Tuesday, February 23, 2016

مایوس نہ ہوں! زندگی کو زندگی کی طرح بسر کرنا سیکھ لیں


آدمی کو مغموم رہنے سے ایک غیرفطری قسم کی طمانیت محسوس ہوتی ہے۔ آپ نے اپنے ملنے جلنے والوں ہی میں ایسے کئی افراد دیکھے ہوں گے جنہیں بیمار رہنے کا شوق ہے اسی طرح بعض لوگ رنج و الم سے لذت حاصل کرتے ہیں۔احمد پہلونٹی کا بچہ تھا۔ باپ کپڑے کی ایک چھوٹی سی د کان کا مالک تھا جب بڑے سرمایہ دار اس میدان میں اترے تو اس کا کاروبار ٹھپ ہوگیا۔ اس مصیبت کا مداوا اس نے ایک عجیب سے احساس برتری میں پایا‘ وہ بڑے پیمانے کی تجارت کو حقارت سے دیکھنے لگا‘ گویا کاروبار کے متعلق منفی زاویہ نظر کا سبق اسے بچپن ہی میں مل چکا تھا‘

 اس کی اپنی تو کوئی چھوٹی دکان تھی نہیں مگرباپ کے نقش قدم پر چلنا ضروری تھا چنانچہ اس نے ایک چھوٹی دکان پرنوکری کرلی۔ بچپن میں احمد اکثر بیمار رہتا چونکہ پہلا بچہ تھا اس لیےماں کی ساری توجہات اسی پر مرکوز رہتیں لیکن چند سال بعد یکے بعد دیگرے گھر میں ایک بچی اور بچے نے قدم رکھا اور والدین کی توجہ اب تینوں بچوں میں بٹ گئی احمد کیلئےوہ پہلا سا التفات نہ رہا‘ چنانچہ وہ بے زار رہنے لگا‘ والدین سمجھے کہ بچہ واقعی بیمار ہے کچھ عرصے بعد اسے پھر ویسی ہی توجہ ملنے لگی جیسی پہلے ملتی تھی۔ عمر کے اس دور میں احمد نے دو ایسےسبق سیکھے جومستقبل میں اس کے اطوار کی بنیاد بن گئے لیکن یہ سبق تھے بہت نقصان دہ۔ ایک سبق یہ تھا کہ اپنے اوپر خوب افسردگی اور بے زاری طاری کرلو تو تمہاری طرف توجہ دی جائے گی‘ بچپن میں یہ حربہ کامیاب رہتا ہے لیکن بڑے ہوکر کام نہیں دیتا۔ عام لوگ مردہ دلی کو پسند نہیں کرتے اور ایسے افراد سے کنی کتراتے ہیں۔ احمد کو بڑے ہوکر یہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہیے تھی لیکن اس نے ایسا نہ کیا۔ اس کے تحتُ الشعور میں لڑکپن کی وہی باتیں جمی ہوئی تھیں اور اب بھی اس کے جذبات اسی بچگانہ اصول کے تابع تھے کہ ابا اماں کی توجہ کھینچنے کیلئے منہ بسورنا ضروری ہے۔ والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا مگر منہ بسورنے کی عادت نہ گئی۔ دوسرا سبق اس نے بچپن میں یہ سیکھا کہ آدمی کو مغموم رہنے سے ایک غیرفطری قسم کی طمانیت محسوس ہوتی ہے۔ آپ نے اپنے ملنے جلنے والوں ہی میں ایسے کئی افراد دیکھے ہوں گے جنہیں بیمار رہنے کا شوق ہے اسی طرح بعض لوگ رنج و الم سے لذت حاصل کرتے ہیں۔ ایسے لوگ دراصل زندگی کی ہمہ گیری سے گھبراتے‘ اس کے نشیب و فراز سے ڈرتے اور حقائق کا سامنا کرنے سے جی چراتے ہیں۔ حزن و ملال اور یاس و ناامیدی کی تاریکیوں میں ہمہ وقت گھرے رہنا ہی انہیں تسکین دیتا ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے ساتھ دوسروں کو بھی افسردگی اور مایوسی کے تاریک غاروں میں دھکیل دیتے ہیں۔ مسرت اور شگفتگی کوئی خدادا عطیہ نہیں۔ آدمی خواہ کسی حال میں ہو وہ چاہے تو خوشی اور مسرت کے سامان پیدا کرسکتا ہے یہی وہ سبق تھا جو احمد کو سیکھنا تھا لیکن اس کے لیے ضروری تھا کہ بچپن میں رٹے ہوئے اسباق کو فراموش کردیا جائے۔ یہ تو ہر شخص جانتا ہے کہ پُرانی عادت یک لخت ترک کردینا آسان نہیں زندگی کےمتعلق زاویہ نظر بدلنا تو اور بھی مشکل ہے‘ تاہم نئی راہیں کون تلاش نہیں کرتا۔ زندگی سنوارنے کیلئے ہم میں سے ہر ایک کو بارہا اپنے طور طریقے بدلنے پڑتے ہیں آخر ہم انسان ہیں‘ جھاڑ جھنکار نہیں کہ ایک تودۂ خاک میں جڑپکڑلیں‘ تو عمر بھر کے لیے وہیں کے ہورہیں‘ ناپختہ احساسات اور بچپن سے ذہن میں بیٹھے ہوئے غلط تصورات کو زندگی بھر کے لیے اپنے اوپر طاری کرلینے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ انسان ایک خزاں رسیدہ درخت کی مانند کملایا مُرجھایا رہتا ہے۔ہم میں سے اکثر لوگ چھوٹی چھوٹی شکایات‘ حقیر سے تفکرات اور معمولی معمولی دشواریوں کے مقابلے میں اضمحلال اور یاس و الم میں مبتلا رہنے کےعادی ہوچکے ہیں۔ کوئی بات ذرا بھی خلاف مزاج ہوجائے تو خود اعتمادی کو ٹھیس لگتی محسوس ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ ہر بات پر بیزاری کا اظہار ہمارے لیے وقار کامسئلہ بن جاتا ہے لیکن اداس اوربیزار رہنا زندگی کی توہین ہے بلکہ کفران نعمت میں داخل ہے۔ صحت مندانہ زاویہ نظریہ ہے کہ آپ زندگی کو اللہ کی عطا کردہ نعمت تصور کیجئے ایسی نعمت جو دوبارہ نہ ملے گی لہٰذا اسے بوجھ نہ سمجھئے اور اس کے ایک ایک لمحے کو انتہائی قیمتی اور بیش بہا جان کر کام میں لانے کی سعی کیجئے یاد رکھیے! اگر ہم زندگی کو زندگی کی طرح بسر کرنا سیکھ لیں تو دنیا میں ہم سے زیادہ مطمئن اور خوش و خرم انسان کوئی اور نہ ہوگا۔ اس حقیقت کو تسلیم کرلینے کے بعد احمد کے لیے بس ایک آسان سے نسخے پر عمل کرنا باقی رہ گیا جب کوئی مشکل سر اٹھاتی تو وہ اپنے آپ سے سوال کرتا کہ اسے کس طرح حل کرسکتا ہوں بہت غور و فکر کے بعدجو حل سامنےآتا اس کے مطابق عمل کرتا۔ دراصل افسردگی اور بیزاری کے زہر کا تریاق عمل سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ حقیقت بھی ذہن پر نقش کرلینی چاہیے کہ دنیا کی ساری مصیبتیں آپ ہی کیلئے خاص نہیں ہیں۔ دوسروں کو بھی ایسے ہی مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کوئی بھی مشکل ایسی نہیں جو حل نہ ہوسکے اور کوئی عقدہ ایسا نہیں جو وا نہ ہوسکے۔ ذرا کاپی پنسل لے کر بیٹھیے اور ان چیزوں کی فہرست بنائیے جن سے محرومی آپ کو صدمہ پہنچائے گی دیکھئے ایمانداری سے کام لیجئے اس فہرست میں وہ چیزیں بھی لکھئے جن سے بعض اوقات آپ کو شکایت ہوتی ہے۔ اسی طرح فہرست بناتے چلے جائیے آپ دیکھیں گے کہ خاصی طویل بن جائے گی بلکہ جب بھی آپ اس پر نظرثانی کریں گے اس میں اضافہ ہوگا۔ اب آپ ملنے جلنے والوں میں سے کسی ایسے شخص کا انتخاب کیجئے جو عموماً شگفتہ نظر آتا ہو۔ اس کے متعلق ایسی باتوں کی فہرست تیار کیجئے جنہیں وہ برداشت کرتا ہو لیکن یہ باتیں آپ کے نزدیک قطعی ناقابل برداشت ہوں‘ یہاں یہ احمقانہ عذر پیش نہ کیجئے کہ میں تو عام لوگوں سے زیادہ حساس واقع ہوا ہوں‘ یہ قابل فخر بات نہیں‘ اس کا مطلب یہ کہ آپ زندگی بسر نہیں کرتے بلکہ اس کے بخیے ادھیڑنے میں لگے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ بعض لوگ دوسروں سے کسی قدر زیادہ حساس ہوتے ہیں لیکن حساس ہونے کا یہ مطلب کہاں ہے کہ آپ تکلیف ہی تکلیف محسوس کرتے جائیں حقیقتاً حساس آدمی اسے کہیں گے جو دوسروں کی نسبت اگر تکلیف زیادہ محسوس کرتا ہے تو خوشی کے موقع پر خوش بھی دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے‘ مصیبت نازل ہو تو خود کو بدنصیب ٹھہرانے کے بجائے یہ سوچنے کی کوشش کیجئے کہ دنیا میں آپ سے بھی زیادہ بدنصیب لوگ نہ جانے کتنے ہوں گے پھر ذرا برنارڈ شاہ کے اس مقولے پر غور فرمائیے کہ جس طرح اپ کو دولت پیدا کیے بغیر اس سے استفادے کا حق نہیں اسی طرح مسرت کےاسباب پیدا کیے بغیر مسرور ہونے کا حق بھی نہیں۔ مشہور ماہر نفسیات ایلفرڈایڈلر کے پاس مالیخولیا کا مریض آتا تو وہ مریض سے کہتا: روزانہ کوئی ایسی تدبیر سوچو کہ کسی دوسرے شخص کو تمہارے باعث خوشی اور مسرت حاصل ہو۔ احمد نے بھی اس نسخے پر عمل کیا۔ ایک مرتبہ اس نے مجھے بتایا: ہردم خوش و خرم رہنے کی کوشش کرتا ہوں اور جب بھی کوئی مشکل سامنے آتی ہے تو سوچتا ہوں گھبرانے کی ضرورت نہیں‘ سب ٹھیک ہوجائے گا لیکن اطمینان قلب پھر بھی نصیب نہیں ہوتا۔ مجھے ہنسی آگئی۔ میں نے اسے سمجھایا: بھلے آدمی‘ تم نے بزرگوں کا یہ قول نہیں سنا کہ ایمان عمل کے بغیر بے کار ہے‘ جو کچھ سوچتے ہو اس پر عمل بھی تو کیا کرو‘ محض دل کو اس بات کا دلاسا دینا کافی نہیں کہ سب ٹھیک ہوجائے گا‘ اس کےبعد احمد کی شخصیت میں واقعی انقلاب سا آگیا۔ وہ شاداں و فرحاں رہتا ہے اور اپنی عمر سے زیادہ بوڑھا نظر نہیں آتا۔ارشدحسین‘ لاہور

تین سورتیں ، تین دن اور ہر مشکل حل


میں عبقری کے قارئین کے احسانات کو دیکھتے ہوئے اپنا ایک نہایت طاقتور آزمودہ عمل ان کی خدمت میں نذر کررہی ہوں۔ یقیناً اس عمل سے قارئین بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔ یہ ہمارا خاندانی عمل ہے‘ ہمارے گھرانے میں کوئی بھی مشکل ہو‘ چاہے وہ پیسوں کی ہو‘ رزق کی یا لڑکی کے رشتے کی‘ یا شادی کا مسئلہ‘ بچوں کے سکولز داخلے کا مسئلہ یا اچھے رزلٹ کیلئے ہر مشکل کا حل اس میں موجود ہے۔ 

’’سورۂ یٰسین‘
سورۂ رحمٰن‘
 سورۂ واقعہ‘‘


پانچ عورتیں مل کر تین تین بار ہر سورۂ کو پڑھیں اور آخر میں چار قل پڑھ کر سب ایک ہی مقصد کیلئے دعا کریں۔ اللہ کے حکم سے تین روز کرنےسے وہ مشکل حل ہوجائے گی اور اللہ کے حضور دعا قبول ہوگی۔ یہ عمل 12 بجے دوپہر سے پہلے یا عصر کے بعد کرنا ہے۔قرآن پاک کی ان تین سورتوں کے پڑھنے سے ایسے ایسے کمالات ہوتے ہیں کہ دل میں عظمت قرآن کی دھاک بیٹھ جاتی ہے۔یہ تین سورتیں ہماری لاتعداد کی آزمودہ ہیں۔ آپ بھی آزمائیں اور دعاؤں میں یاد رکھیں۔

حترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! عبقری رسالہ میں پچھلے چند سالوں سے ہرماہ باقاعدگی سے پڑھ رہی ہوں۔ اس میں موجود چھوٹے چھوٹے ٹپس بہت باکمال ہوتے ہیں۔ عبقری تو جیسے ہمارے گھر کا ڈاکٹر بھی ہے اور عامل بھی۔ اس ماہنامہ کی وجہ سے ہماری بہت سے پریشانیاں و مشکلات تو ایسے ٹھیک ہوئی ہیں جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ 
(مسز سیدہ حنا اعظم گیلانی‘ لاہور)

ایک درود‘ سات برکتیں


یہ درود سلسلہ قادریہ کے معمولات میں سے ہے‘ جو شخص روزانہ پڑھتا ہے اس کو سات نعمتیں حاصل ہوتی ہیں۔


 1۔ رزق میں برکت۔
 2۔ تمام کام آسان۔
 3۔ نزع کے وقت کلمہ نصیب۔
 4۔ جان کنی کی سختی سے حفاظت۔
 5۔ قبر میں وسعت۔
 6۔ کسی کی محتاجی نہ ہو۔
 7۔مخلوق خدا کا دلدادہ ہو۔
 اس کے علاوہ حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کیلئے مجرب ہے۔درود پاک یہ ہے:۔

(بشیراحمد رانا‘ اسلام آباد)

اللہ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے


عاشق رسولؐ کی چادر نے آتش فشاں ٹھنڈا کردیا

 جب میں نے بارگاہ رسالت میں عجیب کرامت کا تذکرہ کیا تو حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے ابوذر اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے بھی ہیں جو زمین میں سیر کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کی بھی ڈیوٹی فرمادی ہے کہ وہ میری آل کی امدادو اعانت کرتے رہیں۔کھانے میں عظیم برکت: حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ بارگاہ رسالت کے تین مہمانوں کو اپنے گھر لائے اور خود حضور اکرم ﷺ کی خدت اقدس میں حاضر ہوگئے اور گفتگو میں مصروف رہے یہاں تک کہ رات کا کھانا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے دسترخوان نبوتﷺ پر کھالیا اور بہت زیادہ دیر گزر جانے کے بعد مکان پر واپس تشریف لائے۔ ان کی بیوی نے عرض کیا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اپنے گھر پر مہمانوں کو بلا کر کہاں غائب رہے؟

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا کہ کیا اب تک تم نے مہمانوں کو کھانا نہیں کھلایا؟ بیوی صاحبہ نے کہا کہ میں نے کھانا پیش کیا مگر ان لوگوں نے صاحب خانہ کی غیرموجودگی میں کھانا کھانے سے انکار کردیا۔ یہ سن کر آپ اپنے صاحبزادے حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ پر بہت زیادہ خفا ہوئے اور وہ خوف و دہشت کی وجہ سے چھپ گئے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کےسامنے نہیں آئے پھر جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا غصہ فرو ہوگیا تو آپ مہمانوں کے ساتھ کھانے کیلئے بیٹھ گئے اور سب مہمانوں نے خوب شکم سیر ہوکر کھانا کھالیا۔ ان مہمانوں کا بیان ہے کہ جب ہم کھانےکے برتن میں سے لقمہ اٹھاتے تھے تو جتنا کھانا ہاتھ میں آتا تھا اس سے کہیں زیادہ کھانا برتن میں نیچے سے ابھر کر بڑھ جاتا تھا اور جب ہم کھانے سے فارغ ہوئے تو کھانا بجائے کم ہونے کے برتن میں پہلے سے زیادہ ہوگیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے متعجب ہوکر اپنی بیوی صاحبہ سے فرمایا کہ یہ کیا معاملہ ہے کہ برتن میں کھانا پہلے سے کچھ زائد نظر آتا ہے۔ بیوی صاحبہ نے قسم کھا کر کہا واقعی یہ کھانا تو پہلے سے تین گنا بڑھ گیا ہے پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اس کھانے کو اٹھا کر بارگاہ رسالت ﷺ میں لے گئے جب صبح ہوئی تو ناگہاں مہمانوں کا ایک قافلہ دربار رسالت ﷺ میں اترا جس میں بارہ قبیلوں کے بارہ سردار تھے اور ہر سردار کے ساتھ بہت سے دوسرے شتر سوار بھی تھے۔ ان سب لوگوں نے یہی کھانا کھایا اور قافلہ کے تمام سردار اور تمام مہمانوں کا گروہ اس کھانے کو شکم سیر کھاکر آسودہ ہوگیا لیکن پھر بھی اس برتن میں کھانا ختم نہیں ہوا۔ (بخاری شریف ج1 ص506 مختصراً) فرشتوں نے چکی چلائی: حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا بیان ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے مجھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو بلانے کیلئے ان کے مکان پر بھیجا تو میں نے وہاں یہ دیکھا کہ ان کےگھر میں چکی بغیر کسی چلانے والے کے خودبخود چل رہی ہے جب میں نے بارگاہ رسالت میں عجیب کرامت کا تذکرہ کیا تو حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے ابوذر اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے بھی ہیں جو زمین میں سیر کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کی بھی ڈیوٹی فرمادی ہے کہ وہ میری آل کی امدادو اعانت کرتے رہیں۔ (ازالۃ الخفاء مقصد 2 ص273) قبر والوں سے گفتگو:امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ایک مرتبہ ایک نوجوان صالح کی قبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اے فلاں! اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ولمن خاف مقام ربہ جنتان (یعنی جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈر گیا اس کیلئے دو جنتیں ہیں) اے نوجوان! بتا تیرا قبر میں کیا حال ہے؟ اس نوجوان صالح نے قبر کے اندر سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نام لے کر پکارا اور بآواز بلند دو مرتبہ جواب دیا کہ میرے رب نے یہ دونوں جنتیں مجھے عطا فرمادی ہیں۔(حجۃ اللہ علی العالمین ج2 ص860 بحوالہ حاکم) مدینہ کی آواز نہاوند تک: امیرالمومنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بنا کر نہاوند کی سر زمین میں جہاد کیلئے روانہ فرمادیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ جہاد میں مصروف تھے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے مسجد نبوی ﷺ کے منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ناگہاں یہ ارشاد فرمایا کہ یاساریۃ الجبل (یعنی اے ساریہ! پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو) حاضرین مسجد حیران رہ گئے کہ حضرت ساریہ تو سرزمین نہاوند میں مصروف جہاد ہیں اور مدینہ منورہ سے سینکڑوں میل کی دوری پر ہیں۔ آج امیرالمومنین نے انہیں کیونکر اور کیسے پکارا؟ لیکن نہاوند سے جب حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا قاصد آیا تو اس نے یہ خبر دی کہ میدان جنگ میں جب کفار سے مقابلہ ہوا تو ہم کو شکست ہونے لگی۔ اتنے میں ناگہاں ایک چیخنے والے کی آواز آئی جو چلا چلا کر یہ کہہ رہا تھا کہ اے ساریہ! تم پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کرلو۔ حضرت ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا کہ یہ تو امیرالمومنین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی آواز ہے۔ یہ کہا اور فوراً ہی انہوں نے اپنے لشکر کو پہاڑ کی طرف پشت کرکے صف بندی کا حکم دیا اور اس کے بعد جو ہمارے لشکر کی کفار سے ٹکر ہوئی تو اچانک جنگ کا پانسہ ہی پلٹ گیا اور چشم زدن میں اسلامی لشکر نے کفار کی فوجوں کو روند ڈالا اور عساکر اسلامیہ کے قاہرانہ حملوں کی تاب نہ لاکرکفارکا لشکر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور افواج اسلام نے فتح مبین کا پرچم لہرا دیا۔ (مشکوٰۃ باب الکرامات ص546، حجۃ اللہ ج 2 ص860، تاریخ الخلفاء ص 85) چادر دیکھ کر آگ بجھ گئی: روایت میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی خلافت کے دور میں ایک مرتبہ ناگہاں ایک پہاڑ کے غار سے ایک بہت ہی خطرناک آگ نمودار ہوئی جس نے آس پاس کی تمام چیزوں کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنادیا جب لوگوں نے دربار خلافت میں فریاد کی تو امیرالمومنین نے حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو اپنی چادر مبارک عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ تم میری یہ چادر لے کر آگ کے پاس چلے جاؤ۔ چنانچہ حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اس مقدس چادر کو لے کر روانہ ہوگئے اور جیسے ہی آگ کے قریب پہنچے یکایک وہ آگ بجھنے اور پیچھے ہٹنے لگی یہاں تک کہ وہ غار کے اندر چلی گئی اور جب یہ چادر لے کر غار کے اندر داخل ہوگئے تو وہ آگ بالکل ہی بجھ گئی اور پھر کبھی بھی ظاہر نہیں ہوئی۔ (ازالۃ الخفاء مقصد 2 ص172) ا بولبیب شاذلی

حلال کمائیں‘ چین کی نیند پائیں


اللہ سے باتیں کرنا سیکھ لیں!: اللہ والو!اللہ سے باتیں کرنا سیکھ لیں‘ اللہ سے راز و نیاز کرنا سیکھ لیں!چلتے چلتے باتیں کریں!سوتے سوتے باتیں کریں!جاگتے جاگتے باتیں کریں! اٹھیں تو باتیں کریں! ارے پاکی میں ہیںتو باتیں کریں! ناپاکی میں ہیں توباتیں کریں !وضو میں ہیں توباتیں کریں!بے وضو ہیں توباتیں کریں!اس کریم کے ساتھ راز و نیاز کریں! اس کریم کے ساتھ باتیں کریں! اس کو اپنے دکھڑے سنائیں !اللہ جل شانہ سے باتیں کریں! نہیں آتیں تب بھی کریں!بولنا نہیں آتاتب بھی بولیں! ایک وقت آئے گاکہ آپ کو بولنا آ جائے گا!ایک وقت آئے گا آپ کو کرنا آجائے گا! پھر ایک وقت آئے گاکہ صرف ایک مس کال پر آپ کے سارے کام ہو جائیں گے! جیسے اس اللہ کے بندے نے ایک طرف کھڑے ہو کر صرف مس کال دی تھی کہ اس کاکام ہوگیا۔ لیکن اس کاکام تب ہوا جب نیت ٹھیک کرلی تھی،اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس نے حلال کھانا ہے ۔کوئی بات نہیں ۔۔ہفتہ وار درس سے اقتباس درس روحانیت وامن)  
اگرمیرے بچے معیاری سکولوںسے ، قیمتی لباسوں سے، بہترین گاڑیوں سے، عمدہ چیزوں سے اورپرتکلف آسائشوں سے محروم ہیںکوئی بات نہیں اگرمیں زندگی کی اعلیٰ آسائشوں اور اعلیٰ چیزوں سے محروم رہوں! کوئی حرج ہی نہیں۔ اللہ!شفاء دینے والی اور شفاء لینے والی ذات:گزشتہ دنوں کی بات ہے میں ایک مریض کے پاس اس کی عیادت کیلئے گیا ۔تقریباً 33,32 کلو اس کا وزن رہ گیا تھا۔ میں نے جاتے ہی ان کو ترغیب دی کہ آپ بیمار ہیں آپ کی دعا قبول ہوگی ،لہٰذا آپ دعا کریں ۔اس اللہ کے بندے نے عشاء کے وقت ایسی دعا کی۔اس کے ہاتھ اوپر جاتے اورپھر نیچے آتے تھے ۔ اس کی دعائیںاس کے دل کی کیفیتوں سے نکل رہی تھیں اور وہ کیفیات مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھیں۔جانے وہ دل ہی دل میں اللہ سے کیامانگ رہا تھا؟ وہ مریض جو بستر مرگ پر ہے جس کو کینسر کی وجہ سے سارے جہان نے لاعلاج قرار دیا ہے۔ شفاء دینے والاتووہ کریم ہے، بظاہربس انتظار ہو رہا ہے۔ میں بھی دعا مانگ رہا تھا، وہ بھی دعا مانگ رہا تھا ،مریض اور میں دونوں ایک ساتھ آمین کہہ رہے تھے۔کافی دیر دعا مانگی۔ اس کی آنکھوں سے ہی نہیں بلکہ اس کے دل سے بھی آنسو بہہ رہے تھے اور میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ کریم کی کریمی ایسے عرشِ الٰہی سے برس پڑی ہے اور میں دل میں کہہ رہا تھا:’’ الٰہی اس کو عاجز تو نے کیا ہے! یہ تو صحت مند تھا!اللہ اس کو مریض تو نے بنایا ہے! یہ تو چلتا پھرتا تھا!میرے پاس بھی آتا تھا! اے اللہ! یہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا! اس کے جسم کی ساری طاقتیںساری قوتیں تو نے لے لیں!دی ہوئی بھی تیری تھیں۔ الٰہی! تو خود تو فرماتا ہے اپنے حبیب سرور کونینﷺ کے ذریعے سے کہ جب میرا بندہ مریض ہوتا ہے اور میرے سامنے عاجز اور بے بس ہوتا ہے،اور اس حال میںجب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میںاس کا سوال رد نہیں کرتا۔ الٰہی!آج اس کے سوال کورد نہ کر ۔اس شخص نے دعا کے بعد ہاتھ منہ پر پھیرے۔ ہاتھ منہ پر پھیرنے کے بعد بڑی دیر تک وہ انہیںکیفیتوں میں ڈوبا رہا۔ وہ شخص آنسوؤں میں ڈوبا رہا۔ پھر اس نے اپنے رومال سے اپنے آنسو پونچھے اور میں نے ان سے اجازت چاہی اور واپس آیا تب میں نے سوچا! آج کی عبادت تو مجھے نفع دے گئی ۔ تو ہو کسی بھی حال میں،مولا سے لو لگائے جا:اللہ والو! اللہ سے مانگناسیکھو ۔اس کے در پر محتاج بن جائو،اس کے غلام بن جائو ، اس کے در کے فقیر بن جائو ۔ساعتیں مانگنے کی آ گئی ہیں ۔گھڑیاں مانگنے کی چل پڑی ہیں۔ اس کریم سے مانگنا سیکھو۔وہ تو تھوڑے سے مانگنے پر بھی بہت عطا کر دیتا ہے ۔ بڑا کریم ہے!بڑا رحیم ہے!یوں اپنی نیت کو سنوارو! یوں اپنے جذبے کو سنوارو!اپنے اندر دیانتداری اور سچائی کا جذبہ پیدا کرو۔ آخرایک دن کریم کی رحمت برس پڑتی ہےاور پھر اس کی عطا ئیںبندوں پرایسے آتی ہیں کہ ہم اور آپ سوچ بھی نہیں سکتے ۔اس سے مانگنا سیکھیں ۔حلال کمائیں ،چین کی نیند پائیں:حلال کے راستوں کی طرف بڑھیں۔ حلال سے نسلیں پلتی ہیں۔ حلال سے چین آتا ہے۔ حلال سے سکون آتا ہے۔ کرا چی کے ایک تاجر نے مجھے سامان دکھایا میں نے پوچھا جناب یہ ایک نمبر ہے یا دو نمبر ہے؟ میرے ہاتھ سے وہ چیز واپس لے کروہ کہنے لگا ’’بھیا میں نے رات کو چین سے سونا ہے، یہ ایک نمبر ہے۔ اتنے سے لفظ اس نے کہے’’ میں نے رات کو چین سے سونا ہے ،یہ ایک نمبر ہے۔‘‘ زندگی کے خوش قسمت ساتھی:زندگی میں اللہ نے ایک موقع دیا ہے اپنی آمدنی کا خیال رکھیں کہ ان نسلوں کو کیا کھلا کر جا رہے ہیں؟ ان نسلوں کو کیسے پال رہے ہیں ؟کتنی خوش قسمت بیوی ہے جو حلال کا تقاضاکرے ‘شوہر کی ساتھی بن جائے اوروہ دونوںحلال کے راستوں پر چل پڑیں۔ کتنا خوش نصیب شوہر ہے جو حلال کی کمائی لا کراپنی بیوی کا ساتھی بن جائے اوروہ دونوں حلال کے راستوں پر چل پڑیں۔ کتنا خوش قسمت بھائی ہے جو حلال کمائی گھر لاکر بہن کا ساتھی بن جائے ۔کتنی خوش قسمت بہن ہے جو اپنے بھائی کو حلال کمانے کی ترغیب دے کر اپنے بھائی کی ساتھی بن جائے۔ اللہ والو! آج ہمیںموقع ملا ہے۔ کسی کو مال پر بٹھایا،کسی کو خزانے پربٹھایا، کسی کو جنس پر بٹھایا ،کسی کو کسی اورچیز پر بٹھایا۔ کامیاب کون ہے؟: اب یہ دیکھیں کہ یہاں کون ان مواقع سے فائدہ اٹھاکراللہ کے ساتھ اپنے معاملات کو حلال کر رہا ہے۔ دیانت و امانت کا معاملہ کررہا ہے‘ سچائی اور صداقت کا معاملہ کر رہا ہےجو بھی یہ سب کررہا ہے بس وہ کامیاب ہو گیا۔بچہ فاقوں سے بلک رہا ہے مگر اس نے حلال روزگارکیاتو یہ کامیاب ہو گیا ۔اس کےبچے کے ہر رونے پر عرش الٰہی سے اللہ کی رحمتیں اتر رہیں۔اگرچہ اس کی ضرورتیں پوری نہیں ہو رہی ہیں لیکن اس نے حلال روزگار کرنے کا طے کررکھا ہے ۔اس نے حرام کا طے نہیں کیا ہوا اس نے اپنے اقتدار کا غلط استعمال نہیں کیا۔ (حکیم محمد طارق محمود چغتائی

اللہ کی خوشنودی کیلئے ایک دوسرے سے خالص محبت کرنے والوں کا رتبہ


حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگو! سنو اور سمجھو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ انبیاء ہیں اور نہ شہدا ہیں‘ ان کے بیٹھنے کے خاص مقام اور اللہ تعالیٰ سے ان کے خاص قرب اور تعلق کی وجہ سے انیباء اور شہداء ان پر رشک کریں گے۔ ایک دیہاتی آدمی نے جومدینہ منورہ سے دور (دیہات کا) رہنے والاآیا ہوا تھا (متوجہ کرنے کیلئے) اپنے ہاتھ سے رسول اللہ ﷺ کی طرف اشارہ کیا اور عرض کیا: یارسول اللہﷺ! کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء، انبیاء اور شہداء ان کے بیٹھنے کے خاص مقام اور ان کے اللہ تعالیٰ سے خاص قرب اور تعلق کی وجہ سے ان پر رشک کریں گے۔ آپ ان کا حال بیان فرمادیجئے یعنی ان کی صفات بیان فرمادیجئے۔ اس دیہاتی کے سوال سے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ غیرمعروف افراد اور مختلف قبیلوں کے لوگ ہوں گے جن میں باہمی کوئی ایسی رشتہ داریاں بھی نہیں ہوں گی کہ جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے قریب ہوں، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا وخوشنودی کیلئے ایک دوسرے سے خالص و سچی محبت کی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کیلئے نور کے منبر رکھیں گے جن پر ان کوبٹھائیں گے‘ پھر اللہ تعالیٰ ان کے چہروں اور کپڑوں کو نور والابنادیں گے۔ قیامت کے دن جب عام لوگ گھبرا رہے ہوں گے ان پرکسی قسم کی گھبراہٹ نہ ہوگی‘ وہ اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ (مسند احمد)
الحب للہ

45 سالہ کنواری لڑکی کی ماں باپ سے فریاد


گزشتہ دنوں مرحوم تجمل الٰہی شمسی صاحب کی نواسیوں کی شادی کی تقریب میں جانا ہوا‘ٹیبل پر کھانے کی میز پر ایک جہاں دیدہ شخص بیٹھے ہوئے تھے باتوں ہی باتوں میں میرا تعارف ہوا تو ان کے گھر عبقری بہت ذوق وشوق سے پڑھا جاتا تھا‘ موصوف چند ماہ پہلے رنڈوے ہوئے تھے۔ بیوی کے وصال کے بعد احباب اور رشتہ داروں کا تقاضا ہے کہ آپ سنت پوری کرتے ہوئے فوراً شادی کرلیں۔ قریب بیٹھے ایک صاحب نے ازراہ مذاق کہا حکیم صاحب آپ ہی انہیں کہہ دیجئے یہ شادی کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ان کی بات سن کر ان کے ماتھے پر بل آگئے



 اور کہنے لگے ایک ہمارا دور تھا آج میں ساٹھ سال سے اوپر ہوگیا ہوں کہ جب بیٹی کی بلوغت کے بعد اس کی صرف اور صرف شادی کا فکر ہوتا تھا‘ جانچ پرکھ کی جاتی تھی لیکن جو آج کی جانچ پرکھ ہے وہ اصل ذریعہ ہے جس کی وجہ سے شادی میں تاخیر ہوتی ہے موصوف ایک لمبا سانس لے کر مزید کہنے لگے کہ بیوی کے وصال کے بعد احباب کے تقاضا نے مجھے شادی کیلئے مجبور کیا‘ میں تو ایک بات پر حیران ہوا کہ جن رشتوں کو ہم دیکھتے ہیں چالیس سے پینتالیس سال کی خواتین کنواری عام طور پر مل رہی ہیں۔ مجھے افسوس بھی ہوا اور حیرت بھی تو پتہ چلا کہ شادی کی تاخیر کی بنیاد معیار اور پرسنیلٹی ہے۔ اور وہ پرسنیلٹی کیا ہے؟ کہ خود مجھے ایک پینتالیس سال کی کنواری لڑکی کیلئے جب رشتہ کی بات چلی تو ان کی ڈیمانڈ سترلاکھ کی پراڈو گاڑی‘ فلاں چیزیں‘ اتنا بڑا گھر وغیرہ۔ جو خواتین دیکھنے گئی تھیں ان کا تبصرہ یہ تھا کہ لڑکی کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے اور وہ حیرت سے ماں باپ کا منہ دیکھ رہی تھی۔ یعنی اس کے دل کی آواز تھی اور وہ والدین کو حال دل سے پکار رہی تھی کہ میرے ساتھ پینتالیس سال تک تو زیادتی کرچکے ہیں اب تو مزید زیادتی نہ کریں۔ اب تو میں بظاہر اولاد پیدا کرنے کے قابل ہی نہیں رہی مجھے اماں کون کہے گا اب تو میں ہی اماں ابا کہہ رہی ہوں۔ موصوف اپنی بات کرتے کرتے غصے میں آگئے اور کہنے لگے جن کے گھر میں ایک کمرہ ہے اور تین وقت کی روٹی بمشکل ہے ان کی ڈیمانڈ بھی اتنی زیادہ ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ چلو میں تو بوڑھا ہوں لیکن یہ سب کچھ جوانوں کیلئے ہورہا ہے اور مجھے کہنے لگے کہ حکیم صاحب آپ مجھے شادی کا نہ کہیے گا اللہ بخشے میری بیوی بس اس نے میرے ساتھ جو اچھا سلوک‘ اچھی زندگی گزاری وہ اتنی شاندار ہے کہ مجھے یہ ڈیمانڈیں اور ڈیمانڈوں کے بعد پھر ایک اور انجام نظر آتا ہے جن کی نظر پہلے دن دولت مال گاڑیاں‘ کوٹھیاں‘ جائیداد پر ہے ابتدا ہی خراب ہوئی ہے انتہا کا کیا ہوگا؟ پھر اپنے نانا مرحوم کے بارے میں فرمانے لگے کہ وہ بہت عقلمند اور جہاں دیدہ انسان تھےاور بنیے تھے میں چونک پڑا میں نے کہا بنیے تو ہندو کو کہتے ہیں کہنے لگے نہیں اصل میں جو صابن آٹا گھی چاول کا کام کرتا ہے بنیا اس کو کہتے ہیں۔ایک دن ہمارے گھر تشریف لائے پندرہ بیس سال سے ایک صاحب ہمارے ہاں دروازے پر سبزی دینے آتے تھے‘ سبزی کی ریڑھی تھی وہ گلی گلی اسی پر سبزی بیچتے تھے ایک دن وہ صاحب ہمیں سبزی دینے آئے‘ نانا مرحوم بیٹھے تھے دیکھ کر کہنے لگے اس نے سبزی کم تولی ہے‘ ہم حیران ہوئے کہ پندرہ بیس سال سے ان سے سبزی لے رہے بہت اچھے انسان ہیں۔ کہنے لگے میں تجربہ کرکے بتاتا ہوں ان سے سبزی تولائی تو انہوں نے ایسے صفائی سے ڈنڈی ماری کہ ہم حیران ہوگئے اور ان پندرہ بیس سالوں میں ہم انہیں بالکل پرکھ نہ سکے۔ دوسری بات نانا کی یہ بتائی کہ نانا مرحوم نے فرمایا عورت کا خصم اس کا شوہر ہے اور شوہر کا خصم اس کا کاروبار ہے یعنی عورت اگر اپنے شوہر کی نہیں تو پھر کسی چیز کی بھی نہیں اور کسی قابل نہیں اور مرد اگر کاروبار کا نہیں تو پھر اس کو شوہر کہلوانے کا حق نہیں۔ میرے نانا نےاپنے تجربات میں تیسری بات یہ بتائی کہ سب سوٹوں (کپڑوں) پر نمبر لکھ کررکھیں۔ مثلاً ہر سوٹ پر نمبرنگ ہو‘ قمیص پر نمبر ایک‘ بنیان پر بھی ایک نمبر ہو‘ شلوار پر بھی ایک نمبر ہو۔ اس طرح کبھی کپڑے گم نہیں ہوتے۔قارئین! بڑوں کے تجربات اور مشاہدات میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے۔ آپ بھی آزمائیں اور استفادہ حاصل کریں۔