Tuesday, August 23, 2016

(اسلام اور رواداری )پیغمبر اسلام ﷺکا غیر مسلموں سے حسن سلوک


بحیثیت مسلمان ہم جس بااخلا ق نبیﷺ کے پیرو کا ر ہیںانکا غیر مسلموں سے کیا مثالی سلوک تھا‘ آپ نے سابقہ اقساط میں پڑھا اب آپ ﷺ کا جانوروں سے حسن سلوک کے چند واقعات پڑھیں۔ جانوروں کیساتھ نبی کریمﷺ کا کریمانہ برتاؤ: اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اللہ عزوجل نے چھوٹے سے لے کر بڑے جانور تک کو ہمارے تابع اور زیردست کردیا ہے‘ ایک چھوٹا سا بچہ ایک بڑے اونٹ کی مہار تھامے لئے جاتا ہے‘ یہ بس اللہ عزوجل کی کرم فرمائی اور انسانیت کے ساتھ اس کا فضل ہے کہ ایک بڑے جانور کو ایک چھوٹا بچہ بھی اپنے تابع کئے دیتا ہے‘ ورنہ انسان کی کیا حیثیت کہ وہ اس قدر بڑے اور قوی ہیکل‘ تندومند اس سے کئی کئی گنا بھاری بھرکم جسم و چثہ کے مالک جانوروں کو رام کرسکے؟ جانوروں میں خیروخوبی: جانوروں کی اہمیت اور ان خوبیوں اور خصوصیات کو بتلانے کیلئے یہ بتا دینا کافی ہے کہ قرآن کریم نے متعدد جانوروں اور حیوانات کا تذکرہ کیا ہے۔(جاری ہے)

 

Monday, August 22, 2016

صرف بسم اللہ پڑھیں اور گھر میں سکون پائیں


میری خالہ کے گھر میں بہت زیادہ لڑائی شروع ہوگئی اور ختم ہونے کی کوئی صورت حال نظر نہیں آرہی تھی پھر انہوں نے روزانہ 800 مرتبہ۔


 پڑھنا شروع کردی‘ ابھی کچھ ہی دن پڑھی تھی کہ لڑائی بالکل ختم ہوگئی۔ -

Friday, August 19, 2016

دو لفظ پڑھے اور موت کے منہ میں گیا مریض صحت یاب


مگر جب سے میں نے یہ وظیفہ پڑھنا شروع کیا ہے ایک مریضہ بہت ہی تشویشناک حالت میں لائی گئی‘ اس کا علاج کیا تو اس کی حالت حیرت انگیز طور پر سنبھلنا شروع ہوگئی اور صرف تین دن بعد اس کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔ 


 ایک لیڈیز ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ کوئی وظیفہ دیں‘ ہسپتال میں روزانہ کوئی نہ کوئی پرابلم ہوجاتی ہے‘سب کچھ ہے مگر پریشانی جان نہیں چھوڑتی تو میں نے اس کو


 حٰمٓ لَایُنْصَرُوْنَ



 دیا۔ دو تین دن بعد اس کا فون آیا کہا کہ وظیفہ نے اثر یہ دکھایا کہ پچھلے دنوں ایمرجنسی میں جتنے بھی مریض آئے ان کا علاج کیا‘ مگر کوئی بھی نہ بچ سکا۔ مگر جب سے میں نے یہ وظیفہ پڑھنا شروع کیا ہے‘ ایک مریضہ بہت ہی تشویشناک حالت میں لائی گئی‘ اس کا علاج کیا تو اس کی حالت حیرت انگیز طور پر سنبھلنا شروع ہوگئی اور صرف تین دن بعد اس کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔ میں جس بھی مقصد کیلئے یہ عمل پڑھتی ہوں الحمدللہ وہ مقصد پورا ہوجاتا ہے۔
 (سلیم اللہ سومرو‘ کنڈیارو)۔

 بگڑے بچوں سے پریشان والدین کیلئے آسان عمل


 محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! اللہ آپ کو تاقیامت تک اسی طرح لوگوں کو دین کی طرف متوجہ کرنے کی توفیق دے اور آپ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے‘ اللہ آپ کو دین و دنیا کی تمام خیریں اور بھلائیاں عطا فرمائے۔ ہمارے ہمسایوں کا بیٹا جس کا باپ دنیا میں نہیں رہا اور ماں محلے کے سارے بچوں کو قرآن پاک پڑھاتی ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا جو کہ سولہ سال کا ہے‘ شہر کے بُرے لڑکوں کے ساتھ اس کی بیٹھک ہوگئی‘ موٹرسائیکل کا شوقین ہوگیا‘ ویلنگ بھی شروع کردی‘ ایک دو دفعہ گھر کی چھت پر نشہ کرتے ہوئے بھی بھائیوں نے دیکھا اور ہروقت موبائل فون استعمال کرتا رہتا‘ ماں اس کی وجہ سے بہت پریشان تھی‘ 9thجماعت میں دو سے تین سپلی بھی آچکی تھی۔ ماں کوسسرال والے بھی‘ میکے والے بھی اور محلے والے بھی سب طعنے دیتے اور کہتے تم اتنے لوگوں کے بچوں کو پڑھاتی ہو‘ اپنے بچوں کا پتہ ہی نہیں وہ بہت پریشان تھی پھر انہوں نے


نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ اِلَیْہِ۔ 


قرآن مجید پر پڑھنا شروع کردیا‘ قرآن مجید کی ہر لائن پر یہ پڑھتی اور پڑھنے سے پہلے اللہ سے دعا کرتی اور معافی مانگتی‘ یہ انہوں نے عبقری میگزین یا شاید دفتر عبقری کی کسی کتاب سے پڑھا تھا۔ انہوں نے نیت کی کہ میرا بیٹا اچھی صحبت اختیار کرلے۔ اللہ نے ان کی مدد کی اور وہ ہی بچہ ہے کہ آج بہت اچھا بن گیا ہے اب محلے والے کہتے ہیں وہ توکبھی کسی کو نظر ہی نہیں آیا اور سکول میں استاد کہتے ہیں کہ یہ بہت لائق بچہ ہے۔

 اسی طرح ہمارے محلے میں ایک اور عورت اپنے بیٹے کی وجہ سے بہت پریشان تھی ایک دن انہی باجی جان کے پاس آئی اور کہنے لگی میرا بیٹا مجھے بہت تنگ کرتا ہے۔ اس کا باپ وفات پاچکا ہے اور میرے گھر والوں نے میری شادی دیور سے کردی ہے۔ وہ بھی اسے زیادہ ڈانٹ نہیں سکتے کیونکہ اگر ڈانٹتے ہیں تو سب کہتے ہیں کہ یہ اپنا بیٹا نہیں اس لیے مارتا ہے۔ وہ بہت پریشان تھی۔ انہوں نے اس کو بھی وہی قرآن مجید پڑھنے کو کہا اور کہا اس طرح (درج بالا طریقہ) پانچ دفعہ قرآن مجید ختم کرنا ہے۔ ابھی اس نے دو یا تین دفعہ ہی پڑھا تھا کہ بیٹا کافی بہتر ہوگیا۔ اب کام پر جاتا ہے اور زیادہ تنگ بھی نہیں کرتا۔ اس کی ماں بہت خوش ہے۔

 ہمارے محلے میں ایک اور لڑکے کے ویزے کا مسئلہ تھا جن سےویزا لینا تھا وہ پیسہ لے کر کبھی کہتے دس دن انتظار کرو‘ کبھی بیس دن کرو‘ وہ ٹال مٹول کیے جارہے تھے‘ یہی قرآن مجید پڑھنا شروع کیا‘ انہیں ایک یا دو دفعہ پڑھا تھا کہ اس کا ویزہ آگیا اور وہ باہر چلا گیا۔

ایک اور لڑکا بیروزگار تھا اور کوئی کام نہ تھا‘ اس کی ماں نے بھی یہ قرآن مجید پڑھا اور اللہ نے ان کی مدد کی‘ ان کا ویزہ مل گیا اور وہ باہر چلا گیا اب مہینے کی ٹھیک ٹھاک آمدن آرہی ہے اور بہت مطمئن اور خوش ہیں۔ (سدرہ صابر)

Tuesday, August 16, 2016

بچوں کی تربیت کا ’’بیڑہ غرق‘‘ کیسے ہوتا ہے؟


کچھ بچے والدین کی طرف سے زبردستی کرنے پر ہوم ورک کرنے تو بیٹھ جاتے ہیں‘ مگر بار بار اٹھ کر ادھر ادھر گھومنے پھرنے لگتے ہیں۔ اس کا علاج پڑھائی کے دوران آرام کے وقفے ہیں۔ پڑھائی لکھائی بلکہ کسی بھی ذہنی کام کے دوران آرام کے وقفے لازمی ہیں بچوں میں خوداعتمادی کی کمی کی وجہ! والدین جب اپنے بچوں سے شفقت کا معاملہ کرتے ہیں تو بچوں کو اس سے بڑھ کر کوشش ہوتی ہے کہ وہ بھی اپنے والدین کو خوش رکھیں اور کسی معاملے میں شکایت کا موقع نہ دیں ایسے بچوں میں فرمانبرداری اور خوداعتمادی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے اس کے برعکس وہ والدین جو اپنے بچوں سےسختی کامعاملہ کرتےہیں تو ایسی صورت حال میں بچے باغی ہوجاتے ہیں اور خوب بدتمیزی کرتے ہیں‘ بچوں پر سختی صرف ان کی اصلاح کے لیے کرنی چاہیے۔ بے جاروک ٹوک بچوں کو ضدی اور ہٹ دھرم بنادیتی ہے۔ یہی پودے جب تناور درخت بن جاتے ہیں تو ان کو سیدھا کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ والدین اس بات پر توجہ دیں۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ باپ معمولی بات پربچوں کے سامنےشور شرابا کرنا شروع کردیتا ہے یا بچوں کی غلطی پر بجائے نرمی اور اصلاح سے کام لینے کےانہیں سب کے سامنے خوب بے عزت کیا جاتا ہے‘ اس طرح بچے احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ احساس محرومی بچوں میں خوداعتمادی کے پرخچے اڑا دیتا ہے۔ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بچے سکولوں میں صرف ڈر کی وجہ سے سبق بھول جاتے ہیں تو اس میں ان معصوم بچے بچیوں کا کوئی قصور نہیں ہوتا کیونکہ سبق سناتے وقت ان کامعصوم ذہن صرف اس بات میں اٹکا ہوتا ہےکہ جسے والدین معمولی غلطی پر سختی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو کیا معلوم یہ اساتذہ بھی ایسے ہی کریں۔ ایک خوف ہوتا ہے جو ان کے دلوں میں بھرا ہوتا ہے‘ بہت سے ایسے بچے غیرمعمولی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں لیکن خوداعتمادی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی صلاحیتوں کو یوں زنگ لگ جاتا ہے‘

Monday, August 15, 2016

تیرے در کا جو فقیر،وہی دو جہاں کا امیر


برکت کی راہیں:۔
حلال کے اندر برکت ہے۔ حرام کے اندر کثرت ہے ،کبھی برکت نہیں ہے۔ اپنی نسلوں کو برکت دو !کبھی گھاٹے کا سودے نہ کر بیٹھنا!اپنی نسلوں کو برکت دو اور سارا دن برکت سمیٹو اور برکت کے ذرائع اختیار کرو ۔کوشش کریں کہ ہم برکت کی راہیں اختیار کریں! برکت کے راستے اختیار کریں‘ اللہ جل شانہٗ کوشش کرنے والے کو ضرور عطا فرماتے ہیں ۔اگر مجاہدہ آتا ہے قربانی آتی ہے توصحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بھی قربانیاں دی ہیں‘ انہوں نے بڑے مجاہدے کیے ۔میرا کریم جب برکتوں کے دروازے کھولتا ہے تو پھر اللہ پاک نے ان کے گھروں کو مالا مال کر دیا، پھر زکوٰۃ کی آوازیں دینے والا ہر کوئی ہوتا تھا، زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں ہوتا تھا۔ سارے زکوٰۃدینے والے ہوتے تھے ۔ صاحب تحقیق عالم دین سے زکوۃ کے بارے میں جانیں: زکوٰۃ تو اس پر ہوتی ہے جو صاحب نصاب بن جائے ۔ایک صاحب جو پوچھ رہے تھے

جو میں نے دیکھا سنا اور سوچا قطع رحمی سے سب کچھ اجڑ گیا -


 حدیث کا مفہوم ہے صلہ رحمی سے عمر بڑھتی ہے‘ رزق بڑھتا ہے‘ دعائیں قبول ہوتی ہیں ‘اور بے شمار فضائل ہیں صلہ رحمی میں۔ صلہ رحمی کیا ہے؟ رشتہ داروں کو ان کی کوتاہیوں کمیوں اور عیبوں کے باوجود معاف کرتے رہنا۔ ہر رشتے دار سے لڑائی جھگڑا مول نہ لینا بلکہ وہ برا کرتے جائیں تو بار بار اچھا کرتے جانا۔ اگر پھروہ بار بار برا کریں توپھر بار بار اچھا کر اور ان کو معاف کرتا جا اسی کا نام صلہ رحمی ہے۔ وہ اچھا کرے تو اچھا کر‘ پھر وفا تو نہ ہوئی‘ بلکہ وہ برا کریں توتم اچھا کرو ‘اسی کو صلہ رحمی کہتے ہیں۔ فرمایا: جو تجھ پر ظلم کرے اسے معاف کر جو تیرا حق چھینے تو اسے عطا کر‘ جو تجھے محروم کرے تو اس کو دیتا چلا جا‘ میں نے ایک نہیں کئی گھرانے ایسے دیکھے کہ بہو آئی اور اس نے آتے ہی سب کو جدا کردیا یا ساس نے کسی کو کسی کے منہ دکھانےکے قابل نہ رکھا‘ سب سے لڑائی ‘سب کا جھگڑا اور سب کے عیبوں کو لے کر بیٹھ جانا۔ قارئین! سچ پوچھیں جتنا بھی ہمارے مزاج میں معافی بڑھتی جائے گی درگزر بڑھتا جائے گا اتنا اللہ کی بارگاہ میں ہمارا تعلق بہتر سے بہتر ہوتا چلا جائے گا اور جہاں آخرت بہتر ہوگی وہاں دنیا میں انوکھی برکات اور انوکھے کمالات ملنا شروع ہوجاتےہیں۔ میں آج ایک گھر کا قصہ سچی کہانی کے طور پر لکھ رہا ہوں ہنستا بستا گھر، ساس فوت ہوگئی‘ سسر فوت ہوگیا‘ دو بھائی گھر میں رہتے ہیں‘ ایک بہو نے آتے ہی گھر میں قینچی چلائی اور دوسری بہو میرے کہنے پر صبر حوصلہ کرتی چلی گئی‘ صابر بہو کو رب نے بیٹوں اور رزق والی دولت سے نوازا اور مسلسل رب نواز رہا ہے اور جس نے حسد، کینہ، بغض ،لڑائی جھگڑا کو ہروقت مول لیا اس کا رزق بھی گیا‘ بیٹے بھی نہ ملے‘ زندگی کا سکون بھی گیا‘ حیرت انگیز انوکھی بیماریاں اس کی ہڈی ہڈی اور ریشہ ریشہ میں رچ بس گئی ہیں۔ یہ اس کے ہاتھ کا لکھا ایک خط آپ ملاحظہ فرمائیں کہ قطع رحمی انسان کا رزق‘ صحت اور سکون چھین لیتی ہے۔ آئیے! آج کے بعد ہم فیصلہ کریں کہ رشتہ داروں کی زیادتیوں کے باوجود بھی ہم ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرتے چلیں جائیں اللہ کی بارگاہ میں ضرور انصاف اور اللہ انسان کو ضرور عطا فرماتا ہے۔ ’’محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! آپ مجھ سے بہت سخت ناراض ہیں‘ میں نے دو ہفتے پہلے آپ کے پاس آنا تھا مگر میرے مالی حالات اس قدر خراب تھے کہ میرے پاس پٹرول کے پیسے نہیں تھے‘ دس دن تین سو روپے میں گزارے‘ میں نے مارچ کے آخری ہفتے اور اپریل میں بھی دس دن ایک وقت کا کھانا کھایا اور شوہر نے بھی صرف ایک وقت کا کھانا کھایا۔ بچوں کو سات دن میں نے سادہ چاول کھلائے۔ اللہ سے بہت مانگا‘ بڑی تسبیح پڑھی‘ استغفار بھی کیا لیکن دس دن کچھ نہ ہوا۔ میرا بہت مذاق بھی اڑایا گیا‘ میں نے کسی کو نہیں بتایامگر جنہوں نے دیکھا۔ کسی سے سوال نہیں کیا اور نہ ہی خود اپنی زبان سے حالات بتائے۔ شوہر نے مجھ سے کہا میں کہیں سے ادھار چیزیں لے آتا ہوں‘ میں نے اسے منع کردیا کہ کسی سے سوال نہیں کرنا‘ آپ کی بے عزتی ہوگی‘ بہت صبر سے کام لیا۔ یہ مشکل وقت اپنے اثرات چھوڑ گیا‘ میرے اندر کی ساری بتیاں بجھ گئی ہیں کہ میں تو کسی بھی قابل نہیں‘ میں یہ دس دن قبر تک نہ بھولوں گی۔ جب میرے پاس پیسے آئے پھرمیرے اور میرے بچوں کا ہر لقمے اور ہر چیز پر شکر ہی شکر تھا۔ میں اسی دن سے کوشش کررہی ہوں کہ میری آپ سے ملاقات ہوجائے ۔ لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو ہیں‘ میں نے کیسے حالات دیکھے‘ میں اب ہروقت اپنے آپ کو کوستی رہتی ہوں۔ ہر سانس میں استغفار اور شکر ہے۔ یہ دس دن کی یادیں میری قبر تک کا ساتھ ہیں‘ کبھی بھی اونچی اڑان آگئی تو یہ دس دن فوراً واپسی کا ذریعہ ہیں۔ آپ مرشد ہیں‘ صرف آپ کو بتارہی ہوں اور کسی سے ذکر نہیں کیا۔ تسبیح خانہ میں آنے سے پہلے مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ مرشد کیا ہوتے ہیں؟ میں تو صرف تسبیح خانہ دیکھنے آئی تھی ’’یہ کیا عجیب وغریب چیز ہے‘‘ ہروقت ایک ہی ڈر سا لگا رہتا ہےآپ ناراض نہ ہوجائیں۔(حالانکہ اصل رب ہے جس کی ناراضگی کا احساس نہیں:ایڈیٹر) میرا توسب کچھ اجڑ چکا ہے۔‘‘ -

Sunday, August 14, 2016

مہرمقرر تو کیا مگر دینے کا ارادہ نہ ہو


دعا کی قبولیت کا انتظار:۔

 حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگا کرو کیونکہ وہ پسند کرتا ہے کہ اس سے مانگا جائے اور افضل عبادت دعا کی قبولیت کا انتظار کرنا ہے۔ (جامع ترمذی شریف: ابواب الدعوات)۔

 ہلکے پھلکے لوگ:۔

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہلکے پھلکے لوگ آگے نکل گئے‘‘ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! ﷺ وہ لوگ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جو ذکر الٰہی میں ڈوبے ہوئے ہیں‘ ذکر ان پر سے گناہوں کے بوجھ اتار دیتا ہے۔ لہٰذا وہ قیامت کے دن ہلکے پھلکے ہوکر حاضر ہوں گے۔‘‘
۔ (جامع ترمذی شریف)۔

 تسبیحات انگلیوں پر پڑھنا:۔

 حضرت یسیرہ رضی اللہ عنہا جو مہاجرات میں سے تھیں فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا: ’’تم لوگ تسبیح، تہلیل اور تقدیس (یعنی سبحان الملک القدوس) پڑھتی رہا کرو اور انگلیوں کے پوروں پر گنا کرو‘ اس لیے کہ قیامت کے دن ان (انگلیوں) سے سوال ہوگا اور وہ بولیں گی۔ پھر غافل نہ ہونا کیونکہ اس سے تم اسباب رحمت بھول جاؤگی۔
۔ (جامع ترمذی شریف)۔


 مہرمقرر تو کیا مگر دینے کا ارادہ نہ ہو:۔

 حضرت صہیب رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی عورت کا مہر مقرر کرے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کا وہ قرض واپس کرنے کا ارادہ نہیں ہے صرف اللہ کے نام سے دھوکہ دے کر ناحق کسی کا مال اپنے اوپر حلال کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے قیامت کے دن اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا شمار چوروں میں ہوگا۔ (مسند احمد بن حنبلؒ)۔۔