Wednesday, January 3, 2018

جادو کے سارے راستے بند


جادو ٹونے کا توڑ:۔
بیرون ممالک کام کرنے والے لوگ حسد اور نظربد کا شکار ہوجاتے ہیں لوگ ان سے حسد کرنے لگ جاتے ہیں اور انہیں تنگ کرنے تکالیف پہنچانے کیلئے مختلف قسم کے غلیظ عمل کرنا شروع کردیتے ہیں۔ لوگوں کے ان غلیظ اعمال کی بدولت کئی لوگوں کا روزگار بھی چھوٹ جاتا ہے اور کئی لوگوں کی صحت خراب رہنے لگتی ہے ان کا کسی کام میں دل نہیں لگتا اور شدید بے چینی ہوتی ہے۔ بیرون ممالک کے تمام بھائیوں کیلئے بہت زبردست عمل ہے۔ اس پر ضرور عمل کریں۔ اس عمل کی بدولت سے ان پر جادو وغیرہ اثر نہیں کرے گا اس کےعلاوہ کوئی غلیظ عمل بھی ان پر عمل نہیں کرے اور ان کی زندگی میں ٹھہراؤ اور سکون آجائے گا۔
عمل یہ ہے:۔
سورۂ فلق سو مرتبہ‘ سورۂ ناس سو مرتبہ (دن میں کسی بھی وقت باوضو پڑھیں) اس کے علاوہ منزل کا وظیفہ: یہ ایک چھوٹی سی کتاب ہے جو کسی بھی کتب کی دکان سےآسانی سے مل جاتی ہے۔ اس کو ایک دفعہ صبح وشام پڑھ لیا کریں۔ آیت قطب کا عجیب و غریب :قرآن پاک کی ہر آیت ہی بڑی بابرکت اور باعث شفاء ہے لیکن آیت قطب ایک لمبی آیت ہے جس کے فوائد بے شمارہیں۔یہ آیت قطب سورۂ آل عمران پارہ 4 کی آیت نمبر 154 ہے۔اختصار کے ساتھ اس کے فوائد مندرجہ ذیل ہیں:۔ اس آیت کا عامل بننے کیلئے ایک چلہ کرلیں‘ یعنی اکتالیس مرتبہ اکتالیس دن تک پڑھیں اس کےبعد تین مرتبہ صبح و شام معمول بنالیں۔ اس کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ گیارہ مرتبہ صبح و شام 160 دن تک پڑھیں انشاء اللہ تعالیٰ عمل میں آجائے گی۔
جنات اور جادو کا توڑ:۔
 اگر کسی انسان پر جن آجائے یا جادو کا اثر ہوجائے تو آیت قطب کو سات مرتبہ پڑھ کر مریض کے دونوں کان‘ آنکھوں اور سر پر پھونک مار دیں۔ اس کی برکت سے وہ راستے بند ہوجائیں گے جن سے جن اور جادو اثرانداز ہوتے ہیں۔ 
سردرد کیلئے:۔
 جس شخص کے سر میں درد ہو تو سات مرتبہ آیت قطب پڑھ کر دم کریں انشاء اللہ آرام آجائے گا۔ اگر سات دفعہ پڑھنے سے آرام نہ آئے تو طاق اعداد یعنی ،11،13،15،17،19،21 تک پڑھ کر دم کرتے رہیں اور مریض سے حال پوچھتے رہیں۔ انشاء اللہ 21 دفعہ پڑھنے سےآرام آجائے گا۔ 
پھوڑے پھنسیوں کیلئے:۔
 ہر قسم کے پھوڑے پھنسیوں کیلئے پانچ دفعہ آیت قطب پڑھیں اور ہر بار پھونک مارتے رہیں اور آخر میں سات مرتبہ ڑھ کر دم کریں۔ انشاء اللہ اس بیماری سے جان چھوٹ جائیگی۔
جلدی امراض کیلئے:۔
 ہر قسم کے جلدی امراض کیلئے یعنی خارش یا انفیکشن وغیرہ کیلئے بہت مفید ہے۔ سات دفعہ پڑھ کر متاثرہ حصے پر دم کردیں۔ انشاء اللہ ضرور بہتری آئے گی۔
بچوں کی بیماریوں کیلئے:۔
 چھوٹے بچوں کا ڈر جانا‘ رونا‘ سوکھا پن‘ دودھ نہ پینا‘ سبق یاد نہ رہنا‘ نظر کا کمزور ہونا ان تمام امراض کیلئے آیت قطب ایک دفعہ روز شام کو سات روز تک درودابراہیمی پڑھ کر بچے پر دم کردیا کریں۔ انشاء اللہ ان تمام امراض سے جان چھوٹ جائےگی۔ 
آدھے سر کا درد:۔
 آدھے سر کے درد کیلئے 21 مرتبہ درج بالا آیت پڑھ کر اتنی ہی پھونکیں ماریں‘ انشاء اللہ ایک ہی ہفتہ میں آرام آجائے گا۔ مرگی: ہرقسم کے مرگی کے دورے کیلئے صبح و شام 21،21 مرتبہ پڑھ کر دعا کریں اور مریض کے مکمل ٹھیک ہونے تک یہ عمل جاری رکھیں۔ اللہ کے فضل سے ضرور شفاء ہوجائے گی۔
ہرقسم کے کینسر کیلئے:۔
 کینسر کی کوئی بھی قسم ہو‘ 41 دن تک صبح و شام 41 دفعہ شام کو آیت قطب پڑھ کر دم کردیں‘ انشاء اللہ پہلے ہی ہفتے سےفرق پڑنا شروع ہوجائے گا اور اس وقت تک یہ عمل جاری رکھیں جب تک مریض مکمل طور پر شفایاب نہیں ہوجاتا۔

چرواہے کو مقام کیسے ملا؟


حضرت لقمان علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک دن اپنے شاگردوں اور دوستوں کو حکمت اور دانائی کا درس دے رہے تھے سب لوگ ان کے سبق کو بہت غور سے سن رہے تھے۔ ایک شخص درس میں بیٹھا آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔اُ سے آپ کی آواز جانی پہچانی معلوم ہورہی تھی۔ آخر جب آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام درس سے فارغ ہوگئے تو آگے بڑھا اور بولا میں فلاں مقام پر کسی زمانے میں بکریاں چرایا کرتا تھا بکریاں چروانے والا میرا ایک ساتھی تھا اس شخص کی صورت اور آواز بالکل آپ جیسی تھی۔ ہاں مجھے یاد ہے۔ میں وہی ہوں‘ حضرت لقمان علیہ الصلوٰۃ والسلام بولے۔ اس شخص نے حیران ہوکر پوچھا آپ کو یہ مرتبہ کس طرح حاصل ہوا؟ حضرت لقمان علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: دو باتوں سے ایک سچ بولنا‘ دوسرا بغیر ضرورت بات نہ کرنا۔ 

امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کی امام ابو حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ کو نصیحت:۔

حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ایک روزکسی کام سے بازارجارہے تھے‘ راستے میں ان کی ملاقات حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے ہوگئی۔ ان کی شکل و صورت دیکھ کر وہ سمجھے کہ یہ کوئی طالب علم ہے۔ چنانچہ حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں اپنے پاس بلایا اور پوچھنے لگے: اے نوجوان! کہاںجارہے ہو؟ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا میں ایک تاجر کےپاس جارہا ہوں۔ ان کی بات سن کر حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: میرامطلب ہے تم کس سے پڑھتے ہو؟ یہ سن کر آپ شرمندہ ہوئے اور بولے میں کسی سے بھی نہیں پڑھتا۔ اس پر حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے: تم علماء کی صحبت میں بیٹھا کرو‘ مجھے تمہارے اندر قابلیت کے جوہر نظر آتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ بات میرے دل میں گھر کرگئی میں بازار چھوڑ کر صرف علم کا ہوکر رہ گیا۔

بچے جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟


بچے کی تربیت اور سیکھنے کا عمل تو اس کے گھر سے ہی شروع ہوتا ہے اور سکول میں داخل ہونے سے پہلے کا عرصہ ہی بچوں کی عمر کا ایسا دور ہے جب ان کے اخلاقی اور جذباتی کردار کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور یہی ان کی عمر کا فیصلہ کن دور ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہٗ جب ماں کے پیٹ میں بچے کی خلقت فرماتے ہیں تو سب سے پہلے اس بچے کی شہادت کی انگلی تخلیق فرماتے ہیں اور باقی جسم کی تکمیل بعد میں ہوتی ہے‘ یہی شہادت کی انگلی وحدانیت کی گواہ بنتی ہے اور اس کے حبیبﷺ کے آخری نبیﷺ ہونے کی بھی گواہی دیتی ہے۔ انسان کی پیدائش تو اسی ایمان پر ہوتی ہے اور یہی فطرت کا اصول بھی ہے لیکن دنیا میں آنے کے بعد اس کے ایمان کا بٹوارہ ہوجاتا ہے‘ مذاہب کے نام پر‘ مسلکوں کے نام پر‘ اور پھر آبائو اجداد کا مذہب ہی ان کا مذہب بن جاتا ہے۔ تقریباً دو سال قبل کی بات ہے‘ میں ایک دکان پر گئی‘کچھ خریدنا تھا دکان کا مالک نہیں تھا‘ دو بچے کھڑے تھے تقریباً دس بارہ سال کے ہوں گے میں نے ان سے اس چیز کی قیمت پوچھی‘ ایک بچہ جو مسلمان تھا‘ اس نے کہا: اس سے پوچھیں‘ یہ جھوٹ نہیں بولتا‘‘ اس نے دوسرے بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا وہ بچہ ہندو مذہب کا تھا میں حیران و پریشان دونوں بچوں کی طرف دیکھتی رہی۔ وہ بچہ جس کے مذہب کی بنیاد ہی جھوٹ پر‘ جھوٹے بتوں کو پوجنے والا‘ اس کو اپنے جھوٹے خدائوں پر اتنا پختہ یقین کہ وہ عام زندگی میں جھوٹ نہیں بولتا۔ آخر کیوں؟میں بہت دیر تک سوچتی رہ گئی صرف اس بات پر کہ بچے جھوٹ بولتے کیوں ہیں؟ وہ کون سے عوامل ہیں جو ان کو جھوٹ بولنے پر مجبور کرتے ہیں وہ بچے جن کو دنیا میں آتے ہی اللہ اکبر کی آواز کانوں میں سنائی جاتی ہے‘ جن کو شعور میں آتے ہی کلمہ سکھاکر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیا جاتا ہے۔ سچ اور سچائی کی روشنی میں چلنا سکھایا جاتا ہے آگے چل کر یہی بچے مختلف مسائل کا شکار ہوکر بھٹک جاتے ہیں‘ بکھر بھی جاتے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے؟ بچے کی تربیت اور سیکھنے کا عمل تو اس کے گھر سے ہی شروع ہوتا ہے اور سکول میں داخل ہونے سے پہلے کا عرصہ ہی بچوں کی عمر کا ایسا دور ہے جب ان کے اخلاقی اور جذباتی کردار کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور یہی ان کی عمر کا فیصلہ کن دور ہوتا ہے۔ اچھی تربیت بھی ایمان کا ایک جز ہے کیونکہ صحیح تربیت اور صحیح نگہداشت سے ہی بچوں کی شخصیت کے اوصاف اجاگر ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق:’’بچوں کی پرورش کیلئے صرف یہ دیکھنا ہی کافی نہیں ہوتا کہ ہر ماہ ان کے وزن میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔ یا ان کو بھوک کیوں نہیں لگتی البتہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ان میں کس قسم کے احساس پیدا ہورہے ہیں کیونکہ کئی احساس ہی مل کر ایک بچے کی شخصیت تشکیل کرتے ہیں اور ان کا اپنا ایک کردار بناتے ہیں‘ یہی احساسات بچے کی زندگی میں کمال اور زوال میں ایک اہم رول ادا کرتے ہیں‘‘ یہ بچے جو مستقبل کے معمار ہیں وہ بے راہ روی کا شکار کیوں ہوجاتے ہیں‘ ان میں جو منفی احساسات اور جذبات پرورش پائے ہیں اس میں خارجی ماحول کا اثر ہوتا ہے یا اپنے ہی گھر کے ناسازگار ماحول میں اس کی شخصیت تباہ ہوجاتی ہے۔ وہ اپنے راستے کا انتخاب خود کر تو لیتے ہیں‘ مگر غلط کیا ہے‘ صحیح کیا ہے۔ اس کو پہچان نہیں ہوپاتے‘ وہ کبھی جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں‘ کبھی مجرم بن کر معاشرے کیلئے ناسور بن جاتے ہیں ہم کیوں نہیں سوچتے کہ والدین کا کردار اور ان کی سوچ بچوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ وہ فطری طور پر جھوٹا نہیں ہوتا بلکہ جو احساسات بچے کی شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں اس میں بچے کے ماں باپ کا خاص طور پر اہم کردار ہوتا ہے۔ اس لئے ہمارے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ بچوں کی تربیت کرنے والے ماں باپ کا رویہ ان کے ساتھ کیسا ہے۔ خاص طور پر ماں کا کردار بچوں کی نشوونما میں اہم رول ادا کرتا ہے‘ اکثر مائیں بچوں کو بے تحاشا مارتی پیٹتی ہیں‘ اکثر مائوں کو یہ کہتے بھی سنا ہے’’ میرا بچہ تو بہت بدتمیز ہوگیا ہے‘ سنتا ہی نہیں‘ یا یہ تو میرے لئے عذاب ہے‘ ایسی اولاد نہ ہوتی تو بہتر تھا‘‘ اور نہ جانے کیا کچھ کہہ جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ کہنے سے پہلے یہ سوچنا چاہئے کہ کیا ہمارا بچہ ان الفاظ کا حقدار ہے؟ اگر ہے تو کیوں! اس میں ہمارا اپنا کردار واضح ہوجاتا ہے‘ بچہ تو ماں باپ کا آئینہ ہوتا ہے۔ آج کل کے دور میں والدین اور اساتذہ کا اولین فرض ہے کہ بچوں کے ذہنی‘ جذباتی اور معاشرتی رحجانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی تربیت کریں کیونکہ غیر متوازن رویے ا ور ناسازگار ماحول بچے کی تباہی کا سبب بن جاتے ہیں۔ ایک طرف تو بچوں کو تمام آسائشات میسر ہوتی ہیں اور دوسری طرف صرف ایک تصوراتی زندگی‘ جس میں بچہ جو چاہتا ہے اس کو ملتا نہیں لیکن وہ اپنے ہم عمر بچوں میں اپنے آپ کو برتر ثابت کرنے کیلئے سب کو بتاتا ہے: آج میں نے یہ سب کھایا تھا‘ آج میں اپنے بابا کے ساتھ فلاں جگہ گھومنے گیا تھا‘ یا پھر میں نے خوب شاپنگ کی‘‘ وغیرہ وغیرہ۔اس کا سبب صرف غربت نہیں بلکہ والدین کی عدم توجہی‘ لاپرواہی اور بچوں کو اپنے حال پر چھوڑ دینا سب سے بڑا سبب ہے جس کی وجہ سے وہ محرومیوں کا شکار ہوکر جھوٹی دنیا میں رہنا شروع کردیتا ہے جہاں سے جرائم کی ابتداء ہوتی ہے۔ بچوں کو والدین کے بے جا لاڈ و پیار یا پھر اس سے محرومی‘ دونوں صورتوں میں بچے احساس برتری اور احساسِ کمتری کا شکار ہوکر مختلف جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اگر والدین کے درمیان اختلافات ہوں تو بھی بچوں میں احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے اس صورت میں وہ اپنی اہمیت منوانے کیلئے باہر کی دنیا میں اپنا مقام ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے‘ گلیوں کی خراب سوسائٹی میں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش میں مختلف جھوٹ کا سہارا بھی لیتا ہے جو بچے کی شخصی نشوونما کیلئے زہر ثابت ہوتا ہے۔ پیسے کی فراوانی سے بچے مثبت راستے پر کم نظر آتے ہیں کیونکہ اس صورت میں بچہ ہر جائز ناجائز خواہش کے پیچھے لگ کر کئی کوتاہیاں کر بیٹھتا ہے جن پر پردہ ڈالنے کی خاطر جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔ دوسری طرف غربت کی وجہ سے بھی بچہ احساس محرومی کا شکار ہوکر جھوٹ اور جرم کا ایک بہت بڑا محرک بن جاتا ہے جس سے والدین انجان بنے رہتے ہیں۔ سکول میں اساتذہ کا غیر مساویانہ رویہ اور سخت گوئی بھی بچوں کو جھوٹ بولنے پر مجبور کردیتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو سزا سے بچانے کی کوشش میں جھوٹ ضرور بولتا ہے بعض بچے اپنے ساتھیوں کو سزا سے بچانے کی خاطر بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ بعض والدین بچوں پر بے جا سختی کرتے ہیں محبت سے سمجھانے کی بجائے مار پیٹ اور تشدد سے کام لیتے ہیں‘ دوسروں کے سامنے اپنے بچوں کو نیچا دکھا کربُرا بھلا کہتے ہیں‘ اس سے بچوں کی عزت نفس پر ایک چوٹ سی لگتی ہے اور وہ خود سر اور باغی ہوجاتے ہیں۔ اپنی انا کی خاطر ہر قدم پر جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں‘ اس طرح ان کی مستقبل کی زندگی‘ معاشی‘ معاشرتی اور سیاسی سطح پر اسی جھوٹ کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہے اور یہ معاشرے کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ بچوں کی تربیت کے اس اہم پہلو کو نظر انداز کرنا ایک معاشرتی جرم ہے والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں سے متوازن رویہ رکھیں‘ سازگار ماحول فراہم کریں‘ ان کے جذبات اور احساسات کو پرکھیں اور سمجھیں اور ان کی وہی شہادت کی انگلی پکڑ کر سچ کا سودا کرنا سکھائیں جو اَن دیکھے رب کی توحید کی گواہی دیتی ہے۔ اگر ایسا نہ کیا تو جھوٹ بچے کو ایک مہذب شہری بننے سے روکے گا اور وہ جھوٹ کا سہارا لیتے لیتے مختلف جرائم کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ غلط سوسائٹی ایسے ہی افراد سے جنم لیتی ہے‘ جس کو ہم معاشرہ اور معاشرے کی برائیاں کہہ کر الزام لگادیتے ہیں لیکن اپنا محاسبہ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ڈونلڈ ولسن کے مطابق: بچہ اس بات کا حقدار ہے کہ اسے وہ تمام سہولیات حاصل ہوں جو قوم اور ملک اس کو فراہم کرسکتا ہو اس دنیا کو بہتر بنانے اور امن اور سکون قائم کرنے کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہوسکتا جب تک بچوں کی حالت درست نہ ہو۔ بچے ہی ہمارے عظیم الشان کردار کا معیار ہیں۔

آیت پڑھی اور غصہ ختم



واللہ اشدباسا واشد تنکیلا والی آیت میں نے جہاں بھی پڑھی‘ وہاں امن وامان ہوگیا اور لڑائی نہیں ہوتی۔ جس کالونی میں میں رہتاہوں وہاں جٹ برادری اور بلوچ برادری میں الیکشن کے دوران لڑائی ہوگئی‘ سب عوام پریشان کیونکہ یہاں پہلے بھی دو قتل ہوچکے تھے‘ وہاں میں نے سانس روک کر تین مرتبہ درج بالا آیت پڑھی‘ محترم! ایک سائیڈ پر جٹ برادری اورایک سائیڈ پر بلوچ برادری دونوں کے ہاتھ میں اسلحہ‘ کلہاڑی‘ ڈنڈے‘ سوٹے‘ بس میرا یہ آیت پڑھ کر پھونکنا تھا کہ اچانک لڑائی ہوتے ہوتے نامعلوم کیا ہوا ان کے بڑے اکٹھے ہوئے اور دونوں پارٹیاں آرام سےواپس چلی گئیں اور لڑائی ہوتے ہوتے رہ گئی‘ اگراس وقت وہاں لڑائی ہوجاتی تو بہت خون خرابہ ہونا تھا۔ اس آیت نے تمام لوگوں کے غصہ پر ٹھنڈ ڈال دی۔

اسم اعظم کا روحانی دم


مجھے کسی نے ہرماہ تسبیح خانہ میں ہونے والے اسم اعظم کے روحانی دم کے بارے میں بتایا تو میں بھی ان کے ساتھ مقررہ دن چل پڑا۔ میرا مسئلہ یہ تھا کہ میرے بازو میں ہروقت درد رہتا تھا‘ ہر قسم کا علاج کروایا مگر آرام نہ آتا تھا۔ میں پہلی مرتبہ ہی دم میں شریک ہوا‘ آپ نے مجھے دم کیا بہت سکون ملا۔ میرے بازو میں شدید درد تھا وہ صرف چار دم میں شرکت کرنے سے بالکل ختم ہوگیا۔ میں تسبیح خانہ میں دم کے علاوہ آپ کے درس میں بھی شرکت کی۔ اسم اعظم کے روحانی دم کے علاوہ مجھے آپ کے درس سے بھی بہت زیادہ فائدہ ہورہا ہے۔ میرے پاس بھینسیں ہیں اور میں انہیں چرانے کیلئے شہر سے دور ویران جگہ لے جاتا ہوں‘ ایک مرتبہ بھینسیں چراتے ہوئے ظہر کا وقت ہوا تو میں نے اپنے ساتھی سے اجازت لی اور نماز پڑھنے گیا‘ میں نے وضو کیا اور مسجد میں چلا گیا تو اکثر وہ مسجد ویران ہی رہتی ہے۔ میں نے آپ کے درس میں سنا تھا کہ اللہ نے نیک صالح جنات کی ڈیوٹیاں لگائی ہوتی ہیں جو ان مساجد کو آباد کرتے ہیں تو میں نے جاکر السلام علیکم جنات المسلمین کہا مجھے نظر تو کچھ نہیں آیا لیکن ایک خوشبو ایسی آئی جو زندگی نے آج تک نہیں سونگھی تھی اور حسب معمول جھاڑو دیا کیونکہ آپ کے درس میں سنا تھا کہ ویران مسجد میں جھاڑو دینے کے بہت فائدے ہیں پھرمیں نے مسجد میں جھاڑو دیا اور جب سنتوں کے بعد فرض پڑھنے لگا تو پھر وہ ہی خوشبو آنے لگی۔ اسم اعظم کے روحانی دم میں ہر ماہ باقاعدگی سے شرکت کرتا ہوں‘ الحمدللہ! میری جسمانی مسائل کے ساتھ ساتھ میرے روحانی مسائل بھی حل ہورہے ہیں‘ اللہ نے حرام سے بچایا ہوا ہے‘ ایک مرتبہ میرے دوست میرے لیے مالٹے لائے میں نے پوچھا کہاں سے لائے تو انہوں نے کہا کہ چوری کے ہیں‘ تو میں نے ہاتھ کھینچ لیے‘ انہوں نے میرا مذاق بھی اڑایا اور کھانے شروع کردئیے‘ مالٹے کھا کر سوئے تو جو ساتھی مالٹے چوری کرکے لایا تھا اسے اسی رات کسی نے غلطی سے گولی ماردی‘ انہوں نے مارنا کسی اور کو تھا اور گولی اس کو لگ گئی۔ گولی لگنے کی وجہ سے اس کا بازو کٹ گیا۔ تو میں نے دل میں کہا کہ یااللہ یہ انجام ہے اس کا جو ناحق کسی کا حق کھائے۔ میرے مزاج میں یہ تبدیلی صرف ہرماہ اسم اعظم کے روحانی دم میں شرکت کی وجہ سے آرہی ہے۔

اڑتی ہوئی ہانڈی کے وار سے کیسے بچا


مجھ پر کسی نےانتہائی سخت کالاجادو کیا تھا‘ جسے عرف عام میں ہانڈی بھیجنا بھی کہتے ہیں‘ مگر مجھے اس وقت ان چیزوں کا علم نہیں تھا کہ یہ ہانڈی کیا ہوتی ہے؟ اور میرے اوپر کیوں آئی مگر الحمدللہ مجھے اللہ نے اپنے کلام پاک کی برکت سے اس جادوئی ہانڈی سے محفوظ رکھا۔ قارئین! کلمہ طیبہ اللہ عزوجل کی وحدانیت‘ عظمت کا اقرار اور ہمارے پیارے نبی حبیب خدا رحمۃ اللعالمین ﷺ کا آخری نبی یعنی خاتم النبین پر ایمان آسان الفاظ میں یہ بات یوں کہی جاسکتی ہے کہ اللہ پاک کے احکامات کو اُس کے نبی محترم ﷺ کے طریقوں کے مطابق پورا کرنے کا نام دین ہے‘ یہی اصل کامیابی ہے‘ آخرت و دنیا کی جو کام اللہ پاک کے بابرکت نام اور آپ ﷺ پر درود پاک پڑھ کر شروع کیا جائے وہ نہ صرف بابرکت ہوتا ہے بلکہ پایہ تکمیل تک بخیروعافیت انجام پاتا ہے۔ محترم قارئین! یہ واقعہ کئی سال پہلے کا ہے ایک مرتبہ رات کو میں اکیلا سورہا تھا کہ اچانک تیز گرمی اور تپش سے میری آنکھ کھل گئی‘ میری عادت ہے کہ رات کو کلمہ طیبہ‘ دوسرا‘ تیسرا‘ چوتھا کلمہ درود شریف‘ مسنون دعائیں پڑھ کرسوتا ہوں‘ ایک رات میں نے کُھلی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک ہانڈی ہے

 جس سے اُبلنے کی آواز آرہی ہیں اور ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے اس کے اندر کوئی چیزیں کھول رہی ہوں‘ جیسے بہت تیز گرم پانی کھولتا ہے‘ کھولتے پانی کی آواز سن کر میری آنکھ کھل گئی‘ یقیناً اللہ پاک کو میری حفاظت منظور تھی میں نے کلمہ طیبہ‘ آیۃ الکرسی پڑھی تو وہ اوپر اٹھ کر اونچی ہوگئی اورنظروں سے غائب ہوگئی دوبارہ میری آنکھ لگ گئی‘ پھر تپش اور گرمی سے آنکھ کھلی تو دیکھا کہ وہ ہانڈی مجھ سے تقریباً ڈیڑھ میٹر بلند ہے میں نے پھر کلمہ طیبہ اور آیۃ الکرسی‘ درود پاک کا مسلسل ورد کیا تو وہ دوبارہ اوپر جاکر نظروں سےاوجھل ہوگئی‘ میں دوبارہ نیند کی وادی میں چلا گیا‘ ایک مرتبہ پھر تیسری بار میری آنکھیں کھلی تو کھلی کی کھلی رہ گئیں وہی ہانڈی میرے لیٹے ہوئے جسم سے تقریباً دو فٹ اوپر تھی کہ میں اس کے نیچے جلنے والی موٹی لکڑیوں کی سفید راکھ دیکھ رہا تھا میں نے لیٹے لیٹے لرزتے ہونٹوں کے ساتھ کلمہ طیبہ، آیۃ الکرسی اور مسنون دعائیں کے علاوہ تلاوت قرآن پاک بھی شروع کردی جونہی وہ ہانڈی اوپر جاکر غائب ہوئی تو میں چارپائی سے اٹھ چکا تھا‘رات ڈیڑھ دو بجے کا وقت تھا‘ وضو کیا رب کے حضور سر جھکا دیا اور شکر ادا کیا کہ نہ جانے یہ کیسی مصیبت تھی جو مجھ پرآرہی تھی اللہ پاک نے نجات عطا فرمائی۔ صبح اٹھ کر مختلف علماء کرام‘ عاملین کے پاس گیا‘ سب نے یہی بتایا کہ کسی نے انتہائی سخت کالے جادو والے عامل سے آپ پر قاتلانہ حملہ کروایا اور اس حملہ سے 97 فیصد افراد زندہ نہیں رہتے‘ اللہ پاک کی مہربانی کلام پاک‘ کلمہ طیبہ کی برکت تھی کہ آپ محفوظ‘ صحیح سلامت رہے۔ سچ ہےجو اللہ پاک کی پناہ میں آجاتا ہے اس کا مخلوق کچھ نہیں بگاڑ سکتی کہ بچانے والا خود اللہ پاک طاقتور زبردست ہے۔

خوشبو لگائی اور آمدن ڈبل


میرےایک بزرگ ہیں جن کو ہم چچا اقبال کہتے ہیں‘ چچا کپڑے کے تاجر ہیں اورانہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ کراچی کی بولڈن مارکیٹ سے دکان کیلئے کپڑا لیا اور ایک رکشہ والے سے بات کی‘ کرایہ طے کرنے کے بعد سامان رکھا‘ میں موٹرسائیکل پر رکشے کےپیچھے پیچھے چلا آرہا تھا‘ ایک چورنگی پر سگنل بند ہونے اور پھر کھل جانے پر گاڑیوں کے ہجوم میں رکشہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا‘ میں نے اپنے طور پر ادھر ادھر کافی تلاش کیا مگرکامیابی نہ ملی‘ بڑی پریشانی ہوئی‘ عید کاسیزن‘ پورے سال کی کمائی ڈوبتے ہوئے نظر آئی توآنکھوں کے آگے اندھیرا چھاگیا‘ چکر آنا شروع ہوگئے۔ بہرحال میری عادت ہےکہ میں رکشہ کا نمبر نوٹ کرلیتا ہوں‘ میں نے تھانہ میں رپورٹ درج کروائی مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی‘ ایک صاحب نے پیسے لے کر کہا میں کام کردوں گا لیکن اس سے بھی کام نہ ہوا اور مجھے ہرطرف سےناکامی ہی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا‘ پورے رمضان میں اسی جستجو میں رہا‘ اسی دوران ایک صاحب نے مجھے اِنَّا لِلہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے کیلئے کہا میں نے ان کی بات پر عمل کرتے ہوئے اسے پڑھنا شروع کردیا اور روزانہ چلتے پھرتے اسے ورد بنالیا اور سینکڑوں ‘ہزاروں کی تعداد میں پڑھتا رہا۔ پورے ایک ماہ بعد کسی دوسرے علاقے میں کسی کام سے گیا اور وہاں کی مقامی مسجد میں نماز جمعہ پڑھ کر جیسے ہی میں مسجد سے نکل کر سڑک پر آیا اور میری نظر ایک رکشے پر پڑی‘ دیکھا تو اسی نمبر کا رکشہ تھا جس پر میں نے سامان رکھا تھا‘ میں بھاگ کر اس تک پہنچا تو بندہ بھی وہی تھا‘ اس نے بھی مجھے پہچان لیا اور بولا بابا آپ کدھر چلا گیا ہم تو آپ کو تلاش کرکے پاگل ہوگیا ہے‘ آپ کا سامان ہمارے پاس آپ کی امانت ہے‘ آپ ابھی میرے ساتھ چلیں اور براہ مہربانی مجھےامانت کے بار سے نجات دلائیں‘ اس نے جو علاقہ بتایا وہ کراچی کا بدامنی کے لحاظ سے مشہور و معروف ہے‘ مجھے ڈر بھی لگ رہا تھا‘ بہرحال دعائیں کرتا اس کے ساتھ آیا اور اس نے مجھے وہ سامان دےدیا‘ کوئی ایک چیز بھی اس میں سے کم نہ تھی‘ اللہ اسے جزائے خیر عطا فرمائے‘ اللہ کی رحمت اور اس کی برکت سے ان کا سامان انہیں واپس مل گیا۔ دوسرا واقعہ چچا اقبال نے یہ سنایا کہ محترم حضرت حکیم صاحب گزشتہ سال جب کراچی میں درس کیلئے تشریف لائے تھے اور انہوں نے اپنے بیان میں ایک بات یہ فرمائی تھی کہ سفید لباس اور خوشبو لگایا کریں اور ہمیشہ باوضو رہا کریں اس کے حضرت حکیم صاحب نے بےشمار فائدے بتائے‘ اس کا جو فائدہ ہوا وہ بتارہا ہوں‘ فرمانے لگے: میں نے جب سے باوضورہنااور خوشبو لگانا شروع کی ہے اور خاص طور پر جب خوشبولگا کر اپنی کپڑے کی دکان پر بیٹھتا ہوں میں نے واضح طور پر اس کامشاہدہ کیا کہ میری آمدنی بڑھ جاتی ہے گاہک زیادہ آتے ہیں میرے اس تجربے کی تصدیق میرے بیٹے نے بھی کی کہ واقعی اباجان! جب آپ خوشبو لگا کر آتے ہیں تو گاہک زیادہ آتے ہیں۔