Tuesday, November 10, 2015

نیند میں ہزاروں نیکیاں کمائیں

نیند میں ہزاروں نیکیاں کمائیں :۔

سائنس کہتی ہے کہ ایک تندرست انسان نیند کے دوران بیس سے پچیس سانس ایک منٹ میں لیتا ہے تو اس طرح مثال کے طور پر اگر ایک انسان سوتے وقت انیس سانس ایک منٹ میں لے تو وہ ایک گھنٹے میں (19x60) یعنی   1140  سانس لے گا اب اگر وہ دن میں آٹھ گھنٹے سوئے تو ( 8x1140) یعنی 9120 سانس لے گا ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں جب کوئی سونے سے پہلے ﷽ پڑھ لیتا ہے تو اللہ فرشتوں کو حکم فرماتا ہےکہ اس کی ہر سانس پر نیکی لکھو ۔ اگر ہم سونے سے پہلے چاہےدن میں سوئیں یا رات کو یا سفر میں جب بھی سوئیں تو ﷽ مکمل پڑھ لیں تو ہزاروں نیکیاں کما سکتے ہیں ۔

خوبصورت نہیں ! نیک و صالح بہو ڈھونڈئیے سکون پائیے

خوبصورت نہیں ! نیک و صالح بہو ڈھونڈئیے سکون پائیے :۔

محترم قارئین!اور وہ معزز مائیں بہنیں آج یہ عاجزہ آپ سے ایک چھوٹا سا سوال کرنے حاضر ہوئی ہے کہ آپ اپنے گھر کیلئے ایک بہو کی تلاش کر رہی ہیں یا ایک سجے سجائے شو پیس کی ؟جس کے قد کی لمبائی اتنی ہو کہ وہ خود کو آپ سے بھی بڑا سمجھنے لگے جس کی زلفوں کی رنگت ایسی ہو کہ اتراتی پھرے جس کی آنکھیں اتنی خوبصورت ہوں کہ آپ کا بیٹا ان میں ڈوب کر اپنی ماں کا چہرہ بھول جائے ۔ یہ سچ میری ہر ماں بہن کو کڑوا ضرور لگے گا مگر سچ تو ہوتا ہی کڑواہے۔عاجزہ خود ان حالات سے گزر چکی ہے لڑکے کی ماں بہنیں جب دیکھتی تھیں تو ایکسرے کا گمان ہوتا تھا ذرا سوچئے ، کیا اس لڑکی کی عزت نفس نہیں ہوتی جس کو آپ کی نظریں ہی یہ احساس دلا دیتی ہیں کہ وہ خوبصورت نہیں تو پھر گنہگار ہے !!! کیا خوبصورتی اچھی زندگی اور فرمانبردار بیوی اور اچھی بہو ہونے کی گارنٹی ہے ؟ عاجزہ کا تجربہ ہے کہ اکثر عام سی شکل و صورت والی بیوی اور بہو بہت فرمانبردار ثابت ہوئی کہ پورے خاندان کی زندگی کو جنت بنا گئی اور اولاد کو نیک سیرت جبکہ اکثر حسین، امیر ، فیشن ایبل لڑکی ہمیشہ آئینے میں خود کو سنوارتی ہوئی اور روٹھ کر میکے بیٹھی ہو ئی اور برائی پھیلاتی ہوئی دیکھی ہے ۔ عاجزہ کے آس پاس ایسی بہت سی کہانیاں بکھری پڑی ہیں جنہیں بیان کروں تو وقت اور صفحات ان کی نذر ہو جائیں ۔ اگر اس حقیر کی یہ باتیں آ پ کو کسی شک میں ڈال رہی ہیں یا آپ غلطط فہمی کا شکار ہو رہی ہیں تو آئیے ! ذرا باقی دینی و دنیاوی مسائل کی طرح اس مسئلے کا حل بھی قرآن و حدیث میں سے تلاش کرتے ہیں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ۔"
 عورتوں سے ان کے حسن کی بنا پر نکاح نہ کرو ہو سکتا ہے کہ ان کا حسن انہیں تباہی میں ڈال دے عورتوں سے ان کے مال دار ہونے کی بنا پر نکاح نہ کرو ہو سکتا ہے کہ ان کی دولت و ثروت ان میں سرکشی پیدا کر دے ۔ عورتوں سے صرف ان کی دین داری کی وجہ سے شادی کرو۔"
 اگر کوئی دین دار عورت ایسی ہو کہ اس کا کان اور ناک کٹے ہوئے ہوں تو وہ بھی دوسری عورتوں سے افضل ہے ۔ بنی کریم ﷺ نے نیک بیوی کو شوہر کیلئے خزانہ قرار دیا ہے ۔چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ۔حضور نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے ۔
" کیا میں تمہیں نہ بتلا دوں کہ مرد کا سب سے عمدہ خزانہ کیا ہے ؟ صالح اور نیک بیوی ایسی کہ شوہر اسے دیکھے تو اس کی طبیعت خوش ہو اگر شوہر کہیں جائے تو وہ اس کے مال و آبرو کی حفاظت کرے اور شوہر اسے کوئی بات کہے تو وہ اسے ماننے میں کوئی تامل نہ کرے ۔"
 فراست کی وجہ سے دیا گیا ہے اگر وہ چاہے تو اسے استعمال کر کے اپنی دنیا و آخرت سنوار سکتا ہے عقل سے بڑھ کر کوئی فائدہ مند دولت نہیں ۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے ۔
"ان باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں جو دانش مند ہے ۔"
 اکثر مائیں اور خود مرد حضرات لڑکیوں کو ان کی کسی نہ کسی کمی یا خامی کی وجہ سے مسترد کر دیتے ہیں تو ان سے میری درخواست ہے کہ لڑکی کی صورت اور اسٹیٹس کے بجائے اس کی نیک سیرتی اور فرمانبرداری پر توجہ دیں اور اسے مسترد ہونے کا دکھ نہ دیں۔اگر اسے اپنے گھر کی عزت بنائیں او رپھر  دیکھیں آپ کا گھر جنت اور آپ کی زندگی گلزار کیسے بنتی ہے ۔ماہنامہ عبقری ایسا رسالہ ہے جسے خواتین کی بڑی تعداد کے علاوہ مرد حضرات بھی شوق سے پڑھتے ہیں ۔ ایک بہن ہونے کے ناطے میں ان تمام بھائیوں سے گزارش کرتی ہوں کہ نکاح ایک پاکیزہ بندھن اور سنت بنوی ﷺ ہے اسے صرف اور صرف دنیاوی آرائش و زیبائش اور حسن و دولت کا حصول مت سمجھیں ۔درج بالا احادیث توجہ سےپڑھ کر سبق حاصل کریں اور عمل کر کے دنیا و آخرت میں خوشی آسودگی اور سرخروہی حاصل کریں ۔جب ایک دین سے ناواقف فیشن ایبل ، مغرور لڑکی آپ کے بچوں کی پرورش اسلامی اصولوں پر نہ کر سکے آپ کی زندگی بھی اجیرن کر دے ۔ اور آپ کی اولاد کو آخرت میں نجات کا ذریعہ بنانے کی بجائے دنیا و آخرت میں پریشانی اور رسوائی کا سامان بنا دے ؟ حدیث نبوی ﷺ ہے۔
" تم میں سے سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں سب سے اچھے ہوں ۔"
 قرآن پا ک میں اللہ عزو جل نے اپنے سمجھ لینے والے اور غور کرنے والے بندوں کیلئے واضح آیات بیان فرما دی ہیں جن میں سے ایک بہت سبق آموز آیت درج ذیل ہے جو میرے مسلمان بھائیوں کی زندگی سنوار دے گی اور وہ اس پر عمل کرتے ہوئے جوان کے رب نے ان کو نصیب میں لکھ دیا ہے اس پر قناعت کر لیں اور اگر ان کی شریک حیات کم صورت یا کسی خامی و کمی میں مبتلا ہے تو اسے اپنے رب کی رضا خوشنودی اور اپنی آخرت میں نجات کا ذریعہ و وسیلہ سمجھ لیں ۔ آیت مبارکہ درج ہے۔
" ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لئے بہتر ہو اور ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لئے بری ہو ۔ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے ۔"
 ہر رشتہ کا حق فرض سمجھ کر ادا کریں اور ہر فرض کو ادا کرنا اپنا معمول بنا لیں ، زندگی آسان اور آسودہ ہو جائے گی ۔ رب کو عبادت سے اور بندوں کو خوش اخلاقی سے خوش رکھیں اور خود بھی خوش رہیں۔

اسلام میں تاجروں کے فضائل و آداب

اسلام میں تاجروں کے فضائل و آداب :۔


اسلامی نقطہ نظر سے تجارت تمام پیشوں میں سے زیادہ عظمت و فضیلت اور درجہ و مرتبہ والا پیشہ ہے اور کیوں نہ ہو جبکہ بعض روایات کے مطابق رزق کے دس حصوں میں سے نو حصے صرف تجارت پر ہیں اور بعض کے مطابق رزق کے بیس دروازے ہیں جن میں سے انیس دروازے اللہ پاک نے تجارت سے جوڑے ہیں اور اس لئے احادیث میں آتا ہے کہ سچے تاجر کا حشر صادقین ، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہو گا اور سچ بول کر تجارت کرنے والا عرش کے سائے تلے ہو گا ۔ اور سب سے پہلے جنت میں جانے والا ہو گا اور تجارت تمام نبیوں میں اکثر و بیشتر کا پیشہ رہا ہے ۔ اللہ پاک ہمیں بھی صحیح اصولوں سے تجارت کرنے والا بنائے اور ہمارا شمار بھی صادق و امین تاجروں میں فرمائے آمین۔
اللہ پاک نے فرمایا ! ان گھروں میں صبح و شام اللہ پاک کی تسبیح ایسے لوگ کرتے ہیں جن کو کاروبار اور خرید و فروخت اللہ پاک کی یاد نماز کے اہتمام اور زکوۃ کی ادائیگی سے غافل نہیں کرتے وہ ایک ایسے دن سے ڈرتےہیں ۔ جس دن دل اور آنکھیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی ۔ کہ اللہ پاک ان کو ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے اور ان کو اپنے فضل سے مزید نوازے ۔ اللہ پاک جسے چائیں بے شمار روزی دیتے ہیں بلا شبہ اللہ پاک ہی انسانوں کے خالق اور رازق ہیں اور انسانوں کی معاشی ضروریات پوری کرنے کے کفیل و ضامن ہیں کیونکہ اللہ پاک ہی سارے جہانوں اور تمام انسانوں کے پالنہار ہیں یہی وجہ ہے کہ اللہ پاک نے قرآن مجید میں بار بار مختلف اسلوب میں تمام مخلوق کو رزق بہم پہنچانے کا اعلان فرمایا ہے چنانچہ اللہ پاک نے سورہ عنکبوت میں نہایت ہی واضح اور جامع انداز میں ارشاد فرمایا کہ ۔
"اور بہت سے جانور ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے ان سب کو اور تم سب کو اللہ پاک ہی روزی دیتے ہیں ۔ وہ بڑا ہی سننے اور جاننے والے ہیں ۔"
اور رزق رسانی کیلئے اللہ پاک نے اس دنیا میں بہت سارے وسائل و ذرائع فراہم فرما دیئے ہیں ۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ۔
" اور اس زمین میں ہم نے تمہارے لئے اسباب معاش مہیا کر دیے ہیں ۔"
اللہ پاک نے ان اسباب معاش کی تفصیل سورہ انعام کی دو آیتوں میں بیان کی ہے اور یہ واضح فرمایا ہے کہ اللہ پاک نے دنیا میں زرعی و حیوانی رزق رسانی کا بلیغ ترین انتظام فرمایا ہے ۔ اور سورہ ق سورہ رحمان اور سورہ زخرف میں مزید تفصیل یہ ہے کہ قسم قسم کے باغات موسم کے مختلف غلہ و میوہ جات اور بہت سے پھلدار درخت بہترین معاش ہیں یقیناً اللہ پاک ہی حقیقی رزاق ہیں حکیم و دانا ہیں ۔ اور ذرائع معاش کے بہترین نظم کرنے والے ہیں اور ہر ایک مخلوق کو اس کی ضرورت اور اپنی حکمت بالغہ کے مطابق رزق بہم پہنچانے والے ہیں ۔
تجارت کی اہمیت :۔ ان اسباب و ذرائع معاش میں سے قابل ذکر ذریعہ معاش تجارت ہے یہ پیشہ بہت ہی قابل قدرو عظمت اور بڑی فضیلت والا ہے ۔ بعض اکابرین امت کے نزدیک تجارت کا درجہ تمام پیشوں میں اول اور افضل ہے چنانچہ صاحب اعانۃ نے تحریر فرمایا ہے کہ اسباب معاش میں سب سے زیادہ فضیلت والا پیشہ ذراعت پھر تجارت ہے لیکن ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ تجارت سب سے زیادہ فضیلت والا پیشہ ہے ۔ اور حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی جہاد کے بعد تجارت کو ہی سب سے زیادہ بہتر اور سب سے زیادہ قابل تر جیح پیشہ قرار دیا ہے کہ سب سے بہتر کسب و کمائی جہاد ہے اس کے بعد تجارت کا درجہ ہے خاص طور پر وہ تجارت جو ایک ملک سے دوسرے ملک میں یا ایک شہر سے دوسرے شہر میں مسلمانوں کی ضروریات خاص کی چیزوں کو لانے اور لے جانے کا ذریعہ ہو اس قسم کی تجارت کرنے والا شخص اگر حصول منفعت کے ساتھ مسلمانوں کی خدمت اور ان کی حاجت روائی کی نیت بھی رکھے تو اس کی تجارت عبادت کی بھی صورت بن جائے گی ۔ قرآن  و حدیث میں بھی تجارت کی بڑی فضیلیت اور تاکید و ترغیب بیان ہوئی ہے قرآن کریم نے متعدد آیات تجارت کے ذریعہ حاصل ہونے والے مالی فائدوں کو اللہ پاک کا فضل قرار دے کر تجارت کا پیشہ اختیار کرنے کی بڑی ترغیب و تاکید کی ہے ایک آیت کریمہ میں تجارت کیلئے سفر کو تہجد میں تلاوت کی تخفیف کا سبب قرار دیا گیا ہے ۔ اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی تجارت کی بڑی قدرومنزلت وارد ہوئی ہے ایک حدیث میں ہے کہ تجارت سب سے عمدہ ذریعہ معاش ہے  آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ۔
 "سب سے عمدہ و پاکیزہ تجارت کرنے والوں پیشہ ہے ۔"
 نیز ایک دوسری حدیث میں تجارت کو قربت الٰہی کے حصول کا ذریعہ بتایا گیا ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ۔
 "جو شخص مسلمانوں کے کسی شہر میں غلہ لے کر آیا اور اس دن کے بھاؤ کے مطابق اس غلہ کو بیچا تو اس شخص کو اللہ پاک کا قرب نصیب ہو گا ۔"
اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے کہ اپنے لئے بال بچوں اور ماتحتوں کیلئے بقدر ضرورت حلال و جائز ذریعہ سے مال کمانے کو آخرت میں سرخروئی اور کمیابی کا باعث قرار دیا گیا ہے ۔
حدیث شریف کے مبارک الفاظ یہ ہیں کہ ۔
"جو رزق حلال کمائی سے حاصل کرے تاکہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچے بیوی بچوں کیلئے مشقت اٹھائے ، پڑوسیوں کے ساتھ بھلائی چاہے تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالی سے اس حال میں ملے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں رات کی مانند چمک رہا ہوگا۔"
اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ حلال کمائی کیلئے دوڑ دھوپ کرنا اور تھک کر چور اور نڈھال ہو جانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت پسندیدہ اعمال ہیں اور یہ محنت و مشقت اللہ پاک کی مغفرت و بخشش کے ضامن ہیں آپ ﷺ کا ارشاد عالی ہے کہ۔
"حلال کمائی کے سلسلہ میں اپنے بندہ کو تھکا ماندہ دیکھنا اللہ پاک خوب پسند فرماتے ہیں ۔"
نیز آپ ﷺ نے ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا ہے کہ ۔
"جو بندہ شام کو اپنے ہاتھ کی  کمائی سے تھک کر چور ہو گیا تو اس کی مغفرت و بخشش ہو جاتی ہے۔"
نیز حصول رزق میں سعی کوشش بعض گناہوں کی معافی و تلافی کا ذریعہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ۔
"بعض گناہ ایسے ہیں جن کا کفارہ صرف رزق حاصل کرنے میں فکر و اہتمام اور سعی و کوشش کرنا ہی ہے ۔"
اسی طرح ایک نہایت ہی اہم اثر ہے کہ رزق حلال کی طلب میں مشقت  و پریشانی اور ذلت وخواری برداشت کرنا دخول جنت کا موجب ہے حضرت ابو اسحاق ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ نے بیان کیا ہے کہ مجھے بعض اکابرامت کا یہ قول پہنچاہے کہ رزق حلال کی طلب میں جو ذلت و خواری سے دو چار ہو گا تو جنت میں اس کا داخل ہونا بالکل طے ہے یقینا ً رزق حلال کی طلب اور اس کے حصول میں سرگرداں ہونا شریعت میں مطلوب و محمود اور مستحسن و مستحب ہے چنانچہ قرآن کریم کی دوسورتوں  سورہ قصص اور سورہ جمعہ میں حصول رزق کا صریح حکم موجود ہے اور بہت ساری احادیث مبارکہ میں کسب معاش کی تاکید موجود ہے ایک حدیث میں ہے کہ کسب حلال عبادت ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس نوجوان کا یہ عمل فی سبیل اللہ ہی ہے ۔ یہ حقیقت بھی تسلیم شدہ ہے کہ تجارت تمام ذریعہ معاش میں سب سے زیادہ فضیلت اور ترجیح والا پیشہ ہے ۔ قرآن کریم کی متعدد سورتوں میں تجارت اور اس سے وابستہ افراد کی بڑی تعریف و تحسین کے سیاق میں تجارت کی موثر ترغیب موجود ہے نیز احادیث مبارکہ میں تجارت کی بڑی تاکید اور موثر ترغیب وارد ہوئی ہے ایک حدیث میں تجارت کا پیشہ اختیار کرنے کا حکم موجود ہے آپ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ تجارت اپناؤ کیوں کہ اس میں رزق کا نواں حصہ ہے نیز تجارت کا پیشہ تمام پیشوں میں سب سے زیادہ کا رآمد اور نفع بخش ذریعہ معاش ہے آپ ﷺ سے ایک مرسل روایت میں منقول ہے کہ رزق کے نو حصے تجارت میں ہیں اور دسواں حصہ جانوروں میں ہے ۔ اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رزق کے بیس دروازے ہیں اس میں سے انیس دروازے تجارت کیلئے ہیں۔
صحابہ و تابعین اکثر تاجر تھے:۔ تجارت کی اسی قدر و منزلت عظمت و فضیلت اور تاکید و ترغیب کی اثر آفرینی تھی کہ اکثر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تجارت پیشہ تھے ۔  اور تجارت ان کے درمیان قابل رشک تھی ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جہاد فی سبیل اللہ کے بعد اگر کسی حالت میں جان دینا مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے تو وہ یہ حالت ہے میں اللہ پاک کا فضل بذریعہ تجارت تلاش کرتے ہوئے کسی پہاڑی درے سے گزر  رہا ہوں اور وہاں مجھ کو موت آ جائے حضرات تابعین کے عہد زریں میں بھی تجارت کی بڑی قدرو قیمت تھی خود تجارت کیا کرتے تھے اور دوسروں کو تجارت کا شوق دلایا کرتے تھے چنانچہ حضرت امام حسن بصری رحمۃاللہ علیہ سے منقول ہے کہ یہ بازار اللہ تعالیٰ کے عطیہ و نوازش کی جگہیں ہیں جو یہاں لینے آئے گا تو وہ پائے گا ۔اسی طرح حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ اپنے متعلقین کو تاکید فرمایا کرتے تھے کہ اپنے بازار کو لازم پکڑا لو کیونکہ ذریعہ بقدر ضرورت جائز طریقہ سے اچھی آمدنی کے ساتھ مال کما کر لوگوں سے بے نیاز رہنا ان کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا بڑی عافیت میں سے ہے ۔

تجارت اور تاجروں کے فضائل :۔تجارت تمام پیشوں میں سب سے زیادہ عظمت و فضیلت اور درجہ و مرتبہ والا پیشہ ہے اور یہ معاشرہ کے ہر عام و خاص کی ضرورت ہے ۔اوروں کی طرح ہی حضرات انبیاء کرام علیہم السلام بھی ضرورت پر خریدو فرخت کیا کرتے تھے ۔حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام بازاروں میں آمدورفت رکھتےتھے ۔نیز بکریوں کی تجارت حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے ایک حدیث میں ہے کہ معاش کے بہترین ذریعوں میں زراعت اور بکریوں کا ہے اور یہ نبیوں والا کام ہے ۔حضرت زکریا اور حضرت داؤد علیہم السلام کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ حضرت داؤد ہر روز ایک زرہ بناتے اور اس کو چھ ہزار درہم میں فروخت کرتے تھے ۔ اس چھ ہزار کو اس طرح صرف کرتے کہ دو ہزار تو اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے اور چار ہزار درہم بنی اسرائیل کے فقراء و مساکین میں بطور صدقہ و خیرات تقسیم کر دیتے سرور عالم حضرت محمد ﷺ نے بھی بعثت سے پہلے شرکت پر تجارت کی ہے ۔چنانچہ حضرت ساتب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ آپﷺ نے جاہلیت میں نبوت سے پہلے میرے ساتھ تجارت میں شرکت کی ہے اور آپ ﷺ بہترین شریک تھے ۔اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ نے نبوت سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ مضار بت یا شرکت پر تجارت کی ہے نیز آپ ﷺ نے اجرت پر بکریاں چرائی ہیں ۔ایک حدیث میں آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی ہے کہ میں بھی اہل مکہ کی بکریاں اجرت پر چرایا کرتا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مزدوری کا ذکر خیر قرآن مجید میں مزکور ہے یقیناً حضرات انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنے دور کے حالات اور ضروریات کے مطابق بعضوں نے صنعت و حرفت کو بعضوں نے مویشی پروری کو اور بعضوں نے تجارت و کاروبار کو اختیار فرمایا اور اس طرح ان حضرات نے ہم اہل ایمان کے سامنے اپنا قابل اتباع نمونہ پیش فرمایا اور صنعت اجرت اور تجارت کی اہمیت اور عظمت بیان فرمائی خاص طور  پر ہمارے پیارے نبی کریم حضرت محمد ﷺ نے تجارت کی بڑی ترغیب فرمائی ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ تجارت بہتر اور با برکت پیشوں میں ہے چنانچہ آپﷺ نے سب سے بہترین اور باعث برکت ذریعہ معاش کے سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر بیع مبرور سب سے بہتر اور بابرکت ذریعہ ہیں ۔ نیز اچھی نیت کی بناء پر دنیا و آخرت میں اس کے بڑے فائدے ہیں اور صداقت امانت اور دیانت پر مبنی تجارت قیامت کے دن اللہ پاک کی خصوصی رحمت کے حصول کا ذریعہ ہے اور ان اوصاف سے متصف تاجر کو قیامت کے دن حضرات انبیاء علیہم السلام صدیقین اللہ کی رفاقت و معیت کی بشارت آپ ﷺ نے دی ہے کہ راست باز اور امانتدار تاجر حضرات انبیاء السلام کے ساتھ ہو گا۔ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا کہ سچ بولنے والا تاجر عرش الٰہی کے سایہ تلے ہو گا ۔زبان اور عمل کے سچے تاجر کی جنت میں نرالی شان ہو گی سچ بولنے ولا تاجر بلا روک ٹوک جنت جائے گا آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ سچائی کے ساتھ تجارت کرنے والے کو جنت جانے سے روکا نہیں جائے گا ۔

اللہ الصمد پڑھ کر پھونک ماری اور ناممکن ممکن ہو گیا

اللہ الصمد پڑھ کر پھونک ماری اور ناممکن ممکن ہو گیا  :۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!اللہ آپ کو خوش رکھے اور کامیابیوں سے ہمکنار کرے ۔ آپ کے بتائے ہوئے وظائف اور ماہنامہ عبقری کی عبادات جو ہر ماہ چھپتی ہیں وہ مکمل طور سے ادا کرتی ہوں دل مطمئن ہے کہ مشکلات کا مکمل حل انشاءاللہ ضرور نکلے گا محترم حضرت حکیم صاحب! آپ کا ایک درس ہم نے نیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر کے سنا جس میں آپ نے سب لوگوں کو دعوت دی ہے کہ وہ بھی عبقری کیلئے کچھ لکھیں تو میں آپ کو اپنا دعاکے معجزانہ اثرات پر مشتمل ایک واقعہ لکتھی ہوں محترم حضرت حکیم صاحب!میں نے ماہنامہ عبقری  میں ایک مرتبہ پڑھا تھا اللہ الصمد کے کمالات تو میں نے اس کو کچھ اس طرح

میری زندگی کیسے بدلی

میری زندگی کیسے بدلی :۔     (قسط نمبر3)


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! مجھے ماہنامہ عبقری ملے تقریباً تین سال ہو چکےہیں ۔ میں آج آپ کو اپنی زندگی کے گزشتہ تقریباً پندرہ سال کی کہانی سنا رہی ہوں ۔ یہ پندرہ سال میں نے دوزخ میں گزارے ہیں ۔ پل پل جئی ہوں اور پل پل مرتی رہی ہوں اور پھر میری زندگی میں سکون کیسے آ رہا ہے یہ میں آپ کو بعد میں بتاؤں گی پہلے میری کہانی میری زبانی سنیے ! میں ایک سکول ٹیچر تھی جہاں ایک لڑکا اپنی بھتیجی کو چھوڑنے روز آتا۔ وہ تقریباً تین سال تک  مختلف ذرائع سے مجھے پیغامات بھیجتا رہا ۔ پھر آہستہ آہستہ پتہ نہیں کیا ہوا میرا دل بھی اس کی طرف مائل ہو گیا ، خط و کتابت کے ذریعے ہمارا رابطہ شروع ہوا اور پھر یہ خط و کتابت ملاقاتوں تک بڑھ گئی  میری والدین نہایت ہی شریف اور سادہ لوح انسان تھے اہل عالاقہ میرے والدین کی نہایت عزت کرتے تھے ، آج تک کسی نے میرے والد کو کسی کے ساتھ اونچی آواز میں بات کرتے نہیں سنا تھا کچھ ہی عرصہ کے بعد میں نے گھر میں شادی کیلئے شور ڈالنا شرع کر دیا ۔اور اپنی پسند سب کو بتا دی ۔ میری والدہ اور والد نے مجھے بہت سمجھایا مگر میں نہ مانی ۔ میں نے کہا اگر آپ نے میری اس سے شادی نہ کی تو میں اس کے ساتھ بھاگ جاؤں گی  میرے سر پر نام نہاد پیار کا بھوت سوار تھا ۔ بہر حال میرے تمام گھر والے میرے شدید مخالف ہو گئے مگر میں بھی اپنی ضد پر اڑی ہوئی تھی اور آخر کار میرے بھائی اور بالخصوص ابو چارونا چار میری شادی کیلئے تیار ہو گئے وہ راضی نہ تھے مگر اپنی عزت کیلئے شادی کی اجازت دے دی شادی یوں ہوئی کہ ایک محبت کیلئے میں نے ساری محبتوںکو اپنے پاؤں کے نیچے روند ڈالا ، رخصتی کے وقت میں نے دیکھا کہ میرا باپ گلی کی نکر پر کھڑا بے بسی سے آنسو بہا رہا تھا ۔ مگر میں خوشی سے سر شار گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئی ، میں نے اپنے ماں باپ کے ارمانوں ، محبتوں ، چاہتوں اور دعاؤں کو بھول کر ایک انجان شخص کو اپنا جیون ساتھی بنا لیا تھا ، تمام راستے میں بہت ہی زیادہ خوش تھی کہ میں نے جو چاہا تھا اسے پا لیا ۔ میرے شوہر بھی بہت ہی زیادہ خوش تھے کہ ہمیں ہماری محبت مل گئی ۔ مگر ! جن لوگوں کو میں اپنا سمجھ کر آئی تھی ، میرے اس گھر میں قدم رکھتے ہی تمام گھر والوں کے روئیے بدل گئے ۔ میرے شوہر کچھ عرصہ تو میرے ساتھ بہت اچھے طریقے سے پیش آئے  شادی کے آٹھ ماہ کے بعد میرے شوہر کی جدہ میں جاب لگی اور وہ جدہ چلتے بنے اور مجھے اپنے گھر والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلے گئے چونکہ شادی میں نے اپنی مرضی سے کی تھی تو میرے گھر والوں نے بھی پلٹ کر میری طرف نہ دیکھا ، شوہر کے جانے کے بعد مجھے ہر وقت سسرال والوں کے طعنے ، تشنے ، سننے کو ملتے گھر والے ملتے نہیں تھے اور شوہر اپنے گھر والوں کے خلاف کوئی بات سن سکتے ہی نہیں تھے کیسے دن کٹے ، کیسے مرمر کے زندہ ہوئی اس کو لکھتے ہوئے تو میرا قلم بھی میرا ساتھ نہیں دے رہا شادی کے سال بعد اللہ نے بیٹی کی رحمت سے نوازا ۔ بعد ازاں کچھ حالات ایسے ہوتے گئے کہ سسرال سے دھکے دے کر نکال دی گئی ۔ میں بے سرو سامانی کے عالم میں گلی میں بیٹھی اپنی غلطی پر رو رہی تھی اس دن بار بار میری آنکھوں کے سامنے اپنے آنسو بہاتے باپ کی صورت آ رہی تھی ۔ مجھے میرا ضمیر جھنجھوڑ رہا تھا کہ تو نے اپنے ماں باپ کا دل دکھایا ہے تجھےاسی کی سزا مل رہی ہے ۔ خیر میں نے شوہر کو جدہ فون کیا تو انہیں محسوس ہوا کہ اب پانی سر سے گزر چکا ہے تو انہوں نے کسی کو کہہ کہلوا کر فوراً میرے لئے علیحدہ کرائے پر مکان کا بندوست کیا اور چار گھنٹوں کے اندر اندر میں اپنے انجان گھر انجان محلے میں تھی پہلے والدین سے دوری پھر شوہر سے دوری اپنوں سے دوری اور پھر ایک چار دیواری میں قیدی کی طرح بیٹھی رو رہی تھی میرے شوہر باہر سے پیسے بھیجتےاور میرا گھر چلتا پھر میری زندگی میں ایک اور موڑ آیا جب میرے گھر کے سامنے ایک کریانہ کی دکان میں ایک لڑکا بیٹھا تھا جب اس سے سودا سلف لیتی تو نہایت محبت و پیار سے بات کرتا میں ایک بار پھر اس پیار کے بھنور میں پھنس گئی مجھے نہ کوئی سمجھانے والا تھا نہ روکنے والا نہ ہی کسی کا ڈر تھا میں گناہوں کی دلدل میں ایک بار پھر دھنستی چلی گئی اور اس لڑکے کے ساتھ تین سال گزارے نہ مجھے خدا یاد تھا نہ ہی خدا کا ڈر تقریباً ساڑھے تین سال کے بعد میرے شوہر واپس آئے اور اس علاقے سے دور ایک جگہ پر اپنا مکان خریدا اور اس طرح میرا اور اس لڑکے کے درمیان گناہ کا تعلق ختم ہوا ۔ بعد میں بھی وہ کبھی میرے پیچھے نہ آیا۔واپس آ کر میرے شوہر نے اپنی بیٹی کو بھی دیکھا اس کے بعد جب اپنے گھر والوں سے ملنے کیلئے لے گئے تب سے اب تک ان کے رویے میں میرے لئے کوئی تبدیلی نہ آئی ۔میرے شوہر سال بھر فارغ رہے رات کو دیر سے آنا اس کا معمول تھا پوچھنے پر گالیوں کے سوا کچھ نہ ملتا یہ وہ شخص تھا جس کی خاطر میں نے اپنوں کو چھوڑا ان کی مخالفت کو مول لیا مگر وہ اب میرے پاس بیٹھنا تک گوارا نہیں کرتا تھا اور پھر اسی دوران اللہ پاک نے مجھے بیٹا دیا پھر زندگی سے مایوس ہو کر خود کشی کی بھی کوشش کی تو اس پر اکڑ کر کہتا مرنا ہے تو اپنوں میں جا کر مرو ، کچھ عرصہ پہلے میری ہمسائی نے مجھے ماہنامہ عبقری دیا میں نے پڑھا تو مجھےلگا کہ جیسے کوئی سچارہبر مل گیا ۔ میں نے اپنی ہمسائی سے تفصیل سے عبقری کے متعلق پوچھا حضرت حکیم صاحب ! کے بارے میں پوچھا اس نے مجھے موبائل کارڈ میں آپ کے تمام درس کروا کے دیئے جو میں نے سننے شروع کر دیئے بس پھر کیا تھا جیسے جیسے درس سنتی چلی گئی زندگی بدلتی چلی گئی مجھے اپنے بے حیا اور فحش نفس سے نفرت ہونا شروع ہو گئی مجھے یاد بھی نہیں کہ میں نے اپنے پیارے اللہ پاک کو کتنے عرصے بعد یاد کیا بہت روئی بہت گڑ گڑائی رو رو کر اللہ پاک سے توبہ کی اس کے اگلے دن اپنے شوہر سے اجازت لے کر اپنی ہمسائی کے ساتھ اپنے والدین کے گھر آئی اپنے ابو اور امی کے پاؤں میں سر رکھ کر رو رو کر معافی مانگی مزید رشتے دار بھی اکٹھے ہو گئے ۔ سب نے میرے والدین کو بڑی مشکل سے راضی کیا ۔ شام کو گھر آئی تو دل میں کچھ سکون تھا اب نماز پڑھنی شروع کر دی ہے ہر وقت اللہ پاک کو یاد کرتی ہوں سارا دن گھر میں آپ کا درس چلتا ہے میں نے اپنے ماں باپ کا دل دکھایا ان کی نافرمانی کی ۔اپنے شوہر کے ساتھ غداری کی اس کی غیر موجودگی میں اپنی عزت کو غیر کے ہاتھوں میں تھما دیا جس کی مجھے خوب خوب سزا ملی شاید مجھے عبقری نہ ملتا تو نہ جانے اب میں کہاں سے کہاں ہوتی ؟مگر عبقری اور درس نے میری زندگی میں سکون بھر دیا ہے میرے شوہر کا رویہ بھی دن بدن اب بدل رہا ہے اب بچوں سے بھی پیار کرتے ہیں اور ان کی نوکری بھی اسی شہر میں لگ گئی ہے آہستہ آہستہ اب میرے مسائل حل ہو رہے ہیں ۔یہ درس ہی کی برکت ہے کہ میرے شوہر میں اتنا بدلاؤ آ رہا ہے اب جب اپنے گزشتہ گناہوں بھری زندگی بارے سوچتی ہوں تو کانپ کر رہ جاتی ہوں ۔

Monday, November 9, 2015

قارئین کے طبی اور روحانی سوال، صرف قارئین کے جواب

قارئین کے طبی اور روحانی سوال، صرف قارئین کے جواب :۔


چہرے پر بھورے تل :۔
محترم قارئین السلام علیکم! میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے چہرے پر بھورے رنگ کے تل نما داغ ہیں جو چھونے پر محسوس بھی نہیں ہوتے جنہیں فریکل کہا جاتا ہے ۔ اگر قارئین کو اس کا بہتر حل معلوم ہو تو براہ مہربانی بتا دیں ۔ دعا گو رہوں گی ۔
جواب:۔ بچیوں کے جسم کےاندرونی نظام میں عمر کے بڑھنے سے تبدیلیاں آیا کرتی ہیں ۔ ان فطری تبدیلیوں کی وجہ سے بعض اوقات ان کا اثر چہرے کی جلد پر ظاہر ہو تا ہے ۔ بعض اوقات سال دو سال بعد خود بخود یہ کیل مہاسے غائب ہو جاتے ہیں مگر بعض بچیوں میں یہ بہت دنوں تک بھی رہ جاتے ہیں آپ آلو بخارا تین دانے ، گل منڈی تین گرام ، سونف چھ گرام ۔ ان تینوں کو ایک گلاس پانی میں جوش دیں پھر چھان لیں صبح نہار منہ دو تین ہفتے یہ نباتی دوا پی لیں ۔ اس  سےفائدہ ہوگا ، ان تلوں پر لگانے کیلئے دہی کی بالائی اچھی چیز ہے۔
بازوؤں پر بال :۔
محترم قارئین السلام علیکم! میرا مسئلہ یہ ہےکہ میرے بازوؤں پر بہت موٹے مردوں کی طرح بال ہیں جو بہت برے لگتے ہیں ۔ کیا ان بالوں کو صاف کرنا گناہ تو نہیں ، میں ان بالوں کو صاف کر سکتی ہوں ۔ اور مجھے ان بالوں کا موثر علاج بھی بتائیں ۔میرا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ میری آنکھیں ہر وقت سوجھی ہوئی لگتی ہیں اور چہرے پر بھی کبھی سوجن ہو جاتی ہے جس دن چاول کھاتی ہوں اس دن سوجن اور زیادہ ہو جاتی ہے ۔ اس دن صاف دکھائی بھی نہیں دیتا آپ میرے مسائل کا حل بتا دیں بڑی مہربانی ہو گی۔
جواب:۔ غیر ضروری بالوں کے مسائل عموماً ان خواتین کو ہوتے ہیں جن کے ہامونز میں خرابی پیدا ہو گئی ہو ۔ آپ دفتر ماہنامہ عبقری سے پوشیدہ کورس لے کر چند ماہ مستقل مزاجی سے استعمال کریں  ، انشاءاللہ اس کے استعمال سے آپ کے لا تعداد مسائل حل ہو جائیں گے ۔ دورا مسئلہ کے حل کیلئے آپ دفتر ماہنامہ عبقری سے جوہر شفاء مدینہ اور ستر شفائیں ڈبی میں دی گئی ہدایات کے مطابق استعمال کریں ۔
سانولہ رنگ :۔
محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! آپ کا عبقری رسالہ ہمیں بہت پسند ہے ہم نے اس سے دینی معلومات اور بہت سے وظائف حاصل کیے ہیں۔ میرا ایک مسئلہ ہے جو میں قارئین کے سوال قارئین کے جواب میں پیش کررہی ہوں ۔ میرا اور میری کزن کا رنگ سانولہ ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی باتیں اور طعنے سننے پڑتے ہیں آپ کو ئی ٹو ٹکہ بتائیں جس سے ہمارا رنگ سفید ہو جائے اور کوئی کریم یا صابن بھی بتائیں جس سے جسم اور چہرے کا رنگ سفید ہو جائے ٹو ٹکہ زیادہ مہنگا ہ نہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی دے ساری زندگی دعائیں دیں گی۔
جواب:۔ میری بہن یہ نسخہ میری بیوی کا آزمودہ ہے آپ بھی آزمائیے نہایت سستا اور کارآمد ہے عبقری جنوری 2014ء میں یہ نسخہ چھپ چکا ہے نسخہ درج ذیل ہے :۔
ھوالشافی:۔کونجی پاؤڈر 40 گرام، گلیسرین خالص 100 گرام، عرق گلاب 100 گرام، لیموں کا رس 100 گرام۔
ان تمام اجزاء کو آپس میں ملا کر لوشن تیار کریں ہلکے ہاتھوں کے ساتھ صرف رات سوتے وقت استعمال کریں ۔ صبح اٹھ کر چہرہ دھولیں ۔ انشاءاللہ چند دن استعمال سے آپ کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح روشن ہو جائے گا ۔
پاوؤں میں درد :۔
قارئین ! میری امی کے پاؤں کے درد کا عارضہ لاحق ہے ، دن کے وقت کام کاج کے دوران ان کو یہ تکلیف نہیں ہوتی لیکن کام کے بعد آرام کے دوران یعنی رات کے وقت ان کے پاؤں میں سخت درد محسوس ہوتا ہے درد کے ساتھ ساتھ پاؤں پر سرخ نشانات ظاہر ہو جاتے ہیں۔ جیسے خون جم گیا ہو۔ یہ درد دبانے سے ٹھیک ہوتا ہے امی زیادہ تکلیف کی وجہ سے اپنے پاؤں چارپائی پر زور زور سے مارتی ہیں ۔ تب تھوڑا افاقہ ہوتا ہے براہ مہربانی کوئی ٹوٹکہ نسخہ یا روحانی وظیفہ بتا دیں۔
جواب:۔ آپ اپنی والدہ کو نیم گرم دودھ میں دو عدد چھوٹی الائچی ڈال کر اس کے سات سبز ہریڑ دو عدد استعمال کریں ناصرف پاؤں کی درد بہتر ہو گی بلکہ اور دوسرے عوارض سے بھی نجات ملے گی انشاءاللہ کچھ عرصہ استعمال سے آپ کی والدہ بفضل خدا صحت مند ہو جائینگی۔
بے ضرر گلٹی :۔
قارئین ! میری عمر 43 سال ہے شادی شدہ ہوں میرے بائیں کان کے ساتھ چہرے کی طرف ڈاڑھی والی جگہ پر ایک گلٹی ہے ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ یہ بے ضرر ہے یہ گلٹی تقریباً چار سال پرانی ہے جو نہ تو بڑھ رہی ہے اور نہ ہی کم ہو رہی ہے اس میں درد بھی نہیں ہوتا اور اگر اس کو اوپر نیچے دائیں بائیں حرکت دیں تو یہ با آسانی حرکت کرتی ہے ۔ مجھے جلد از جلد اس کا علاج بتائیں ۔
جواب:۔ بھائی ! میری بغل میں اسی طرح کی بے ضرر سی گلٹی تھی جس کی وجہ سے میں بہت پریشان رہا پھر مجھے میرے ایک دوست نے ایک وظیفہ بتایا کہ ہر نماز پڑھنے کے بعد سانس روک کر سات مرتبہ یا قابض  یا مانع پڑھ کر انگلی پر دم کے کے گلٹی پر ملا کرو تقریباً چھ ماہ ہو گئے ہیں میں یہ وظیفہ کر رہا ہوں اور میری گلٹی ستر فیصد ختم ہو گئی ہے آپ بھی یہی عمل شروع کریں انشاءاللہ آپ کی گلٹی بھی ختم ہو جائے گی ۔
چھوٹے بچوں کی شوگر :۔
محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!جونہی عبقری سے تعارف ہوا اور سچے واقعات اور نسخہ جات میرے اندر ہلچل مچانے لگے میں ماہنامہ عبقری میں اپنے آزمودہ نسخہ جات و وظائف بھیجتی رہتی ہوں جب سے آپ نےفون کر کے نسخہ کی تصدیق کی آپ کی عظمت میرے دل میں اور زیادہ بیٹھ گئی کہ کس طرح تصدیق شدہ اور صحیح نسخے لکھتے ہیں ۔ تھوڑا سا بھی شک ہو جائے تو تصدیق کرتے ہیں کس مشکل سے آپ نے مجھ سے رابطہ کیا یہ آپ کی سچائی اور عظمت کی مثال ہے محترم حضرت حکیم صاحب ! میرا قارئین سے سوال ہے
کہ میرا ایک ننھا سا پوتا ہے وہ صرف دو سال کا ہے اسے شوگر ہو گئی ہے اسے ابھی سے انسولین لگ رہی ہے قارئین سے اس کا حل مطلوب ہے۔
جواب:۔ محترمہ آپ تمام گھر والے نماز کی پابندی کریں ۔ سارا دن بچے کے قریب سورہ رحمن لگا کر رکھیں تاکہ بچے کے کانوں میں ہر وقت سورہ رحمن کی تلاوت کی آواز جاتی رہے انشاءاللہ کچھ ہی عرصہ بعد فرق آپ خود دیکھیں گے۔
مرہم آتشک :۔
میں امریکہ میں رہتا ہوں ، آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ یہاں علاج کتنا مہنگا ہے معمولی نزلہ زکام کا علاج اگر ڈاکٹر کے پاس کروانے جائیں تو کم سے کم پانچ سو ڈالر کا خرچہ ہے جو پاکستانی روپے میں دیکھ لیں کتنے بنتے ہیں تو بڑے امراض کا سپیشلسٹ سے علاج کروانے کا خرچہ تو کسی کے بس میں نہیں ہوتا ہے اس لئے یہاں لوگ زیادہ تر اپنا علاج خود ہی کرتے ہیں مسئلہ درپیش ہے کہ یہ کھلا اور عریاں معاشرہ ہے اس لئے انہیں بہت برے اور بڑے مرض ہیں ہمارے پاکستانی ان سے وہ بری بیماریاں لے لیتے ہیں اور ان بیماریوں کا علاج کسی کے پاس نہیں ہے سپیشلسٹ کے پاس  بھی نہیں تو اصل میں آپ مجھے آتشک کا علاج لکھا دیں ۔
مشورہ؛۔ آتشک کا علاج ایک فاضل پڑھے لکھے طبیب ہی کا کام ہے ہر کسی کو اس میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہیے ۔ کیو نکہ غیر طبیب تو اس کی تشخیص بھی نہیں کر سکتا علاج تو دور کی بات ہے البتہ ایک مرہم کا نسخہ لکھ دیتے ہیں اگر واقعی آتشک ہو تو اس کے بیرونی استعمال سے فائدہ ہوتا ہے ، نسخہ یہ ہے ۔
گرد چوب چینی دو ماشہ ، شنگرف تین تولہ ، تو تیائے ہندی شستہ چھ تولہ۔
باریک گرد کی طرح سفوف بنا کر دیسی انڈے کو گرم بھو بھل میں گرم کر کے زردی نکال کر اس زردی میں ملا دیں اور زخم کو صاف کر کے مرہم کی طرح لگائیں۔
وحشت اور ضعف قلب :۔
عرصہ دراز سے لیکوریا کی مریضہ ہوں ۔ پانی کی طرح روپے بہا کر بھی اس مرض سے نجات نہیں ملی ۔ لیکوریا کی دوائیں کھا کھا کر اور بہت سی تکلیفیں پیدا ہو گئیں۔ بچپن میں نمونیہ ہو گیا تھا ڈاکٹروں نے الرجی بتائی اور کہا بچی بڑی ہو گی تو خود بخود اچھی ہو جائے گی ۔ مگر باقاعدہ دمہ ہو گیا ، ہاتھ پیر جلتے ہیں شدید وحشت طاری ہو جاتی ہے  دل سخت کمزور ہو گیا ہے آپ مجھے لیکوریا ، وحشت اور دل کی کمزوری کا علاج بتائیں مگر ایسا علاج بتائیں جو کم خرچ کر کے کیا جاسکے۔
مشورہ:۔ خمیرہ وارید تین ماشہ صبح و شام کھائیں مگر یہ صحیح نسخے سے اصلی بنا ہوا ہو نا ضروری ہے کسی پرانے دیانتدار طبیب کا اپنا بنایا ہوا خرید کر استعمال کریں انشاءاللہ آپ کی تینوں شکایات کا یہ آسان ،سستا اور مستقل حل ہے ۔
میلان رحم :۔
کافی عرصہ سے لیکوریا کی شکایت ہے بعض اوقات تو شدید تکلیف ہو جاتی ہے ۔ سیلان کے ساتھ شدید کمزوری ہو گئی ، جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا ہے ، دماغی کمزوری بھی ہو گئی ، چلنا پھرنا ، کام کاج مشکل سے ہوتا ہے ۔
مشورہ:۔ معجون سپاری پاک چھ گرام آدھی پیالی دودھ سے کھائیں ، شام کو عصر کے وقت سدا جوانی آدھی چمچ کھائیں ، سدا جوانی کا نسخہ یہ ہے کھوپرا خشک ، چھوارے ، کشمش ، سندر خانی، مغز اخروٹ ، چینی سب دوائیں ہموزن کوٹ کر رکھ لیں ، انشاءاللہ شفاء ہو گی یہ بہت عمدہ غذائی دوا ہے۔
عجیب کمزوری :۔
لکھتے ہوئے شرم آ رہی ہے مگر شرعی امر ہے ۔ علاج بہت کروایا ہے فائدہ نہیں ہوا مسئلہ حق زوجیت کے بعد جسم میں رعشہ طاری ہوجاتا ہے۔
مشورہ:۔ معجون مومیائی دو ماشہ دودھ کے ساتھ صبح نہار منہ کھائیں کچھ عرصہ استعمال کریں پھر کمال خود دیکھیں ۔
منہ پک جاتا ہے  :۔
میری عمر 34 سال ہے ۔ گزشتہ دو سالوں سے مجھے معدے کی تکلیف ہے کبھی پیٹ میں گرمائش ہوتی ہے اس تکلیف کی وجہ سے میرا منہ پک جاتا ہے جس کی وجہ سے زبان کی اوپر والی تہہ خراب ہوتی ہے ۔ جس کی وجہ سے منہ میں درد ہوتا ہے ، کبھی منہ میں چھالے بھی ہو جاتے ہیں کافی دوا کھانے کے بعد ٹھیک ہوتا ہوں لیکن پھر تکلیف ہو جاتی ہے اسپغول بھی استعمال کرتا ہوں قبض نہیں ہے کبھی بھی سر میں درد ہوتا ہے میں چھالیہ گٹکا بھی استعمال نہیں کرتا ۔
مشورہ :۔ غذا کے بعد جوارش شاہی چھ گرام دوپہر رات کو کھائیں ، کتھا اصلی ، دانہ الائچی خورد ، باریک پیس کر منہ کے چھالوں پر چھڑکیں ۔ دلیہ ، دودھ مکھن سبزیاں ، روٹی کھائیں تین ہفتے کے بعد لکھیں ، امید ہے انشاءاللہ افاقہ ہو گا۔
بری عادت :۔
یہ مسئلہ میری ایک دوست کا ہے ۔ وہ بچپن سے بری عادت میں مبتال تھی ، سترہ یا اٹھارہ سال کی عمر میں وہ عادت تو چھوٹ گئی ، پھر بے خوابی کی شکایت شروع ہو گئی اب اس کی عمر 28 سال ہے اور شادی قریب ہے اور لیکوریا کے ساتھ ٹانگوں اور کمر میں درد بھی رہتا ہے۔
مشورہ:۔  وہ بری عادت تو جاتی رہی مگر اس کی یاد باقی ہے اور یہی اصل مرض ہے ۔ جب عادت ختم ہو گئی تو بات ختم ہو گئی رات گئی بات گئی اب اسے بھول جائیں یہ اصل علاج ہے باقی رہا لیکوریا تو وہ کمزوری کی وجہ سے ہے کمزوری غذا کی قلت کی وجہ سے ہے غذا کی کمی کو درو کریں اچھی عمدہ غذا مسلسل باقاعدگی سے شدید بھوک رکھ کر کھائیں۔ صبح کو ایک وقت معجون سپاری آدھی چمچ کھا لیا کریں ۔ ایک ماہ کے بعد دوا بند کر دیں مگر غذ ا مسلسل جاری رکھیں بس کافی ہے البتہ شادی کی عمر ہو تو شادی ہو جانی چاہیے ۔ اس میں تاخیر سے عموماً لڑکیوں کی صحت خراب ہو جاتی ہے ۔ 

Friday, November 6, 2015

چھوٹے بچوں کی شوگر

چھوٹے بچوں کی شوگر :۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!جونہی عبقری سے تعارف ہوا اور سچے واقعات اور نسخہ جات میرے اندر ہلچل مچانے لگے میں ماہنامہ عبقری میں اپنے آزمودہ نسخہ جات و وظائف بھیجتی رہتی ہوں جب سے آپ نےفون کر کے نسخہ کی تصدیق کی آپ کی عظمت میرے دل میں اور زیادہ بیٹھ گئی کہ کس طرح تصدیق شدہ اور صحیح نسخے لکھتے ہیں ۔ تھوڑا سا بھی شک ہو جائے تو تصدیق کرتے ہیں کس مشکل سے آپ نے مجھ سے رابطہ کیا یہ آپ کی سچائی اور عظمت کی مثال ہے محترم حضرت حکیم صاحب ! میرا قارئین سے سوال ہے کہ میرا ایک ننھا سا پوتا ہے وہ صرف دو سال کا ہے اسے شوگر ہو گئی ہے اسے ابھی سے انسولین لگ رہی ہے قارئین سے اس کا حل مطلوب ہے۔
جواب:۔ محترمہ آپ تمام گھر والے نماز کی پابندی کریں ۔ سارا دن بچے کے قریب سورہ رحمن لگا کر رکھیں تاکہ بچے کے کانوں میں ہر وقت سورہ رحمن کی تلاوت کی آواز جاتی رہے انشاءاللہ کچھ ہی عرصہ بعد فرق آپ خود دیکھیں گے۔