Wednesday, October 14, 2015

ساگ ،پالک اور مولی کے کرشمے

ساگ ،پالک اور مولی کے کرشمے :۔

زندہ دلان لاہور کو جو سبزیاں پسند اور مرغوب ہیں ،ان میں مولی سرفہرست ہے ۔ پنجابی شہری ہو یا دیہاتی اندرون لاہور کا رہنے والا ، ہو یا گلبرگ کا باشندہ وہ مولی کا شائق ضرور ہو گا ۔ پنجاب میں مولی کو کچا کھا یا جاتا ہے ۔ مولی  کےٹکڑے کر کے گوشت میں پکاتے ہیں مولی کدو کش کر کہ سبزی کے طور پر پکاتے ہیں ۔کچا کھانے کیلئے نازک ، پتلی اور نرم مولی موزوں ہے ۔ دوپہر اور رات کے کھانے میں مولی ، ٹماٹر ، سلاد ، چقندر وغیرہ کو کاٹ کر پلیٹ میں سجاکر رکھتے ہیں ، اور کھانے کے ساتھ شوق سےکھاتے ہیں ۔ مولی کھانا ہضم ہونے میں بھی معاون ہے ۔ مولی کو قدرت نے وافر غذائی اجزاء سے سر فراز کیا ہے ۔ اس میں لحمی مواد چکنائی ، نشاستہ دار اجزاء کے علاوہ چونا اور فاسفورس بھی ہے ۔ فولاد کی مقدار تو بہت زیادہ ہے ۔ پیشاب آور ہے ، بواسیر اور گردہ مثانہ کی پتھری میں مفید ہے ۔ گردہ مثانہ کی پتھری میں مولی کا نمک دیا جاتا ہے جس سے بسا اوقات پتھری خارج ہو جاتی ہے ۔قبض کشا بھی ہے تلی بڑھ جانے کی صورت میں موثر ہے ۔ سردیوں میں بہت زیادہ استعمال کرنی چاہیئے ۔ کیونکہ اس کا مزاج گرم تر ہے ۔ مولی کے پتے کوئی بیکار چیز نہیں ہیں ۔ قدرت نے مولی کے پتے کا پانی اکسیر کا کام دیتا ہے ۔ مولی کے پتوں کو کوٹ لیں ، تین تولے پانی میں سرخ شکر ضرورت کےمطابق ملا لیں ۔ صبح و شام مولی کے پتوں کا پانی پئیں ۔ پیشاب کی جلن کی صورت میں مولی کے پتوںکا پانی صبح و شام تین تین تولے پئیں ۔ مولی پکاتے وقت اس کےپتوں کو بھی شامل کر لینا چاہیے ۔
پالک ! طبی فوائد و منافع:۔
پاکستان میں بکثرت پائی جانے والی سبزیوں میں ایک پالک بھی ہے جو بازار میں ارزان نرخون پر مل سکتی ہے معدہ میں پہنچ کر زود ہضم ہونے کی وجہ سے خود بہت جلد ہضم ہو جاتی ہے ۔ اس سے معدہ کے عمل ہضم میں سرعت اور رطوبات ہضم کی پیدائش  کے عمل میں تیزی آ جاتی ہے ۔ جبکہ دافع تیزابیت و سوزش خاصیت کی وجہ سے معدہ و سینے اور پیشاب کی جلن کو بھی نافع ہے ۔ امعاء میں پہنچ کر حرکات دودیہ کو تیز تر  کرتی ہے ۔ اسی لیے دائمی قبض میں مبتلا افراد کو بھی مسلسل چند یوم تک اس کا سالن یا ساگ زیادہ مقدار میں کھانے سے قبض میں فائدہ حاصل ہوتا ہے ۔ البتہ وہ افراد جن کی امعاء کی قوت کمزور ہونے کے باعث ان میں تھوڑی سی طاقتور غذا کے استعمال سے بھی  اسہال کی تکلیف ہو جاتی ہے تو انہیں چاہیے کہ پالک اور مولی کو ملا کر قطعاً استعمال نہ کریں ۔ کیونکہ اس کے استعمال سے امعاء کی حرکات زیادہ تیز ہو کر اسہال کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے ۔ پیشاب کا قطرہ قطرہ یا تنگی سے آنا اوردائمی قبض و نزلہ ، پرانی کھانسی اور دق و سل کے مریضوں کیلئے پالک ایک بہترین سبزی ہے ۔ پالک میں کیلشیم اور فولاد کی موجودگی سے جسم میں ان کی کمی دور ہو جاتی ہے ۔ یہ بینائی کو لاجواب طاقت دیتی ہے ۔ یرقان اور صفراوی بخاروں میں بھی مدر بول ہونے کی وجہ سے خصوصیت سے مفید ہے ۔ درد سر اور تلی کے امراض میں مبتلا افراد کیلئے اس کا استعمال موزوں نہیں ہے جن اصحاب کو پالک موافق نہ آئے انہیں اس کے سالن میں دار چینی اور مصالحہ جات کو اضافہ کر کے کھانا چاہیے اس کےپتوں کو پانی میں ابال کر نمک ملا کر غرغرے کرنا گلے کے درد اور ورم کیلئے بہت ہی مفید ہے ۔
سرسوں کا ساگ:۔
سرسوں کا ساگ سرسوں کے پودے سے حاصل کیا جاتا ہے ۔ مکئی کی روٹی کے ساتھ یہ بہت لطف دیتا ہے ۔ اس کی تاثیر گرم خشک ہے ۔ اس میں وٹامن اے ، بی ، جی ، فولاد ، کیلشیم اور روغنیات پائے جاتے ہیں ، سرسوں کا ساگ جلدی امراض کیلئے بہتر ہے ،۔ اسے کھانے سے جلدی بیماریں دور ہو جاتی ہےہیں ، سرسوں کا ساگ جلدی امراض کیلئے بہتر ہے ۔ اسے کھانے سے جلدی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں ، اعضاء کی خشکی، خراش اور داغ دھبے دور کرنے کا علاج ہے ، یہ بھوک کو تیز کرتا ہے اور جسم و معدے سے گیس نکالتا ہے ، سرسوں کا ساگ خون میں حرارت پیدا کرتا ہے اور یہ پیشاب لاتا ہے ، جسم پر سوجن ہو تو اسے ختم کرنے کیلئے لاجوب ہے ، نیا خون پیدا کرتا ہے ، قبض کشا ہے ، معدہ جگر اور انتڑیوں کو طاقت دیتا ہے ۔ اس میں پروٹین کافی مقدار میں موجود ہوتی ہے ۔ اس میں مکھن ڈال کر کھایا جائے تو یہ جسم کی لاغری اور کمزوری دور کرتا ہے ، سرسوں کے بیجوں کا تیل کھانے پکانے او ر مالش کرنے میں استعمال ہوتا ہے ۔

وتر نماز کے بعد ایک مجرب عمل

وتر نماز کے بعد ایک مجرب عمل:۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! یہ عمل ہماری ٹیچر نے تحفہ کے طور پر دیا اور سب طالبات نے اس کو نوٹ کرلیا ،آج تک میں پابندی سے یہ عمل کرتی ہوں عمل رات عشاء کی نماز میں وتر نماز کے بعد دو سجدے اس طریقے سے کریں کہ پہلے سجدے میں پانچ بار سبوح قدوس ربنا ورب  المئکۃ والروح پڑھیں ۔ پھر بیٹھ کر دونوں سجدوں کے درمیان ایک بار آیۃ الکرسی اور پھر دوسرے سجدے میں اس طرح درج بالا الفاظ پڑھیں ، اس طرح دو سجدوں کے اندر دس بار اور دو سجدوں کے درمیان ایک بار آیۃالکرسی پڑھی جائے گی۔ فضیلت اس کی یہ ہے کہ اس وظیفہ کو پڑھنے والا جائےنماز پر بیٹھتا ہے اٹھنے سے قبل اللہ پاک کی رحمت کا نزول اور ستر فرشتے اس کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور کلمہ طیبہ نصیب ہوتا ہے اور شہادت کی موت نصیب ہوتی ہے جو اس کے پڑھنے کے بعد دعا مانگتا ہے تو اللہ پاک کے دربار عالیہ میں قبول ہوتی ہے بشرطیکہ اخلاص نیت سے عمل کرے ۔

کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت کا ورد

کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت کا ورد:۔

آج سے تقریباً سات آٹھ سال پہلے جمعہ کے خطبہ میں ایک بزرگ نے فرمایا کہ جب کوئی انسان خلوص کے ساتھ کلمہ طیبہ پڑھتا ہے اور کلمہ شہادت پڑھتا ہے تو اللہ پاک اس کے سارے گناہ معاف فرمادیتے ہیں ، اور چار ہزا ر نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں ۔  میں ذاتی طور پر کسی بھی مشکل کے وقت اپنے آپ کو گناہوں کی غلاظت میں محسوس کرتا ہوں اس لیےکلمہ طیب اور کلمہ شہادت پڑھتا ہوں اور ذہن اور دل میں یقین کرتا ہوں کہ اب میں پاک صاف ہو گیا اور گناہوں کی نحوست سے دور ہو گیا اور نیکیوں کی بہار میں ہوں ۔ اس کے بعد تین مرتبہ اور ہر مرتبہ اول میں ﷽ اور اس کے بعد انا للہ وانا الیہ راجعون
پڑھتا ہوں ۔ اور یقین کے درجے میں رکھتا ہوں کہ میرا اللہ پاک میری دست غیب سے بہترین انداز میں دستگیری کرے گا اور عنایت کرے گا ایک دفعہ میرے گھر کا کچھ حصہ میں مرمتی کام چل رہا تھا اور دوسرے مستری مزدور بھی تھے ۔ ظہر کے بعد میں قریبی شہر گیا اور مغرب کے بعد لوٹا تو وہ الیکٹریشن اور مستری مزدور بھی تھے ۔ میں نے کہا بھائی آپ اپنے گھر نہیں گئے تو کہنے لگا کہ میرے پیسے اور کارڈ وغیرہ یہاں گر گئے ہیں آپکی اوطاق میں اور کسی نے اس کو اٹھا لیا ہے ۔ اس لیے آپ کا انتظار کر رہا تھا ۔ میں نے مستری صاحب سے اس کے  مزدوروں کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ تو سب چلے گئے ہیں ۔ میں نے الیکٹریشن کو کہا بھائی ۔ آپ بھی اللہ سے مانگیں میں بھی مانگتاہوں ۔ میں نے اوپر بیان کیا عمل پڑھا اور دل میں اپنے مسلمان بھائی کے نقصان پر افسوس بھی کیا ۔ ہم دونوں نے خوب ذکر کیا تو اگلی صبح اس الیکٹریشن کے پاس اور کارڈ وہیں قریب سے مل گئے حالانکہ کل کافی وقت وہ اسی جگہ ڈھونڈ تا رہا تھا ۔

ہیپا ٹاٹئس سے نجات کیسے ملی

ہیپا ٹاٹئس سے نجات کیسے ملی:۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! سب سے پہلے تو ہمیں یہ سمجھ میں نہیں آتا ہم کس طرح آپ کا شکریہ ادا کریں الفاظ ساتھ نہیں دے رہے نہ ہی کچھ سمجھ آ رہا ہے ۔ کیا لکھو ں! عبقری سے ہمارا تعارف سات ماہ پہلے ہوا ، ہوا کچھ یوں کہ میرے کچھ گھریلو حالات خراب ہوئے اس دوران  میرے کزن جو کہ کراچی میں رہتے ہیں انہوں نے نیٹ سے مجھے آپ کے کچھ وظائف  انمول خزانے والا وظیفہ دیا ۔ جو میں ہر نماز کے بعد پڑھتی تھی اور کزن نے یہ بھی بتایا کہ ایک میگزین عبقری بھی آتا ہے ۔ بہر حال انہوں نے مجھے ایک نمبر بھی دیا میں نے وہاں فون کیا ان صاحب سے میں نے پوچھا بھائی کیا حکیم صاحب خط کا جواب دیتے ہیں انہوں نے کہا ہاں بہن بالکل جواب دیتے ہیں ، ان سے میں نے کہا بھائی میرے پاس ایڈریس وغیرہ کچھ بھی نہیں آپ مجھے میرے نمبر پر ایڈریس بھیجیں ۔ انہوں نے مجھے ایڈریس بھیجا ۔ میں نے اللہ پاک کا نام لے کر حکیم صاحب کو خط لکھا ۔ الحمد اللہ! انہوں نے جوا ب بھی بھیجا چند وظیفے بھی دیئے ۔ جو میں پڑھ رہی ہوں ۔تب ہمیں پتہ چلا ماشاءاللہ حکیم صاحب کی اتنی کتابیں بھی ہیں ۔ پھر میرے بھائی نے عبقری منگوایا ۔ اب ہر مہینے عبقری ہمارے گھر آتا ہے میں نے اس تحریر میں اپنی کہانی اس لیے لکھی ہے کیونکہ میری کہانی کی وجہ سے ہی ہمیں عبقری اور حضرت حکیم صاحب جیسے نیک دل بزرگ کا پتہ چلا ۔۔ جب اس ماہ کا عبقری ہمارے پاس آیا تو اس میں ہیپا ٹاٹئس نجات سیرپ جس کی دس بوتلوں کا مکمل کورس کا تعارف تھا ۔ میری امی کو ہیپا ٹاٹئس تھا بہت علاج کروایا لاکھوں خرچ کیے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا امی کو سر درد بخار معدے کا درد امی بہت بیمار تھیں ۔ ہم نے اللہ پاک کا نام لیکر عبقری کے دفتر فون کیا، پہلے پانچ بوتلیں منگوائیں ۔ امی نے پینی شروع کیں امی تیزی سے صحت یاب ہو رہی تھیں بخار ، سر درد سب ختم ! پورا مکمل کورس کیا ۔ اس دوران عبقری میں ایک بہن نے بھی دو وظیفے بتائے تھے یرقان کے سورہ عم پارہ 30 سات دفعہ پانی پر دم کر کے پیے اور سورہ تغابن تین دفعہ معدہ اور پیٹ پر دم کرے ۔ پابندی کے ساتھ ، ہم نے وہ بھی کیا ، پھر ایک علاج بھی تھا ہم نے وہ بھی کیا ۔

قارئین کی خصوصی اور آزمودہ تحریریں

قارئین کی خصوصی اور آزمودہ تحریریں :۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! یہ واقعہ میری بیٹی نے مجھے سنایا میری بیٹی اسلامک یونیورسٹی میں پڑھتی ہے ۔ وہ مجھے کہنے لگی کہ ہمارے ساتھ کچھ چائینز لڑکیاں بھی پڑھتی ہیں ۔ اور وہ اس قدر خدا ترس ہیں کہ ایک دن میں اور میری دوست ہاسٹل سے تیار ہو کر یونیورسٹی  جا رہی تھیں جس راستے سےہم جاتی تھیں وہاں راسے میں ایک کتے کا چھوٹا سا بچہ مرا ہوا پڑا تھا اورہم اپنے آپ کو بچا کر بڑے دھیان سے ناک پر ہاتھ رکھ کر جلدی سے وہاں سے گزر رہی تھیں ۔ کہ ادھر سے دو چائینز لڑکیاں بڑی فٹ فاٹ تیار تھیں ، یعنی جینز جاگرز وغیرہ پہنے ہوئے اور وہ گزر رہی تھی کہ ان کی نظر بھی اس کتے کے بچے پر پڑی ۔انہوں نے فوراً ایک درخت سے چھوٹی سی ٹہنی توڑ ی اور زمین کھودنی شروع کر دی ۔ پہلے تو ہمیں سمجھ نہ آئی ، اور پھر جب سمجھ آئی تو ہمارے میں بھی جزبہ جاگ اٹھا اورہم ہاتھوں سے شروع ہو پڑے ، اور ایک گڑھا تیار کیا ۔ ادھر ساتھ ہی اس کتے کی ماں بھی پاس آ کر کھڑی ہو گئی ، ان چائینز نے ان ٹہنیوں کے ساتھ بڑے آرام سے اس کتے کے بچے کو گڑھے میں ڈالا اور اس کے اوپر مٹی ڈال کر دبا دیا اور کتے کی ماں سارا وقت پاس کھڑی رہی، یہ میرے بچے کے ساتھ کیا کریں گی ؟ چائینز نے اس بچے کو دفن کرنے کے بعد بڑے پیار سے اس کتیا پر ہاتھ پھیرا جیسے اسے دلاسا دے رہی ہوں اور کتیا انہیں یوں شکریہ ادا کرنے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی اور میری بیٹی بتاتی ہے کہ امی ! ان کا یہ کام مجھے بھلا ئے نہیں بھولتا کہ ان لڑکیوں نے اس کتے کے بچے کو دفن کیا ہے۔ لیکن جس طرح طریقے سے کتیا کے ساتھ افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے کہ جیسے ہم انسانوں سے کرتے ہیں ۔ اللہ پاک ان سے کتنا خوش ہوئے ہوں گے اللہ پاک ان کو اس کا اجر ضرور دے گا اور ہمیں بھی ایسا کام کرنے کے توفیق عطا فرمائے یہ واقعی میرے اپنے گھر کا ہے میری دیورانی اور میں جو ایک گھر میں رہتے ہیں اوپر والی منزل پر میری دیورانی اور بچے رہتے ہیں ، وہ کافی عرصہ سے ایک اونچی دیوار پر ایک بڑے سے پیالے میں روزانہ بچی ہوئی روٹی توڑ کر اور ڈبل روٹی کے پیس وغیرہ بچے ہوئے چاو ل وغیرہ اس پیالے میں ڈال دیتی ہے۔ اور پرندے خاص کر کوے وہاں آتے ہیں اور  سارا دن پیالے سے کھاتے رہتے ہیں ۔ ایک دن کوؤں نے مار کر پیالہ دیوار سے نیچے گرا دیا اور ٹوٹ گیا۔ تو اس نے وہاں کھانا رکھنا چھوڑ دیا ، اس نے خواب میں دیکھا کہ ایک کوا آیا ہے اور اس کے بازو پر بیٹھ گیا ہے ، اور اس کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہے اور وہ اسے اس کے ہاتھ میں دیتا ہے کہ اسے جوڑ دو اور وہ خواب میں اس کی ٹانگ جوڑ دیتی ہے ۔تو اس نے مجھے خواب سنایا کہ باجی یہ مجھے کیسا خواب آ یا ہے ؟ تو میں نے اس سے کہا کہ تم وہاں پر کوئی برتن رکھ کر اس میں پہلے کی طرح کھانا رکھا کرو ، کیونکہ جب سے برتن ٹوٹا تھا روز کوے آ کر شور مچاتے تھے آخر خواب میں آ کر انہوں نے یاد دہانی کروا دی ہے اور اس نے دوبارہ وہ کام شروع کر دیا اور پرندے روز آتے ہیں ۔

ہیپا ٹاٹئس سے نجات کیسے ملی:۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! سب سے پہلے تو ہمیں یہ سمجھ میں نہیں آتا ہم کس طرح آپ کا شکریہ ادا کریں الفاظ ساتھ نہیں دے رہے نہ ہی کچھ سمجھ آ رہا ہے ۔ کیا لکھو ں! عبقری سے ہمارا تعارف سات ماہ پہلے ہوا ، ہوا کچھ یوں کہ میرے کچھ گھریلو حالات خراب ہوئے اس دوران  میرے کزن جو کہ کراچی میں رہتے ہیں انہوں نے نیٹ سے مجھے آپ کے کچھ وظائف  انمول خزانے والا وظیفہ دیا ۔ جو میں ہر نماز کے بعد پڑھتی تھی اور کزن نے یہ بھی بتایا کہ ایک میگزین عبقری بھی آتا ہے ۔ بہر حال انہوں نے مجھے ایک نمبر بھی دیا میں نے وہاں فون کیا ان صاحب سے میں نے پوچھا بھائی کیا حکیم صاحب خط کا جواب دیتے ہیں انہوں نے کہا ہاں بہن بالکل جواب دیتے ہیں ، ان سے میں نے کہا بھائی میرے پاس ایڈریس وغیرہ کچھ بھی نہیں آپ مجھے میرے نمبر پر ایڈریس بھیجیں ۔ انہوں نے مجھے ایڈریس بھیجا ۔ میں نے اللہ پاک کا نام لے کر حکیم صاحب کو خط لکھا ۔ الحمد اللہ! انہوں نے جوا ب بھی بھیجا چند وظیفے بھی دیئے ۔ جو میں پڑھ رہی ہوں ۔تب ہمیں پتہ چلا ماشاءاللہ حکیم صاحب کی اتنی کتابیں بھی ہیں ۔ پھر میرے بھائی نے عبقری منگوایا ۔ اب ہر مہینے عبقری ہمارے گھر آتا ہے میں نے اس تحریر میں اپنی کہانی اس لیے لکھی ہے کیونکہ میری کہانی کی وجہ سے ہی ہمیں عبقری اور حضرت حکیم صاحب جیسے نیک دل بزرگ کا پتہ چلا ۔۔ جب اس ماہ کا عبقری ہمارے پاس آیا تو اس میں ہیپا ٹاٹئس نجات سیرپ جس کی دس بوتلوں کا مکمل کورس کا تعارف تھا ۔ میری امی کو ہیپا ٹاٹئس تھا بہت علاج کروایا لاکھوں خرچ کیے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا امی کو سر درد بخار معدے کا درد امی بہت بیمار تھیں ۔ ہم نے اللہ پاک کا نام لیکر عبقری کے دفتر فون کیا، پہلے پانچ بوتلیں منگوائیں ۔ امی نے پینی شروع کیں امی تیزی سے صحت یاب ہو رہی تھیں بخار ، سر درد سب ختم ! پورا مکمل کورس کیا ۔ اس دوران عبقری میں ایک بہن نے بھی دو وظیفے بتائے تھے یرقان کے سورہ عم پارہ 30 سات دفعہ پانی پر دم کر کے پیے اور سورہ تغابن تین دفعہ معدہ اور پیٹ پر دم کرے ۔ پابندی کے ساتھ ، ہم نے وہ بھی کیا ، پھر ایک علاج بھی تھا ہم نے وہ بھی کیا ۔

ھوالشافی:۔ مکو 24 گرام، سونف 12 گرام ۔ کاسنی کے بیج 24 گرام ، شربت دینار دو چمچ ، اس کی ترکیب یہ ہے کہ ایک کلو پانی لیں اوپر کی تینوں چیزیں پکنے کیلئے رکھ دیں جب ایک کپ رہ جائے تو نیچے اتار کر شربت دینار ملا کر نیم گرم پی لیں ۔ صبح ناشتے سے دو گھنٹے بعد اور شام کو کھانے سے دو گھنٹے پہلے پندرہ دن استعمال کر بعد ٹیسٹ کروالیں انشاءاللہ افاقہ ہو گا ۔ ہم نے سب کچھ کیا جب امی نے مکمل علاج کے بعد ٹیسٹ کروائے ہماری خوشی کی تو انتہا نہ رہی رپورٹ بالکل صاف تھی کچھ بھی نہیں تھا ۔ وہاں ایک بندہ تھا انہوں نے بھائی کو کہا آپ نے کون سا علاج کروایا تھا۔ بھائی نے سب بتایا ہم نے اللہ پاک کا شکر ادا کیا ۔

کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت کا ورد:۔

آج سے تقریباً سات آٹھ سال پہلے جمعہ کے خطبہ میں ایک بزرگ نے فرمایا کہ جب کوئی انسان خلوص کے ساتھ کلمہ طیبہ پڑھتا ہے اور کلمہ شہادت پڑھتا ہے تو اللہ پاک اس کے سارے گناہ معاف فرمادیتے ہیں ، اور چار ہزا ر نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں ۔  میں ذاتی طور پر کسی بھی مشکل کے وقت اپنے آپ کو گناہوں کی غلاظت میں محسوس کرتا ہوں اس لیےکلمہ طیب اور کلمہ شہادت پڑھتا ہوں اور ذہن اور دل میں یقین کرتا ہوں کہ اب میں پاک صاف ہو گیا اور گناہوں کی نحوست سے دور ہو گیا اور نیکیوں کی بہار میں ہوں ۔ اس کے بعد تین مرتبہ اور ہر مرتبہ اول میں ﷽ اور اس کے بعد انا للہ وانا الیہ راجعون
پڑھتا ہوں ۔ اور یقین کے درجے میں رکھتا ہوں کہ میرا اللہ پاک میری دست غیب سے بہترین انداز میں دستگیری کرے گا اور عنایت کرے گا ایک دفعہ میرے گھر کا کچھ حصہ میں مرمتی کام چل رہا تھا اور دوسرے مستری مزدور بھی تھے ۔ ظہر کے بعد میں قریبی شہر گیا اور مغرب کے بعد لوٹا تو وہ الیکٹریشن اور مستری مزدور بھی تھے ۔ میں نے کہا بھائی آپ اپنے گھر نہیں گئے تو کہنے لگا کہ میرے پیسے اور کارڈ وغیرہ یہاں گر گئے ہیں آپکی اوطاق میں اور کسی نے اس کو اٹھا لیا ہے ۔ اس لیے آپ کا انتظار کر رہا تھا ۔ میں نے مستری صاحب سے اس کے  مزدوروں کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ تو سب چلے گئے ہیں ۔ میں نے الیکٹریشن کو کہا بھائی ۔ آپ بھی اللہ سے مانگیں میں بھی مانگتاہوں ۔ میں نے اوپر بیان کیا عمل پڑھا اور دل میں اپنے مسلمان بھائی کے نقصان پر افسوس بھی کیا ۔ ہم دونوں نے خوب ذکر کیا تو اگلی صبح اس الیکٹریشن کے پاس اور کارڈ وہیں قریب سے مل گئے حالانکہ کل کافی وقت وہ اسی جگہ ڈھونڈ تا رہا تھا ۔

کلونجی کے تجربات :۔

دوران ملازمت شدت کے ساتھ اور اس سے پہلے اپنے مقام حیدر آباد میں درمیانی سطح کے ساتھ سانس لینے میں بہت تکلیف ہوتی تھی ۔ اور سر میں درد کی لہریں بھی اٹھتی تھیں اس کیلئے بہت ہی ماہرین حضرات سے علاج کرایا مگر رزلٹ نیکسٹ ٹو ناٹ پھر آکو پنکچربھی کراچی کے ایک مشہور کلینک سے کرایا ۔مگر کوئی خاص فائدہ نہ ہوا اس کے علاوہ بہت ہی اور مسائل میں جکڑا ہوا ۔ کسی کام کے سلسلے میں لاہور آیا وہاں محترم حضرت حکیم صاحب ، سے ملاقات بھی ہو گئی ۔ وہاں سے ان کی ایک کتاب کلونجی کے کرشمات ملی ۔ اس میں سے میں نے سب سے آسان نسخہ کلوجی کا قہوہ جس میں کبھی کبھی برگ بانسہ بھی تھوڑ ا ملاتا تھا پینے کیلئے شروع کیا ۔ دوران ملازمت سعودی عرب میں بھی میرے دفتر میں چائے کے وقت یہی معمول تھا ۔ الحمدللہ ! میرا اوپر بیان کیا ہوا سارا مسئلہ اللہ پاک نے حکیم صاحب کے اخلاص کے طفیل حل کر دیا۔

وتر نماز کے بعد ایک مجرب عمل:۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! یہ عمل ہماری ٹیچر نے تحفہ کے طور پر دیا اور سب طالبات نے اس کو نوٹ کرلیا ،آج تک میں پابندی سے یہ عمل کرتی ہوں عمل رات عشاء کی نماز میں وتر نماز کے بعد دو سجدے اس طریقے سے کریں کہ پہلے سجدے میں پانچ بار سبوح قدوس ربنا ورب  المئکۃ والروح پڑھیں ۔ پھر بیٹھ کر دونوں سجدوں کے درمیان ایک بار آیۃ الکرسی اور پھر دوسرے سجدے میں اس طرح درج بالا الفاظ پڑھیں ، اس طرح دو سجدوں کے اندر دس بار اور دو سجدوں کے درمیان ایک بار آیۃالکرسی پڑھی جائے گی۔ فضیلت اس کی یہ ہے کہ اس وظیفہ کو پڑھنے والا جائےنماز پر بیٹھتا ہے اٹھنے سے قبل اللہ پاک کی رحمت کا نزول اور ستر فرشتے اس کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور کلمہ طیبہ نصیب ہوتا ہے اور شہادت کی موت نصیب ہوتی ہے جو اس کے پڑھنے کے بعد دعا مانگتا ہے تو اللہ پاک کے دربار عالیہ میں قبول ہوتی ہے بشرطیکہ اخلاص نیت سے عمل کرے ۔

چھوٹا سا وظیفہ اور بڑی کامیابی

چھوٹا سا وظیفہ اور بڑی کامیابی:۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! آپ پر اللہ پاک اپنی رحمت کا سایہ قائم رکھے آپ اور آپ کے تمام ساتھی جو اس کارخیر میں آپ کے ساتھ ہیں ان سب کیلئے نیک تمنائیں اور ڈھیروں دعائیں یہ وظیفہ میں خاص عبقری کے قارئین کیلئے بھیج رہی ہوں ۔ میری بیٹی نے جب بھی پیپرز دیئے اور ہر بار پیپرز دینے کے بعد 11 ہزار بار روزانہ یاحسیب کا وظیفہ تین دن پڑھتی ہے ،تو بہت اچھے نمبرز سے پاس ہو جاتی ہے۔ اس بار اس نے ایم اے کے پیپرز دیئے اور یہی وظیفہ کیا تو بہت اچھے نمبرز آئے۔

مچھلی کا تیل کھائیں خوش ،صحت مند اور ترو تازہ رہیں

مچھلی کا تیل کھائیں خوش ،صحت مند اور ترو تازہ رہیں :۔

قارئین! آج کل اکتوبر چل رہا ہے، موسم میں خنکی شروع ہو چکی ہے ۔ رات کو ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں ۔ ایسے موسم میں لوگوں کو سب سے زیادہ جس کھانے کی چیز کی طرف رحجان ہوتا ہے وہ ہے مچھلی !سرد رات میں تلی ہوئی یا بیسن لگی گرم گرم ک مچھلی کھانے کا مزہ ہی کچھ اور ہے ۔ مچھلی کے گوشت کے بے شمار فوائد ہیں ۔ جنہیں آپ وقتاً فوقتاً اخبارات ، رسائل یا دوسرے ذرائع ابلاغ میں پڑھتے یا سنتے رہے ہوں گے ۔ مگر مچھلی کے تیل کے فوائد کا بہت ہی کم لوگوں کو علم ہے ۔ مچھلی کا تیل بہت سے امراض کا تیر بہدف علاج ہے ۔ آئیے ! آج ہم مچھلی کے تیل کی کچھ کرامات پڑھتے ہیں ۔ بہت سے تجربات سے یہ بات واضح ہو کر سامنے آئی ہے ۔ مچھلی کے تیل کے استعمال سے خون کے اندر ٹرائی گلیسر ائیڈ کی مقدار کم ہو جاتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایچ ڈی ایل کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کو اچھا کولیسٹرول سمجھا جاتا ہے ۔ اس کے استعمال سے خون جلد نہیں جمتا اور ہومو سسٹین جس کی زیادتی آج کل بلڈ پریشر کی وجہ بیان کی جاتی ہے کہ سطح جسم میں کم ہو جاتی ہے ۔یہ ایک امینوایسڈ ہے ۔ جو دل کے امراض پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے۔ مچھلی کا تیل وریدوں اور شریانوں کو تنگ نہیں ہونے دیتا اور جسم کے اندر سوزش کو کم کرتا ہے ۔ سائنسی دنیا میں کہا جاتا ہے کہ مچھلی کا تیل دل کے امراض ، ہائی بلڈ پریشر اور جوڑوں کے دردوں کے لئے موثر ہے ۔ عام طور پر 9-3 گرام یومیہ استعمال کرنا چاہیے ۔ نو گرام مچھلی کے تیل میں تقریباً 1.8 گرام ای کو سائپین ٹینوئک ایسڈ ملنا چاہیے ۔ یہ بھی ضروری فیٹی ایسڈز کی فہرست میں شامل ہے اور اس کے علاوہ 0.9 گرام دوکو ساہیکسا اینوئک ایسڈ بھی موجود ہے ۔ السی میں بھی اومیگا تھری فیٹی ایسڈ موجود ہوتا ہے ۔ لہذا مچھلی کی جگہ السی کا تیل بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ السی کے تیل میں ناخوشگوار بو کم ہوتی ہے۔ بعض ادارے مچھلی کے تیل کے ساتھ وٹامن ای کو ملا تے ہیں یا پھر آکسیجن کو نکال لیتے ہیں تاکہ تیل خراب نہ ہونے پائے کیونکہ وٹامن دافع تکسید خصو صیات کا حمل وٹامن ہے ۔ اس کے علاوہ دوسری ضروری بات یہ ہے کہ السی کے تیل میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈ مچھلی کے تیل میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے مختلف ہے چنانچہ السی کے تیل کے استعمال سے وہ نتائج بر آمد نہیں ہوتے جو مچھلی کے تیل کے استعمال سے ہوتے ہیں ۔مچھلی کے تیل کی بنیادی خصو صیات میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کو کم کرنا ، خون کو جسم میں جمنے نہ دینا اور اس میں ہومو سسٹین کی مقدار کم کرنا شامل ہے ۔ کچھ تحقیقی تجربات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ یہ سیرم میں موجود ٹرائی گلیسرائیڈ کو بھی کم کرتا ہے ، اور یہ تمام چیزیں ذیابیطس کے مریض کیلئے ضروری ہیں کیونکہ مچھلی کا تیل ذیابیطس اور دل کے امراض سے بچاتا ہے ۔ مچھلی کا تیل جوڑوں کے دردوں کی علامات کو کم کرتا ہے ۔ خواتین جن کو ماہواری کے دوران انتہائی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کو مچھلی کے تیل السی کے تیل اور گیمالی نولی نک ایسڈ کے استعمال سے کافی افاقہ ہوتا ہے لیکن ترجیح کے طورپر مچھلی کا تیل زیادہ مفید گدانا گیا ہے ، مقدار خوراک کے لحاظ سے 42 نوجوان خواتین کو چھ گرام یعنی چھوٹا چائے کا چمچ یومیہ استعمال کروایا گیا جس سے ان خواتین کو 1080 ملی گرام EPA اور 720 ملی گرام ڈی ایچ اے میسر آ سکتا ہے ۔ اور اس کو دو ماہ کیلئے استعمال کروایا گیا تو اسی فیصد خواتین میں ماہواری کے دوران درد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ۔ ہاتھ پاؤں کو جب ضرورت سے زیادہ سردی محسوس ہو اس میں بھی مچھلی کا تیل مفید ہے ۔ چنبل کے مرض میں بھی مفید ہے ۔ اور گردہ کے امراض میں بھی موثر ہے  ، چنبل کے مرض کیلئے ایک بڑا چمچ یومیہ مچھلی کا تیل استعمال کرنے کا کہا گیا ہے ۔ اس کا استعمال خارش سرخی اور کھال کے اترنے میں کافی مفید ثابت ہوا ہے لیکن یہ چنبل کے دھبوں میں کمی نہیں کرتا ، ہڈیوں کےکمزور ہونے کی صورت میں مچھلی کے تیل کا استعمال کیلشیم کے جذب ہونے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ خون کو پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے لوگوں کو احتیاط سے مچھلی کا تیل استعمال کرنا چاہیے ۔ کیونکہ مچھلی کا تیل بھی خون کو پتلا کرتا ہے ۔