Monday, August 10, 2015

ذہنی اور جسمانی تھکن سے نجات کے آسان ٹوٹکے:


ایسے افراد جو مثبت سوچ کے مالک ہوتے ہیں وہ کم تھکتے ہیں ایسے لوگ زیادہ فعال ، سرگرم اور خوش اخلاق ہوتے ہیں یہ لوگ اپنے اردگرد موجود لوگوں کی منفی باتو پر دھیان نہیں دیتے بلکہ ان کے اچھے پہلوؤں کو ذہن میں رکھتے ہیں ان سے بات چیت کرتے ہیں ہو سکتا ہے کہ آپ نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہو جن کے چہرے پر کبھی تھکن کے اثرات ہی نظر نہیں آتے آپ ایسے لوگوں کو دیکھ کر دل میں سوچتے ہیں کہ آخر اس شخص میں ایسی کیا بات ہے جو اسے تھکنے ہی نہیں دیتی ۔ اس کے ساتھ ہی دوسری جانب کچھ ایسے لوگ بھی آپ کو نظر آئیں گئے جن کے چہرے پر صبح ہو، شام ہو، رات ہو ، کہ دن ہر وقت تھکان غالب رہتی ہے ۔ وہ اپنے گھریلوں اور دفتری کاموں کو بھی اس طرح انجام دیتےہیں گویا وہ بہت ہی مجبور ہیں آخر اس کی وجوہات کیا ہیں ؟ اور اس تھکن کاعلاج بھی ہو سکتا ہے کہ نہیں ۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ بھی ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں جو ہر وقت ہشاش بشاش اور تازہ دم نظر آتےہیں۔ہمارے معاشرے میں تھکن کی شکایات عام ہیں نچوں کو دیکھو کھیل کود کر آئیں گئے تو تھکن کی شکایت کریں گئے گھر کہ کام کاج گھریلوخواتین کو تھکا دیتے ہیں ۔ اس طرح مرد سفری اور دفتری تھکان کو رونا روتےہیں ۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ محنت و مشقت کے بعد انسان تھکتا ہے لیکن بہت سے افراد گھر واپس آ کر اگلے دن دفتر کے خیال ہی سے تھکنے لگتے ہیں ۔ اور ایسے لوگ عام طور پر چڑ چڑے ہو جاتےہیں ۔ تھکن دو طرح کی ہوتی ہے جسمانی اور ذہنی۔ لیکن جسم کی تھکن تو دور ہو جاتی ہے مگر ذہنی تھکن آسانی سے دور نہیں ہوتی ہے۔ 
تھکان کی عام وجوہات:
امریکہ سمیت مغربی ملکوں میں بھی اس بات پر تحقیق جاری ہے کہ تھکن کہ شکایات کیوں بڑھتی جارہی ہیں ۔ ہر تیسرا چوتھا شخص تھکن کی شکایت کرتا ہو ا نظر آتاہے آخر کیوں؟ ماہرین نے اس بات پر بہت اسٹڈی کی ہے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے معمولات زندگی کا جائزہ لیا گیا ، ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان اپنی جسمانی قوت سے زیادہ کام کر کہ بھی تھک جاتا ہے اور یہ تھکن فطری سی بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم میں ایک خاص حد تک قوت رکھی ہے ہر بندہ 120 کلو گرام وزن نہیں اٹھا سکتا ہے ۔ اس طرح کی تھکن سمجھ میں آنے والی ہے ، اور جو لوگ زیادہ مشقت کر کے تھک جاتے ہیں انہیں اس بات کا علم بھی ہوتا ہے ۔لیکن بعض اوقات انسان محنت و مشقت کئے بغیر بھی تھکن کا شکار محسوس کرتاہے ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ نفرت کا جزبہ بھی تھکن پیدا کرتا ہے اسی طرح غصہ، تیز روشنی، بند کمرے، غیر ہموار رستے، ناکامی کا خوف، بھوک اور پیاس کی شدت ، غیر ضروری زمہ داری اور مسلسل آرام بھی انسان کو تھکا دیتےہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کے اگر کوئی بندہ تھکن کا شکار رہتا ہے تو اس سے نجات کے لئے سب سے پہلی اور بنیادی چیز یہ ہے کے وہ اس بات کا پتہ لگائے کہ تھکان کی وجہ کیا ہے ۔ مغربی ماہرین نے ہر دم تازہ سرگرم اور ہشاش بشاس رہنے اور ہر وقت تھکن کی شکایت کرنے والے افراد کا جائز ہ لینے کے بعد چند باتوں کی طرف رہنمائی کی ہے ۔ اس سے ہمیں بہت حد تک تھکن سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے ۔
لگی بندھی زندگی:
ہر فرد اپنا ایک معمول رکھتا ہے وہ ایک خاص وقت پر اٹھتا ہے، ناشتہ کرتا ہے، تیار ہوتا ہے ، اور کام پر روانہ ہو جاتا ہے ۔ عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ اکثریت لوگوں کی ایسی ہوتی ہے جن کے معمولات بندھے ہوئے ہوتےہیں ۔ روزانہ اسے ایک ہی طرز کا کام کرنا ہوتا ہے ، اس کی ڈیٹنگ ایک ہی جیسی ہوتی ہے ، دفتری کا م بھی تقریباً روزانہ ایک جیسا ہی ہوتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کو زیادہ تھکتے ہوئے دیکھا گیا ان لوگوں کے مقابلے میں جو دن میں مختلف طرح کے کام نمٹاتے ہیں ۔ اسی طرح اگر آپ ایک دفتر میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں اور سارا دن  کمپیوٹر کے سامنے گزار دیتےہیں تو لازمی طور پر آپ تھکن کا شکار ہوں گئے ایک جگہ بت بن کر نہ بیٹھے رہیں آپ جب محسوس کریں کے تھکن ہورہی ہے تو بہتر ہے کہ کام میں تھوڑا سا وقفہ لیا جائے ۔چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے دوسروں کا سہارا نہ لیں دفتری اوقات میں ایسی اشیاء زیادہ استعمال نہ کریں جن میں کیفین ہو یا، بانکوٹین ہو۔ اسی طرح کوشس کریں کہ مصنوعی مشروبات کی بجائے پانی استعمال کیا جائے یعنی صاف پانی۔
کام کی جگہ کا ماحول:
ماحول انسان کے جذبات پر بڑا گہرا اثر ڈالتاہے ،کسی بھی دفتر کی کارکردگی اس کے بہتر ماحول سے جڑی ہوتی ہے ۔ اگر کسی دفتر کا ماحول اچھا نہیں ہے تو اس کے کارکنان کی کارکردگی متاثر ہو گی ، گھر یا دفترکا ماحول اگر خوشگوار نہیں ہے تو آپ کے مزاج پر اس کا لازمی اثر ہو گا ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر شخص کو دفتر کاماحول ویسا ہی ملے جیسا وہ چاہتا ہے لیکن کوشش کریں کہ آپ اس ماحول میں خود کو ایڈجسٹ کریں ۔ باس کی بد مزاجی، آمرانہ طرز، گفتگو یا بعض اوقات توہین آمیز رویے ہو سکتا ہے۔کہ آپ کا اختیا رنہ ہو لیکن اس کا ردعمل پر آپ کو اختیا ر ضرور ہے لیکن جب آپ دیکھیں کہ واقعی کوئی چیز برداشت سے باہر ہے تو آپ ایسے ماحول کی تلاش کریں جہاں آپ خود کو آرام دہ محسوس کر سکیں ۔آپ میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ متعلقہ لوگوں سے کس طرح ڈیلنگ کرنی ہے ۔ ایسی ڈیلنگ کے آپ کا کام بھی متاثر نہ ہو اور دوسرا فرد بھی آپ کے بارے میں کوئی منفی رائے قائم نہ کرے ۔ اسی طرح گھر کو ماحول کو بھی خوشگوار رکھیں ۔
اچھا اور مثبت سوچیں :
ماہرین نے دونوں گروپوں کے جائزے کے بعد ایک اور اہم نقطے کی نشاندہی کی ہے ۔ ان کاکہنا ہے کہ ایسے افراد جو مثبت سوچ کے مالک ہوتے ہیں وہ کم تھکتے ہیں ، ایسے لوگ زیادہ فعال، سرگرم ، اور خوش اخلاق ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنے اردگرد موجود لوگوں کی منفی باتوں پر دھیان نہیں دیتے ۔ بلکہ ان کے اچھے پہلوؤں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان سے بات چیت کرتے ہیں ۔ یہ لوگ سمجھوتہ کرنے میں  کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیں اور اگر کبھی ان سی کوئی غلطی ہوتی ہے تو اس کا برملا اعتراف کرتے ہیں جبکہ منفی سوچ کے حامل شخصیت کا اپنے ساتھیوں سے رویہ زیادہ اچھا نہیں ہوتا ۔ وہ دوسروں کی ترقی پر خود کو کوستا رہتا ہے ، اس میں بڑھ چڑھ کر کام کرنے اور آگے بڑھنے کے جذبے کا بھی فقدان ہوتا ہے ۔ ایسے لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ زیادہ تھکتے ہیں ، حالانکہ وہ دوسروں کے مقابلے میں کم کام کرتےہیں۔
آرام کے لمحات کا تعین کریں :
ہو سکتا ہے کہ آپ کو کبھی ایسا تجربہ ہو ا ہو جب آپ نے دفتر سے چھٹیاں لے لی ہوں اور گھر پر وقت گزارا ہو ۔ اگر آپ نے گھر میں یوں ہی فارغ وقت گزارا ہے تو آپ اس حقیقت سے واقف ہو ں گئے کہ آپ سارا دن گھرگزارنے اور آرام کرنے کے باوجود تازہ دم نہیں ہوئے بلکہ شام کو آ پ کو ویسی ہی تھکن کا احساس ہوا جیسا آپ کو دفتر یا کام کاج سے واپس گھر لوٹتے ہوئے ہوتا ہے ۔ دراصل ہمیں اپنےآرام کے لئے  بھی وقت کا تعین کرنا چاہیے ۔ حد سے زیادہ آرام آپ کو تھکا دے گا ۔ فرصت کے لمحات اگر دلچسپ مصروفیات میں گزاریں تو اس سے دل و دماغ پر اچھا اثر ہوتا ہے۔فارغ رہ کر بوریت کا احساس ہونے لگتا ہے اور آپ جسمانی محنت کئے بغیر ہی تھکن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ 
 ماہنامہ عبقری "اگست 2015ء شمارہ نمبر 110" صفحہ نمبر8




No comments:

Post a Comment