جب میں بہت چھوٹی تھی اس وقت میں لاہور یا دوسرے شہروں میں لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرتی تھی‘ کام کرتے ہوئے کوئی برتن جیسے شیشے کا گلاس یا کپ وغیرہ اگر کبھی ٹوٹ جاتا تو بہت سخت سرزنش کی جاتی اور ساتھ ساتھ مار بھی پڑتی تھی‘ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں برتن دھو رہی تھی کہ مجھ سے ایک شیشے کا گلاس ٹوٹ گیا پھر کیا تھا کہ میری شامت آگئی ایک زناٹے دار تھپڑ جب میرے سفید چمڑے پر پڑتا تو میری آنکھوں کے آگے اندھیرا آجاتا تھا اور سوائے رونے دھونے کے میں کر بھی کیا سکتی تھی؟ اس کے بعد میرے والدین کو جب پتہ چلا تو انہوں نے مجھے واپس بلالیا۔میں نے پرائمری تعلیم بھی حاصل کی تھی اور گھر میں اپنی والدہ سے قرآن پاک ناظرہ کا چند سپارے بھی پڑھے تھے۔ اس کے بعد مجھے مانگنے پر لگا دیا گیا‘ ہم تین سے چار بچے ہوتے تھے اور ہماری ڈیوٹی ہوتی تھی کہ سارا دن شہر کے لاری اڈوں اور بسوں میں جاکر مانگنا ہے اس کام سے ہمارا اچھا خاصا گزارہ ہونے لگا۔ کچھ عرصہ بعد میرے والد فوت ہوگئے اور اس کے دو سال بعد والدہ بھی وفات پاگئیں۔پھر میں بُرے لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی‘ چند سال کے بعد ہی میں ایک مکمل طوائف بن چکی تھی‘ ایک مرتبہ میں ایک چھوٹے سے شہر میں ایک کرائے کے گھر میں رہتی تھی اور میرا ’’دھندا‘‘ عروج پر تھا‘ تو اس علاقہ کے معزز افراد نے ہم سے مکان خالی کروالیا‘ اس کے بعد شہر کی دوسری جگہ پر مزید دو سال رہے‘ پھر جب ان کو ہمارے ’’کاروبار‘‘ کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے بھی ہم سے گھر خالی کروا لیا۔ پھر ایک اور چھوٹے سے شہر میں جاکر رہائش اختیار کی‘ جب وہاں کے لوگوں کو ہمارے بارے معلوم ہوا تو انہوں نے ہمیں ایک تانگے پر بٹھا کر اور ہمارے منہ کالے کرکے سارے شہر کا چکر لگوایا۔ اس کے بعد ہم ایک اور شہر میں آگئے‘ وہاں پر ہمیں علاقے کے ’’معززین‘‘ کا تحفظ حاصل تھا‘ بڑے بڑے عہدوں والے ہمارے پاس آتے‘ پھر کچھ عرصہ بعد ہم نے پھر شہر تبدیل کرلیا‘ یہاں پر آکر بھی ہم
نے ’’پہلے والی‘‘ زندگی گزارنا شروع کردی۔ طوائف زادیوں میں میرا ایک مقام تھا‘ ایک نام تھا‘ مجھے دیکھ کر طوائفیں رشک کرتی تھیں‘ میرے پاس بڑے بڑے امراء آتے اور میری ایک جھلک دیکھنے کو منہ مانگی رقم دی جاتی۔ اس شہر میں بھی میں چند سال رہی پھر پاکستان کے ایک بڑے شہر میں آگئے۔ یہاں بھی چند ماہ کے اندر اندر میری دھوم پورے شہر میں پھیل گئی‘ میرے حسن کا چرچا ہونے لگا‘ لوگ میری قیمت لگاتے اور منہ مانگے پیسے دیتے۔ بڑی بڑی گاڑیوں والے‘ بنگلوں والے میری جھڑکیاں تک سہہ جاتے۔ حتیٰ کہ میں بعض اوقات گالیاں نکالتی وہ بھی برداشت کرتے حتیٰ کہ جن کے سامنے کوئی نظر اٹھا کر نہ دیکھ سکتا تھا میں ان سے شدید بدتمیزی کرتی اور وہ ہنس کر ٹال جاتے۔ پورے بازار میں میری دھوم تھی۔ مجھے خود پر فخر تھا‘ ناز تھا‘ مجھ میں حسن کی وجہ سے اکڑ تھی‘ طوائفیں میری شہرت دیکھ کر مجھے دور سے دیکھتیں اور ٹھنڈی آہیں بھرتیں۔ میرے پاس اکثر ایک شخص آتا تھا‘ وہ آتا مجھ سے چار باتیں کرتا اور چلا جاتا‘ ایک دن آیا تو اپنی فائل (جان بوجھ کر) بھول گیا‘ میں اپنے بستر پر لیٹی بے فکری سے اس کی فائل ٹٹول رہی تھی تو اس میں سے ایک میگزین میرے بستر پر گرا‘ جب میں نے پکڑ کر ٹائٹل دیکھا تو اس پر ’’ماہنامہ عبقری لاہور‘‘ لکھا ہوا تھا‘ اور اس رسالے کو کھولا تو اس میں سے ایک چھوٹا سا کتابچہ ’’دو انمول خزانہ‘‘ ملا۔ خیر میں نے عبقری میگزین کو پڑھنا شروع کیا‘ بس پڑھتی گئی اور زمین میں دھنستی چلی گئی‘ میرے منہ سے نکلا ’’اُف خدایا یہ کیا ہے؟‘‘ ’’اور میں کیا ہوں؟‘‘ دو انمول خزانہ کتابچہ پڑھا‘ تعارف پڑھا‘ اس میں موجود واقعات پڑھنے کے بعد دوانمول خزانہ نمبر دو جب چند بار پڑھا تو مجھے اپنے وجود سے لباس سے‘ بستر سے‘ نفرت سی ہونے لگی۔ میں نے اپنی خادمہ کو بلایا‘ نئے کپڑوں کا بندوبست کروایا‘ غسل کیا اور ایک کونے میں بیٹھ کر سارا میگزین پڑھا‘ دوانمول خزانہ کتابچہ بار بار پڑھا۔ خادم بھیج کر مارکیٹ سے گزشتہ شمارے منگوائے‘ پڑھتی گئی اور دل بدلتا گیا۔ میں نے چند دن بعد اپنی خادمائیں اور خادمین بلائے اور سب کو کہا کہ ’’ہم اس کام سے توبہ کررہے ہیں‘ ہم یہ کوٹھا چھوڑ رہے ہیں‘‘ آپ کسی اور کو یہاں لاکر بٹھالیں‘ سب نے مجھے بہت روکا‘ بہت مجھ پر ہنسے‘ بعض نے کہا روٹی کو ترسو گی‘ اتنی عزت شہرت کو لات مار کر جارہی ہو مگر میں نہ مانی اور سب کچھ چھوڑ کر اسی شہر میں ایک چھوٹے سے قصبے میں کرائے کا مکان لے کر رہنے لگی۔ چند دن بعد میرا ایک پرانا ملنے والا پوچھتا پوچھاتا میرے گھر آگیا اور آکر کہا کہ مجھے جب تمہاری توبہ کا پتہ چلا تو بہت خوشی ہوئی‘ میری بیوی مجھے چھوڑ کر جاچکی ہے تم مجھ سے نکاح کرلو اور پاک صاف زندگی کا آغاز کرتے ہیں‘ میں اس کی بات سن کر بہت خوشی ہوئی کہ اللہ نے مخلص بھیج دیا کیونکہ انمول خزانہ اور عبقری رسالہ پڑھنے کے بعد میری ایک ہی خواہش تھی کہ اے کاش جیسے دوسرے لوگوں کا گھر ہوتا ہے میرا بھی گھر ہو۔ میں نےبخوشی ہاں کردی‘ چند دن بعد ہی ہمارا نکاح ہوگیا۔ کچھ عرصہ تو میرے ساتھ بہت اچھے طریقے سے رہا اور ایک دن اس نے کہا کہ ہم عمرہ کرنے جارہے ہیں‘ میں خوشی سے پھولی نہ سمائی‘ بار بار سجدے میں گرتی کہ یااللہ تیراشکر ہے تو نے میری توبہ قبول فرمائی اور مجھے اپنے اور اپنے حبیب ﷺ کے در پر بلالیا۔ جب ہم سعودیہ پہنچے تو میرےشوہر نے مجھے ایک سعودی شخص کے ہاتھوں بہت بھاری قیمت پر فروخت کردیا‘ مجھ پر غموں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے‘ اس شخص نے طلاق میرے ہاتھ پر رکھی اور ایئرپورٹ روانہ ہوگیا۔ میں مرتی کیا نہ کرتی؟ وہ شخص مجھے سعودی عرب کے شہر ریاض لے گیا اور ایک علیحدہ فلیٹ میں رکھا‘ رو رو کر اللہ سے مانگتی کہ یااللہ مجھے اس گندگی سے نکال لے‘ تجھے اس پاک دھرتی کا واسطہ جہاں تو مجھے لے آیا اب یہاں کی برکت سے مجھے گندگی سے نکال لے۔ وہ سعودی شخص آتا‘ میرے پاس بیٹھتا‘ ٹوٹے پھوٹے الفاظ اور اشاروں میں میرے ساتھ بات کرتا‘ مگر میرے قریب آنے کی کوشش تک نہ کرتا۔ میں حیران تھی کہ اس نے مجھے ہاتھ تک نہ لگایا‘ ٹھیک چار ماہ کے بعد اس نے مجھ سے نکاح کروالیا اور فلیٹ سے نکال کر علیحدہ مکان لے کر دیا‘ پھر مجھے پتہ چلا کہ اس کی مجھ سے پہلے بھی دو بیویاں ہیں اور تیسری میں ہوں‘ وہ معاشی طور پر ٹھیک ٹھاک تھا‘ اس کے اپنے کارخانے اور کاروبار تھے‘ اس کی بیٹیاں اور بیٹے بھی تھے۔ مجھے اپنے سارے خاندان سے ملوایا‘ چند ماہ کے بعد ہی میں ان کے خاندان میں رچ بس گئی‘ اس کے بیٹے اور بیٹیاں میری بہت زیادہ عزت کرتے ہیں‘میرا شوہر بہت خیال رکھنے والا ہے‘ ہر سال مجھے عمرہ اور حج کرواتا ہے‘ میں سعودیہ میں بھی بذریعہ انٹرنیٹ درس اور عبقری رسالہ پڑھتی ہوں‘ میرے پاس آج عزت ‘ بے پناہ دولت ہے‘ کسی چیز کی کوئی کمی نہیں‘ زبان پرانمول خزانہ نمبر دو جاری رہتا ہے۔ وہ شمارہ عبقری اور دو انمول خزانہ کتابچہ آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔
Showing posts with label میری زندگی کیسے بدلی. Show all posts
Showing posts with label میری زندگی کیسے بدلی. Show all posts
Monday, December 11, 2017
Sunday, August 28, 2016
مجھے گھر میں کسی نے توجہ نہ دی
محترم حضرت حکیم صاحب! حوا کی ایک 21 سالہ بیٹی ہوں‘ جو اپنے نفس کے جال میں پھنسی ہوئی اور اس جال سے نکلنے کا طریقہ تو حضور نبی کریمﷺ نے بتایا لیکن اس کا استعمال کرنا آپ کے درس سے مجھے ملا اور اللہ کی رحمت سے آپ کی ذات امید بن کر ملی۔ مجھے حسرت ہی رہی کہ اپنا حال کسی کو سناؤں۔ میں سات سال کی تھی کہ بیمار ہوئی اور کافی علاج کے بعد اللہ نے صحت دی۔ مگر اس کے ساتھ جسم میں ایک اور تکلیف شروع ہوگئی میری دائیں ٹانگ میں ایک گلٹی سی بن گئی جس میں وقتاً فوقتاً شدید درد ہوتا لیکن جھجک کی وجہ سے کسی کو بتا نہیں سکی۔ اپنی سگی بہن کو بھی نہیں۔ اسی طرح وقت گزرتا رہا
Wednesday, December 9, 2015
میری زندگی کیسے بدلی
میری زندگی کیسے بدلی ؟
محترم
حضرت حکیم صاحب السلام علیکم ! میں گزشتہ تین سال سے عبقری سے منسلک ہوں ۔ ان تین
سال سے پہلے میری زندگی کیا تھی ؟ یہ سوچ کر بھی مجھے اب خوف آتا ہے ۔ میری ان
بھٹکی اور اجڑی راہوں سے واپسی کیسے ہوئی اور میں ان بھٹکی راہوں پر کیسے بھٹکی ،
آج یہ کہانی بھی بیان کرتی ہوں ۔ میری آنکھ ایسے گھرانے میں کھلی جہاں سب مسلمان
ہوتے ہوئے بھی کبھی کسی نے نماز پڑھنا تو دور کی بات نماز کا ذکر تک نہیں کیا تھا
۔مجھ سے بڑے تین بھائی اور دو بہنیں ہیں ۔ میں سب سے چھوٹی ہوں ۔ میرے ماں باپ نے
ہمیں زندگی کی ہر آسائش فراہم کی ۔ اعلیٰ برانڈ اور فیشن کے کپڑے ، جوتے ، گاڑی ،
ہمارے گھر میں جدید دور کی ہر سہولت میسر ہے ۔ میرے والد کا اپنا کاروبار ہے جو
الحمدللہ خوب چمک دمک کے سات چل رہا ہے ۔ ہمیں کسی قسم کی کوئی روک ٹوک نہیں تھی ۔
جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے بڑے بہن بھائیوں کو ہر وقت میوزک ، فلم ، فیشن جیسی
مصروفیات میں مصروف پایا ۔ میری بہنیں گھر میں جینز اور شرٹس پہنتیں ، نہ کبھی
میرے والد نے روکا اور نہ ہی والدہ نے ٹوکا ۔ ہر کوئی اپنی مستی میں مست تھا ۔ ایک
مرتبہ ہمارے گھر میں ایک فنکشن تھا جہاں میرے ابو کے دوست کے ساتھ ان کا بیٹا بھی
آیا تو میری بہن اور ان کے درمیان دوستی ہو گئی ۔ جو کچھ عرصہ چلی اور میری بڑی
بہن نے زبردستی والدین کو منا کر اس کے ساتھ شادی کر لی ( اب دبئی میں ہے اور اب
وہ کن مشکلات میں ہے اس کا سوچ کر بھی میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اللہ
اس کے حال پر رحم فرمائے ) اسی جدیدفیشن اور مغرب زدہ ماحول میں جب میں نے جوانی
کی دہلیز پر قدم رکھا تو میں ہوتی میوزک ہوتا ، فیس بک ہوتی اور میرے دوست ، مجھے
خود نہیں معلوم میں نے فیس بک پر کتنے لڑکوں کو بے وقوف بنایا ۔ لڑکوں کے ساتھ
انتہائی غلیظ گفتگو کر کے مجھے عجیب سا سرور ملتا ۔ میں ساری ساری رات فیس بک اور
کبھی کبھی کچھ لڑکوں سے سکائپ پر ویڈیو کالنگ کرتی اور خوب انجوائے کرتی ۔ میں
اپنی والدہ کے ساتھ مہنگی ترین بوتیک پر جا کر جدید سے جدید مغربی فیشن کے کپڑے
خریدتی اور جب کبھی والدین کے ساتھ کسی پارٹی میں جاتی تو میری والدفخر سے سب کے
سامنے مجھے پیش کرتیں کہ دیکھیں میری بچی نے کتنے اعلیٰ برانڈ کے کپڑے پہنے ہوئے
ہیں اور میں فخر سے سر بلند کر لیتی ۔ ایک رات کو میں ایسے ہی اپنے کمرے میں سونے
کیلئے لیٹی تو ہلکی غنودگی میں مجھے محسوس ہوا کہ کوئی میرے جسم پر ہاتھ پھیر رہا
ہے اور میں گھبرا کر اٹھی تو کوئی بھی نہ تھا اور ایسا اکثر ہوتا ۔ کوئی اندیکھی
چیز تھی جو رات کو میرے ساتھ ہوتی ۔ میں نے اپنی والدہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں
نے اسے میرا وہم سمجھا ۔پھر جب میں کالج گئی تو چونکہ میں بہت زیادہ خوبصورت
اورفیشن ایبل تھی وہاں بھی ہر لڑکے کو
اپنا دیوانہ پایا ۔ وہاں میری دوستی ایک امیر کبیر لڑکے سے ہوئی اس کے پاس مہنگی
ترین گاڑی تھی۔ کچھ ہی عرصہ بعد ہماری دوستی محبت میں بدل گئی اور آہستہ آہستہ ہم
قریب ہوتے گئے اور پھر میں نے اپنا سب کچھ اس کے حوالے کر دیا ۔ کچھ عرصہ بعد مجھے
معلوم ہوا کہ اس کے اور لڑکیوں کے ساتھ بھی تعلقات ہیں اور وہ لڑکیوں کو اپنی ہوس
کا نشانہ بنا کر چھوڑ دیتا ہے اس نے میرے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ۔ میں بہت روئی
چیخی چلائی مگر وہ مجھ پر ہنستا ہوا گاڑی
میں بیٹھ کر چلا گیا ۔ کچھ ماہ بعد میرے سر سے اس عشق کا بھوت اتر گیا اور میں
واپس اپنی نارمل لائف میں آ گئی ۔ سارا دن میوزک سنتی ، ٹی وی ، دیکھتی پارٹیوں
میں جاتی ۔ رات وہی دوسروں کو نیٹ پے بے وقوف بناتی ۔ مجھے اپنی آخرت کی کوئی فکر
نہ تھی ، نہ نماز ، نہ روزہ ، نہ قرآن ، بچپن میں ایک قاری صاحب روزانہ قرآن پاک
پڑھانے آتے تھے میں نے ناظرہ قرآن پڑھا ضرور تھا مگر دوبارہ آج تک کھول کر نہیں
دیکھا تھا ۔ بس اپنی مستی میں مست رہتی ۔ میں ہر روز صبح اٹھتی ضرور تھی صرف اپنے
لئے ، یعنی اپنے جسم کو فٹ رکھنے کیلئے ، ہمارے گھر کے قریب ایک لیڈیز پارک تھی
وہاں روزانہ جاگنگ جاتی ، وہاں میری ایک دوست بن گئی جو مکمل حجاب میں واک کرنے
آتی تھی چند دنوں بعد اس نے مجھے ماہنامہ عبقری تحفے کے طور پر دیا اور کہا کے اس
رسالے کو ٖضرور پڑھا کرو۔ ساتھ آپ کا تعارف بھی کروایا ۔ اور آپ کے کچھ درس میرے
موبائل میں کاپی کر دیئے اور سننے کی خاص تاکید کی ۔ میں نے گھر آ کر رسالے کو
سرسری نظر سے دیکھا اور سائیڈ پر رکھ دیا ۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ رات کو میں بہت
بور ہو رہی تھی کہ اچانک مجھے یاد آیا کہ مجھے چند درس دیئے تھے ان کو ایک بار سن
تو لوں ۔ میں نے جب درس چلایا تو اتفاق سے اس کا موضوع توبہ تھا ۔ آپ یقین کریں
جیسے جیسے اس درس کے الفاظ میرے کانوں میں اتر رہے تھے ویسے ویسے میرا جسم کانپ
رہا تھا اور میری آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔ میں بہت روئی اسی وقت اپنی دوست کو
فون کیا ۔اس سے روتے ہوئے بولی کیا میری بھی معافی ہو سکتی ہے ۔ میں تو آج تک اپنے
رب کریم کے آگے جھکی ہی نہیں اس کا نام تک نہیں لیا بچپن سے لے کر اب تک اس کی صرف
نافرمانی ہی کی ہے کیا میری بھی توبہ ہو سکتی ہے ؟ اس نے مجھے بڑے پیار سے سمجھایا
کہ اللہ بہت غفور الرحیم ہے وہ انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے ۔اس کے
آگے اگر سچے دل سے توبہ کی جائے تو وہ ضرور ضرور معاف فرما دیتا ہے ۔تم بھی سچے دل
سے توبہ کرو وہ اللہ تمہیں بھی ضرور معاف فرما دے گا ۔اگلے دن میں صبح پارک نہ جا
سکی تو دوپہر کے وقت میری محسن دوست میرے گھر آ گئی ، اس سے ملتے ہی میں نے اس سے
پہلا سوال یہ کیا کہ کیا تم مجھے نماز پڑھنا سکھا دو گی ۔ اس نے بخوشی حامی بھر لی
کچھ عرصہ روزانہ میرے گھر آتی رہی اور مجھے مکمل نماز مسنون دعائیں یاد کروا دیں ۔
میں نے اپنے سارے مغرب زدہ لباس اکٹھے کر کے انہیں آگ لگا دی ۔ اپنی اسی محسن کے
ساتھ جا کر نئے لباس خریدے ، حجاب خریدا اور اس دن سے میں نے حجاب کرنا شروع کر
دیا گھر میں ہر وقت درس چلانا شروع کر دیا جسے سن کر میری والدہ میں دو بھائی
بھابیاں سب بہت متاثر ہوئے اب میری والدہ نے بھی دوپٹہ لینا شروع کر دیا بھابیوں
اور والدہ نے نماز پڑھنا شروع کر دی ہے ۔حجاب لے کر جب گھر سے نکلتی ہوں تو ایک
عجیب سا سکون اور حفاظت کا احساس ہوتا ہے ۔
Tuesday, November 10, 2015
میری زندگی کیسے بدلی
میری زندگی کیسے بدلی
:۔ (قسط نمبر3)
محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! مجھے ماہنامہ عبقری ملے
تقریباً تین سال ہو چکےہیں ۔ میں آج آپ کو اپنی زندگی کے گزشتہ تقریباً پندرہ سال
کی کہانی سنا رہی ہوں ۔ یہ پندرہ سال میں نے دوزخ میں گزارے ہیں ۔ پل پل جئی ہوں
اور پل پل مرتی رہی ہوں اور پھر میری زندگی میں سکون کیسے آ رہا ہے یہ میں آپ کو
بعد میں بتاؤں گی پہلے میری کہانی میری زبانی سنیے ! میں ایک سکول ٹیچر تھی جہاں
ایک لڑکا اپنی بھتیجی کو چھوڑنے روز آتا۔ وہ تقریباً تین سال تک مختلف ذرائع سے مجھے پیغامات بھیجتا رہا ۔ پھر
آہستہ آہستہ پتہ نہیں کیا ہوا میرا دل بھی اس کی طرف مائل ہو گیا ، خط و کتابت کے
ذریعے ہمارا رابطہ شروع ہوا اور پھر یہ خط و کتابت ملاقاتوں تک بڑھ گئی میری والدین نہایت ہی شریف اور سادہ لوح انسان
تھے اہل عالاقہ میرے والدین کی نہایت عزت کرتے تھے ، آج تک کسی نے میرے والد کو
کسی کے ساتھ اونچی آواز میں بات کرتے نہیں سنا تھا کچھ ہی عرصہ کے بعد میں نے گھر
میں شادی کیلئے شور ڈالنا شرع کر دیا ۔اور اپنی پسند سب کو بتا دی ۔ میری والدہ
اور والد نے مجھے بہت سمجھایا مگر میں نہ مانی ۔ میں نے کہا اگر آپ نے میری اس سے
شادی نہ کی تو میں اس کے ساتھ بھاگ جاؤں گی
میرے سر پر نام نہاد پیار کا بھوت سوار تھا ۔ بہر حال میرے تمام گھر والے
میرے شدید مخالف ہو گئے مگر میں بھی اپنی ضد پر اڑی ہوئی تھی اور آخر کار میرے
بھائی اور بالخصوص ابو چارونا چار میری شادی کیلئے تیار ہو گئے وہ راضی نہ تھے مگر
اپنی عزت کیلئے شادی کی اجازت دے دی شادی یوں ہوئی کہ ایک محبت کیلئے میں نے ساری
محبتوںکو اپنے پاؤں کے نیچے روند ڈالا ، رخصتی کے وقت میں نے دیکھا کہ میرا باپ
گلی کی نکر پر کھڑا بے بسی سے آنسو بہا رہا تھا ۔ مگر میں خوشی سے سر شار گاڑی میں
بیٹھ کر چلی گئی ، میں نے اپنے ماں باپ کے ارمانوں ، محبتوں ، چاہتوں اور دعاؤں کو
بھول کر ایک انجان شخص کو اپنا جیون ساتھی بنا لیا تھا ، تمام راستے میں بہت ہی زیادہ
خوش تھی کہ میں نے جو چاہا تھا اسے پا لیا ۔ میرے شوہر بھی بہت ہی زیادہ خوش تھے
کہ ہمیں ہماری محبت مل گئی ۔ مگر ! جن لوگوں کو میں اپنا سمجھ کر آئی تھی ، میرے
اس گھر میں قدم رکھتے ہی تمام گھر والوں کے روئیے بدل گئے ۔ میرے شوہر کچھ عرصہ تو
میرے ساتھ بہت اچھے طریقے سے پیش آئے شادی
کے آٹھ ماہ کے بعد میرے شوہر کی جدہ میں جاب لگی اور وہ جدہ چلتے بنے اور مجھے
اپنے گھر والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلے گئے چونکہ شادی میں نے اپنی مرضی سے
کی تھی تو میرے گھر والوں نے بھی پلٹ کر میری طرف نہ دیکھا ، شوہر کے جانے کے بعد
مجھے ہر وقت سسرال والوں کے طعنے ، تشنے ، سننے کو ملتے گھر والے ملتے نہیں تھے
اور شوہر اپنے گھر والوں کے خلاف کوئی بات سن سکتے ہی نہیں تھے کیسے دن کٹے ، کیسے
مرمر کے زندہ ہوئی اس کو لکھتے ہوئے تو میرا قلم بھی میرا ساتھ نہیں دے رہا شادی
کے سال بعد اللہ نے بیٹی کی رحمت سے نوازا ۔ بعد ازاں کچھ حالات ایسے ہوتے گئے کہ
سسرال سے دھکے دے کر نکال دی گئی ۔ میں بے سرو سامانی کے عالم میں گلی میں بیٹھی
اپنی غلطی پر رو رہی تھی اس دن بار بار میری آنکھوں کے سامنے اپنے آنسو بہاتے باپ
کی صورت آ رہی تھی ۔ مجھے میرا ضمیر جھنجھوڑ رہا تھا کہ تو نے اپنے ماں باپ کا دل
دکھایا ہے تجھےاسی کی سزا مل رہی ہے ۔ خیر میں نے شوہر کو جدہ فون کیا تو انہیں
محسوس ہوا کہ اب پانی سر سے گزر چکا ہے تو انہوں نے کسی کو کہہ کہلوا کر فوراً
میرے لئے علیحدہ کرائے پر مکان کا بندوست کیا اور چار گھنٹوں کے اندر اندر میں
اپنے انجان گھر انجان محلے میں تھی پہلے والدین سے دوری پھر شوہر سے دوری اپنوں سے
دوری اور پھر ایک چار دیواری میں قیدی کی طرح بیٹھی رو رہی تھی میرے شوہر باہر سے
پیسے بھیجتےاور میرا گھر چلتا پھر میری زندگی میں ایک اور موڑ آیا جب میرے گھر کے
سامنے ایک کریانہ کی دکان میں ایک لڑکا بیٹھا تھا جب اس سے سودا سلف لیتی تو نہایت
محبت و پیار سے بات کرتا میں ایک بار پھر اس پیار کے بھنور میں پھنس گئی مجھے نہ
کوئی سمجھانے والا تھا نہ روکنے والا نہ ہی کسی کا ڈر تھا میں گناہوں کی دلدل میں
ایک بار پھر دھنستی چلی گئی اور اس لڑکے کے ساتھ تین سال گزارے نہ مجھے خدا یاد
تھا نہ ہی خدا کا ڈر تقریباً ساڑھے تین سال کے بعد میرے شوہر واپس آئے اور اس
علاقے سے دور ایک جگہ پر اپنا مکان خریدا اور اس طرح میرا اور اس لڑکے کے درمیان
گناہ کا تعلق ختم ہوا ۔ بعد میں بھی وہ کبھی میرے پیچھے نہ آیا۔واپس آ کر میرے
شوہر نے اپنی بیٹی کو بھی دیکھا اس کے بعد جب اپنے گھر والوں سے ملنے کیلئے لے گئے
تب سے اب تک ان کے رویے میں میرے لئے کوئی تبدیلی نہ آئی ۔میرے شوہر سال بھر فارغ
رہے رات کو دیر سے آنا اس کا معمول تھا پوچھنے پر گالیوں کے سوا کچھ نہ ملتا یہ وہ
شخص تھا جس کی خاطر میں نے اپنوں کو چھوڑا ان کی مخالفت کو مول لیا مگر وہ اب میرے
پاس بیٹھنا تک گوارا نہیں کرتا تھا اور پھر اسی دوران اللہ پاک نے مجھے بیٹا دیا
پھر زندگی سے مایوس ہو کر خود کشی کی بھی کوشش کی تو اس پر اکڑ کر کہتا مرنا ہے تو
اپنوں میں جا کر مرو ، کچھ عرصہ پہلے میری ہمسائی نے مجھے ماہنامہ عبقری دیا میں
نے پڑھا تو مجھےلگا کہ جیسے کوئی سچارہبر مل گیا ۔ میں نے اپنی ہمسائی سے تفصیل سے
عبقری کے متعلق پوچھا حضرت حکیم صاحب ! کے بارے میں پوچھا اس نے مجھے موبائل کارڈ
میں آپ کے تمام درس کروا کے دیئے جو میں نے سننے شروع کر دیئے بس پھر کیا تھا جیسے
جیسے درس سنتی چلی گئی زندگی بدلتی چلی گئی مجھے اپنے بے حیا اور فحش نفس سے نفرت
ہونا شروع ہو گئی مجھے یاد بھی نہیں کہ میں نے اپنے پیارے اللہ پاک کو کتنے عرصے
بعد یاد کیا بہت روئی بہت گڑ گڑائی رو رو کر اللہ پاک سے توبہ کی اس کے اگلے دن
اپنے شوہر سے اجازت لے کر اپنی ہمسائی کے ساتھ اپنے والدین کے گھر آئی اپنے ابو
اور امی کے پاؤں میں سر رکھ کر رو رو کر معافی مانگی مزید رشتے دار بھی اکٹھے ہو
گئے ۔ سب نے میرے والدین کو بڑی مشکل سے راضی کیا ۔ شام کو گھر آئی تو دل میں کچھ
سکون تھا اب نماز پڑھنی شروع کر دی ہے ہر وقت اللہ پاک کو یاد کرتی ہوں سارا دن
گھر میں آپ کا درس چلتا ہے میں نے اپنے ماں باپ کا دل دکھایا ان کی نافرمانی کی
۔اپنے شوہر کے ساتھ غداری کی اس کی غیر موجودگی میں اپنی عزت کو غیر کے ہاتھوں میں
تھما دیا جس کی مجھے خوب خوب سزا ملی شاید مجھے عبقری نہ ملتا تو نہ جانے اب میں
کہاں سے کہاں ہوتی ؟مگر عبقری اور درس نے میری زندگی میں سکون بھر دیا ہے میرے
شوہر کا رویہ بھی دن بدن اب بدل رہا ہے اب بچوں سے بھی پیار کرتے ہیں اور ان کی
نوکری بھی اسی شہر میں لگ گئی ہے آہستہ آہستہ اب میرے مسائل حل ہو رہے ہیں ۔یہ درس
ہی کی برکت ہے کہ میرے شوہر میں اتنا بدلاؤ آ رہا ہے اب جب اپنے گزشتہ گناہوں بھری
زندگی بارے سوچتی ہوں تو کانپ کر رہ جاتی ہوں ۔
Tuesday, September 15, 2015
I was a call girl
میں ایک طوائف تھی:۔
محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم ! اللہ پاک آپ ، آپ کی
نسلوں ، آپ کے والدین ، آپ کے مرشد ، آپ کے مریدوں اور آپ سے وابستہ ہر انسان پر
اپنی رحمتیں قیامت تک نازل فرماتا رہے ، آپ کے درس سے مجھے کیا دولت نصیب ہوئی وہ
میں آگے چل کر بتاؤں گی۔
میں نے ایک متوسط گھرانے میں آنکھ کھولی جیسے جیسے بڑی ہوئی
میں نے دیکھا کہ ہماے گھر میں نہ نماز ، نہ دین ، نہ قرآن اور نہ ہی کسی قسم کے
اعمال تھے ، ہر کوئی اپنی مستی میں مست تھا صبح اٹھے کھانا کھایا مرد حضرات کاروبار
پر چلے گئے عورتیں گھر کے کام سے فارغ ہوئیں اور سارا دن ٹی وی ، میوزک اور بس !
میری ایک بہن نے محلے کے ایک لڑکے سےبھاگ کر شادی کر لی تھی جس کا شروع میں بہت
شور اٹھا لیکن بعد میں دونوں خاندان کی آپس میں صلح ہو ئی اور بات ختم ۔ جب میں نویں
جماعت میں تھی تو میری محلے کے ایک لڑکے سے نام نہاد دوستی ہوئی جس نے مجھے خوب
بیوقوف بنایا ۔ بعد میں وہ محلہ چھوڑ گیا ، اس کے بعد مجھے لڑکوں سے دوستی کرنے
میں خوب مزہ آتا میں نے لڑکوں کو خوب بیوقوف بنایا میں شروع سے بہت خوبصورت تھی
میں کسی کو بھی بیوقوف بنا دیتی تھی ، بارہویں جماعت میں مجھے ایک لڑکے سے سچ مچ
محبت ہوئی جو کہ ناکام ثابت ہوئی اور اس لڑکے کے گھر والوں نے زبردستی اس کی شادی
کہیں اور کر دی ، میں بہت روئی ،چیخی، چلائی ،مگر میری آہیں کسی نے نہ سنیں ، جس
کے بعد مجھے چپ لگ گئی ۔میرے ماموں دوسرے شہر میں رہتے ہیں ایک مرتبہ وہ آئے تو
انہوں نے کہا کہ اس کو جن آتے ہیں آپ میرے پاس آؤ میرے پاس ایک بابا جی آتے ہیں ان
سے دم کرواتے ہیں ۔ میں اپنے ابو کے ساتھ ان بابا جی کے پاس گئی وہاں کا ماحول بہت
پر سکون تھا ۔دعا کے بعد حاضری ہوئی وہ محترم ہستی بڑی شفقت سے پیش آئے دم کیا
انہوں نے ہمیں نماز کی تلقین کی اور کچھ اعمال بتائے ۔اور مجھے اللہ پاک کا ایک
اسم مبارک دیا کہ اس کو ہر وقت پڑھو انشاءاللہ تم پر اللہ پاک اپنا بہت کرم کرے گا
، مجھے پہلی مرتبہ روحانی سکون کا احساس ہوا گھر آ کر میرے ابو اور بہن نے ان کا
خوب مذاق اڑایا۔ اور ان کی خوب توہین کی میں بھی ان کی باتیں سن کر خوب ہنستی ،
کبھی کبھی خواب میں ان اللہ والے کی زیارت ہوتی جو مجھے وظیفے کی تلقین کرتے۔ایک
مرتبہ میں اپنے ابو بہن سے چوری ان بزرگوں کے پاس گئی ۔ میں حالات سے تنگ تھی انہوں
نے مجھے پھر وظیفہ پڑھنے نماز اور اعمال کی تلقین کی ۔ پھر کچھ عرصہ میں نے ان سے
رابطہ نہ کیا۔ پھر میں جب تھرڈائیر میں تھی تو پھر موبائل پر لڑکوں سے دوستیاں شروع
ہوئیں ، ساری ساری رات مختلف لڑکوں سے سمز بدل بدل کر گندی باتیں کرنا اور فجر کی
اذان کے بعد سو جانا ۔ پھر بات موبائل سے بڑھ کر ملاقاتوں تک بڑھ گئی اور بڑھتے بڑھتے ہوٹلز
رومز تک پہنچ گئی ۔ مجھے خود معلوم نہ تھا میں یہ سب کچھ کیوں کر رہی ہوں ۔بس میں
اپنی ہی مستی میں مست تھی ۔ لوگ میرے اشاروں پر ناچتے تھے میں جس سے جو مانگتی
مجھے وہ لا کر دیتا میرے پاس مہنگے سے مہنگا موبائل ، سونے کے سیٹ ، اعلیٰ سے
اعلیٰ برانڈ کے کپڑے ، جوتے ، مہنگے ہوٹل کا کھانا ۔ بس میں ان دنوں ہواؤں میں اڑ
رہی تھی ۔ پھر ایک وقت یہ بھی آیا کہ میں ایک ہاتھ سے دوسرے پھر تیسرے اور پھر
چوتھے ہاتھ میں استعمال ہوئی حتٰی کہ بعض لوگوں نے مجھے طوائف کہنا شروع کر دیا ۔
میں نے سگریٹ پینا شروع کر دی ۔ میں نے بی اے تک پڑھائی کی پھر پڑھائی چھوڑ دی
میرے والدین میری شادی تو نہ کرواسکے مگر میں اپنی عزت کا نایاب زیور کسی ہوٹل کے
کمرے میں گم کر چکی تھی۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود اندر بے چینی تھی ، ایک خلش
تھی ،ایک چبھن تھی ،جو مجھے ہر وقت عیاشی کے باوجود بے قرار رکھتی تھی ۔ میں نے
گھر میں کچھ فلمی ڈائجسٹ لگوا رکھے تھے جو ہاکر ہر ماہ آ کر پھینک جاتا ایک مرتبہ
وہ ان ڈائجسٹ کے ساتھ عبقری رسالہ بھی پھینک گیا ۔ میں نے ایسے ہی پڑھا اور بے
پرواہی سے صوفے پر پھینک کر ٹی وی دیکھنا شروع کر دیا ۔ پھر اس رسالے کو میری
والدہ اور بھائی نے پڑھا تو ان کو یہ پسند آیا انہوں نے ہاکر کو کہہ دیا کہ دوسرے
میگزینز کے ساتھ یہ رسالہ بھی ہر ماہ دے جایا کرو ۔ ایک مرتبہ ایسے ہی بور ہو رہی
تھی تو میں نے رسالہ پکڑ کر پڑھنا شروع کر دیا ۔اس میں آپ کا درس ہدایت کا صفحہ
پڑھا ،تو اندر ایک ہدایت کی چنگاری تھی جو تھوڑی سی بھڑکی ۔ میں نے نیٹ پر آپ کے
درس سنے تو میری راتوں کی نیند اڑ گئی ۔ میں پہلی بار کانپتے ہاتھوں سے وضو کیا
اور نماز مجھے جیسے بھی آتی تھی کانپتے ہونٹوں اور بہتے آنسوؤں سے پڑھ کر اللہ پاک
سے خوب رو رو کر توبہ کی ،اور وہیں جائے نماز پار روتے روتے سو گئی ۔ مجھے ایسی پر
سکون نیند آئی کہ جو آج تک نہ آئی تھی ۔ جب اذان فجر ہوئی تو میری آنکھ کھلی میں نے
پھر وضو کیا اور نماز فجر ادا کی ۔حالانکہ اس وقت مجھے نہیں معلوم تھا کہ فجر کی
سنتیں اور فرض کتنے ہیں ۔ میں نے اپنی تمام سمز بلاک کروا دیں موبائل فون توڑ دیئے
۔ اپنی غلیظ کمائی کے کپڑے جوتوں کو آگ لگا دی میں نے اپنی دوست سے صحیح نماز
پڑھنے کا طریقہ سیکھا ، صفائی ستھرائی، پاکی ناپاکی، کے بارے میں سب جانا ۔اچھی
اچھی دینی کتب گھر میں لائی جن کا اب میں بھر پور مطالعہ کرتی ہوں ۔ لوگوں نے میرا
پیچھا تب بھی نہ چھوڑا میرے گھر کے باہر آ کر آوازیں کستے میرے والد نے تنگ آ کر
وہ شہر ہی چھوڑ دیا اب ہم نے دوسرے شہر میں اپنی خالہ کے گھر کے پا س گھر لے لیا
ہے ۔ ہمارے گھر میں دینی ماحول آ رہا ہے ۔ میرے ابو بھی اب قریبی مسجد میں جاتے
ہیں اور امام صاحب سے نماز کا طریقہ سیکھ رہے ہیں ۔۔ گھر میں ہر وقت آپ کا درس
چلتا ہے ۔ الحمدللہ ! میری والدہ اور چھوٹے بھائیوں نے بھی نماز پڑھنا سیکھ لی ہے
۔ اب الحمدللہ ! میں اعمال کی طرف آ گئی ہوں۔ رو رو کر اللہ پاک سے اپنی کوتاہیوں
کی معافی مانگتی ہوں ۔ آپ کے درس نیٹ سے سنتی ہوں ۔ میں نے درس سے کچھ دعائیں یاد
کی ہیں ۔ کھانا شرمندہ ہو کر کھانا اور کم کھانا ، کھانے سے پہلے سات بار استغفار
کرتی ہوں۔ کھانے کے بعد سورہ قریش تین بار پڑھتی ہوں ۔ بیت الخلا میں جاتے ہوئے
دعا پڑھتی ہوں ۔ بیت الخلا میں مسلسل دل ہی دل میں پڑھتی ہوں اس کا فائدہ یہ ہوا
ہے کہ مجھے پہلے غصہ بہت آتا تھا ایک پل میں آگ بگولہ ہو جاتی تھی اب اندر طوفان
تو اٹھتے ہیں مگر زبان ادب کے دائرے میں رہتی ہے ۔ وضو کے بعد والی دعا پڑھتی ہوں
رات سوتے وقت کی دعا پڑھتی ہوں گیارہ بار سونے والی دعا تین بار درود شریف ایک بار
سورہ فاتحہ تین بار سورہ اخلاص تین بار کلمہ طیبہ پڑھ کر اپنے ایمان کی تجدید کرتی
ہوں ۔ یہ آپ کے درس سے دعائیں لی ہیں ۔ میری خالہ کے بیٹے سے منگنی ہو چکی ہے ۔ وہ
میرے بارے میں سب جانتے ہوئے مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ الحمد للہ ! امام
مسجد ہیں اور بہت جلد ہمارا نکاح مسجد میں سادگی سے ہو رہا ہے ۔
ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر15
Subscribe to:
Posts (Atom)

