوکہ دے سکتا تھا، فریب پر اقتدار تھا میں فریب کر سکتا تھا، چوری پر اقتدار تھا میں چور ی کر سکتا تھا، حرام پر اقتدار تھا میں حرام کام کر سکتا تھا ، کسی کے قبضہ پر اقتدار تھا میں قبضہ کر سکتا تھا ، مجھے فیشن پر اقتدار تھا فیشن کر سکتا تھا ، مجھے نافرمانی پر اقتدار تھا میں نافرمانی کر سکتا تھا ، مجھے ترکی بہ ترکی جواب دینے پر اقتدار تھا میں جواب دے سکتا تھا مگر یااللہ ! میں نے تیری خاطر یہ سب نہیں کیا ،  ایسا شخص قیامت کے دن ابراھیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کیساھ کھڑا ہو جائے گا کہ اسے اقتدار حاصل تھا مگر اس نے اللہ تعالیٰ کیلئے اپنا ذاتی اقتدار قربان کیا ، اقتدار چھوٹا بھی ہوتا ہے اور اقتدار بڑا بھی ہوتا ہے ۔کوئ پانچ بندوں کا حاکم ہے ،کوئی پچاس بندوں کا حاکم ہے ، کوئی علاقے کا حاکم ہے ، کوئی شہر کا حاکم ہے، کوئی ملک کا حاکم ہے۔ چاہے وہ حاکم چھوٹا ہو یا بڑاہو۔
تسبیح خانہ میں آنے والے لوگ:کسی شعبے کے بڑے افسر ہیں یہاں درس سنتے ہیں اور اس درس کے بعد اللہ پاک نے باتیں کرنے کا سلیقہ عطا فرما دیا ، بڑے مالدار تھے ۔ بڑی گاڑیاں تھیں ، بڑ ا تخت تھا، بڑی حکومت تھی،بہت اقتدار تھا۔ کہنے لگے ! اگر آپ مرشد نہ ہوتے تو میں یہ بات کبھی نہ بتاتاکہ میری جیب میں اتنے پیسے نہیں تھےکہ میں وین کا کرایہ ادا کرتا ۔ ایک سٹاپ سے دوسرے سٹاپ کیلئے ویگن دس روپے لیتی ہے اور میرے پاس دس روپے بھی نہیں تھے ۔ میں گلشن راوی سے اکیلا پیدل چل پڑا ، پسینے سے شرابور ہو گیا لیکن میں نے کہا کہ میں نے درس میں ضرور جانا ہے بس اس لئے مجھے دیر ہو گئی ، یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ حضرات کی قربانی کی برکت سے اللہ پاک لوگوں کی دل و دماغ اور دین و دنیا میں انقلاب پیدا کر رہا ہے ۔ گھروں کے گھروں کی بساط پلٹ رہی ہے ، ایک صاحب کے پاس کسی کی امانت 50 ہزار روپے تھے اس کے وہ پیسے راستے میں چوری ہو گئے تو اس نے اللہ سے باتیں کیں اور اللہ سے عرض کیا یاللہ میری کوئی ذاتی غرض نہیں پھر یہ پچاس ہزار روپے کیوں گم ہوئے ؟اتنی رقم میں کہاں سے مہیا کروں گا ؟ اسی ادھیڑ پن میں تھا کہ اللہ کی مدد آئی ، وہاں موجود ایک شخص نے مجھے اپنی جیب سے پچاس ہزار روپے نکال کر دیئے ۔ اور کہنے لگے یہ رقم میں نے احتیاطاً اپنے ایک دو عزیزوں کیلئے رکھی تھی ۔ حالانکہ ایسا بالکل نہیں تھا اس شخص نے فریب کیا تھا ۔ یہ تو بس میرے مولا کا کرم تھا کہ وہ چرائی ہوئی رقم واپس کرنے پر مجبور ہو گیا ۔ اس کے دل کی دنیا پلٹ گئی ، اللہ نے اس کے دل میں ڈال دیا کہ لوٹی ہوئی رقم واپس کر ، یہ میرا دیانتدار بندہ ، اس پر امتحان آ گیا ہے مجھ سے باتیں کر کے اپنے مسائل حل کرواتا ہے۔

Wednesday, October 7, 2015

دل کی آنکھیں تجھے فقیروں سے ملیں گئی

دل کی آنکھیں تجھے فقیروں سے ملیں گئی:۔

مالک بن دینا رحمۃاللہ علیہ کا اپنے رب سے باتیں کرنا :۔ مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ کشتی میں جارہے تھے ۔ کچھ دینار ان کی جیب میں تھے بعض روایات میں آتا ہے جیب میں کچھ نہیں تھا۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ان کے دینار سمندر میں گر گئے تھے۔ اب کشتی والا سب سے کرایہ لے رہا تھا ۔ جب ان کی باری آئی تو جیب میں ہاتھ ڈالا جیب میں کچھ نہیں تھا ۔ کشتی بان نے کہا پیسے ؟ مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ کہ لگے رکیں ! میں کرایہ دیتا ہوں ۔ پہلے اوروں سے لے لو یہ کہہ کر دل ہی دل میں اللہ سے باتیں کرنا شروع کر دی ۔اے اللہ تو جانتا ہے فلاں موقع پر حرام کا موقع آیا تھا ۔ میں نے وہ موقع تیری وجہ سے چھوڑ دیا تھا۔اللہ اس وقت مجھے کوئی نہیں دیکھ رہا تھا ۔ اس وقت میری نثر صرف تیری محبت پر تھی۔ یاللہ ! فلاں موقع پر کچھ ناجائز لقمہ میرے سامنے آیا تھا ، میں نے وہ لقمہ تیری وجہ سے چھوڑ دیا تھا۔ حالانکہ مجھے اس وقت بھوک بھی بہت شدید لگی ہوئی تھی۔ اے اللہ ! میری نظریں کبھی حرام کیلئے نہیں اٹھیں ۔ میں نے اپنا سر صرف تیری رضا کے لئے جھکایا تھا ۔ اللہ پاک یہاں ارد گرد پانی ہے ، یہاں میرا کوئی بھی نہیں ہے ۔ اے اللہ پاک مجھے یہ کشتی سے اتار تو نہیں سکتے ، مجھے کشتی سے پھینک تو نہیں سکتے لیکن جب کنارے پر پہنچیں گے تو میرا گریبان ضرور پکڑیں گے اور اے میرے اللہ پاک! اور اے اللہ پاک! میرے ساتھ تیرے نام کی محت ہے ۔ لوگ مجھے ولی اور درویش کہتے ہیں ۔ یااللہ مجھے آج کی ذلت سے بچا لے ، اس طرح اللہ پاک سے باتیں کرنا شروع کیں اور اللہ پاک سے راز و نیاز شروع کیا ۔ روایات میں آتا ہے کہ سمندر کی مچھلیاں اپنے منہ میں اینار لے کر کشتی کے چاروں طرف سے پانی کی سطح پر آ گئیں ، اور ہر مچھلی کی یہ خواہش تھی کہ مالک بن دنینار رحمۃاللہ علیہ میرا دینا لے لیں ۔
احسانا ت گنواؤ:۔ میرے شیخ حضرت سید محمد عبداللہ ہجویری رحمۃاللہ علیہ فرماتے تھے ! اللہ جل شانہ کو اس کے احسانات گنواؤ کہ یااللہ تو نے تو یونس علیہ السلام پر اتنا احسان کیا کہ ان کو مچھلی کے پیٹ سے نکال دیا تھا ۔ یااللہ پاک ایوب علیہ السلام کی بیماری سے صحت یاب ہونے کی کوئی امید نہیں تھی ۔ الہیٰ تو نے انہیں صحت یاب کر دیا تھا ۔ اللہ پاک تو نے نوح علیہ السلام کو سمندر کے طوفان سے بچادیا تھا۔  موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے لشکر سے بچادیا تھا۔ الہیٰ غار کے دہانے پر مکڑٰ کو کس نے کہا تھا کہ جالا تان ؟ اللہ غار کے دہانے پر کبوتر ی کو کس نے حکم دیا تھا کہ انڈے دے ۔ اے اللہ پاک! میں وہ تو نہیں ہوں لیکن تیرے حبیب ﷺ کا ادنیٰ امتی ہوں جس طرح تو نے ان سے محبت کی تھی اور جس طرح تو نے ان کی مدد کی تھی ، اے میرے اللہ پاک آج میری مد د کو آ جا۔ اللہ پاک آج میری مدد کر دے ۔ اللہ پاک آج مجھے  اس مشکل سے نکال دے ۔ اللہ پاک مجھے اس پریشانی سے نجات دے ۔ خط میں وہ صاحب لکھتے ہیں کہ رقم کم ہونے کی وجہ سے میں اللہ پاک سے زاریاں کرنے لگ گیا اور اللہ پاک سے باتیں کرنا شروع کر دیں کہ اللہ پاک تو نے مجھے لاکھوں کروڑوں کا امین بنا یا ہے اور مجھے ان لٹے ہوئے بے گھر گھرانوں کی سرپرستی کرنے کی سعادت بخشی ہے ۔ یاللہ پاک میں نے تیرے بندوں کے ساتھ کوئی طمع نفسانی نہیں رکھی ۔ اپنی خواہشات کو کبھی پورا نہیں کیا ۔ انشاءاللہ ان بے گھروں کی امانت ان تک پوری لوٹاا ؤ نگا۔

ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کی فقیری:۔ ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے بادشاہت چھوڑی ملک چھوڑاا ، مال چھوڑا ، نسل در نسل ان کی خاندانی حکومت چلی آ رہی تھی جیسے شاہ ایران کی خاندانی حکومت تھی اور شاہ ایران سے تقدیر نے اقتدار چھینا ۔ اور اراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے بادشاہت چھوڑٰ ہے ذرا ان کا حال تو دیکھیں کہ کس حال میں ہیں ؟ آئے دیکھا فقرو فاقہ ، تنگ دستی ، مفلسی اور غربت ، عجیب حال ہے ۔ وزیر کہنے لگے ! آپ نے یہ کیا حال بنا لیا ہے ؟ آپ کی تو آبا اجداد کی حکومت تھی ، بڑٰ سلطنت تھی ، سب کچھ چھوڑ دیا ، یہ آپ کو کیا ہوا؟ ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ نے سر جھکایا ہوا تھا سر اٹھا کر کہنے لگے ! میں نے چھوٹی حکومت چھوڑی اب اللہ پاک نے مجھے اس سے بڑی حکومت دے دی۔ وہ وزیر کہنے لگاکہ یہ کیسی حکومت ہے ؟  آپ کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں اور آپ خود سوئی سے اپنے کپڑے سی رہے ہیں اور فاقہ آپ کے لباس سے عیاں ہے۔ پہلے تو آپ زرق برق لباس میں ہوتے تھے ۔ تاج و تخت آپ کے زیر نگیں ہوتے تھے ۔ لوگ آ کر آپ کو فرشی سلام کیا کرتے تھے ۔ آپ اپنی آنکھ کے اشارے معاف کردیتے تھے اور جسے چاہتے تہہ خانے میں قید کر دیتے تھے ۔ وہ حکومت تھی ۔ وہ اقتدار تھا۔ یہ آپ کیا کہتے ہیں کہ میں نے چھوٹے اقتدار کو چھوڑ کر بڑے اقتدار کو لے لیا ہے ۔ یہ کیا ہے ؟

ظاہری چکا چوند کے مارے:۔بعض لوگ فقیروں کے ساتھ چہرے کی آنکھوں کو لے کر چلتے ہیں اور جب چہرے کی آنکھوں سے انہیں کچھ نظر نہیں آ تا تو  پھر اپنی مرضی کے فتوے لگا دیتے ہیں ۔ چہرے کی آنکھیں کچھ نہیں ہوتیں ، دل کی آنکھیں اللہ پاک سے مانگنی چاہئیں ۔ چہرے کی آنکھیں تو تجھے وہ دکھا دیتی ہیں ۔ جو بعض اوقات بند بعد میں خود کہتا ہے کہ ارے ۔۔ !! مجھے تو غلط فہمی ہوئی تھی۔ میں نے دیکھا کیا تھا ؟ میں نے دیکھا تھا ؟ ہوا کیا ہے ؟ اور دل کی آنکھیں کبھی تجھے دھوکا نہیں دیں گی۔ اور وہ دل کی آنکھیں تجھے فقیروں سے ملیں گی ۔ (جاری ہے)

Wednesday, September 2, 2015

جن کے ماتھے پر اللہ غنی لکھ دیتے ہیں

جن کے ماتھے پر اللہ غنی لکھ دیتے ہیں :۔


ایک خوشخبری ہے کوئی بندہ صبح اٹھتے ہی اگر اللہ جل شانہ کو یاد کرتا ہے اور اس کے حبیب حضور سرور کونین ﷺ کو یاد کرتا ہے ۔ اللہ پاک اور اس کے محبوب ﷺ کی محبت میں ڈوب جاتا ہے ، تو اس کے ماتھے پر ایک لفظ غنی لکھ دیا جاتا ہے اور جسے میرا اللہ پاک غنی کر دے کائنات کا کوئی شخص اس کو فقیر نہیں کر سکتا ۔ ساری دنیا کے لوگ اس کو دھوکا دےدیں ، ساری دنیا کو لوگ اس کے ساتھ فریب کریں ، ساری دنیا کے چالاک چالاکی کریں ، مکار مکر کریں ، شریر شرارتیں کریں ، چور چوریاں کریں ، بدمعاش ڈاکے ڈالیں اللہ پاک کی قسم اس کو کوئی فقیر نہیں کر سکتا جس کو ہمارا رب غنی کرنا چاہے۔
اللہ پاک ماتھے پر فقیر لکھ دیتے ہیں :۔
جو شخص صبح اٹھتے ہیاللہ پاک کی ذات اعلیٰ کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور اس کے حبیب سرور کونین ﷺ کی محبت کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور دنیا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے وہ عجیب معاملے سے دوچار ہو جاتا ہے ، اس کے ماتھے پر فقیر کا لفظ لکھ دیا جاتا ہے ۔ ساری دنیا کے دولتیں ، دنیا کا سارا مال ، دنیا کا اقتدار اسے اللہ پاک کے خزانوں سے لینے والا بنا نہیں سکتا اور اس کو اللہ پاک سے دلوا نہیں سکتا ، وہ ہمیشہ فقیر رہے گا ۔
 غیب کے خزانے :۔
یہ ایک کھلی حقیقت ہے میر ارب جس کو دینا چاہتا ہے اور جس کو  دینے  پر آتا ہے غیب کے خزانے عطا کر دیتا ہے اور جس کی نظر مخلوق کی جیب پر ہوتی ہے وہ لے تو لیتا ہے لیکن لے کر پلتا نہیں ہے جس کی نظر اللہ پاک کے خزانے پر ہوتی ہے وہ لیتا بھی ہے وہ پلتا بھی ہے اس کی نسلیں بھی پلتی ہیں ۔
حرام کبھی نہیں پلتا :۔
مجھے ایک صاحب کہنے لگے ! کسی دور میں میں وزیر رہا ، بڑا نام تھا ، بڑا مال کمایا ، بڑا اقتدار آیا،  بہت کچھ آیا مگر بچا کچھ نہیں ۔  ہتھیلی پرپھونک مار کر کہنے لگے سب کچھ اڑ گیا ۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ میں نے جوا باً کہا! وجہ یہ تھی کہ کثرت آئی تھی ، برکت نہیں آئی تھی ۔ میں اکثر یہ مثال دیا کرتا ہوں ۔ کتیا کتنے بچے دیتی ہے ؟ آٹھ بچے ! اور بکری ایک یا دو بچے ۔ ہزاروں میں کوئی ایک بکری ہو گی جو تین بچے دیتی ہے کہ دنیا دار الاسباب ہے اصولاً تو ریوڑ کتیا کے ہونے چایئیں کیونکہ کتیا بچے  زیادہ دیتی ہے ۔ یاد رکھنا ! حرام کبھی پلتا نہیں ۔ حرام کبھی سنبھلتا نہیں ، حرام کبھی چلتا نہیں ہے ۔
 خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃاللہ علیہ کی وضاحت :۔
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃاللہ علیہ بڑے اللہ والے ہو گزرے ہیں چشتی سلسلے کے درویش ہیں ۔ ان کے پاس ایک بندہ آیا کہنے لگے ! حضرت بکری کے ریوڑ کیوں ہوتے ہیں ؟ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا ! اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیشہ قربانی حلال جانور دیتا ہے ، بکری قربانی دیتی ہے اپنا سب کچھ تن، من، دھن ،کسی اور کیلئے لٹا  دیتی ہے پھر اللہ پاک اس کی راہ جو قربانی دیتا ہے اس کو سدا بہار رکھتا ہے سدا زندہ رکھتا ہے ۔
قربانی دو ۔ سدا بہار رہو :۔
یہ  قدرت کا اصول ہے جو قربانی دیتا ہے اس کو سدا بہاررکھتاہے یہ رب کا وعدہ ہے ۔ وہ قربانی اس گرمی کے اعتبار سے دیں ، وہ قربانی اپنے گھر چھوڑنےکے اعتبار سے دیں ، ساری مخلوق روک رہی ہے کہ نہ جاؤ ، اس اعتبار سے قربانی دیں ، وہ قربانی ساری مخلوق اعتراض کر رہی ہے اس کی کسی سنت پر  ، اس کی کسی زندگی پر ، وہ اس پر قربانی دیں ، وہ قربانی اس کی تسبیح پر دیں ، وہ قربانی اس کے مراقبہ پر دیں ، وہ قربانی اس کے ذکرپر دیں ، وہ قربانی اس کی دینی زندگی پر دیں ، وہ قربانی اس کے حجاب پر دیں ، وہ زندگی کے جس شعبہ میں قربانی دیں ، اللہ پاک قربانی والے کو سدا بہار رکھتا ہے اور پالتا ہے ، بظاہر اسماعیل علیہ السلام ذبح نہیں ہو رہے ہیں لیکن قربا نی پوری دی ، چھری کے نیچے پورے آئے اور چھری چل بھی گئی اور خون کا فوارہ بھی نہ  نکلا ، کیونکہ اللہ پاک نے قربانی لینی ہی نہیں تھی ۔ اللہ پاک قربانیاں مانگتا ہے ۔ لیتا نہیں ہے  ۔ ہم قربانیاں دینے کے قابل ہی کہاں ہیں ؟
اللہ پاک قربانی کیوں مانگا ہے ؟
اللہ پاک  نے قربانی مانگی اور قربانی اس لیے مانگی کہ بندے کو پرکھے کہ یہ میرا بندہ ہے یا اسباب کا بندہ ۔ کس کا ؟عبداللہ یا عبد دینا رہے ،  یا عبد درہم ہے ، نوٹ کا بندہ ہے ، ریال کا بندہ ہے ، ڈالر کا بندہ ہے ، کس کا بندہ ہے ؟ یہ دنیا کو اللہ پاک نے اسباب کے ساتھ جوڑا ہے ۔ ساتھ اسباب بھی لگا دیئے ، مجبوریاں بھی لگا دیں ، سب کچھ لگانے کے بعد میرے رب نے کہا ! ٹھیک ہے اب میں دیکھتا ہوں کون میر ا بن کر آتا ہے ۔
میں جنات سے نہیں اپنے رب سے باتیں کر رہا تھا :۔
حضرت میا  ں شیر محمد صاحب رحمۃاللہ علیہ شرقپور شریف  بڑے اللہ والے تھے ۔ ان سے ایک دفعہ کسی بندے نے کہا کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ! آپ ایک دفعہ کہیں جا رہے تھے اور آپ باتیں کر رہے تھے لیکن کوئی بندے نظر نہیں آ رہے تھے ، کیا آپ کے ساتھ جنات گفتگو کر رہے تھے ؟  فرمایا ! نہیں میں اپنے اللہ پاک سے باتیں کر رہا تھا ، اللہ پاک کو اپنے دکھ سنا رہا تھا ، اللہ پاک سے اپنی ضرورتیں مانگ رہا تھا اور اللہ پاک  کےساتھ ایسے باتیں کر رہا تھا جیسے میں اللہ پاک کے حضور بیٹھا ہوں ۔ حضرت میا  ں شیر محمد صاحب رحمۃاللہ علیہ شرقپور شریف   فرماتے ہیں کہ " میرا تصور یہ تھا کہ میر ارب ایک عالی شان اونچی کرسی پر بیٹھا ہو اور میں مجبور و پریشان ہاتھ باندھ کے زاریاں کر کے کہہ رہا ہوں کہ اللہ پاک مجھے یہ بھی چائیے ۔ اللہ پاک مجھے یہ بھی چائیے ، اللہ پاک میں پریشان ہوں ، اللہ پاک میری یہ مشکل ہے ، اللہ پاک مجھے یہ تنگی درپیش ہے ، اللہ پاک مجھے یہ دکھ پہنچا ہے ، اللہ پاک مجھے یہ غم لگا ہے ۔ فرماتے ہیں ، میں اللہ پاک کے  سامنے ایسے زاریاں کرتا ہوں اور دونوں ہاتھ باندھے کھڑا ہوتا ہوں ۔ یہ سب بظاہر نہیں ہوتا تھا بلکہ میں جار ہا  ہوتا ہوں اپنے کسی کام سے ، اپنے راستے پر ، لیکن میری دل کی اندرونی کیفیت ایسی ہو ا کرتی تھی کہ جیسے میں اپنے رب سے سچی التجا کر رہا ہوں ۔ حضرت میا  ں شیر محمد صاحب رحمۃاللہ علیہ   نے فرمایا ! میں جنات سے باتیں نہیں کر رہا تھا میں تو اپنے رب سے باتیں کر رہا تھا ۔ 
(جاری ہے )
 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر4















Tuesday, August 25, 2015

علامہ صاحب کے وظائف سے مشکلات کا ازالہ

علامہ صاحب کے وظائف سے مشکلات کا ازالہ:۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلا م علیکم! عبقری میں قارئین کے دلچسپ خطوط پڑھ کر مجھے بھی لکھنے  کا شوق پیدا ہوا کہ میں کس طرح عبقری کے نسخہ جات اور وظائف سے مستفید ہوئی ۔محترم حضرت حکیم صاحب!میں عبقری  رسالے کی 2009ء سے باقاعدہ قاری ہوں ۔ میں نے عبقری کے تمام سابقہ شمارے سنبھال رکھے ہیں ۔ عبقری کی قاری ہونےکے ساتھ ساتھ میں نے اسے اپنے تمام اہل و عیال ، رشتہ داروں اور ملنے والوں میں بھی متعارف کروایا اور اپنے عبقری شمارے انہیں پڑھنے کو دیئے ۔ اس طرح وہ لوگ بھی مستقل عبقری کے قاری ہو گئے ہیں ، عبقری معلومات کا وسیع  خزانہ ہے ، ہم گھر بیٹھے اپنی جسمانی و روحانی مسائل دور کر سکتے ہیں ۔ عبقری ملنے کے بعد ایک تعین ہو گیا ہے کہ ہم نے کون سے اعمال کرنے ہیں ؟ زندگی کے معمولات کیسے گزارنے ہیں   زندگی کی مشکلات ، تکلیفوں ، پریشانیوں ، بیماریوں میں کون سے اعمال کرنے ہیں ۔ میں نے کئی وظیفے اور نسخہ جات خود بھی کئے ان سے فائدہ حاصل کیا اور اپنے جاننے والوں کو بھی کرنے کو کہا ۔ میں نے عبقری میں سے کئی اعمال ، وظیفے ، نسخہ جات اپنی زندگی میں  شروع کیے تو زندگی کی پریشانیاں بھی اللہ رب العزت نے آسانی سے دور فرما دیں ۔ ہمیں کبھی کسی عامل کےپاس جانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی عبقری خود ایک عامل ہے ہمیں سب اعمال کرنے ہیں ۔ اللہ رب العزت اس کا خیر میں آپ سب کو اس کا اجر انشاءاللہ دنیا و آخرت میں ضرور دیں گے ۔ آمین!محترم حضرت حکیم صاحب ! محترم علامہ لاہوتی پراسراری صاحب اور آپ ادارہ کے تمام افراد بے شک دکھی مخلوق کی خدمت کر رہے ہیں اللہ پاک اس نیک مشن میں آپ سب لوگوں کی مدد کرے ۔ "جنات کا پیدائشی دوست'  میرا سب سے زیادہ پسندیدہ مضمون ہے ، اس میں دیئے گئے وظائف میں نے کئے اور اس سے مستفید بھی ہوئی ہوں ۔ جنہیں میں قارئین سے شیئر کرنا چاہتی ہوں ۔
2013 ء میں علامہ لاہوتی پراسراری صاحب کا وظیفہ سبوح قدوس رب الملائكة والروح  شائع ہوا تھا ۔ علامہ لاہوتی پراسراری صاحب! نے اس وظیفے کےبے شمار فوائد لکھے تھے ۔میں نے اسے اپنی بیماری کیلئے شروع کیا، مجھے الرجی ، چھینکیں ، نزلہ وزکام ، پولن الرجی ، خوشبوؤں سے الرجی مٹی دھول سے الرجی تھی جو اسلام آباد کی آب وہوا کی وجہ سے دمہ میں تبدیل ہو گئی ، یہاں موسم بہار  میں پولن الرجی شدید ہوتی ہے میں نے دمہ سے نجات کےلئے یہ وظیفہ کیا ، الحمدللہ !  میں بیان نہیں کر سکتی کہ مجھے کتنی شفاء ملی اب   میںبالکل تندرست ہوں اس وظیفے میں درج مراقبہ میں نے اپنےمخصوص وقت رکھ کر پرسکون انداز میں شروع کیا ۔ ماحول بالکل پرسکون ہوتا کہ دھیاان کسی اور طرف نہ جائے بہترین وقت رات کا ہوتا ہے ، اس عمل سے نہ صرف دمہ کی تکلیف ختم ہوئی بلکہ ساتھ دوسری جسمانی ، تکالیف بھی  دور ہو گئیں ، عمل شروع کرنے سے پہلے میں دعا کرتی تھی نہ صرف اپنی صحت و تندرستی کے لئے بلکہ اپنے اہل و عیال کی شفاء یابی کے لئے بھی ، حیرت انگیز نتائج ملے لیکن سب سے پہلے وظیفہ میں اعتقاد نہایت ضروری ہے اور لکھے طریقے سے کیا جائے ۔
 شوہر کو در پیش مشکلات فوری دور ؛۔
میں علامہ صاحب !  ہی کا دیا گیا سورہ تکویر کی پہلی چار آیات کا عمل کیا ۔ اللہ پاک کے فضل و کرم سے اللہ پاک کے کلام میں بڑی برکت ہے ۔ وہ کام خیریت سے ہو گیا ۔ اسی عمل کو کرنے کیلئے بہت ضروری ہے کہ تصور کیا جائے کہ اللہ پاک ہمیں دیکھ رہا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری کائنات حالت سکون میں ہے ۔ دل و دماغ کو بہت سکون ملتا ہے ۔ آنکھیں بند کر کے دل  میں ایسے دعا کی جائے جیسے ہم اللہ پاک سے ہم کلام ہیں سور تکویر کا عمل درج ذیل ہے ۔
ذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ ﴿١﴾ وَإِذَا النُّجُومُ انْکَدَرَتْ ﴿٢﴾ وَإِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ ﴿٣﴾وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ﴿٤﴾
یہ آیات طاق اعداد میں پڑھ سکتے ہیں تین دفعہ ، سات دفعہ ، گیارہ دفعہ ، جتنا زیادہ پڑھیں گے اتنا زیادہ فائدہ ہو گا ۔ چند دن ، چند ہفتے اور چند مہینے ضرور پڑھیں ۔
دو نفل حاجت کے:۔
دو نفل حاجت والے وظیفے میں بھی بڑی برکت ہے ۔ جب بھی کوئی کام کرنا ہو حتیٰ کہ آپ کو بازار شاپنگ کیلئے بھی جانا ہے تو پہلے نفل حاجات پڑھ کر پھر درود ابراہیمی آگے پیچھے پڑح کر دعا 
لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم سبحان  اللہ  رب العرش  العظیم الحمداللہ رب العالمین  اسالک  موجبات رحمتک وا عزائم مغفرتک  والغنیمۃ  من کل بر والسلامۃ من کل اثم لا تد ع لی ذنبا الا غفرۃہ ولا ھما الا فرجتہ ولا حاجۃ ھی لک رضا الا قضیتھا یا ارحم الراحمین
کر کے اس کام کو دل میں لا کر دعا کریں ، اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جب بھی نفل حاجات پڑھ کر کوئی کام کیا وہ بہت اچھی طرح مکمل ہوا اور کامیابی ملی  اگر کوئی  معمولی کام بھی کرنا ہو تو  پہلے نفل حاجات ضرور پڑھیں ۔
 ماہنامہ عبقری "اگست 2015ء شمارہ نمبر 110" صفحہ نمبر47 





روي عن عبد الله بن أبي أوفى في سنن الترمذي ( 479 ) وسنن ابن ماجه ( 1384 ):
   
صلاة الحاجة     قال: قال رسول الله: من كانت له إلى الله حاجة أو إلى أحد من بني آدم فليتوضأ فليحسن الوضوء ثم ليصل ركعتين ثم ليثن على الله وليصل على النبي صلى الله عليه وسلم ، ثم ليقل : لا إله إلا الله الحليم الكريم ، سبحان الله رب العرش العظيم ، الحمد لله رب العالمين ، أسألك موجبات رحمتك ، وعزائم مغفرتك ، والغنيمة من كل بر ، والسلامة من كل إثم ، لا تدع لي ذنبا إلا غفرته ، ولا هما إلا فرجته ، ولا حاجة هي لك رضا إلا قضيتها يا أرحم الراحمين

The Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him) said: ‘Whoever has need of something from Allaah or any one of His creation, let him do the best of wudoo’ and pray two rak’ahs, then let him praise Allah (SWT) and send Salutations upon Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him)  and say,“There is no god but Allaah, the Forbearing, the Most Generous. Glory be to Allaah, Lord of the mighty Throne. Praise be to Allaah the Lord of the Worlds. O Allaah, I ask You for Your mercy and forgiveness and I ask You for all good things and for safety from all sins. I ask You not to leave any sin without forgiving it, or any distress without relieving it, or any need which it pleases You to fulfil without fulfilling it. O Most Merciful of those who show Mercy”  [Tirmidhi]

Source of Dua version 2:

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ عَنْ فَائِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الْأَسْلَمِيِّ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى اللَّهِ أَوْ إِلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ لِيَقُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ أَسْأَلُكَ أَلَّا تَدَعَ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا لِي ثُمَّ يَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ مَا شَاءَ فَإِنَّهُ يُقَدَّرُ
The Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him) came out with us and said: ‘Whoever has need of something from Allaah or any one of His creation, let him do wudoo’ and pray two rak’ahs, and then say,“There is no god but Allaah, the Forbearing, the Most Generous. Glory be to Allaah, Lord of the mighty Throne. Praise be to Allaah the Lord of the Worlds. O Allaah, I ask You for Your mercy and forgiveness and I ask You for all good things and for safety from all sins. I ask You not to leave any sin without forgiving it, or any distress without relieving it for me.” Then let him ask Allaah for whatever matter of this world or the Hereafter that he wishes, for it will be fulfilled.” [Ibn Maja]




Tuesday, July 14, 2015

کملی والے محمدﷺ کا غلام بن کر تو دیکھ

کملی والے محمد ﷺ کا غلام بن کر تو دیکھ۔

حکیم محمد طارق محمود چغتائی 
کملی والے محمدﷺ اپنی نہیں کسی اور کی بکریاں چرا رہے تھے جبل ثور کا وہ نقشہ آج بھی ان پہاڑوں کو یاد ہو گا!آج بھی آسمان کو وہ حیرت انگیز منظر یاد ہو گا۔ صدیاں گزرنے کہ باوجود جبل ثور کا پہاڑ آج بھی ویسے ہی کھڑا ہوا ہے جہاں پر سرور کونین ﷺ اس امت کو یہ پیغام دے کر گئے ہیں کہ پاؤں میں جوتا نہیں لیکن شان یہ ہے کہ آپ ﷺ کے اشارے سے احد پہاڑ سونے کا بن جائے مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے بہہ نکلیں ! جن کہ اشارے پر اللہ پاک بارہ ہزار کہ لشکر کی خوراک زخیرہ کر دیں ! غم گسار نبی ﷺ نے اپنی امت کہ غریب کو یہ پیغام دیاہے کہ اگر تیرے پاس غربت تنگدستی ہے تیرے بچے زیادہ ہیں تیرا گھر چھوٹا ہے تیری نوکری چھوٹی ہے اور تیرا ذریعہ آمدنی کم ہے تو تم نے پریشان نہیں ہونا کوئی حرج نہیں تیرے حبیب ﷺ کہ پاؤں میں بھی جوتا نہیں تھا ان کہ سر پر بھی کپڑا نہیں تھا لیکن کملی والے ﷺ نے اپنے رب کو نہیں چھوڑا تھا۔آج تو کملی والے ﷺ کا وہ غلام بن جا کہ اگر تیرے ہاں تنگدستی ہے فقرو فاقہ ہے تیری ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں کوئی حرج کی بات نہیں! بس تو محمد ﷺ کی غلامی کو نہ چھوڑ ایک وقت آئے گا جب تیرا رب تیری نسلوں کو بھی پالے گا ۔ تیرا رب تجھے بہت عطا کرے گا! یہی پیغام ہمارے لئے بھی ہے کہ ہر حال میں آقا ﷺ کی غلامی ہی سرخروئی کا باعث ہےشادی ہے تو اس میں یہ پیغام ہے کے جو خوشیاں تجھے تیرے رب نے دیں ہیں تو ان خوشیوں میں آقا کملی والے ﷺ کو بھی یاد رکھ ان کے احسانات کو بھی یاد رکھ اور تجھے جو غم دیا ہے تو دیکھ کے ہمارے آقاﷺ نے بھی غم سہا ہے۔ آقا ﷺ کو بہت سارے غم ملے ہیں۔ ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ بیٹے ہیں ان کی رحلت پر آنکھوں سے زاروقطار آنسو رواں ہیں ان کو ہاتھوں میں لیا ہوا تھا دل میں غم و اندوہ کی کیفیت طاری تھی سرور کونین ﷺ کی بیٹیاں سرورکونین ﷺ کے بیٹے ان کی زندگی میں فوت ہوئے ہیں آپ ﷺ کو ام المومنین  حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کا غم زندگی میں ہی ملا۔ آخر وہ سارے غم جو سرور کونینﷺ کو ملےان غموں میں آپ ﷺ کی کیفیت کیسی تھی؟ اللہ جل شانہ کے ساتھ تعلق کیسا تھا؟ بازار میں کیسے تھے؟ زندگی میں کیسے تھے؟ ہمہ وقت کیفیت کیسی تھی؟ ان ساری کیفیات کو مد نظر رکھ کر چلنا ہی غلامی ہے اور اس لئےغلام مصطفیﷺبنیں ۔
میرے محترم دوستو! کچھ چیزیں ضرورت کے ساتھ لگا کر دی گئی ہیں۔ کھانا ہماری ضرورت ہے، پینا ہماری ضرورت ہے، لباس ہماری ضرورت ہے، پینا ہماری ضرورت ہے، شادی ہماری ضرورت ہے، سردی سے بچنا ہماری ضرورت ہے، گرمی سے بچنا ہماری ضرورت ہے۔ یہ ساری ہماری ضرورتیں ہیں ہمارے ساتھ لگا دی گئی ہیں۔ پھر ضرورت لگا کر اللہ  نے ہمیں ان ضرورتوں کا محتاج اور غلام بھی بنا دیا کہ کھانا نہیں کھائیں تو پیٹ کیسے بھرے گا پانی نہیں پئیں تو پیاس کیسے بجھے گی اب رب اور ضرورت آمنے  سامنے ہے۔ انسان کا اپنا ایک مزاج ہے جہاں سے اس کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں وہ کہتا ہے میں یہاں سے پل رہا ہوں۔ بیوی کہتی ہے میاں اگر دکان پر نہیں جائیں گئے تو بچے کیسے پلیں گئے۔ میاں دفتر میں نہیں جائیں گئے، صنعت اور تجارت میں نہیں جائیں گئےتو بچے کیسی پلیں گئے۔  اور پھر میاں کا خیال بھی یہی ہوتا ہے۔ کہ مجھے اور میرے بچوں کو، میری دکان، دفتر، تجارت،اور صنعت کی تنخواہ پال رہی ہے۔حدیث کہ الفاظ ہیں سرور کونین ﷺ نے فرمایا، مفہوم ہے ! اگر انسان کا یقین ان پرندوں کی طرح ہو جائے کہ پرندے صبح تو خالی ہاتھ جاتے ہیں پھر شام کو ہرے بھرے آتے ہیں اللہ غیب سے ان کو پالتے ہیں اسی طرح اللہ پاک اپنے بندوں کو بھی دست غیب سے عطا فرماتے ہیں۔ اللہ ضرورتیں پیدا ہونے ہی نہیں دیتا۔
ضرورتیں پیدا ہوں گی تو انسان محتاج بنے گا کھانے کا ، پینے کا، اٹھنے کا، بیٹھنےکا، گرمی کا، سردی کا، پیاس کا، ایک دست غیب یہ بھی ہے کہ اللہ بغیر طلب عطا کر دیتا ہے اللہ بغیر خواہش کہ پورا کر دیتا ہے اللہ پاک پھر خواہش کو بھی پیدا نہیں ہونے دیتا اللہ اس کے بغیر ہی زندگی کا نظام چلا دیتا ہے اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب بندا اللہ کا بن جاتا ہے۔ ہر پل، ہر لمحہ،ہر لحظہ اس کی نظر اللہ پر رہتی ہے۔ ایک اللہ والے کے پاس ایک مائی آئی کہنے لگی! حضرت مجھے اللہ اللہ سکھا دیں اللہ والے نے فرمایا تجھے سکھانا آسان ہے انہوں نے مزید فرمایا بچے کو مکتب سکول یا کالج میں پڑھنے کے لئے بھیجتے ہیں خاتون نے عرض کی جی حضرت بھیجتے ہیں تو اللہ والے نے فرمایا بھیجنے کہ بعد کیا تو اس سے غافل ہو جاتی ہے خاتون نے عرض کی نہیں تو اللہ والے نے فرمایا کیا کیفیت ہوتی ہے؟ خاتون نے عرض کیا! حضرت ہر پل میرا دل اس کی کیفیتوں میں اٹکا رہتا ہے کہ اب سو رہا ہو گا یا جاگ رہا ہو گا کہیں چوٹ تو نہیں لگی، کہیں گر تو نہیں پڑا،کہیں کھانا، پیاس، پیشاب کی کیفیت ہو گی تو چھوٹا بچہ ہے اگر پیشاب آیا تو کون استنجاء کرائے گا۔  اگر بھوک لگی تو کون کھانا کھلائے گا اگر پیاس لگی تو کون پیاس بجھائے گا کون کیا کرے گا ہر وقت اس میں ہی دل اٹکا رہتا ہے ۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Thursday, April 30, 2015

نبی کریمﷺ کی انگلیوں سے نکلا پانی افضل ترین۔

نبی کریمﷺ کی انگلیوں سے نکلا پانی افضل ترین۔
شیخ الوظائف حضرت حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی
منافقین کی منفاقت کے بعد صحابہ کا عشق: اچانک تبوک کیلئے جہاد کاحکم جاری ہوگیا۔۔۔۔۔اس عقل والوں کے لئے نکتہ ہے۔۔۔۔! سمجھ والوں کیلئے ایک نکتہ ہے۔۔۔! عشق والوں کیلئے ایک کیفیت ہے۔۔۔ اور دیوانوں کیلئے ایک دل لگی ہے۔۔۔۔۔ جو ہر حال میں اور ہر کیفیت میں چلے گا، دل مانے یا نہ مانے طبیعت چاہے یا نہ چاہے، رزق حالات، کاروبار، صحت اور طبیعت اجازت دے یا نہ دے جو ہر حال میں اور ہر کیفیت میں اللہ اور رسولﷺ کی بتائی ہوئی زندگی پر چلے گا اسے اللہ جل شانہ کبھی محروم نہیں فرمائیں گے۔۔۔۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نہ صرف اسے بلکہ اس کی نسلوں کو بھی پالیں گے۔اور اس کے رزق و صحٹ میں برکت اور عزت و روحانیت میں ہمیشہ اضافہ فرماتے رہیں گے اور یہ اللہ کا ازل سے وعدہ ہے۔
بھرکے پیاسے صحابہ ؓاللہ تعالیٰ کے کلمہ حق کیلئے جوق در جوق نکلے، جو تھوڑا بہت سامانِ سفر تھا وہ ختم ہو گیا، کیفیت یہ ہو گئی کہ صحابہ کرامؓ کا بھوک اور پیاس کے سبب برا حال ہو چکا تھا،صحابہ کرام کی قیمتی زندگیوں کو بچانے کی خاطر ایک اونٹ ذبح کیا گیا۔ اس کی اوجھڑی نکالی اور اس اوجھڑی کو نچوڑ کر اس گندا بدبودار نکالا اور اس پانی کو پیا۔
ؑعمرؓ کی سفارش اور سرورکونین ﷺ کی شفقت:
حضرت عمر فاروقؓ فوراً نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا کہ یا رسول ﷺ اب تو اللہ کی مدد کیلئے دعا فرمائیں! بھوک اور پیاس کی کیفیت نے مجاہدین کوبدحال کردیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا اچھا ایسا کرو صحابہؓ میں جس کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب لاؤ اور یہاں لا کر ڈھیر لگاؤ۔کسی کے پاس سے سوکھا ٹکڑا ملا، کسی کے پاس ایک کھجور ملی، کسی سے پنیر کا ٹکڑا ملا اس طرح کرتے کرتے وہ غذا کا ایک چھوٹا سے ڈھیر بن گیا۔ مشکیزوں کے ایک ایک گھونٹ پانی کو جمع کرنے سے برتن میں اتنا پانی ہو گیا کہ آپ ﷺ کے ہاتھ کے اوپر ہو گیا۔ آپ ﷺ نے انگلیاں اٹھائیں اور انگلیوں سے پانی کے چشمے بہہ نکلے جو خوراک کے ڈھیر جمع کیا تھا جس میں پنیر، کھجور اور روٹی تھی۔ ان سب کو ایک چاردر سے ڈھانپ دیااور پھیر نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ایک ایک کرکے آؤ اور آکر اس ڈھیر سے اپنی اپنی جھولیاں بھر لو۔ ہر ایک نے اپنی بساط سے بڑھ کر لیا۔ مجھ جیسے کچھ مریض لوگ زیادہ لینے والے بھی ہوتے تھے۔ صحابہؓ تو ویسے بھی سارے عشق کے مریض تھے، اللہ کی عبادت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت میں اللہ کے تعلق میں اور کملی والے ﷺ کی عطا میں یہ برکت والی خوراک اور یہ رسول ﷺ کی انگلیوں سے نکلا ہو ا پانی پھر جانے نصیب ہو یا نہ ہو وہ بھرتے ہی چلے گئے، ادھر پانی سے مشکیزے بھی بھرے جا رہے تھے جانوروں کو بھی پلایا جا رہا ہے اور کچھ پانی ذخیرہ بھی کیا جا رہا ہے۔
افضل ترین پانی سرور کونین کی انگلیوں سے نکلا ہو پانی ہے:
اکثر علماء لکھتے ہیں دنیا کا سب سے افضل اور متبرک پانی وہی پانی ہے جو میرے آقا مبارکﷺ کے ہاتھ مبارک سے نکلا ہوا ہے۔ سوچو تو سہی اتنی وفائیں کرنے والے حبیب ﷺ اور ان کے ساتھ ہم اس طرح بے وفائی کریں! ان کی بتائی ہوئی راہوں کو چھوڑ کر الگ راہوں میں ہم اپنی کامیابیاں تلاش کریں اور ہم سے بڑھ کر بے عقل کون ہوگا؟
شجر و حجر کے اشاروں پر عمل کریں:
سرور کونین ﷺ تشریف لے جا رہے تھے، حضرت جابر ؓ سے فرمایا: جابرؓ مجھے حاجت کیلئے جانا ہے یہاں کوئی اوڑھ نہیں ہے، سامنے جو جھاڑیاں ہیں ان کو جا کر کہہ دو کہ اللہ کے نبی ﷺ کیلئے اوڑھ بناؤ، آپﷺ نے اتنا ہی فرمایا۔حضرت جابرؓ نے ان جھاڑیوں کے پا جا کر یہ پیغام دیا، اللہ اکبر! آج بھی آسمان گواہ ہے، ان جھاڑیوں کو چشم فلک نے دیکھا وہ جھاڑیاں ایسے چلتی ہوئی آئیں اور ساری جھاڑیوں نے سرور کونینﷺ کیلئے اوڑھ بنائی اور آپ ﷺ نے تقاضہ فرمایا اور جب آپ ﷺ تشریف لے گئے تو ساری جھاڑیاں ہٹیں اور واپس اپنی جگہ پر جا کر زمین میں پیوست ہو گئیں۔
ٹہنی کا پیغمبر اسلام کی شہادت کا اقرار:
ایک بدو آرہا تھا، آپﷺ نے اس بدو سے فرمایا تو مجھ پر ایمان نہیں لاتا اور فرمایا کہ سامنے درخت کی جو ٹہنی ہے اگر وہ اپنی شاخ سے کٹ کر چلتی ہوئی یہاں میرے پاس آئے اور میرے رسالت اور نبوت کی گواہی دیدے تو کیا تم ایمان لے آؤ گے؟ بدو جواب دیا کہ ہاں میں آپ پر ایمان لے آؤں گا۔ آپ ﷺ نے اس ٹہنی کو انگلی سے اشارہ فرمایا تو اللہ کے امر سے وہ ٹہنی اپنی شاخ سے جدا ہو کر چلتی ہوئی آپ ﷺ کے پاس آئی زمین چیرتی ہوئی آئی اور آپ ﷺ کے سامنے آکر کھڑی ہوئی۔ آپ ﷺ نے پوچھا میں کون ہوں؟ اس ٹہنی نے آپ ﷺ کی نبوت کی گواہی دی کہ آپ آخری نبی ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ نے دوبارہ پوچھا میں کون ہوں؟ پھر اس نے آپ ﷺ کی اور صفت بیان کی اور نبوت کی گواہی دی،آپ ﷺ نے بدو سے فرمایا کہ اب تو مان گیا؟ وہ ٹہنی ابھی وہیں کھڑی تھی اس بدو نے اقرار کرتے ہوئے کہا: ”اَشْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَ شْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْ لُہ“آپ ﷺ نے ٹہنی کو حکم فرمایا کہ چلی جا وہ ٹہنی ویسے چلتی ہوئی گئی اور ویسے ہی اس درخت سے لگ گئی، نہ جوڑ نہ جھول، پتہ ہی نہ چلا کہ ٹہنی کہاں سے ٹوٹی تھی۔ ایسی محبت کرنے والے حبیب ﷺ کے ساتھ بے وفائی کرنے کو جانے یہ دل کیسے مان جاتا ہے!

Saturday, April 25, 2015

عبقری کے تمام نسخے اور وظائف اب ایک عنوان کے تحت

عبقری کے تمام رسائل کے نسخے اور روحانی وظائف کو اب ان کے عنوانات کے تحت کر دیا گیا ہے جس سے قارئین کسی بھی وقت عنوان کے تحت نسخہ ڈھونڈ سکتے ہیں

ہرن اور جانوروں کے شکاری ضرور پڑھیں۔


حال دل
جو میں نے دیکھا سنا اور سوچا۔
ہرن اور جانوروں کے شکاری ضرور پڑھیں۔
میں اپنے آپ کو صحرا نشین کہوں یا صحرا گرد بہرحال ویرانوں، تنہایؤں اور ان جگہوں پر جہاں انسانی زندگی نہیں ہر طرف ہو کا عالم ہے مجھے کچھ نہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی ان جگہوں سے پیار، محبت، الفت ائر شناسائی ہے، جاتا ہوں اور بہت جاتاہوں۔ صحرا میں کہیں دور ایسی جگہ جہاں انسان نہیں ہوتے تاحد نظر ریت ہی ریت۔۔۔۔۔۔۔ ٹیلے ہی ٹیلے ہاں۔۔۔۔۔۔۔ صدیوں آباد قدرتی تالابوں (ٹوبوں) پر آباد وہ صحرا نشین جو نسل در نسل یہاں رہ رہے ہیں جنہیں ابھی تک جدید معاشرے کی وہ تہذیب، خوشبو، ہوائیں اور بے وفائی نہیں پہنچی۔ ان بادہ نشینوں کے درمیان بیٹھ کر حق اور ہوکی آوازیں جب دل سے نکلتی ہیں تو دل پکار اٹھتا ہے کہ زرہ زرہ اس حق اور آوازدل کا ساتھ دے رہا ہے بلکہ ذرہ ذرہ بھی اس آواز میں میرے ساتھ شامل ہے۔ ویرانوں نے مجھے کچھ پیغام بھی دیئے وہ پیغام پھر میں آبادیوں میں آکر اپنے درس میں بالمشافہ اور غائبانہ یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے بھی پوری دنیا تک پہنچاتا ہوں اور وہ آوازیں لوگ بہت دلچسپی سے سنتے ہیں، ان میں سبق بھی، منزل بھی، راستہ اور عبرت بھی۔۔۔ اگر بات عبرت تک چلی تو ایک بات بتاتا چلوں میں پاکستانی صحراؤں کی ان پٹیوں تک جاتا ہوں جہاں سوائے پرندوں شکاری اور ہرن کے شکاری کے اور کوئی ذی روح جا نہیں سکتا۔ میرے پا شکاریوں کے بے شمار واقعات ہیں ایک نہیں کئی۔ کیونکہ انسان جب شکار کیلئے بندوق تانے رات کے اندھیرے میں طاقتور جیپوں کے ذریعے صحرا میں گردش کر رہا ہوتا ہے، اس کی آنکھوں میں شکار کے نشے کی ایک پٹی ہوئی جو اس کھلتی ہے جب تڑپتا ہو ہرن اس کے سامنے ہوتا ہے اور اس کی باچھیں پھٹی ہوئی ہوتی ہیں اس کی آنکھوں میں چمک ہوتی ہیلیکن اس وقت اس ہرن کی آنکھوں کی چمک زائل ہو چکی ہوتی ہے، جاتی دہ چمک ایک پیغام ضرور دیتی ہے کہ تجھے خیال آیا۔۔۔۔ کہ تو نے صرف یہ شکار ضرورت کیلئے نہیں خواہش کیلئے کیا ہے۔ ہاں! میں شکار کو حرام نہیں کہتا لیکن ضرورت اور خواہش کے شکار میں فرق ہے اور بے شمار شکاری گائیڈ مجھے ایسے ملے، کتنے لوگوں کو فالج ہوا، کتنوں کی ٹانگیں کٹیں، اکثر اندھے ہو جاتے ہیں اور کتنے ایسے تھے جو ارب پتی تھے آج وہ فقیر ہیں۔ مجھے خود شکاریوں نے اور ان کے گائیڈوں نے یہ بات بتائی کہ جب گولی چلتی ہے تو گولی نہیں دیکھتی کہ سامنے ہرنی ہے یا ہرن۔ حاملہ ہے یا بچوں کو دودھ پلانے والی۔ بس گولی چلتی ہے۔۔۔۔۔ اور یہ اس زخمی ہرن پر دوڑتا ہے اور جا کر اس کی گردن پر ذبیح کے نام پر چھری چلاتا ہے لیکن اس اندر سے نکلنے والی آہ جس کے بچے ماں کے دودھ کے پیاسے یا پھر جس کا پیٹ جب چاک کرتے ہیں اندر سے بچے جو ان کے کسی کام کے نہیں ہوتے وہ تڑپتے تڑپتے ان کے سامنے مر جاتے ہیں کیا انہیں کوئی پیغام نہیں ملتا انہیں ملے نہ ملے عرش والے کو ایک پیغام دے کر یہ بیٹھے ان کی بوٹیاں نوش رہے ہوتے ہیں اور ہر بوٹی کا ذرہ ذرہ پکار رہا ہوتا ہے کہ خیال کر تیری قسمت کے فیصلے بدل چکے ہیں،  تیرا نصیب اندھیری رات میں کھو رہا، تیری چاندنی ڈوب گئیہے، تیری دولت چھن گئی ہے، تیری صحت کو زوال آگیا ہے اور ایسا ہوتا ہے میرے قریب کے رشتہ دار جس کو دن رات بس شکار کا شوق تھا، وہ بڑے بڑے افسران کو ہرن کے بچے دینا اور ان کو گفٹ کرنا اپنے لیے اعزاز سمجھتا تھا مجھے پتا آج وہ ایک کرائے کے مکان میں نہایت ذلت کی زندگی گزار رہا بلکہ پچھلے دنوں وہ ایک کرائے کے موٹر سائیل پر جا رہا تھا قرض لینے والوں نے موٹرسائیکل پکڑ لی اسے تھپڑ مارے اور اس کا موٹر سائیکل رکھ لیا بہت لوگوں نے اس کو دیکھااور سنا ایک بار میں نے خود اس کہا بہت اور مشغلے پڑے ہیں یہ ہرن مارنے کا مشغلہ چھوڑدے۔ میرے بات کو نہایت ذلت آمیز مذاق کے ساتھ اس نے ہواؤں میں اڑا دیا۔ میں خاموش ہوگیا۔ لیکن وہ خاموش نہ ہوا وقت کے دھارے بدلتے گئے اور چھاؤں دھوپ میں اور حتیٰ کہ ایسی دھوپ کڑی دھوپ جس دھوپ میں ہرنوں کی آہیں ان کے بچوں کی سسکیاں ان کی پیاسیں، ریت میں تڑپنا، اس کے قہقہے، اس کی ہڈیاں چبانے کی آوازیں، گوشت نوچنے کی کیفیت۔۔۔۔ یہ سب کچھ اسی دھوپ میں شامل تھے لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد اس دھوپ نے دیکھا اور آسمان نے اس کی گواہی دی یہ سسک سسک کر رویا، یہ بلک بلک کر تڑپا لیکن اسے ہرن کی ماں، ہرن کے بچوں اور خود ہرن کی سسکیاں سنائی نہ دیں۔ اے کاش! اس کو پہلے سمجھ آجاتی مجھے کتنے لوگ ایسے ملے جن کی ٹانگیں کٹیں، بظاہر کسی بیماری کے نام پر لیکن بنیاد اس ہرن کی سسکیاں، تڑپ اور چبھن تھی۔ وہ آقاﷺ مدینے والے کا واقعہ یاد آیا کہ کسی نے ہرن کو پکڑ کر درخت کے نیچے باندھا ہو اتھا اور مدینے والےﷺ نے دور سے یا رسول اللہﷺ یا رسول اللہﷺ یا رسول اللہﷺ کی آواز سنی۔ آپﷺ تشریف لے گئے۔ اس واقعہ کا مفہوم ہے اس ہرنی نے عرض کیا آپ ﷺ مجھے چھوڑ دیں میں بچوں کو دودھ پلا کر واپس آجاؤں گی آپ ﷺ نے پوچھا اگر تو واپس نہ آئی تو ہرنی نے کہا مجھے وہ سزا دی جائے جو  ٹیکس والوں کو قیامت کے دن ملے۔ میں جب صحراؤں میں جاتا ہوں، مجھے وہ سزا یاد آجاتی ہے پھر وہاں لوگ مجھے واقعات سناتے ہیں، شکاری لوگ جو مجھے درد بھری کہانیاں سناتے ہیں مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ہمیں دوسروں کے انجام سے عبرت آخر کیوں نہیں ہوتی؟ دوسروں کا انجام آخر کیوں بھول جاتے ہیں؟ کیا شوق اور عشق آنکھوں پر پٹی ڈال دیتے ہیں؟ اگر جائز طریقوں سے شوق ہے تو میں اس کو خود روا ہوں لیکن میری درخواست ہے نہ سسکائیں، نہ تڑپائیں کوئی اور جائز شوق پورے کر لیں۔ لیکں۔۔۔! جانوروں کو شکار اور ہرن کے شکار کو شوق نہ بنائیں۔ ورنہ عرشی فیصلے تیرے خلاف ہو جائیں گے، فرشی نظام تجھ پر سمٹ جائیگا۔ دنیا تجھ سے روٹھ جائے گی، عزت کو کھو بیٹھے گا، شہرت اور گمنامی میں اور گمنامی سے ذلت کی طرف تیرے قدم اٹھنا شروع ہو جائیں گے۔آ۔۔۔۔ جلدی کر اپنی سوچوں کو بدل، اپنی سوچوں اور جذبوں کو بدل۔ میں بعض اوقات کسی راستے سے گزر رہا ہوتا ہوں بظاہر کچھ نظر نہیں آتا لیکن مجھے کانوں میں کچھ سسکیاں محسوس ہوتی ہیں میں ادھر اُدھر دیکھتا ہوں لیکن میر وجدان اور میرے دل کی آواز مجھے اس کا جواب دیتی ہے یہ کسی ایسی حاملہ ہرنی کی سسکیاں ہیں یا کسی ایسی دودھ پلانے والی ہرنی کی آہیں ہیں جو نکلی تھی بچوں کو خوراک کیلئے کچھ پانی اور گھاس کھا کر پھر جا کر انہیں دودھ پلاؤں گی اور کسی شکاری کی اندھی گولی کا شکار بن گئی اور وہ تڑپتے تڑپتے اپنی آہوں اور بے زبان دبددعاؤں کے ذریعے اس گولی مارنے اور شوق سے سرشار شخص کا نصیب ڈبو گئی۔ تو کیا خیال ہے۔۔۔!!! نصیب بچانا ہے یا ڈبونا ہے۔۔۔۔۔؟