Tuesday, August 11, 2015

اسلام میں معذورں کے حقوق و سلوک:

 اسلام میں معذورں کے حقوق و سلوک: (محی الدین قاسمی)

انسانی معاشرے کا وہ حصہ جسے مادہ پرستی کے اس دورمیں  نظر انداز کر دیا گیا ہے " معذورین" کے عنوان  سے جانا جاتا ہے ، سماج کے اس طبقہ میں وہ افراد شامل سمجھے جاتے ہیں جو رفتار زمانہ اور زندگی کی دڑمیں اپنی طبعی، دائمی، اور پیدائشی مجبوروں کی بنا پر پیچھے رہ گئے ہوں ۔ بینائی ، شنوائی، سے محروم بے دست و پا دماغی طور پرمفلوج ، دائمی روگ میں مبتلا افراد عام طور پر اس میں داخل مانے جاتے ہیں۔
یوں تو دنیا بھر میں ان کے تعلق سے ہمدردی کی لہر چل پڑی ہے ، ایک عالمی ادارہ باقاعدہ طور پر ان کا نگراں سمجھا جاتا ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ سماج کا یہ طبقہ جس قدر ہمدردی اور توجہ کا مستحق ہے فی الحال عملی طور پر محرومی کے شکوہ سے دو چار ہے۔ ان حضرات کا قضیہ وقتی عبوری اقداامات سے حل نہیں ہو سکتا، ان کے مستقل حل کیلے مضبوط حکمت عملی اور بڑے دیرپا اقدامات ناگزیر ہیں ۔ ویسے تو معذورین کے تعلق سے جذبہ ترحم انسانی فطرت کا تقاضا اور لازمہٰ ہے لیکن صرف اسلام نے اا جزبہ کو  صحیح رخ  دیا ہے، معذورین کے مختلف حقوق و مراعات وضاحت کے ساتھ بیان کئے ہیں قانون اسلامی کا ایک معتدبہ حصہ ان کے حقوق سے متعلق مختص کر دیا گیا ہے ذیل میں اسلامی نقطہ نظر سے معذورین کے معاشی ، معاشرتی، مذہبی ،اور سیاسی وحربی ،حقوق و مراعات پر قدرے تفصیل کے ساتھ گفگو کی جاتی ہے۔
اسلام نے معذور افراد پر کسی طرح کا معاشی بار نہیں رکھا ہے، کسب معاش کی الجھنوں سے انہیں آزاد رکھا  ہے۔ وہ تمام قرآنی آیات اور ا حادیث مبارکہ جن میں کمزوروں ، بےسہاروں کے ساتھ حسن سلوک اور ان پر انفاق کی تلقین کی گئی ہے ، معذورین بھی ان کے مفہوم میں داخل ہیں  ۔ کتب فقہ میں نفقہ اقارب کے عنوان سے بکھری پڑی ہیں ، ان کا حاصل  بھی یہی ہے کہ ان معذورین کے معاش و زیست میں تعاون ہو۔ علامہ کاسانی رحمۃ اللہ علیہ  نفقہ اقارب کے وجوب ( بعض رشتہ داروں کے نفقہ کا بعض رشتہ داروں پر وجوب) کی ایک نہایت ہی اہم اور بنیادی شرط  کی و ضاحت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں  "  خاندان  کے کچھ مفلس رشتہ دار ،اپاہج ولاچار، ہو ں یا معذور و مفلوج ،ہوں یا مجنون و اندھے پن ،کا شکار ہوں تو ان کا نفقہ معبودترتیب فقہی کے اعتبار سےخاندان  کے دیگر صحیح الاعضاء متمول رشتہ داروں پر واجب ہوتاہے ۔( بدائع الصنائع 446/4)
معذورین کے حقوق کی یہ رعایت خاندانی سطح سے تھی ، اسلامی دوردرخشاں میں حکومتی سطح پر معذورین کی نگرانی اوردیکھ بھال کا جو نظم تھا وہ حد در جہ بے مثال اور قبل رشک تھا ۔ علامہ شبلی رحمۃاللہ علیہ " الفاورق" میں لکھتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے زمانے میں عام حکم تھا اور اس کی ہمیشہ تعمیل ہوتی تھی کہ ملک کے جس قدر اپاہج، اذکار رفتہ، مفلوج ،وغیرہ ہوں سب کی تنخواہیں بیت المال سے مقرر کر دی جائیں ۔ لاکھوں سے متجاوز آدمی فوجی دفتر میں داخل تھے جن کو گھر بیٹھے خوراک ملتی تھی بلا تخصیص  مذہب حکم تھا کہ بیت المال سے ان کے روزینے مقرر کر دیئے جائیں ( الفاروق 196/2، 197)
غرض حکومتی سطح پر جو  معاشی  مراعات مسلم معذورین کو حاصل تھیں پوری رواداری کے ساتھ غیر مسلم معذور رعایا بھی نفع اندوز ہوتی تھی ایک اور مقام پر علامہ موصوف رقم  طراز ہیں " یہ جو قاعدہ تھا کہ جو مسلمان اپاہج اور ضعیف ہو جاتا تھا اور محنت و مز دوری  سے معاش نہیں پیدا کر سکتا تھا بیت المال سے اس کا وظیفہ مقرر ہو جاتا تھا۔ اسی قسم کی بلکہ اس سے زیادہ  فیاضانہ رعایت ذمیوں کے ساتھ بھی تھی " (الفاروق :157/2)
 سید قطب شہید مرحو م تحریرفرماتے ہیں "  حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک بوڑھے نابینا کو  ایک دروازے پر بھیک مانگتے دیکھا دریافت کرنے  پر معلوم ہوا کہ وہ یہودی ہے تو  حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  اس سے پوچھا ! تمہیں کس چیز نے اس حالت تک پہنچایا؟   اس  نے جواب دیا ! جذیہ ضرورت اور بڑھاپا۔   حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور اتنا کچھ دیا  کہ اس وقت کی ضروریات کے لئے کافی تھا ۔ پھر  حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیت المال کے خذانچی کو کہلا بھیجاکہ اس شخص اور اس جیسے دوسرے اشخاص کی طرف توجہ کرو  خدا کی قسم یہ انصاف کی بات نہیں کہ ہم اس کی جوانی کی کمائی کھائیں اور بڑھاپے میں اسے دھتکاردیں۔  حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے اس فرد اوراس جیسے دوسرے اافراد کے جذیہ سے بری قرار دے دیا ۔ جب  حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دمشق کا سفر کیا تو ایک بستی سے گزرے جہاں  کچھ جذام کے مریض عیسائی بستے تھے  حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ ان کو ذکوٰۃ کی مد سے امداددی جائے  اور ان کے لئے راشن جاری کئے جائیں ۔( العدالۃ الاجتما عیۃ  فع الاسلام، اردو 378)
ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کی بینائی  میں نقص تھا اور کچھ ذہن بھی متاثر تھا وہ خرید و فروخت میں اکثر  دھوکہ کھا جاتے تھے آپ ﷺ نے ان کی اور ان جیسے افراد کی خاطر خریدو فروخت میں خیار شرط مشروع فرمایا جس کی رو سے بیچنے والے یا خریدنے والے کو بیع کی قطعیت کےلئے تین دن کی مہلت مل  جاتی تھی ۔ تکملہ فتح الملہم ' 378،382۔
معاشرتی حقوق و مراعات :
اسلام نے معذور افراد کو الگ تھلگ کسمپرسی کی زندگی گزارنے کے بجائے اجتماعی معاشرتی کا حوصلہ دیا ، ان کو مقام و مرتبہ کے مناسب معاشرتی کام بھی تفویض کئے احساس کمتری اور معاشرتی سرد مہری کا شکار بننے سے  ان کو تحفظ فراہم کیا ۔عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک نابینا صحابی تھے ایک دفعہ وہ بغرض دریافت مسئلہ بارگاہ اقدس ﷺ میں ایک ایسے وقت حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ بعض اعیان قریش سے اسلام پر گفتگو فرما رہے تھے ۔ آپ ﷺ کو ان کا یہ بے وقت سوال پوچھنا ناگوار ہوا ۔  بس اتنا ہونا تھا کہ سورہ عبس کا نزول ہوا جس میں آپ ﷺ پر اس رویہ کے تعلق سے ہلکا سا عتاب کیا گیا ۔ روایات میں ہے کہ اس کے بعد جب وہ نابینا آپ ﷺ کی خدمت میں آتے تو آپ ﷺ بہت تعظیم و تکریم سے پیش آتے اور فرماتے ! خوش آمدید ! اے وہ ساتھی! جس کے بارے میں پروردگار نے مجھے تنبیہہ  فرمائی ۔رسول پاک ﷺ جب غزوہ احد کے لئے روانہ ہوئے تو اپنی جگہ انہی نابینا ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا نائب فرمایا۔( السیرۃ  النبویۃ لابن ہشام ، 17/3)
غور کیجئے ! کتنا بڑا منصب ایک نابینا شخصیت  کے سپرد کیا جا رہا ہے اور تو اور ایک جزامی آدمی کے آپ ﷺ نے اپنے کھانے میں شریک فرمایا ہے (تکملہ فتح  الملہم 372/4۔
سعید بن یربوع رضی  اللہ تعالیٰ عنہ ایک صحابی تھے جن کی آنکھیں جاتی رہی تھیں ۔  حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ جمعہ میں کیوں نہیں آتے ؟ انہوں نے کہا ! میرے پاس آدمی نہیں کہ مجھ کو راستہ بتائے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے ایک آدمی مقرر کر دیا جو ان کے ساتھ رہتا تھا ( الفاروق 205/2۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے زمانے میں  حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  مدینہ کی ایک اندھی عورت کی خبر گیری کیا کرتے تھے پھر ایسا ہونے لگا کہ جب بھی آپ پہنچتے یہ دیکھتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ تعالی ٰ عنہ  آ کر اس کے کام کر جاتے ہیں ( اسلام میں عدل اجتماعی ، قطب شہید 382)
مذہبی حقوق و مراعات:
بہت سی عبادات جو جسمانی تعصب و مشقت کی متقاضی ہیں اسلام نے معذور حضرات کو یا تو ا ن سے بالکل مستثنیٰ رکھا ہے یا پھر ان کا متبادل تجویذ کیا ہے۔جمعہ اور جماعات کی لازمی حاضری سے معذور حضرات مستثنیٰ ہیں ۔ مال دار ہوں ، مگر اپاہج ولاچار ہوں تو عبادت حج میں ،حج بدل اور روزہ میں فدیہ کی شکل رکھی  گئی ہے جہاد جیسی عظیم عبادت سے بھی یہ حضرات مستثنیٰ ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ اندھے پر کوئی حرج نہیں ہے اور نہ لنگڑے پر کرئی حرج ہے اور نہ بیمار پر کوئی حرج ہے (الفتح 17) 
بصارت سے محرومی اور لنگڑے پن کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذوری ہے ، یہ دونوں عذر تو لازمی ہیں ، ان اصحاب عذر یا ان جیسے دیگر معذورین کو جہاد سے مستثنیٰ کر دیا گیا حد تو یہ کہ یہ معذور حضرات جو اپنی معذوری کے برابر اجروثواب کا  وعدہ  گھر بیٹھے حاصل ہے غزوہ تبوک کے موقع سے آپ ﷺ نے معذورین کے بارے میں جہاد میں شریک لوگوں سے ارشاد فرمایا تھا کہ  تمہارے پیچھے مدینہ  کے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ تم جس وادی کو بھی طے کرتے ہو اور جس راستے پر بھی چلتے ہو تمہارے ساتھ وہ اجر میں برابر کے شریک ہیں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا یہ کیونکر ہو سکتا ہے جبکہ وہ مدینہ میں بیٹھے ہیں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ! عذرنے ان کو وہاں روک دیا ہے ( بخاری ،کتاب الجہاد)
سیاسی و حربی حقوق و مراعات:
اسلام سے قبل جنگ میں مقاتلین اور غیر مقاتلین کے درمیان کوئی امتیاز نہ تھا، دشمن قوم کے ہر فرد کو دشمن  سمجھا جاتا تھا، اور اعمال جنگ کا دائرہ تمام طبقوں، اور جماعتوں، پر یکساں محیط تھا ۔ عورتیں  ، بوڑھے، بیمار، ذخمی کوئی بھی اس ہمہ گیر دست درازی سے مستثنیٰ نہ تھا     ( الجہاد فی الاسلام 198)
 ماہنامہ عبقری "اگست 2015ء شمارہ نمبر 110" صفحہ نمبر15







No comments:

Post a Comment