Thursday, December 17, 2015

باپ کا کہنا نہ ماننے کی سزا آج بھی بھگت رہی ہوں

باپ کا کہنا نہ ماننے کی سزا آج بھی بھگت رہی ہوں :۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!سمجھ میں نہیں آرہا ہے ، کہ اپنے مسائل آپ کے ساتھ کیسے شیئر کروں ؟ عبقری میں دو سال سے پڑھ رہی ہوں اور آپ کا بہت بہت شکریہ کے آپ کی وجہ سے بہت سارے لوگوں کا بھلا ہو رہا ہے کسی دکھی انسان کا مسئلہ حل ہوتے ہوئے پڑھ کر بہت خوشی محسوس ہوتی ہے ۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کو لمبی عمر اور صحت سے نوازے آمین!میرے لئے عبقری اندھیرے میں کسی روشنی سے کم نہیں ۔ میری شادی ہمارے قریبی رشتہ دار کے گھر ہوئی شادی سے پہلے یہ لوگ میرے ساتھ بہت پیار کرتے تھے حالانکہ میرے امی ابو نے مجھے بہت منع کیا کہ بیٹا یہاں شادی نہ کرو، ہیں تو یہ ہمارے رشتہ دار مگر یہ خود ان کے شوہر اور بیٹیاں تمہیں بہت تنگ کریں گے ۔ اور میں یہی جواب دیتی کہ میرے ساتھ یہ لوگ بہت پیار کرتے ہیں ۔ شادی کے بعد بھی کریں گے اور میں ان کی کسی بات پر کان نہ دھرتی ۔ کیونکہ میرے سر پر نام نہاد عشق کا بھوت سوار تھا اور یوں میری مرضی اور ضد کے دیکھتے ہوئے میرے ماں باپ نے دل پر پتھر رکھ کر میری شادی وہاں کر دی شادی والے دن ہی لڑائی ہو گئی ۔میرے سسر نے کہا کہ میں 300 افراد پر مشتمل بارات لاؤں گا ۔ میرے والد نے کہا کہ ہم غریب لوگ ہیں میں صرف ڈیڑھ سو افراد کو کھانا کھلا سکتا ہوں ۔ آگے تمہاری مرضی خیر بارات آئی اور میرے سسر نے بارات والے دن کھانا ہمارے گھر کا نہیں کھایا بلکہ بازار سے کھانا منگوا کر کھایا ۔سب نے بہت منت سماجت کی لیکن اس نے نہیں کھایا ۔ آج میری شادی کو 11 سال ہو گئے ہیں وہ جو شادی کے پہلے دن سے لڑائی شروع ہوئی تھی اوروہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔ میری ٹینشن میں میری شادی کے ٹھیک ایک سال بعد میرے ابو کی اچانک طبیعت خراب ہوئی اور چند ماہ بیمار رہنے کے بعد میرے ابو فوت ہو گئے ۔ میری زندگی کسی عذاب سے کم نہیں ہر وقت میرے شوہر کے کان بھرے جاتے ہیں میرے شوہر مجھے مارتے رہتے ہیں میں زیادہ تر اپنے میکے میں رہی ہوں اگر چھ مہینے ماں باپ کے گھر تو دو مہینے سسرال میں رہی ہوں اور جب بھی سسرال جاتی ہوں تو سسرال والوں کو بہت ناگوار گزرتا ہے کہ یہ اب یہاں پر کیوں رہ رہی ہے اتنا ظلم کرتے ہیں میرے شوہر کے کان بھر کر مار پڑوا کر گھر سے باہر نکلوا دیتی ہیں ۔ پھر میری والدہ آ کر لے جاتی ہیں اب تو گھر والے بھی تنگ آ گئے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ طلاق لے لو اس روز روز کی ذلت سے تو بچ جاؤ گی ۔ میں سوچتی ہوں کہ میرے چھوٹے چھوٹے دو بچے ہیں ان کے مستقبل کا کیا بنے گا ۔ اسی ٹینشن میں میرے تین بچے فوت ہو گئے پھر میری امی نے کسی سے میرا علاج کروایا کہ اس کو تو اٹھرا کی بیماری ہے علاج کے بعد ایک بیٹی اور سال بعد ایک بیٹا پید اہوا ہے ۔ اب ماشاءاللہ بیٹی چار اور بیٹا تین سال کے ہے  میں اپنی زندگی سے تنگ آ چکی ہوں بہت روتی ہوں ۔ ہر وقت ماں باپ کی رخصتی سے پہلے کی نصیحتیں یاد آتی ہیں میں نے اپنے روتے باپ کی بات نہیں مانی تھی میرے ساتھ یہ جو کچھ ہو رہا ہے سب اسی نافرمانی کا نتیجہ ہے کاش میں اس وقت اپنے باپ کی بات مان لیتی تو اس عذاب میں مبتلا نہ ہوتی ۔ اگر والدین کسی بات پر ناراض ہیں تو چاہے آپ کو آگے کیسی بھی جنت نظر آ رہی ہو۔ وہاں نہ جائیں ایسا نہ ہو کہ وہ جنت آپ کیلئے دوزخ بن جائےجیسے میرے ساتھ ہوا ۔ 

No comments:

Post a Comment