Tuesday, October 13, 2015

خواتین پوچھتی ہیں

خواتین پوچھتی ہیں:۔

اولاد سے محروم:۔
میری شادی کو دس سال ہو گئے ہیں۔ علاج معالجہ اور میڈیکل چیک اپ کرایا ہے مگر ساری رپورٹ صحیح ہونے کے باوجود ہم اولاد سے محروم ہیں ۔ آپ اس سلسلہ میں ہمیں مشورہ سے نوازیے ۔ بہت مہربانی ہو گی ۔

جواب:۔ بی بی ! بات یہ ہے جب اللہ پاک دینے پر آ تا ہے تو کوئی نہ کوئی بہانہ بن جاتا ہے ۔ آپ پریشان نہ ہوں ۔ نماز کی پابندی کیجئے اور درود شریف رات کو پڑھ کر اللہ پاک سے دعا مانگئیے ۔ آپ نے اپنا نام بھی نہیں لکھا۔ بادام ، کھوپرا ، پستہ ، کوٹ کر تھوڑی سی سوجی بھون کر اس میں چینی ملا کر اور کالے تل مٹھی بھر ڈال کر اس کے لڈو بنا کر رکھ لیجئے ۔ صبح و شام ایک ایک لڈو اپنے شوہر کو کھلائے ۔ سردی کا موسم آ رہا ہے ۔ مٹھی بھر چلغوزے چھیل کر اس کی گریاں کھلائیے ، سفید ماش کی دال ہفتہ میں دو تین بار پکائیے ۔ آپ گوشت کے ساتھ بھی پکا سکتی ہیں ۔ ماش کی دال رات کو بھگو کر صبح پیس کر اس کو گھی میں بھون کر حلوہ بھی بنایا جاتا ہے اور اس میں مغزیات ڈالے جاتے ہیں ۔طب میں بہت ساری دعائیاں ہیں ۔ آپ کسی حکیم کو دکھا کر دوا تجویز کر الیں ۔ آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔ برگد ایک مشہور درخت ہے ۔ اس کی ڈاڑھی ہوتی ہے لمبے لمبے ریشے لٹکتے ہیں ۔ کسی مالی سے کہہ کر برگد کی ڈاڑھی منگوائیے ۔ اسے صاف کر کے سائے میں سکھائے اور اس کے ہم وزن چینی یا شکر لے کر دونوں کو پیس کر رکھ لیجئے ۔ صبح آپ دونوں میاں بیوی دودھ کے ساتھ پندرہ بیس گرام یہ سفوف پھانک لیجئے ۔ تین چار ہفتے کھائیے۔

فریزر کے کھانے کا ذائقہ:۔
میں ملازمت کرتی ہوں ۔ اتوار کے دن پانچ چھ کھانے پکا کر فریز کر دیتی ہوں تاکہ پوار ہفتہ آسانی سےکھا سکیں ۔ اتنی محنت کرنے کے باوجود جب ہم میاں بیوی شام کو کھانا گرم کرتے ہیں تو اس میں ذائقہ نہیں ہوتا اس کی کیا وجہ ہے ؟ براہ کرم آپ مجھے مشورہ دیں ۔ میں صبح 8 بجے فیکٹری جاتی ہوں اور شام کو گھر آتی ہوں ۔ آ کر پکا نہیں سکتی کیونکہ بہت تھک جاتی ہوں ۔ صبح صبح کپڑے استری کرنے اور ناشتہ بنانا پڑتا ہے ۔ میرے پاس وقت ہی نہیں ہوتا فریزر والے کھانے کس طرح صحیح رہتے ہیں ضرور بتائیے ۔

جواب:۔ منجمد کھانے اگر احیتاط سے استعمال نہ کئے جائیں تو ان کا ذائقہ 90 فیصد خراب ہو جاتا ہے۔ آپ کھانے پکا کر ان کو ڈونگوں میں نکال کر بالکل ٹھنڈا ہونے دیں ۔ پھر ان کو ڈھانپ کر فریز کر دیں ، شام کو جب آئیں فوراً کھانا نکال کر باہر رکھ دیں ۔ ڈیڑھ دو گھنٹے باہر رکھ کر آپ ایک دیگچی میں پانی گرم کیجئے ۔ پانی کے اوپر کوئی چھلنی رکھئے ۔ اور اس پر سالن کا ڈونگا رکھ دیجئے ۔ پانی کی بھاپ سے وہ نرم ہو جائے گا ۔ پھر آپ پتیلی  میں ڈال کر اسے ہلکی آنچ پر گرم کر لیجئے ۔ ذائقہ بر قرار رہے گا ۔ آپ پانچ بجے گھر آئیں تو ساڑھے سات بجے تک آپ کا کھانا تیار ہو سکتا ہے ۔ آپ گوشت بھون کر فریج میں رکھ سکتی ہیں ۔ اس میں سے تھوڑا سا نکال کر کوئی سبزی ڈال کر سالن تیار کر سکتی ہیں ، اسی طرح قیمہ پکا سکتی ہیں ، سبزی کاٹ کر فریج میں رکھ  دیجئے ۔ اس کی تازہ بھجیا بن سکتی ہیں ۔ کابلی چنے ابال کر فریز کر لیجئے وہ تھوڑے سے نکال کر آپ مرغی میں پکا سکتی ہیں آج کے دور میں کھانا پکانا مسئلہ نہیں ہے۔

چہرے پر جلنے کا نشان :۔
پچھلے دنوں میں باورچی خانہ میں پراٹھا بنا رہی تھی ، گھی کے چھینٹے اڑے اور میرے چہرے پر بری طرح پڑے،گھبرا کر ہاتھ چہرے پر لگایا تو ایک دو جگہ سے کھال اتر کر سرخ جلد نکل آئی ، علاج سے تکلیف تو دور ہو گئی مگر چہرے پر جا بجا دھبے پڑ گئے ہیں  کھال کا رنگ علیحدہ نظر آتا ہے ۔ اس کا کوئی حل ہے تو بتائیے۔

جواب:۔ بی بی اگر  آپ اسی وقت گھیکوار کا گودا لگا لیتیں تو شاید اتنی تکلیف نہ ہوتی ، داغ بھی نہ پڑتے ، گھیکوار کی شاخ توڑ کر اس کا گودا فوراً لگایا جائے تو ٹھنڈ پڑ جاتی ہے ۔ ابھی بھی آپ رات کے وقت گھیکوار کا گودا لگائیے ، داغ مدھم پڑ جائیں گے ، آپ جوابی پتہ لکھا ہو ا لفافہ بھیجئے ۔ میں آپ کو دوا کانام لکھ دوں گی ، اس کے کھانے اور لگانے سے داغ دور ہو جائیں گے ، داغ جلنے کے دیر کے ہوں تو وہ بمشکل ختم ہوتے ہیں ۔

ٹشو کا دوپٹہ کیسے صحیح ہو گا :۔ 
میری شادی اسی ماہ ہوئی ہے ۔میرا سو ٹ بہت خوبصورت ہے اور اس کا دوپٹہ ٹشو کا ہے ۔ گاڑی کے دروازے میں پھنس کر دوپٹہ پھٹ گیا ہے ۔ وہ کس طرح ٹھیک ہو گا ۔

جواب:۔ بی بی! اب آپ دوپٹے کے ہم رنگ سیاہ ٹشو آدھ گز خریدیے ، درزی سے کہے آدھ گز کپڑے کے دو حصے کر کے اورکپڑے کی ہم رنگ لیس لگا کر سلائی کر دیں اس طرح آپ کا دوپٹہ صحیح ہو جائے گا ، دوپٹہ کے چاروں طرف بھی بارک لیس لگا سکتی ہیں ۔ 

Monday, October 12, 2015

رات بھرنیند کیوں نہیں آتی ؟ اب سمجھ آئی

رات بھرنیند کیوں نہیں آتی ؟ اب سمجھ آئی !

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!میں عبقری کی پرانی قاری ہوں ، دو دفعہ آپ سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا ۔ پہلے بھی آپ کو خط لکھتی رہی ، اپنے اعمال سے آگاہ کرتی رہی لیکن چار پانچ ماہ ہو گئے خط لکھنے کا موقع نہ ملا کچھ مصروفیات اور کچھ گناہوں نے قید کر رکھا تھا۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ اپنی داستان کیسے شروع کروں ، چار ماہ پہلے میں نے ایک کورس کیا جس کی چالیس روزہ ورکشاپ تھی ۔ میں شیخوپورہ کے قریب ایک چھوٹا  سا گاؤں ہے وہاں  کی رہنے والی ہوں ۔ جب کورس سٹارٹ کیا تو میری ورکشاپ کا سنٹر لاہور میں رکھا گیا ۔ اب بہت مسئلہ تھا کہ شیخوپورہ سے روزانہ لاہور جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا تو میں نے وہیں شاہدرہ کے قریب اپنے رشتہ داروں کے گھر رہائش رکھ لی لیکن چند دن ورکشاپ اٹینڈ کی تو وہاں سے بھی مجھے بہت دور پڑ رہا تھا روزانہ دو گاڑیاں بدل کے جانا اور جاتی بھی اکیلی تھی پھر یونیورسٹی کے قریب میری ایک دوست رہتی تھی جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی وہ لوگ ہمارے گاؤں کے تھے لیکن شہر میں رہتے تھے اس نے مجھے آفر کی کہ تم اتنی دور سے روز آتی ہو تو میرے گھر رہ لو قریب بھی ہے اور میری دوست کی جس گھر میں شادی ہوئی ہے وہ شخص اربوں پتی ہے اکیلی رہتی تھی ۔ میں نے گھر والوں سے مشورہ کیا گھر سے اجازت مل گئی کیونکہ میری دوست کے ساتھ ہمارے پرانے گھریلو تعلقات تھے جب میں نے وہاں رہنا شروع کیا کروڑوں کا اس کا بنگلہ تھا 6 گاڑیاں گھر میں ہر وقت کھڑی رہتیں ۔ وقت پر مجھے گاڑی یونیورسٹی چھوڑ کر آتی اور وقت پر لے کر آتی ۔ میری ہر طرح کی ضروریات کا خیال رکھا گیا ۔ یہ سب میری دوست نے بہت خوش اسلوبی سے کیا ۔مجھے وہاں پر ہر طرح کی آسائش تھی ہر وقت جس طرح کا چاہے کھانا اور بالکل آزادی تھی ۔ پردہ تو میں نے وہاں بھی کیے رکھا اس کے شوہر سے میں نے مکمل پردہ کیا میں اپنے طور پر اعمال کی بھی کوشش کرتی تھی لیکن وہاں مشکل سے فرض نمازیں مکمل کر پاتی اور کسی عمل کی لاکھ کوشش کے باوجود توفیق نہیں ملتی تھی۔میں اپنے کمرے میں زیادہ تر اکیلی ہوتی تھی۔ میرے کمرے میں بڑا ایل ای ڈی ٹی وی تھا ۔ کمرے میں اکیلی رہ رہ کر بور ہو جاتی تو ٹی وی لگا لیتی ، تسبیح پڑھنے کیلئے ہاتھ میں لیتی تو پتہ نہیں دھیان کدھر چلا جاتا بھول ہی جاتا کہ میں تسبیح کر رہی تھی یوں ہوتا کہ یونیورسٹی سے آ کر سارا وقت ٹی وی لگائے رکھتی اور پوری پوری رات مجھے نیند نہ آتی تھی  ۔ حالانکہ میں اپنے گھر میں سب سے زیادہ سوتی ہوں اور پکی نیند والی تھی، لیکن میں حیران و پریشان تھی کہ نیند پوری رات نہ آتی ، دیکھتے ہی دیکھتے صبح ہو جاتی نیند کی گولیاں بھی کئی دفعہ کھائیں لیکن کوئی اثر نہ ہوتا اور یوں بہت سے گناہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہو جاتے فلم ، ڈرامہ ، گانے دیکھنا اور بھی کئی گناہ نہ چاہتے ہوئے بھی ہو جاتے ، ان دنوں ایسے ایسے گناہ ہوئے کہ جن کو سوچتے ہی میں شرم سے پانی پانی ہو جاتی ہوں ۔ اللہ پاک کا لاکھ لاکھ کرم ہے کہ اس نے عزت محفوظ رکھی ۔ میری دوست کا شوہر بہت اچھاانسان تھا اس نے میرا سگی بہنوں سے بھی زیادہ خیال رکھا ۔ لیکن باہر کی دنیا بہت گندی ہے۔ پھر جب میں اپنا چالیس روزہ کورس مکمل کر کے گھر آئی تو تعلیم ہو رہی تھی اتنے گناہوں سے لتھڑی ہوئی آ ئی تب بھی اللہ پاک نے تعلیم میں بیٹھنے کی توفیق دی ، ہمارا گھرانہ ماشاءاللہ مذہبی ہے تعلیم باقاعدگی سے ہوتی ہے ۔ پھر میں نے اپنے گھر والوں سے اپنی دوست کی دولت کا تذکرہ کیا تو میری بھابھی نے پوچھا کہ اس کا شوہر کام کیا کرتاہے ۔ جب میں نے کام بتایا کہ وہ فلاں کام کرتا ہے تو بھابھی نے کہا کہ اس میں تو حرام شامل ہے ۔ اوہ ہو ! پھر میری سمجھ میں آیا کہ میں وہاں چالیس دن مشکوک مال پر عیش کرتی رہی اب جب دینی تعلیمات نے تھوڑا تھوڑا مجھ پر اثر کرنا شروع کیا تو مجھے سجمھ آئی کہ مجھے وہاں نیند کیون نہیں آتی تھی ۔ فل ایئر کنڈیشنڈ روم اعلیٰ قسم کے گدے لیکن سکون نہیں تھا اور دل گناہ پر ہی مائل رہتا تھا شاید مشکوک مال کھا کے انسان کا دھیان نیک کاموں کی طرف جاتا ہی نہیں ہے ۔اب میں بہت پریشان ہوں کیسے اس حرام مال کو اپنے اندر سے نکالوں اس حرام خون کے قطروں کو کیسے ختم کروں ؟     

آپ کا خواب اور روشن تعبیر

آپ کا خواب اور روشن تعبیر :۔

بھابھی کےدانت کیوں لگائے ؟
میں نے  دیکھا کہ میرے نیچے کے سامنے والے چاروں دانت اپنے سیدھے ہاتھ کی انگلی سے ہلاتا ہوں تو وہ باری باری ٹوٹ کر میرے ہاتھ میں گرتے ہیں ۔ ان دانتوں میں سے ایک کو میں پھر اپنی جگہ لگا تا ہوں تو وہ ٹوٹ کر دوبارہ نیچے گر جا تا ہے ۔ میں بہت پریشان ہوتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ میرے منہ کے سامنے والے دانت گر گئے ۔ میرا منہ بہت برا لگے گا ۔ میرے قریب ہی میری بڑی بھابھی کھڑی ہوئی ہے وہ اپنے منہ سے چار نقلی دانت نکال کر مجھے دیتی ہے ۔ کہ یہ بناوٹی دانت تم اپنے منہ میں لگا لو ۔ میں وہ دانت اپنے منہ میں لگا لیتا ہوں ۔ میرا چھوٹا بھائی مجھے کہتا ہے کہ اگر دانت لگوانے تھے تو ڈاکٹر سے نئے خرید لیتے بھابھی کے دانت کیوں گائے ۔
تعبیر:۔ آپ کے خواب کے مطابق اس بات کا اشارہ ہے کہ آپ کو مالی نقصان اور صحت کی خرابی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ تاہم آپ استغفار کثرت سے پڑھا کریں اور حسب توفیق صدقہ خیرات دیتے رہیں ۔
آسیبی معاملات:۔
میری بڑی بہن کو سات آٹھ ماہ سے مسلسل ایک ہی خواب مختلف دنوں میں نظر آ رہا ہے ۔ جیسے چھوٹی بہن چند ماہ کی ہے اور وہ چل پھر رہی ہے ۔ پھر ایک دم بڑی ہو جاتی ہے پھر ہم اس کو لے کر کبھی سکول جا رہے ہیں تو کبھی بازار یا پھر ڈاکٹر کے پاس تو وہاں عوتوں ، بچوں اور مردوں کا ہجوم ہوتا ہے اور علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں ۔ عوتیں 20،25 کے قریب ہوتی ہیں اور مرد مونچھوں والے اور کالے ڈیڑھ سو کے قریب ہوتے ہیں ۔
تعبیر:۔ آپکی  بہن کے خواب کے مطابق اس بات کا اشارہ ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ آسیبی معاملات کافی عرصے سے چل رہے ہیں اور اسی وجہ سے کوئی بھی کام صحیح طریقے سے نہیں ہو پا رہا ۔ تاہم اپنا اور تمام اہل خانہ کی طرف حسب توفیق کچھ صدقہ دیں اور آپ خود بھی اور تمام گھر والے بھی چلتے پھرتے ہر وقت یا قھار  لا تعداد مرتبہ پڑھتےرہیں ، انشاءاللہ کچھ ہی دنوں میں حالات بہتر ہو نا شروع ہو جائیں گے۔
دوستوں سے محتاط رہیں:۔
میں نے دیکھا کہ جیسے کوئی گھر ہے ۔ جو کہ میرا نہیں ہے۔ اس کے غسل خانے میں غسل کر کے باہر نکلتی ہوں تو میری دو تین سہیلیوں کی مائیں مجھے وہاں نظر آ تی ہیں ،اور مجھے کہتی ہیں کہ ہم سب مل کر اس گھر میں اکٹھے رہ رہی ہیں ،اور وہ ایک جگہ پھر لیٹی ہوتی ہوں ۔ اپنے سروں کے نیچے چھوٹے آئینےرکھ کر جیسے کوئی تکیہ رکھتا ہے ۔ مجھے خیال آتا ہے کہ باتھ روم کے اندر میری انگوٹھیاں رہ گئی ہیں ۔ میں واپس جاتی ہوں اور اپنی انگوٹھیاں انگلی میں پہن کر باہر آ جاتی ہوں تعبیر:۔ آپ کے خواب کے مطابق اس بات کا اشارہ ہے کہ اپنی بعض ان دوستوں سے محتاط رہیں جن کے ساتھ بے تکلفی ہے ، ایسا نہ ہو کہ کوئی بڑا نقصان ہو جائے۔
بلی کی چیخیں اور مردہ بلا:۔
 میں نے دیکھا کہ ایک بلی اور ایک بلا ہے اور پھر دونوں چینی کےپیالے میں بیٹھ جاتے ہیں ۔ میں پانی پھینکتی ہوں تو بلی اور بلے پر پڑتا ہے ، پھر کافی دفعہ پھینکتی ہوں ۔ بلی چیخیں مارتی ہوئی بھاگ جاتی ہے اور بلا بے حس و حرکت پیالے میں پڑا رہتا ہے ۔ او رہلاک ہو جاتا ہے ۔ پر منظر بدلتا ہے اور میں سکول کی طرح کی کسی جگہ پر ہوں ، دل میں سوچتی ہوں کہ یہاں ملازمت کر لوں ۔ پھر میں انگریزی کے کسی لفظ کا مطلب موبائل پر اپنے شوہر سےپوچھتی ہوں پھر میری ایک آنٹی بات کرتی ہیں کہ ان کے بیٹے نے بھی فلاں سکول میں پیسہ لگایا تھا مگر کاروبار نقصان میں ہی گیا ۔۔ مہربانی کر کے اس خواب کی تعبیر بتا دیں ۔
تعبیر:۔ آپ کے خوا ب کے مطابق اس بات کا اشارہ ہے کہ آپ کے بعض ملازمین چوری کی کوشش کریں گے لیکن اپنے مقصد میں ناکام رہیں گے اور مرد ملازم پکڑا جائے گا لیکن ملازمہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائے گی۔
بچیوں کا رشتہ :۔
میں  نے کچھ عرصہ پہلے دیکھا کہ میں ہاتھ سے زمین پر یا کسی دوسری چیز پر کلمہ طیبہ لکھ رہی ہوں اور میرے پیچھے سے کوئی اس کی فضیلت کے بارے میں بیان کر رہا ہے ۔ پھر ایک اور خواب میں ، میں نے دیکھا کہ میں اپنی بیٹی کی سہیلی کے گھر گئی ہوں ، وہاں ان کی والدہ جائے نماز پر بیٹھی ہیں ،، میں ان سے کہتی ہوں کہ آپ پریشان نہ ہوں کے رشتے کیلیے اللہ پاک بہتر کرے گا ۔ آپ ہر نماز کے بعد جائے نماز پر بیٹھ کر 5 نمازوں میں ایک تسبیح یا حل المشکلات  یا مسبب الاسباب کی پڑھئے ۔ اس کے علاوہ میں ان الفاظ کے بارے میں پہلے بھی خواب میں دیکھا ہے ۔ کوئی کہہ رہا ہے یا میں کہہ رہی ہوں کہ یہ پڑھا کرو۔
 تعبیر:۔ ماشاءاللہ بہت مبارک خواب ہیں ان میں اس بات کا اشارہ ہے کہ کلمہ طیبہ کی اتنی کثرت کریں کہ یہ کلمہ زبان سے دل تک پہنچ جائے ، نیز مذکورہ ذکر ہر نماز کے بعد اہتمام سے کیا کریں انشاءاللہ غیب سے مدد کرے گا۔
کتا اور کتیا:۔
میں نے دیکھا کہ میں کسی کام سے گھر واپس آتا ہوں تو گھر سے تھوڑی سی دور راستے پر مجھے ایک چھوٹا سا کتا اور بڑی سی کتیا ملتے ہیں ۔ کتا مجھ سے کہتا ہےکہ اکیلے کھا رہے ہو کچھ ہمیں بھی کھلاؤ ، پھر میں گھر کی طرف جانے والی گلی میں مڑتا ہوں تو ایک موٹا لمبا کالاسا گوریلا ملتا ہے مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں اسے جانتا ہوں میں گوریلے کو کہتا ہوں ٹھہرو میں آتا ہوں پھر میں گھر والی گلی چھوڑ کر مسجد والی گلی میں جاتا ہوں تو وہاں مجھے ایک ڈراؤنی شکل کا کالا سا آدمی ملتا ہے جس نے لباس بھی کالا سا پہنا ہوا ہوتا ہے ۔ پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے ۔
تعبیر:۔ آپ کے خواب کے مطابق آپ پر اوپری اثرات ہیں۔ آپ فور ی طور پر گوشت کا صدقہ دیں اور سورہ بقرہ مکمل پڑھ کر سرسوں کے تیل میں دم کرکے رات کو سوتے وقت پورے جسم پر 7 دن تک ملیں اور دونوں کانوں میں بھی ایک ایک قطرہ اس تیل کا ڈال لیا کریں ، نیز نماز کی پابندی کریں ۔

سیدنا کریم ﷺ پڑھا اور ہر پریشانی الجھن ختم

سیدنا کریم ﷺ پڑھا اور ہر پریشانی الجھن ختم:۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! احوال اس طرح ہے کہ آج سے دو سال پہلے کی بات ہے میں جمعہ کے دن مسجد کی صفائی کر رہا تھا کہ میرے والد صاحب کے چچا زاد بھائی آپس میں لڑ پڑے اور صبح گیارہ بجے سے لیکر شام پانچ بجے تک ان کا جھگڑا آپس میں چلتا رہا اور ان کا جھگڑا بھی صرف چند ہزار روپوں

معذور ماں کی کنپٹی پر گولی ماری اور سارا خاندان ختم

معذور  ماں کی کنپٹی پر گولی ماری اور سارا خاندان ختم :۔

پچھلے سال خیبر ایجنسی کے حالات کچھ شرپسندوں کی وجہ سے خراب ہوئے تو امن پسند ہزاروں خاندان نقل مقانی کر کے دوسرے علاقوں میں رہائش پذیر ہوئے ۔ ان ہی میں ایک بدقسمت خاندان بھی ہجرت کر کہ پر امن علاقے کی تلاش میں نکلا ۔ پہاڑی راسے انتہائی کٹھن ہوتے ہیں ۔ یہ خاندان جو چند افراد پر مشتمل تھا ۔ اس خاندان میں ایک بوڑھی معذور اور اندھی ماں بھی تھی جس کو اس کے خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد وقفے وقفے سے اٹھا رہا تھا اور اس بوڑھی اندھی ماں کے لبوں سےہر دم دعاہی نکل رہی تھیں ۔ اس ماں کا ایک جوان بدقسمت بیٹا بھی اس قافلہ میں تھا جس کو سب سے زیادہ اپنی بوڑھی اندھی معذور ماں کا خیال رکھنا پڑ رہا تھا ۔ کچھ ہی میل فاصلہ طے ہو اکہ وہ اپنی ماں کی اس خدمت سے اکتا گیا اس نے پہلے سوچا کہ اس کو یہی چھوڑ جاتا ہوں خود ہی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائے گی پھر دوسرے ہی لمحے اس نے پسٹل نکالا اور ماں کی کنپٹی پر رکھ کر گولی چلا دی ۔ بوڑھی معذور اور اندھی ماں کی ایک آہ نکلی او ر وہیں دم توڑ گئی ،۔ اس بدبخت بیٹے نے اس کو  کفن دفن بھی نہ دیا اور پہاڑ سے نیچے کھائی میں پھینک دیا اور خود قافلے کے ساتھ انتہائی مطمئن ہو کر چلنے لگا۔ ابھی تھوڑا ہی فاصلہ طے ہوا تھا کہ خچر کا پاؤں پھسلا اور وہ بیوی بچوں سمیت کھائی میں جا گرا جہاں اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے بچے اور بیوی تڑپتے تڑپتے دم توڑ گئے اور یہ کچھ نہ کر سکا اور وہیں کھڑا چیخیں مارتا رہا اور یوں اللہ پاک نے بد بخت بیٹے کو اپنی معذور ماں کو مارنے کی نقد سزا دیدی۔

سود اور غیبت کی نقد سزا:۔

حالیہ دنوں کا واقعہ ہے کہ ہمارے صوبہ کے ایک دیہات میں ایک گھرانہ ہے ۔اس گھر میں ایک عورت کا انتقال ہوا جس طرح رسماً دیہاتوں میں عورتیں میت کو دیکھنے آتی ہیں ۔ اسی طرح اس عورت کو بھی دیکھنے کیلئے قرب و جوار سے عورتیں آنا شروع ہو گئیں ۔ اچانک ایک انجانی عورت کالا برقعہ پہنے نمو دار ہوئی ۔ مردہ عورت کے چہرے پر اپنا چہرہ رکھا ۔ جس طرح کوئی قریبی رشتہ دار غم سے نڈھال اپنی میت کے سر پر اپنا سر رکھ کر روتے ہیں ۔ اس طرح اس نا آشنا عورت نے اپنا سر میت کے سر پر رکھا لیکن بہت دیر لگا دی ، عورتوں نے اٹھانے کی کوشش کی لیکن کئی عورتیں مل کر بھی اس کو اٹھا نہ سکیں ۔ آخر گھر کے مردوں سے مدد لی گئی لیکن وہ بھی ناکام ۔ آخر کار مسجد کے امام صاحب کو بلایا گیا انہوں نے کچھ قرآنی آیات پڑھیں ۔ عورت میت سے علیحدہ ہو گئی لیکن میت سے ناک اور چہرے کا کچھ حصہ کھا چکی تھی اور میت سے علیحدہ ہونے کے فوراً بعد وہ انجان عورت سب کی نظروں سے غائب ہو گئی ۔ اس کے بعد عورت کے (میت )نہانے کا وقت ہوا ۔ جس کمرے میں میت کو غسل دینے کا بندوبست کیا گیا تھا عین اسی کمرے میں وہی نا آشنا عورت پھر نمودار ہوئی ۔ سب عورتوں کو کہا آپ سب یہاں سے چلی جائیں میں اکیلی اس کو غسل دیتی ہوں ۔ سب عورتوں پر پہلے واقعہ کا خوف طاری تھا اس لیے سب عورتیں ڈر کے مارے تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئیں ۔ میت کو غسل دینے کا وقت اندازے سے کہیں زیادہ وقت لگ گیا ۔ عورتوں نے دروازہ کھٹکھٹایا لیکن دروازہ نہ کھولا گیا ۔ آخر کار ایک بار پھر مرد حضرات کو بلایا گیا انہوں نے کسی اوزار سے دروازے کو توڑا ۔ اند رجا کر دیکھا تو میت کا خالی ڈاھانچہ پڑا تھا اور عورت غائب تھی  پھر جلدی جلدی اس میت کا کفن دفن کا انتظام کیا گیا ۔ لوگ میت کو لے کر قبرستان پہنچے اس کی قبر کے گرد و نواح میں خوفناک زلزلہ آ گیا ۔ لوگ گھبرا گئے اور استغفار کا ورد کرتے رہے آخر کار اس کو اسی ذلیل حالت میں دفنایا گیا ۔ اس کے اعمال کا پوچھا گیا تو کہا گیا کہ باقی تو صوم صلوٰۃ کی پابند تھی ۔ لیکن سود اور غیبت اس کے پسندیدہ مشاغل تھے ۔ اللہ پاک ہمیں ایسی ذلت آمیز موت سے بچائے ۔

عبقری و تسبیح خانہ سے تعارف شبنم جننی نے کروایا

عبقری و تسبیح خانہ سے تعارف شبنم جننی نے کروایا:۔

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! آپ کو پہلی بار خط لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں ۔ کچھ عرصہ قبل میرا واسطہ ایک جننی سے پڑا ۔ چند ملاقاتوں میں وہ جننی میری بیوی کی دوست بن گئی اور اس کا ہمارے گھر خوب آنا جانا لگا رہتا وہ میری بیوی سے باتیں کرتی اور ہمیں عجیب  قصے کہانیاں سناتی ۔ سب سے پہلے بات جو آپ کو بتانی تھی کہ وہ جننی آپ کی بہت عقیدت مند تھی ۔ میں آپ کو ماہنامہ عبقری اور تسبیح خانہ کے بارے میں بالکل بھی نہیں جانتا تھا ۔ مگر اس جننی جس کا نام شبنم تھا۔  اس نے ہمیں پہلی مرتبہ عبقری رسالہ لا کر دیا اور آپ کے بارے میں بتایا مزید تسبیح خانہ کے بارے میں اور درس روحانیت و امن جو ہر جمعرات کو لاہور میں ہوتا ہے اس کے بارے میں بتایا ۔ 2011 ء میں اس نے ہمیں عبقری لا کر دیا اس وقت سے ہم مسلسل یہ رسالہ پڑھ رہے ہیں ۔ 2012ء میں شبنم جننی کو فالج ہوا اس کی کوئی رشتہ دار آ کر  خبر دیتی تھی ایک مرتبہ میں نے شبنم جننی کو خط لکھا اس کی ایک رشتہ دار وہ خط لے کر گئی ۔ پھر شبنم جننی کو خدا نے صحت دی وہ آ گئی اور میرا چھوٹا بیٹا جب پیدا ہوا تو شبنم جننی نے اس کو ایک ہزار روپیہ مبارکباد کے طور پر دیا ۔ ابھی چار ماہ پہلے اس کی ایک رشتہ دار نے آ کر بتایا کہ ان کا خاندان میں جھگڑا ہوا جس میں چار جنات مارے گئے جن میں ایک شبنم جننی بھی تھی۔ اللہ پاک اس کی مغفرت فرمائے آمین۔

Friday, October 9, 2015

بچے نے آیۃالکرسی پڑھی ! ڈاکو رقم واپس کر گئے

بچے نے آیۃالکرسی پڑھی ! ڈاکو رقم واپس کر گئے :۔

یہ ایک سردیوں کی سیاہ رات تھی۔ تاریکی اور خاموشی اپنی حدوں کو چھو رہی تھی۔ہوا کے جھکڑ پتوں کو ہلاتے اور درختوں کو جھکاتے ہوئے گزر جاتے ، باہر کی ہر چیز جمنے لگی ، لوگ اپنے گھروں کے محفوظ کمروں میں سور ہے تھے ، ایسا دکھائی دیتا تھا کہ لمبی سرد رات نے وقت کو جما دیا ہے ۔ گرد و نواح میں ایک سڑک کے قریب پر اسرار نقل و حرکت تھی ۔ چار سائے پستول ہاتھ میں پکڑے حرکت کر رہے تھے وہ آپس میں سرگوشیوں میں بات کر رہے تھے ۔ وہ ایک مالدار تاجر کے گھر پہنچ گئے ،۔ اب وہ اندر جانے کے راستوں کے بارے میں سوچنے لگے ۔ گھر کے اندر حمزہ ان کی ماں، ان کی بیوی اور بچہ عبداللہ ڈاکوؤں سے بے خبر چین کی نیند سو رہے تھے ۔ ایک ڈاکو نے دیوار پھلانگی اور دوسرے ساتھیوں کیلئے دروازہ کھول دیا ۔ ڈاکوؤں نے خاموشی کے ساتھ اس کمرے کے سامنے اپنی جگہیں مقرر کر لیں جس میں حمزہ کا خاندان سو رہا تھا۔انہوں نے دروازے کو توڑ ا،اور کمرے میں داخل ہو گئے ۔ حمزہ کا خاندان پھٹی پھٹی نگاہوں سے ڈاکوؤں کو دیکھنے لگا ۔ ایک ڈاکو نے سخت آواز میں انہیں چپ رہنے کیلئے کہا۔ خاموشی کے یہ چند ناقابل برداشت لمحے تھے ، ایک کرخت آواز دوبارہ ابھری۔ اگر کسی نے مدد طلب کی تو اسے اس کی سزا بھگتنی پڑے گی ۔ پھر سردار نے حکم دیا کہ قیمتی اشیاء جمع کریں  ، حمزہ نے ایک ڈاکو سے کہا ! یہ تم غلط کر رہے ہو تمہیں ایس ا نہیں کرنا چاہیے خدا کا خوف کرو ۔ جواباً ڈاکو نے اپنی بندوق حمزہ کی کنپٹی پر رکھ دی اور دھاڑ کر کہا خاموش اس خوفناک منظر نے تمام گھر کے افراد میں خوف پیدا کر دیا ۔ حمزہ کا بیٹا خوف کے عالم میں اپنی ماں کا بازو پکڑ کر کھڑا تھا ۔ اس کا چھوٹا سا ذہن اپنے خاندان پر بیتنے والی مصیبت کا احاطہ نہیں کر سکتا تھا ۔ وہ حیران تھا کہ اس کے گھر میں داخل ہونے والے اور ہر چیز لے جانے والے یہ کون لوگ ہیں ؟  اور ہمارے گھر کی تمام چیزیں کیوں لے جا رہے ہیں ؟ اس کے والد نے جواب دیا ! میرے بیٹے یہ چور ہیں یہ انسانوں کا خیال نہیں رکھتے ۔ یہ سن کر ڈاکو ہنس پڑے اور جانے کیلئے مڑے ۔ عبداللہ بولا ! بابا لیکن دادی اماں نے مجھے بتایا تھا اگر میں سونے سےپہلے آیۃ الکرسی پڑھ لوں تو کوئی  برائی ہمارے گھر میں داخل نہیں ہو گی، اور اللہ پاک ہمیں اپنی حفاظت میں لے لے گا ۔ بابا میں نے سونے سے پہلے آیۃ الکرسی پڑھ لی تھی ۔ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے ۔ یہ برے لوگ ہمارے گھر میں کیسے داخل ہوئے ۔ کیا اللہ پاک نے ہمیں اپنی حفاظت میں نہیں لیا ۔ یہ سوال اتنی معصومیت سے کیا گیا تھا کہ ڈاکوؤں کے سردار کے پاؤں جم گئے ۔ ایک خوف جسے وہ پہلے کبھی نہیں جانتا تھا اسے لاحق ہو گیا ۔ وہ کانپنے لگا، پسینے سے شرابور ہو گیا جیسا کہ وہ کسی اندیکھی قوت کے قابو میں ہو ۔ وہ بوجھل قدموں کے ساتھ عبداللہ کے قریب پہنچا اور پوچھا کیا تم آیۃالکرسی جانتے ہو ۔ عبداللہ نے سر ہلایا اور آیۃالکرسی کو دل کی گہرائی سے پڑھنے لگا اس کے پڑھنے کے ساتھ سردار اپنے آپ کو گناہوں کے بوجھ تلے کمزور محسوس کر رہا تھا ۔ جب عبداللہ نے تلاوت ختم کی تو ڈاکو کی کرخت آواز ایک کمزور آواز میں بدل گئی ۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا تمام اشیاء وہیں رکھ دیں جہاں سے اٹھائی گئی ہیں۔ پھر سردار نے عبداللہ سے کہا بے شک تم اللہ پاک کی حفاظت میں ہو ۔ وہ بہترین حفاظت کرنے والا ہے جو لوگ اللہ پاک کا نام دل کی اتھاہ گہرائیوں سے لیتے ہیں انہیں کوئی نقصان نہیں ہوتا ۔ ہمیں معاف کر دو اور ہمارے لیے دعا مانگو   تم نے ہمیں وہ راستہ دکھایا ہے جسے ہم کافی عرصہ سے بھول چکے تھے ، سردار چپ چاپ اپنے ساتھیوں سمیت گھر سے چلا گیا عبداللہ ان ڈاکوؤں کو آج بھی یاد کرتا ہے ۔