Thursday, January 4, 2018

ڈاکٹر سے مایوس ایک ماں کا خوشی بھرا خط


وظیفہ نے کمال کردکھایا‘ آپ بھی پڑھیں اور مایوسی کو بالکل بھول جائیں ہر انسان کی زندگی میں کوئی نہ کوئی پریشانی ہوتی ہے کوئی کم تو کوئی زیادہ اگر خدا پر اور اس بات پر پورا یقین ہوکہ اللہ تعالیٰ ہماری اس پریشانی کو دور کرے گا تو یقین مانیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کرم سے اس کی پریشانی ختم کرتے ہیں۔ آج جو میں آپ کو بتانے والی ہوں اسے سن کر دکھ بھی ہوگا اور خوشی بھی۔ دکھ اس بات کا ہے جن معالجین کو ہم لوگ سب کچھ سمجھتے ہیں جیسے کہ ہر بیماری کا علاج ہی ان کے پاس ہے ہر مریض جو یہ سمجھتا ہے کہ اس کیلئے ڈاکٹر ہی سب کچھ ہے تو یہ ان کیلئے میرا پیغام ہے کہ جو مایوس ہو کسی بھی وجہ سے کسی بھی بیماری کی وج سے تو ان کیلئے حیرت انگیز وظیفہ ہے

 اس وظیفہ کا مجھے میرے استاد صاحب نے بتایا استاد صاحب کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور کرم سے نوازے میں حاملہ تھی شروع کے دن تھے‘ میں بہت بیمار ہوگئی تھی الٹیاں بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ دو مہینے تک میری حالت بہت خراب رہی‘ مجھے کراچی لے جایا گیا تو وہاں ڈاکٹر نے کہاکہ اس بچے کا بچنا بہت مشکل ہے آپ اسے ضائع کروا دو۔ دوسرا مہینہ تھا مجھے کچھ ہوش نہیں تھا کہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے ہر ڈاکٹر کو دکھادیا اس وقت جس نے بھی مجھے دیکھا کہا کہ اس لڑکی کو بالکل ختم کرکے ا ٓپ ہمارے پاس لائے ہیں میری امی بہت پریشان ہوگئیں۔ ایک طرف میں اس حالت میں دوسری طرف میرے بچے کیلئے سب نے کہاکہ اسے ضائع کروادو۔ میں نے خدا سے رو رو کر اولاد مانگی تھی پھر میں وظیفہ پڑھتی‘ میری امی پڑھتی‘ اس طرح بہت پریشانی اور دکھی وقت گزر گیا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اور میرے بچے کو ایک نئی زندگی دی۔ ایک مہینہ سکون اور خوشی کا گزار‘ میں چیک اپ کیلئے ڈاکٹر کے پاس گئی اس نے میرا الٹراسائونڈ کیا اور مجھے کہاکہ میں تمہیں ایک بات کہوں پریشان مت ہونا میں نے کہا جی کہیں‘ کہاں کہ آپ بچے کے سر میں پانی ہے اور اگر یہ بڑھ گیا تو خطرہ ہے کہ بچہ صحیح نہیں ہوگا۔ آپ ایک مہینے بعد آنا پھر دیکھتے ہیں کم ہوا ہے یا نہیں اس کا کوئی علاج بھی نہیں میں حد سے زیادہ پریشان ہوگئی کسی بھی چیز میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ میں کراچی گئی وہاں دکھایا تو وہاں کی بہت بڑی ڈاکٹر تھیں انہوں نے تو ایک نئی بات کی کہ دماغ میں ایک ہڈی چھوٹی ایک بڑی ہے‘ آپ ایک مہینے بعد آنا پھر بتائیں گے کیا کرنا ہے۔ اس پریشانی کے ساتھ میں نے بڑی مشکل سے ایک مہینہ گزارا اور پھر سے کراچی گئی‘ دوبارہ الٹرا سائونڈ کروایا۔ پھر ڈاکٹر نے کہاکہ آپ اس بچے کوضائع کروادیں یہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ میں نے کہا نہیں میں کسی اور کو دکھاتی ہوں‘ وہاں میں نے کئی بڑی ڈاکٹروں کو دکھایا کسی نے کہا دل میں سوراخ ہے‘ کسی نے کہا دماغ میں پانی ہے‘ کسی نے کچھ کہا اور کسی نے کچھ کہا۔ مجھے ہسپتال میں ایڈمٹ کرلیا‘ میں بہت پریشان تھی میری امی بھی پریشان ہوگئیں۔ میں نے ڈاکٹر سے کہا مجھے ایک بار گھر جانا ہے میں کل آئوں گی‘ بہت مشکل سے میں گھر آئی‘ رو رو کر میرا برا حال ہوگیا کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں۔ میری کزن بھی ڈاکٹر ہیں میں نے ان سے پوچھا سب نے یہی بات کہی۔ میں بہت مایوس ہوگئی تھی سب گھر والوں نے مجھے سمجھایا کہ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں مان لو مگر میں نے کہانہیں ایک بار میں اپنی کوشش کرنا چاہتی ہوں۔ میں گھر آگئی اور میں نے استاد صاحب سے پوچھا (مجھے جب بھی پریشانی ہوتی ہے میں اپنے استاد صاحب سے پوچھتی ہوں وہ مجھے بہت اچھا مشورہ دیتے ہیں اور بہت اچھا وظیفہ بتاتے ہیں) انہوں نے مجھے کہا آپ پریشان مت ہو دل سے اللہ پر یقین کرکے یہ وظیفہ جتنا ہوسکے پڑھو۔ میں نے یہ وظیفہ پڑھا سوا لاکھ مرتبہ پڑھا‘ بہت دعا کی پھر کسی نے کہا حیدرآباد کی ایک بڑی ڈاکٹر ہے اسے دکھائو۔ میں وہاں گئی بہت مشکل سے اس کا ٹائم ملا انہوں نے میری رپورٹ دیکھیں اور میری امی اور میرے شوہر کو بلایا اور کہا آپ لوگ اس بات کو سمجھ لیں کہ یہ بچہ اگر پیدا بھی ہوگیا تب بھی یہ عام بچوں کی طرح نارمل نہیں ہوگا باقی آپ لوگوں کی مرضی ہے۔ آٹھواں مہینہ تھا میں بہت زیادہ پریشان ہوگئی پھر وہاں ایک اور ڈاکٹر کو دکھایا بہت زیادہ مشہور اور اچھی ڈاکٹر ہے۔ اس نے میری رپورٹ دیکھی اور ٹیبل پر میری فائل پھینکی اور کہا آپ کیا دکھانے آئی ہیں؟ آپ اپنے شوہر سے پوچھ لیں کہ کب آنا ہے‘ آجانا ہم بچہ ضائع کردیں گے۔ ڈاکٹر کو امی نے کہاکہ ہم لوگ وظیفہ کررہے ہیں دعا کریں گے سب ٹھیک ہوجائے گا تو وہ ہنسی اور کہا جو کمی ہے وہ رہے گی وہ ختم نہیں ہوگی چاہے کچھ بھی کرلیں۔ میں پھر سے سوچ میں پڑ گئی نہ بھوک لگتی تھی نہ نیند آتی تھی‘ دن رات دکھ اور سوچ کہ میرا کیا ہوگا۔ میرے سسرال والوں نے اور میرے شوہر نے ہمت دی اور کہا تم اللہ پر یقین کرو اور بس دعا کرو۔ میں نے دوبارہ استاد صاحب سے بات کی تو انہوں نے کہا یہ وظیفہ پڑھتی رہو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ میں نے اور اس نے واپس یہ وظیفہ پڑھوایا سوا لاکھ پڑھ کر ہم لوگ نواب شاہ گئے وہاں دکھایا تو ڈاکٹر نے کہا سب کچھ بالکل ٹھیک ہے اور بچہ بھی ماشاء اللہ بالکل ٹھیک ہے۔ مجھے بے حد خوشی ہوئی یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب ٹھیک ہوگیا پھر تسلی کیلئے ہم لوگ حیدر آباد گئے وہاں دکھایا تو ڈاکٹر نے رپورٹ دیکھی تو کہا یہ سب آپ کو کس نے کہا بچہ تو بالکل ٹھیک ہے اس میں تو کوئی بھی کمی نہیں ہے۔ ہم سب لوگ بہت خوش تھے‘ یہ سب کچھ وظیفہ کی برکت سے ہوا تھا اتنا بڑا کرشمہ کہ کسی کو یقین نہیں تھا کہ ایسا ہوگا۔ اگراللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین رکھ کر دل سے دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ دعا ضرور قبول کرتا ہے۔ ہم لوگ ڈاکٹروں کو پیسے بھی دیتے ہیں اور اتنے پریشان بھی ہوتے ہیں اور کچھ ملتا بھی نہیں۔ اگر اتنے پریشان ہوکر اللہ سے مانگیں تو کبھی مایوس نہیں ہوں گے‘ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرا پیارا سا بیٹا ہوا اور ہم سب بہت خوش ہوئے۔ استاد صاحب نے اس کا نام ’’محمد مکی‘‘ رکھا‘ بہت ہی پیارا نام اور ماشاء اللہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے بہت ہی عقلمند اور پیارا بچہ ہے‘ تین ماہ کا بچہ اللہ اللہ بولنے لگ گیا‘ یہ سب کچھ دعا اور وظیفہ سے ہوا ہے۔ بے شک اللہ کے کلام میں بہت برکت ہے۔ یہ سارا واقعہ بتانے کا صرف یہ مقصد تھا کہ ہرچیز اور ہر بیماری کا علاج اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے تو پھر ہم کیوں معمولی معمولی بات کیلئے معالجین کے پاس جاتے ہیں‘ بے شک علاج سنت رسول ﷺ ہے مگر کچھ کوشش انسان کو بھی کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ قادر ہے‘ اپنی قدرت سے بڑی سے بڑی مشکل آسان کرتا ہے۔

درس کی برکت


میں اپنے شوہر اور ا ن کے دینی اور معاشی معاملات کی وجہ سے بہت پریشان تھی‘ وہ بالکل ہی دنیا کے ہوکر رہ گئے تھے ‘ نہ نماز‘ نہ روزہ‘ نہ نوافل بس کام ،کام اور کام‘ معاشی معاملات بھی دن بدن خراب ہوتےجارہے تھے‘ ہم اس سلسلے میںملاقات کیلئے آپ کے پاس آئے‘ ملاقات کی‘آپ نے ہمیں 21 درس تسبیح خانہ میں آکر سننے کا حکم دیا۔ الحمدللہ! ہم درس سن رہے ہیں اب تک 17 درس ہوچکے ہیں۔ میں اب اس وقت حیران ہوجاتی ہوں جب میرے شوہر فجر کیلئے اٹھتے ہیں‘ نماز پڑھتے ہیں اور بعد میں تلاوت قرآن کریم بھی کرتے ہیں‘ پانچ وقت نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان میں بہت زیادہ تبدیلیاں آگئی ہیں۔ گھر میں سکون ہے‘ پہلے غصہ کرتے تھے اب نہ جانے ان کا غصہ کدھر گیا؟ ہر کسی کے ساتھ پیار محبت اور شفقت سے پیش آتے ہیں‘ ہمارے معاشی حالات بہت زیادہ خراب تھے درس میں آنے کی برکت سے دن بدن بہتر ہورہے ہیں۔

خوابوں کی تعبیر


معافی چاہتا ہوں:۔
 میں نے دیکھاکہ میرےپاس ایک بچہ ہے جو حقیقت میں میرا نہیں، میں اسے اپنے پاس رکھتی ہوں، جب اس بات کا میرے جیٹھ جیٹھانی کو پتہ چلتا ہے تو وہ ہمارے گھر آتے ہیں اور اس بچے کو اٹھاتے ہیں، ان کے بچے بھی اسے اٹھاتے ہیں، پھر میرا جیٹھ کہتا ہے کہ اگلی پچھلی تمام باتوں سے معافی چاہتا ہوں مجھے معاف کردو یہ بچہ ہمارا ہے جو ہسپتال میں گم ہوگیا تھا لہٰذا یہ بچہ ہمیں دے دو۔ (ش۔کوئٹہ)
تعبیر:۔
 آپ کے خواب کے مطابق اس بات کا اشارہ ہے کہ کوئی ایسا سلسلہ یا سبب بن جائے گا کہ جس سے آپ کے جیٹھ جیٹھانی سے صلح صفائی ہوجائے گی اور ناراضگی دور ہوجائے گی۔ واللہ اعلم!
پاؤں پر چھالا:۔
 میں نے دیکھا کہ ایک سانپ ہمارے کمرے میں گھس آیا ہے اور میں بہت ڈر رہی ہوں، اتنے میں وہ تیزی سے میرے پاس سے گزرتا ہے تو اس کا منہ میرے پائوں سے لگتا ہے اور میرے پائوں پر چھالا بن جاتا ہے اور پائوں سوج جاتا ہے، میں اپنے شوہر سے کہتی ہوں کہ میں نے آپ سے کہا تھا کہ سانپ کا منہ میرے پائوں سے لگا ہے۔ (ن،پشاور)
تعبیر:۔
 آپ کے خواب کے مطابق اس بات کا اشارہ ہے کہ آپ کے حاسد دشمن آپ کے اہم کاموں میں خفیہ طور پر رکاوٹیں ڈالنے میں مصروف ہیں، تاہم آپ معوذتین ہر نماز کے بعد 41،41 بار پڑھ کر دعا کرلیا کریں، نیز یہ عمل کم از کم 90 دن کرنا ہوگا، ناغہ کے دن بعد میں شمار کرلیا کریں، یہ عمل شروع کرنے سے پہلے گوشت کا صدقہ دینا ہوگا۔ واللہ اعلم!
جنرل سرجری:۔
 میں نے اعلیٰ تعلیم کیلئے استخارہ کیا تو دیکھا کہ میں ہسپتال میں جنرل سرجری کے یونٹ میں بیٹھا ہوں اور 40 سے 50 مریض بیٹھے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ میں سمجھتا تھا کہ اب جنرل سرجری میں مریض نہیں آتے اور انکم نہیں ہوتی یہ اتنے سارے تو مریض ہیں۔ (مشتاق‘ لاہور)
تعبیر:۔
 آپ کے خواب کے مطابق جو استخارہ آپ نے کیا ہے‘ اس کا واضح جواب آپ کو مل گیا ہے بس آپ جنرل سرجری ہی میںسپیشلائزیشن کریں انشاء اللہ کامیابی آپ کا مقدر ہوگی۔ 
 بیٹی کی وفات:۔
 میں نے دیکھا کہ میری بیٹی بیرون ملک زیر تعلیم ہے میں نے اسے فوت ہوتے دیکھا۔ (ع،سرگودھا)
تعبیر:۔
 آپ کے خواب کے مطابق اس بات کا اشارہ ہے کہ ان شاء اللہ آپ کی بیٹی تعلیم کے میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرے گی۔ واللہ اعلم!
 تکالیف کا ازالہ:۔
 میں نے دیکھا کہ میری شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی ہے جو موٹا ہے اور تھوڑا گنجا بھی ہے۔ ا سے دیکھ کر میں سوچ رہی ہوں کہ یہ تو وہ آدمی ہے جس سے میری خالہ زاد بہن کی شادی ہوئی تھی۔ اس نے تو کزن کو طلاق دے دی تھی‘ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میری شادی اس سے کردی گئی۔ وہ آدمی بہت خوش نظر آرہا ہے (حقیقت میں بھی اس نے میری کزن کو طلاق دے دی تھی ) (غ،اسلام آباد)
تعبیر:۔
 آپ کے خواب کے مطابق اس بات کا اشارہ ہے کہ ان شاء اللہ آپ کی کزن کا کسی اچھی جگہ پر رشتہ طے پاجائے گا اور جو تکلیفیں اس نے اٹھائی ہیں اس کا ازالہ ہوگا۔ اسے کہیں کہ ہر نماز کے بعدیَابَدِیْعُ پڑھا کرے۔ واللہ اعلم!
 گندا پانی:۔
 میری والدہ اکثر خواب میں بند دروازوں کو دیکھتی ہیں اور کبھی گندے پانی کو دیکھتی ہیں ہمیں یہ محسوس ہورہا ہے کہ ہمارے سارے کاموں میں بندش ہے۔ (سنیہ،قصور) 
تعبیر:۔
 آپ کی والدہ کے خواب کے مطابق ان کے ساتھ بندش ہی کا مسئلہ چل رہا ہے تاہم ان سے کہیں کہ گوشت کا صدقہ دیں اور روزانہ صبح شام سورہ طہٰ ایک ایک بار پڑھ کر دعا کرلیا کریں۔ یہ عمل کم از کم 40 دن پابندی سے کرنا ہوگا۔ 
 اچھی خبر:۔
 میں نے دیکھا کہ میں اور میری امی بس میں بیٹھے ہیں۔ بس کالج کے سامنے رکی ہوئی ہے‘ اس میں اچانک دو تین عورتیں آتی ہیں میں خوش ہوکر کہتی ہوں کہ امی! خالہ آئی ہیں‘ مگر وہ مجھے دیکھ کر منہ پھیر لیتی ہیں۔ پھر میری امی کی کزن جیسی عورت بھی آتی ہے۔ منظر بدلتا ہے میں کسی اور گھر میں ہوں‘ وہاں پر میرے ننھیال سے بہت لوگ ہیں میں سیڑھیوں پر کھڑی ہوں‘ میری دو کزنز نیچے کھڑی ہیں ان میں سے میری چھوٹی کزن دوسری کزن کو کہتی ہے‘ مبارک ہو (ق) کو شہادت نصیب ہوئی ہے‘ یہ سن کر میں حیران ہوجاتی ہوں اتنی دیر میں (ق) کو کپڑے میں باندھ کر لایا جاتا ہے‘ میری کزن اس کا سر پکڑ کر پھر چھوڑتی ہے تو اس کی گردن ڈھلک کر نیچے گر جاتی ہے‘ اس کپڑے کی گٹھڑی میں اور بھی بہت سامان ہوتا ہے‘ پھر میں نے دیکھا میں بہت رو رہی ہوں اندر 
کمرے میں جاتی ہوں تو وہاں میری آنٹی ایک بڑے سائز کا قرآن پاک کھول کر بیٹھی ہیں (تبسم آرا‘ خانیوال) تعبیر:۔
 آپ کے خواب کے مطابق اس بات کا اشارہ ہے کہ ان شاء اللہ آپ کو جلد اچھی خبر ملنے والی ہے تاہم آپ نماز کی پابندی کرتے ہوئے ہر نماز کے بعدیَابَشِیْرُیَا خَبِیْرُ 21 بار پڑھ کر دعا کرلیا کریں۔ واللہ اعلم!
 کتاب پر لڑکیوں کے نام:۔
 میں نے اپنے رشتے کے سلسلے میں استخارہ کیا تو دیکھا کہ میرے پاس ایف ایس سی کی بک ہے‘ سوچتی ہوں وہ بک اسے دے دوں‘ وہ ایف ایس سی کررہا ہے اس کے کام آجائے گی۔ میں وہ کتاب کھولتی ہوں تو اس پر لڑکیوں کے نام لکھے ہوتے ہیں میں سوچتی ہوں یہ کیوں لکھے ہوں گے پھر یاد آتا ہے یہ بک تو میں نے ایک لڑکی سے لی تھی‘ اس نے لکھے ہوں گے‘ پھر اگلے پیج نکالتی ہوں تو اس پر بھی لڑکیوں کے نام ہوتے ہیں۔ ایک پیج کھولتی ہوں تو اس پر اس کا اور میرا نام لکھا ہوتا ہے‘ آگے کھولتی جاتی ہوں کچھ غزلیں اور میرا نام ہوتا ہے آگے اس کے کچھ ٹیسٹ اور ریاضی کے سوال ہوتے ہیں‘ اس کے آگے قرآن مجید کی آخری سورتوں والے چار پانچ پیج لگے ہوتے ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ اس کے رجسٹر میں قرآن مجید کی آخری سورتوں والے چار پانچ پیج لگے ہوتے ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ اس کے رجسٹر میں قرآن مجید کے پیج کیسے آئے ہوں گے پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ (عالیہ‘ لاہور)
 تعبیر:۔
 آپ کے خواب کے مطابق اس بات کا اشارہ ہے کہ آپ پر حاسدین کی طرف سے بندش عائد کی گئی ہے اور جس جگہ آپ رشتہ کرنا چاہ رہی ہیں یہ عمل اسی وجہ سے ہورہا ہے لیکن جیسا کہ پہلے بھی بتایا جاچکا ہے کہ اس جگہ پر رشتہ کرنا زندگی کی بھیانک غلطی ثابت ہوگا۔ آپ کسی بڑے فیصلے سے پہلے بندش کی کاٹ کروالیں اور اس کیلئے روزانہ سورہ طہٰ کی آیات 69-70 کو 313 بار پڑھ کر دعا کرلیا کریں۔

خطرناک بیماریاں اور حافظہ کیلئے تیر بہدف


میرے تجربات میں ہے کہ بارش کے پانی پر سورۂ فاتحہ‘ آیۃ الکرسی‘ چاروں قل‘ہر ایک ستر ستر مرتبہ پڑھ کردم کریں۔میرا آزمودہ ہے ۔ عورتوں کی حیض کی خطرناک بیماریاں اور تیزترین حافظہ کیلئے تیربہدف ہے۔ 
سورۂ یٰسین کا کمال:۔
 میرےوالد صاحب وفات سے پہلے بیہوش ہوگئے تو میرے والد صاحب کی روح درج ذیل آیت کے ساتھ نکلی۔ میں نے والد صاحب کے سرہانے بیٹھ کر سورۂ یٰسین پڑھنا شروع کردی‘ جب میں

 پر پہنچاتو بار بار اسی کا تکرار کرنے لگا تو میرے والد کی روح آسانی سے پروز کرگئی۔ پھرمیں نے سورۂ مکمل کی۔ 
صلوۃ التسبیح سے سکون:۔
 عرصہ تیرہ سال سے اللہ کا فضل و کرم ہے کہ روزانہ صبح تہجد کے وقت صلوٰۃ التسبیح پڑھتا ہوں اور اس کا ثواب اپنے پیرومرشد‘ والدین‘ اپنی بیوی‘ اولاد‘ تمام امت محمدﷺ انسان، جنات زندہ مردہ تمام‘آسمان پر بسنے والی مخلوق‘ سمندر میں رہنے والی مخلوق ‘ چرند پرند تمام کو ہدیہ کرتا ہوں۔اس عمل کی برکت سے میں ہمیشہ پرسکون رہتا ہوںکبھی پریشانی نہیں ہوئی۔

حلقہ کشف المجوب


پیر علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ اس باب میں فرماتے ہیں کہ حق کا طالب کرنےوالا صرف حق والا ہی ہوسکتا ہے۔ مزید فرماتے ہیں تو حق کے طلب کرنے والا ہے تجھے ایک پیغام دیتا ہوں۔ کیا؟ ساری کائنات کے بھید کا مقام، جوہراعراض و عناصر اور اجرام فلکی ، یہ جتنی کہکشائیں ہیں، جتنے آسمان ہیں، جتنے سیارے ،ہیں جتنے ستارے ہیں۔ زمین کی جتنی کائنات ہے، زمین کا نظام ہے اور مخلوقات کی جتنی طبیعتیں ہیں ،انکے مزاج ان کے انداز، ان کا اٹھنا بیٹھنا، ان کی زندگی گزارنے کی طرز ،جو کچھ بھی ہے ،ان سب میں اسرارِ الٰہی کا حجاب ہے۔ ان سب میں تو رب کو تلاش کر سکتا ہے۔ یہ حجاب ہے، اس حجاب کو کھول، تجھے اس میں رب نظر آئے گا۔ قارئین! جس نے پانا ہے وہ رب کو صرف آسمان کو دیکھ کے پا سکتا ہے

 ‘یہ ساری کائنات آسمان زمین جو کچھ تو نے پیدا کیا، ایسے ہی بے کار پیدا کیا؟ بس اس لفظ کے کہنے میں بندے کی بخشش ہو گئی تھی۔ ایسے سویا ہوا تھا، گرمی کا موسم تھا ،آسمان پر ستاروں کی روشنی اور چمک تھی اور اس نے اوپر دیکھا اور دیکھ کے کہنے لگا الٰہی! یہ جو کچھ بھی ہے، ایسے ہی بے کار بنایا گیا ہے؟ بس !اور پھر اللہ کی قدرت کو آگے بیان کیا۔ اللہ جل شانہ نے اپنی قدرت کے بیان کرنے پر ،اپنی طاقت کے بیان کرنے پر اس شخص کی مغفرت کر دی۔ موحد اور مشرک کا فرق:پیر علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ’’ ان ساری چیزوں کے اندر رب ہے‘‘ اور اگلی بات کہ اگر تو ان چیزوں کے اندر جائے گا تو رب کو تلاش کرے گا اوراگران کو اپنے اندر ڈال لے گا تو شرک میں مبتلا ہو جائے گا۔ نوٹ جیب میں ہے تو ضرورت ہے۔ نوٹ دل میں ہے تو دنیا آ گئی۔ اسی کو حب دنیا کہتے ہیں۔ نوٹ تو ضرورت ہے نا؟ نوٹ سے زندگی کی ضروریات رکھی ہیں، نوٹ کو دنیا کاسبب بنایا ہے۔ کیوں؟ کشتی کے اندر پانی نہیں کشتی پانی میں ہے تو ٹھیک اور اگر کشتی کے اندر پانی ہے تو ٹھیک نہیں۔ نکتہ سمجھے؟

چور چھینا سامان واپس کرگئے


دو تین مہینے پہلے کی بات ہے کہ میں جہاں کام کرتاہوں وہاں سے ہماری میڈم کے کمرے سے کسی نے موبائل جو چارجنگ پر لگا ہوا تھا‘ وہ چوری کرلیا۔ میڈم بہت زیادہ پریشان تھیں‘ مجھے بلایا‘ پوچھا‘ میں نے کہا مجھے نہیں معلوم‘ میڈم تو پریشان تھیں ہی میں میڈم سے زیادہ پریشان تھا کیونکہ میں میڈم کے آفس میں‘ میں زیادہ جاتا ہوں‘ تمام دفتر پر مجھ پر ہی شک کررہے تھے‘ پھر میرے ذہن میں آیا کہ محترم حکیم صاحب نے ایک مرتبہ درس میں گمشدہ چیز پانے کیلئے ایک وظیفہ بتایا تھا میں نے وہ وظیفہ پڑھنا شروع کردیا۔ دوپہر سے لے کر شام تک پڑھتا رہا‘ شام کو جب گھر جارہا تھا تو راستے میں ایک دوست ملا‘ اس نے مجھے پریشان دیکھا تو مجھ سے مسئلہ پوچھا میں نے ساری کہانی اسے بتائی اور ساتھ بتایا کہ میں حضرت حکیم صاحب کا بتایا ہوا یہ وظیفہ پڑھ رہا ہوں۔ اس نے جب میری زبان سے وظیفہ سنا تو اس نے کہا یہ وظیفہ بہت زبردست ہے‘ جلدی یا دیر سے اس کا رزلٹ ضرور ملتا ہے‘ یہ میرا بھی آزمودہ ہے۔ وہ رات بڑی اذیت سے گزری‘ اگلی صبح ڈرتا ڈرتا دفتر پہنچا تو ایک بندے نے معذرت کےساتھ وہ موبائل واپس کردیا‘ جو اس نے چوری کیا تھا‘ جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے اللہ کریم کا شکرادا کیا۔ وہ وظیفہ یہ ہے:۔
  یَارَبِّ موسٰی یَا رَبِّ کَلِیْم بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

چرواہے کو مقام کیسے ملا؟


حضرت لقمان علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک دن اپنے شاگردوں اور دوستوں کو حکمت اور دانائی کا درس دے رہے تھے سب لوگ ان کے سبق کو بہت غور سے سن رہے تھے۔ ایک شخص درس میں بیٹھا آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔اُ سے آپ کی آواز جانی پہچانی معلوم ہورہی تھی۔ آخر جب آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام درس سے فارغ ہوگئے تو آگے بڑھا اور بولا میں فلاں مقام پر کسی زمانے میں بکریاں چرایا کرتا تھا بکریاں چروانے والا میرا ایک ساتھی تھا اس شخص کی صورت اور آواز بالکل آپ جیسی تھی۔ ہاں مجھے یاد ہے۔ میں وہی ہوں‘ حضرت لقمان علیہ الصلوٰۃ والسلام بولے۔ اس شخص نے حیران ہوکر پوچھا آپ کو یہ مرتبہ کس طرح حاصل ہوا؟ حضرت لقمان علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: دو باتوں سے ایک سچ بولنا‘ دوسرا بغیر ضرورت بات نہ کرنا۔
امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کی امام ابو حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ کو نصیحت:۔
حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ایک روزکسی کام سے بازارجارہے تھے‘ راستے میں ان کی ملاقات حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے ہوگئی۔ ان کی شکل و صورت دیکھ کر وہ سمجھے کہ یہ کوئی طالب علم ہے۔ چنانچہ حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں اپنے پاس بلایا اور پوچھنے لگے: اے نوجوان! کہاں جارہے ہو؟ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا میں ایک تاجر کےپاس جارہا ہوں۔ ان کی بات سن کر حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: میرامطلب ہے تم کس سے پڑھتے ہو؟ یہ سن کر آپ شرمندہ ہوئے اور بولے میں کسی سے بھی نہیں پڑھتا۔ اس پر حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے: تم علماء کی صحبت میں بیٹھا کرو‘ مجھے تمہارے اندر قابلیت کے جوہر نظر آتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ بات میرے دل میں گھر کرگئی میں بازار چھوڑ کر صرف علم کا ہوکر رہ گیا۔