Tuesday, July 21, 2015

گمشدہ چیز کے لیے،,

گمشدہ چیز اور سرمایا پانے کا وظیفہ 
قسط نمب

ڈائمنڈ کے گمشدہ ٹاپس مل گئے۔

میری بیٹی ایک کنسڑیکشن کمپنی میں بطور انٹریئر ڈیزائنر کام کرتی ہے اس کی شادی کو کچھ ماہ ہوئے تھے کہ وہ ٹاپس پہن کر آفس گئی ڈیوٹی کہ دوران وہ اپنے کچھ افسروں کے ساتھ ایک زیر تعمیر گھر میں گئی جہاں اس کے ٹاپس گر گئے جس کا اسے پتہ نہ چلا جب اس نے گھر جا کر دیکھا تو اس کے کان میں ایک ٹاپس نہیں تھا اس نے اپنے شوہر کو بتایا کہ میرا ٹاپس کہیں گر گیا ہے جس پر وہ کہنے لگا کہ میں نے یہ ڈائمنڈ کہ ٹاپس تمہارے لئے بیرون ملک سے منگوائے تھے جو اب یہاں سے دوسرے نہیں ملیں گئے اس پر میری بیٹی رونے لگی ۔ اور مجھے فون کر کہ سارا واقعہ سنایا تو میرا دل بھر آیا یا اللہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے اس کا شوہر کچھ بھی سوچ سکتا ہے اسی دوران میرے ذہن میں فوراً حکیم صاحب کا بتایا ہوا یاَرَبِّ مُوْسَی یَا رَبِّ کَلِیْم بِسْمِ اللہِ الَّرحْمَنِ الَّرحَیْم کا وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا ۔ اور بیٹی کو بھی کہا کہ جتنا بھی ہو سکے سارا دن وضو باوضو کھلا پڑھو انشاءاللہ ٹاپس ضرور مل جائیں گئے ۔ پڑھتے پڑھتے میری بیٹی نے اپنے باس سے کہا کہ آپ اس گھر میں جا کر دیکھیں جہاں ہم گئے تھے کہیں وہاں نہ گر گیا ہو؟ اس نے کہا وہاں تو کنسڑکشن کا سامان بجری، ریت، سیمنٹ اور بہت سی چیزیں پڑی ہوئی ہیں وہاں سے نہیں ملے گا لیکن اس نے اپنا وظیفہ جاری رکھا اور یقین سے کہا کہ نہیں ادھر سے ہی ملے گا ۔ ابھی اس وظیفے کو پڑھتے ہوئے 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ رات کو اس کہ باس کا فون آیا کہ تمہارا ٹاپس اسی گھر سے گرا ہوا مل گیا ہے وہ یہ سن کا بہت خوش ہوئی اور اسی دن سے اس کواس وظیفے پر اور بھی پختہ یقین ہو گیا ہے اب جب بھی کسی کی کوئی چیز گم ہوتی ہے تو وہ یہ وظیفہ پڑھنے کا بتاتی ہے جس سے الحمداللہ ! انہیں وہ چیز مل جاتی ہے ۔

بیروزگار کا بہترین کام بن گیا ۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! میں کچھ عرصے سے بیروزگار تھا کہیں بھی روزی روٹی کا کوئی بھی بندوبست نہیں ہو رہا تھا میں نے عبقری رسالے میں جب آپ کے روحانی کالم سے لوگوں کے مشائدات پڑھے تو بیروزگاری سے نجات کے لئے میں نے یاَرَبِّ مُوْسَی یَا رَبِّ کَلِیْم بِسْمِ اللہِ الَّرحْمَنِ الَّرحَیْم سارا دن اٹھتے بیٹھتے چلتےپھرتے پڑھنا شروع کر دیا چند ہی دنوں کے بعد اللہ نے مجھے بہترین روزگار عطا فرما دیا الحمد اللہ ! اب میں بہت خوش ہوں۔

قیمتی گمشدہ کاغزات دو گھنٹے میں مل گئے۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا کرے ۔ تقریباً دو سال میں تسبیح خانے میں درس میں شرکت کے لئے آ رہا ہوں ۔ جس سے مجھے بہت زیادہ فوائد مل رہے ہیں ایک درس میں حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم نے گمشدہ چیز کے ملنے اور لاپتہ شخص کو گھر واپس لانے کے لئے  یاَرَبِّ مُوْسَی یَا رَبِّ کَلِیْم بِسْمِ اللہِ الَّرحْمَنِ الَّرحَیْم کا وظیفہ پڑھنے کے لئے ارشاد فرمایا تھا ایک بار میں کسی کام کےلئے کہیں جارہا تھا کہ راستے میں میرے بہت  ہی ضروری کاغذات کہیں گر گئے جن کا مجھے اس وقت پتہ نہیں چلا ۔ جب میں واپس گھر آیا تو کاغذات دیکھے تو وہ نہیں تھے جس پر میں بہت پریشان ہوا اسی وقت میرے ذہن میں یاَرَبِّ مُوْسَی یَا رَبِّ کَلِیْم بِسْمِ اللہِ الَّرحْمَنِ الَّرحَیْم  کا وظیفہ آیا تو میں نے پڑھنا شروع کر دیا ۔ جس کے پڑھنے کے تین3 گھنٹے بعد ہی ایک اجنبی شخص نے آ کر میرے گھر کی گھنٹی دی اور کہا کے یہ آپ کے کاغذات راستے میں گر گئے تھے جن پر آپ کا ایڈریس لکھا ہوا تھا اسں لئے آپ تک پہنچانے کے لئے آیا ہوں میں یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا اور اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اس نے صرف 3 گھنٹے میں ہی میرے کاغذات مجھے واپس لٹا دیئے یہ وظیفہ واقعی بہت لاجواب ہے جسے میں بہت سے لوگوں میں تقسیم کر ریا ہوں ۔

چوری ہوئی موٹر ساہیکل تین دن میں مل گئی۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا کرے ۔ میں عبقری رسالہ بہت شوق سے پڑھتا ہوں اس کہ ہر ہر لفظ میں مخلوق خدا کے لئے فیض ہی فیض ہے ۔ آج میں قلم صرف آپ کے روحانی کالم ، گمشدہ چیز فرد اور سرمایا پانے کا وظیفہ کیلئے اٹھایا ہے آپ کے اس کالم نے میرے شاگرد کو بہت بڑے نقصان سے بچالیا ہے عرض یہ ہے کہ میرا ایک شاگرد ایک دن مغرب کی نماز ادا کرنے کیلئے مسجد میں گیا اس نے موٹر ساہیکل مسجد کے باہر کھڑی کی جب نماز پڑھنے کے بعد واپس آیا تو وہاں پر موٹر ساہیکل نہ تھی ادھر ادھر سے پوچھا خوب بھاگ دوڑ کی مگر موٹر ساہیکل نہ ملی پولیس کو اطلاع کی پولیس نے معمول کی کاروائی کی اور واپس چلی گئی اس کے اگلے دن مجھے میرے شاگرد کا والد ملا تو نہایت مایوسی کے عالم میں کہنے لگا کہ میرے پاس ایک ہی سواری تھی دکان وغیرہ کا سامان اسی پر لاتا تھا وہ بھی چوری ہو گئی میں نے انہیں حوصلہ دیا اور کہا کہ میں نے عبقری رسالے میں حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کا ایک وظیفہ پڑھا ہے ہر ماہ لوگوں کے اس وظیفے کے حوالے سے مشائدات پڑھتا ہوں آپ بھی یہی وظیفہ پڑھیں انشاء اللہ اللہ تعالی کرم کرے گا انہوں نے اور ان کے تمام گھر والوں نے لگا تار سارا دن یاَرَبِّ مُوْسَی یَا رَبِّ کَلِیْم بِسْمِ اللہِ الَّرحْمَنِ الَّرحَیْم پڑھنا شروع کر دیا صرف تین دن کے بعد میرے شاگرد نے مجھے فون کر کے کہا استاد جی ایک خوشخبری ہے وہ یہ کے جس طرح مسجد کے باہر سے موٹر ساہیکل چوری ہوا تھا اسی طرح ایک دوسری مسجد کے باہر کوئی آدمی ہمارا موٹر ساہیکل کھڑا کر کہ چلا گیا اور ایک دن سے موٹر ساہیکل اسی مسجد کے باہر کھڑا ہے میرا ایک جاننے والا وہاں سے گزرا تو اس نے جب اس موٹر ساہیکل کی نمبر پلیٹ دیکھی تو اس نے کہا یہ موٹر ساہیکل تو ع کی ہے اس نے فوری مجھے اطلاع دی ہم جب وہاں گئے تو ہماری موٹر ساہیکل وہاں بلکل صیح سلامت کھڑی تھی حتی کہ پیڑول بھی کم نہیں تھا ہمارے علاقے میں کسی کو بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ گمشدہ موٹرساہیکل 3 دن بعد بلکل صیح حالت میں مل ۔۔۔۔گئی بے شک یہ اس وظیفے کی برکت سے ہوا  الحمد اللہ




















وظائف اعتکاف

  • وظائف اعتکاف
جو شخص فجر کی نماز کے بعد روزانہ 786 مرتبہ پوری بسم اللہ الرحمن الرخیم 
پڑھنے کا معمول بنا لے اللہ تعالی اس کے رزق میں برکت دیتے ہیں ۔
اعتکاف میں کثرت سے استغفار پڑھیں کہ اللہ کی رحمت جوش میں آ جائے۔
جب بھی وضو کریں تو دو رکعت نفل تحیتہ الوضو ادا کریں 
نماز مغرب کہ بعد چھ رکعت نفل نماز اوابین کے ادا کریں ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہے۔
نماز تراویح کے بعد صلوۃ التسبیح روزانہ ادا کریں ۔
تہجد کے وقت کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ بارہ نفل ادا کریں اس کے بعد سورہ یسین  سورہ مزمل اور کثرت سے درود شریف پڑھیں ۔


پانچ خصوصی چیزیں

پانچ خصوصی چیزیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ میری امت کو رمضان المبارک کے بارے میں پانچ خصوصی چیزیں دی گئی ہیں ۔ جو پہلی امتوں کو نہیں ملی ہیں۔
ان کے منہ کی بدبو اللہ عزوجل کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
ان کے لئے دریاؤں کی مچھلیاں تک دعا کرتی ہیں اور افطار کہ وقت تک کرتی رہتی ہیں ۔
جنت ہر روز ان کہ لئے آراستہ کی جاتی ہے پھر اللہ تعالی فرماتا ہے قریب ہے کہ میرے نیک بندے دنیا کی مشقتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آئیں گئے۔
اس میں سرکش شیاطین قید کر دئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں ان برائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف غیر رمضان میں پہنچ سکتے ہیں ۔
رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کے لئے مغفرت کی جاتی ہے صحابہ اکرام رضوان علیہم اجمعین نے عرض کی کے یہ شب مغفرت شب قدر ہے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کہ وقت مزدوری دی جاتی ہے۔


Saturday, July 18, 2015

کیا رمضان 2014ء نے ہمیں بہتر بنایا

کیا رمضان 2014ء نے ہمیں بہتر بنایا

الحمداللہ ! اللہ تعالی نے زندگی دی اور آپ لوگوں کہ ساتھ ہم نے بھی سال 2014ء کا رمضان گزارا۔ مسجدوں میں وہی منظر اور ترتیب رہی جو کہ ہمیشہ سے ہے کہ پہلے پانچ یا چھ روزے فل رش رہا اس کہ بعد نمازی تیزی سے کم ہونے لگےاور آخری دس دنوں میں ایک بار میں نے دیکھا کہ نو عدد نوجوان لڑکے اپنے ایک دوست کی گاڑی کو جو سٹارٹ نہیں ہو رہی تھی اسے سٹارٹ کرنے کے لئے جتے ہوئے تھے۔ کوئی ساڑھے تین بجے سے وہ اسی کام پر لگ گئے تھے ہر کوئی مکینک بن رہا تھا ہر کوئی مشورہ دے رہا تھا ہر کوئی حصہ ڈال رہا تھا حتی کہ میں عصر کی نماز پڑھ کر واپس آیا تو واپسی پر انہیں وہیں کھڑے ہنسی مذاق کرتے اور گاڑی پر جھکے دیکھا کسی کے دل میں ذرا خیال نہیں آیا۔ کہ میں رمضان کے مہینے میں یہاں وقت ضائع کر رہا ہوں اور عصر کی جماعت فوت ہو رہی ہے تب اللہ تعالی کا وہ فرمان بڑا یاد آیا بسم اللہ الرحمان الرحیم والعصر ان الانسان لفی خسر عصر کہ وقت کی قسم انسان خسارے میں ہے۔
ایک صاحب کو میں نے بار بار دیکھا کہ ہم مغرب کی نماز پڑھ کر واپس جارہے ہوتے تو وہ ہمیں ایک کونے میں چھپ کر سگریٹ پیتے نظر آتے شائد گھر والوں سے چھپ کر افطاری کہ بعد نشہ پورا کر رہے ہوتے تھے ایک بار میں تراویح پڑھ کر واپس جارہا تھا کہ ایک گھر کہ باہر بہن بھائی کھیل رہے تھے چھوٹے بچے نے اچانک معصومیت سے پوچھا انکل آپ کہاں سے آ رہے ہیں ؟ میں نے جواب دیا میں تراویح پڑھ کر آ رہا ہوں بچہ اپنی بہن سے کہنے لگا تو ہمارے ابو کیوں تراویح پڑھنے نہیں جاتے بہن بولی وہ ٹی وی جو دیکھتے رہتے ہیں ایک صاحب نے پورا رمضان کبھی تراویح نہیں پڑھی ایک روز میں پوچھ بیٹھا کہ آپ تراویح کے لئے کیوں نہیں آتے ان کا جواب سنیں بولے میرے مسلک کی مسجد بہت دور ہے میں وہاں جا نہیں سکتا اس لئے اس مسجد میں نہیں آتا واہ مزا آ گیا جواب سن کرآپ کو مزا آیا؟ رمضان کے مہینے میں ہر شام عصر کی نماز پڑھ کر پھل وغیرہ لینے بازار جاتا خصوصاً میں نےآم خریدنے ہوتے تھے ہر روز میری دکانداروں سے بحث اور تلخ کلامی ہوتی تھی وجہ سنیں ہر دکاندار کا حال یہ تھا کہ ان کے دو مطالبے ہوتے تھے جو میں کبھی نہیں مانتا تھا اور نتیجتاً بعث مباحثہ ہوتا تھا ان کا مطالبہ نمبر ایک یہ ہوتا قیمت ہم اپنی مرضی کی لیں گئے مطالبہ نمبر دو آپ پھل کو ہاتھ بھی نہ لگائیں جو ہمارا دل کرے گا ہم دیں گئے بڑے اور اچھے آم کو وہ ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتے اور خود سوراخ والا یا چھوٹے اور نرم آم اٹھا اٹھا کر ڈالتے اتنے ایماندار لوگ تھے کہ جس آم میں سوراخ ہوتا اسے خوبصورت چھوٹا سٹکر لگا کر چھپایا ہوتا تھا کیا ہم انہی بزرگوں کے پیروکار ہیں جن میں امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ بھی گزرے ہیں۔  جو اپنے شاگرد کو منع کر کہ گئے تھے کہ اس کپڑے کے تھان میں ایک معمولی سوراخ ہے اس لئے اسے بیچنا نہیں اور خود کسی کام سے چلے گئے واپس آئے تو شاگرد بھول کر وہ تھان بیچ چکا تھا آپ رحمتہ اللہ علیہ کو بہت افسوس ہوا گھوڑے پر گئے اور کئی گھنٹے ڈھونڈ کر اس آدمی کو تلاش کیا اور اس سے معافی مانگی اور فرمایا کہ لائیں وہ کپڑا واپس کر کہ اپنے پیسے واپس لے لیں وہ آدمی سخت متاثر ہوا اور کہنے لگا حضور میں راضی میرا رب راضی مجھے کوئی اعتراض نہیں آپ جائیں مگر حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ نہیں میں نے عیب والی چیز بیچی ہے بہت اصرار کہ بعد کپڑا واپس لے گئے اور ہم سٹیکر سے آم کاعیب چھپا کر بیچتے ہیں کیا بنے گا ہمارا عبقری کہ ہی ایک شمارے میں پڑھا تھا کہ ایک صاحب جو کپڑا بیچتے تھے وہ بادل اور اندھیرے میں جب روشنی کم ہوتی ہے اس روز کپڑا بیچنے نہیں نکلتے تھے کہ لوگ اس مال کو ٹھیک سے دیکھ نہیں سکیں گئے۔

Tuesday, July 14, 2015

کملی والے محمدﷺ کا غلام بن کر تو دیکھ

کملی والے محمد ﷺ کا غلام بن کر تو دیکھ۔

حکیم محمد طارق محمود چغتائی 
کملی والے محمدﷺ اپنی نہیں کسی اور کی بکریاں چرا رہے تھے جبل ثور کا وہ نقشہ آج بھی ان پہاڑوں کو یاد ہو گا!آج بھی آسمان کو وہ حیرت انگیز منظر یاد ہو گا۔ صدیاں گزرنے کہ باوجود جبل ثور کا پہاڑ آج بھی ویسے ہی کھڑا ہوا ہے جہاں پر سرور کونین ﷺ اس امت کو یہ پیغام دے کر گئے ہیں کہ پاؤں میں جوتا نہیں لیکن شان یہ ہے کہ آپ ﷺ کے اشارے سے احد پہاڑ سونے کا بن جائے مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے بہہ نکلیں ! جن کہ اشارے پر اللہ پاک بارہ ہزار کہ لشکر کی خوراک زخیرہ کر دیں ! غم گسار نبی ﷺ نے اپنی امت کہ غریب کو یہ پیغام دیاہے کہ اگر تیرے پاس غربت تنگدستی ہے تیرے بچے زیادہ ہیں تیرا گھر چھوٹا ہے تیری نوکری چھوٹی ہے اور تیرا ذریعہ آمدنی کم ہے تو تم نے پریشان نہیں ہونا کوئی حرج نہیں تیرے حبیب ﷺ کہ پاؤں میں بھی جوتا نہیں تھا ان کہ سر پر بھی کپڑا نہیں تھا لیکن کملی والے ﷺ نے اپنے رب کو نہیں چھوڑا تھا۔آج تو کملی والے ﷺ کا وہ غلام بن جا کہ اگر تیرے ہاں تنگدستی ہے فقرو فاقہ ہے تیری ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں کوئی حرج کی بات نہیں! بس تو محمد ﷺ کی غلامی کو نہ چھوڑ ایک وقت آئے گا جب تیرا رب تیری نسلوں کو بھی پالے گا ۔ تیرا رب تجھے بہت عطا کرے گا! یہی پیغام ہمارے لئے بھی ہے کہ ہر حال میں آقا ﷺ کی غلامی ہی سرخروئی کا باعث ہےشادی ہے تو اس میں یہ پیغام ہے کے جو خوشیاں تجھے تیرے رب نے دیں ہیں تو ان خوشیوں میں آقا کملی والے ﷺ کو بھی یاد رکھ ان کے احسانات کو بھی یاد رکھ اور تجھے جو غم دیا ہے تو دیکھ کے ہمارے آقاﷺ نے بھی غم سہا ہے۔ آقا ﷺ کو بہت سارے غم ملے ہیں۔ ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ بیٹے ہیں ان کی رحلت پر آنکھوں سے زاروقطار آنسو رواں ہیں ان کو ہاتھوں میں لیا ہوا تھا دل میں غم و اندوہ کی کیفیت طاری تھی سرور کونین ﷺ کی بیٹیاں سرورکونین ﷺ کے بیٹے ان کی زندگی میں فوت ہوئے ہیں آپ ﷺ کو ام المومنین  حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کا غم زندگی میں ہی ملا۔ آخر وہ سارے غم جو سرور کونینﷺ کو ملےان غموں میں آپ ﷺ کی کیفیت کیسی تھی؟ اللہ جل شانہ کے ساتھ تعلق کیسا تھا؟ بازار میں کیسے تھے؟ زندگی میں کیسے تھے؟ ہمہ وقت کیفیت کیسی تھی؟ ان ساری کیفیات کو مد نظر رکھ کر چلنا ہی غلامی ہے اور اس لئےغلام مصطفیﷺبنیں ۔
میرے محترم دوستو! کچھ چیزیں ضرورت کے ساتھ لگا کر دی گئی ہیں۔ کھانا ہماری ضرورت ہے، پینا ہماری ضرورت ہے، لباس ہماری ضرورت ہے، پینا ہماری ضرورت ہے، شادی ہماری ضرورت ہے، سردی سے بچنا ہماری ضرورت ہے، گرمی سے بچنا ہماری ضرورت ہے۔ یہ ساری ہماری ضرورتیں ہیں ہمارے ساتھ لگا دی گئی ہیں۔ پھر ضرورت لگا کر اللہ  نے ہمیں ان ضرورتوں کا محتاج اور غلام بھی بنا دیا کہ کھانا نہیں کھائیں تو پیٹ کیسے بھرے گا پانی نہیں پئیں تو پیاس کیسے بجھے گی اب رب اور ضرورت آمنے  سامنے ہے۔ انسان کا اپنا ایک مزاج ہے جہاں سے اس کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں وہ کہتا ہے میں یہاں سے پل رہا ہوں۔ بیوی کہتی ہے میاں اگر دکان پر نہیں جائیں گئے تو بچے کیسے پلیں گئے۔ میاں دفتر میں نہیں جائیں گئے، صنعت اور تجارت میں نہیں جائیں گئےتو بچے کیسی پلیں گئے۔  اور پھر میاں کا خیال بھی یہی ہوتا ہے۔ کہ مجھے اور میرے بچوں کو، میری دکان، دفتر، تجارت،اور صنعت کی تنخواہ پال رہی ہے۔حدیث کہ الفاظ ہیں سرور کونین ﷺ نے فرمایا، مفہوم ہے ! اگر انسان کا یقین ان پرندوں کی طرح ہو جائے کہ پرندے صبح تو خالی ہاتھ جاتے ہیں پھر شام کو ہرے بھرے آتے ہیں اللہ غیب سے ان کو پالتے ہیں اسی طرح اللہ پاک اپنے بندوں کو بھی دست غیب سے عطا فرماتے ہیں۔ اللہ ضرورتیں پیدا ہونے ہی نہیں دیتا۔
ضرورتیں پیدا ہوں گی تو انسان محتاج بنے گا کھانے کا ، پینے کا، اٹھنے کا، بیٹھنےکا، گرمی کا، سردی کا، پیاس کا، ایک دست غیب یہ بھی ہے کہ اللہ بغیر طلب عطا کر دیتا ہے اللہ بغیر خواہش کہ پورا کر دیتا ہے اللہ پاک پھر خواہش کو بھی پیدا نہیں ہونے دیتا اللہ اس کے بغیر ہی زندگی کا نظام چلا دیتا ہے اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب بندا اللہ کا بن جاتا ہے۔ ہر پل، ہر لمحہ،ہر لحظہ اس کی نظر اللہ پر رہتی ہے۔ ایک اللہ والے کے پاس ایک مائی آئی کہنے لگی! حضرت مجھے اللہ اللہ سکھا دیں اللہ والے نے فرمایا تجھے سکھانا آسان ہے انہوں نے مزید فرمایا بچے کو مکتب سکول یا کالج میں پڑھنے کے لئے بھیجتے ہیں خاتون نے عرض کی جی حضرت بھیجتے ہیں تو اللہ والے نے فرمایا بھیجنے کہ بعد کیا تو اس سے غافل ہو جاتی ہے خاتون نے عرض کی نہیں تو اللہ والے نے فرمایا کیا کیفیت ہوتی ہے؟ خاتون نے عرض کیا! حضرت ہر پل میرا دل اس کی کیفیتوں میں اٹکا رہتا ہے کہ اب سو رہا ہو گا یا جاگ رہا ہو گا کہیں چوٹ تو نہیں لگی، کہیں گر تو نہیں پڑا،کہیں کھانا، پیاس، پیشاب کی کیفیت ہو گی تو چھوٹا بچہ ہے اگر پیشاب آیا تو کون استنجاء کرائے گا۔  اگر بھوک لگی تو کون کھانا کھلائے گا اگر پیاس لگی تو کون پیاس بجھائے گا کون کیا کرے گا ہر وقت اس میں ہی دل اٹکا رہتا ہے ۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Monday, July 13, 2015

اولاد، بیٹے اور ہر مقصد کے حصول کے لیے

اولاد، بیٹے اور ہر مقصد کے حصول کے لیے

سورہ والشمس کا ورد
۔۔۔۔۔
میں نے دیکھا کہ ایک گلی ہے نامعلوم میں کیوں بغیر سوچے سمجھے اس گلی کہ اندر چل نکلا۔ اور اس گلی سے چلتے چلتے میں ایک اور دنیا میں پہنچا اور مجھے محسوس ہوا کہ زمین کے نیچے بھی کوئی زمین ہے تو وہاں عجیب والخلقت جنات تھے جو میں نے آج تک پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ ان کا کھانا پینا ہم سے جدا تھا ان کی زندگی ان کا اٹھنا بیٹھنا ۔ میں حیرت انگیز زندگی دیکھ کر پریشان ہو گیا تو مجھے اپنے آپ کو خطرح محسوس ہوا شاید یہ لوگ مجھے ہی نہ کھا لیں پھر احساس ہوا کہ وہ بھی تو جن ہیں ۔ پھر مجھے نامعلوم خطرے کا احساس ہوا لیکن وہ قوت تھی جو مجھے آگے چلائے جا رہی تھی اور ایک طاقت تھی مجھے آگے لئے چل رہی تھی آگے ایک جگہ پہنچا تو ایک منظر دیکھا ایک بہت پرانہ بوڑھا جن ہے وہ قرآن پاک پڑ رہا ہے اور قرآن پاک میں سےوہ صرف سورہ والشمس پڑھ رہا ہے سورہ ختم ہوتی پھر شروع کر دیتا پھر ختم ہوتی پھر شروع کر دیتا۔ میں نامعلوم کیوں بیٹھ گیا اب مجھے محسوس ہوتا ہے جو قوت اور طاقت تھی میرے دائیں بائیں ساتھ لئے پھر رہی تھی۔ میں اس قرآن پڑھنے والے بوڑھے جن کے پیچھے جا کر بیٹھ گیا وہ بار بار سورہ والشمس پڑے جارہا تھا یہ عمل کئی گھنٹوں بیت گیا پر مجھے کوئی اکتاہٹ اور تھکن محسوس نہ ہوئی۔ میں مسلسل سنتا جا رہا تھا گھنٹوں کہ عمل کہ بعد وہ سجدے میں چلے گئے اور پھر بہت دیر سجدے میں پڑے رہے اس کے بعد انہوں نے سر اٹھایا ان کا سر پسینہ پسینہ تھا میرے لئے کھڑے ہو گئے بانہیں پھیلا دیں بہت پیار محبت سے مجھے ملے ان کے انگ انگ سے خوشبو اور روئیں روئیں سے روحانیت ٹپک رہی تھی۔
بوڑھےجن کے معانقہ اور ملنے سے مجھے ایسے محسوس ہوا میں کسی جنتی سے مل رہا ہوں انہوں نے مجھے اپنے پاس پیار سے بٹھایا ایک تالی بجائی دو جن آ گئے ملو ان سے یہ بھی ہمارے جن بھائی ہیں یہ زمین کے اوپر رہتے ہیں اور ہم زمین کے نیچے انہوں نے ہمیں زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے اور میرا یہ عمل بھی انہوں نے زندگی میں پہلی بار محسوس کیا ہے میں نے ان کی اس بات پر گردن ہلائی تھوڑی دیر کے بعد میرے لئے پر تکلف دعوت کا اعتمام کیا گیا کھانا بہت ہی اچھا تھا کھانا کھانے کے بعد مجھے فرمانے لگے کیسے آئے میں نے سنجیدگی سے جواب دیا خبر تو خود مجھے بھی نہیں کیسے آیا بس کوئی طاقت مجھے یہاں کھینچ لائی۔ میری اس بات سے خوش ہوئے فرمانے لگے ہمارے دل میں ایک سوال ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ میں سورہ شمس کیوں باربار پڑھ رہا تھا یہ بات کہتے ہوئے بوڑھے عالم جن نے سب کی طرف نہایت حیرت بھری نظروں سے دیکھا میں صحابی بابا اور دوسرے تمام جنات بوڑھے عالم جن کی یہ ساری باتیں سن رہے تھے۔ ان کی بات کاٹتے ہوئے صحابی بابا نے فرمایا یہ جو کچھ بیان کر رہے ہیں یہ سچ بیان کر رہے ہیں میرا روحانی علم اس کی تصدیق کر رہا ہے۔  اب آگے تفصیل سے بتائیے۔




بوڑھا عالم جن بہت خوش ہوا اور کہنے لگا کہ وہ جن جو سورہ شمس کی تلاوت کر رہا تھا فرمانے لگا میں دراصل چالیس دن سے اسی نشست پر بیٹھا ہوں نہ کھایا پیا اور نہ ہی سویا ہوں میں نے اب تک سورہ شمس چالیس دن میں سوا کروڑ پڑھی ہے اور ہمارے لئے اتنا پڑھنا کوئی مسلئہ نہیں تمام جنات نے سر ہلایا اور اس بات کی تصدیق کی کہنے لگے میں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ میرے اس عمل کی طاقت اور تاثیر کسی ایسے شخص کو ملے جو تیری دکھی مخلوق کو فائدہ پہنچائے پھر اس عمل کے فائدے بتائے اور فرمایا میں اب ذندگی کے آخری مراحل میں ہوں میری عمر ہو گئی ہے میں نے ساری ذندگی جنات کو دیکھا وہ انسانوں کو دکھ دیتے ہیں کسی کی اولاد بند کرتے ہیں کسی کے بچے کو بہکاتے ہیں کبھی حادثہ کبھی نقصان کبھی بیماری کبھی آگ لگا دیتے ہیں اور میں طے کر چکا تھا کے میں مرنے سے پہلے سورہ شمس کے سوا کروڑ کا چلہ کروں گا   یہ چلا کر کے انسانوں کو اس کا عطیہ دے جاؤں گا اور میری طرف سے وہ اجازت ہو گی۔
جو شخص یہی سورہ شمس چالیس بار پڑھےہر دفعہ بسم اللہ  اول و آخر سات بار درود ابراہیمی یا وہ خود نہیں پڑھ سکتا تو اس کی طرف سے کوئی اور پڑھے چالیس دن ستر دن یا نوے دن پڑھے اس کہ سامنے انوکھا معاملہ ہو گا ایسی ترتیب چلے گی کہ وہ مالا مال ہو جائے گا بےاولاد کے لئے اولاد بے روزگار کے لئے رزق کھل جائے گا بے آسرا کو آسرا مل جائے گا بے وسیلہ کو وسیلہ جس کو شفاء نہیں اس کو شفاء جس کو تکلیف ہے اس کی تکلیف دور جس کے بچے ہوتے ہیں مر جاتے ہیں اگر وہ پڑھیں گئے اس کے بچے صحت یاب پیدا ہوں گئے
فرمانےلگے مجھے دنیا کی سیر کا بہت شوق رہا میں نے پوری دنیا کی سیر کی بھی۔ مخلوق خدا کہ دکھ مجھ سے برداشت نہیں ہوتے ہیں ان سب کے پیچھے زیادہ جنات اور تھوڑا جادو کا ہاتھ ہوتا ہے چونکہ انسان جادو کو زیادہ سمجھتا ہے اس لئے ان کو جنات پر یقین تو ہے لیکن جادو کا اثر اپنے ذہن اور اپنی باتوں اور اپنے تذکروں میں زیادہ لیتا ہے میرے اندر ایک احساس پیدا ہوا کہ کیوں نہ کوئی ایسا طریقہ ہو میں سورہ شمس میں کمالات اور اس کے فائدے ایسے لوگوں تک پہنچاؤں جن کو فاسق اور فاجر گندے اور کالے جنات تنگ کرتے ہوں اولاد نہ ہونے کا سب سے بڑا سبب یہ بھی ہے کہ مائیں پاکیزہ نہیں رہتیں اور میاں بیوی جب ملتے ہیں تو اپنی خلوتوں میں اللہ کو یاد نہیں کرتے کچھ نہ کریں کم از کم تین بار اعوذبااللہ من الشیطن الرجیم ضرور پڑھ لیا کریں اس سے کوئی بھی گندا اور خبیث جن میاں بیوی کہ درمیان نہیں آتا۔ اگر یہ نہ پڑھا تو میاں بیوی جب ملتے ہیں تو ان کے ساتھ گندے جنات اس عمل میں ساتھ شامل ہو کر لطف لیتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو برباد کرتے ہیں۔
وہ جن ٹیک لگا کر بیٹھا اور اپنا پہلو سمیٹے ہوئے مزید کہنے لگا کہ جس نے بھی سورہ شمس پر محنت اور کوشش کی مجھے ایسا فرد یاد نہیں کہ  اس کی اولاد کے مسائل حل نہ ہوئے ہوں ہم ان کی بات سن رہے تھے کے اچانک ہوا کا ایک بہت بڑا بھگولہ چلا تھوڑی دیر ہوئی اس میں سے بہت سے مرد اور عورتیں نکلی اور ہمارے اردگرد آ کر کھڑے ہو گئے۔ اور حیرت سے ہمیں دیکھنے لگے عالم جن اپنی کیفیت میں ایسا گم  تھا اسے کسی چیز کا احساس نہ رہا میں نے عالم جن کا بازو تھاما تو اس نے آنکھیں کھولیں اور میری طرف دیکھا میں نے کہا آپ ذرا خاموش ہوں ایک بہت بڑا مجمع جنات کا اچانک آ گیا ہے حاجی صاحب نے ان سے پوچھا کہ آپ حضرات کیسے آئے تو انہوں نے عجیب بات سنائی کہا کہ اب ہم یہاں سے تین ہزار میل دور رہتے ہیں ہمیں پتہ چلا کہ ایک صاحب ہیں وہ بے اولادی کے لئے کوئی حل بتاتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر وہ خواتین ہیں جن کی اولاد نہیں ساتھ ان کے شوہر اور والدین بھی ہیں یوں بنتے بنتے ایک بہت بڑا قافلہ بن گیا ہم نے ادھر ادھر سے پوچھا تو بہت سے جنات نے بتایا کہ وہ حضرات فلاں جگہ بیٹھے ہیں یوں ہم آپ حضرات تک پہنچے ہیں۔
ان میں سے ایک بوڑھی خاتون مجمع سے باہر آئی ہاتھ جوڑ کر صحابی بابا کو پاؤں پڑ گئی۔ ہمارا مسئلہ حل کریں ہماری مدد کریں۔ صحابی بابا نے اسے تسلی دی اسی دوران حاجی صاحب نے کچھ کھانے پینے کی چیزیں منگوائیں۔ان کو کھلایا پلایا تسلی دی اور فرمایا تم وقت پر پہنچے سو فیصد اسی مسئلے پر بات چیت ہو رہی تھی۔ جب سب نے کھا پی لیا اور کچھ تسلی ہوئی تو میں نے بوڑھے عالم جن سے عرض کیا کہ آپ بجائے اس کہ کے ایک ایک کو سورہ شمس کی ترکیب بتائیں آپ سب کو سورہ شمس کا مستقل لیکچر دے دیں اس کے کمالات برکات اس کی تاثیر اس کی کیفیات بتائیں۔
بوڑھے عالم جن کھڑے ہو گئے بولے اے جنات کا لشکر میں خود بھی ایک جن ہوں اللہ کے فضل سے میں جنات کے اس قافلے سے ہوں جس کا تعلق شاہی خاندان سے ہےہم نے ہمیشہ اسلامی حکومت کی اور کبھی کسی انسان یا جن کو تنگ نہیں کیا۔ میں نے اپنی صدیوں پرانی زندگی میں جنات کو مخلوق خدا خاص کر انسانوں کو دکھ دیتے ہی دیکھا ہے کیوں ہم نے انہیں نہیں جینے دینا ہم نے ان کی نسلوں کو ختم کرنا ہے بوڑھا عالم جن جزبات کی کیفیت کے ساتھ چیخا میری آنکھ نے یہ منظر بھی دیکھا کے کچھ خبیث جنات جب میاں بیوی ملتے ہیں ان کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں اس سرور اور سکون کے لمحات کو چھین لیتے ہیں جس کی وجہ سے میاں بیوی میں تسلی نہیں ہوتی اور یوں آپس میں گھریلو جھگڑے طلاقیں اور گھر اجڑ جاتے ہیں۔اے قوم جنات میں تم کو کیسے سمجھاؤں میرا جی نہیں چاہتا کے میں تمہیں اولاد کے لئے کوئی عمل بتاؤں تھوڑی ہی دیر میں چیخ و پکار کی آواز آئی جنات مرد و عورتیں چیخنے لگے کیا ظالموں کی سزا ہمیں بھی ملے گی۔آخر ہم کہاں جائیں کیا ہم بے آسرا بے سہارہ اور بے یارومددگار چلے جائیں۔ ہم اتنا لمبا سفر کر کے آئے ہیں کیا آپ ہمیں خالی جھولی بھیجیں گئے بوڑھے عالم جن نے ان کی آوازوں کو سنا ان سنا کر دیا  آؤ میں تمہیں اجڑے گھروں کی کہانیاں سسکتی ماؤں کے وہ درد بھرے قصے درد بھری انوکھی داستانیں سناؤں جنات نے ان کے گھروں کو کیسے برباد کیا۔میں خود بھی جن ہوں مگر مجھے جنات سے دل سے نفرت ہے میں اس لئے اپنی قوم سے نفرت کرتا ہوں کے یہ انسانیت پر ظلم کرتے ہیں یہ ظلم کرنا چھوڑ دو کیونکہ میرے رب کو کفر برداشت ہے لیکن ظلم برداشت نہیں ۔ظلم بھی ایسا کہ جو ماؤں سے بچے چھین لے یہ کام تو فرعون نے کیا تھا
تم سب فرعونی ہو جاؤ میں تمہیں کچھ نہیں بتاؤں گا جاؤ میں دکھ درد کا مداوانہیں کروں گا ۔ میں دنیا پھرا ہوں میں نے عالم دیکھا ہے صدیوں لوگوں کا دکھ درد اور غم دیکھا ہے پھر میں نے ایک عمل کا چلہ کیا آخر میں ایک نتیجہ پر پہنچا ہوں ایک ایسا قرآن کا عمل ہے جس سے اولاد ہو سکتی ہے لیکن میں تمہیں نہیں بتاؤں گا جاؤ جہاں سے آئے ہو لوٹ جاؤ وہ رو رہا تھا چیخ رہا تھا اور لہجے میں جھنجھلاہٹ اکتاہٹ اور سوز تھا میں یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا ادھر جنات کے مجمع میں آہ و بکا اور رونا تھا آخر کار اس سارے معاملے کو حاجی صاحب اور صحابی بابا نے سلجھایا ۔ اس جن کو پکڑ کر بیٹھایا اور اس کو سمجھایا اور حکم دیا کے آپ اب خاموش ہو جائیں۔  بوڑھا عالم سسکیاں لیتے خاموش ہو گیا اور نیم بے ہوشی کی حالت میں گر گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد اس کو ہوش آیا پھر صحابی بابا نے اس کو سمجھایا آپ جو کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے آپ یہ بھی تو دیکھیں ان درد مندوں کے درد کا مداوا آخر کیا ہے بہت تسلی اور ترغیب دی اور حکم دیا کے اس سارے مجمع کو سورہ والشمس کے فوائد اور کمالات بتائیں یہ مجمع خالی ہاتھ واپس نہیں جانا چاہیےآخر کار بوڑھے عالم جن نے ترکیب بتائی جو شخص سورہ شمس روزانہ چالیس بار پڑھے ہر دفعہ بسم اللہ کے ساتھ اول آخر سات بار درودابراہیمی پڑھے اگر خود نہیں پڑھ سکتا تو اس کی طرف سے کوئی اور پڑھ لے چالیس دن ستر دن یا نوے دن جب تک مراد حاصل نہ ہو یہ پڑھےاس کے بعد بوڑھاعالم اپنی درد مندآواز کے ساتھ بولا دیکھو میں نے تمہیں یہ ترکیب بتا دی ہے اب جو شخص اس کو یقین دھیان اور درد کے ساتھ پڑے گا وہ اس کا سو فیصد نفع پائے گا  دیکھو جلدی اور عجلت نہ کرنا چالیس مرتبہ صبح شام پڑھنا اگر سارا دن پڑھنا ہو تو اور بہتر ہے
بوڑھا عالم بولا یہ علم میری زندگی کے سالہا سال کے تجربات و مشائدات میں ایک انمول ہیرا ہے اور کوئی بھی شخص ایسا نہیں جس کو میں نے یہ عمل بتایا اور اس کا مسئلہ حل نہ ہوا ہو اور خاص کر اولاد کا مسئلہ ایسے ایسے لوگوں کو اس کا کمال اور تاثیر ملی ہے جو اپنی اولاد کے بارے میں آخر کار مایوس ہو کر بیٹھ گئے تھے انہوں نے سوچ لیا تھا اب بے اولادی ہمارا مقدر ہے۔ ان کو اس کا سو فیصد رزلٹ اور کمال ملا ہے۔ کسی کو شائد یقین ہی نہ آئے کہ واقعی ایسا ہو بھی سکتا ہے ۔
                                   میں سوچنے لگا آج کی محفل میں جو آنافانا جتنے واقعات ہوئے ہیں یہ تو گمان تصور اور خیال میں بھی نہیں تھے اور وہ جتنے واقعات بھی ہوئے ہیں ان واقعات کا ہماری زندگی سے کتنا گہرا تعلق ہے۔ اور اگر آج صحابی بابا نہ ہوتے تو یہ تمام قصے کہانیاں ادھورے رہ جاتے اور لوگوں کو جتنے کمالات ملنے تھے نہ مل پاتے۔شائد جنات کے قافلے کا آنا بھی بہت بڑی سعادت تھی۔یہ باتیں میں بیٹھا سوچ رہا تھا اور بوڑھا عالم جن مسلسل بتائے جا رہا تھا دیکھو میری ایک بات یاد رکھنا اگر تم یہ چاہتے ہو کے تمہیں اللہ کے ایسے وعدے دوں اور اللہ کی ایسی نعمتیں دوں کیونکہ انسان جب اپنی آخری نعمت کو پانا چاہتا ہے تو بہت زیادہ قسمیں کھاتا ہے یہ وہ سورہ ہے جس میں اللہ تعالی نے بہت زیادہ قسمیں کھائی ہیں ۔اتنی قسمیں اٹھا کر میرے مولا نے کہا ہے کے میرے بندو آؤ اس سورہ سے دوستی لگاؤ اس میں آپ کو کمالات تاثیر نعمتیں رزق اور اولاد ملے گی۔ وہ بوڑھا عالم بولا کہ لوگو میں اس نبوی ﷺ علم کی بنیاد پر کہہ رہا تھا اور پھر کہہ رہا ہوں جو اس کو یقین کے ساتھ کرےگا اللہ اس کو دے گااور ضرور دے گا
اور پھر اگر آپ اس کی تاثیر اور چاہتے ہیں تو ایک پاؤ کالی مرچ اور ایک پاؤ دیسی اجوائن دونوں کو صاف کر کے علیحدہ علیحدہ ڈبوں میں محفوظ کر لیں۔ روز جتنا پڑھیں ان پر دم کر دیں۔ اور عورت سات کالی مرچ اور ایک چٹکی اجوائن دودھ یا پانی کے ساتھ صبح نہار منہ اور شام عصر کے بعد کھا لیا کریں ۔ ایک تین سات نو ماہ یا مستقل شفاء یابی تک کالی مرچ اور اجوائن کاساتھ استعمال اس کی طاقت تاثیر قوت اور اس کے کمال کو اور بڑھا دیتی ہے۔جیسے ہی بوڑھے عالم جن نے بات ختم کی صحابی بابا نے جنات کے مجمع کے لئے دعا فرمائی۔صحابی بابا نے پر سوز دعا فرمائی یا اللہ تو خالق اور کلیم تو مبدی تو باری اے اللہ تو چاہے تو اولاد دے دے تو نہ چاہے تو کبھی بھی نہ دے۔ اگر تیری تخلیق میں کوئی فیصلے نہیں تو آج فیصلے فرما دے اگر تو نے فیصلہ نہیں کیا اور نہیں کرنا تو آج کر دے اللہ تیری منت کر رہے ہیں اے اللہ تیرے سامنے ہاتھ جوڑ رہے ہیں اے اللہ اگر تو چاہے گا تو ان بے اولادوں کو اولاد دے دے گا مولا سورہ شمس تیرا کلام ہے اور تجھے اختیار ہے کہ اپنے کلام کی تاثیر بندوں سے لے لے وحی کی برکات سے بندوں کو محروم کر دے اے سخی کریم اللہ ان بندوں اور بندیوں کی دعاؤں کو قبول کر لےاے اللہ ان سب کو اولاد نرینہ سے نواز آمین آمین
جنات کا قافلہ چلا گیا پھر ویسے ہی ایک دھول اٹھی بگولہ بنا اور پھر غائب ہو گیا۔ صحابی بابا نے کہا چلو آج اس بات کی وجہ سےایک نیا احساس ہوا کہ سورہ شمس کے کیا کمالات ہیں صحابی بابا نے کہا اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی سورہ شمس کا اپنا ایک واقعہ سناؤں۔ فرمانے لگے میرا ایک بھائی جو کے اب اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے جب اس کی شادی ہوئی تو اس کی اولاد نہیں ہوتی تھی ہم نے بہت علاج کروائے کسی نے کہا اس پر جادو ہے کسی نے کہا نظر بد ہے ہر قسم کا علاج کیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا سالہا سال گزرتے گئے میری بوڑھی والدہ دن رات دعائیں مانگتی تھی کہ کس طرح میرے بھائی کی کی اولاد ہو جائے۔ ایک دن میری والدہ نے ایک خواب دیکھا سات عورتیں آئیں اور سب کے ہاتھوں میں تنکوں سے بنی ہوئی ٹوکریاں ہیں اور ہر ٹوکری میں سات قسم کے پھل ہیں اور سب میری والدہ کو دینے کے لئے آئی ہیں۔ میری والدہ نے پوچھا آپ نے مجھے یہ چیزیں کیوں دی ہیں تو وہ خواتین کہنے لگیں ہم آپ کو سات بیٹے دینے آئی ہیں دوسری خاتون بولی یہ سات ٹوکریاں آپ کو فائدہ اس وقت دیں گی جب آپ قرآن پاک کی وہ سورت پڑھیں گی اور قرآن پاک کی وہ آیتں پڑھیں گی جن میں سب سے زیادہ آ پ کو قسموں سے واسطہ پڑے گا اور وہ قسمیں بھی وہ جو اللہ کی قسمیں ہوں گی میری والدہ نے حالت خواب میں پوچھا وہ قسمیں کون سی ہیں وہ سورت وہ آیات کون سی ہیں تو ان سات خواتین نے بتایا وہ سورہ شمس ہے ۔
اس سورت کو زیادہ سے زیادہ پڑھو اور جتنا زیادہ پڑھو گئے اتنا زیادہ نفع ہو گا ورنہ اس سورت کو چالیس بار صبح شام ضرور پڑھو والدہ کی آنکھ جب کھلی تو انہوں نے بہت ٹھنڈی سانس لی والدہ سسکیاں لے کر رونے لگیں میں نے جا کر والدہ کے پاؤں کو چوما پوچھا کہ آپ کو ایسی کون سی تکلیف ہوئی ہے جس کی وجہ سے آپ روئی ہیں والدہ فرمانے لگیں بیٹا میں نے خواب دیکھا ہے مجھے حکم ملا ہے کہ تم چالیس بار سورہ شمس پڑھو میرا رونہ اس بات پر ہے کے اللہ کی طرف سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری مشکل کٹ گئی ہے اور ہماری پریشانی دور ہو گئی اور ہم مسائل اور مشکلات سے نکل گئے
میری والدہ نے اس دن سےسورہ شمس کو بہت زیادہ پڑھنا شروع کیا اور حیرت انگیز تعداد میں سورہ شمس کو پڑھتے پڑھتے روزانہ نامعلوم کتنی بار پڑھ جاتی ہیں جب زیادہ نہ پڑھتی تو کم از کم صبح شام ضرور پڑھتی تھیں اس اعتماد سے ان کا پڑھنا بہت عرصہ رہا حالانکہ اس دوران میرے بھائی کی کوئی اولاد نہیں ہوئی لیکن میری والدہ مایوس نہیں ہوئیں اور وہ مسلسل سورہ شمس پڑھتی رہیں کچھ عرصہ کے بعد اللہ تعالی نے میرے بھائی کو خوشخبری سنائی خوش خبری سننے کے بعد بھی میری والدہ سورہ شمس پڑھتی رہیں ان کا یہ پڑھنا مجھے بہت بھاتا تھا
میری والدہ اس یقین کے ساتھ پڑھتی رہیں آخر کا اللہ تعالی نے میرے بھائی کو بیٹا عطاکیامیں نے کہا اب آپ کیوں پڑھ رہی ہیں تو والدہ فرمانے لگیں بیٹا میں سورہ شمس اس لئے مسلسل پڑھ رہی ہوں میں نے تیرے بھائی کے لئے جو خواب دیکھا تھا اس خواب کے مطابق سات بیٹے ملنے ہیں اور یہ ساتوں بیٹے اللہ ضرور دے گامجھے مکمل یقین ہے لہذا اس یقین کی بنیاد پر میں مسلسل پڑھے جارہی ہوں اور اللہ پاک ہمیں بیٹوں سے نوازتا گیا سات بیٹے ہو گئے پھر میری والدہ نے اس سورت کو پڑھنا چھوڑ دیا۔.
کچھ عرصہ کے بعد خواب دیکھا خواب میں کیا دیکھا کہ میری والدہ سے کسی نے کہا تم سے بڑا کون نادان ہے تم نے سورہ شمس پڑھنا چھوڑ دیا کیونکہ جب بھی سورہ شمس کے پڑھنے سے تمہیں بیٹے ملے ہیں تمہارے بیٹے کے بیٹے اور ان کے بھی بیٹے ہوں تو سورہ شمس کو نہ چھوڑو صحابی بابا پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ واقعہ سنا رہے تھے اور اپنی زندگی کا مشائدہ بتا رہے تھے سورہ شمس پڑھنے سے بیٹے ملے رحمت ملی برکت ملی صحابی بابا  نے جب یہ بات سنائی تو حاجی صاحب نے کہا کہ اگر آپ نے سنائی ہے تو پھر میں بھی اس کا ایک عمل اور مشائدہ بتاتا ہوں حاجی صاحب بتانے لگے یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب میرا مستقل قیام بغداد میں ہوتا تھا اور میں نے بغداد میں زندگی کے بہت شاندار اور سنہرے دن گزارے۔
میں نے ایک دن محسوس کیا کہ میرے دل میں کوئی آواز دینے والا آواز دے رہا ہے اٹھو چلو کوئی سوالی سوال کر رہا ہے۔اس کے سوال کو پورا کرو۔ کوئی مشکل میں ہے اس کی پریشانی دور کرو۔ بس بے ساختہ میں چل پڑا چلتے چلتے مجھے سوال کرنے والا سائل ملا اور بھکاری ملا سوال کرنے والا سائل اور بھکاری ایک سوال لے کر آتا ہے مجھے مال نہیں چاہیے مجھے اپنے بیٹے کے لئے بیٹا چاہیے لوگو میرا بیٹا ہے پوتا نہیں ہے بارہ سال ہو گئے ہیں میں بارہ سال سے بےچین ہوں اس کی آواز میں بہت درد تھا میں نے اس کے پیچھے چلنا شروع کیا اس وقت چاشت کا وقت تھا چاشت کے وقت سے لے کر دن ڈوبنے تک میں اس سوالی کے پیچھے پھرتا رہالیکن وہ سوالی اپنا سوال کرتا رہا اور میں اس سوالی کو مسلسل دیکھتا رہا ۔
ایک درخت کے سائے میں وہ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور زاروقطار رونے لگا اے اللہ کسی خضر کو بھیج جو میرے سوال کو پورا کرے حاجی صاحب یہ غم کی کہانی سنا رہے تھے ان کا انداز ایسا تھا میں بھی اور بیٹھنے والے اور بھی رو رہے تھے۔فرمانے لگے میں یہ آواز سن کر گھبرا گیا شائد مجھے اس شخص کے لئے بھیجا گیا میرے اندر سے آواز آئی میں مسلسل سوچ رہا تھا اس کو کون سا وظیفہ کون سی تسبیح بتاؤں پھر دل میں خیال آیا کہ جنہوں نے مجھے اس کی مدد کے لئے بھیجا ہے وہ خود ہی مجھے اس کے بارے میں بتائیں گئے میں آنکھیں بند کر کے اللہ کی ذات کی طرف متوجہ ہوا یا اللہ تو مجھے سجھا دے میں کیا کروں میں اس کی مدد کیسے کروں یا اللہ مجھے تو کچھ خبر نہیں کہ مدد کسے کہتے ہیں کہ مدد ہو کیسے سکتی ہے بس اچانک میری زبان پر ایک بات جاری ہوئی آج بھی میں سوچتا ہوں کہ وہ بات میں کیسے کر گیا تھا پھر احساس ہوا دراصل جب بندے کا درد بڑھتا ہے اور اس کا اللہ سے التجا کرنا عرش کو متوجہ عرش والے کو متوجہ کرتا ہے تو میرا اللہ کسی نہ کسی کو ذریعہ بنا دیتا ہے میں نے کہا بابا جی آپ مایوس نہ ہوں مجھے اللہ نے آپ کی مدد کے لئے بھیجا ہے میں صبح چاشت سے غروب آفتاب تک آپ کے پیچھے رہا ہوں میں نے اس کو نشانیاں دی فلاں جگہ سے گزرے فلاں جگہ یہ صدا لگائی جب آپ درخت کے نیچے آ کر بیٹھے اور آپ نے درد بھری آوازوں سے اللہ کو اپنے درد سنایا میں اس غم کو بھی سنتا رہا بابا جی آپ مایوس نہ ہوں آپ صرف سورہ شمس پڑھیں خود بھی اور تمام گھر والے بھی جتنے زیادہ سے زیادہ لوگ گھروالے پڑھ سکیں بابا جی بہت زیادہ پڑھیں اور کم از کم سورہ شمس چالیس دفعہ صبح و شام یا ایک بار چالیس دفعہ ایک دن میں۔
جب تک مراد حاصل نہ ہو پڑھتے رہیں انشاءاللہ آپ کی مراد ضرور پوری ہو گی۔ آپ کو پوتا ملے گا جو آپ کے منہ میں لقمہ ڈالے گا بابا جی پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہے تھے میں نے یقین دلاتے ہوئے کہا یہ سچ ہےکہ مجھے آپ کی مدد کے لئے بھیجا گیا ہے میری آپ کی خدمت کے لئے باقاعدہ ڈیوٹی لگی ہے آپ میری بات کو سنیں بھی اور سمجھیں بھی بابا جی اٹھ کھڑے ہوئے مجھے گلے سے لگایا چوما اور چیخ چیخ کر رونے لگے اور کہنے لگے بس میرا دل مان گیا ہے میرا کام ہو گیا  میرے مال کا وارث مجھے مل گیا میرا بارہ سال کا رونا اور میرے آنسو اللہ نے مجھے اس کا صلہ دے دیا ہے مجھے کہا آپ کون ہیں میں نے کہا بابا جی میرے حق میں دعا کیجئے گا میں تو آپ کی خدمت کے لئے آیا ہوں کوئی ایک سال کے بعد میں بابا جی کو ڈھونڈتے ہوئے ان کے گھر پہنچامیں نے پھر وہی روپ دھارا جو اس وقت تھا بابا جی بیٹھے تھے دور سے مجھے پہچان گئے اور مجھے کہنے لگے کیا تم میرے وہی محسن ہو جس نے مجھے اللہ سے پوتا دلا دیا تھا میں تمہیں تلاش کرتا رہا تم کہاں غائب ہو گئے تھے جب میرا پوتا ہوا میں نے بہت دھوم دھام کی تقریب کی جس میں نوے فیصد غربا  دس فیصد میرے رشتہ دار اور مالدار لوگ تھے اور میں نے ان لوگوں کو کھلایا پلایا غریبوں کو کپڑے دیئے پھر بابا جی اٹھے اور اپنے غلام کو آواز لگائی وہ پوتے کو باہر لایا خوبصورت ایک چھوٹا سا گول مٹول بچہ میں نے لیا چوما اس کی بلائیں لی حفاظت کی دعائیں پڑھیں اور پھر اس کو ان کی جھولی میں ڈال دیا
بابا جی بہت خوش تھے انہوں نے میرے لئے بہت بہترین کھانے منگوائے اور مجھے حکم دیا کہ کھانے بغیر نہیں جانا وہ مجھے ساتھ لئے اپنے بہت بڑے مہمان خانے میں گئے مہمان خانہ میں میرے لئے بہت بہترین چادریں بچھائی گئیں اور تکیے لگائے گئے وہ بار بار ایک بات کہتے تھے لوگو آؤ دیکھو یہ وہی شخص ہے جس کہ ذریعے اللہ نے مجھے میرا وارث دیا ہے اسی اثناء میں بہت سے اور لوگ بھی اکٹھے ہو گئے ان میں بیشتر ایسے تھے جو بے اولاد تھے اور ان کی اولاد نہیں تھی میں نے ان سب کو یہی عمل بتایا سارے یہ عمل سن کر حیران ہوئے میں نے بابا جی سے کہا آپ ہی یہ عمل انہیں بتا دیں کہنے لگے سچ پوچھو میں نے خیال نہیں کیا مجھے یاد نہیں رہا انہوں نے مجھ سے سوال نہیں کیا مجھے یاد نہیں رہا بس میں اتنا کہتا تھا کہ کوئی اللہ کی طرف سے ایک نیک بندہ حضرت خضر کی صورت بن کر آیا تھا اس نے مجھے بتایا میں نے دن رات پڑھا اور بہت زیادہ روتے ہوئے پڑھا اس کی وجہ سے اللہ پاک نے مجھے پوتے والی نعمت عطا فرمائی ان سب کو جتنے لوگ بھی آئے ہوئے تھے سب کو میں نے سورہ شمس کے بارے میں بتایا اور اتنا ساتھ اضافہ کیا کہ یقین کہ ساتھ پڑھیں اور ان سب کو کہا کہ مسلسل پڑھتے رہیں اس کہ پڑھنے سے انشاءاللہ آپ کو ضرور اولاد نصیب ہو گی
با با جی نے مجھے بہت تحائف دے کر رخصت کیا جو کہ میں نہیں لینا چاہتا تھا لیکن ان کا اصرار تھا کہ میں تحائف لوں اور باقاعدہ گھر جا کر اپنے گھر والوں کا بھی شکریہ ادا کروں اب مجھے اگلا اشتیاق تھا کہ جن لوگوں کو میں نے وہ عمل بتایا کیا ان کا بھی کام ہوا یہ عمل میری زندگی میں پہلی دفعہ مجھےالہامی ملا تھا اس الہامی عمل کے لئے میں پھر گیا جتنے لوگوں کو میں نے بتایا تھا سب لوگوں نے یہ عمل کیا اور جتنوں نے بھی کیا اللہ پاک نے انہیں بیٹوں والی نعمت سے نوازا ہاں ایک بندہ ایسا تھا جس کو اللہ پاک نے بیٹی والی نعمت سے نوازا تھا
بے اولادی کے لئے بانجھ پن کہ لئے بیٹوں کی کمی کہ لئے نسلوں کی کمی کہ لئے یہ عمل بہت بہت اور بہت زیادہ بہت ہی زیادہ قابل رشک ہے اس عمل سے اللہ کی رحمت اللہ کا فضل اور اللہ کا کرم متوجہ ہوتا ہے اور اس عمل سے حیرت انگیز نتائج ملتے ہیں حاجی صاحب نے یہ واقعہ بتایا جن عالم نے بھی واقعہ سنایااوروں نے بھی سنائے مگر حاجی صاحب کا واقعہ سب سے حیرت انگیز تھا اور حاجی صاحب فرمانے لگے اس دن سے لے کر آج تک مجھے کوئی بھی شخص ملے جس کی اولاد نہ ہو جس کی نسلیں نہ ہوں میں نے ان سب کو یہی عمل بتایا اور تاکید کی کے گھر کہ سارے افراد یا جتنے زیادہ افراد پڑھ سکیں اس کو ضرور پڑھیں اور یہ عمل نہایت ہی کمال کا عمل ہے اس عمل کی بہت تاثیر ہے۔

نوٹ! یہ پورا مضمون جنات کا پیدائشی دوست قسط70 میں ملاحظہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

Sunday, July 12, 2015

شاندار رمضان گزاریں,

رمضان میں بھوک پیاس ختم


رمضان میں دو سادہ روٹی  رات کی بنی ہوئی ہو تو بہت ہی اچھا نہیں تو تازہ روٹی اور آدھا کلو گرام دہی چینی یا دیسی شکر ملا کر سحری میں کھائیں کبھی بھی کسی بھی موسم کا رمضان ہو سارا دن بھوک اور پیاس کا احساس نہیں ہو گا افطار میں کم از کم تین کھجوریں اور جو بھی فروٹ مل جائے استعمال کریں مغرب اور عشاء کہ درمیان ایک سادہ روٹی ہمراہ کوئی بھی سالن کھائیں اللہ کے خاص فضل و کرم سے پورا رمضان ہی بہت اچھا گزرے گا۔