میں ایک ریٹائرڈ فوجی ہوں اور1971 کی جنگ کے دوران میں سیالکوٹ چھاؤنی میں سروس کررہا تھا ایک دن ظہر کے وقت میں اپنے جے سی او میں بیٹھا ہوا تھا کہ 19 لانسر کا ایک جوان میرے کمرے میں داخل ہوا اور مجھے سیلوٹ کرنے کے بعد مجھے بتایا کہ سر آپ کو ہمارے نائب رسالدار ملک خان محمد صاحب یاد کررہے ہیں جو ابھی ابھی اپریشنل ایریا سے ایک شہید کی میت لے کر آئے ہیں۔ یہ نائب رسالدار صاحب میرے گاؤں کےرہنے والے تھے اورمیرے دوست بھی تھے۔ جنگ کے دنوں میں ہم لوگ ہروقت وردی میں ہوتے تھے۔ میں فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔ 19 لانسر کی جے سی او میں تقریباً پندرہ بیس گز کے فاصلہ پر تھی درمیان میں صرف ایک سڑک تھی اس کو کراس کرکے میں فوراً ملک خان محمدصاحب کے پاس پہنچ گیا۔ ان کو سیلوٹ کیا اور ہاتھ ملایا۔ اس وقت چند جوان ایک گاڑی سے میت کی سٹریچر اتار رہے تھے انہوں نے اس میت کو برآمدے میں ایک چارپائی پر رکھ دیا۔ میں نے خان محمدصاحب سے پوچھا کہ سر یہ کون صاحب ہیں؟ انہوں نے نے کہا کہ پہلے آپ چہرہ دیکھ لیں پھر میں تفصیل بتاتا ہوں۔ انہوں نے میت کے چہرہ سے کمبل اٹھایا تو اس کے نیچے سے میں نے ایک ابدی نیند سوئے ہوئے جوان کو دیکھا جس کا چہرہ پھول کی طرح کھلا ہوا تھا‘ بال بکھرے ہوئے تھے اور پر مورچوں کی مٹی کا گردو غبار تھوڑا تھوڑا نظر آرہا تھا اور ہونٹ ایسے لگ رہے تھے جیسے ہلکی ہلکی مسکراہٹ محسوس ہورہی ہو‘ میں نےگالوں پر ویسے ہی ہاتھ لگادیا میت مجھے گرم محسوس ہورہی تھی۔ میرا خیال ہے کہ اس سوار کی شہادت تقریباً پانچ یا چھ گھنٹے پہلے ہوئی تھی بعد میں جناب خان محمد صاحب نے میرے اس گمان کی تصدیق بھی کردی تھی۔ میت کا چہرہ اتنا پرسکون تھا اس سے مجھے نور کی ایسی جھلک نظر آرہی تھی کہ میں نے اس سے پہلے اپنی زندگی میں کسی میت کا چہرہ اس طرح پرسکون نہیں دیکھا تھا۔ دل کررہا تھا کہ بس اس پرنور چہرے کو دیکھتا رہوں‘ اس پر اترتے انوارات کا مشاہدہ کرتا رہوں میں چاہ کر بھی اس پرنور مکھڑے سے نظر نہیں ہٹاپارہا تھا۔
ملک خان محمد صاحب نے مجھے آواز دی تو میں چونک اٹھا‘ مڑ کر ان کی طرف دیکھا تو انہوں نے کہا ادھر میرے پاس آجائیں میں آپ کو تفصیل بتاتا ہوں میں حیران پریشان کرسی پربیٹھ گیا۔ ان کے چہرے کی شیو بڑھی ہوئی تھی اور مسلسل کئی راتوں کی بے آرامی کی وجہ سے وہ کافی تھکے ہوئے لگ رہے تھے اور ساتھ ہی میت کی طرف دیکھ کر ان کی آنکھوں میں آنسو بھی تیر رہے تھے انہوں نے کہا کہ یہ جوان میرے ٹروپ کا تھا اس کا گریڈ تو ڈرائیور تھا لیکن پچھلے مسلسل دو دنوں سے اگلے مورچوں میں اتنی دلیری اور مستعدی سے ایمونیشن پہنچا رہا تھا کہ اس کی کارکردگی کی بدولت ہمارے جوان دشمن کی یلغار کو روکنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ سوار محمد حسین شہید نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اپنے جوانوں کی ایسی مدد کی جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اس کوشش کے دوران دشمن کا ایک برسٹ اس کوآلگا اور یہ شہید ہوگیا اس شہید کی کارکردگی اور بہادری کو دیکھ کر ہمارے سی او صاحب نے اس کی بہادری کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو بھجوا دی ہے اور ابھی ہمارے سی او صاحب اور بریگیڈکمانڈر صاحب آنے والے ہیں ہوسکتا ہے کہ اس سوار کو کوئی اعلیٰ فوجی اعزاز مل جائے چنانچہ واقعی ہی سوار محمد حسین شہید کو پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز یعنی ’’نشان حیدر‘‘سے نوازا گیا۔ یہ تھا میرا آنکھوں دیکھا واقعہ۔
Thursday, January 4, 2018
مناقب اہل بیت اطہار
حضرت حبہ عرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کومنبر پر مسکراتے ہوئے دیکھا اور میں نے کبھی بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو اس سے زیادہ مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے دانت مبارک نظر آنےلگے۔ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا:’’ مجھے اپنے والد محترم ابوطالب کا قول یاد آگیا تھا۔ ایک دن وہ ہمارے پاس تشریف لائےجبکہ میں حضورنبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا اور ہم وادی نخلہ میں نماز ادا کررہے تھے پس انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! آپ کیا کررہے ہیں؟ حضور نبی اکرم ﷺ نے آپ کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے کہا: جو کچھ آپ کررہے ہیں یا کہہ رہے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں لیکن آپ کبھی بھی (تجربہ میں) میری عمر سے زیادہ نہیں ہوسکتے۔ پس حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنے والد محترم کی بات پر مسکرادئیے اور پھر فرمایا: اے اللہ! میں نہیں جانتا کہ مجھ سے پہلے اس امت کے کسی اور فرد نے تیری عبادت کی ہو سوائے تیرے نبی ﷺ کے‘ یہ تین مرتبہ دہرایا پھر فرمایا: تحقیق میں نے عامۃ الناس کے نماز پڑھنے سے سات سال پہلے نماز ادا کی۔‘‘ (اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے)
مستقبل کے روشن خاکوں میں رنگ بھرئیے
ایک ماہر نفسیات نے کہا کہ ہر انسان کو تنہائی میں پریشان کن حالات پیش آتے ہیں اور وہ اداس ہوجاتا ہے میں نے اس کا علاج یہ تجویز کیا ہے کہ میں تنہائی کے اوقات میں کوشش کرتا ہوں کہ اپنی ذات کےبارے میں کچھ نہ سوچوں اور دوسرے لوگوں اور چیزوں کے بارے میں سوچتا رہوں۔ میں نہ ماضی کے عمدہ مواقع سے محرومی یا انہیں گنوانے کے باعث پر غور کرتا ہوں بلکہ میں تنہائی کے اوقات میں مستقبل کے اپنے خاکوں میں رنگ بھرتا رہتا ہوں جس سے مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے۔ ساتھ ہی میں مستقبل کے اس روشن خاکے کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے کوشش بھی کرتا ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے کہ میں آئندہ کیلئے کاموں کو محنت اور لگن سے انجام دینے لگتا ہوں اور اس طرح میری زندگی میں امید،روشنی اور خوشی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔ میں اپنی راہ کی مشکلات اور رکاوٹوں سے کبھی دل برداشتہ نہیں ہوتا بلکہ ان کا خوش دلی اور جرأت سے مقابلہ کرتا ہوں کیونکہ مجھے علم ہے کہ فکر و غم مایوسی اور پریشانی میں مبتلا انسان کی دماغی اور اعصابی قوتیں ناکارہ ہوجاتی ہیں اور وہ انجانے میں غیرشعوری طور پر ایسا عمل اختیار کرلیتا ہے کہ اس کے کام سنورنے کے بجائے بگڑجاتے ہیں اور ناکامی اس کا مقدر بن کر رہ جاتی ہے اس کے برعکس میں چونکہ ہر کام خوشی اور مستقل مزاجی اور لگن سے کرتا ہوں اس لیے ناکامی کے اندیشے اور مایوسی کے وسوسے مجھ سے دور رہتے ہیں اور مجھے امید کے دریچوں سے کامیابی کی راہیں روشن نظر آنے لگتی ہیں۔ غمزدہ مایوس اور ناکام انسانوں کو چاہیے کہ اپنا ذہنی رویہ تبدیل کردیں اس سے یقیناً ان کی مایوسی امید میں‘ غم خوشی میں‘ مفلسی امارت میں اور ناکامی کامیابی میں بدل جائےگی۔ انشاء اللہ۔
مسائل کا خاتمہ
میں چند سال پہلے عجیب وغریب امراض کا شکار تھا‘جادو جنات کی وجہ سے میں بالکل معذور ہوچکا تھا‘ حتیٰ کہ کروٹ بھی نہ بدل سکتا تھا۔ روحانی علاج کرواکروا کرتھک چکا تھا‘ پھر ایک مرتبہ ایک پرانے سے میگزین میں جادو جنات سے نجات کیلئے ایک وظیفہ پڑھا کہ اول و آخر تین مرتبہ درود پاک کے ساتھ سورۂ بقرہ پڑھ کر آخر میں تین بار سورۂ اخلاص پڑھیں‘ پانی پر دم کرکے خود بھی پینا اور گھروالوں کو بھی پلانا اور دیواروں اور گھر کے چاروں کونوں پر اس پانی کو چھڑکنا ہوتا ہے۔ میں نے خود ہمت کرکے یہ عمل کرنا شروع کیا اور پہلے ہی ہفتے میں تقریباً پون گھنٹے میں میں نے یہ عمل پورا کرلیا‘ مجھے اپنا جسم‘ کمر‘ ٹانگیں بازو ہلکے محسوس ہونے لگے‘ دو ہفتے میں بستر پر کروٹ بدلنے اور اٹھنے بیٹھنے میں آسانی محسوس ہونے لگی‘ ایسا لگتا تھا جیسے کندھوں سے کمر تک بہت بوجھ اتر گیا‘ اس کے علاوہ میرے پسینے میں بہت زیادہ بدبو آتی تھی اور چہرے پر پیلاہٹ رہتی تھی جو اس عمل سے ختم ہوگئی‘ میں یہ عمل پانچ ماہ تک لگاتار کرتارہا ‘الحمدللہ! میں اب ستر فیصد تک ٹھیک ہوچکا ہوں‘ خودہی واش روم جاتا ہوں‘ کھانا کھاتا ہوں‘ ہلکی پھلکی صبح کی سیر کرتا ہوں۔
مراقبہ سے علاج
مراقبے کے جب کمالات کھلیں گے تو حیرت کا انوکھا جہان اور مشکلات کا سو فیصد حل خود آپ کو حیرت زدہ کر دے گا۔
Meditation یعنی مراقبہ جہاں ازل سے روحانیت کی ترقی اور مشکلات کے حل کا علاج رہا ہے وہاں جدید سائنس نے اسے امراض کا یقینی علاج بھی قرار دیا ہے۔
ہزاروں تجربات کے بعد عبقری کے قارئین کے لئے مراقبے سے علاج پیش خدمت ہے۔ سوتے وقت اگر با وضو اور پاک سوئیں تو سب سے بہتر ورنہ کسی بھی حالت میں صرف 10 منٹ بستر پر بیٹھ کر بلا تعداداَللہُ الصَّمَدُ اَللہُ ھُوَاَحَدٌ پڑھیں۔ اول و آخر 3 بار درود شریف پڑھیں پھر لیٹ جائیں۔ جس مرض کا خاتمہ یا الجھن کا حل چاہتے ہوں اس کو ذہن میں رکھ کر یہ تصور کریں کہ ’’ آسمان سے سنہرے رنگ کی روشنی میرے سر سے سارے جسم میں داخل ہو کر اس مرض کو ختم یا الجھن کو حل کر رہی ہے اور اس وظیفے کی برکت سے میں سو فیصداس پریشانی سے نکل گیا/گئی ہوں‘‘ یہاں تک کہ اس تصور کو دہراتے دہراتے نیند آجائے۔ شروع میں تصور بناتے ہوئے آپکو مشکل ہو گی لیکن بعد میں آپ پر جب اسکے کمالات کھلیں گے تو حیرت کا انوکھا جہان اور مشکلات کا سو فیصد حل خود آپ کو حیرت زدہ کر دیگا۔ مراقبے کے بعد اپنی کیفیات فوائد اور انوکھے تجربات ہمیں لکھنا نہ بھولیں۔
مدینہ منورہ کے بچے
مسجد قبا میں نوافل و دعا سے فارغ ہوکر ہم لوگ نکلے‘ باہر مختلف اشیاء فروخت کرنےو الے لوگ کھڑےتھے‘ کچھ برقع پوش بدوخواتین، کچھ بوڑھے، کچھ بچے، کھجوریں، مصلے، تسبیح اور دوسری اشیاء لیے آوازیں لگارہے تھے، اس حقیر کے رفیق محترم رضوان بھائی نے ایک بچہ سے ایک درجن تسبیح کا پیکٹ خریدا جس کی قیمت اس نےسات ریال بتائی، برابر میں ایک دوسرا بچہ بھی کھڑا تھا وہ خوشامد اور ضدکرنےلگا کہ ایک درجن مجھ سے بھی خریدو‘ رضوان بھائی نےمعذرت کی‘ اس نےشکایت کی کہ پہلے میں نےآپ کو تسبیح کا بھاؤ بتایا تھا، آپ مجھ سےبھی خریدیں‘ مدینہ منورہ کےاکرام میں رضوان بھائی نے اس بچہ سےبھی تسبیحات خرید لیں‘ اور پندرہ ریال دس اور پانچ کےدو نوٹ ایک بچہ کو دئیے اور کہا دونوں تقسیم کرلینا‘ دو درجن تسبیح کی قیمت چودہ ریال بنتی تھی اس خیال سےکہ ہمارے ملکوں کی طرح ایک ریال کیلئے ان دونوں میںلڑائی نہ ہو‘ رضوان بھائی نے ان بچوں سے معلوم کیا، تم دونوں پندرہ ریال کیسے تقسیم کروگے؟ دونوں بیک زبان بڑی خوشی سےبولے سات سات دونوں لیں گے اور ایک بچے گا اس کو صدقہ کردیں گے ان بچوں کے اس جواب کے بعد دل کا عجیب سا حال ہوگیا اور جب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے اپنے حال پر بڑی ندامت اور شرمندگی ہوتی ہے۔
یہ شہر مقدس اس تاجدار مدینہ ﷺ کا مسکن اور شہر ہے جس نے دنیا کو ایسی سخاوت، ایثار اور استغنا سکھائی کہ چودہ سو سال کے بعد بھی اس شہر کے بدو بچوں میں سخاوت، ایثار واستغنا کی یہ شان پائی جاتی ہے۔ ہمارا حال ایسا شرمناک ہے کہ ہم کوئی موقع خود غرضی‘ ہوس اور بخل کا گنوانا پسند نہیں کرتے‘ اس واقعہ کو سالوں ہوگئے‘ مگر جب بھی خیال و تصور میں اس شہرمحبوب کا سفرہوتا ہے‘ یہ واقعہ بھی یاد آجاتا ہے اور شرم سے منہ چھپانے کوجی چاہنے لگتا ہے کہ ہم غلاموں کی نسبت بھی اس معلم جودو سخا اور ایثار و استغنا سکھانے والے نبیوں کے سردار ﷺ سے ہے جنہوں نے پوری دنیا کے دل و دماغ اور اس کے رخ کو دنیا کی بے ثباتی اور نفع و نقصان کو آخرت کی یاد اور اصل نفع ونقصان کی طرف موڑ کر اس دنیا کے سارے اندھیروں کو دین اسلام اور اسلامی اصولوں کے نور میں بدل کر رکھ دیا تھا اور دنیا میں یہ مشہور ہوگیا کہ مسلمانوں سمجھ دار کیا پاگل و دیوانہ بھی اپنی چیزوں کو دوسروں کے گھر میں پھینکتا ہے اور غیرمسلموں کا پاگل دوسروں کی اشیاء پاگل پن میں اچھال کر اپنے گھر میں ڈالتا ہے‘ اس لیے کہ مومن و مسلم کی نگاہ میں نفع ہے تو آخرت کا‘ اور نقصان ہےتو آخرت کا، اس دنیا کے نفع کو وہ ایک متاع غرور اور دھوکہ کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتا‘ وہ اس خواب کے نفع و نقصان کو حقیقی آخرت کی زندگی کے نفع و نقصان کے مقابلہ چھوڑتا اور قربان کردینا عقل مندی سمجھتا ہے جب کہ کافرو مشرک کی زندگی کی آخری منزل یہ دھوکہ کی دنیا ہی ہے
’جانتے ہیں آنکھوں کے سامنے کی دنیوی زندگی (ف۱۰) اور وہ آخرت سے پورے بے خبر ہیں‘‘دنیا کی زندگی کی بے ثباتی اور متاع غرور اور آخرت کی ابدالآباد حقیقی زندگی کا یقین ہی وہ سرمایہ اور زندگی کی چولوں کو‘ اور انسان کے دل و دماغ کو بنادینے والا وہ گوہر ہے جو مدینہ منورہ کے بے پڑھے بدو بچوں میں ایسا سخاوت و ایثار اور استغناء کا جذبہ بیدار کرنے والا ہے اور جس کو سکھانے کیلئے نبی رحمۃ اللعالمین ﷺ مبعوث ہوئے۔ کاش ہم بھی اس رسول رحمت ﷺ سے نسبت کی لاج رکھنے والے بنیں!
ماہ شعبان کی برکات
رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ماہ شعبان بہت ہی برگزیدہ مہینہ ہے اور اس ماہ مبارک کی عبادت کا اللہ تعالی بے حد ثواب عطا فرماتے ہیں۔
نفلی نماز:۔
ماہ شعبان کی پہلی شب بعد نماز عشاء بارہ رکعت نماز چھ سلام سے پڑھے ہر رکعت میں بعد سورۂ فاتحہ کے سورۂ اخلاص پندرہ پندرہ مرتبہ پڑھنی ہے۔ سلام کے بعد ستر مرتبہ درود پاک پڑھ کر اپنے گناہوں سے توبہ کرے۔ انشاء اللہ اس نماز کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما کر اسے جنت میں داخل کریں گے۔
ماہ شعبان کے پہلے جمعہ کی شب بعد نماز عشاء آٹھ رکعت نماز ایک سلام سے پڑھے اور ہر رکعت میں بعد سورۂ فاتحہ کے سورۂ اخلاص گیارہ گیارہ دفعہ پڑھے اور اس کا ثواب خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بخشے خاتون جنت فرماتی ہیں کہ میں ہرگز جنت میں قدم نہ رکھوں گی جب تک کہ اس نماز پڑھنے والے کو اپنے ہمراہ جنت میں نہ لیجاؤں۔ ماہ شعبان کے پہلے جمعہ کی شب چار رکعت نماز ایک سلام سے پڑھے اور ہر رکعت میں بعد سورۂ فاتحہ سورۂ اخلاص تین تین بار پڑھنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے عمرے کا ثواب عطا ہوگا۔
شعبان کے پہلے جمعہ کو بعد نماز مغرب اور قبل نماز عشاء دو رکعت نماز پڑھے ہر رکعت میں بعد سورۂ فاتحہ کے ایک بار آیۃ الکرسی دس بار سورۂ اخلاص ایک بار سورۂ فلق اور ایک بار سورۂ ناس پڑھنی ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ یہ نماز ترقی ایمان کیلئے بہت مفید ہے۔وظیفہ: شعبان المعظم کی چودہ تاریخ کو بعد نماز عصر آفتاب غروب ہونے کے وقت باوضو چالیس مرتبہ یہ کلمات پڑھے
اللہ تعالیٰ اس دعا کے پڑھنے والے کے چالیس سال کے گناہ معاف فرما دیں گے۔(ان شاء اللہ تعالیٰ)
اعلان مغفرت
آنحضرتﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ شعبان المعظم کی پندرہویں شب کی عبادت بہت افضل ہے فرمایا اس شب کو اللہ تعالی اپنے بندے کیلئے اپنی رحمت کے بے شمار دروازے کھول دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ کون ہے جو آج کی شب مجھ سے بخشش طلب کرے اور میں اس کو دوزخ کے عذاب سے نجات دیکر اس
کی مغفرت کروں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس شب کی عبادت کرنیوالے پر اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ حرام کردینگے۔
نوافل اور روزہ:۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ جب شعبان کی پندرھویںشب آئے تو تم رات کو قیام کیا کرو‘ یعنی نوافل پڑھو اور دن کو روزہ رکھو۔اس رات اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہے کوئی بخشش چاہنے والا کہ میں اسے بخش دوں‘ کوئی رزق مانگنے والا ہے کہ میں اس کو رزق عطا کروں‘ کوئی مصیبت میں مبتلا ہے کہ میں اس کو عافیت دوں۔
شب برأت:شب برأت میں یہ نماز پڑھنی چاہیے ۔ حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں مجھ سے نبی کریمﷺ کے تیس صحابیوں نے بیان کیا ہے کہ اس رات جو شخص یہ نماز پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی طرف ستر بار (نظر رحمت سے) دیکھتے ہیں اور ہر نگاہ میں ستر حاجتیں پوری کرتے ہیں جن میں سب سے ادنیٰ حاجت گناہوں کی مغفرت ہے۔ اس نماز کا طریقہ یہ ہے کہ دو ، دو نفل کی نیت سے سو رکعتیں پڑھے اور ہر رکعت میں دس مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے بعد نماز دعا کرلے۔ (رات کو عبادت کرے اور دن کو روزہ رکھے)شب برأت میں دو رکعت نماز اس طرح پڑھیں کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد آیۃ الکرسی ایک بار‘ سورۂ اخلاص پندرہ پندرہ مرتبہ بعد سلام کے درود شریف ایک سو دفعہ پڑھ کر ترقی رزق کی دعا کریں۔ انشاء اللہ اس نماز کے باعث رزق میں ترقی ہوجائیگی۔ جو شخص شب برأت کو آٹھ رکعت نماز دو سلام سے پڑھے ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اخلاص دس دس مرتبہ پڑھے ۔ اللہ تعالیٰ اس نماز کے پڑھنے والے کیلئے بے شمار فرشتے مقرر کردینگے جو اسے عذاب قبر سے نجات اور جنت میںداخل ہونے کی خوشخبری دیں گے۔
گھر بیٹھے حج اور عمرہ کا ثواب:۔
ماہ شعبان میں ہر جمعہ کی رات چار رکعت نفل پڑھیں۔ ہر رکعت میں الحمدشریف کے بعد سورۂ اخلاص تین مرتبہ پڑھیں تو ان نوافل کے پڑھنے والے کو مقبول حج اور عمرہ کا ثواب نصیب ہوگا۔
Subscribe to:
Posts (Atom)








