Thursday, November 5, 2015

غیبی مدد او رمشکلات کے حل کیلئے

غیبی مدد او رمشکلات کے حل کیلئے :۔


ہر قسم کی غیبی مدد اور فتوحات  او رمشکلات کے حل کیلئے یہ عمل بہت کار آمد اور تیر بہدف ہے ۔ فجر کی اذان کے بعد دو سنت پڑھ کر فرضوں سے پہلے سورہ فاتحہ اس ترکیب سے پڑھیں اول و آخر درود شریف سات مرتبہ پڑھیں درمیان میں بسم اللہ کی آخری میم کو الحمد کے لام سے ملا دیں
 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ .
اس کے بعد ۔
الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
تین مرتبہ پڑھیں اسی طرح
 إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
کو بھی تین مرتبہ پڑھیں باقی تمام کلمات صرف ایک ایک مرتبہ پڑھنے ہیں اس ترکیب سے سورۃ فاتحہ اکتالیس مرتبہ پڑھی جائے گی ۔یہ عمل اکتالیس دن مسلسل بلا ناغہ کریں ۔ انشاءاللہ تعالیٰ غیب سے روزی کا انتظام ہو گا ۔ بیروزگاری ختم ہو جائے گی مشکلات دور ہوں گی اور زندگی خوشگوار ہو جائے گی جملہ پریشانیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔

حفاظت اور خوف و خطر سے نجات

حفاظت اور خوف و خطر سے نجات :۔



اگر کوئی دشمن کے شر اور ظلم سے پریشان ہو یا دشمن نئے نئے طریقے سے ذہنی و جسمانی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہوں او ر طرح طرح سے تنگ کرتے ہوں تو دشمنوں کے شر سے حفاظت اور ہر قسم کے خوف و خطر سے حفاظت کیلئے ہر فرض نماز کے بعد سات مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھا کرے انشاءاللہ تعالیٰ دشمنوں کے شر سے ہر طرح حفاظت رہے گی اور خوف و دہشت دل سے نکل جائیگا زندگی پر سکون بسر ہو گی۔

کام میں دل لگنا

کام میں دل لگنا  :۔


اگر کسی کا دل کسی کام میں نہ لگتا ہو اور مزاج میں غیر مستقل مزاجی ہو اور کہیں جم کر کام کرنا مشکل ہوتا ہو اور روزگار میں محنت و کوشش کرنے سے دل تنگ ہوتا ہو تو اس کیلئے یہ عمل بہت مفید ہے اس عمل کی برکت سے انشاءاللہ تعالیٰ کام میں دل لگے گا اور جم کر کام کرنے کی عادت پڑے گی ہر نماز کے بعد ہر بار ﷽ کے ساتھ ایک سو بار پڑھیں وہ کلمات یہ ہیں ﷽ بحول و قوۃ لا الہ الا اللہ المھیمن العزیز الجبار المتکبر۔

قوت باہ کیلئے

قوت باہ کیلئے :۔


اگر کسی کی قوت مردمی کمزور ہو اور مکمل طور پر کامیابی نہ ہوتی ہو تو اس کیلئے یہ عمل بہت عمدہ اور تجربہ شدہ ہے باوضو اول و آخر سات مرتبہ درود شریف پڑھیں اس کے بعد سات مرتبہ سورۃ فاتحۃ ، سات مرتبہ آیت الکرسی ، سات مرتبہ سورۃ حشر کی آخری تین آیات آخر میں سات مرتبہ درود شریف پڑھ کر ایک کلو کھجور پر دم کرکے رکھ لیں اور روزانہ سات عدد نہار منہ کھا لیا کریں انشاءاللہ تعالیٰ ایک ماہ مسلسل عمل کرنے کی برکت سے صحت بحال ہو جائے گی اور قوت میں استحکام پیدا ہو گا ۔

صضر المظفر ! مصیبت و پریشانی سے محفوظ رہنے کے اعمال

صضر المظفر ! مصیبت و پریشانی سے محفوظ رہنے کے اعمال  :۔

جو کوئی یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کرے تو وہ صفر المظفر میں کسی بھی دن چاشت کی نماز کے بعد چاررکعت نفل نماز اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ الم نشرح پڑھ کر، ستر مرتبہ سورہ والتین پڑھے، ستر مرتبہ سورہ نصر پڑھے ،اور ستر مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے ۔

جب صفر کا چاند دیکھے تو:۔ جب صفر کا چاند دیکھے تو نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد چار رکعت نفل نماز دو دو رکعت کر کے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد گیارہ گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے۔ اور سلام پھیرنے کے بعد ایک ہزار مرتبہ نہایت توجہ و یکسوئی سے یہ درود پاک پڑھے .
اللھم صل وسلم علی  النبی الامی
بفضل باری تعالیٰ اس عمل کے کرنے سے گناہوں کی معافی عطا ہو گی اللہ تعالیٰ اپنی حفظ و امان میں رکھے گا ۔

ماہ صفر کی پہلی شب:۔ کتاب راحۃ القلوب میں ہے کہ جو کوئی نماز عشاء کی وتر اور نفل نماز سے پہلے چار رکعت نفل نماز اس طرح سےپڑھے کہ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد،پندرہ مرتبہ سورہ کافرون پڑھے، دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد، پندرہ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے، تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد پندرہ مرتبہ سورہ فلق پڑھے اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد پندرہ مرتبہ سورہ ناس پڑھے نماز ادا کرنے کے بعد ایک سو مرتبہ ۔
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
پڑھے پھر ستر مرتبہ درود پاک پڑھے تو انشاءاللہ  تعالیٰ ہر بلا و مصیبت سے محفوظ رہے گا ۔

آخری عشرے کی عبادت :۔ ماہ صفر کے آخری عشرہ میں نفل نمازیں پڑھنے سے اللہ پاک بندے پر خصوصی فضل و کرم فرماتا ہے ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ آخری عشرہ میں نماز اشراق کے بعد غسل کر کہ پاکیزہ لباس پہنے اور بغیر کسی سے کوئی کلام کئے چار رکعت نفل نماز اس طرح سے ادا کرے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ستر مرتبہ سورہ کوثر ،پانچ مرتبہ سورہ اخلاص ،اور ایک ایک مرتبہ معوذ تین پڑھے پھر سلام پھیرنے کے بعد اپنا سر سجدے میں رکھے اور ایک مرتبہ "یا وھاب "اور "الحی الحق "کہے اس کے بعد اٹھ کر بیٹھ جائے اور اکسٹھ مرتبہ سورہ الم نشرح ،اکسٹھ مرتبہ سورہ والتین ،اکسٹھ بار سورہ النصر، اکسٹھ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے،پھر ایک ہزار چودہ مرتبہ "یاوھاب" کا ورد کرے اس کے بعد سو مرتبہ" الحی  الحق "پڑے اور تین مرتبہ یہ درود پاک پڑھے ۔
اللھم صل وسلم علی  النبی الامی

جان و مال کی حفاظت کیلئے:۔
جو کوئی اس ماہ میں کسی بھی دن پانچوں فرض نمازووں کے بعد نہایت توجہ و یکسوئی کے ساتھ قبلہ رخ بیٹھ کر ایک مرتبہ ذیل میں دی ہوئی آیات مبارکہ پڑھ کر پانی پر دم کرے اور یہ پانی خود بھی پئے اور اپنے گھر والوں کو بھی پلائے تو بفضل باری تعالیٰ وہ ہر طرح کی مصیبت و پریشانی سے محفوظ رہے گا ۔ اس کی عمر میں برکت عطا فرمائے گا آیات مبارکہ یہ ہیں ۔
 سلام قولا من رب رحيم
 سلام علي نوح في العالمين
سلام علي موسي و هارون
 سلام علي آل ياسين
: سلام هي حتي مطلع الفجر
سلام علي ابراهيم

بے پناہ ثواب حاصل کرنا:۔ جو کوئی یہ چاہے کہ اسے بہت زیادہ ثواب حاصل ہو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کرے اور اسے نیکی کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے تو اس ماہ میں کسی بھی دن چاشت کی نماز کے بعد چار رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ الم نشرح پڑھ کر ،ستر مرتبہ سورہ والتین پڑھے، ستر مرتبہ سورہ نصر پڑھے، اور ستر مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے انشاءاللہ پڑھنے والا بے پناہ ثواب حاصل کرے گا۔

Wednesday, November 4, 2015

نومبر میں جان بنانے کے جاندار سنہری اصول

نومبر میں جان بنانے کے جاندار سنہری اصول :۔

صحت کو برقرار رکھنے  کے لئے یوں تو ہر موسم میں مختلف اقدامات کرنے کی ضرورت ہوتی ہےمگر ہمارے پیش نظر چونکہ موسم سرما ہے ۔اس لئے دیکھنا یہ ہے کہ خواتین کن اصولوں کو اپنا کر اپنی صحت بحال رکھ سکتی ہیں ۔سردیوں کی سب سے زیادہ پیش آنے والی بیماری نزلہ اور زکام ہے جو ذرا سی حرارت میں تبدیلی کے باعث لاحق ہو سکتی ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ حرارت میں تبدیلی سے بچا جائے  سردیوں میں دھند کی وجہ سے فضا نم آلود ہو جاتی ہے اور خواتین صبح سویرے گھر یلو کام کیلئے حفاظتی تدابیر کے بغیر ہی دن کا آغاز کر دیتی ہیں  اس کے علاوہ دھویں اور گرد کے ذرات بھی ہوا کو پر اگندہ کرتے ہیں اور اس فضاء میں بچے بھی سانس لیتے ہیں ۔ باورچی خانوں اور دوسرے کمروں میں باریک جالیوں کا مناسب انتظام بہر حال کرنا چاہیئے۔سردیوں میں عموما کمروں کا درجہ حرارت کھلی فضاء کی نسبت بہتر ہوتا ہے جبکہ کمروں سے باہر سردی زیادہ ہوتی ہے ۔ سردیوں میں جب خواتین بے ااحتیاطی سے اپنے کمروں سے باہر نکلتی ہیں تو باہر دو فضاؤں میں نامناسب فرق کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہوتی ہیں ۔جس میں سر درد ، جوڑوں کا درد اور نزلہ زکام وغیرہ شامل ہے  اس کے علاوہ پھیپھڑے اس فوری تبدیلی سے متاثر ہوتے ہیں۔جس سے سانس کی بیماری پیدا ہونے کا خدشہ بھی ہو سکتا ہے ۔ علاوہ ازیں نمونیہ کی شکایت بھی پیدا ہو جاتی ہے ۔ دمہ کے مریضوں کا مرض شدت اختیار کر سکتا ہے ۔ بچوں کو صبح سکول کی تیاری کے سلسلے میں بے احتیاطی کی جاتی ہے ۔ بچے بستر سے نکلتے ہی باتھ روم میں گھس جاتے ہیں یا بغیر جوتوں اور جرابوں کے چلتے پھرتے ہیں یا پھر انہیں نہلا کر فوری تولیے سے خشک کر کے مناسب لباس نہیں پہنایا جاتا  شہروں میں خواتین بجلی ، گیس کے ہیٹروں اور دیہاتوں میں کوئلوں کی انگیٹھی کے سامنے بیٹھ کر کام کاج کرتی ہیں سوئیٹر بنتی ہیں سبزیاں بناتی ہیں پھر اچانک کسی ضروری کام کے یاد آنے پر درجہ حرارت کی پروا کئے بغیر کھلی فضاء میں چلی جاتی ہیں جو صحت کیلئے بے حد مضر ہے یا پھر ننگے پاؤں گھریلو کام کاج میں لگ جاتی ہیں شال یا  سویٹراستعمال نہیں کرتی ہیں ۔جس سے ہوا لگ سکتی ہے ۔ نامکمل گرم لباس آپ کو بیمار کر سکتا ہے ۔جن خواتین کو شدید سردیوں میں بھی گرمی کا احساس ہوتا ہے انہیں اپنا بلڈ پریشر چیک کروانا چاہیے اور بلڈ پریشرزیادہ ہونے کی صورت میں علاج کروانا ضروری ہے ۔ جسمانی صحت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ہمیں نامناسب غذاؤں سے بھی پرہیز کرنا چاہیے ۔یہ محض مفروضہ ہے کہ چائے اور کافی سے کوئی فرق نہیں پڑتا  بعض خواتین میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ موسم سرما میں گرم تاثیر والی خوراک کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے یہ بات کسی حد تک تو درست ہو سکتی ہے مگر ہر چیز کو اعتدال میں ہی رکھ کر استعمال کرنا صحت کیلئے مفید ہے سردیوں میں اچار سے خاص طور پر پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اچار اور کھٹی چیزیں گلے کی رگوں کو پکڑ لیتی ہیں اور بیمار ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے ۔ سبزیوں اور دالوں میں حیاتین کی مقدار کافی ہوتی ہے اس کا زیادہ استعمال صحت کیلئے مفید ہے بعض خواتین اپنے بچوں کو نہلانے اور خود بھی نہانے سے گھبراتی ہیں اور تین چار دن کے بعد صرف سرد ھو کر کام چلا لیتی ہیں یہ طریقہ بھی صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو تا ہے ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سر تو گیلا ہو جاتا ہے جب کہ جسم کا باقی حصہ نم آلود نہیں ہوتا ۔ اس تفریق سے جسم کی حرارت یکساں نہیں رہتی صفائی ستھرائی تو ہر موسم میں صحت کیلئے مفید ہے کہ سر دھونے کی بجائے ہفتے میں کم از کم دو تین بار ضرور نہا لیا جائے حالانکہ ماہرین سردیوں میں بھی روزانہ دوپہر کے وقت نہانے کو صحت کی علامت قرار دیتے ہیں ۔بعض خواتین مختلف بیماریوں خصوصاً درد سروغیرہ اور نزلہ زکام کا علاج گھر پر ہی کر لیتی ہیں سر درد ، بخار، نزلہ، زکام میں عام فروخت ہونے والی ادویات استعمال کی جاتی ہیں یہ طریقہ بھی مناسب نہیں ہے ۔نمونیہ یا اس جیسے دوسرے امراض جو سردی کے موسم میں وباء کی صورت میں پھوٹ سکتے ہیں ۔اس سے بچنے کیلئے حیاتین کا استعمال کرتے رہنا مفید ہے تاہم بیماری کی شدت کی صورت میں اپنے معالج کے مشورے کے بغیر کوئی بھی دوائی استعمال کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ بعض اوقات گھریلو علاج بیماریوں میں طوالت پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر گھر پر علاج ضروری کرناا پڑے تو نزلہ زکام  کیلئے جو شاندہ ہر لحاظ سے فائدہ پہنچاتا ہے ،اور اس کے کوئی مضر اثرات بھی نہیں ہیں اس کے علاوہ زیتون بہت محفوظ اور صحت بخش غذا ہے ۔ اس میں بہت مقوی اجزاء پائے جاتے ہیں عربوں کے بہت سے کھانوں میں زیتون کا استعمال کیا جاتا ہے اس کا تیل سلاد اور چٹنیوں میں بھی ڈالتے ہیں جو انہیں خوشبودار بنا دیتا ہے ۔ اور ذائقہ بھی دو بالا کر دیتا ہے جبکہ ہمارے ہاں اسے صرف مالش کیلئے استعمال کیا جاتا ہے بعض لوگ سردیوں میں انڈوں کا استعمال بالکل نہیں کرتے ایک لاکھ افراد پر ہونے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے۔ کہ روزانہ ایک انڈہ صحت کیلئے نہایت مفید ہے بہر حال حد سے زیادہ انڈوں کا استعمال کرنا اور گوشت کا استعمال ترک کر دینا بھی نقصان دہ ہے انسان فطری طور پر گوشت کھانا پسند کرتا ہے اس طرح سنگتروں ،مالٹوں کا استعمال بھی اس موسم میں مفید ہے کینیڈا اور برطانیہ میں کی گئی تحقیق کے مطابق ماہرین نے بتایا کہ اورنج جوس جسم میں ایچ ڈی ایل کو بڑھاتا ہے ۔جو کہ انسان کیلئے مفید ہے خاص طور پر دل کے مریضوں کیلئے تو بہت مفید ہے جسم میں ایل ڈی ایل کویسٹرول کو کنٹرول بھی کرتا ہے بعض لوگ سردیوں میں وٹامنز کا زیادہ استعمال کرتے ہیں امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامنز کی بہت زیادہ مقدار استعمال کرنے سے صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔امریکہ کے انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ وٹامنز کی گولیوں کے استعمال میں کمی لائیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روزانہ جتنے وٹامنز کی ضرورت ہوتی ہے صحت مند افراد کو اپنی روزمرہ ذندگی میں اتنے وٹامنز مل جاتے ہیں لوگوں کو روزانہ ایسی چیزیں کھانی چاہیے جن میں قدرتی طور پر وٹامن کی کافی مقدار ہو ۔وٹامن سی سنگترہ ، مالٹا، آلو ، سٹرابری اور سبز پتوں والی ترکاریوں میں وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے ۔البتہ بیمار لوگوں کو اپنے معالج کے مشورے سے وٹامنز کی  گولیاں استعمال کرنی چاہیئں یا پھر کمزور افراد کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ روزانہ دو ہزارملی گرام سے زیادہ وٹامن نہیں لینا چاہیے کیونکہ بہت زیادہ وٹامن سی اسہال کا سبب بن سکتا ہے لوگوں کو وٹامن ای کیلئے مناسب مقدار میں مونگ پھلی ، بادام اور خشک میوہ جات استعمال کرنے چاہیں لیکن گولیوں کی صورت میں وٹامن ای روزانہ ایک ہزار ملی گرام سے زائد نہیں لینا چاہیے گولیوں کی صورت میں بہت زیادہ وٹامن ای لینے سے جسم کے اندر زائد خون بننے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں ۔بعض لوگ سردیوں میں پانی کا استعمال بہت کم کر دیتے ہیں بہت کم افراد کو یہ علم ہوتا ہے کہ جسم پانی کی کمی کا شکار ہو رہا ہے ۔

پہلے بچے کو دودھ پلانا ایک امتحان ! مگر اب نہیں

پہلے بچے کو دودھ پلانا ایک امتحان ! مگر اب نہیں  :۔

قارئین ! آپ ماں کے دودھ کے فضائل و فوائد تو پڑھتے ہی رہتے ہیں  ۔ اس میں کوئی شک اور دوسری رائے نہیں ہے کہ ماں کا دودھ ہی بچے کی اصل زندگی ہے جس بچے نے ماں کا دودھ نہیں پیا ہوتا وہ ساری زندگی مختلف امراض کا شکار رہتا ہے ۔ مگر آج میں یہ مضمون خاص طوورپر اپنی ان بہنوں کیلئے لکھ رہا ہوں جن کی ابھی شادی ہوئی اور پہلا ہی بچہ ہے کیو نکہ ایسی مائیں بچے کو ددھ پلاتی ہیں تو بہت سے مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ذیل میں اپنی بہنوں کو بچے کو دودھ پلانے کا طریقہ اور احتیاطیں بتا رہا ہوں یقیناً میرے اس مضمون سے بہت سی بہنوں کی پریشانی دور ہو جائے گی۔
٭ ماں ہر دفعہ بچے کو دونوں پستانوں سے دودھ پلائے، دودھ پلاتے وقت ماں آرام دہ پوزیشن میں ہو اور بچہ ٹھیک طریقے سے دودھ پی رہا ہوں ۔ دودھ پلاتے وقت بچے کا جسم ماں کے جسم سے قریب تر ہونا چاہیے بچے کی ٹھوڑی اور دہانہ چھاتی کے ساتھ ہو اور اس کامنہ پورا کھلا ہوا ہو ۔
٭ دودھ پلاتے وقت بچے کی پوزیشن ٹھیک ہو جلد جلد اور بار بار دودھ پلائیں دونوں  پستانوں سے بچے کو بار بار دودھ پلایا جائے اور ہر بارپستانوں کو خالی کر دیں اس طرح ماں کے پستانوں میں دودھ کی مقدار میں اضافہ ہو گا۔
٭اگر ماں کے پستان مکمل طور پر خالی ہو جائیں تو ا س سے دودھ پیدا ہونے کے عمل میں تیزی پیدا ہو جاتی ہے ۔
٭بچے کو اس طرح تھامنا چاہیے کہ اسے چھاتی تک پہنچنے میں کوشش نہ کرنی پڑے ، بچے کا منہ بالکل سامنے ہو ۔
٭ جہاں تک ممکن ہو بچے کو افقی پوزیشن کی بجائے نیم دراز پوزیشن میں تھامنا چاہیے ۔ اس پوزیشن میں بچے زیادہ دودھ پیتے ہیں ، بیٹھ کر بچے کو دودھ پلانا مناسب ہے اس طرح بچہ چھاتیوں سے قریب ہوتا ہے اور آسانی سے دودھ پی سکتا ہے ۔
٭بچہ دودھ پینے کہ دوران صرف ناک سے سانس لے چنانچہ دودھ پلانے کے دوران ناک کے راستے کا بے رکاوٹ رہنا بہت ضروری ہے احتیاط کریں کہ دودھ پلانے کے دوران پستان کے ذریعے بچے کی ناک پر دباؤ نہ پڑے اگر پستان بچے کی ناک پر دباؤ ڈالے تو اس کی ناک کا راستہ بند ہو جائے گا اور وہ سانس لینے کی کوشش میں ہوا بھی نگل لے گا۔
٭ اگر بچہ کمزور ہو اور اچھی طرح سے دودھ نہیں پی سکتا تو ماں کو ہاتھ سے اپنی چھاتی دبا کر دودھ پلانے میں بچے کی مدد کرنی چاہیے۔
٭ اگر بچے کو فیڈر سے دودھ پلانے کی ضرورت پیش آئے تو فیڈر نپل اور دیگر سامان کو اچھی طرح ابلتے ہوئے پانی میں دھو کر جراثیم سے پاک کر لیں ۔
٭ دودھ پلانے والی ماں کو صاف ستھرا رہنا چاہیے اس کےعلاوہ اردگرد کا ماحول بھی صاف رکھنا ضروری ہے اس سےجراثیم کے پھیلنے بڑھنے کا امکان کم ہو جاتا ہے اور بیماریوں کی روک تھام میں مدد لتی ہے ۔
٭ خواتین کو اپنی صفائی پر توجہ دینی چاہیے خاص طور پر جائے ٖضروریہ سے فارغ ہونے کے بعد بچہ کو صاف کرنے کے بعد کھانا پکانے یا کھلانے کے بعد ، کھانے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھو لینا بہت ضروری ہے ۔
٭بچے کو دودھ پلاتے وقت ماں رنج و غم ۔ فکر ، غصہ اور پریشانیوں سے بالکل آزاد ہو ۔ ایسی کیفیت میں بچے کو دودھ پلانا بچے کو چڑ چڑا اور غصیلا بنا دے گا ۔
٭ محنت و مشقت، آگ کے پاس بیٹھ کر کام کرنے اور جنسی ملا پ کے بعد بچے کو اس وقت تک دودھ نہ پلائیں جب تک جسمانی درجہ حرارت اعتدال پر نہ آ جائے ۔
٭ دودھ پلانے والی ماؤں کو دوائیں استعمال کرنے کے معاملے میں بہت احتیاط برتنے کی  ضرورت ہے کیونکہ بہت سی دوائیں ماں کے دودھ میں شامل ہو کر نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں ۔
٭ اگر ماں کیلئے دوا استعمال کرنا لازم ہو اور دوا بھی خاصی حد تک محفوظ ہو تو اسے دودھ پلانے کے تقریباً ایک گھنٹہ بعد اور دوبارہ دودھ پلانے سے تین گھنٹے پہلے استعمال کرنا چاہیے ۔ کوئی بھی دوا استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ بے حد ضروری ہے ۔
٭ماں کو چاہیے کہ دودھ پلانے کے دوران خود اچھی طاقت و توانائی سے بھر پور غذا استعمال کرے جس میں وٹامن ، نمکیات اور پروٹین موجود ہوں ۔ دودھ پلانے عالی خاتون کو نہ صرف اپنی غذائی ضرویات پوری کرنی ہوتی ہیں بلکہ نشوو نما پانے والے بچے کی بھی ضروریات پوری کرنا ہوتی ہیں ۔ دودھ پلانے کے دوران مناسب خورااک ماں کو صحت مند رکھتی ہے اور دودھ کی مقدار زیادہ کرنے میں مدد دیتی ہے ۔ بچے ماں کے دودھ سے محتلف غذائی اجزا مثلاً وٹامن ، پروٹین ، نمکیات ، فافورس وغیرہ حاصل کرتے ہیں اس لئے دودھ پلانے والی ماؤں کی خوراک میں ان غذائی اجزاء کی مناسب مقدار ہونی چاہیے اگر غذامیں یہ اجزا موجود نہ ہوں تو ماں اور بچے کی صحت خراب ہو جانے کا اندیشہ ہے اور ماں کا دودھ بھی کم ہو سکتا ہے ۔
ماں اپنے بچے کو دودھ کب تک پلا سکتی ہے:۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت کا ارشاد پاک ہے ۔
"اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچے کو پورے دو برس ۔"
بچے کو دو سال تک دودھ پلانا ماں کی شرعی ذمہ داری ہے۔ یہ ماں اور بچہ کے درمیان باہمی شفقت اور ہمدردی اور بچے کے دل میں ماں کے لئے احترام و فرمانبرداری کا باعث ہے ۔ لڑکی ہو یا لڑکا دونوں کو دو، دو سال دودھ پلایا جائے، ماں باپ چاہیں تو دو سال سےپہلے دودھ چھڑوا دیں مگر دو سال کے بعد دودھ پلانا مناسب نہیں ۔ بچے کو موافق دودھ اس کی ماں کا ہی ہوتا ہے لیکن کوئی مجبور ی ہو یا ماں کا دودھ خراب ہوتو کوئی دودھ پلانے والی نیک اور متقی عورت مقرر کی جائے ۔ ماں خواہ مطلقہ ہو یا نہ ہو اس پر اپنے بچہ کو دودھ پلانا واجب ہے بشرطیکہ باپ کو اجرت پر دودھ پلوانے کی قدرت و استطاعت نہ ہو یا کوئی دودھ پلانے ولای میسر نہ آئے یا بچہ ماں کے سوا اور کسی کا دودھ قبول نہ کرے۔اگر یہ باتیں نہ ہوں یعنی بچہ کی پرورش خاص ماں کے دودھ پر موقوف نہ ہو تو ماں پر دودھ پلانا واجب نہیں ، مستحب ہے ۔ اگر بچہ کو دودھ کی ضرورت نہ رہے اور دودھ چھڑانے میں اس کیلئے خطرہ نہ ہو تو دو سال سے کم مدت میں بھی دودھ چھڑانا جائز ہے ۔بچہ کی پرورش اور اس کو دودھ پلوانا باپ کے ذمہ واجب ہے اس کیلئے وہ دودھ پلانے والی مقرر کرے لیکن اگر ماں اپنی رغبت سے بچہ کو دودھ پلائےتو مستحب ہے ۔ شوہر اپنی زوجہ پر بچہ کے دودھ پلانے کیلئے جبر نہیں کر سکتا اور نہ عورت شوہر سے بچہ کے دودھ پلانے کی اجرت طلب کر سکتی ہے جب تک کہ اس کے نکاح اور عدت میں رہے ۔ ایک صحت مند ماں اپنے بچے کو دو سال تک دودھ پلا سکتی ہے ۔ دو سال سے زیادہ دودھ پلانا مناسب نہیں ہے کیونکہ ماں کی چھاتیوں میں دودھ کی پیدائش بھی کم ہو جاتی ہے اور بچے کی بھوک بھی بڑھ جاتی ہے اور اس کے دانت نکل آتے ہیں اب اس کو دوسری غذائیں دی جا سکتی ہیں جن کو وہ دانتوں سے کاٹ کر اور چبا کر کھا سکتا ہے ۔ دودھ چھڑانے کیلئے ماں بچے کو دودھ پلانے میں آہستہ آہستہ کمی کرے روزانہ دودھ پلانے میں کمی کرتی جائے اور ساتھ ساتھ ٹھوس غذا اور کسی جانور کا دودھ برتن میں ڈال کر بچے کو دے اور اس طرح وہ برتن سے دودھ پینے اور ٹھوس غذاکھانے کا عادی ہو جائے گا۔