Showing posts with label آیۃ الکرسی. Show all posts
Showing posts with label آیۃ الکرسی. Show all posts

Thursday, January 4, 2018

آیت الکرسی کے ذریعے حفاظت


میں ایک گوشت والے سے گوشت خریدتا ہوں ایک دن میں کپڑے کا تھیلا لانا بھول گیا‘ گوشت والے نے گوشت شاپرمیں ڈالتے ہوئے کہا مولوی صاحب آج تھیلا نہیں لائے‘ چیلیں گوشت جھپٹ لیں گی۔ میں نے کہا میں آیۃ الکرسی پڑھ کر اس پر دم کرلیتا ہوں ایسا نہیں ہوگا‘ کہنے لگے: مولوی صاحب یہ ٹھیک ہے پر احتیاط کرنی چاہیے۔ میں نے اس کے سامنے ہی آیۃ الکرسی پڑھی اور شاپر پر دم کرکے عرض کی‘ یہی تو احتیاط ہے‘ اتنے میں انہوں نے ایک طرف دیکھتے ہوئے کہا وہ دیکھیں اس عورت کے گوشت کو کس طرح چیلوں نے جھپٹ لیا ہے‘ میں نے دیکھا توواقعی ایک عورت کے شاپر کو چیلوں نے جھپٹ کرگرایا اور سب ان کو اٹھا اٹھا کر لے جارہی ہیں اور وہ عورت حیران و پریشان کھڑی ہے۔ میں نے شاپر اٹھایا اور چل دیا‘ انہوں نے پیچھے سے آواز دی مولوی صاحب احتیاط‘ میں چل کر ایک سبزی والے کے پاس آیا اس نے بھی دیکھتے ہی کہا مولوی صاحب یہ گوشت اور یوں کھلا اٹھایا ہوا ہے‘ چیلیں لے جائیں گی‘ میں نے عرض کیا اتنی دور سے ایسے ہی لے کر آرہا ہوں الحمدللہ کسی چیل وغیرہ نے قریب بھی آنے کی کوشش نہیں کی‘ کہنے لگے: یہ کیسے ممکن ہے؟ میں نے کہا میں نے اس پرایک بار آیۃ الکرسی پڑھ کر دم کرلیا تھا‘ حیران ہوتے ہوئے بولے یہ ٹھیک ہے مگر احتیاط بھی تو لازمی ہے نا! میں نے عرض کیا بھئی یہ آیۃ الکرسی احتیاط ہی تو ہے‘ یہ سن کر وہ خاموش تو ہوگئے لیکن محسوس کیا کہ انہوں نے مجھے بے وقوف سمجھا ہے‘ بہرحال اللہ کی رحمت سے آیۃ الکرسی کی برکت سے میرا گوشت محفوظ رہا۔

Friday, October 9, 2015

بچے نے آیۃالکرسی پڑھی ! ڈاکو رقم واپس کر گئے

بچے نے آیۃالکرسی پڑھی ! ڈاکو رقم واپس کر گئے :۔

یہ ایک سردیوں کی سیاہ رات تھی۔ تاریکی اور خاموشی اپنی حدوں کو چھو رہی تھی۔ہوا کے جھکڑ پتوں کو ہلاتے اور درختوں کو جھکاتے ہوئے گزر جاتے ، باہر کی ہر چیز جمنے لگی ، لوگ اپنے گھروں کے محفوظ کمروں میں سور ہے تھے ، ایسا دکھائی دیتا تھا کہ لمبی سرد رات نے وقت کو جما دیا ہے ۔ گرد و نواح میں ایک سڑک کے قریب پر اسرار نقل و حرکت تھی ۔ چار سائے پستول ہاتھ میں پکڑے حرکت کر رہے تھے وہ آپس میں سرگوشیوں میں بات کر رہے تھے ۔ وہ ایک مالدار تاجر کے گھر پہنچ گئے ،۔ اب وہ اندر جانے کے راستوں کے بارے میں سوچنے لگے ۔ گھر کے اندر حمزہ ان کی ماں، ان کی بیوی اور بچہ عبداللہ ڈاکوؤں سے بے خبر چین کی نیند سو رہے تھے ۔ ایک ڈاکو نے دیوار پھلانگی اور دوسرے ساتھیوں کیلئے دروازہ کھول دیا ۔ ڈاکوؤں نے خاموشی کے ساتھ اس کمرے کے سامنے اپنی جگہیں مقرر کر لیں جس میں حمزہ کا خاندان سو رہا تھا۔انہوں نے دروازے کو توڑ ا،اور کمرے میں داخل ہو گئے ۔ حمزہ کا خاندان پھٹی پھٹی نگاہوں سے ڈاکوؤں کو دیکھنے لگا ۔ ایک ڈاکو نے سخت آواز میں انہیں چپ رہنے کیلئے کہا۔ خاموشی کے یہ چند ناقابل برداشت لمحے تھے ، ایک کرخت آواز دوبارہ ابھری۔ اگر کسی نے مدد طلب کی تو اسے اس کی سزا بھگتنی پڑے گی ۔ پھر سردار نے حکم دیا کہ قیمتی اشیاء جمع کریں  ، حمزہ نے ایک ڈاکو سے کہا ! یہ تم غلط کر رہے ہو تمہیں ایس ا نہیں کرنا چاہیے خدا کا خوف کرو ۔ جواباً ڈاکو نے اپنی بندوق حمزہ کی کنپٹی پر رکھ دی اور دھاڑ کر کہا خاموش اس خوفناک منظر نے تمام گھر کے افراد میں خوف پیدا کر دیا ۔ حمزہ کا بیٹا خوف کے عالم میں اپنی ماں کا بازو پکڑ کر کھڑا تھا ۔ اس کا چھوٹا سا ذہن اپنے خاندان پر بیتنے والی مصیبت کا احاطہ نہیں کر سکتا تھا ۔ وہ حیران تھا کہ اس کے گھر میں داخل ہونے والے اور ہر چیز لے جانے والے یہ کون لوگ ہیں ؟  اور ہمارے گھر کی تمام چیزیں کیوں لے جا رہے ہیں ؟ اس کے والد نے جواب دیا ! میرے بیٹے یہ چور ہیں یہ انسانوں کا خیال نہیں رکھتے ۔ یہ سن کر ڈاکو ہنس پڑے اور جانے کیلئے مڑے ۔ عبداللہ بولا ! بابا لیکن دادی اماں نے مجھے بتایا تھا اگر میں سونے سےپہلے آیۃ الکرسی پڑھ لوں تو کوئی  برائی ہمارے گھر میں داخل نہیں ہو گی، اور اللہ پاک ہمیں اپنی حفاظت میں لے لے گا ۔ بابا میں نے سونے سے پہلے آیۃ الکرسی پڑھ لی تھی ۔ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے ۔ یہ برے لوگ ہمارے گھر میں کیسے داخل ہوئے ۔ کیا اللہ پاک نے ہمیں اپنی حفاظت میں نہیں لیا ۔ یہ سوال اتنی معصومیت سے کیا گیا تھا کہ ڈاکوؤں کے سردار کے پاؤں جم گئے ۔ ایک خوف جسے وہ پہلے کبھی نہیں جانتا تھا اسے لاحق ہو گیا ۔ وہ کانپنے لگا، پسینے سے شرابور ہو گیا جیسا کہ وہ کسی اندیکھی قوت کے قابو میں ہو ۔ وہ بوجھل قدموں کے ساتھ عبداللہ کے قریب پہنچا اور پوچھا کیا تم آیۃالکرسی جانتے ہو ۔ عبداللہ نے سر ہلایا اور آیۃالکرسی کو دل کی گہرائی سے پڑھنے لگا اس کے پڑھنے کے ساتھ سردار اپنے آپ کو گناہوں کے بوجھ تلے کمزور محسوس کر رہا تھا ۔ جب عبداللہ نے تلاوت ختم کی تو ڈاکو کی کرخت آواز ایک کمزور آواز میں بدل گئی ۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا تمام اشیاء وہیں رکھ دیں جہاں سے اٹھائی گئی ہیں۔ پھر سردار نے عبداللہ سے کہا بے شک تم اللہ پاک کی حفاظت میں ہو ۔ وہ بہترین حفاظت کرنے والا ہے جو لوگ اللہ پاک کا نام دل کی اتھاہ گہرائیوں سے لیتے ہیں انہیں کوئی نقصان نہیں ہوتا ۔ ہمیں معاف کر دو اور ہمارے لیے دعا مانگو   تم نے ہمیں وہ راستہ دکھایا ہے جسے ہم کافی عرصہ سے بھول چکے تھے ، سردار چپ چاپ اپنے ساتھیوں سمیت گھر سے چلا گیا عبداللہ ان ڈاکوؤں کو آج بھی یاد کرتا ہے ۔

Tuesday, October 6, 2015

زور دار طمانچہ ہیبت ناک قہقہہ اور سناٹا

زور دار طمانچہ ہبتن ناک قہقہہ اور سناٹا:۔ محترم حضرت حکمن صاحب السلام علکمہ!آج مںت جو واقعہ لکھ رہی ہوں مجھے قوی امدت ہے کہ اس کو پڑھ کر لوگ ینری نہںا کریں گے ۔ خواہ انہںج محض لفاظ ہی سمجھں لکنے یہ سب کچھ سو فصدت سچ اور حققتو پر مبنی ہے اور اس کے گواہ مرای امی الحمدللہ حایت ہںی ۔ یہ واقعہ مرنی امی نے ہماری نانی سے سنا ہے۔ ہمارے نانا حضرت جناب وحدن الدین بہت اللہ والے تھے ۔ کئی لوگوں کے آسبڑ کا علاج سورہ مزمل پڑھ کر کرتے تھے ۔ ایسے ہی نانی بھی نہایت عبادت گزار اور پرہزے گار تھںے ۔ ہمارے نانا کی شہرت آس پاس کے علاقوں مںگ بھی تھی ۔ نانا کے پڑوس مںھ گوپال نامی ہندو رہتا تھا۔ ایک دن وہ نانا کے پاس آیا ۔ نانا اس سے بہت اچھی طرح ملے ۔ آنے کا مقصد پوچھا ۔ اس نے بتایا کہ اسے کہںڑ سے پتہ چلا ہے کہ نانا کے گھر کے پچھلے حصے مںت خزانہ دفن ہے ۔ اگر نانا اس کا ساتھ دیں تو وہ دونوں کروڑ پتی بن سکتے ہںر ۔ نانایہ سب سن کر غصے سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے یہ کہتے ہوئے گھر سے نکال دیا کہ اللہ پاک کا دیا ہمارے پاس سب کچھ ہے ، ایسے خزانوں پر جنوں کا قبضہ ہو تا ہے ۔ ہمںت اس سے کوئی سرو کار نہںہ ۔ گوپال مایوس ہو کر واپس چلا گات ۔ نانا نے اس سے بات چتھ بھی چھوڑ دی۔ کچھ عرصہ بعد ایک دن مغرب کے بعد نانا کھانا کھا رہے تھے کہ گو پا ل روتا دھوتا دروازے پر آیا اور ناناکے قدموں مںا گر کر رونے لگا نانا نانی حراان تھے تب گوپال نے روتے روتے کہا کہ اسے خواب آیا ہےکہ اسے مسلمان ہو جانا چاہے ۔ نانا نے اسے گلے لگا کر خوشی کا اظہار کای اور کہا یہ تو بہت اچھی بات ہے کھانا چھوڑ کر نانا اسی وقت گوپال کو مسجد کے امام کے پاس لے گئے اور کلمہ پڑھایا ۔ نانا بہت خوش تھے کہ ایک ہندو مسلمان ہو گاس ۔ گو پال کی بوای ،بیات بھی مسلمان ہو گئے تھے ۔ نانا نانی نے ان کو تحائف بھی دیئے ۔ اصل مںم گوپال نے مسلمان ہونے کا ڈھونگ رچایا تھا۔ اس کے دل مںی خزانے کی ہوس تھی ۔ اسے کسی ہندو پنڈت نے بتایا تھا کہ کسی مسلمان کے خون کی بلی دو تو خزانہ تمہںگ مل سکتا ہے اور اگر مسلمان کمسن بچہ ہو تو اور اچھا ہے ۔ تب گوپال کے دل مںن شطاںنی منصوبہ آیا کہ مراے ماموں کی بلی دی جا سکے ۔ اس نے مسلمان ہونے کا ڈھونگ رچایا تا کہ نانا کا اعتماد حاصل کر کے ماموں کی بلی دے سکے ۔ ماموں چار سال کے خوبصورت اور صحت مند بچے تھے ۔ اکثر ان کو گوپال کی بیےا اپنے گھر لے جاتی ۔ نانی بھی اعتراض نہ کرتی کوہنکہ وہ اب مسلمان ہو چکے تھے ۔ ایک روز ماموں دوپہر ہی سے گوپال کے گھر مںے تھے ۔ شام ہو گئی تھی نانا واپس آئے تو ماموں کا پوچھنے پر نانی نے بتایا کہ ماموں گوپال کے گھر مںی ہںن تب نانا نے بے زاری سے کہا کہ اب بہت دیر ہو گئی ہے اسے واپس بلا لو۔ اتنی دیر اسے مت چھوڑا کرو ، نانی نے جا کر آواز لگائی تو کوئی نہ بولا ۔ تھوڑی دیر بعد نانا نانی پریشان ہو کر باہر نکلے تو ہاں تالا لگا دیکھا ، پڑوسواں سےپتہ چلا کہ گوپال تو گاؤں سے چلا گاے ہے ۔ نانی تو بے ہوش ہو گئںہ ۔ نانا اٹھے وضو کر کے نماز پڑھ کر آنکھںھ بند کر کے کچھ پڑھتے رہے ، ان کا چہرہ ٹمٹا نے لگا ، چہرے پر پریشانی آ گئی ، جھٹکے سے آنکھںل کھول کر عجلت مںا مںپ ابھی آیا کہہ کر باہر نکل گئے ۔ ان کا رخ کچھ دور قبرستان کی جانب تھاوہ کافی اندھرکی اور ڈراؤنی رات تھی ۔ قبروں کے ساتھ برگد کا ایک بوڑھا درخت کھڑا تھا ۔ وہاں نانا نے درخت کے پاس ماموں کو کھڑے دیکھا ، ان کا سر منڈا ہوا اور جسم پر پلاد لمبا سا چغہ پہنا ہوا تھا اور ہاتھ مںٹ ایک رسی تھامے بڑے اطمناون سے کھڑے تھے ۔ بغرے کسی ڈر کے ۔ رسی ان کے ہاتھ سے ہوتی ہوئی شکستہ سی دیوارکے پچھے چلی گئی تھی جسے دوسری جانب سے بھی کوئی تھامے ہوئے تھے ، نانا سب سمجھ گئے سناٹے مں صرف گوپال کی ہلکی ہلکی آواز منتر پڑھتے ہوئے گونج رہی تھی ، تب ہی نانا نے دیکھا کہ وحشت ناک ، عجبم الخلقت چہرے والا ایک آسیہ وجود چختا ہوا اس رسی پر دوڑنے لگا ، کبھی وہ تزتی سے ماموں کی طرف آتا کبھی ویسے ہی چختے ہوئے واپس دیوار کے پچھے لوٹ جاتا ۔ اس کی آواز مںم جنون تھا ، جسےے وہ بہت بھوکا ہو ۔ نانا تزای سے آگے بڑھے اور آیۃ الکرسی پڑھتے ہوئے رسی کا سرا ماموں سے لے کر درخت سے باندھ دیا ۔ اسی لمحے نانا کو ایسے لگا کہ ماموں نندت سے جاگے ہوں وہ ابا جی کہہ کر ناناکی گود مںئ بے ہوش ہو کر گر گئے ۔ اسی لمحے وہ خوفناک وجود جو دوبارہ رسی پر دوڑ تا ہوا آیا اور رسی پرتز ی سے واپس پلٹا ۔اس بار اس کی چخا نہایت مکروہ اور دل دہلا دینے والی تھی ۔ نانا زور زور سے قرآنی آیات کو ورد کرنے لگے تب ہی ایک زور دار طمانچے کی آواز سے قبریں تک ہل گئںت ۔ ایک ہبت ناک قہقہہ گونجا اور سناٹا چھا گاھ ۔ نانا کو گھر لوٹنے کا خود بھی یاد نہںا۔ دوسری صبح قبرستان سے گوپال کی سفدی لٹھے کی مانند لاش ملی جسےا اس کا ایک ایک قطرہ خون نچوڑ لان گار ہو ۔ لاش کے منہ پر کسی غرئ انسانی ہاتھ کا بھر پور طمانچہ مارا گاو تھا ، وہ نانا کے بروقت پہنچنے اور قرآنی آیت کی برکت سے پڑا ، ورنہ وہ تھپڑ ماموں کے معصوم گالوں پر پڑھنے والا تھا ۔ بعد مںن گوپال کی بودی نے سچائی بتائی کہ گوپال پسےا کی حرص مںڑ اندھا ہو گاخ تھا ۔ یہ اللہ پاک کے لازوال کلام کی برکت سے ہوا کہ ماموں کی جان بچ گئی۔