میرے پاس ایک بوڑھا شخص جس کا نام (م) تھا خیرات لینے آتا تھا میں اسے خیرات دیتا تھا اور عیدالاضحی پر قربانی کی کھال وغیرہ اور گاہے بگاہے صدقہ زکوٰۃ دیتا رہتا تھا اور شخص پندرہ بیس دن بعد میری دکان سے اکثر پانچ سات سوروپے کا سودا لے جاتا اور امانتاً رقم بھی میرے پاس رکھوا جاتا تھا۔ میں نے اس سے کئی دفعہ پوچھا بابا جی اتنا سودا سلف کیا کرتے ہو؟ اتنا تو میرے گھر کا بھی خرچہ نہیں ہے۔ وہ کہتا کہ میں اندرون سندھ میں رہتا تھا میری بیوی اور بچوں کو اغواکاروں نے اغواء کرلیا۔ ایک بیٹی بچ گئی تھی جوقریبی کالونی میں رہتی ہے شادی شدہ ہے یہ سارا سامان اس کیلئے لے جاتا ہوں۔ تقریباً چار سال گزر گئے مجھے اس بزرگ کی باتوں میں کچھ صداقت نظر نہ آئی میں نے آہستہ آہستہ اسے خیرات صدقہ دینا بند کردیا۔ کبھی کبھار کچھ مدد کردیتا۔ ایک ہفتہ قبل وہ بوڑھا فقیر میری دکان کے سامنے صبح صبح کھڑا تھا میں دکان کھولنے کیلئے بازار آیا‘ اس شخص کی چادر (تہہ بند) کھلی ہوئی تھی کچھ شرارتی لڑکے اور ہمسائے اکٹھے ہوکر اس کا مذاق اڑا رہے تھے میں نے ان کو منع کیا اور شٹر کھولنے کے بعد بابا جی کو دکان کے اندر لے آیا اور خود اس کی چادر درست کرکے باندھی اور ان سے کہا بابا جی اب آپ بہت ضعیف ہوگئے ہیں بازار میں خیرات یا سودا لینے نہ آیا کریں۔ اب عمر کا آخری حصہ ہے گھر میں رہا کریں اور اللہ کا ذکر کیا کریں۔ لیکن دو دن بعدپھر مجھے مانگتے ہوئے نظر آئے۔ آج صبح حسب معمول میں نے دکان کھولی اور اللہ کے ذکر میں مشغول ہوگیا اس بوڑھے بابا کی بیٹی آگئی جو پہلے بھی کبھی کبھار اپنے والد کے ساتھ دکان پر آیا کرتی تھی اور مجھے کہنے لگی کہ بھائی جان میرے گھر والا (یعنی اس کا خاوند) سخت بیمار ہے ہسپتال میں داخل ہے ہمیں عشرزکوٰۃ سے کچھ رقم لے دو کیونکہ آپ کا لوگوں سے تعلق واستہ ہے۔ میں نے کہاکہ آپ کے گھر والے کو کیا بیماری ہے؟ کہنے لگی اسے بہت شوگر ہے تقریباً 500 تک ہے اور جگر بھی کام نہیں کرتا‘ میرے خاوند کو کسی نے تعویذ ڈال دیئے تھے اس کے تمام بدن میں آگ لگی رہتی تھی۔ ابھی کچھ دن پہلے ایک بزرگ سے تعویذ نکلوائے ہیں اب ان کو کافی فرق ہے لیکن اب اس کے علاج کیلئے ہمارے پاس رقم نہیں ہے۔ میں نے اسے سمجھایا کہ باجی اپنے والد صاحب سے کہوکہ خیرات نہ مانگا کریں وہ میری بات سنتے ہی روپڑی اور اتنا روئی کے خدا کی پناہ اور پھر کہانی سنانا شروع کی کہ میرا والد اپنے کئے کی سزا اٹھارہا ہے اس نے جو کہانی بتائی وہ کچھ یوں ہے: میرے دادا ابو کی 60 ایکڑ زمین اندرون سندھ میں تھی جس میں سے میرے والد کے حصہ میں ساڑھے بارہ ایکڑ اراضی آتی تھی میرے والد نے پہلے ایک شادی کی جو تقریباً تین سال رکھی اس میں سے کوئی اولاد نہ ہوئی‘ میرے والد کے سسرال والوں نے طلاق لے لی۔ دوسری شادی میری والدہ سے کی جو کہ خاندان میں تھی جس میں سے ہم تین بہنیں اور دو بھائی تھے۔ اب جن میں سے ہم دو بہنیں اور ایک بھائی زندہ ہے۔ اس کے بعد میرےو الد نے ایک دوسرے خاندان میں شادی کیلئے رجوع کیا‘ میری بڑی بہن جو ابھی بالغ بھی نہ تھی اپنی شادی کیلئے اسی خاندان میں ایک لڑکے کو دے دی۔ انہوں نے کہاکہ ہم اپنی بچی جو ابھی کچھ چھوٹی ہے بڑی ہونے پر آپ کو بیاہ دیں گے۔ تقریباً دو ماہ بعد وہ لوگ رات کی تاریکی میں میری بہن کو کسی کے گھر میں چھوڑ کر اپنا مکان بیچ کر نکل گئے۔ میرے والد نے چوتھی شادی (ش)عورت سے کی جو بہت ظالم ہے اس کو بیاہ کر میرا والد ہمارے گھر لے آیا۔ میری سگی والدہ نے اپنی سوکن کو برادشت کیا میرا والد میری والدہ کو بہت مارتا تھا میری والدہ کہتی تھیں کہ میں تیرا گھر چھوڑ کر نہیں جائوں گی۔ میرے والد نے میری نئی والدہ کی عیاشی بدمعاشی میں دس ایکڑ زمین فروخت کردی۔ اڑھائی ایکڑ زمین باقی بچی ایک دن میری دادی اماں قرآن اٹھا کر لے آئی اور میرے والد کے ہاتھ پر رکھ دیا اور کہاکہ باقی زمین فروخت نہ کرنا لیکن میرےوالد نے ایک نہ مانی وہ زمین بھی فروخت کردی گھر بھی فروخت کردیا‘ میری والدہ اپنے والدین (یعنی میرے نانا نانی) کے گھر چلی گئی۔ میری دادی اماں فوت ہوگئی‘ ہم دونوں بہنوں کی شادی ہوگئی‘ میرا بھائی مل میں ملازم ہے۔ نئی والدہ نے میرے والد کو خوب دونوں ہاتھوں لوٹا جب رقم ختم ہوگئی تو رہائش تبدیل کرنا شروع کردی‘ اس میں سے بھی اولاد ہے اب وہ کہتی ہے کہ جائو مانگ کر لائو اور ہمیں کھلائو۔ پر یہ فقیر بن گیا‘ وہ بیوی اب قریبی شہر میں ہے یہ اب بستر مرگ پر ہے پچھلے دنوں میں اپنے والد کو نہلارہی تھی تو بہت رو رہا تھا کہتا تھا کہ آہستہ صابن لگائو میرے جسم میں درد ہے۔ میں نے کہا کیسا درد ہے؟ کہنے لگے تمہاری سوتیلی ماں نے مجھے ڈنڈے مارے ہیں اور گھر سے نکال دیا ہے کہتی ہے کہ مانگ کر لائو۔ بیشک ہمارا والد قصور وار ہے لیکن میں اسے دھکا نہیں سکتی کیونکہ یہ میراباپ ہے میرے تایا چاچا بھی اب میرے والد کے وارث نہیں بنتے۔ پچھلے ایک ماہ کی بات ہے میرا والد اپنے پرانے دوستوں کے پاس گیا اور ان سے کہاکہ (میری بیوی جو ابھی جوان ہے خوبصورت ہے اور میری بچی جو اس میں سے ہے) ان دونوں کو اٹھا کر لے جائو میں اس کام میں آپ کی مدد کروں گا کیونکہ اب میری بیوی اور بچے میرا کہنا نہیں مانتے۔ میرے بھائی کو پتا چلا تو اس نے میرے والد کو کہاکہ اگر آپ نے یہ حرکت کی تو میں آپ کو قتل کرکے نہر میں پھینک دوں گا۔ اس کے بعد میرا والد اس حرکت سے باز آیا۔ میرے بھائی نے کہا وہ جیسی بھی ہے آخر ہماری سوتیلی ماں ہے اور اس کی لڑکی ہماری بہن ہے لوگ کیا کہیں گے۔
Thursday, January 4, 2018
گھر میں سکون کیلئے
نامعلوم کیا وجہ تھی میں جب سے اپنے سسرال آئی میرے گھر میں شروع دن سے سکون نام کی چیز نہ تھی‘ ہر کوئی چڑچڑے پن کا شکار‘ روزانہ کسی نہ کسی کی لڑائی ہوتی اور بہت شدید ہوتی‘ میری بھی روزانہ طبیعت خراب رہتی‘ جسم میں ہروقت ہلکا ہلکا درد رہتا‘ میرے شوہر کئی کئی دن تک بالکل نارمل رہتے اور کبھی کبھی اچانک سے شدید غصے میں آجاتے‘ تمام خاندان کے سامنے مجھے بےعزت کردیتے‘ گالیاں دینا عام سی بات تھی۔ مگر اب الحمدللہ! میرے گھر میں بھی سکون آگیا ہے‘ مجھے ایک مولانا صاحب نے ایک وظیفہ بتایا کہ روزانہ یَاجَامِعُ 1061 مرتبہ اول و آخر گیارہ مرتبہ درودشریف کے ساتھ پڑھو۔ الحمدللہ! وظیفہ جاری ہے اور برکتیں رحمتیں اور عافیتیں بھی جاری و ساری ہیں۔
گرمی سے بچیں
اس ماہ میں صبح کی ابتداء چائے کی بجائے کسی ٹھنڈے مشروب سے کرنی چاہیے جیسے شربت صندل‘ شربت کیوڑہ‘ شربت بزوری یا بادام سے تیار شدہ سردائی یا مشروب عبقری افراء وغیرہ۔ ناشتہ میں مچھلی‘ گوشت اور انڈوں کی بجائے دودھ‘ دہی‘ مکھن اور لسی زیادہ مفید ہے۔
اپریل سے ہمارے پیارے ملک (پاکستان) میں اچھی خاصی گرمی پڑنی شروع ہوجاتی ہے۔ موسم سرما کا اثر مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے اس لیے ہوا میں نمی کم ہوکر حرارت تیز ہونے لگتی ہے جس کی بنا پر ہوا کا بھاری پن ختم ہوجاتا ہے اور ہوا گرم ہوکر بالائی فضا میں چلی جاتی ہے اور اس خلا کو پرکرنے کیلئے ٹھنڈی ہوا آجاتی ہے۔ ہوا کے اس مسلسل چکر کے باعث ہوا کی کثافتیں کم ہوکر ہمیں صاف ہوا ملنے لگتی ہے۔
سورج اور دھوپ کی شدید حرارت کے باعث فضا گرم ہوجاتی ہے جس سے انسانی اجسام بھی متاثر ہوتے ہیں اور نہ صرف بدن کی بیرونی جلد کا ہی درجہ حرارت بھی بڑھ جاتا ہے بلکہ اندرونی طور پر بھی ایک آدھ فارن ہائیٹ زیادہ ہوجاتا ہے۔ حرارت کے باعث رطوبات بدن کم ہوکر پیاس میں شدت آجاتی ہے اور چونکہ نمک رطوبتوں کو اکٹھا کرکے اخراج کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے اس موسم میں زیادہ نمکین چیزیں کھانے سے پرہیز واجب ہے۔اسی طرح زیادہ حرارت کی وجہ سے معدہ کمزور ہوجاتا ہے اور سری‘ گائے کا گوشت وغیرہ انتہائی ثقیل غذاؤں کو خاطر خواہ ہضم کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا‘ گائے اور بکری کا دودھ اس موسم میں بہ نسبت بھینس کے دودھ کے اجزاء ترکیبی اور تاثیر کے لحاظ سے زیادہ فائدہ مند سمجھا گیا ہے۔جہاں تک ورزش کا تعلق ہے آپ جانتے ہیں حرکت سے حرارت پیدا ہوتی ہے اور جبکہ گرم موسم کے باعث پہلے ہی بدن متاثر ہورہا ہو تو اسے مزید متاثر کرنے کا سبب بنتی ہے۔ مگر طلوع آفتاب سے قبل اگر معمولی قسم کی ورزش کر بھی لی جائے تو زیادہ نقصان دہ نہیں۔ ہمارے ملکی حالات کے اس موسم میں دن میں دو یا تین بار غسل کرنا بھی بیحد مفید ہے تاکہ پسینہ کی بدبو اور میل کچیل صاف ہوکر جلد کے مسامات کھل جائیں۔
اس ماہ میں صبح کی ابتداء چائے کی بجائے کسی ٹھنڈے مشروب سے کرنی چاہیے جیسے شربت صندل‘ شربت کیوڑہ‘ شربت بزوری یا بادام سے تیار شدہ سردائی یا مشروب عبقری افراء وغیرہ۔ ناشتہ میں مچھلی‘ گوشت اور انڈوں کی بجائے دودھ‘ دہی‘ مکھن اور لسی زیادہ مفید ہے۔اسی طرح دوپہر اور رات کے کھانوں میں سبزپتوں والی سبزیاں اور دالیں زیادہ استعمال کریں۔ کھانے کے ہمراہ انار دانہ‘ پودینہ یا دھنیا کی چٹنی‘ پیاز اور سلاد بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ سوڈا واٹر‘ چائے‘ کافی‘ قہوہ وغیرہ سے حتیٰ الوسع پرہیز کریں تو آپ کی صحت کیلئے زیادہ بہتر ہوگا۔دھوپ میں زیادہ دیر ٹھہرنے‘ کام کرنے یا سفر کرنے میں احتیاط رکھیں۔ ضرورت کے وقت سر پر چھجے دار تنکوں کی بنی ہوئی ٹوپی استعمال کریں تاکہ سورج کی شعاعیں براہ راست ننگے سر یا گردن پر نہ پڑیں۔ ورنہ سردرد‘ بخار‘ نزلہ زکام‘ آشوب چشم‘ سوء مزاج بخار اور گردن توڑ جیسی بیماری کا حملہ ہوسکتا ہے۔ باہر سے آکر فوراً بجلی کے پنکھے تلے یا ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھنا مضر صحت ہے۔
تمازت آفتاب سے درد سر: شدید گرمی یا حبس میں بعض اوقات سردرد ہونے لگتا ہے۔ تمازت آفتاب سے لاحق ہونے والا درد سر شدید اور چبھن دار ہوتا ہے اس میں مریض بے چینی و بے قرار ی محسوس کرتا ہے۔ ایسی حالت میں نمک ملے پانی کا استعمال کرانا چاہیے۔ مریض کو ٹھنڈی اور تاریک جگہ رکھیں تاکہ اسے سکون حاصل ہو۔ زیادہ دیر سخت دھوپ میں گھومنے پھرنے سے کئی لوگ نڈھال ہوجاتے ہیں۔ اسی کیفیت میں مریض کی جلد زرد‘ ٹھنڈی اور نمدار ہوجاتی ہے اہم علامات میں انتشار‘ ذہنی پریشانی‘کمزوری‘ سستی‘ سرچکرانا‘ مدہوشی اور مختلف اعضاء کا تشنج اکڑاؤ شامل ہے۔ مریض کو وقفے وقفے سے نمک ملا پانی پلانا چاہیے۔
اس ماہ میں لباس عام سوتی کپڑے کا پہنیں تاکہ بدن تک سورج کی شعائیں پہنچنے میں مناسب رکاوٹ رہے۔ ویسے بھی اس قسم کے لباس میں آکر جسم ٹھنڈا رہتا ہے۔ بالکل باریک ململ یا وائل کے کپڑے نقصان دہ ہوتے ہیں اور ریشمی کپڑے پہننا تو اپنے جسم پر ظلم کرنا ہے۔
پندرہ اپریل کے بعد کوشش کریںرات کھلی ہوا میں پلنگ پر مچھردانی لگا کر سوئیں تاکہ مچھروں سے محفوظ رہ سکیں ورنہ ملیریا بخار کاخطرہ ہے جن لوگوں کے پاس مچھر دانی نہ ہو بدن کے کھلے حصوں پر مچھر مار کریم یا سرسوں کے تیل کی مالش کرکے سوئیں۔چند احتیاطی تدابیر:گرم موسم میں حسب ذیل احتیاطی و حفاظتی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں:۔٭ زیادہ دیر دھوپ میں پھرنے سے پرہیز کریں۔٭ کسی دوسری جگہ نقل مکانی کی صورت میں آب و ہوا سے موافقت پیدا کرنے کا دورانیہ آہستہ آہستہ بڑھایا جائے۔٭ سگریٹ‘ چائے‘ کافی اور الکوحل کا استعمال فوراً ترک کردیا جائے۔ ٭بچوں کو ننگے پاؤں باہر نہ جانے دیا جائے۔٭ تمازت آفتاب کے اثرات سب سے زیادہ رخسار محسوس کرتے ہیں۔ لہٰذا سائیکل یا موٹرسائیکل پر سفر کرتے ہوئے رومال چہرے اور سر پر لپیٹ لیا جائے۔ یہ لو سے بچنے کا ذریعہ ضرور ہے تاہم لو لگنے کے نقصانات بہرحال زیادہ ہیں۔٭ گوشت‘ چکنائی اور گرم سبزیوں کا استعمال کم سے کم کیا جائے۔٭ تربوز‘ آلوبخارا اور فالسہ جیسے پھل اور سردائی‘ لسی‘ ستو اور مشروبات کا استعمال باقاعدگی سے کیا جائے۔
کسی چیز کو ڈھوڈیں/یاد کریں
دو مرتبہ یہ الفاظ
۔ اول و آخر درودخضری:۔ صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی حَبِیبِہ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کے بعد دائیں کرٹ لیٹ کر چہرے کے نیچے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی رکھ کر سوجائیں۔ سوتے وقت جو بات معلوم کرنی ہے اسے ذہن میں دہرائیں۔ زیادہ سے زیادہ تین دن کےاندر خواب یا بیداری میں جو کچھ معلوم کیا گیا ہے منکشف ہوجائے گا۔
عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو
حضرت احوص رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:۔
غور سے سنو! عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو‘ اس لیے کہ وہ تمہارے ماتحت ہیں تمہیں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے علاوہ اور کسی چیز کا اختیار نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ کسی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں تو پھر ان کو ان کے بستروں میں تنہا چھوڑ دو یعنی ان کے ساتھ سونا چھوڑ دو لیکن گھر ہی میں رہو اور ہلکی مار مارو۔ پھر اگر وہ تمہاری فرمانبرداری اختیارکرلیں تو ان پر زیادتی کرنے کے لیے بہانہ مت ڈھونڈو۔ غور سے سنو! تمہارا حق تمہاری بیویوں پر ہے اور (اسی طرح) تمہاری بیویوں کا تم پر حق ہے۔ تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کا آنا تم کو ناگوار گزرے اور نہ وہ تمہارے گھروں میں تمہاری اجازت کے بغیر کسی کو آنے دیں۔ غور سے سنو! ان عورتوں کا تم پر حق یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ ان کے لباس اور ان کی خوراک میں اچھا سلوک کرو یعنی اپنی حیثیت کے مطابق ان کے لیے ان چیزوں کا انتظام کرو۔ (ترمذی)
ہم نے عبقری سے خوشیاں پائیں
میں ماہنامہ عبقری کی گزشتہ پانچ سال سے قاری ہوں۔ اس کےپڑھنےسے مجھے بہت فائدہ ہوا‘ میرے علم میں اضافہ ہوتا ہے اور میں نے بہت لوگوں کو بتایا ہے جس کو بھی بتایا الحمدللہ اس میں موجود وظائف پڑھنے سے انہیں خوب فائدہ ہوا ہے۔ الحمدللہ ! جس گھر میں بھی عبقری دیکھا وہاں خوشیوں کا خزانہ دیکھا‘ میاں بیوی میں مثالی محبت دیکھی‘ بچوں میں بڑوں کا ادب اور بڑوں میں بچوں کے ساتھ پیار دیکھا۔ہاتھوںمیں تسبیح اور زبان پر ذکر جاری دیکھا‘ نماز کا اہتمام خوب دیکھا۔ واقعی عبقری گھر وں کیلئے خوشیوں کا خزانہ ہے۔ (ج۔ر)
عبقری جو پڑھا فائدہ ہی ملا:۔
میں ماہنامہ عبقری گزشتہ دو سال سے پڑھ رہی ہوں‘ میں نے اس سے آج تک جو بھی وظیفہ کیا الحمدللہ مجھے خوب فائدہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ میں نے جس کسی کو بھی یہ ماہنامہ عبقری دیا ہے وہ اس کا مستقل قاری بن گیا ہے اور اس رسالہ کی بدولت اسے بہت ہی زیادہ طبی و روحانی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ (شبانہ اقبال)۔
قرض سے نجات:۔
الحمدللہ جس دن سے عبقری پڑھنا شروع کیا ہے لوگوں سے قرض لینا چھوڑ دیا ہے۔ اب جبکہ خالق حقیقی سے مانگتا ہوں اور وظائف کرتا ہوں میرا قرض اترنا شروع ہوگیا۔ غیب سے نظام چلنا شروع ہوگیا ہے۔ بے شک میرے وسائل نہیں ہیں مگر میرا پروردگار کسی وسائل اور اسباب کا محتاج نہیں ہے۔ جو اسباب اور وسائل بنانےپرآتا ہےتو وہ کسی کا محتاج نہیں جب اس کی عطا ہوتی ہےوہ نہ نیک دیکھتا ہےاور نہ وہ گنہگار دیکھتا ہےوہ کالا دیکھتا ہے اور نہ وہ سیاہ دیکھتا ہے‘ وہ نہ عمل دیکھتا ہے نہ وہ کوڑے کےڈھیر دیکھتا ہے‘ وہ ایسا کریم ہےکہ اس کی موج رحمت بنجر اور سنگلاخ زمینوںکو بھی سیراب کردیتی ہے۔ الحمدللہ! ۔عبقری میں آئے طبی وروحانی ٹوٹکوں نے زندگی آسان کردی ہے۔( محمدصابر‘ ہری پور)
عبقری سے زندگی میں سکون:۔
محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!میں آپ کی بہت شکرگزار ہوں‘ آپ کی وجہ سے میرے بہت سے کام حل ہوئے ہیں‘ محترم حکیم صاحب میں آپ کا رسالہ جس کی وجہ سے مجھے سکون ملتا ہے۔عبقری میں جو بھی وظائف آتے ہیں میں کرتی ہوں اور میرے مسائل حل ہوتے ہیں۔
صحابہ کرام کے واقعات
تجارت میں کبھی گھاٹا نہیں ہوا:۔
حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی کنیت ابوخالد ہے اور خاندان قریش کی شاخ بنواسد سے ان کاتعلق خاندانی ہے۔ یہ ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھتیجے ہیں۔ ان کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ان کی والدہ (جبکہ یہ ان کے بطن میں تھے) کعبہ کے اندر بتوں پر چڑھاوا چڑھانے کو گئیں تو بیج کعبہ میں حکیم بن حزام پیدا ہوگئے۔ زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں زمانوں میں یہ اشراف قریش میں سے شمارکیے جاتے تھے۔ فتح مکہ کے سال 8 ہجری میں مشرف بااسلام ہوئے۔ بہت ہی عقلمند، معاملہ فہم اور صاحب علم و تقویٰ شعار تھے۔ ایک سو غلاموں کوخرید کر آزاد کیا اور ایک سو اونٹ ان مسافروں کو دئیے جن کے پاس سواری کے جانورنہیں تھے۔ ایک سو بیس برس کی عمر پائی۔ ساٹھ برس کفر کی حالت میں اور ساٹھ برس اسلامی زندگی گزاری۔ 45 ہجری میں بمقام مدینہ منورہ ان کا وصال ہوا۔ (1 کمال ص561)
ان کی مشہور کرامت یہ ہے کہ یہ تاجر تھے۔ زندگی بھر تجارت کرتے رہے مگر کبھی بھی اور کہیں بھی اور کسی سودے میں بھی کوئی نقصان اورگھاٹا نہیں ہوا بلکہ اگر یہ مٹی بھی خریدتے تو اس میں نفع ہی نفع ہوتا کیونکہ حضورنبی کریم ﷺ نے ان کیلئے یہ دعا فرمائی تھی اللھم بارک فی صنعتہ (اے اللہ! ان کے بیوپار میں برکت عطا فرما)کنزالعمال ج12 ص362)۔ترمذی وابوداؤد کی روایتوں میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ان کو دو دینار دے کر ایک مینڈھا خریدنے کیلئے بھیجا تو انہوں نے ایک دینار میں دو مینڈھے خریدے اور پھر ان میں سے ایک مینڈھے کو ایک دینار میں فروخت کر ڈالا اور آپ کی خدمت اقدس میں آکر ایک مینڈھا اور دو دینار پیش کردئیے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس میں سے ایک دینار کو تو خدا کی راہ میں خیرات کردیا اور پھر خوش ہوکر ان کی تجارت میں برکت کیلئے دعا فرمادی۔ (مشکوٰۃ ص 254،باب الشرکہ والوکالت)
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ: یہ قدیم الاسلام اورمہاجرین اولین میں سے ہیں اور یہ ان مصیبت زدہ صحابیوں میں سے ہیں جن کوکفار مکہ نے اس قدر ایذائیں دیں کہ جنہیں سوچ کر ہی بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ظالموں نے ان کو جلتی ہوئی آگ پر لٹایا چنانچہ یہ دہکتی ہوئی آگ کے کوئلوں پرپیٹھ کے بل لیٹے رہتے تھے اور جب حضور اقدس ﷺ ان کے پاس سے گزرتے اور یہ آپ کو یارسول اللہﷺ کہہ کر پکارتے تو آپ ﷺ ان کیلئے اس طرح آگ سے فرمایا کرتے تھے۔
یانار کونی بردا وسلاما علی عمار کما کنت علی ابراہیم۔ (اے آگ تو عمار پر اس طرح ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا جس طرح تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کیلئے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن گئی تھی)۔ ان کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی سمعیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے ابوجہل نے بہت ستایا‘ یہاں تک کہ ان کی ناف کے نیچے نیزہ مار دیا جس سے ان کی روح پرواز کرگئی اور عہداسلام میں سب سے پہلے یہ شہادت سے سرفراد ہوگئیں۔ حضور اکرمﷺ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو طیب و مطیب کے لقب سے پکارا کرتے تھے۔ یہ 37 ہجری میں ترانوے برس کی عمر پاکر شہید ہوگئے۔ (اکمال ص 607)
کبھی ان کی قسم نہیں ٹوٹی: حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی مشہور کرامت ہے کہ یہ جس بات کی قسم اٹھالیا کرتے تھے خداوند کریم ہمیشہ ان کی قسم کو پوری فرمادیتے تھے کیونکہ حضور اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا تھا کم من ذی طموین لایوبہ لو اقسم علی اللہ لابرہ منھم عمار بن یاسر۔ (کنزالعمال 12 ص 295)
(ترجمہ: کتنے ہی ایسے کمبل پوش ہیں کہ لوگ ان کی کوئی پروا نہیں کرتے لیکن اگر وہ کسی بات کی قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کی قسم کو پوری فرمادے گا اور انہیں لوگوں میں عماربن یاسر ہیں)
تین مرتبہ شیطان کو بچھاڑا:۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو پانی بھرنے کیلئے بھیجا۔ شیطان ایک کالے غلام کی صورت میں حضرت عماررضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو پانی بھرنے سے روکنے لگا اور لڑنے پرآمادہ ہوگیا۔ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اس کو بچھاڑ دیا تو وہ عاجزی کرنے لگا۔ اسی طرح تین مرتبہ شیطان نے پانی بھرنے سے آپ کو روکا اور لڑنے پر تیار ہوا اور تینوں مرتبہ آپ نے اس کو بچھاڑ دیا جس وقت شیطان سےآپ کی کشتی ہورہی تھی۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنی مجلس میں صحابہ کرام ؓکو بتادیا کہ آج عمار نے تین مرتبہ شیطان کو بچھاڑ دیا ہے جو ایک کالے غلام کی صورت میں ان سےلڑرہا ہے۔ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ جب پانی لے کرآگئے تو میں نے ان سے کہا کہ تمہارے بارے میں حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تم نے تین مرتبہ شیطان کو بچھاڑا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کہنے لگے کہ خدا کی قسم! مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ شیطان ہے ورنہ میں اس کو مار ڈالتا ہاں البتہ تیسری مرتبہ مجھے بڑا ہی غصہ آگیا تھا اور میں نے ارادہ کرلیا تھا کہ میں دانت سے اس کی ناک کاٹ لوں مگر میں جب اس کی ناک کےقریب منہ لے کر گیا تو مجھے بہت ہی گندی بدبو محسوس ہوئی اس لیے میں پیچھے ہٹ گیا اور اس کی ناک بچ گئی۔
Subscribe to:
Posts (Atom)







