Monday, February 1, 2016

موٹاپا اور معدہ کے پرانے مریض متوجہ ہوں

موٹاپا اور معدہ کے پرانے مریض متوجہ ہوں !


ایک صاحب میرے پاس علاج کی غرض سے بہت دور سے آئے ایک لقمہ کھا لیں تو طبیعت ہمیشہ بوجھل بوجھل چائے کا گھونٹ پی لیں ۔ تو جلن ، دودھ پئیں تو معدہی پھول جائے ۔ اعصاب تھکے ہوئے مزاج میں غصہ اور چڑ چڑا پن ، طبیعت میں ہر وقت اکتاہٹ، بے زاری ، گھبراہٹ بے چینی، پیٹ پھول چکا، چند قدم چلیں سانس پھول جاتا تھا ، جوڑوں اور گھٹنوں کےلئے رنگ برنگی نامعلوم کتنی گولیاں کھاتے تھے ، اعصاب کمر ہر وقت دبواتے رہتے ، ازدواجی زندگی بہت کمزور سے کمزور تر اور طبیعت میں ہر وقت گرانی اور بے چینی ، ذہنی تناؤ اعصابی کھچاؤ جس کو وہ ہر وقت ٹینشن اور ڈیپریشن کہتے رہے تھے ۔ کئی ڈاکٹروں سے اور ماہر نفسیات سے علاج بھی کر چکے لیکن طبیعتت میں ا بھی تک وہی بے چینی اور وہی بے زاری ۔ مصروف تاجر تھے اندرون بیرون ملک کاروباری سفر کرتے رہتے تھے ان کے پاس ایک چھوٹا بیگ تھا جو رنگ برنگی گولیوں ، کیپسول ، دواؤں اور انسولین کے انجکشن سے اکثر بھرا رہتا تھا ۔ عمر کوئی زیادہ نہیں تھی لیکن ستر سال کے نظر آتے تھے بقول ان کے کہ ہر وقت منفی سوچیں ،خودکشی کے خیالات ، ذہنی اعصابی کھچاؤ، تناؤ جس نے مجھے مریض بنا دیا جسم پرہلکی ہلکی ورم اور صبح سو کر اٹھتے تھے تو چہرہ اور آنکھیں سوجھی ہوئی ہوتی تھیں ۔ منہ سے بدبو آتی حالانکہ بقول ان کے دو وقت تو ہر حال میں برش کرتا ہوں تھوڑی سی بات سن لیں دل دھڑکتا تھا ہر وقت انجانا خوف، انجانی فکر اور انجانی سوچیں ان کو پریشان کیے رکھتی تھیں ۔ یہ کچھ مختصر سی کیفیات میں نے ان کی بتائیں حالانکہ وہ تو خود بیماریوں کا مجموعہ تھے او ر بیماریاں شاید ان کو نہیں چھوڑتیں تھیں اور یہ جو کچھ میں نے لکھا ہے اس ساری کیفیت میں ان کے آنسو بھی شامل تھے جس کو میرے ٹشو جو میں انہیں بار بار دے رہا تھا ان کا ساتھ بنے ہوئے تھے ۔ میں نے انہیں تین پرہیز بتائے تین غذائیں بتائیں اور تین مہینے بتائے ۔ پہلا پرہیز :۔ بیکری اور بیکری سے ملنے والی تمام چیزیں ۔ دوسرا پرہیز :۔ سفید آٹے کی بنی ہوئی تمام چیزیں اور تیسرا پرہیز :۔ ہر قسم کا گوشت اور جو تین چیزیں استعمال کرنے کیلئے دیں موٹے آٹے کی روٹی امرود کے ساتھ کھائیں یعنی امرود بطور سالن جی چاہے ہلکی نمک مرچ ، سرخ یا کالی مرچ اس پر چھڑک سکتے ہیں چاہیں تو صرف امرود  کھائیں چاہے ایک وقت میں ایک کلو دو کلو اس سے بھی زیادہ جی بھر کر کھائیں ۔ کھائیں تو ایسا امرود کھائیں جو گلنے کے قریب ہو یعنی نہایت نرم سے نرم تر ہو سخت اور کچا ہر گز نہ ہو۔تو پہلی چیز امرود ۔ دوسری چیز :۔چھان بوری والی روٹی اور تیسری چیز :۔دو چمچ شہد تازہ پانی میں گھول کر دن میں تین بار پئیں قارئین ! یہ تین چیزیں میں نے انہیں بتائیں اور تاکید کی کہ تین ماہ زیادہ نہیں تو دو ماہ ورنہ ایک ماہ تو ڈٹ کر ضرور کریں پھر مجھے ملیں ۔ جی چاہے دوائیں چھوڑ دیں بہتر یہی ہے کہ آہستہ آہستہ چھوڑیں ۔ انہوں نے دوا کا تقاضا کیا میں نے انہیں دوانہ دی اور ان کو منت کر کے روانہ کر دیا ۔ کچھ عرصہ کے بعد میرے پاس آئے موصوف بہت خوش تھے اور ان کی آدھے سے زیادہ گولیاں اور دوائیں ختم ہو چکی تھیں ۔ کہنے لگے میں نے بہت علاج کرایا مجھے یاد ہے میں ایک دفعہ نیوزی لینڈ گیا وہاں ایک بہت بڑا فزیشن تھا جس کی بھاری فیس میں نے ادا کی اسے اپنا چیک اپ کرایا وہ کہنے لگے آپ سب کچھ چھوڑ دیں اور صرف پھل کھائیں اور انہوں نے مجھے پھلوں کی باقاعدہ لسٹ دی اور اس کی تاکید کی ۔ انہوں نے مجھے اچھا خاصا وقت دیا میں ہوں ہاں کرتا رہا بہر حال آ کر وہ سب کاغذ پھاڑ دیئے اور اپنا وقت ضائع ہونے پر غصہ آیا ۔ مجھے اب جا کر احساس ہوا کہ وہ نیوزی لینڈ کا ڈاکٹر صحت مند بات کہہ چکے تھے اور میں غلط تھا وہ درست بھی تھے اور ان کا مشورہ تندرست بھی تھا ۔ مجھے اس لسٹ میں آج تک امرود یاد ہے اور چھان بوری کی روٹی بھی یاد ہے جو انہوں نے کہی کہ اگر آپ کا زیادہ بھی دل چاہے تو یہ تھوڑی سی کھا سکتے ہیں ورنہ زیادہ آپ پھل کھائیں پہلے پہل میں نے جب امرود کے ساتھ روٹی کھائی تو سب مجھ سے مذاق کرنے لگے اور میں خود بھی اسے مذاق سمجھ رہا تھا پر آپ کا مجھے کسی نے بتایا تھا اور میں نے آپ کی بات اس دفعہ ماننے کا پورا فیصلہ کر لیا تھا ۔اور میں نے آپ کی بات اس دفعہ ماننے کا پورا فیصلہ کر لیا تھا اور آپ کی بات مان کر مجھے احساس ہوا کہ میں کن رنگ برنگی غذاؤں اور فائیو سٹار ریسٹورنٹ میں بھٹکا رہا دراصل میرے ساتھ زیادتی ہاسٹل سے شروع ہوئی جب میں نے ہاسٹل کے لذیذ مسالہ دار کھانوں سے دل بہلایا اور مجھے ہاسٹل میں ملتا ہی وہی تھا باہر جاتا تو بھی وہی کھانے اور انہی ذائقوں سے بھرے اور اٹے کھانے بس ان کھانوں کا ایسا چسکا پڑا کہ ان کھانوں نے مجھے اور کسی چیز کا نہ چھوڑا ۔ حتیٰ کہ میں ان ذائقوں کی وجہ سے اپنی زندگی کی حقیقی لذت ہوتی ہی کیا ہے ۔ اے کاش! میں آپ کے پاس پہلے آ جاتا پھلوں ، سے اور امرود سے دوستی لگا لیتا ۔ قارئین ! یہ ایک واقعہ ہے جس نے آپ کے اندر واقعی خود احساس پیدا کیا ہو گا میرے پاس یہ ایک واقعہ نہیں ہے بیسیوں واقعات ہیں ایک شخص بواسیر کی پرانی مرض میں مبتلا تھا میں نے بس صرف ایک بات کہی یا اپنی مانیں یا میری مانیں اگر میری ماننی ہے تو صرف اور صرف یہی تین غذائیں تین پرہیز اور تین مہینے ۔قارئین ! اس مریض نے تو صرف ایک مہینہ یہ کیا اور ایک مہینے میں آدھی بلکہ آدھی سے زیادہ دوائیں بھی ختم ستر فیصد سے زیادہ صحت یاب اور کہنے لگا کہ مجھے زندگی کا چین ، سکھ ، سکون اور راحت ابھی نصیب ہوئی ہے ۔ ایک انوکھی بات کہوں کیا آپ کو یقین آئے گا ؟ آپ کسی بھی بیماری میں مبتلا ہیں وہ مرض آپ کو ڈاکٹر نے بتائی ہے یا آپ خود اس کا احساس رکھتے ہیں وہ لاعلاج ہے اور آپ بالکل مایوس ہو چکے ہیں صرف یہی تین علاج اور تین پرہیز سختی سے کریں اور تین مہینے کریں اکتانا نہیں ، گھبرانا نہیں اور تھوڑی سی محنت سے جی چرانا نہیں ۔ بس میری مان کر دیکھیں ، مریض کسی قسم کا ہو اور مرض کسی قسم کی ہو بس یہ تین آپ کے ساتھی ہیں ۔جن دنوں میں امرود نہیں ملتا ان دنوں میں ہم کیا کریں ؟ ٹکڑے ٹکڑے کر کے فریج میں برف بنالیں یا اس کو شیک کر کے چینی ڈال کر اس کو پکائیں گاڑھی کھیر کی طرح بن جائے اس کو فریج میں محفوظ رکھیں اور بھی کوئی طریقہ آپ کر لیں بہر حال امرود سے دوستی ان چھنے آٹے سے دوستی شہد سے دوستی آئیں ان سے دوستی لگا کر دیکھیں ۔   

امتحان میں آسان پرچوں کیلئے

امتحان میں آسان پرچوں کیلئے:۔


محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم ! آپ نے اس رسالے کی مدد سے انسانیت کیلئے بہت سی خدمات سر انجام دیں میں آپ کی ان خدمات سے بہت خوش ہوں ہر ماہ عبقری پڑھتا ہوں عبقری واقعی لاجواب ہے ایک آسان عمل پیش خدمت ہے ۔ ہر پرچے کے دن کمرہ امتحان میں جانے سے پہلے یہ آیت صرف سات مرتبہ پڑھیں  حَسْبَکَ اللَّهُ هُوَ الَّذي أَيَّدَکَ بِنَصْرِهِ وَ بِالْمُؤْمِنينَ۔

مراقبے سے علاج

مراقبے سے علاج :۔



Meditation یعنی مراقبہ جہاں ازل سے روحانیت کی ترقی اور مشکلات کے حل کا علاج رہا ہے وہاں جدید سائنس نے اسے امراض کا یقینی علاج بھی قرار دیا ہے ۔ ہزاروں تجربات کے بعد عبقری کے قارئین کیلئے مراقبے سے علاج پیش خدمت ہے سوتے وقت اگر باوضو اور پاک سوئیں تو سب سے بہتر ورنہ کسی بھی حالت میں صرف 10 منٹ بستر پر بیٹھ کر بلا تعداد العظمۃ اللہ ورد کریں اول و آخر 3 بار درود شریف پڑھیں پھر  لیٹ جائیں جس مرض کا خاتمہ یا الجھن کا حل چاہتے ہوں اس کو ذہن میں رکھ کر یہ تصور کریں کہ آسمان سے سنہرے رنگ کی روشنی میرے سر سے سارے جسم میں داخل ہو کر اس مرض کو ختم یا الجھن کو حل کر رہی ہے اور اس وظیفے کی برکت سے میں سو فیصد اس پریشانی سے نکل گیا /گئی ہوں ۔ یہاں تک کہ اس تصور کو دہراتے دہراتے نیند آ جائے ۔ شروع میں تصور بناتے ہوئے آپ کو مشکل ہو گی لیکن بعد میں آپ پر جب اسکے کمالات کھلیں گے تو حیرت کا انوکھا جہان اور مشکلات کا سو فیصد حل خود آپ کو حیرت زدہ کر دیگا ۔  

آخری سٹیج پر پہنچا کینسر بالکل ٹھیک

آخری سٹیج پر پہنچا کینسر بالکل ٹھیک :۔



محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم !میرے پاس ایک عمل ہے جو کہ کینسر کیلئے بہت ہی آزمودہ و لاجواب ہے ۔ اللہ نہ کرے کسی کو کینسر ہو اگر کسی کو یہ نامراد بیماری لگ جائے چاہے وہ آخری سٹیج پر کیوں نہ پہنچ جائے ۔ اگر اللہ پاک نے زندگی رکھی ہے تو چالیس دن میں ضرور مکمل شفاء یاب ہو گا ۔ عمل یہ ہے اول و آخر گیارہ بار درود ابراہیمی اور درمیان میں ایک بار سورہ مریم پڑھ کر پانی پر دم کریں اور وہی پانی سارا دن مریض کو پلائیں ۔ چالیس دن تک ایک بھی ناغہ نہ ہو ۔ انشاءاللہ اگر اللہ پاک نے چاہا تو ضرو بالضرور شفاء نصیب ہو گی ۔

دعوت خیر کی برکت

دعوت خیر کی برکت :۔


انہوں نے فون ملا کر میری طرف بڑھایا کہ بریرہ آپ سے بات کرنے کیلئے رو رہی ہے ۔کئی روز سے مجھے پریشان کر رکھا ہے کہ آپ حضرت سے فون پر بات نہیں کراتے ذرا اس بچی سے بات کر لیجئے ۔ میں نے بات کی اس بچی سے جس کی ابھی عمر چار سال بھی نہیں ہو گی ۔ بڑی معصوم آواز میں سلام کر کے خیریت معلوم کی اور بولی حضرت ہمارے لئے دو دعائیں کر دیجئے میں نے کہا ہاں بتاؤ میں اپنی بیٹی کیلئے کون سی دعا کروں ؟ وہ بولی ایک تو یہ دعا کر دیجئے کہ عید جلدی آ جائے کیونکہ آپ ہمارے گھر عید کے روز ہی آتے ہیں میرا دل آپ سے ملنے کو بہت چاہ رہا ہے عید جلدی آ جائے ی تو آپ جلدی آ جائیں گے ۔ دوسری دعا یہ کر دیجیئےٓ کہ اللہ پاک مجھے دین کی سچی داعی بنا دے اور میرے بھائی تاج کو اور ہماری سب بہنوں کو بھی دین کا داعی بنا دے اس حقیر کی طبیعت بھی کچھ سست چل رہی تھی اور کچھ بے نظم مصروفیات میں حد درجہ تھکان ہو رہی تھی اس ننھی سی بچی کی ایسی بامقصد اور ننھی ننھی باتوں نے دل و دماغ کو تروتازہ کر دیا وہ بچی ہمارے رفیق عزیز سید محمودالحسن کی چھوٹی بچی ہے جن کا بانی ندوہ حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری رحمۃاللہ علیہ کے خانوادہ سے تعلق ہے یہ بستی دین اور اہل دین خصوصاً علم سے ایسی دور ہو گئی ہے کہ چند اشخاص کو چھوڑ کر یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ اس بستی کو ایسی ایسی اہل ہستیوں کے وطن ہونے کاشرف حاصل ہے ۔ یہ حقیر آج تک اپنے رب کریم کا شکر ادا کر رہا ہے کہ دعوت کو ہمارا فرض منصبی بنا کر اللہ پاک نے ہر بگاڑ کیلئے شاہ کلید ہمیں عطا کر دی ہے اس فرض منصبی سے غفلت کے جرم کا بہ تکلف اعتراف اور اس کا یہ تصنع شور اللہ پاک نے اپنے فضل سےہم نااہلوں سے کروا دیا ہے اس کے صدقہ میں بے شعور بچے اور کم سن بچیاں دعوت کے جذبہ کی طلب سے سرشار نظر آتی ہیں اور دعوت اور اس کے مقام کی مقبولیت اور محبوبیت ہے کہ اس شور کے صدقہ میں معصوم بچیاں عید جلدی آنے کی دعائیں کراتی ہیں کہ دعوت کی آواز لگانے والے سے عید کے دن ان کو ملنا نصیب ہو جائے ۔

امت کی چودہ سو سالہ تاریخ گواہ ہے  ۔ کہ جس دور اور جس عہد اور جس علاقہ میں کسی شخص نے انسانیت کی خیر خواہی اور اس کو باطل کے اندھیروں سے نکال کر اور دین حق کی روشنی میں لانے کی آواز لگائی اس دور میں اور اس عہد میں اس مقام پر ان شخصیات کو عزت و محبوبیت کی دولت سے مالا مال کیا گیا عزت و سر بلندی اور وقار نے ان کے قدم چومے مایوسی ، نامرادی آس و مراد میں بدلی و محکومیت و مغلومبیت کے غار سے نکل کر حاکمیت اور غلبہ کی سر بلندی پر چڑھنا نصیب ہوا ہے ۔اور جس دور اور جس مقام پر ملت کے افراد نے اپنے فرض منصبی سے مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا دین حق کی اشاعت اور اس کا حق رسالت ادا کرنے کے بجائے کتمان حق کے مرتکب ہوئے ذلت و خواری ان مقدر بنی اور دنیا کے سامنے ان کو ذلیل و خوار ہو کر رہنا پڑا امام مالک کا مشہور ارشاد ہے کہ اس امت کے بعد والے اسی راہ پر چل کر فلاح و کامیابی حاصل کی وہ فلاح اور کامیابی کی راہ اپنے نبی ﷺ کی اتباع میں آپ کہہ دیجئے ۔ یہ میراراستہ ہے میں اللہ پاک کی طرف بلاتا ہوں بصیرت کے ساتھ میں بھی اور میرے متبعین بھی اپنی اصل راہ اپنا طریق اپنی شناخت اور پہچان بنانا ہے کاش امت اس گر کو اپنا کر اپنی زبوں حالی اور ذلت کا علاج پتوں کو دھونے کے بجائے درخت کی جڑوں کو سینچنے سے کرے۔

جنات کا پیدائشی دوست


جنات کا پیدائشی دوست :۔ (قسط نمبر 76)

استاد فوقانی ثانی اور محدث جن کی عیادت:۔استاد فوقانی ثانی سے میری محبت پیار اور دلچسپی بڑھ گئی مجھے احساس ہوا کہ ان کے اند ر اللہ پاک نے کوئی اور خصوصی صفات رکھی ہیں ویسے تو صفات ہر انسان اور جن میں ہوتی ہیں اور اولیاء نیک یا عام جنات میں بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں میری سب سے پہلی ملاقات ان سے اس وقت ہوئی تھی جب میں اپنی جناتی سواری پر سفر کرتا ہوا ایک دور افتادہ پہاڑی غار میں ایک محدث جن کی عیادت کرنے جا رہا تھا ۔مجھے عبدالسلام جن نے بتایا کہ وہ بہت بیمار ہیں اور مسلسل آپ کو یاد کرتے ہیں میں انہیں ڈھونڈتا ڈھانڈتا آخر پہنچ گیا وہ اٹھ کر بیٹھ گئے بہت خوش ہوئے میں نے ان کیلئے کچھ شفائی تدابیر کیں جس کی وجہ سے انہیں اسی وقت فوری فائدہ ہوا او ردل کا اور جسم کا سکون میسر ہوا ۔ بہت خوش ہوئے مجھ سے فرمانے لگے میرا ایک شاگرد ہے میں اسے بلوانا چاہتا ہوں ۔آپ اس سے ملاتات کرو وہ کائنات کے تہہ در تہہ سربستہ رازوں کو بہت اچھی طرح جانتا ہے اور یہ تہہ در تہہ سربستہ راز اللہ پاک نے اس پر بہت کھولے ہیں وہ کبھی ایک جگہ بیٹھا نہیں حتیٰ کہ اپنی شادی کے دن بھی وہ بیٹھا کسی باکمال سے ملاقات  کر رہا تھا اور بیوی اس کا انتظار کر رہی تھی وہ ہمیشہ کھو جوں میں اور تلاشوں میں زندگی کے دن رات گزارتا ہے اس کا ہر پل ہر سانس ہرلمحہ  ہر لحظہ کائنات کے رازوں میں لگا رہتا ہے اس کی زندگی اس کی سانسیں اور اس کا وجود اتنا زیادہ قیمتی ہے کہ اے کاش! میری زندگی کے باقی سال بھی اسے لگ جائیں تھوڑی ہی دیر ہوئی وہ ہمارے پاس آ گئے ایک اونچی اوررعب دار آواز میں سلام کیا اور بیٹھ گئے اور بیٹھتے ہی انہوں نے اس محدث استاد کے پاؤں اور کندھے دبانے شروع کر دئیے ۔ میری طرف انہوں نے کوئی بھی توجہ نہ دی میں ان کی خدمت میں بیٹھا رہا تھوڑی ہی دیر میں اس محدث نے میرا تعارف اس جن سے کرایا کہنے لگےاس کانام فوقانی ہے ۔
استاد فوقانی ثانی جن سے گفتگو اور کائنات کے سر بستہ راز :۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ استاد فوقانی ثانی جن میری طرف مائل ہوئے اور یوں سلسلہ گفتگو کا چلنا شروع ہو گیا ۔ گفتگو میں کچھ ایسی باتیں سامنے آئیں جن کا تعلق کائنات کے سربستہ رازوں میں سے ہے اگر میں ان کا اظہار کروں تو عام عقل انسانی اور انسانی شعور احساس و ادراک اس کو کبھی سمجھ نہ پائیں لیکن آج کی نشست میں میں کچھ ایسی چیزیں اپنے قارئین کو بطور امانت پہنچانا چاہتا ہوں جس کا انہیں بہت یقینی فائدہ اور ان کو یقینی نفع ہو گا ۔
ایک تسبیح اور بے حساب مغفرت :۔ پہلی چیز جو استاد فوقانی ثانی جن نے بتائی وہ یہ تھی اگر کوئی بندہ یہ چاہتا ہے کہ میرا خاتمہ ایمان پر ہو اور آخری وقت میں کلمہ نصیب ہو اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ کا سچا قرب اور سچا ساتھ ملے قبر جنت بن جائے محشر کا حساب و کتاب سوال و جواب نہایت آسان ہو اور آخرت میں پل صراط کا راستہ سہولت سے پار ہو جائے نامہ اعمال قیامت کے دن اللہ پاک بے حساب بخش دے جنت میں استقبال ہو فرشتوں کا ساتھ ہو حوروں کی قدردانی نصیب ہو تو ایسا آدمی اگر روزانہ صرف ایک تسبیح  یاتواب اس کیفیت کے ساتھ پڑھے اور یہ صرف سوتے وقت پڑھنی ہے اول و آخر تین بار درود شریف اور کیفیت یہ ہو کہ یااللہ !میں دنیا کا سب سے بڑا مجرم ہوں ساری دنیا کی بخشش ہوگئی لیکن میری نہیں ہو سکتی ہاں تیر ی شان کریمی ہو گی تو ہو جائے گی اور میرے جرم ناقابل معافی ہیں لہذا اپنے اس صفاتی نام کی برکت سے مجھے بخشش کاسامان دے بس یہ ایک تسبیح ہو لیکن ہو ایسی جو جسم کے روئے روئے اور انگ انگ کو اللہ پاک کی ذات کی طرف متوجہ کر دے ۔
استاد فوقانی ثانی جن کی بات نے مجھے حیران کر دیا :۔ اس استاد فوقانی ثانی جن نے یہ کیا عجیب حیرت انگیز بات بتائی میں خود حیران ہو گیا میں لفظ یا تواب کی طرف اگر دیکھتاہوں تو سمجھ آتی ہے اور جب اس استاد فوقانی ثانی جن کے لہجے رویے اور سچے انداز کی طرف پھر بھی سمجھ آتی ہے اور بہت زیادہ آتی ہے میں ان کی بات سن رہا تھا ۔
عام سے مسلمان جن کا لاجواب خاتمہ بالخیر :۔ اسی دوران استاد فوقانی ثانی جن  نے ایک بات سنائی کہنے لگے ہمارے جنات کی دنیا میں ایک شخص تھا کوئی بہت بڑا نیک متقی نہیں تھا بلکہ عام سا مسلمان تھا میں نے اس کے مرنے سے تقریباً بہت سال پہلے اسے یہی عمل بتایا تھا کہ وہ شخص سوتے ہوئے وضو ہے یا نہیں ہے پاک ہے یا نہیں ہے ہر جگہ ہر حالت میں بس ایک تسبیح رات سوتے وقت اول و آخر تین بار درود شریف یا تواب کی پڑھے ابھی تھوڑا عرصہ پہلے وہ فوت ہوا تو مجھے اس کے گھر والوں نے بتایاکہ آخری لمحے میں کہنے لگا کہ قرآن لے آؤ۔قرآن سامنے لایا گیا تو وہ قرآن کو بہت خوش الحانی سے بہترین لہجے سے اور خوبصوت آواز سے پڑھنے لگ گیا حالانکہ وہ بالکل ان پڑھ تھا وہ قرآن نہیں پڑ سکتا تھا لیکن اس وقت وہ بہترین انداز سے قرآن پڑھ رہا تھا اور قرآن پڑھے جارہا تھا حتیٰ کہ اسی نشست میں اس نے بہت خوبصورت انداز میں قرآن کا ڈیڑھ پارہ پڑھ لیا اور قرآن واپس کیا اور سب کو متوجہ کیا لوگو! میں اپنے گناہوں سے معافی مانگتا ہوں اللہ پاک کی نافرمانی سے معافی مانگتا ہوں جس کا دل دکھایا ان سب تک میرا پیغام پہنچا دینا میں معافی مانگتا ہوں اللہ پاک پر ایمان ، فرشتوں پر ایمان ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہوں آخرت کے دن پر ایمان لاتا ہوں خیر اور شر اللہ پاک کی طرف سے ہے اس پر ایمان لاتا ہوں مرنے کے بعد کی زندگی ہے اس پر ایمان لاتا ہوں ، لوگوں میرے ایما ن پر گواہ رہنا ، میری توبہ کے گواہ رہنا  میرے توبہ کے گواہ رہنا بس اس طرح کی خیر کی باتیں کرتا ، کلمے کا ورد کرتا کرتا وہ اپنی زندگی  پا گیا ۔
یہ ایک موت نہیں :۔ ایسی بے شمار اعلیٰ قسم کی کئی شاندار اموات میں نے اپنی زندگی میں پائی ہیں استاد فوقانی ثانی جن مزید کہنے لگا ورد بہت مختصر لیکن اس کا کمال بہت زیادہ ہے کیونکہ ہر شخص نے مرنا ہے وہ انسان ہو یا جن ، موت ایک حقیقت ہے اور جو موت کی حقیقت کو پا گیا اور جو موت کو بھول گیا وہ زندگی کو بھی ہمیشہ کیلئے بھول گیا موت اصل ہے زندگی اصل نہیں اور آخری لمحے قیامت تک موت کا ذائقہ ہر ذی روح کو چکھنا ہے ۔ قارئین ! یہ تجربہ اور انوکھا مشاہدہ اس کے بعد میں نے بے شمار لوگوں کو بتانا شروع کر دیا اور بہت عرصہ دراز تک میں نے اس کو بتایا اور اب بھی بتا رہا ہوں ۔
علامہ صاحب کا انوکھا خواب :۔ ایک رات میں سویا ہوا تھا میں نے ایک خواب دیکھا اور وہ انوکھا خواب تھا ۔ میرے پاس بہت سے لوگ تھے جن کے خوبصورت لباس ، خوبصورت چہرے اور خوبصورت جسم تھے وہ کوئی جنتی سوارئیوں پر سوار تھے۔ مجھے علم نہیں کہ وہ سواریاں کیا تھیں بس ایک احساس ہو رہا تھا کہ تیز رفتار سواریاں ہیں جو لمحوںمیں لاکھوں میلوں کا سفر طے کر لیتی ہیں ۔ وہ سب میری طرف دیکھ کر مسکرا رہے ان کی مسکراہٹ ایسی تھی کہ میں نے بھی مسکرانا شروع کر دیا وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ ہم وہ لوگ ہیں جو تیرے اس یا تواب کی وجہ سے آخرت میں سر خرو ہوئے۔جب اللہ پاک کے سامنے حاضر ہوئے تو اللہ پاک نے ہمارے اس اسم اور توبہ کی وجہ سے مغفرت کا پروانہ دیا ہم سارے کے سارے آپ سے ملنے آئے ہیں اور یہ خوشخبری دینے آئے ہیں کہ آپ کی وجہ سے جتنے لوگوں کی بخشش ہوئی وہ دن رات آپ کیلئے بہت زیادہ دعائیں کرتے ہیں کہ یا اللہ پاک جو ہماری بخشش کا ذریعہ بنا  یااللہ پاک اس کی بخشش بھی کر دے اور اسے بھی معاف کر دے اور اسے بھی ہماری طرح اعلیٰ سے اعلیٰ بہتر جنت عطا فرما اور مزید ہنستے ہنستے مجھے انہوں نے ایک بات کہی کہ حضرت علامہ صاحب آپ اگر اس عمل کو پوری دنیا کیلئے پھیلا دیں تو بے شمار لوگوں کا فائدہ ہو گا کئی خطا وار اور گناہ گار بخشے جائیں گے اور کئی لوگ اللہ کا قرب پائیں گے اور اللہ پاک کی محبت پائیں گے ۔
مغفرت کی ماسٹر آپ کی خدمت میں :۔ قارئین ! جب میں اس خواب سے بیدار ہوا تو میرے دل میں آیا کہ اس عمل کو اور اس کیمیا نسخے کو پھیلانا چاہیے یہ ایک چابی ہے بلکہ ماسٹر کی ہے مخلوق خدا کا آخرت ، اللہ پاک کے ساتھ تعلق ، اللہ پاک کے نبی ﷺ کے ساتھ تعلق اس سے بہتر اور کس طرح ہو سکتا ہے بس یہ جذبہ ہے جس نے مجھے فوقانی ثانی جن کے اس عمل کو پھیلانے پر مجبور کیا ۔
استاد فوقانی ثانی جن کا انسانی روپ میں آنا :۔انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہنے لگے کہ ایک میدانی علاقے میں جہاں سخت شدت کی گرمی تھی میں جارہا تھا تو اس میدانی علاقے میں جہاں سخت شدت کی گرمی تھی میں جا رہا تھا تو اس میدانی علاقے میں مجھے ایک جھونپڑی نظر آئی ۔ وہ انسانوں کی جھوپنڑی تھی ۔ اس میں تین مرد ، پانچ عورتیں اور انیس بچے تھے ۔ وہ لوگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے  ان کی باتوں سے مجھے محسوس ہوا کہ یہ ایک فیملی ہے جس میں بچے بھی ہیں جوڑے بھی ہیں اور کچھ بوڑھے لوگ بھی ہیں وہ نیک لوگوں کا گھرانہ نظر آتا تھا لیکن غریب لوگوں کا ۔ وہ اس بات پر بیٹھے فکر کر رہے تھے کہ ہم سارے گھر والے کیسے نمازی بن جائیں قرآن پاک کی تلاوت روز کیسے کریں ہمارا دل اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ سے کیسے جڑ جائے یہ فکر اور غم تھا جو انہیں بٹھائے بیٹھا تھا ۔
استاد فوقانی ثانی جن کو ملیں برکات :۔ مجھے ان کے سچے جذبے نے ان کے قریب بیٹھنے کا مزہ دیا چونکہ میں جن تھا اور ان کے قریب بیٹھا تھا ان کو پتہ نہیں چل رہا تھا لیکن مجھے احساس ہوا کہ ان کے قریب بیٹھنے سے مجھے برکات ملیں ۔ اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ ان لوگوں کو یاتواب کا عمل بتا دوں میں ایک مسافر پردیسی کے روپ میں نمودار ہوا جو کہ یہاں سے گزر رہا تھا اور میں نے اپنی شکل انسانی بنا لی اور میں انسانوں کے روپ میں ان کے سامنے جب پہنچا تو انہوں نے میرا استقبال کیا ، اور مجھے پردیسی مسافر سمجھ کر میری خاطرا مدارت کی ۔
استاد فوقانی ثانی جن کا جھونپڑی مکینوں کیلئے تحفہ :۔ میں نے ان کی خاطر مدارت قبول کی اور جاتے جاتے میں نے انہیں کہا کہ آپ نے میری اتنی خدمت کی ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ کو ایک تحفہ دے کر جاؤں اور پھر میں نے انہیں کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا خاتمہ ایمان پر ہو قیامت کے دن اللہ پاک کا سامنا ہو اور اللہ پاک راضی ہو  اور اللہ پاک آپ کو دیکھ کر مسکرائے ،اور آپ کی مغفرت ہو تو صرف یہ کام کریں کہ یا تواب کی ایک تسبیح سوتے وقت پڑھنے کی مکمل ترکیب بتا دی وہ میری بات سن کر بہت خوش ہوئے ان کے گھر میں کوئی تحفہ یا ہدیہ تو نہیں تھا لیکن ان کی چاہت تھی کہ کسی طرح ہم اس پر دیسی کو کوئی ہدیہ دے کر ہی بھیجیں ۔انہوں نے اصرار کیا میں نے انکار کیا کیونکہ وہ بہت سفید پوش اور غریب لوگ تھے میں وہاں سے چل پڑا اور چلتے چلتے مجھے ایک ایسے فرد سے واسطہ پڑا کہ جو طرح طرح کی بیماریوں ،تکالیف، مصائب اور پریشانیوں  میں مبتلا تھا ۔
دنیا کے غریب آخرت کے امیر:۔ میں نے محسوس کیا زندگی میں تو اس نے تکلیفیں ، پریشانیاں  ،دکھ بہت دیکھے لیکن آخرت میں بھی اگر یہ تکلیفیں ، پریشانیاں ، دکھ دیکھے گا تو دنیا بھی گئی اور آخرت بھی ۔ لہذا یہ دنیا میں تو غریب رہے لیکن آخرت کا امیر رہے ۔ میں نے اسے یہی تسبیح اور یہی وظیفہ یا تواب کا یہ عمل بہت تفصیل سے بتایا اس کے کچھ فائدے برکات اور کمالات اسے بتائے ۔ وہ حیران ہوا مجھے سے کہنے لگا میں سارا دن فارغ ہوں اگر میں سارا دن ہی یاتواب پڑھتا رہوں میں نے کہا پڑھ سکتے ہو اور عمل تو یہی ہے کہ سوتے ہوئے ایک تسبیح نہایت خشوع و خضوع ، دھیان توجہ  بے چینی ، بے کلی ، بے قراری سے کرنا ہے اور اس کے کمالات آخرت میں وہ کھلیں گے جو آپ سوچ نہیں سکتے ۔ اس نے پڑھنا شروع کر دیا پھر میں کچھ عرصہ کے بعد گزرا تو دیکھاتو وہ پریشان اور ویران شخص نہیں تھا ۔
سجی سجائی جنت آنکھوں کے سامنے :۔ مجھے حیرت ہوئی کہ وہ حیران و پریشان شخص آخر کہاں گیا ؟میں نے لوگوں سے پوچھا تو  لوگ کہنے لگے وہ فوت ہو گیا ۔ میں نے کہا اس کی موت کی حالت مجھے بتا سکتے ہیں اس کو کتنی بری یا اچھی موت آئی ۔ کہنے لگے ہاں ہم بتاتے ہیں وہ تین دن پہلے بالکل ٹھیک ہو گیا ایسے تھا جیسے اس کی بیماری ہے ہی نہیں تین دن کے بعد جب آخری لمحہ اس کا پہنچا وضو کیا نماز پڑھی نماز پڑھنے کے بعد اس نے دو نفل پڑھے دو نفل کے بعد مسلسل یاتواب پڑھتا رہا ۔اور اللہ پاک سے اپنے گناہوں کی رو رو کر اونچے اونچے بولوں میں معافی مانگتا رہا ۔ اس نے سب کو بولایا ۔ کہا دیکھو میں نے زندگی میں کوئی بڑے گناہ نہیں کیے اور کچھ زیادہ نیکیاں نہیں کیں ۔ ایک نیکی ہے میرے پاس ایک درویش ملا تھا اس نے مجھے آخری وقت میں سوتے وقت یاتواب کی ایک تسبیح پڑھنے کو کہا تھا ۔آج جنت سجی سجائی میری آنکھوں کے سامنے ہے ا س کے حسین مناظر اور اس کے کمالات اس کی خشبو ئیں اس میں فرشتے غلام ، حوریں اللہ پاک نے سب پردے مجھ سے ہٹا دیئے ہیں ۔اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں قبر میں مجھے بچھو ، سانپ اور اندھیرا نظر نہیں آرہا ہے ۔ قبر میں مجھے بچھونے ، حور ، نورانیت اور نور نظر آ رہا ہے لوگو ! تم بھی کبھی اس یا تواب کو نہ بھولنا جو بھی پڑھتا ہے اسے حیرت انگیز طور پر آخرت کی بہتری ملتی ہے اور دنیا میں بھی اس کے بہت فوائد ملتے ہیں  ۔ (جاری ہے ) 

ربیع الآخر میں خاتمہ بالخیر کے اعمال لیجئے

ربیع الآخر میں خاتمہ بالخیر کے اعمال لیجئے:۔


یہ اسلامی سال کا چوتھا مہینہ ہے اسے ربیع الآخر بھی کہا جاتا ہے اس کا نام رکھتے وقت ربیع کا موسم تھا یعنی ربیع کا اخیر تھا اس لئے اس کا نام ربیع الآخر رکھا گیا مگر ربیع الاول کی مناسبت سے اس کا نام ربیع الثانی مشہور ہو گیا ۔
اس ماہ کے نوافل حسب ذیل ہیں جو اکثر صوفیاء پڑھتے رہے ہیں ۔
شب اول کے نوافل:۔ عابدوں کا کہنا ہے کہ جب ربیع الثانی کا چاند نظر آ جائے تو اس کی شب اول میں بعد نماز مغرب آٹھ رکعت نفل دو دو رکعت کی نیت سے پڑھے اور پہلی رکعت میں سورہ الفاتحہ کے بعد سورہ الکوثر تین بار اور دوسری میں سورہ الکافرون تین بار پھر تیسری چوتھی ،پانچویں ، چھٹی ، ساتویں ، آٹھویں رکعت میں سورہ الفاتحہ کے بعد سورہ اخلاص تین تین بار ہر رکعت میں پڑھے انشاءاللہ تعالیٰ اس نماز کے پڑھنے والے کو بے شمار ثواب ملے گا اور بے شمار نمازوں کا اجر عطا ہو گا ۔
چار رکعت نفل:۔ جواہر غیبی میں ہے کہ اس مہینہ کی پہلی ، پندرہویں ، انتیسویں تاریخوں میں چار رکعت نفل پڑے ہر رکعت میں سورہ الفاتحہ کے بعد سورہ اخلاص پانچ بار پڑھے اس کے لئے ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ہزار برائیاں مٹائی جاتی ہیں اناءاللہ پروردگار عالم روز محشر مغفرت فرمائیں گے۔
انجام بخیر کا وظیفہ :۔ جو شخص پورا ماہ بعد نماز عشاء یہ وظیفہ روزانہ 1111 مرتبہ پڑھے گا وہ موت کے وقت کلمہ پڑھتا ہوا اس دنیا سے رخصت ہوگا بعض بزرگوں کا کہنا ہے کہ اس وظیفے میں خاتمہ بالخیر کی بے حد تاثیر ہے اس وظہفہ سے خاتمہ بالخیر ہوتا ہے ۔
فاطر السموات ولارض انت ولی فی الدنیا الاخرۃ توفنی مسلما والحقنی باالصلحین۔ (سورہ یوسف 101)
اے آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا رفیق ہے تو مجھ کو اپنی فرمانبرداری میں دنیا سے اٹھا لے اور مجھ کو پانے نیک بندوں میں داخل کر لے ۔
بابرکت دعا :۔ ماہ ربیع الثانی بھی نہایت افضل مہینہ ہے اور اس ماہ میں بھی زیادہ سے زیادہ درود پاک پڑھنا چاہئے ۔
ابن عباس سے مروی ہے کہ ایک بار اسرافیل حضرت نبی ﷺ کے پاس  اتر کر آئے اور کہا
سبحن اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم عدد ما علم اللہ ومثل ما علیم اللہ
پڑھئے جو کوئی اس کو ایک بار پڑھے گا خدا اس کو ان لوگوں کے زمرہ میں لکھے گا جو خدا کی بکثرت یاد کرنے والے ہیں اور وہ رات و دن خدا کی یاد میں لگے رہنے والوں سے بھی افضل ہو جائے گا اور یہ کلمات اس کیلئے جنت میں داخلہ کا ذریعہ بن جائیں گے اور جس طرح درخت کے پتے جھڑتے ہیں اسی طرح اس کے گناہ جھڑ جائیں گے اور خدا کی اس پر نظر رہے گی اور اس کو دوزخ کا عذاب نہ دے گا اور حدیث میں آیا ہے جو کوئی
سبحن اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم عدد ما علم اللہ ومثل ما علیم اللہ و دوام ملک اللہ
پڑھے گا دنیا اور اہل دنیا چاہے ختم ہو جائیں لیکن اس کے پڑھنے والے کا ثواب نہ ختم ہو گا ۔