Tuesday, September 29, 2015

چیتھڑوں میں بٹا جسم بوقت تدفین سلامت

چیتھڑوں میں بٹا جسم بوقت تدفین سلامت:۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!اللہ پاک آپ کو آپ کی پوری ٹیم کو دین و دنیا کی تمام کامیابیاں عطا فرمائے ۔ آمین! محترم قارئین ! بے شک اللہ پاک کی راہ میں لڑنے ، مرنے اور مارنے والے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ۔ آج ایک ایسے ہی واقعہ کیلئے عاجزہ حاضرہوئی ہے ۔ میری دوست کے ایک بھائی سیاچن کے محاذ پر شہید ہو چکے ہیں ۔ اللہ پاک کے اس بندے کو شہید ہونے کی تڑپ بھی کچھ زیادہ ہی تھی ۔ اللہ پاک اپنے عاشقوں کی ایسی تڑپ کا اجر ضرور دیتا ہے جیسے کہ انہیں بھی ملا ۔ وہ اپنی شہادت سے پہلے ایک دن ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم لوگ جب سیاچن کی برف پوش پہاڑی پر کیمپ لگائے ہوئے تھے تو رات کی تاریکی میں دور ایک پہاڑی پر ہمیں بہت پیاری روشنی نظر آئی جیسے کہ اس جگہ پر سو واٹ کا کوئی بلب جل رہا ہو ۔ پہلے تو ہم نے توجہ نہ دی مگر جب آپس میں فوجیوں میں اس بات کا ذکر ہوا تو سب نے کہا کہ یہاں اس ویران جگہ میں ایسے کون لوگ رہتے ہیں اور ہم میں سے کسی کے علم میں بھی نہیں ؟ اسی شوق و تجسس میں رات گزری اور اگلے دن ہمارے افسر صاحب تین چار فوجیوں کو لے کر اس جگہ پر ( جہاں روشنی نظر آتی تھی) پہنچنے کیلئے چل پڑے کچھ سفر طے کر کے ہم جب اس جگہ پہنچے تو اللہ پاک کی قدرت کا عجیب نظارہ دیکھ کر حیران رہ گئے کیونکہ اس جگہ بڑے پتھر کی اوٹ میں ایک شہید فوجی کی لاش پڑی تھی جس پر ایک ہی زخم یعنی گولی کا نشان تھا اور اس نشان کے علاوہ وہ شہید جسم صاف اور سلامت نظر آتا تھا ۔ اس کا چہرہ صاف ، پر سکون اور پر نور نظر آتا تھا اور لباس بھی سلامت ، اس کی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی کی سوئیاں رکی ہوئی تھیں ۔ اور ساتھ تاریخ بھی لکھی ہوئی تھی۔ جب اس کی شہادت کا سن چیک کیا گیا تو پتہ چلا کہ اس کی شہادت کا وقت آج سے تقریباً پچاس سال پہلے کا ہے۔ ہم لوگ بہت احترام کے ساتھ اس کی لاش اٹھا لائے اور اس کے لواحقین کو تلاش کیا اور جب ان تک پہنچے تو پتہ چلا کہ اس مجاہد کے دو بیٹے جو اس کی شہادت کے وقت کم عمر تھے اب اپنے پوتوں ، نواسوں کے دادا ، نانا بھی بن چکے ہیں ۔ سبحان اللہ ! اللہ پاک نے پاک وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے جوان کی لاش کو کس طرح اتنے سال سردی ، گرمی ، دھوپ ، بارش میں محفوظ رکھا بلکہ راتوں کو اس کو روشن بھی رکھا تا کہ کسی موذی جانور سے بھی نقصان نہ ہو ۔ سبحان اللہ تیری شان مولا ! اسی طرح کا ایک اور واقعہ میرے کزن نے سنایا جو کہ خود پاک آرمی کے جوان ہیں ، وہ بتاتے ہیں کہ ہمارے ایک فوجی جوا ن شہادت کے رتبے پر فائز ہوا تو اس کے جسم کا حال یہ تھا کہ لاش لے جانے کے قابل نہ تھی ۔ کیونکہ جسم کے کچھ چیٹھڑے ہی باقی بچے تھے۔ وہ شہید اپنی بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا ، بہر حال اس کے جسم کے بچے کھچے ٹکڑے اکٹھے کیے اور مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ اس کے جسم کی پاک باقیات تابوت میں ڈال کر اس کے گھر پہنچائی گئیں ۔ اب اس کی ماں اور بہنیں رو رو کر ہم سے التجا کرتی تھیں کہ ہمیں اس کا آخری دیدار کر وا دوان کے حد درجہ اصرار پر ہم نے پریشان ہو کر اپنے افسر صاحب کی طرف دیکھا کہ اب ان ماں بہنوں کو کیا بتائیں اور کیا دکھائیں کہ اپنے پیارے کے جسم کا یہ حال دیکھ کر وہ اور بھی دکھ سے نڈھال ہو جائیں گی۔ ہمارے افسر صاحب نے جب ان کی تڑپ دیکھی تو ہمیں مجبوراً دیدار کرانے کا اشارہ دے دیا اور آخر بے بس ہار کر میں نے چہرے کی جگہ سے تابوت ہٹا دیا مگر جب میں نے تابوت ہٹا یا تو اللہ پاک کی قدرت یوں دیکھی کہ اس پاک فوج کے شہید کا چہرہ جو دراصل چہرے کا ایک حصہ بھی نہ تھا ۔ چند گوشت کی بوٹیاں تھیں ۔ اللہ پاک نے اس کی ماں بہنوں کی خوشی کی خاطر صحیح سلامت کر دیا ۔ میں نے جب تابوت ہٹایا تو یہ منظر دیکھ کر میں کافی دیر تک سکتے کی حالت میں یہ منظر دیکھتا رہا ۔ پھر اس کی ماں بہنوں کے علاوہ تمام لوگوں نے جی بھر کر اس عظیم شہید کا دیدار کیا سبحان اللہ۔


 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر38


پیٹ میں پانی پڑنا اور اس کا علاج

پیٹ میں پانی پڑنا اور اس کا علاج:۔



استسقاء پیٹ میں پانی کا ہو جانا ایک مشہور حکیم صاحب کی کتاب میں اس کی علامات اور علاج اس طرح بتایا گیا ہے جب مریض کے پیٹ میں پانی پڑ جاتا ہے تو پیٹ پھولنے لگتا ہے اور صحت گرنے لگ جاتی ہے۔ پیشاب کی مقدار کم ہو جاتی ہے جلد اور زبان خشک ، آنکھیں ویران اور نبض کمزور ہو جاتی ہے ، چلنا پھرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔یہ پانی چند ایک بیماریوں میں پیٹ تک محدود ہوتا ہے  ۔ ورنہ سارے جسم میں پڑ جاتا ہے ، بڑے حکماء نے اونٹنی کے دودھ میں بارش کا پانی ملا کر مریض کو پلانا مفید بتایا ہے ۔ اگر اونٹنی کا دودھ میسر نہ ہو سکے تو ابلا ہوا پانی شہد کے ساتھ میٹھا کر کے مریضوں کو پلایا کریں ، بارش کا پانی سب سے زیادہ مفید ہے ۔ اس میں شہد کا اضافہ کر کے دن میں تین چار بار پلایا کریں ، اس کے علاوہ جب دل کام کرنا چھوڑ دے دل کی دھڑکن میں طاقت نہ رہے کہ وہ خون کو گردش کر سکے تو اس کیلئے اونٹنی کا دودھ اور بارش کاپانی  ملا کر پلانا شفائی اثرا ت رکھتا ہے۔


 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر36

چہرے کے غیر ضروری بال ختم

چہرے کے غیر ضروری بال ختم:۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! پچھلے چند سالوں سے ماہنامہ عبقری کی قاری ہوں اور آپ کے درس ہر جمعرات انٹر نیٹ پر لائیو سنتی ہوں ۔ اس ماہنامہ نے میرے بہت سے مسائل حل کیے ہیں ۔ الحمدللہ ! آپ کے درس نے مجھے اعمال پر لگا دیا ہے ۔ میری زندگی کو ایک مقصد دے دیا ہے ۔ اب ہر وقت زبان پر کچھ نہ کچھ ذکر اذکار جاری رہتے ہیں ۔ جیسے کھانا کھانے سےپہلے کی دعا ۔ ہر نماز کے بعد انمول خزانہ نمبر ایک ہر وقت اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے 

وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى

 پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں ۔ مجھے لیکوریا کا مرض تھا اس کے حل کیلئے
 الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلامُ  
صبح و شام ایک ایک تسبیح پڑھتی ہوں ۔ جس سے مجھے کافی فرق پڑ گیا ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ عرصہ سے میرے چہرے پر بال آ رہے تھے اس کے حل کیلئے میں نے ہر نماز کے بعد ایک تسبیح یااللہ ،یاخالق ، یامصور ، یاجمیل ،پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں ۔اس وظیفے کی برکت سے میرے چہرے کے بال ختم ہو رہے ہیں ۔ الحمدللہ! اب تو میں نے تہجد بھی پڑھنی شروع کر دی ہے ۔ آدھے سر کا درد ہو یا نزلہ زکام و فلو میں نے سرسوں کا تیل نیم گرم کر کے نمک ڈال کر لگا نے  کا بہت سے مریضوں کا بتا یا الحمدللہ سب کو فائدہ ہوا ۔


 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر35

میرا سفر اور عبقری کے فائدے

میرا سفر اور عبقری کے فائدے :۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! میں کاروبار کے سلسلے میں اکثر سفر پر رہتا ہوں ابھی کل ہی میں سفر سے واپس آیا ہوں ، سفر کے دوران ہر وقت عبقری میرے ساتھ رہا ۔ اور اس کے ساتھ رہنے کے مجھے اور میرے ساتھ سفر کرنے والوں کو بےشمار فائدے ہوئے ۔۔ میرے ساتھ میرے ہمسفر کو جوڑوں میں درد ، دل کے مریض اور ساتھ ہائی بلڈپریشربھی تھا میں نے ان کو آپ کا بتا یا ہوا نسخہ لذیز چٹنی اور چالیس فائدے تجویز کی نیز انہیں دل کے مرض کیلئے شہد ایک چمچ نہار منہ گرم پانی میں اور دار چینی شہد کا پیسٹ بنا کر توس پر لگا کر صبح کھانے کا کہا جسے وہ کھا رہے ہیں اور انہیں بہت فائدہ ہوا ، بیرون ممالک سفر کے دوران ایک جگہ ہمیں وہاں کی سیکورٹی والوں نے روکا شناختی کارڈ اور سفر کی دستاویزات وغیرہ چیک کیں تو معلوم ہوا کہ ہمارے دو ساتھیوں کے پاس شناختی کارڈ اور دوسرے دستاویزات نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ جب تک اپنی شناخت نہیں کرواتے آپ یہاں سے نہیں جا سکتے میں نے ساتھیوں سے عرض کیا کہ
ورد کریں ۔  وہ ہمیں کبھی ایک افسر کے پاس لے جاتے کبھی دوسرے افسر کے پاس ہمیں کافی پریشانی ہوئی پھر اللہ نے افسر کے دل میں ڈالا اور وہ نہایت نرمی کے ساتھ ہمیں مقامی تھانے میں بھیجا انہوں نے ہماری تسلی کی اور ہمیں جانے دیا ۔ یہ یقیناً آیت کا کمال تھا ۔ اس آیت کے مجھے اور بھی کئی فوائد حاصل ہوئے وہ قارئین کو پھر کھبی بتاؤں گا ۔ ایک مرتبہ دوران سفر مجھے دفتر سے فون آیا کہ آپ فوراً دفتر واپس پہنچیں ۔ میں اسٹٰشن پہنچا تو بکنگ  آفس پر معلوم ہوا کہ آج کسی گاڑی میں کوئی سیٹ یا برتھ نہیں ہے بہت پریشانی ہوئی میں نے سبحان خان والا عمل 
( اول و آخر درود شریف ایک مرتبہ سورہ فاتحہ اور تین مرتبہ سورہ اخلاص ) 
کرنا شروع کر دیا اور ٹرین میں سورا ہو گیا اور فرش پر بھی کپڑا بچھا کر بیٹھ گیا ۔ کچھ دیر بعد ٹی ٹی آیا اور کہا کہ آپ کو سیٹ نہیں ملی اس نے مجھے ایک جگہ سیٹ دلا دی سفر کافی لمبا تھا تو رات کو قریب ہی شہر سے ایک بارات آ رہی تھی جنہوں نے بہت سی برتھیں بک کرا رکھی تھیں مجھے ایک آدمی کہنے لگاچچا جان آپ یہ برتھ استعمال کریں اور سیٹ ہمیں دے دیں اس طرح ساری رات میں نے برتھ پر سو کر گزاری اور صبح بالکل فریش ہو کر دفتر حاضرہو گیا ۔ یہ سب مشکلات اللہ نے اعمال کی برکت سے حل کیں ۔


 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر35

قارئین کی خصوصی اور آزمودہ تحریریں

قارئین کی خصوصی اور آزمودہ تحریریں :۔


میرا سفر اور عبقری کے فائدے :۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! میں کاروبار کے سلسلے میں اکثر سفر پر رہتا ہوں ابھی کل ہی میں سفر سے واپس آیا ہوں ، سفر کے دوران ہر وقت عبقری میرے ساتھ رہا ۔ اور اس کے ساتھ رہنے کے مجھے اور میرے ساتھ سفر کرنے والوں کو بےشمار فائدے ہوئے ۔۔ میرے ساتھ میرے ہمسفر کو جوڑوں میں درد ، دل کے مریض اور ساتھ ہائی بلڈپریشربھی تھا میں نے ان کو آپ کا بتا یا ہوا نسخہ لذیز چٹنی اور چالیس فائدے تجویز کی نیز انہیں دل کے مرض کیلئے شہد ایک چمچ نہار منہ گرم پانی میں اور دار چینی شہد کا پیسٹ بنا کر توس پر لگا کر صبح کھانے کا کہا جسے وہ کھا رہے ہیں اور انہیں بہت فائدہ ہوا ، بیرون ممالک سفر کے دوران ایک جگہ ہمیں وہاں کی سیکورٹی والوں نے روکا شناختی کارڈ اور سفر کی دستاویزات وغیرہ چیک کیں تو معلوم ہوا کہ ہمارے دو ساتھیوں کے پاس شناختی کارڈ اور دوسرے دستاویزات نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ جب تک اپنی شناخت نہیں کرواتے آپ یہاں سے نہیں جا سکتے میں نے ساتھیوں سے عرض کیا کہ  لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار وهو اللطيف الخبيرورد کریں ۔  وہ ہمیں کبھی ایک افسر کے پاس لے جاتے کبھی دوسرے افسر کے پاس ہمیں کافی پریشانی ہوئی پھر اللہ نے افسر کے دل میں ڈالا اور وہ نہایت نرمی کے ساتھ ہمیں مقامی تھانے میں بھیجا انہوں نے ہماری تسلی کی اور ہمیں جانے دیا ۔ یہ یقیناً آیت کا کمال تھا ۔ اس آیت کے مجھے اور بھی کئی فوائد حاصل ہوئے وہ قارئین کو پھر کھبی بتاؤں گا ۔ ایک مرتبہ دوران سفر مجھے دفتر سے فون آیا کہ آپ فوراً دفتر واپس پہنچیں ۔ میں اسٹٰشن پہنچا تو بکنگ  آفس پر معلوم ہوا کہ آج کسی گاڑی میں کوئی سیٹ یا برتھ نہیں ہے بہت پریشانی ہوئی میں نے سبحان خان والا عمل ( اول و آخر درود شریف ایک مرتبہ سورہ فاتحہ اور تین مرتبہ سورہ اخلاص ) کرنا شروع کر دیا اور ٹرین میں سورا ہو گیا اور فرش پر بھی کپڑا بچھا کر بیٹھ گیا ۔ کچھ دیر بعد ٹی ٹی آیا اور کہا کہ آپ کو سیٹ نہیں ملی اس نے مجھے ایک جگہ سیٹ دلا دی سفر کافی لمبا تھا تو رات کو قریب ہی شہر سے ایک بارات آ رہی تھی جنہوں نے بہت سی برتھیں بک کرا رکھی تھیں مجھے ایک آدمی کہنے لگاچچا جان آپ یہ برتھ استعمال کریں اور سیٹ ہمیں دے دیں اس طرح ساری رات میں نے برتھ پر سو کر گزاری اور صبح بالکل فریش ہو کر دفتر حاضرہو گیا ۔ یہ سب مشکلات اللہ نے اعمال کی برکت سے حل کیں ۔

چہرے کے غیر ضروری بال ختم:۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! پچھلے چند سالوں سے ماہنامہ عبقری کی قاری ہوں اور آپ کے درس ہر جمعرات انٹر نیٹ پر لائیو سنتی ہوں ۔ اس ماہنامہ نے میرے بہت سے مسائل حل کیے ہیں ۔ الحمدللہ ! آپ کے درس نے مجھے اعمال پر لگا دیا ہے ۔ میری زندگی کو ایک مقصد دے دیا ہے ۔ اب ہر وقت زبان پر کچھ نہ کچھ ذکر اذکار جاری رہتے ہیں ۔ جیسے کھانا کھانے سےپہلے کی دعا ۔ ہر نماز کے بعد انمول خزانہ نمبر ایک ہر وقت اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى

 پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں ۔ مجھے لیکوریا کا مرض تھا اس کے حل کیلئے الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلامُ  صبح و شام ایک ایک تسبیح پڑھتی ہوں ۔ جس سے مجھے کافی فرق پڑ گیا ہے ۔ اس کے علاوہ کچھ عرصہ سے میرے چہرے پر بال آ رہے تھے اس کے حل کیلئے میں نے ہر نماز کے بعد ایک تسبیح یااللہ ،یاخالق ، یامصور ، یاجمیل ،پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں ۔اس وظیفے کی برکت سے میرے چہرے کے بال ختم ہو رہے ہیں ۔ الحمدللہ! اب تو میں نے تہجد بھی پڑھنی شروع کر دی ہے ۔ آدھے سر کا درد ہو یا نزلہ زکام و فلو میں نے سرسوں کا تیل نیم گرم کر کے نمک ڈال کر لگا نے  کا بہت سے مریضوں کا بتا یا الحمدللہ سب کو فائدہ ہوا ۔

عدل و انصاف اور ہمار امعاشرہ:۔ 

ارشاد خدا وندی ہے اے انسان تو اپنے رب کریم سے کیوں بھٹک گیا۔جس نے تیری تخلیق کی پھر تجھ پر  عدل قائم کیا۔ معاشرے کی بقا عدل میں ہے اور عدل صرف متقی اور پرہیز گار لوگ ہی کر سکتے ہیں ۔سچ بولنے سے انسان کے اندر راستی اور استقامت  پیدا ہوتی ہے، اور انسان اعتدال پر قائم رہتا ہے جب کہ دروغ گوئی انسان کے دل میں کجی اور بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ اور انسان صراط مستقیم سے بھٹک جاتا ہے ۔ اور معاشرے کے دوسرے انسان حرص زدہ انسان سے محفوظ نہیں رہ سکتے ۔ ہماے معاشرے میں سماجی ناانصافیوں نے ڈیرے ڈال لئے اور اس ناسور سے معاشرے کا کوئی فرد محفوظ نہیں ۔ مظلوم کی مدد یہ ہے کہ اس کی جو حق تلفی ہوئی ہے اس کی تلافی کی جائے اور ظالم کی مدد یہ ہے کہ اس کو ظلم سے روکا جائے۔ عدل کا فقدان بدامنی کی راہ ہموار کرتا ہے ۔ معاشرے کا امن عدل سے وابستہ ہے جزبات کو عقل کے تابع کر کے سادات اور انصاف پر عمل پیرا ہونے کیلئے طویل اور مسلسل تربیت کی اشد ضرورت ہوتی ہے انسانی جزبات میں جزبہ مفاد پرستی بڑی اہمیت رکھتا ہے انسانی عمل کا یہ  سب سے بڑا محرک ہے ۔ انسان آج انسان سے خوفزدہ ہے لبا دوں کی کیا کمی ہے ذی اقتدار کی ہوس کمزور کو طاقتور کا ڈر جب روئےذمین پر انسان ہی ڈی اقردار ٹھہرا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کے خوفناک دست ہوس سے ڈرانہ جائے۔اور اس کی نظر کرم سے امیدیں وابستہ نہ کی جائیں ، کثرت مال کی ہوس نے انسان کو عدل جیسے روشن راستے سے بھٹکا دیا ہے ۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ خوف ایک چابک ہے جو منزل سعادت کی طرف دوڑاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیک وقت امید اور خوف کا تعلق رہنا چاہیے۔بنیادی تعلق امید کا ہے لیکن اس پر خوف کا پہرہ ہونا چاہیے اللہ تعالیٰ کے خوف کے لمحے خوشی کے وقفوں سے طویل تر ہونے چاہیے ۔ ارشاد خداوندی ہے "اللہ تعالی سے تقویٰ رکھو اور سیدھی بات کہو تا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال سنوار دے اور تمہارے گناہ بخش دے۔

پیٹ میں پانی پڑنا اور اس کا علاج:۔

استسقاء پیٹ میں پانی کا ہو جانا ایک مشہور حکیم صاحب کی کتاب میں اس کی علامات اور علاج اس طرح بتایا گیا ہے جب مریض کے پیٹ میں پانی پڑ جاتا ہے تو پیٹ پھولنے لگتا ہے اور صحت گرنے لگ جاتی ہے۔ پیشاب کی مقدار کم ہو جاتی ہے جلد اور زبان خشک ، آنکھیں ویران اور نبض کمزور ہو جاتی ہے ، چلنا پھرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔یہ پانی چند ایک بیماریوں میں پیٹ تک محدود ہوتا ہے  ۔ ورنہ سارے جسم میں پڑ جاتا ہے ، بڑے حکماء نے اونٹنی کے دودھ میں بارش کا پانی ملا کر مریض کو پلانا مفید بتایا ہے ۔ اگر اونٹنی کا دودھ میسر نہ ہو سکے تو ابلا ہوا پانی شہد کے ساتھ میٹھا کر کے مریضوں کو پلایا کریں ، بارش کا پانی سب سے زیادہ مفید ہے ۔ اس میں شہد کا اضافہ کر کے دن میں تین چار بار پلایا کریں ، اس کے علاوہ جب دل کام کرنا چھوڑ دے دل کی دھڑکن میں طاقت نہ رہے کہ وہ خون کو گردش کر سکے تو اس کیلئے اونٹنی کا دودھ اور بارش کاپانی  ملا کر پلانا شفائی اثرا ت رکھتا ہے۔

دہی کے فوائد میری نظر میں :۔

دودھ سے دہی تیار ہوتا ہے جو ٹنوں کے حساب سے روزانہ فروخت ہوتا ہے  ۔ یہ نہایت مفید ترین غذا بھی ہے اور کئی بیماریوں کا علاج بھی ہے ، انسان کی بڑی آنت میں ہر وقت جراثیم موجود رہتے ہیں یہ جراثیم غذا کے صرف شکری اور نشاستی اجزا پر عمل کرتے ہیں جس سے ترشی پیدا ہوتی ہے ۔ ان جراثیم کی موجودگی میں دوسرے جراثیم پرورش نہیں پاسکتے ۔ لیکن بعض اوقات ایسے جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں جو خوراک کے لحمی اجزا کو متعفن کر کے مضر صحت اور زہریلے مواد پیدا کرتے ہیں جس سے اسہال ، بدہضمی، بھوک کا کم ہونا ، کلیجہ جلنا اور بوجھ معلوم ہوتا ہے ، چہرہ زرد پژ مردہ ہوتا ہے ۔ کام کاج کو جی نہیں چاہتا ۔ ایسی حالت میں دہی کھلائیں دہی عام جسمانی کمزوری ، کمی خون میں بہت مفید ثابت ہوا ہے ۔ بچوں کے اسہال ، مرض سل ، ضعف اعصاب ، کمی خون اور آنتوں کے امراض میں دہی دوا بھی ہے اور غذا بھی ۔ آنتوں کی بیماریوں میں اور خطرناک بخاروں میں دہی بہت فائدہ پہنچاتا ہے لیکن خالص دودھ کا تیار کیا ہوا شرط ہے دہی تازہ اور میٹھا ہونا چاہیے۔

 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر35،36




کھچڑی آئرن کی کمی دور سستا اور آزمودہ علاج

کھچڑی آئرن کی کمی دور سستا اور آزمودہ علاج:۔


کھچڑی ہمارے ملک کی ایک عام اور مقبول ڈش ہے یہ لزیذ ہونے کے ساتھ زود ہضم اور غذائیت سے بھر پور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن بہت سے افراد ایسے بھی ہیں جو اسے صرف مریضوں کی غذا سمجھتے ہیں ۔ کھچڑی کے متعلق یہ خیال درست نہیں ہے یہ ٹھیک ہے کہ بیماری کی حالت میں ایسی غذائیں تجویز کی جاتی ہیں جو ایک تو ہلکی ہوں یعنی زود ہضم ہوں غذائیت بخش ہوں اور موسم سے مطابقت رکھتی ہوں ۔ اس ضمن میں معالجین کھچڑی کے استعمال کا بھی مشورہ بالعموم دیتے ہیں لیکن اسے صرف مریضوں کی غذا سمجھ کر استعمال کرنا دانشمندی نہیں ہے کیونکہ اس سادہ سی غذا میں میں کئی  صحت بخش فوائد پوشیدہ ہیں جس سے ہر خاص و عام مستفید ہو سکتا ہے ۔ نیشنل ہیلتھ سروے آپ پاکستان کی ایک تحقیق کے مطابق کھچڑی کے استعمال سے خون میں آئرن یعنی فولاد کی کمی پوری کی جاسکتی ہے ۔ پاکستان بھر میں کی جانے والی اپنی نوعیت کی یہ منفرد تحقیق تھی ، جس سے یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ کھچڑی میں آئرن کی ایک معقول مقدار موجود ہوتی ہے اور ہمارے خون میں فور ی طور پر جزب بھی ہو جاتی ہے ۔  اس لحاظ سے خون میں آئرن کی کمی کے عارضے میں مبتلا افراد کیلئے کھچڑی کا استعمال بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ خون میں آئرن کی کمی کا عارضہ دنیا بھر میں عام بیماری کی صورت میں اختیار کرتا جا رہا ہے  اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا میں حاملہ خواتین اور چھوٹے بچوں کی پچاس سے ستر فیصد تعداد اس عارضے کا شکار ہے ۔ تاہم تجربات کے دوران غذا کے ذریعے آئرن کی کمی دور کرنے کا ایک نیا اور متبادل طریقہ سامنے آیا جو ناصرف یہ کہ سستا تھا بلکہ ہر قسم کی پیچدگیوں سے مبرا بھی تھا یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ طریقے کھچڑی کا بطور غذا استعمال ہے ۔ آئرن کی کمی دور کرنے کے ساتھ ساتھ یہ ان خواتین کیلئے بھی سود مند ثابت ہوا جو بغیر کسی پیچیدگی اور دشواری  کے ماں بننے کے عمل سے گزرنا چاہتی ہیں مزکورہ بالا تجربے اور مشاہدے میں کھچڑی میں موجود فولاد کی نشاندہی ہوئی اور حاملہ خواتین کیلئے اس کی افادیت واضح ہوئی ۔  اب سائنسی تجزیے کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ فولاد کا خون میں کیا کردار ہوتا ہے اس سے ہماری سادہ سی غذا کھچڑی کی اہمیت واضح  ہو جائے گی ۔ سائنس دان عرصہ دراز قبل ہی یہ ثابت کر چکے ہیں کہ انسانی زندگی جن عناصر کی مرہون منت ہے ان میں آئرن کی بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔میڈیکل سائنس کی رو سے خون میں موجود سرخ خلئے فولاد ہی کی شکل کے ہیں ۔ جب جسم میں یہ سرخ خلیات سفید خلیوں کے مقابلے میں کم ہو جاتے ہیں تو جسم خون کی  کمی کا شکار ہو جاتا ہے جسے اینیمیا کہا جاتا ہے ۔ جسم میں خون کی کمی کے سبب جب جسم کے مختلف اعضائے رئیسہ کو خون کی فراہمی کے تعطل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ اعضاء مضمحل اور سست ہو جاتے ہیں جس سے ان کی کارگردگی ماند پڑ جاتی ہے ساتھ ہی قوت مدافعت کم ہونے لگتی ہے اور  مختلف بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ۔  ماہرین کے وضع کردہ آئرن کی کمی کے ان مضمرات سے محفوظ رہنے کیلئے ضروری ہے کہ جسم میں فولاد کی کمی نہ ہونے دی جائے اس مقصد کیلئے مرغی یا مچھلی کا گوشت روزانہ بکرے یا بھیڑ کا گوشت ہفتے میں تین مرتبہ کلیجی مستقل ، مٹر اور پھلیاں روزانہ اور وٹامن سی والے کھانے ہرے پتوں والی سبزیاں یعنی پالک وغیرہ اور وٹامن سی سے مزین پھلوں کا استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔ یہ غذائیں جسم میں فولاد کی کمی کو تو پورا کرتی ہیں لیکن اگر ان کا بکثرت استعمال کیا جائے اور ورزش وغیرہ کا اہتمام بھی نہ ہو تو جسم میں چربی ، چکنائی اور کولیسٹرول کا تناسب بڑھنے لگتا ہے جس سے دل کے عوارض کا خدشہ رہنے لگتا ہے ۔ کلیجی تو دل کے مریضوں اور فربہ افراد کے لیے سم قاتل ہے ۔ اس لحاظ سے بھی آئرن کی کمی دور کرنے میں کھچڑی کی اہمیت مزید بڑ ھ جاتی ہے جس کے استعمال سے ان سب خدشات کا خطرہ نہیں رہتا ۔ اس کے علاوہ جیب پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوے یعنی کھچڑی پر کم خرچ بالانشین کی مثال صادق آتی ہے ۔کھچڑی بنانے کیلئے ثابت مونگ دھلی ہوئی یا چھلکے والی اور تینوں اقسام استعمال کی جا سکتی ہیں  کھچڑی میں پیاز ادرک اور لہسن کے تڑکے کے ساتھ نمک ڈال کر پکایا جا سکتا ہے ۔ مونگ کے علاوہ مسور کی دال کے ساتھ بھی کھچڑی بنائی جاتی ہے ۔ مسور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ قبض کرتی ہے لیکن چھلکے کے ساتھ پکائی جائے تو قبض کشا ہو جاتی ہے کیونکہ اس کا چھلکا گرم اور دال سر د خشک ہوتی ہے۔ مسور کی گرمی دور کرنے کیلئے اسے مونگ کی دال کے ساتھ پکانا ساتھ پکا کر دہی کے ہمراہ استعمال کرنا اسے مضر اثرات سے پاک پروٹین اور فولاد کا ماخز اور خوش ذائقہ بنا دیتا ہے ۔


 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر34


صحت و تندرستی میں اضافہ کیلئے بیل گری کو آزمائیے

صحت و تندرستی میں اضافہ کیلئے بیل گری کو آزمائیے :۔


بیل گری برصغیر کے بہت سے خطوں میں مشہور ہے ۔ اس کی لکڑی گو مضبوط ہوتی ہے مگر اس پر کیڑے مکوڑے زیادہ حملہ آور ہوتے ہیں ۔ اس کی تازہ لکڑی کو چیر نے سے بہت تیز خوشبو نکلتی ہے ۔ بیل کا پھل جسے بیل گری کہتے ہیں ۔ بہت بڑا ہوتا ہے ، خوب پکے ہوئے بیل کا مغز نہایت سرخ ، خوشبودار اور شیریں ہوتا ہے ۔ اطباء اسے کثرت سے ادویات میں استعمال کرتے ہیں اس کا مربہ بھی بہت عمدہ بنتا ہے ۔ یہ خاصیت میں گرمے سے مشابہ ہوتا ہے اس کا باہر کا خول بے حد سخت جبکہ اس کا گودا بے حد نرم اور کھانے میں لذیذ ہوتا ہے ۔ اس کے مغز کے چھلکے سکھا لیتے ہیں اسے خشک بیل گری کہتے ہیں ۔ یہ معدے و جگر پر اچھے اثرات مرتب کرتا ہے ۔ آنتوں کے امراض میں مبتلا افراد کو بیل گری ضرور کھانی چاہیے ۔ کیونکہ یہ آنتوں کو صاف کرتا ہے اور ان میں قدرتی لچک کو بحال کرتا ہے پیچش یا اسہال کی صورت میں بیل گری کا گودا اپنے نرم و کثیف اثرات کے باعث فائدہ مند ہے ۔ پکے ہوئے گودے کے کھانے سے ورم حلق میں فائدہ ہوتا ہے ، جن افراد کو دست آنے کی شکایت ہو ان کو بیل گری کا شربت تیس گرام پلانے سے یا بیل گری کا پاؤڈر ایک ایک گرام روز کھانے سے آرام آ جاتا ہے ۔ اس کے پتوں کا رس کھانسی ، زکام ، انفلوئنز اور ورم کو تحلیل کرتا ہے ، بیل گری کی جڑ کی چھال سے ایک خاص جوشاندہ تیار کیا جاتا ہے جس کے پینے سے دل کی دھڑکن کی تیزی میں اور نوبتی بخار میں افاقہ ہوتا ہے ۔ بیل گری کے تازہ پتوں کو کشید کرنے سے ایک زردی مائل تیل حاصل ہوتا ہے یہ طبی ادویہ میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ بیل گری کا پکا ہوا گودا جگر و معدے کو قوت دیتا ہے ۔

یرقان کیلئے :۔ یرقان کے مرض میں بیل گری کا پاؤڈر ایک گرام کالی مرچ ملا کر پانی کے ہمراہ چند روز کھلانے سے مرض کی زیادتی ختم ہو جاتی ہے ۔


اسہال کیلئے :۔ بچوں یا بڑوں کو اگر پیچش یادست کی تکلیف ہو تو یہ نسخہ استعمال کریں ۔ یہ پھل چونکہ قابض ہوتاہے اسی لئے بچوں کو دو سے چار رتی تک بیل گری کا پاؤڈر ایک دو رتی کتھے میں ملاکر پانی کے ساتھ کھلاتے ہیں ۔ اس سے دستو ں میں افاقہ ہوتا ہے اور آنتوں کی بے قاعدگی بھی درست ہوتی ہے ۔ بڑوں کو یہ مقدار دوگنا کر کے دی جا سکتی ہے۔

بخار کیلئے:۔ گرمی یا سردی کے باعث جن افراد کو بخار ہو جائے وہ اس نسخے سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں ۔ بیل کے پتوں کا رس ہم وزن شہد یا پانی میں ملا کر مریض کو پلائیں ، اس سے بخار کا زور ٹوٹ جاتا ہے اور طبیعت میں سکون پیدا ہوتا ہے۔

شربت بیل گری :۔ اس کا شربت بنانے کیلئے بے حد آسان ہے ۔ آپ خود گھر میں اسے تیار کر سکتے ہیں ۔ اس کیلئے سو گرام بیل گری لیں ، اسے ایک لیٹر پانی میں ڈال کر آگ پر چڑھا دیں ۔ اسے خوب پکنے دیں جب پانی کی مقدار تقریباً اڑھائی گرام رہ جائے تو اسے اتار کر ململ کے کپڑے سے چھان لیں پھر اس پانی میں ساٹھ گرام چینی ملا کر دوبارہ آگ پر رکھ دیں ۔ جب گاڑھا سا قوام تیار ہو جائے تو اتار لیں ۔ یہ شربت بیل گری تیار ہے ۔

بندش پیشاب کیلئے :۔ پیشاب کی بندش ، پیشاب کے رک رک کر آنے ، دوبارہ پیشاب کرنے کے بعد حاجت ہونے اس نسخہ کا استعمال بے حد مئوثر پایا گیا ہے ، بیل کے تازہ پختہ پکے ہوئے پھلوں کا گودا لیں ۔ اسے کسی برتن میں ڈال کر سردائی کی طرح خوب گھوٹیں ، جب پتلا اور یکجان ہو جائے تو اس میں دودھ ڈال کر ایک مرتبہ پھر گھوٹیں ۔ اس کے بعد اسے چھان کر محفوظ کر لیں وقت ضرورت اسے مریض کو بارہ گرام سے چھتیس گرام کی  مقدار میں تین وقت پلائیں ۔

بیل گری کی چائے:۔ صحت تندرستی میں اضافہ کیلئے بیل گری کی چائے کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا معدہ صاف رہے اور آپ کا نظام ہضمہ مضبوط ہو جائے تو آپ بھی بیل گری کی چائے استعمال کریں ۔ خشک بیل گری کسی بھی پنسار سٹور سے باآسانی حاصل کی جاسکتی ہے سب سےپہلے آپ چار سے چھ ٹکڑے خشک بیل گری کے اور چار سے چھ ٹیبل سپون شکر لے لیں ۔ چار سو ملی لیٹر پانی کو چائے کے برتن میں ابالیں ۔ چند منٹ بعد اس میں بیل گری کے ٹکڑے ڈال دیں ۔ پندرہ منٹ تک اسے پکنے دیں ۔ اس کے بعد اس میں شکر شامل کر دیں ۔ اگر آپ اسے ٹھنڈے مشروب کے طور پر پینا چاہتے ہیں تو فریج میں ٹھنڈا کر کے اس میں برف کا چورا شامل کر دیں ۔


 ماہنامہ عبقری " ستمبر 2015ء شمارہ نمبر 111" صفحہ نمبر37