Tuesday, August 23, 2016

مارچ! تازگی ‘ رعنائی اور زیبائی کا شاندار موسم


ماہ مارچ موسم بہار کے آغاز و استقبال کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں اپنے گلستان جسم کے پھولوں یعنی دل، دماغ، جگر اور معدہ جن کو طبی اصطلاح میں اعضائے ریئسہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، پورے غور و التفات سے نگہداشت کریں۔ سال کے بارہ مہینوں میں کیفیت و بشاشت اور رعنائی و زیبائی کے لحاظ سے جو فوقیت مارچ کو حاصل ہے وہ کسی اور مہینے کو نہیں ہے۔ یہ مہینہ موسم بہار کا نہ صرف آغاز ہے بلکہ بہار کی حلاوت آفرین اور کیف پرور رعنائیوں کے سعود کا بھی زمانہ کہلاتا ہے اور ہر انسان خواہ غریب ہو یا امیر طبع و مزاج میں صرف ایک گونہ مستعدی توانائی اور شبابی کیفیت محسوس کرتا ہے۔ غذائی معمولات جو موسم سرما میں ہر انسان کی عادت ثانیہ بن کر رہ جاتے ہیں۔ اس مہینے کے شروع ہوتے ہی قدرتی طور پر اعتدال و توازن کی جانب مائل ہونے لگتے ہیں۔

لباس میں واضح قسم کا تغیر رونما ہونے لگتا ہے اور سوائے کمزور صحت والے افراد کے ہر تندرست و توانا شخص گرم ملبوسات کو خیر باد کہنے لگتا ہے۔ طبعی انجماد ، جسم کا ٹھٹھرائو اور ہمہ وقت سرد ہوائوں کے تھپیڑوں سے محفوظ رہنے کا احساس دور ہو جاتا ہے۔ پودوں میں نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ شاخوں کی انگڑائیوں میں حسن و شباب کا ایک مسحور کن فطری بانکپن لہراتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ باغوں میں نئے نئے شگوفے پھوٹ کر چشم بینا کیلئے تسکین چشم و دل کی دعوت دیتے ہیں اور حسین گلستان کے ساتھ ساتھ آروزئوں اور ولولوں کے خیابانوں میں بھی نگہت و رنگ اور راحت کے پھول کھلنے لگتے ہیں۔ قدرت کاملہ کا کوئی کام حکمت و مقصدیت سے خالی نہیں۔ خلائق عالم کی حکمت بالغہ مہکتے ہوئے پھولوں کے اندر جو مشک عنبر کی سی مہک اور ختن جیسی خوشبو پیدا کرتی ہے وہ اشرف المخلوقات کیلئے فی الواقعی پیغام شفا اور نوید صحت کا درجہ رکھتی ہے۔ جس طرح سوکھی اور برہنہ شاخوں کو پتوں اور شگوفوں کی سبز خلعت پہنانے کیلئے موسم بہار کی ضرورت ناگزیر ہے اور چمن زاروں کی تزئین و آرائش کا حسن موسم بہار کے گنگناتے ہوئے لمحوں میں مضمر ہے، بالکل یہی کیفیت ہمارے اور آپ کے جسم کی ہے اور اگر آپ اپنے جسم کی زیب و زینت اور صحت و سلامتی کے آرزو مند ہیں تو آمد بہار سے پہلے یعنی مارچ کے شروع ہوتے ہی اس طرف توجہ کریں۔

 ماہ مارچ موسم بہار کے آغاز و استقبال کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں اپنے گلستان جسم کے پھولوں یعنی دل، دماغ، جگر اور معدہ جن کو طبی اصطلاح میں اعضائے ریئسہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، پورے غور و التفات سے نگہداشت کریں۔ یاد رکھئیے آپ کی اس بروقت اور ہوشمندانہ توجہ سے صرف اعضائے رئیسہ کو ہی فائدہ نہیں پہنچے گابلکہ اس کے ساتھ ساتھ اعضائے غریبہ کو بھی خاطر خواہ فوائد حاصل ہوں گے۔ ان احتیاطوں اور حفاظتی تدابیر سے اغماض کا نتیجہ ہی ہے کہ اپریل میںبہت سے لوگ خرابی خون اور متعدد جلدی عوارض (بالخصوص بچے) مثلاً خسرہ، موتی جھرہ، لاکڑا کاکڑا، کالی کھانسی، چیچک، فلو، وغیرہ کے عوارض سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس قسم کے موسمی عوارض سے محفوظ رہنے کیلئے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر کرنا بے حد سود مند ثابت ہو گا۔
۔۔ (1) زیادہ گرم تاثیر والے میوہ جات سے اجتناب کریں۔۔
۔۔ (2) رات کو جلد سوئیں اورصبح جلدبیدار ہونے کی عادت ڈالیں۔
۔۔۔(3) ہر قسم کی شیریں غذائیں مثلاً مٹھائی، بالخصوص چینی بہت کم استعمال کریں کیونکہ یہ خون میں فساد و خرابی پیدا۔ کرکے شوگر جیسے موذی مرض کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
۔۔۔ (4) پیدل چلنے، صبح کی ہوا خوری اور مناسب ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔ پیدل ہوا خوری کا سیدھا طریقہ یہ ہے کہ جلد صبح سورج نکلنے سے ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے نکل جایا کریں اور اس وقت لوٹا جائے جبکہ دھوپ زیادہ تیز نہیں ہوئی ہو۔ حسب طاقت ایک شخص ایک میل سے پانچ چھ میل تک روزانہ پیدل ہوا خوری کر سکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ پیدل ہوا خوری سے آپ کی برداشت بڑھ جائے گی اور پورے نظام جسمانی کو یکساں طور پر یہ فائدہ پہنچے گا کہ اگر کسی مرض کے جراثیم آپ کے جسم کے اندر پہنچ بھی چکے ہوں گے یا جو موسمی رطوبات نظام جسمانی میں بیماریوں کو پالنے والی موجود ہوں گی ان کا اخراج حتمی طور پر عمل میں آجائے گا۔ اگر زمین پتھریلی اور کنکریلی نہ ہو تو ننگے پائوں پیدل ہوا خوری کرنے سے مطلوبہ نتائج برآمد ہوں گے لیکن مشکل یہ ہے کہ شہروں میں اس طرح پیدل ہوا خوری ممکن نہیں ہے۔ اگر قصبات و دیہات کی کچی اور گھاس والی پگ ڈنڈیوں اور راستوں پر چلنے کا موقع میسر آئے تو یہ سب سے زیادہ مناسب صورت ہے۔دوا کی تدابیر: صبح و شام ایک تولہ خمیرہ گائوزبان پانچ تولہ عرق گائوزبان کے ساتھ استعمال کریں۔ یہ استقرار صحت اور ازالہ عوارض کی بہترین تدبیر ہے۔ ایرانی عناب بقدر ایک تولہ لے کر رات کو پائو بھر پانی میں بھگو دیں اور صبح کو اس کا مقطر پانی قدرے شہد میں ملا کر استعمال کریں۔ جلدی عوارض اور سینے کے امراض سے محفوظ رہنے کی یہ مناسب دوائی ہے۔ اس مہینے رونما ہونے والے دیگر عوارض کی تفصیلات کے سدباب کی تدابیر حسب ذیل ہیں۔ بخار: اس مہینے میں تغیر موسم کے سبب سے بخار بھی ہو جایا کرتا ہے جو عدم علاج کے باعث بگڑ کر اعضائے رئیسہ اور اعضائے غریبہ میں خلل و فتور کا باعث بنتا ہے اس کی یہ صورت ہے کہ مغز کرنجوہ کا پائوڈر دن میں چار مرتبہ (شیر خوار بچوں سے لے کر عمر طبعی تک دو رتی سے دو ماشہ تک یعنی حسب العمر) چینی کے نیم گرم جوشاندے کے ساتھ دیں۔ خسرہ: یہ ایک متعدی مرض ہے جو عام طور پر بچوں کو لاحق ہو جاتا ہے اور اس میں سہل انگاری اور لاپروائی کے نتیجہ میں کانوں کے بہرہ ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہوتا ہے اور ایسی حالت میں سینہ میں درد پیدا ہو تو یہ نمونیہ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات آنکھوں میں بھی اس عارضہ کے باعث خرابی پیدا ہو جایا کرتی ہے۔ ایسی حالت کے پیش نظر بچوں کو کمرے میں لٹائیں اور مناسب علاج اور احتیاط اختیارکریں۔کن پیڑے:یہ بھی ایک متعدی مرض ہے۔ جس میں ابتدا ہی میں کان کے نیچے درد محسوس ہونے لگتا ہے اور دوسرے یا تیسرے روز بخار ہو جاتا ہے۔ درد کے مقام پر ورم نمودار ہوتا ہے۔ جوں جوں یہ ورم بڑھتا ہے نگلنے میں دشواری ہوتی ہے۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ خناق تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ بخار کا درجہ حرارت 101 سے 104 تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں ہمیشہ کسی لائق اور تجربہ کار معالج سے رجوع کریں۔ ہنگامی حالت میں مغز کرنجوہ کا پائوڈر 4رتی سے ایک ماشہ تک اور چھ ماشہ گل بنفشہ جو شاندہ بنا کر چینی ملا کر نیم گرم، دن میں چار مرتبہ دیں۔
 

سر پر سوار خاموش قاتل سے چھٹکارا پائیے!,ذہنی دباو


پچاس تا اسی فیصد جسمانی بیماریوں کی وجہ یہی ذہنی دباؤ ہوتا ہے۔ ذہنی دباؤ کی وجہ سے انسان میں قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے فرد اکثر مختلف بیماریوں میں مبتلا رہتا ہے۔ زخم ہوجائے تو جلد ٹھیک نہیں ہوتا نہ صرف بڑے بلکہ بچے بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں زندگی میں ہم کسی نہ کسی ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ ہر ذہنی دباؤ نقصان دہ نہیں ہوتا۔ بعض ماہرین کے نزدیک یہ کامیاب زندگی کیلئے ناگزیر ہے اور اس کی عدم موجودگی نقصان دہ ہے کیونکہ معمولی اور درمیانےدرجے کا دباؤ فرد کی کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے مثلاً سپورٹس میں مقابلے کے وقت ذہنی دباؤ کی وجہ سے کھلاڑیوں کی کارکردگی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ دنیا کے بہت سے مصروف اور کامیاب افراد کی اعلیٰ کارکردگی اسی ذہنی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ تاہم شدید اور مسلسل ذہنی دباؤ انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت کیلئے تباہ کن ہے۔ پچاس تا اسی فیصد جسمانی بیماریوں کی وجہ یہی ذہنی دباؤ ہوتا ہے۔ ذہنی دباؤ کی وجہ سے انسان میں قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے فرد اکثر مختلف بیماریوں میں مبتلا رہتا ہے۔ زخم ہوجائے تو جلد ٹھیک نہیں ہوتا نہ صرف بڑے بلکہ بچے بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ حادثات کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ مسلسل اور شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہم مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جن میں سے اہم یہ ہے: دل کے امراض‘ کینسر‘ جوڑوں کا درد‘ دمہ‘ معدے کی مختلف بیماریوں‘ خسرہ‘ السر‘ خون کا بلند دباؤ‘ ڈیپریشن‘ سردرد‘ تشویش‘ دہشت کے دورے‘ شوگر‘ کمردرد‘ بے خوابی‘ گیس‘ وزن میں کمی‘ بعض جلدی بیماریاں‘ کولیسٹرول میں اضافہ‘ بے جا خوف عورتوں میں ماہواری سے پہلے ٹینشن‘ الرجی‘ نزلہ‘ دائمی تھکاوٹ‘ پٹھوں میں تناؤ وغیرہ۔ علامات: ذہنی دباؤ کا شکار فرد اکثر سوچوں میں گم رہتا ہے جس کی وجہ سے راستہ چلتے ہوئے اچانک کسی گاڑی کے آگے آجائے گا۔ گاڑی چلاتے ہوئے کسی حادثے کا شکار ہوجائے گا‘ غیرحاضر دماغی کی وجہ سےراستہ بھول جائے گا۔ اپنی منزل سے آگے چلاجائے گا۔ فرد کی توجہ منتشر اور حافظہ کم ہوجاتا ہے۔ بھوک ختم ہوجاتی ہے‘ فرد دانت پیستا ہے‘ مٹھیاں بھینچتا ہے اور ناخن کاٹتا ہے‘ غصہ میں اضافہ ہوجاتا ہے‘ فرد بدہضمی اور دستوں کا شکار ہوجاتا ہے‘ نظام ہاضمہ سست پڑجاتا ہے‘ طبیعت میں تیزی آجاتی ہے اور جلد مشتعل ہوجاتا ہے۔ جسم کے مختلف حصوں میں درد خصوصاً سردرد، کمردرد اور کمزوری محسوس کرتاہے۔ دل کی دھڑکن اور سانس تیز ہوجاتی ہے۔ پیشاب بار بار آتا ہے۔ دل اکثر متلاتا ہے‘ جلد تھک جاتا ہے‘ ذاتی احترام اور جنسی کارکردگی میں کمی ہوجاتی ہے۔ فراد اداسی‘ افسردگی‘ بوریت‘ بے کیفی اور بے بسی محسوس کرتا ہے۔ زندگی بے مقصد محسوس ہوتی ہے اور پھر خودکشی کا خیال آتا ہے۔ تنہائی پسند ہوجاتا ہے‘ ہنستا اور مسکرانا بھول جاتا ہے۔ مختلف قسم کے خوف شکوک و شبہات‘ خدشات اور وہموں کاشکار ہوجاتا ہے۔ طبیعت بے حس‘ دل کی دھڑکن تیز اور منہ خشک ہوجاتا ہے۔ فرد مستقبل کے بارے میں پریشان رہتا ہے۔ معمولی بات پر پریشان اور نروس ہوجاتا ہے۔ چہرہ پیلا پڑجاتا ہے۔ ڈراؤنے خواب آتے ہیں جس کی وجہ سے بے خوابی کا شکار ہوجاتا ہے یا پھر زیادہ سونے لگتا ہے۔ فرد کی قوت فیصلہ کم ہوجاتی ہے۔ بعض زیادہ سگریٹ پینا شروع کردیتے ہیں۔ ذہنی دباؤ کی اہم وجوہات : ناکامی‘ محرومی‘ جھنجھلاہٹ‘ ذہنی کشمکش‘ محبت میں ناکامی‘ عزت و احترام میں ایک دم کمی‘ مایوسی‘ احساس ندامت‘ احساس گناہ‘ کسی پیارے کی وفات‘ رنج وملال‘ تنہائی‘ مسابقت‘ بے خوابی اور مسلسل بے آرامی مذہبی اور نسلی تعصب‘ ملازمت کی ذمہ داریاں‘ ناپسندیدہ ملازمت‘ کاروباری اور معاشی مسائل‘ میاں بیوی کے جھگڑے‘ خاندانی ضروریات اور ذمہ داریاں‘ بچوں کی پرورش اور ان کے تعلیمی مسائل‘ ڈیپریشن‘ غیرتسلی بخش جنسی زندگی‘ گھریلو معاشرتی زندگی اور سسرالی پریشر وغیرہ۔ قدرتی آفات‘ حادثات‘ ناقص اورگھٹیا غذا‘ شوروغل‘ زیادہ گرمی یا سردی‘ آمدن میں ایک دم کمی اور بڑھتےہوئے جرائم وغیرہ۔ ذہنی دباؤ کا حل: ذہنی دباؤ کا مقابلہ ذہنی صحت کا ایک بہت اہم مسئلہ ہے‘ مختلف لوگ مختلف طریقوں سے ذہنی دباؤ کامقابلہ کرتے ہیں کچھ لوگ شراب میں پناہ ڈھونڈتے ہیں‘ کچھ دوسرے کسی نہ کسی نشہ آور چیز کا سہارا لیتے ہیں۔ ایک بڑی تعداد سکون آور ادویات کا استعمال کرتے ہیں مگر یہ سب طریقے ذہنی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے منفی اور مہلک طریقے ہیں۔ ہم آپ کو مثبت‘ سودمند اور بہت مؤثر طریقے بتائیں گے 
جن کی مدد سے آپ ذہنی دباؤ کا بہتر طور پر مقابلہ کرسکیں گے۔ اہم حل درج ذیل ہیں۔



،،

کا ذکر ٹینشن اور ذہنی دباؤ کا ایک بڑا علاج ہے۔ 2۔ مراقبہ کرنا‘ آنکھیں بند کرکے یہ تصور کرنا کہ اللہ کے نور کی بارش میرے اوپر برس رہی ہے اور دل اللہ اللہ کررہا ہے۔ 3۔دل کی دھڑکن اور بلڈپریشر کو تیز کرنے والے مشروبات مثلاً کافی چائے‘ کولا مشروبات اور نمک کا کم استعمال۔ 4۔ مندرجہ ذیل کا زیادہ استعمال: کنو‘ مالٹے‘ فروٹر ان کا جوس‘ ٹماٹر‘ مٹر ‘مونگ پھلی‘ انڈے‘ تازہ سبزیاں‘ کلیجی‘ گردے‘ مچھلی اورگوشت وغیرہ۔

(اسلام اور رواداری )پیغمبر اسلام ﷺکا غیر مسلموں سے حسن سلوک


بحیثیت مسلمان ہم جس بااخلا ق نبیﷺ کے پیرو کا ر ہیںانکا غیر مسلموں سے کیا مثالی سلوک تھا‘ آپ نے سابقہ اقساط میں پڑھا اب آپ ﷺ کا جانوروں سے حسن سلوک کے چند واقعات پڑھیں۔ جانوروں کیساتھ نبی کریمﷺ کا کریمانہ برتاؤ: اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اللہ عزوجل نے چھوٹے سے لے کر بڑے جانور تک کو ہمارے تابع اور زیردست کردیا ہے‘ ایک چھوٹا سا بچہ ایک بڑے اونٹ کی مہار تھامے لئے جاتا ہے‘ یہ بس اللہ عزوجل کی کرم فرمائی اور انسانیت کے ساتھ اس کا فضل ہے کہ ایک بڑے جانور کو ایک چھوٹا بچہ بھی اپنے تابع کئے دیتا ہے‘ ورنہ انسان کی کیا حیثیت کہ وہ اس قدر بڑے اور قوی ہیکل‘ تندومند اس سے کئی کئی گنا بھاری بھرکم جسم و چثہ کے مالک جانوروں کو رام کرسکے؟ جانوروں میں خیروخوبی: جانوروں کی اہمیت اور ان خوبیوں اور خصوصیات کو بتلانے کیلئے یہ بتا دینا کافی ہے کہ قرآن کریم نے متعدد جانوروں اور حیوانات کا تذکرہ کیا ہے۔(جاری ہے)

 

Monday, August 22, 2016

صرف بسم اللہ پڑھیں اور گھر میں سکون پائیں


میری خالہ کے گھر میں بہت زیادہ لڑائی شروع ہوگئی اور ختم ہونے کی کوئی صورت حال نظر نہیں آرہی تھی پھر انہوں نے روزانہ 800 مرتبہ۔


 پڑھنا شروع کردی‘ ابھی کچھ ہی دن پڑھی تھی کہ لڑائی بالکل ختم ہوگئی۔ -

Friday, August 19, 2016

دو لفظ پڑھے اور موت کے منہ میں گیا مریض صحت یاب


مگر جب سے میں نے یہ وظیفہ پڑھنا شروع کیا ہے ایک مریضہ بہت ہی تشویشناک حالت میں لائی گئی‘ اس کا علاج کیا تو اس کی حالت حیرت انگیز طور پر سنبھلنا شروع ہوگئی اور صرف تین دن بعد اس کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔ 


 ایک لیڈیز ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ کوئی وظیفہ دیں‘ ہسپتال میں روزانہ کوئی نہ کوئی پرابلم ہوجاتی ہے‘سب کچھ ہے مگر پریشانی جان نہیں چھوڑتی تو میں نے اس کو


 حٰمٓ لَایُنْصَرُوْنَ



 دیا۔ دو تین دن بعد اس کا فون آیا کہا کہ وظیفہ نے اثر یہ دکھایا کہ پچھلے دنوں ایمرجنسی میں جتنے بھی مریض آئے ان کا علاج کیا‘ مگر کوئی بھی نہ بچ سکا۔ مگر جب سے میں نے یہ وظیفہ پڑھنا شروع کیا ہے‘ ایک مریضہ بہت ہی تشویشناک حالت میں لائی گئی‘ اس کا علاج کیا تو اس کی حالت حیرت انگیز طور پر سنبھلنا شروع ہوگئی اور صرف تین دن بعد اس کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔ میں جس بھی مقصد کیلئے یہ عمل پڑھتی ہوں الحمدللہ وہ مقصد پورا ہوجاتا ہے۔
 (سلیم اللہ سومرو‘ کنڈیارو)۔

 بگڑے بچوں سے پریشان والدین کیلئے آسان عمل


 محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! اللہ آپ کو تاقیامت تک اسی طرح لوگوں کو دین کی طرف متوجہ کرنے کی توفیق دے اور آپ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے‘ اللہ آپ کو دین و دنیا کی تمام خیریں اور بھلائیاں عطا فرمائے۔ ہمارے ہمسایوں کا بیٹا جس کا باپ دنیا میں نہیں رہا اور ماں محلے کے سارے بچوں کو قرآن پاک پڑھاتی ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا جو کہ سولہ سال کا ہے‘ شہر کے بُرے لڑکوں کے ساتھ اس کی بیٹھک ہوگئی‘ موٹرسائیکل کا شوقین ہوگیا‘ ویلنگ بھی شروع کردی‘ ایک دو دفعہ گھر کی چھت پر نشہ کرتے ہوئے بھی بھائیوں نے دیکھا اور ہروقت موبائل فون استعمال کرتا رہتا‘ ماں اس کی وجہ سے بہت پریشان تھی‘ 9thجماعت میں دو سے تین سپلی بھی آچکی تھی۔ ماں کوسسرال والے بھی‘ میکے والے بھی اور محلے والے بھی سب طعنے دیتے اور کہتے تم اتنے لوگوں کے بچوں کو پڑھاتی ہو‘ اپنے بچوں کا پتہ ہی نہیں وہ بہت پریشان تھی پھر انہوں نے


نَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ اِلَیْہِ۔ 


قرآن مجید پر پڑھنا شروع کردیا‘ قرآن مجید کی ہر لائن پر یہ پڑھتی اور پڑھنے سے پہلے اللہ سے دعا کرتی اور معافی مانگتی‘ یہ انہوں نے عبقری میگزین یا شاید دفتر عبقری کی کسی کتاب سے پڑھا تھا۔ انہوں نے نیت کی کہ میرا بیٹا اچھی صحبت اختیار کرلے۔ اللہ نے ان کی مدد کی اور وہ ہی بچہ ہے کہ آج بہت اچھا بن گیا ہے اب محلے والے کہتے ہیں وہ توکبھی کسی کو نظر ہی نہیں آیا اور سکول میں استاد کہتے ہیں کہ یہ بہت لائق بچہ ہے۔

 اسی طرح ہمارے محلے میں ایک اور عورت اپنے بیٹے کی وجہ سے بہت پریشان تھی ایک دن انہی باجی جان کے پاس آئی اور کہنے لگی میرا بیٹا مجھے بہت تنگ کرتا ہے۔ اس کا باپ وفات پاچکا ہے اور میرے گھر والوں نے میری شادی دیور سے کردی ہے۔ وہ بھی اسے زیادہ ڈانٹ نہیں سکتے کیونکہ اگر ڈانٹتے ہیں تو سب کہتے ہیں کہ یہ اپنا بیٹا نہیں اس لیے مارتا ہے۔ وہ بہت پریشان تھی۔ انہوں نے اس کو بھی وہی قرآن مجید پڑھنے کو کہا اور کہا اس طرح (درج بالا طریقہ) پانچ دفعہ قرآن مجید ختم کرنا ہے۔ ابھی اس نے دو یا تین دفعہ ہی پڑھا تھا کہ بیٹا کافی بہتر ہوگیا۔ اب کام پر جاتا ہے اور زیادہ تنگ بھی نہیں کرتا۔ اس کی ماں بہت خوش ہے۔

 ہمارے محلے میں ایک اور لڑکے کے ویزے کا مسئلہ تھا جن سےویزا لینا تھا وہ پیسہ لے کر کبھی کہتے دس دن انتظار کرو‘ کبھی بیس دن کرو‘ وہ ٹال مٹول کیے جارہے تھے‘ یہی قرآن مجید پڑھنا شروع کیا‘ انہیں ایک یا دو دفعہ پڑھا تھا کہ اس کا ویزہ آگیا اور وہ باہر چلا گیا۔

ایک اور لڑکا بیروزگار تھا اور کوئی کام نہ تھا‘ اس کی ماں نے بھی یہ قرآن مجید پڑھا اور اللہ نے ان کی مدد کی‘ ان کا ویزہ مل گیا اور وہ باہر چلا گیا اب مہینے کی ٹھیک ٹھاک آمدن آرہی ہے اور بہت مطمئن اور خوش ہیں۔ (سدرہ صابر)

Tuesday, August 16, 2016

بچوں کی تربیت کا ’’بیڑہ غرق‘‘ کیسے ہوتا ہے؟


کچھ بچے والدین کی طرف سے زبردستی کرنے پر ہوم ورک کرنے تو بیٹھ جاتے ہیں‘ مگر بار بار اٹھ کر ادھر ادھر گھومنے پھرنے لگتے ہیں۔ اس کا علاج پڑھائی کے دوران آرام کے وقفے ہیں۔ پڑھائی لکھائی بلکہ کسی بھی ذہنی کام کے دوران آرام کے وقفے لازمی ہیں بچوں میں خوداعتمادی کی کمی کی وجہ! والدین جب اپنے بچوں سے شفقت کا معاملہ کرتے ہیں تو بچوں کو اس سے بڑھ کر کوشش ہوتی ہے کہ وہ بھی اپنے والدین کو خوش رکھیں اور کسی معاملے میں شکایت کا موقع نہ دیں ایسے بچوں میں فرمانبرداری اور خوداعتمادی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے اس کے برعکس وہ والدین جو اپنے بچوں سےسختی کامعاملہ کرتےہیں تو ایسی صورت حال میں بچے باغی ہوجاتے ہیں اور خوب بدتمیزی کرتے ہیں‘ بچوں پر سختی صرف ان کی اصلاح کے لیے کرنی چاہیے۔ بے جاروک ٹوک بچوں کو ضدی اور ہٹ دھرم بنادیتی ہے۔ یہی پودے جب تناور درخت بن جاتے ہیں تو ان کو سیدھا کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ والدین اس بات پر توجہ دیں۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ باپ معمولی بات پربچوں کے سامنےشور شرابا کرنا شروع کردیتا ہے یا بچوں کی غلطی پر بجائے نرمی اور اصلاح سے کام لینے کےانہیں سب کے سامنے خوب بے عزت کیا جاتا ہے‘ اس طرح بچے احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ احساس محرومی بچوں میں خوداعتمادی کے پرخچے اڑا دیتا ہے۔ بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بچے سکولوں میں صرف ڈر کی وجہ سے سبق بھول جاتے ہیں تو اس میں ان معصوم بچے بچیوں کا کوئی قصور نہیں ہوتا کیونکہ سبق سناتے وقت ان کامعصوم ذہن صرف اس بات میں اٹکا ہوتا ہےکہ جسے والدین معمولی غلطی پر سختی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو کیا معلوم یہ اساتذہ بھی ایسے ہی کریں۔ ایک خوف ہوتا ہے جو ان کے دلوں میں بھرا ہوتا ہے‘ بہت سے ایسے بچے غیرمعمولی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں لیکن خوداعتمادی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی صلاحیتوں کو یوں زنگ لگ جاتا ہے‘

Monday, August 15, 2016

تیرے در کا جو فقیر،وہی دو جہاں کا امیر


برکت کی راہیں:۔
حلال کے اندر برکت ہے۔ حرام کے اندر کثرت ہے ،کبھی برکت نہیں ہے۔ اپنی نسلوں کو برکت دو !کبھی گھاٹے کا سودے نہ کر بیٹھنا!اپنی نسلوں کو برکت دو اور سارا دن برکت سمیٹو اور برکت کے ذرائع اختیار کرو ۔کوشش کریں کہ ہم برکت کی راہیں اختیار کریں! برکت کے راستے اختیار کریں‘ اللہ جل شانہٗ کوشش کرنے والے کو ضرور عطا فرماتے ہیں ۔اگر مجاہدہ آتا ہے قربانی آتی ہے توصحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بھی قربانیاں دی ہیں‘ انہوں نے بڑے مجاہدے کیے ۔میرا کریم جب برکتوں کے دروازے کھولتا ہے تو پھر اللہ پاک نے ان کے گھروں کو مالا مال کر دیا، پھر زکوٰۃ کی آوازیں دینے والا ہر کوئی ہوتا تھا، زکوٰۃ لینے والا کوئی نہیں ہوتا تھا۔ سارے زکوٰۃدینے والے ہوتے تھے ۔ صاحب تحقیق عالم دین سے زکوۃ کے بارے میں جانیں: زکوٰۃ تو اس پر ہوتی ہے جو صاحب نصاب بن جائے ۔ایک صاحب جو پوچھ رہے تھے