Monday, September 28, 2015

شرعی پردہ شروع کیا اور زندگی آسان ہو گئی

شرعی پردہ شروع کیا اور زندگی آسان ہو گئی:۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! مجھے بچپن سے ٹوپی والے برقعے کا شوق تھا میری ایک کلاس فیلو اپنی مرحومہ والدہ کا برقعہ لائی اور مجھے دے دیا کہ گھر میں بھی تو پڑا ہے تمہیں شوق ہے تم لے لو۔ جب تم پہنو گی تو میری والدہ کو بھی ثواب ہو گا ۔  نہ پوچھیں حضرت حکیم صاحب! مجھے جو مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ، سلائی سنٹر کی ٹیچرز اور تمام کلاس فیلوز نے مخالفت کی کہ نہ پہنو ٹوپی والا برقعہ ۔ مجھے شوق تھا بڑے بھائی نے بھی حوصلہ بڑھایا میں نے کسی کی پرواہ نہ کی ۔ امی چھوٹا بھائی اور بڑی بہنیں بھی سمجھاتی رہیں میں نہ مانی ۔ اب ماشاءاللہ دوسرا تیسرا سال ہے میں ٹوپی والا برقعہ پہن رہی ہوں ۔ میں نے بی ایڈ کے پیپر دینے بوائز کالج میں بھی ٹوپی والا برقعہ پہن کر جاتی تھی۔ میری تمام کلاس فیلوز اور تمام عملہ دیکھ کر ہنستے تھے ، میری حوصلہ شکنی ہوتی تھی ، دل کرتا تھا کہ نہ پہنو ، تمام لوگ ہنستے ہیں چھوٹا بھائی بھی مذاق کرتا تھا پھر تہیہ کیا کہ نہیں پہنا ہے  تو اب اتارنا نہیں ہے تاحیات پہننا ہے ۔ ایک مرتبہ 2013 میں این ٹی ایس کا ٹیسٹ ہوا خانیوال جانا تھا رول نمبر سلپ آ گئی ۔ این ٹی ایس کی کتاب نہ خرید سکی ، کوئی تیاری نہ کر سکی ، جس دن پیپر تھا چھوٹا بھائی کہنے لگا ٹوپی والا برقعہ نہ پہننا خانیوال میں فوج اور پولیس کی چوکیاں ہیں ۔وہ تو تمہیں دیکھتے ہی پکڑ لیں گے اور کہیں گے دہشت گرد ہے بم دھماکہ کرنے آئی ہے ۔ میرے ساتھ جانا ہے تو اس کو اتارو، ورنہ میں نہیں لے کر جاتا ، میں نے بڑے بھائی کو بتا دیا انہوں نے اس کو ڈانٹا بہر حال اللہ کا نام لیا اور بیٹھ گئے دونوں بہن بھائی بس میں بیٹھ گئے پھر جو بس میں الٹیا ں آئیں تمام راستے کرتی گئی جو یاد تھا وہ بھی بھول گئی۔ وہاں پر موجود تمام طالبات کے پاس این ٹی ایس کی کتابیں تھیں میرے پاس نہیں تھی ۔اللہ کا نام لے کر ٹیسٹ دے آئی ۔ واپسی پر بھی الٹیاں، چکر اور بہت طبعیت خراب ہوئی ۔تمام راستے اللہ سے دعا کرتی آئی یا اللہ تیرے نبی حضرت محمد ﷺ کی خاطر اور تیری خاطر تکلیف برداشت کی ہے کامیاب کر دینا ، سفر ضائع نہ کرنا ، مجھے پیڑن کا بھی پتہ نہیں تھا پیپر بہت مشکل اور تھوڑے سے سوالوں کے علاوہ باقی تمام سوالات انگریزی میں تھے ۔ پہلے کوئی این ٹی ایس ٹیسٹ کا تجربہ بھی نہیں تھا ،۔ جب رزلٹ آیا تو اللہ کے کرم سے این ٹی ایس میں 56 نمبر لے کر پا س ہو گئی ، اس کے چند دن بعد خبر آئی کہ وہ این ٹی ایس ٹیسٹ جعلی اور فراڈ تھا اور اب اصل این ٹی ایس ٹیسٹ ہو گا ۔اور اس کو مانا جائے گا پہلے والا رزلٹ کارڈ بے کار گیا ، دوبارہ داخلہ بھیجا اور اب کی بار اللہ تعالی ٰ کی مہربانی سے این ٹی ایس کی کتاب بھی خریدی لی ۔ بڑی تیاری کی  جس دن پیپر تھا اس دن بڑی باجی اور بھانجے کے ساتھ گئی۔ بڑی باجی بہت ضدی تھی اور باتوں کے ذریعے میرے اوپر غالب آ گئی امی بھی اس کے ساتھ مل گئی تھیں ، بڑا بھائی گھر نہیں تھا اس لئے ان کی بات ماننا پڑی اور اب کی بار ٹوپی والا برقعہ نہیں پہنا ۔ الٹیاں تو پہلی کی طرح آ ئیں ، طبیعت بھی خراب ہو گئی پر چادر میں گئی ۔ این ٹی ایس پہلے کی نسبت بہت اچھا ہوا جب رزلٹ آیا تو بہت برے طریقے سے فیل ہو گئی جس کی وجہ سے پیسے اور سفر ضائع ہو گیا ۔ این ٹی ایس فائدہ نہ دے سکی ، تکلیف علیحدہ اٹھائی ۔ حضرت حکیم صاحب ! میں سوچتی ہوں کے واقعی وہ ٹوپی والے برقعے کی برکت تھی جو میں بغیر کتاب کے تیاری کے پاس ہو گئی تھی۔ اور اب کی بار تیاری بھی کی لیکن ٹوپی والا برقعہ نہ پہننے کی وجہ سے فیل ہو گئی ۔حالانکہ پیپر بھی پہلے کی نسبت بہت اچھا ہوا تھا یہ میرا مشائدہ ہے ٹوپی والے برقعے کا ۔ میں نے  ایم اے اسلامیات سال دوم کا ایڈمیشن بھیجنا تھا مجھے پتہ چلا کہ ایڈمیشن تو چلے گئے ہیں اور اب فیس سنگل اور ڈبہ کی بجائے ٹرپل ہو گئی ہے ،۔ میرا چھوٹا بھائی فارم اور فیس لے کر گیا تو بینک والے افسر نے کہا کہ اب ٹرپل فیس لے کر آؤ ،ورنہ  فارم جمع نہیں ہو گا تاریخ گزر گئی ہے ۔ چھوا بھائی کہہ رہا تھا کہ بینک میں انگریزی میں ہدایات لگی ہوئی تھیں ، میں بہت پریشان ہوئی کہ اب کیا ہو گا ، بالآخر بڑے بھائی نے ہم دونوں کو کہا کہ تم لوگ بینک میں جاؤ ساری معلومات لے کر آؤ پھر کچھ کرتے ہیں ۔ لہذا میں نے احتیاطاً فارم اور فیس ساتھ لے لی ، اور راستے میں ایک دو جگہ تصدیق اور فوٹو سٹیٹ کروانے کیلئے بھی رکے فوٹو سٹیٹ کروانے کے دوران میں بیچ پر بیٹھی ہوئی تھی اور ٹوپی والا برقعہ پہنا ہوا تھا پریشان تو تھی ہی شدید گرمی تھی پسینہ آیا ہوا تھا ،اچانک میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے ،اور میں اللہ تعالیٰ سے دل ہی دل میں باتیں کرنے لگ گئی کہ یا اللہ ! تیر رضا کی خاطر ٹوپی والا موٹا برقعہ پہنا ہوا ہے میرا مسئلہ حل فرما اور مجھے اس کا اجر ضرور دینا ، پھر ہم بینک میں پہنچے میں نے چھوٹے بھائی سے کہا کہ فارم اور فیس لے کر جاتی ہوں شاید عورت سمجھ کر حیاء کر جائیں حکیم صاحب! آپ یقین کریں اس نے فارم اور فیس لے لی اور مہریں لگا کر دستخط کر دیئے پھر وہ فارم اپنے ایک بڑے افسر کے پاس لے گیا کچھ دیر باتیں کرتے رہے ، میں یہ دیکھ کر پریشان ہو گئی ، کہ اب کیا ہو گا ۔ پھر وہ فارم لے کر آیا رسید کاٹ کر مجھے دے دی ۔اور کہا یہ لوبیٹی اور مجھے کچھ بھی نہ کہا جب کہ اگلے ہی دن میرے چھوٹے بھائی سے اس بندے نے بڑی جرح کی تھی اور کہتا تھا ڈیٹ گزر گئی ہے ہم کیا کریں ہم اپنے پاس سے فیس بھر یں جبکہ اب بھی وہی آدمی تھا اور اس نے کوئی بحث وغیرہ نہیں کی حکیم صاحب! میرا دل کہتا ہے یہ ٹوپی والے برقعے کی برکت ہے ۔


 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر33


No comments:

Post a Comment