Saturday, August 27, 2016

مراقبے سے علاج


مراقبے کے جب کمالات کھلیں گے تو حیرت کا انوکھا جہان اور مشکلات کا سو فیصد حل خود آپ کو حیرت زدہ کر دے گا۔ Meditation یعنی مراقبہ جہاں ازل سے روحانیت کی ترقی اور مشکلات کے حل کا علاج رہا ہے وہاں جدید سائنس نے اسے امراض کا یقینی علاج بھی قرار دیا ہے۔ ہزاروں تجربات کے بعد عبقری کے قارئین کے لئے مراقبے سے علاج پیش خدمت ہے۔ سوتے وقت اگر با وضو اور پاک سوئیں تو سب سے بہتر ورنہ کسی بھی حالت میں صرف 10 منٹ بستر پر بیٹھ کر بلا تعداد



 ورد کر یں‘ اول و آخر 3 بار درود شریف پڑھیں پھر لیٹ جائیں۔ جس مرض کا خاتمہ یا الجھن کا حل چاہتے ہوں اس کو ذہن میں رکھ کر یہ تصور کریں کہ ’’ آسمان سے سنہرے رنگ کی روشنی میرے سر سے سارے جسم میں داخل ہو کر اس مرض کو ختم یا الجھن کو حل کر رہی ہے اور اس وظیفے کی برکت سے میں سو فیصداس پریشانی سے نکل گیا/گئی ہوں‘‘ یہاں تک کہ اس تصور کو دہراتے دہراتے نیند آجائے۔ شروع میں تصور بناتے ہوئے آپکو مشکل ہو گی لیکن بعد میں آپ پر جب اسکے کمالات کھلیں گے تو حیرت کا انوکھا جہان اور مشکلات کا سو فیصد حل خود آپ کو حیرت زدہ کر دیگا۔ مراقبے کے بعد اپنی کیفیات فوائد اور انوکھے تجربات ہمیں لکھنا نہ بھولیں۔

حسد کرنے والوں اور لوگوں کے شر سے بچنے کے لیے دعا


 حاسدوں سے حفاظت
اگر کوئی شخص اپنے ماحول، پڑوسی، ساتھ کام کرنے والوں، دوست، احباب، رشتہ داروں سے تنگ ہو اور وہ اسے ستاتے اور پریشان کرتے ہوں تو اس کیلئے روزانہ بعد نماز مغرب یا بعد نماز عشاء باوضو ایک سو بار یہ دعا پڑھا کرے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ظالموں سے جلد نجات حاصل ہوگی۔ وہ دعا یہ ہے:۔


خواجہ خدابخش خیرپوریؒ مستند روحانی وظائف


حافظہ کی کمزوری ، بھول چوک اور نسیان کے مرض کے لیے

اگر کسی کو نسیان یعنی بھول چوک کا مرض ہوتو اس کیلئے ہر فرض نماز کے بعد تیرہ مرتبہ یہ آیت پڑھے۔ رب زدنی علما اور گیارہ مرتبہ یہ آیت پڑھ کر دونوں ہاتھوں پر دم کرکے ٹوپی اتار کر اپنے سر پر پھیرے۔


سیلان الرحم
بعض عورتوں کو سیلان الرحم کی شکایت ہوتی ہے اور حیض کے علاوہ استحاضہ کا خون آتا ہے جس سے عورت کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اس کیلئے یہ عمل بہت کارآمد اور مفید ہے۔ زیتون کا ایک کلو تیل لے کر اول گیارہ مرتبہ درود شریف اس کے بعد گیارہ سو مرتبہ سورۂ والتین پڑھیں اور آخر میں گیارہ بار درودشریف پڑھ کر اس زیتون کےتیل پر دم کرکے رکھ لیں اور روزانہ صبح ناشتہ کے وقت روٹی پر چپڑ کر یاڈبل روٹی یا توس پر لگا کر کھائیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ سیلان کا مرض جاتا رہے گا۔
ماہواری کم یا درد کے ساتھ آنا
اگر کسی عورت کوماہوار کم آتی ہو یا تکلیف اور درد کے ساتھ آتی ہو یا بال گرنے کی شکایت ہو یا کمر میں درد رہتا ہو یا ہاتھ پاؤں کی ہتھیلیاں جلتی ہوں تو اس کیلئے یہ عمل مجرب ہے۔ ایک کلو سوکھا کھوپرا لے لیں۔ اول گیارہ بار درود شریف اس کے بعد سورۂ ملک ایک سو تیس مرتبہ آخر میں گیارہ بار درود شریف پڑھ کر اس کھوپرے پر دم کریں۔ اس کے بعد کھوپرے کو کاٹ کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرلیں۔ روزانہ رات کو ایک پاؤ گائے کے دودھ میں وہ کھوپرے کا ٹکڑا بھگودیں۔ صبح کو منہ دھو کر نہار منہ کھوپرے کا ٹکڑا کھاکر دودھ پی لیں۔ گائے کے گوشت اور گرم چیزوں کے کھانےسے پرہیز کریں۔ گرم چیزیں یہ ہیں: گائے کا گوشت‘ مچھلی‘ انڈا‘ مرغی‘ بینگن‘ آم کا اچار وغیرہ۔ یہ کھوپرا مسلسل تین ماہ استعمال کریں اور ماہواری کے ایام میں کھوپرا استعمال نہ کریں۔ کھوپرا پاک حالت میں کھانا ہے اگر ناپاک حالت ہے تو پہلے غسل کرکے پاک ہوجائے پھر استعمال کرے انشاء اللہ تعالیٰ جلد ہی تمام شکایات دورہوجانی شروع ہوجائیں گی۔

کتے کے کاٹ لینے سے زہر کا اثر ختم
اگر پاگل کتا کسی کو کاٹ لے اور اس کا مناسب علاج نہ کیا جائے تو وہ شخص بھی کتے کی طرح بھونکنے لگتا ہے اور لوگوں کو کاٹ لے تو وہ بھی پاگل ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اس کا فوری علاج کرانا چاہیے۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہ عمل بھی کرے تاکہ کتے کے کاٹےکا زہر اثر نہ کرے۔ اس عمل کی برکت سے انشاء اللہ تعالیٰ کتے کے زہر کا اثر ختم ہوجائے گا۔ وہ عمل یہ ہے۔ زعفران کو عرق گلاب میں گھول کر اس سے کسی نئے برتن میں یہ حروف باوضو لکھے اور روغن زیتون (زیتون کے تیل) سے دھو کر اس مریض کو پلائے۔ انشاء اللہ تعالیٰ کتے کا زہر ختم ہوجائے گا۔ مجرب عمل ہے۔ وہ حروف یہ ہیں:۔
ا ب ج ا ع ہ د با ب اللہ
نسیان اور بھول چوک کا مرض ختم
اگر کسی کو نسیان یعنی بھول چوک کا مرض ہوتو اس کیلئے ہر فرض نماز کے بعد تیرہ مرتبہ یہ آیت پڑھے۔ رب زدنی علما اور گیارہ مرتبہ یہ آیت پڑھ کر دونوں ہاتھوں پر دم کرکے ٹوپی اتار کر اپنے سر پر پھیرے۔


سحر، جادو، سفلی کا اثر ختم کرنا
اگر کسی آدمی یا عورت پر یا بچے، بچی پر جادو کرادیا گیا ہو جس کے سبب وہ بیمار رہتے ہوں یا ان پر جادو کے سبب پاگل پن طاری ہوگیا ہو تو اس کیلئے یہ آیات باوضو ایک چینی کی پلیٹ بغیر پھول والی پر لکھے اور ایک پانی کا مٹکا اس بارش کے پانی کا لے جو پہاڑ پر برسا ہو یعنی ایک مٹکا لے جا کر بارش کے دوران پہاڑ پر رکھ دے وہ بارش کے پانی سے بھر جائے تو اٹھاکر گھر لے آئے اور یہ مٹکا اس حالت میں لائے کہ لاتے وقت لانے والے کو کوئی نہ دیکھے۔ اسی طرح ایک مٹکا پانی اس کنویں سے بھر کر لائے جوبیکار اور ویران پڑا ہو۔ جمعہ کے دن سات درختوں سے ایک ایک پتہ ہرا لے کر آئے۔ درخت ایسے ہوں جن کے پھل ابھی تک کھائے نہ گئے ہوں‘ دونوں مٹکوں کے پانی کو ملا کر ساتوں پتے اس میں ڈال دیں اور نہر یا سمندر یا تالاب یا جھیل کے کنارے لے جاکر دونوں پاؤں لٹکا کر اس پلیٹ والی آیت کو اس مٹکے والے پانی سے دھو کر مٹکے والا پانی اپنے سر کے اوپر ڈونگے بھر بھر کر ڈالنا شروع کردے۔ جب سب پانی اپنے جسم پر بہالے تو دوسرے کپڑے پہن کر گھر آجائے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس عمل سے سحر، جادو، سفلی کا عمل ختم ہوجائے گا۔ وہ آیات یہ ہیں



حاسدوں سے حفاظت
اگر کوئی شخص اپنے ماحول، پڑوسی، ساتھ کام کرنے والوں، دوست، احباب، رشتہ داروں سے تنگ ہو اور وہ اسے ستاتے اور پریشان کرتے ہوں تو اس کیلئے روزانہ بعد نماز مغرب یا بعد نماز عشاء باوضو ایک سو بار یہ دعا پڑھا کرے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ظالموں سے جلد نجات حاصل ہوگی۔ وہ دعا یہ ہے:۔


علم میں برکت اور اضافہ کیلئے
جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ علم میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھے وہ بہت بڑا اور معتبر عالم دین بنے تو اس کیلئے اساتذہ کی خدمت اور ان کا ادب و احترام کرنے کے ساتھ ساتھ یہ دعا روزانہ کسی بھی نماز کے بعد اول وآخر گیارہ گیارہ بار درود شریف اور درمیان میں ایک سو بار یہ دعا پڑھا کرے۔ انشاء اللہ تعالیٰ علماء کرام اور اہل علم میں ممتاز عالم دین شمار ہوگا۔ یہ دعا دنیاوی علوم کیلئے بھی پڑھی جاسکتی ہے۔ وہ دعا یہ ہے:۔
رب زد نی علما۔

بواسیر بھی ٹھیک اور قبض بھی ختم


محترم ..............۔آپ نے ایک مرتبہ درس میں بتایا تھا کہ اگر بواسیر ہو تو باتھ روم کی دعا پڑھیں۔ مجھے یہ مسئلہ ہوا تو میں نے باتھ روم کی دعا اپنا معمول بنالیا۔ میری بواسیر بھی ٹھیک ہوگئی اور قبض تھی وہ بھی بالکل ختم ہوگئی۔



چھت کے چار کونوں میں پانی چھڑکیں اور آسمانی بلائیں بھگائیں -


مندرجہ ذیل اعمال بزرگان دین اور صالحین کے آزمودہ اور منقول شدہ ہیں جن کے شائع کرنے کا مقصد مخلوق خدا کو تسبیح اور مصلے کے ساتھ غیرشرعی اعمال کے بجائے نوافل و تسبیحات کے ذریعہ جوڑنا ہے۔
جمادی الاخریٰ کے فضائل:۔
اسلامی سال کے چھٹے مہینہ کا نام جمادی الاخریٰ ہے۔ اس مہینہ میں وظائف ونوافل پڑھنے کا بیان اس طرح سے ہے۔
ہر حاجت اور ہر طلب کیلئے:۔
کسی قسم کی مالی پریشانی ہویا گھریلو پریشانی ہو یا کوئی رکاوٹیں ہوں تو درج ذیل آیت کا کثرت سے ورد کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ہر جائز حاجت کو پورا فرمائیں گے۔

مصیبت کو ٹالنے کیلئے:
درج ذیل آیت کو اٹھتے بیٹھتے نہایت توجہ اور یقین کے ساتھ پڑھیں اللہ تعالیٰ آپ کی تمام مصیبتوں کو ٹال دیں گے۔ 

(پارہ 30 سورۂ الم نشرح‘ آیت نمبر 6,5)

گھر کاروبار کی خیروبرکت کیلئے:۔
786

بارپڑھ کر ہاتھوں پر پھونک ماریں‘ پانی پر بھی تین بار پھونک ماریں جس جس گھر میں رہتے ہیں اس کی خیروبرکت کیلئے تین پھونکیں ماریں اور کاروبار کیلئے دکان یا کارخانہ یا ملازمت والی جگہ کی طرف تین پھونکیں ماریں۔ دم کیے ہوئے پانی سے تھوڑا پانی لیں گھر کی چھت پر چاروں کونوں میں پانی ڈالیں آسمانی بلائیں دور ہوجائیں گی۔ گھر کی دیواروں پر دم کیا ہوا پانی چھنکیں گھر کے اندر تعویذ دھاگہ نحوست کالاجادو ختم ہوجائے گا۔ انشاء اللہ باقی پانی پینے کیلئے ہے اس سے جسمانی شفاء اور روحانی علاج ہوجائے گا۔ یہ عمل انتہائی یقین کے ساتھ چند ماہ مستقل کریں ‘ تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔

جائز حاجات پوری ہونگی:۔
 پہلی شب نماز مغرب کے بعد پندرہ مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے، ایک مرتبہ معوذتین پڑھے اور سجدے میں جاکر تیس مرتبہ 



کہہ کر نہایت توجہ ویکسوئی سے بارگاہ الٰہی میں دعا مانگے، انشاء اللہ تعالیٰ جو بھی جائز حاجت ہو گی وہ پوری ہو گی۔ اس کے علاوہ پہلی رات کو نماز عشاء کے بعد دو رکعت نفل نماز پڑھے اور جو جتنا بھی قرآن پاک پڑھ سکتا ہو، پڑھے۔ نماز وغیرہ سے فارغ ہو کر بکثرت استغفار اور درود پاک پڑھے۔

تقرب الٰہی کیلئے:
۔
نوافل:جمادی الاخریٰ کی پہلی شب کو بزرگان دین نے یہ بھی بتایا ہے کہ بارہ رکعت نفل نماز دو دو رکعت کر کے ادا کرے، اس کے علاوہ نماز عشاء کے بعد چار رکعت نفل نماز اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں تیرہ مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے۔ بفضل باری تعالیٰ قرب الٰہی نصیب ہوگا۔

مفلسی اور تنگد ستی سے نجات کیلئے:۔
دسویں شب:اس ماہ کی دسویں شب کو بارہ رکعت نفل نماز اس طرح سے دو دو رکعت کر کے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ قریش پڑھے اور نماز سے فراغت کے بعد ایک مرتبہ سورۂ یوسف تلاوت کرے تو انشاء اللہ تعالیٰ اس کی مفلسی اور تنگدستی دور ہو جائے گی۔ سارا سال آفات وبلیات سے محفوظ رہے گا تنگی وعسرت نہ آئے گی۔

ثواب عظیم کیلئے:۔
اکیسویں شب:جمادی الاخریٰ کی اکیسویں رات سے اس ماہ کی آخری شب تک روزانہ بلاناغہ نماز عشاء کے بعد بیس رکعت نفل نماز دو دو رکعت کر کے اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ ٔفاتحہ کے بعد ایک ایک مرتبہ سورہ ٔاخلاص پڑھے۔ انشاء اللہ تعالیٰ بہت ثواب حاصل ہو گا۔

Tuesday, August 23, 2016

مارچ! تازگی ‘ رعنائی اور زیبائی کا شاندار موسم


ماہ مارچ موسم بہار کے آغاز و استقبال کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں اپنے گلستان جسم کے پھولوں یعنی دل، دماغ، جگر اور معدہ جن کو طبی اصطلاح میں اعضائے ریئسہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، پورے غور و التفات سے نگہداشت کریں۔ سال کے بارہ مہینوں میں کیفیت و بشاشت اور رعنائی و زیبائی کے لحاظ سے جو فوقیت مارچ کو حاصل ہے وہ کسی اور مہینے کو نہیں ہے۔ یہ مہینہ موسم بہار کا نہ صرف آغاز ہے بلکہ بہار کی حلاوت آفرین اور کیف پرور رعنائیوں کے سعود کا بھی زمانہ کہلاتا ہے اور ہر انسان خواہ غریب ہو یا امیر طبع و مزاج میں صرف ایک گونہ مستعدی توانائی اور شبابی کیفیت محسوس کرتا ہے۔ غذائی معمولات جو موسم سرما میں ہر انسان کی عادت ثانیہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ اس مہینے کے شروع ہوتے ہی قدرتی طور پر اعتدال و توازن کی جانب مائل ہونے لگتے ہیں۔

لباس میں واضح قسم کا تغیر رونما ہونے لگتا ہے اور سوائے کمزور صحت والے افراد کے ہر تندرست و توانا شخص گرم ملبوسات کو خیر باد کہنے لگتا ہے۔ طبعی انجماد ، جسم کا ٹھٹھرائو اور ہمہ وقت سرد ہوائوں کے تھپیڑوں سے محفوظ رہنے کا احساس دور ہو جاتا ہے۔ پودوں میں نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ شاخوں کی انگڑائیوں میں حسن و شباب کا ایک مسحور کن فطری بانکپن لہراتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ باغوں میں نئے نئے شگوفے پھوٹ کر چشم بینا کیلئے تسکین چشم و دل کی دعوت دیتے ہیں اور حسین گلستان کے ساتھ ساتھ آروزئوں اور ولولوں کے خیابانوں میں بھی نگہت و رنگ اور راحت کے پھول کھلنے لگتے ہیں۔ قدرت کاملہ کا کوئی کام حکمت و مقصدیت سے خالی نہیں۔ خلائق عالم کی حکمت بالغہ مہکتے ہوئے پھولوں کے اندر جو مشک عنبر کی سی مہک اور ختن جیسی خوشبو پیدا کرتی ہے وہ اشرف المخلوقات کیلئے فی الواقعی پیغام شفا اور نوید صحت کا درجہ رکھتی ہے۔ جس طرح سوکھی اور برہنہ شاخوں کو پتوں اور شگوفوں کی سبز خلعت پہنانے کیلئے موسم بہار کی ضرورت ناگزیر ہے اور چمن زاروں کی تزئین و آرائش کا حسن موسم بہار کے گنگناتے ہوئے لمحوں میں مضمر ہے، بالکل یہی کیفیت ہمارے اور آپ کے جسم کی ہے اور اگر آپ اپنے جسم کی زیب و زینت اور صحت و سلامتی کے آرزو مند ہیں تو آمد بہار سے پہلے یعنی مارچ کے شروع ہوتے ہی اس طرف توجہ کریں۔

 ماہ مارچ موسم بہار کے آغاز و استقبال کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں اپنے گلستان جسم کے پھولوں یعنی دل، دماغ، جگر اور معدہ جن کو طبی اصطلاح میں اعضائے ریئسہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، پورے غور و التفات سے نگہداشت کریں۔ یاد رکھئیے آپ کی اس بروقت اور ہوشمندانہ توجہ سے صرف اعضائے رئیسہ کو ہی فائدہ نہیں پہنچے گابلکہ اس کے ساتھ ساتھ اعضائے غریبہ کو بھی خاطر خواہ فوائد حاصل ہوں گے۔ ان احتیاطوں اور حفاظتی تدابیر سے اغماض کا نتیجہ ہی ہے کہ اپریل میںبہت سے لوگ خرابی خون اور متعدد جلدی عوارض (بالخصوص بچے) مثلاً خسرہ، موتی جھرہ، لاکڑا کاکڑا، کالی کھانسی، چیچک، فلو، وغیرہ کے عوارض سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس قسم کے موسمی عوارض سے محفوظ رہنے کیلئے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر کرنا بے حد سود مند ثابت ہو گا۔
۔۔ (1) زیادہ گرم تاثیر والے میوہ جات سے اجتناب کریں۔۔
۔۔ (2) رات کو جلد سوئیں اورصبح جلدبیدار ہونے کی عادت ڈالیں۔
۔۔۔(3) ہر قسم کی شیریں غذائیں مثلاً مٹھائی، بالخصوص چینی بہت کم استعمال کریں کیونکہ یہ خون میں فساد و خرابی پیدا۔ کرکے شوگر جیسے موذی مرض کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
۔۔۔ (4) پیدل چلنے، صبح کی ہوا خوری اور مناسب ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔ پیدل ہوا خوری کا سیدھا طریقہ یہ ہے کہ جلد صبح سورج نکلنے سے ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے نکل جایا کریں اور اس وقت لوٹا جائے جبکہ دھوپ زیادہ تیز نہیں ہوئی ہو۔ حسب طاقت ایک شخص ایک میل سے پانچ چھ میل تک روزانہ پیدل ہوا خوری کر سکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ پیدل ہوا خوری سے آپ کی برداشت بڑھ جائے گی اور پورے نظام جسمانی کو یکساں طور پر یہ فائدہ پہنچے گا کہ اگر کسی مرض کے جراثیم آپ کے جسم کے اندر پہنچ بھی چکے ہوں گے یا جو موسمی رطوبات نظام جسمانی میں بیماریوں کو پالنے والی موجود ہوں گی ان کا اخراج حتمی طور پر عمل میں آجائے گا۔ اگر زمین پتھریلی اور کنکریلی نہ ہو تو ننگے پائوں پیدل ہوا خوری کرنے سے مطلوبہ نتائج برآمد ہوں گے لیکن مشکل یہ ہے کہ شہروں میں اس طرح پیدل ہوا خوری ممکن نہیں ہے۔ اگر قصبات و دیہات کی کچی اور گھاس والی پگ ڈنڈیوں اور راستوں پر چلنے کا موقع میسر آئے تو یہ سب سے زیادہ مناسب صورت ہے۔دوا کی تدابیر: صبح و شام ایک تولہ خمیرہ گائوزبان پانچ تولہ عرق گائوزبان کے ساتھ استعمال کریں۔ یہ استقرار صحت اور ازالہ عوارض کی بہترین تدبیر ہے۔ ایرانی عناب بقدر ایک تولہ لے کر رات کو پائو بھر پانی میں بھگو دیں اور صبح کو اس کا مقطر پانی قدرے شہد میں ملا کر استعمال کریں۔ جلدی عوارض اور سینے کے امراض سے محفوظ رہنے کی یہ مناسب دوائی ہے۔ اس مہینے رونما ہونے والے دیگر عوارض کی تفصیلات کے سدباب کی تدابیر حسب ذیل ہیں۔ بخار: اس مہینے میں تغیر موسم کے سبب سے بخار بھی ہو جایا کرتا ہے جو عدم علاج کے باعث بگڑ کر اعضائے رئیسہ اور اعضائے غریبہ میں خلل و فتور کا باعث بنتا ہے اس کی یہ صورت ہے کہ مغز کرنجوہ کا پائوڈر دن میں چار مرتبہ (شیر خوار بچوں سے لے کر عمر طبعی تک دو رتی سے دو ماشہ تک یعنی حسب العمر) چینی کے نیم گرم جوشاندے کے ساتھ دیں۔ خسرہ: یہ ایک متعدی مرض ہے جو عام طور پر بچوں کو لاحق ہو جاتا ہے اور اس میں سہل انگاری اور لاپروائی کے نتیجہ میں کانوں کے بہرہ ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہوتا ہے اور ایسی حالت میں سینہ میں درد پیدا ہو تو یہ نمونیہ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات آنکھوں میں بھی اس عارضہ کے باعث خرابی پیدا ہو جایا کرتی ہے۔ ایسی حالت کے پیش نظر بچوں کو کمرے میں لٹائیں اور مناسب علاج اور احتیاط اختیارکریں۔کن پیڑے:یہ بھی ایک متعدی مرض ہے۔ جس میں ابتدا ہی میں کان کے نیچے درد محسوس ہونے لگتا ہے اور دوسرے یا تیسرے روز بخار ہو جاتا ہے۔ درد کے مقام پر ورم نمودار ہوتا ہے۔ جوں جوں یہ ورم بڑھتا ہے نگلنے میں دشواری ہوتی ہے۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ خناق تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ بخار کا درجہ حرارت 101 سے 104 تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں ہمیشہ کسی لائق اور تجربہ کار معالج سے رجوع کریں۔ ہنگامی حالت میں مغز کرنجوہ کا پائوڈر 4رتی سے ایک ماشہ تک اور چھ ماشہ گل بنفشہ جو شاندہ بنا کر چینی ملا کر نیم گرم، دن میں چار مرتبہ دیں۔
 

سر پر سوار خاموش قاتل سے چھٹکارا پائیے!,ذہنی دباو


پچاس تا اسی فیصد جسمانی بیماریوں کی وجہ یہی ذہنی دباؤ ہوتا ہے۔ ذہنی دباؤ کی وجہ سے انسان میں قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے فرد اکثر مختلف بیماریوں میں مبتلا رہتا ہے۔ زخم ہوجائے تو جلد ٹھیک نہیں ہوتا نہ صرف بڑے بلکہ بچے بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں زندگی میں ہم کسی نہ کسی ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ ہر ذہنی دباؤ نقصان دہ نہیں ہوتا۔ بعض ماہرین کے نزدیک یہ کامیاب زندگی کیلئے ناگزیر ہے اور اس کی عدم موجودگی نقصان دہ ہے کیونکہ معمولی اور درمیانےدرجے کا دباؤ فرد کی کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے مثلاً سپورٹس میں مقابلے کے وقت ذہنی دباؤ کی وجہ سے کھلاڑیوں کی کارکردگی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ دنیا کے بہت سے مصروف اور کامیاب افراد کی اعلیٰ کارکردگی اسی ذہنی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ تاہم شدید اور مسلسل ذہنی دباؤ انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت کیلئے تباہ کن ہے۔ پچاس تا اسی فیصد جسمانی بیماریوں کی وجہ یہی ذہنی دباؤ ہوتا ہے۔ ذہنی دباؤ کی وجہ سے انسان میں قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے فرد اکثر مختلف بیماریوں میں مبتلا رہتا ہے۔ زخم ہوجائے تو جلد ٹھیک نہیں ہوتا نہ صرف بڑے بلکہ بچے بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ حادثات کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ مسلسل اور شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہم مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جن میں سے اہم یہ ہے: دل کے امراض‘ کینسر‘ جوڑوں کا درد‘ دمہ‘ معدے کی مختلف بیماریوں‘ خسرہ‘ السر‘ خون کا بلند دباؤ‘ ڈیپریشن‘ سردرد‘ تشویش‘ دہشت کے دورے‘ شوگر‘ کمردرد‘ بے خوابی‘ گیس‘ وزن میں کمی‘ بعض جلدی بیماریاں‘ کولیسٹرول میں اضافہ‘ بے جا خوف عورتوں میں ماہواری سے پہلے ٹینشن‘ الرجی‘ نزلہ‘ دائمی تھکاوٹ‘ پٹھوں میں تناؤ وغیرہ۔ علامات: ذہنی دباؤ کا شکار فرد اکثر سوچوں میں گم رہتا ہے جس کی وجہ سے راستہ چلتے ہوئے اچانک کسی گاڑی کے آگے آجائے گا۔ گاڑی چلاتے ہوئے کسی حادثے کا شکار ہوجائے گا‘ غیرحاضر دماغی کی وجہ سےراستہ بھول جائے گا۔ اپنی منزل سے آگے چلاجائے گا۔ فرد کی توجہ منتشر اور حافظہ کم ہوجاتا ہے۔ بھوک ختم ہوجاتی ہے‘ فرد دانت پیستا ہے‘ مٹھیاں بھینچتا ہے اور ناخن کاٹتا ہے‘ غصہ میں اضافہ ہوجاتا ہے‘ فرد بدہضمی اور دستوں کا شکار ہوجاتا ہے‘ نظام ہاضمہ سست پڑجاتا ہے‘ طبیعت میں تیزی آجاتی ہے اور جلد مشتعل ہوجاتا ہے۔ جسم کے مختلف حصوں میں درد خصوصاً سردرد، کمردرد اور کمزوری محسوس کرتاہے۔ دل کی دھڑکن اور سانس تیز ہوجاتی ہے۔ پیشاب بار بار آتا ہے۔ دل اکثر متلاتا ہے‘ جلد تھک جاتا ہے‘ ذاتی احترام اور جنسی کارکردگی میں کمی ہوجاتی ہے۔ فراد اداسی‘ افسردگی‘ بوریت‘ بے کیفی اور بے بسی محسوس کرتا ہے۔ زندگی بے مقصد محسوس ہوتی ہے اور پھر خودکشی کا خیال آتا ہے۔ تنہائی پسند ہوجاتا ہے‘ ہنستا اور مسکرانا بھول جاتا ہے۔ مختلف قسم کے خوف شکوک و شبہات‘ خدشات اور وہموں کاشکار ہوجاتا ہے۔ طبیعت بے حس‘ دل کی دھڑکن تیز اور منہ خشک ہوجاتا ہے۔ فرد مستقبل کے بارے میں پریشان رہتا ہے۔ معمولی بات پر پریشان اور نروس ہوجاتا ہے۔ چہرہ پیلا پڑجاتا ہے۔ ڈراؤنے خواب آتے ہیں جس کی وجہ سے بے خوابی کا شکار ہوجاتا ہے یا پھر زیادہ سونے لگتا ہے۔ فرد کی قوت فیصلہ کم ہوجاتی ہے۔ بعض زیادہ سگریٹ پینا شروع کردیتے ہیں۔ ذہنی دباؤ کی اہم وجوہات : ناکامی‘ محرومی‘ جھنجھلاہٹ‘ ذہنی کشمکش‘ محبت میں ناکامی‘ عزت و احترام میں ایک دم کمی‘ مایوسی‘ احساس ندامت‘ احساس گناہ‘ کسی پیارے کی وفات‘ رنج وملال‘ تنہائی‘ مسابقت‘ بے خوابی اور مسلسل بے آرامی مذہبی اور نسلی تعصب‘ ملازمت کی ذمہ داریاں‘ ناپسندیدہ ملازمت‘ کاروباری اور معاشی مسائل‘ میاں بیوی کے جھگڑے‘ خاندانی ضروریات اور ذمہ داریاں‘ بچوں کی پرورش اور ان کے تعلیمی مسائل‘ ڈیپریشن‘ غیرتسلی بخش جنسی زندگی‘ گھریلو معاشرتی زندگی اور سسرالی پریشر وغیرہ۔ قدرتی آفات‘ حادثات‘ ناقص اورگھٹیا غذا‘ شوروغل‘ زیادہ گرمی یا سردی‘ آمدن میں ایک دم کمی اور بڑھتےہوئے جرائم وغیرہ۔ ذہنی دباؤ کا حل: ذہنی دباؤ کا مقابلہ ذہنی صحت کا ایک بہت اہم مسئلہ ہے‘ مختلف لوگ مختلف طریقوں سے ذہنی دباؤ کامقابلہ کرتے ہیں کچھ لوگ شراب میں پناہ ڈھونڈتے ہیں‘ کچھ دوسرے کسی نہ کسی نشہ آور چیز کا سہارا لیتے ہیں۔ ایک بڑی تعداد سکون آور ادویات کا استعمال کرتے ہیں مگر یہ سب طریقے ذہنی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے منفی اور مہلک طریقے ہیں۔ ہم آپ کو مثبت‘ سودمند اور بہت مؤثر طریقے بتائیں گے 
جن کی مدد سے آپ ذہنی دباؤ کا بہتر طور پر مقابلہ کرسکیں گے۔ اہم حل درج ذیل ہیں۔



،،

کا ذکر ٹینشن اور ذہنی دباؤ کا ایک بڑا علاج ہے۔ 2۔ مراقبہ کرنا‘ آنکھیں بند کرکے یہ تصور کرنا کہ اللہ کے نور کی بارش میرے اوپر برس رہی ہے اور دل اللہ اللہ کررہا ہے۔ 3۔دل کی دھڑکن اور بلڈپریشر کو تیز کرنے والے مشروبات مثلاً کافی چائے‘ کولا مشروبات اور نمک کا کم استعمال۔ 4۔ مندرجہ ذیل کا زیادہ استعمال: کنو‘ مالٹے‘ فروٹر ان کا جوس‘ ٹماٹر‘ مٹر ‘مونگ پھلی‘ انڈے‘ تازہ سبزیاں‘ کلیجی‘ گردے‘ مچھلی اورگوشت وغیرہ۔