Monday, September 7, 2015

اولاد کی دینی و دنیاوی تر بیت کیسے کریں

اولاد کی دینی و دنیاوی تر بیت کیسے کریں ؟



والدین یہ تو سوچتے ہیں کہ ہمارے مرنےکے بعد ہماری اولاد کا کیا ہو گا ؟لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اولاد کے مرنےکے بعد اولاد کا کیا ہو گا ؟حضور ﷺ جو کسی انسان کے نہیں خود اللہ پاک کے تر بیت یافتہ تھے ۔اپنے اور تربیت یافتہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک ایسی جماعت تیار فرما گئے ہیں جو آج بھی ستاروں کی جبیں ہو کر چمک رہے ہیں ، جن کا نقش پا آج بھی کامیابی و کامرانی کی سند رکھتا ہے ۔ آیئے ! ان تابندہ ستاروں سے روشنی مستعار لے کر اپنی اولاد کو اپنی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بنائیں ۔
اولاد اللہ پاک کی ایک بہت بڑی نعمت ہے ، اس کی قدر ان سے پوچھئے جن کے آنگن میں یہ پھول نہیں کھلتے ۔کشادہ اور وسیع صحن،نوکروں اور خدام کی ایک فوج ظفر موج ، دینا کی ہر آسائش میسر ہے ، مگر پھر بھی گھر ویران سا لگتا ہے کیا وجہ ہے ؟کیونکہ اس گھر میں بچے کی صورت میں کھلنے والا پھول نہیں ہے ۔ اولاد کی صحیح تربیت والدین کا حق ہے ، اللہ پاک اور رسولﷺ نے اولاد کی تربیت کو ضروری قرار دیا ہے ۔ اولاد کی نیک تربیت کے بے شمار فوائد و ثمرات ہیں، تربیت یافتہ اولاد والدین کی نیک نامی کا سبب بنتی ہے ، اور اس کے برعکس اگر اولاد کی تربیت صحیح نہ ہو تو وہ وبال جان بن جاتی ہے ۔ والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اخلاق حسنہ سکھائیں ، نیک تعلیم دیں ، اللہ پاک سے ان کا رابطہ قوی رکھیں ۔
والدین کو بچپن ہی سے بچے کی تربیت پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے کیونکہ بچپن کا زمانہ زمین کی مانند ہوتا ہے جس میں انسان جو اچھے اخلاق اور اعلیٰ صفات یا گندی عادات اور غلط روایات کا بیج کاشت کرتا ہے مستقبل میں اسی کا پھل ملتا ہے ۔ اسی زمانہ میں انسانی عقل نشونما پاتی ہے ۔ اس لئے بچپن سے ہی تربیت اولاد پر توجہ دینی چاہیے ۔
بچپن کی اسی اہمت کےپیش نظر اسلاف کا مقولہ ہے کہ جو شخص اپنے بچوں کو ادب سکھا دیتا ہے وہ اپنے دشمن کو ذلیل و خوار کر دیتا ہے جب بچہ ادب سیکھ جاتا ہے تو مال ،مرتبہ، عزت، اور شہرت سب کچھ حاصل کر لیتا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا ! اپنے بچوں کو ادب سکھاؤ پھر تعلیم دو ،۔ آج ہماری صورتحال یہ ہے کہ اپنی اولاد کو راضی کرنے کی خاطر ہم اپنے اللہ پاک کو ناراض کئے ہوئے ہیں ۔ہم اپنے بچوں کو ایسی تعلیم دلوا رہے ہیں جس کی تہذیب تو یہ ہے کہ جب ماں باپ بوڑھے ہو جائیں تو اب وہ گھررکھنے  کے لائق نہیں ۔ 
ان کو رسنگ ہو م Nursing Home  چھوڑ آؤ ۔اولاد کو دین کی طرف لانے کی فکر اتنی ہی لازمی ہے ، جتنی اپنی اصلاح کی فکر لازم ، اولاد کو صرف زبانی سمجھا دینا ہی کافی نہیں ۔ جب تک اس کی فکر اس کی تڑپ اسی طرح نہ ہو ، جس طرح اگر کوئی دھکتی ہوئی آگ ہواور بچہ اس کی طرف بڑھ رہا  ہو اور آپ اس کو لیکر جب تک اٹھا نہیں لیں گے اس وقت تک آپ کو چین نہیں آئے گا ۔ اسی طرح کی تڑپ یہاں ہونا بھی ضروری ہے ۔
سات سال سے پہلے بچوں کو کسی مشقت بھرے کام میں استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔ جیسے کہ بعض لوگ سات سال سے پہلے ہی روزہ رکھوانے کی فکر شروع کر دیتے ہیں ۔ ایک بزرگ فرماتے تھے اللہ پاک تو سات سال سےپہلے نماز کا حکم لاگو نہیں کرتا مگر تم سات سال سے پہلے اس کو روزہ رکھوانے کی فکر کر دیتے ہو ، ایسا ٹھیک نہیں ۔
آج کل ہمارے معاشرے میں بچہ ابھی چلنا بھی نہیں سیکھتا تو اس کے ہاتھ میں قاعدے پکڑا دیئے جاتے ہیں جبکہ کم از کم بچہ تین ساڑھے تین سال کا ہو تو اس کو سکول میں داخل کروانا چاہیے ۔ بچے کو کسی ایسے سکول میں داخل کروانا چاہیے جہاں دینی و دنیاوی تعلیم دونوں دی جاتی ہوں ۔ ایک اور بات جو بچوں کی تربیت میں لازمی ہے وہ یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ شفقت اور محبت بھرا رویہ اختیار کریں ۔ ہر وقت ان پر بوجھ نہ ڈالیں ، اس سے بچہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔

تربیت اولاد میں ایک بات یہ بھی شامل ہے کہ بچوں کے ساتھ کھیلیں اور ہنسی مذاق کریں ۔ کھیل کود بچے کی زندگی میں بنیادی اور حیات بخش اثر رکھتا ہے۔ عقلی اور اجتماعی نشوونما کی رو سے اگر دیکھا جائے تو کھیل کود کے درمیان وہ مختلف مشکلات اور مسائل کا سامنا کرتا ہے اور اپنی کوشش اور جدوجہد کے ذریعے ان کا حل کرتا ہے ۔ کھیل  کود کے درمیان بچہ تجربات حاصل کرتا ہے ، سیکھتا ہے  دوسروں کا لحاظ رکھتا ہے اور مہارت حاصل کرتا ہے ۔ مختصر یہ ہے کہ بچہ کھیل کود کے ذریعے دیکھنے ، سننے ، چلنے ، دوڑنے ، اور دوسروں سے میل جول وغیرہ کے طریقے سیکھتا ہے ۔ تربیت اولاد میں یہ بات بھی ضروری ہے کہ شدید غصے کی حالت میں اگر بچے کو سزا دینے کا خیال بھی آئے تو اس سے دور ہو جایئے ،آپ کو چایئیے کہ صبر سے کام لیں ۔ سخت غصے کی حالت میں آپ بچے کو ضرورت سے زیادہ پیٹ سکتے ہیں جو بعد میں آپ کیلئے ہی تکلیف دہ ہو سکتا ہے ۔ لہذا ایسی حالت میں بہت ہو گا کہ خود کمرے سے باہر چلے جائیں ، کہ اس سے کافی حد تک بچت ہو سکتی ہے ۔ کسی محفل میں یا لوگوں میں بچے کو احمقانہ ناموں سے پکارنے اور سخت سست کہنے سے پرہیز کریں ،اس سے اس کا اعتماد ٹوٹ پھوٹ سکتاہے ۔ وہ لوگوں کے سامنے شرمندہ ہوتا ہے اور ان سے میل ملاپ ہٹا کر پیچھے ہٹنے لگتا ہے ۔ اس طرح وہ اپنی الگ دنیا بسا لیتا ہے ۔ سست اور ڈھیلے بچے کا مذاق اڑانے کی بجائے اس کی حوصلہ افزائی کیجئے ۔

بچے بہت ہوشیار ہوتے ہیں ، وہ آپ کی غلطیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں،آپ اپنے ساتھی کی برائیاں کرتے ہوئے بچے کو اعتماد میں لینے کی کوشش مت کریں ۔ یہ کہنا کہ تمہاری ماں غلط ہے ، وہ تمہیں کھانے کو نہیں پوچھتی تم میرے پاس آ جایا کرو میں تمہیں کھلونے لا کر دوں گا یہ کہنا کہ تمہارا باپ اچھا نہیں ، وہ تمہیں مارتا پیٹتا ہے اس کے پاس نہ جایا کرو۔ بچوں سے اس قسم کے جملے کہنا بالکل غط اور نامناسب ہے ۔ والدین کو چاہیئے  کہ بچے کو تھوڑی سی ذمہ داری سونپیں ۔ اس کے سارے کام تقریباً خود نہ کیجئے ورنہ وہ کبھی کوئی بھی کام خود نہ کر سکیں گے ۔ یہ والدین کا فرض ہے کہ بچے کے اندر خود اعتمادی پیدا کریں ۔ ایک ایسا بچہ جسے یہ معلوم ہو جائےکہ اس کی پیدائش گھر میں غیر اہم تھی وہ آخری عمر میں شدید مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے او ر اپنا غصہ معاشرے پر نکالتا ہے اپنے بچوں کو دینی تعلیمات سے روشن کریں ، اپنی ذمہ داری نبھائیں ۔ اللہ پاک کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے معاشرے کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کریں ، اپنی اور اپنے بچوں کی آخرت سنواریں ۔

 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر6


Sunday, September 6, 2015

Saturday, September 5, 2015

www.alaj.net

Friday, September 4, 2015

بیٹے کے لیے

اگر بیٹے کی خواہش ہو تو یہ دعا ہر وقت پڑھتے رہیں۔
یہ مبارک دعا زکریا علیہ اسلام نے بیٹے کے لیے کی تھی کیوں کہ ان کی کوئی اولاد نہ تھی اکیلے تھے۔اور بیوی کی عمر بھی زیادہ ہو چکی تھی

﴿رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْداً
یعنی اے اللہ مجھے بغیر بیٹے اور وارث کے اکیلا نہ چھوڑنا

﴿وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ:
اور تو سب وارثوں سے اچھا وارث ہے یعنی یر چیز نے فنا ہونا ہے اور تو ہی حقیقت میں ہمارا والی اور وارث ہے

پھر اللہ تعالی نے انہیں بیٹا دیا جو اللہ کے نبی بنے جن کا نام یحییٰ تھا 

Wednesday, September 2, 2015

حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کیلئے رات میں روشنی کا چمکنا

حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کیلئے رات میں روشنی کا چمکنا :۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نے کہا کہ ہم رسول اکرم ﷺکے ساتھ عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے جب آپ ﷺ سجدہ میں جاتے تو حضرات  حسنین رضی اللہ عنہم! کود کر آپ ﷺ کی پشت مبارک پر سوار ہو جاتے جب آپ ﷺ اپنا سر مبارک اٹھاتے تو پیچھے سے نرمی کے ساتھ ان دونوں شہزادوں کو پکڑتے اور اپنی پشت مبارک پر سے اتار دیتے جب آپ ﷺ سجدہ میں جاتے تو یہ حضرات حسنین رضی اللہ عنہم !دوبارہ یہی کرتے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنی نماز پوری کی ، اور ان دونوں کو اپنی ران مباک پر بٹھا لیا ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، کہتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کے پاس کھڑا ہوا اور میں نے عرض کی ! یا رسول اللہ ﷺ ان دونوں کو گھر چھوڑ آؤں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں ۔ اتنے میں آسمان سے ایک بجلی کی سی روشنی ہوئی تو آپ ﷺ نے ان دونوں سے کہا کہ تم دونوں اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ اور روشنی اتنی دیر رہی کہ یہ دونوں اپنی والدی محترمہ کے پاس تشریف لے گئے ۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالی ٰ عنہ ! نے بیان کیا کہ یہ قصہ ایک طویل روایت کے ضمن میں ہے کہ آسمان پر اسی رات میں بہت ابرو باد آ گیا تو جب نبی ﷺ عشاء کی نماز کیلئے نکلے بجلی چمکی آپ ﷺ نے حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو پوچھا اے قتادہ ! کیسے آنا ہوا ؟ انہوں نے  کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے جانا کہ اس وقت نماز میں آنے والے کم ہوں گے میں نے اچھا سمجھا کہ میں نماز میں  حاضر ہو جاؤں ۔ آپﷺ نے فرمایا جب تم  نماز پڑھ  لو تو ٹھہر جانا ۔ یہاں تک کہ میں تیرے پاس آؤں ۔ پس جب یہ نماز سے فارغ ہوئے تو  آپ ﷺ نے انہیں کھجور کی ایک ٹیڑھی ٹہنی دی اور فرمایا اسے لے یہ تیرے لئے تیرے آگے دس ہاتھ روشنی ڈالے گی اور تیرے پیچھے دس ہاتھ روشنی ڈالے گی جب تم گھر میں داخل ہونا اور ایک سیاہ چیز گھر کے کونے میں دیکھنا اس سے  بات کرنے سے پہلے مارنا اس لئے کہ وہ شیطان ہے ۔حضرت انس رضی اللہ عنہ ! سے روایت ہے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ! انصاری اور ایک اور انصاری نبی اکرم ﷺ سے اپنی کسی حاجت کے بارے میں بات کر رہے تھے ، یہاں تک کہ رات سے ایک ساعت گزر گئی ۔ اور یہ رات بہت اندھیری تھی ، یہاں تک کہ یہ دونوں  آپﷺ کے پاس گھر واپس ہونے کیلئے نکلے اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا ان دونوں میں سے ایک کا ڈنڈا دونوں کیلئے روشن ہو گیا ۔ یہ اس کی روشنی میں چلتے رہے یہاں تک کہ جب ان دونوں کا راستہ بدلا تو دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ ! کا ڈنڈا بھی روشن ہو گیا جس کی روشنی میں وہ چلتے رہے ان میں سے ہر ایک اپنے ڈنڈے کی روشنی میں اپنے گھر پہنچ گیا ۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت حمز ہ بن عمر رضی اللہ عنہ ! نے فرمایا کہ جب ہم تبوک میں تھے اور منافقین رسول اللہ ﷺ کے کجاوہ کا بعض سامان بھی گر گیا تھا ۔ میری پانچوں انگلیوں میں روشنی پیدا کر دی گئی ۔ بس ساری چیزیں چمک گئیں یہاں تک کہ میں نے پونجی میں سے وہ چیزیں اٹھانی شروع کر دیں جو گر گئی تھیں جیسے کوڑا اور باند ھنے کی  رسی اور اس جیسی چیزیں ۔ اس کی روشنی میں میں نے اپنے جانور اکٹھا کیے اور جو کچھ ان کا مال ہلاک ہوا تھا اور میری انگلیاں اسی طرح روشنی دے رہی تھیں ۔ حضرت زید بن ابی عبس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی کہ ابو عبس رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے ساتھ ساری نمازیں پڑھتے پھر بنی حارثہ کی طرف لوٹتے  ۔ یہ ایک مرتبہ نکلے رات نہایت تاریک اور بارش والی تھی ان  کے لئے ان کے عصا میں روشنی پیدا ہو گئی یہاں تک کہ یہ بنی حارثہ کے گھر آ گئے ،۔ ابو عبس رضی اللہ عنہ اصحاب بدر میں سے تھے ۔ بن عمر و ذی النورین طفیل دوسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ! میں سے تھے کہ حضور ﷺ نے ان کے لئے ان کے کوڑے کے بارے میں دعا کی ان کا کوڑا ان کیلئے روشنی  دیتا تھا اور یہ اسی سے روشنی کا کام  لیتے تھے ۔ ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے ایک علامت طلب کی تھی تاکہ ان کیلئے ان کی قوم کے اسلام لانے میں مددہو جائے تو آپ ﷺ نے فرمایا ! اے میرے اللہ ! ان کیلئے کوئی علامت کر دے ، یہ کہتے ہیں کہ میں اپنی قوم کی طرف چلا جب میں اس گھاٹی پر پہنچا جو آبادی کی طرف مجھے نکالتی تو میری دونوں آنکھوں کے سامنے ایک نور چرا غ کی  طرح پر ہو گیا میں نے کہا اے میرے اللہ! میرے چہرے کے علاوہ کسی اور جگہ یہ نور کو مثلہ ہو جا ئے نہ سمجھےکہ میرے چہرے میں ان کے دین کو چھوڑنے کی وجہ سے ہوا ہے چنانچہ وہ میرے کوڑے کے سرے کی طرف منتقل ہو گیا تو جو لوگ حاضر تھے انہوں  نے ایک دوسرے کو وہ نور دکھانا شروع کیا جو میرے کوڑے کے سرے پر لٹکی ہو ئی قندیل کی طرح پر تھا اور میں ان پر گھاٹی سے اترا یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچ گیا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ! سے روایت ہے کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ! بہت دفعہ فرمایا کرتے تھے کہ جب کبھی میں نے کسی کے ساتھ بھلائی کی ہے میرے اور اس شخص کے درمیان روشنی پیدا ہو گئی اور جب کبھی میں نے کسی کے سا تھ کوئی برائی کی تو میرے اور اس شخص کے درمیان تاریکی ہو گئی لہذا تو احسان اور بھلے کام کے کرنے کو مضبوطی سے پکڑ لے ، یہ بات برائیوں کے دروازے سے تجھے بچائے گی ۔
 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر5


جن کے ماتھے پر اللہ غنی لکھ دیتے ہیں

جن کے ماتھے پر اللہ غنی لکھ دیتے ہیں :۔


ایک خوشخبری ہے کوئی بندہ صبح اٹھتے ہی اگر اللہ جل شانہ کو یاد کرتا ہے اور اس کے حبیب حضور سرور کونین ﷺ کو یاد کرتا ہے ۔ اللہ پاک اور اس کے محبوب ﷺ کی محبت میں ڈوب جاتا ہے ، تو اس کے ماتھے پر ایک لفظ غنی لکھ دیا جاتا ہے اور جسے میرا اللہ پاک غنی کر دے کائنات کا کوئی شخص اس کو فقیر نہیں کر سکتا ۔ ساری دنیا کے لوگ اس کو دھوکا دےدیں ، ساری دنیا کو لوگ اس کے ساتھ فریب کریں ، ساری دنیا کے چالاک چالاکی کریں ، مکار مکر کریں ، شریر شرارتیں کریں ، چور چوریاں کریں ، بدمعاش ڈاکے ڈالیں اللہ پاک کی قسم اس کو کوئی فقیر نہیں کر سکتا جس کو ہمارا رب غنی کرنا چاہے۔
اللہ پاک ماتھے پر فقیر لکھ دیتے ہیں :۔
جو شخص صبح اٹھتے ہیاللہ پاک کی ذات اعلیٰ کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور اس کے حبیب سرور کونین ﷺ کی محبت کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور دنیا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے وہ عجیب معاملے سے دوچار ہو جاتا ہے ، اس کے ماتھے پر فقیر کا لفظ لکھ دیا جاتا ہے ۔ ساری دنیا کے دولتیں ، دنیا کا سارا مال ، دنیا کا اقتدار اسے اللہ پاک کے خزانوں سے لینے والا بنا نہیں سکتا اور اس کو اللہ پاک سے دلوا نہیں سکتا ، وہ ہمیشہ فقیر رہے گا ۔
 غیب کے خزانے :۔
یہ ایک کھلی حقیقت ہے میر ارب جس کو دینا چاہتا ہے اور جس کو  دینے  پر آتا ہے غیب کے خزانے عطا کر دیتا ہے اور جس کی نظر مخلوق کی جیب پر ہوتی ہے وہ لے تو لیتا ہے لیکن لے کر پلتا نہیں ہے جس کی نظر اللہ پاک کے خزانے پر ہوتی ہے وہ لیتا بھی ہے وہ پلتا بھی ہے اس کی نسلیں بھی پلتی ہیں ۔
حرام کبھی نہیں پلتا :۔
مجھے ایک صاحب کہنے لگے ! کسی دور میں میں وزیر رہا ، بڑا نام تھا ، بڑا مال کمایا ، بڑا اقتدار آیا،  بہت کچھ آیا مگر بچا کچھ نہیں ۔  ہتھیلی پرپھونک مار کر کہنے لگے سب کچھ اڑ گیا ۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ میں نے جوا باً کہا! وجہ یہ تھی کہ کثرت آئی تھی ، برکت نہیں آئی تھی ۔ میں اکثر یہ مثال دیا کرتا ہوں ۔ کتیا کتنے بچے دیتی ہے ؟ آٹھ بچے ! اور بکری ایک یا دو بچے ۔ ہزاروں میں کوئی ایک بکری ہو گی جو تین بچے دیتی ہے کہ دنیا دار الاسباب ہے اصولاً تو ریوڑ کتیا کے ہونے چایئیں کیونکہ کتیا بچے  زیادہ دیتی ہے ۔ یاد رکھنا ! حرام کبھی پلتا نہیں ۔ حرام کبھی سنبھلتا نہیں ، حرام کبھی چلتا نہیں ہے ۔
 خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃاللہ علیہ کی وضاحت :۔
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃاللہ علیہ بڑے اللہ والے ہو گزرے ہیں چشتی سلسلے کے درویش ہیں ۔ ان کے پاس ایک بندہ آیا کہنے لگے ! حضرت بکری کے ریوڑ کیوں ہوتے ہیں ؟ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا ! اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیشہ قربانی حلال جانور دیتا ہے ، بکری قربانی دیتی ہے اپنا سب کچھ تن، من، دھن ،کسی اور کیلئے لٹا  دیتی ہے پھر اللہ پاک اس کی راہ جو قربانی دیتا ہے اس کو سدا بہار رکھتا ہے سدا زندہ رکھتا ہے ۔
قربانی دو ۔ سدا بہار رہو :۔
یہ  قدرت کا اصول ہے جو قربانی دیتا ہے اس کو سدا بہاررکھتاہے یہ رب کا وعدہ ہے ۔ وہ قربانی اس گرمی کے اعتبار سے دیں ، وہ قربانی اپنے گھر چھوڑنےکے اعتبار سے دیں ، ساری مخلوق روک رہی ہے کہ نہ جاؤ ، اس اعتبار سے قربانی دیں ، وہ قربانی ساری مخلوق اعتراض کر رہی ہے اس کی کسی سنت پر  ، اس کی کسی زندگی پر ، وہ اس پر قربانی دیں ، وہ قربانی اس کی تسبیح پر دیں ، وہ قربانی اس کے مراقبہ پر دیں ، وہ قربانی اس کے ذکرپر دیں ، وہ قربانی اس کی دینی زندگی پر دیں ، وہ قربانی اس کے حجاب پر دیں ، وہ زندگی کے جس شعبہ میں قربانی دیں ، اللہ پاک قربانی والے کو سدا بہار رکھتا ہے اور پالتا ہے ، بظاہر اسماعیل علیہ السلام ذبح نہیں ہو رہے ہیں لیکن قربا نی پوری دی ، چھری کے نیچے پورے آئے اور چھری چل بھی گئی اور خون کا فوارہ بھی نہ  نکلا ، کیونکہ اللہ پاک نے قربانی لینی ہی نہیں تھی ۔ اللہ پاک قربانیاں مانگتا ہے ۔ لیتا نہیں ہے  ۔ ہم قربانیاں دینے کے قابل ہی کہاں ہیں ؟
اللہ پاک قربانی کیوں مانگا ہے ؟
اللہ پاک  نے قربانی مانگی اور قربانی اس لیے مانگی کہ بندے کو پرکھے کہ یہ میرا بندہ ہے یا اسباب کا بندہ ۔ کس کا ؟عبداللہ یا عبد دینا رہے ،  یا عبد درہم ہے ، نوٹ کا بندہ ہے ، ریال کا بندہ ہے ، ڈالر کا بندہ ہے ، کس کا بندہ ہے ؟ یہ دنیا کو اللہ پاک نے اسباب کے ساتھ جوڑا ہے ۔ ساتھ اسباب بھی لگا دیئے ، مجبوریاں بھی لگا دیں ، سب کچھ لگانے کے بعد میرے رب نے کہا ! ٹھیک ہے اب میں دیکھتا ہوں کون میر ا بن کر آتا ہے ۔
میں جنات سے نہیں اپنے رب سے باتیں کر رہا تھا :۔
حضرت میا  ں شیر محمد صاحب رحمۃاللہ علیہ شرقپور شریف  بڑے اللہ والے تھے ۔ ان سے ایک دفعہ کسی بندے نے کہا کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ! آپ ایک دفعہ کہیں جا رہے تھے اور آپ باتیں کر رہے تھے لیکن کوئی بندے نظر نہیں آ رہے تھے ، کیا آپ کے ساتھ جنات گفتگو کر رہے تھے ؟  فرمایا ! نہیں میں اپنے اللہ پاک سے باتیں کر رہا تھا ، اللہ پاک کو اپنے دکھ سنا رہا تھا ، اللہ پاک سے اپنی ضرورتیں مانگ رہا تھا اور اللہ پاک  کےساتھ ایسے باتیں کر رہا تھا جیسے میں اللہ پاک کے حضور بیٹھا ہوں ۔ حضرت میا  ں شیر محمد صاحب رحمۃاللہ علیہ شرقپور شریف   فرماتے ہیں کہ " میرا تصور یہ تھا کہ میر ارب ایک عالی شان اونچی کرسی پر بیٹھا ہو اور میں مجبور و پریشان ہاتھ باندھ کے زاریاں کر کے کہہ رہا ہوں کہ اللہ پاک مجھے یہ بھی چائیے ۔ اللہ پاک مجھے یہ بھی چائیے ، اللہ پاک میں پریشان ہوں ، اللہ پاک میری یہ مشکل ہے ، اللہ پاک مجھے یہ تنگی درپیش ہے ، اللہ پاک مجھے یہ دکھ پہنچا ہے ، اللہ پاک مجھے یہ غم لگا ہے ۔ فرماتے ہیں ، میں اللہ پاک کے  سامنے ایسے زاریاں کرتا ہوں اور دونوں ہاتھ باندھے کھڑا ہوتا ہوں ۔ یہ سب بظاہر نہیں ہوتا تھا بلکہ میں جار ہا  ہوتا ہوں اپنے کسی کام سے ، اپنے راستے پر ، لیکن میری دل کی اندرونی کیفیت ایسی ہو ا کرتی تھی کہ جیسے میں اپنے رب سے سچی التجا کر رہا ہوں ۔ حضرت میا  ں شیر محمد صاحب رحمۃاللہ علیہ   نے فرمایا ! میں جنات سے باتیں نہیں کر رہا تھا میں تو اپنے رب سے باتیں کر رہا تھا ۔ 
(جاری ہے )
 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر4















Tuesday, September 1, 2015

بہنوں کا حسد بہن کے ساتھ

بہنوں کا حسد بہن کے ساتھ :۔

قارئین ! اس وقت میرے سامنے ڈاک کا ڈھیر ہے ، ہر خط دکھی ، پریشان کن آنسؤں سے لبریز سسکیوں اور آہوں کی حیرت انگیز صدائیں لیکن سب خطوط میں سے ایک خط ایسا ملا جس نے مجھے بہت زیادہ دکھی کیا ، خط تو سارے ہی دکھی کرتے ہیں پر اس خط کے دکھی ہونے میں کوئی شک نہیں اور یقیناً آپ بھی محسوس کریں گے کہ یہ خط حقیقت میں ہے ہی ایسا جسے پڑھ کر کوئی بھی شخص دکھی ہو جائے ۔ خط یہ ہے ! ہم نو بہن بھائی ہیں ، پانچ بہنیں اور چار بھائی ہیں ۔ میں سب سے چھوٹی ہوں ، میرے ابو نہایت سفید پوش اور غریب آدمی تھے جب سے میں پیدا ہوئی میرے ابو کے کاروبار کے حالات بہت بہتر ہونا شروع ہوئے اور ان کے دل میں اللہ پاک نے یہ بات ڈال دی کہ میری وجہ سے اللہ پاک  نےانہیں بخت دیا ہے ، رزق، مال ، چیزوں کی آسودگی بڑھتی چلی گئی ۔ اس کی وجہ سے ان کی محبت ، ان کا پیار میری طرف زیادہ ہوا ، وہ سب بہن  بھائیوں کوبہت پیار دیتے تھے اور محبت دیتے تھے لیکن شاید میں چھوٹی تھی تو مجھے انھوں نے بہت زیادہ پیار دیا لیکن دوسرے بہن بھائیوں کے پیار میں بھی کمی نہ آئی اس  چیز کو میرے چند بہن بھائیوں نے اور خاص طور پر بہنوں نے بہت زیادہ محسوس کیا اور میرے گھر میں بس اندر اندر یہ بات سلگتی رہی اچانک میرے والد فوت ہو گئے ۔ بس پھر کیا تھا ؟ میرے لیے دن بھی جہنم اور رات بھی دوزخ  میرے لئے ہر پل ، ہر سانس ، ہر لمحہ ، ہر لحظہ ، مشکل سے مشکل تر ہے اور نفرتیں اتنی زیادہ کہ میرے گمان اور بیان سے باہر ۔ اب زندگی کے دن گزار رہی  ہوں  لیکن قدم قدم پر میرے لئے نفرتوں کی وہ دیواریں کھڑی کی جارہی ہیں جو اگر میں آپ کو لکھوں توآپ کی آنکھیں ابل پڑیں گی ، آپ کا سینہ دہل جائے گا آپ کو نیند نہیں آئے گی ۔ آپ  دکھی  دوسرےخطوط سے ہوں گے ۔ لیکن اس خط سے آپ کا دکھ اور بڑھ جائے گا ۔ میں کیا کرو ں؟ اس میں میرا کیا قصور ہے ؟ میں نے تو نہیں والد کو کہا تھا کہ آپ مجھ سے محبت کریں ؟ اگر اللہ پاک نے میری پیشانی میں بخت رکھا ہے تو یہ اس کی عطا ہے ۔قارئین! یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے اور ایک بہت بڑا دکھ ہے کہ میرے پاس جتنے بھی دکھی کیس آتے ہیں ان سب دکھی کیسوں میں بہن بھائیوں کی آپس میں نفرتیں ، مخالفتیں اور حسد اتنا زیادہ دیکھا کہ میں خود حیران ہو گیا ۔ قارئین ! اگر کسی گھر میں دو بہنوں کی اکٹھی شادی ہو جائے تو شاید کوئی خوش قسمت گھر ہو گا کہ جس گھر میں بہنوں کی آپس میں محبت و پیار ، بھائی چارگی ، ہمدردی ورنہ تو ایک دوسرے کوکاٹنا اور ایک دوسرے سے ایسی نفرت کرنا کہ اور نفرت اتنی بڑھتی چلی جاتی ہے کہ آخرکار بیٹوں اور بیٹیوں کے رشتوں غیروں میں تو کرتے ہیں آپس میں نہیں کر پاتے۔ حسد ایک روحانی بیماری ہے اور یہ معاشرے میں مختلف شکلوں میں سامنے آ رہی ہے ، کہیں فرقہ واریت، کہیں زبان ، کہیں علاقہ ، کہیں صوبہ ، کہیں رنگ و نسل اور کہیں رشتہ داریوں کی شکل میں ۔ بار ہا مشاہدات اور تجربات کے بعد ایک بات واضح اور بالکل واضح سامنے آئی ہے اور وہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب بھی میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا اور ان لوگوں کو میں نے صرف ایک تلقین کی اور وہ تلقین ہے صبر ، درگزر ، حوصلہ ، پیار ، ان کی نفرت کا جواب محبت میں ان کے ظلم کا جواب معاف کرنے میں اوران کی زیادتی کا جواب عنایات کی بارش میں ، یہ چیز ہے تو بہت مشکل بلکہ مشکل سے بھی زیادہ مشکل ہے لیکن اس پر جو صلہ ملتاہے ، وہ اتنا عجیب و غریب ملتا ہے کہ رزق اسی میں ہے ، صحت اسی میں ہے ، کتنے  بےشمار مریض میرے پاس آئے اور میں نے انہیں یہی صلہ رحمی علاج بتا یا ۔ کچھ ہی عرصہ میں ٹھیک ہو گئے ۔ بعد میں حیران ہو کر مجھ سے کہنے لگے یہ بھی علاج ہے ؟ ہم نے  تو اس کو ثواب سمجھا تھا اور صرف ثواب  کے طور پر تھا کہ کسی کو جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کرو جو تمہیں محروم کرے اسے عطا کرو ، اب پتہ چلا کہ علاج بھی ہے ۔  بے شمار مقروض ماؤں او بہنوں کی وجہ سے دولت مند ہو گئے ۔بے شمار معاشی پریشان بیویوں کے اوپر شفقت اور بہنوں کے ساتھ صلہ رحمی اور بھائیوں کا استقبال انہیں مالدار اور انہیں تندرست توانا اور عظیم کر گیا ۔ یار رکھیے گا ! اللہ پاک کی مخلوق میرے اللہ پاک کو بہت پسند ہے اور جو اللہ پاک کی مخلوق کی خدمت عبادت سمجھ کر کرے گا میرا رب اسے ضرور نوازے گا ۔ اور اس کو ضرور عطا کرے گا ۔ اگر آپ بیماریاں ، پریشانیاں ، دکھ چاہے وہ اولاد کا ہے ، شوہر کا ، پڑوسی ، بےاولادی یا کوئی اور غم ہے جو اندر ہی اندر گھن کی طرح آپ کے کھائےجارہا ہے سچ پوچئے لوگوں سے  صلہ رحمی کرنا شروع کر دیں ۔ جی ہاں ! جی ہاں !  ان کے ظلم کے باوجود ان کی زیادتیوں کے باوجود ان کی سختیوں کے باوجود ان کے حسد کے باوجود آپ سوچ نہیں سکتے وہ کریم ایسے عطا کرے گا کہ گمان سے بالا تر ۔ وہ دینے والا ہے وہ بندوں کو عطا کرنے والا ہے ۔ وہ رزق ، وسعت، برکت ، عافیت عطا ، شفقت ، رحمت ، کرم ، مہربائی ، جودو سخا ، علم و عطا اپنے پاس رکھے ہوئے ہے اور جو اس کے بندوں کے ساتھ بھلا کرے گا اللہ  پاک اس کے بھلے کا فوراً سوچے گا ۔ آئیے ! ہم اس خط سے کوئی سبق حاصل کریں اور اس خط کو ذریعہ بنا لیں زندگی کے بنانے اور مسائل کے حل کروانے کا ۔
 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر3